Abu Hurairah reported to the Messenger of Allah( may peace be upon him) as sayings:
People will continue to ask one another(questions) till this is pronounced: Allah created all things, but who created Allah ? Whoever comes across anything of that, he should say: I believe in Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ ایک دوسرے سے برابر سوال کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہا جائے گا ، اللہ نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ لہٰذا تم میں سے کسی کو اس سلسلے میں اگر کوئی شبہ گزرے تو وہ یوں کہے : میں اللہ پر ایمان لایا “ ۱؎ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: He then mentioned a tradition like it. This version adds: When they propound that, say: "Say Allah is one. Allah is He to Whom men repair. He has not begotten and He has not been begotten, and no one is equal to Him." Then one should spit three times on his left side and seek refuge in Allah from Satan.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ، پھر اس جیسی روایت ذکر کی ، البتہ اس میں ہے ، آپ نے فرمایا : ” جب لوگ ایسا کہیں تو تم کہو : «الله أحد * الله الصمد * لم يلد ولم يولد * ولم يكن له كفوا أحد» ” اللہ ایک ہے وہ بے نیاز ہے ۱؎ ، اس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہے “ پھر وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوکے اور شیطان سے پناہ مانگے “ ۔
I was sitting in al-Batha with a company among whom the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting, when a cloud passed above them.
The Messenger of Allah (ﷺ) looked at it and said: What do you call this? They said: Sahab.
He said: And muzn? They said: And muzn. He said: And anan? They said: And anan. AbuDawud said: I am not quite confident about the word anan. He asked: Do you know the distance between Heaven and Earth? They replied: We do not know. He then said: The distance between them is seventy-one, seventy-two, or seventy-three years. The heaven which is above it is at a similar distance (going on till he counted seven heavens). Above the seventh heaven there is a sea, the distance between whose surface and bottom is like that between one heaven and the next. Above that there are eight mountain goats the distance between whose hoofs and haunches is like the distance between one heaven and the next. Then Allah, the Blessed and the Exalted, is above that.
عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں بطحاء میں ایک جماعت کے ساتھ تھا ، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے ، اتنے میں بادل کا ایک ٹکڑا ان کے پاس سے گزرا تو آپ نے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا : ” تم اسے کیا نام دیتے ہو ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : «سحاب» ( بادل ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور «مزن» بھی “ لوگوں نے کہا : ہاں «مزن» بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور «عنان» بھی “ لوگوں نے عرض کیا : اور «عنان» بھی ، ( ابوداؤد کہتے ہیں : «عنان» کو میں اچھی طرح ضبط نہ کر سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تمہیں معلوم ہے کہ آسمان اور زمین کے درمیان کتنی دوری ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : ہمیں نہیں معلوم ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دونوں کے درمیان اکہتر یا بہتر یا تہتر سال کی مسافت ہے ، پھر اسی طرح اس کے اوپر آسمان ہے “ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات آسمان گنائے ” پھر ساتویں کے اوپر ایک سمندر ہے جس کی سطح اور تہہ میں اتنی دوری ہے جتنی کہ ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان ہے ، پھر اس کے اوپر آٹھ جنگلی بکرے ہیں جن کے کھروں اور گھٹنوں کے درمیان اتنی لمبائی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک کی دوری ہے ، پھر ان کی پشتوں پر عرش ہے ، جس کے نچلے حصہ اور اوپری حصہ کے درمیان کی مسافت اتنی ہے جتنی ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی ، پھر اس کے اوپر اللہ تعالیٰ ہے “ ۔
The tradition mentioned above has again been transmitted by Simak through a different chain of narrators and to the same effect as this lengthy tradition.
Muhammad b. Jubair b. Mut’im said from his father on the authority of his grandfather:
An A’rab(a nomadic Arab) came to the Messenger of Allah(ﷺ) and said: People suffering distress, the children are hungry, the crops are withered, and the animals are perished, so ask Allah to grant us rain, for we seek you as our intercessor with Allah, and Allah as intercessor with you. The Messenger of Allah(ﷺ) said: Woe to you: Do you know what you are saying? Then the Messenger of Allah(ﷺ) declared Allah’s glory and he continued declaring His glory till the effect of that was apparent in the faces of his Companions. He then said: Woe to you: Allah is not to be sought as intercessor with anyone. Allah’s state is greater than that. Woe to you! Do you know how great Allah is? His throne is above the heavens thus(indicating with his fingers like a dome over him), and it groans on account of Him as a saddle does because of the rider.
Ibn Bashshar said in his version: Allah is above the throne, and the throne is above the heavens. He then mentioned the rest of the tradition. ‘Abd al-A’la, Ibn al- Muthana and Ibn Bashshar transmitted it from Ya’qub b. ‘Utbah and Jubair b. Muhammad b. Jubair from his father on the authority of his grandfather.
Abu Dawud said: This tradition with the chain of Ahmad b. Sa’ad is sound. It has been approved by the body (of traditionists) , which includes Yahya b. Ma’in and ‘Ali b. al-Madani, and a group has transmitted it from Ibn Ishaq, as Ahmad also said. And so far as I have been informed ‘Abd al-A’la, Ibn al-Muthanna, and Ibn Bashshar had heard from the same copy(of the collection of tradition).
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور کہا : اللہ کے رسول ! لوگ مصیبت میں پڑ گئے ، گھربار تباہ ہو گئے ، مال گھٹ گئے ، جانور ہلاک ہو گئے ، لہٰذا آپ ہمارے لیے بارش کی دعا کیجئے ، ہم آپ کو سفارشی بناتے ہیں اللہ کے دربار میں ، اور اللہ کو سفارشی بناتے ہیں آپ کے دربار میں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا برا ہو ، سمجھتے ہو تم کیا کہہ رہے ہو ؟ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ کہنے لگے ، اور برابر کہتے رہے یہاں تک کہ اس کا اثر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے چہروں پر دیکھا گیا ، پھر فرمایا : ” تمہارا برا ہو اللہ کو اس کی مخلوق میں سے کسی کے دربار میں سفارشی نہیں بنایا جا سکتا ، اللہ کی شان اس سے بہت بڑی ہے ، تمہارا برا ہو ! کیا تم جانتے ہو اللہ کیا ہے ، اس کا عرش اس کے آسمانوں پر اس طرح ہے ( آپ نے انگلیوں سے گنبد کے طور پر اشارہ کیا ) اور وہ چرچراتا ہے جیسے پالان سوار کے بیٹھنے سے چرچراتا ہے ، ( ابن بشار کی حدیث میں ہے ) اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے اوپر ہے ، اور اس کا عرش اس کے آسمانوں کے اوپر ہے “ اور پھر پوری حدیث ذکر کی ۔ عبدالاعلی ، ابن مثنی اور ابن بشار تینوں نے یعقوب بن عتبہ اور جبیر بن محمد بن جبیر سے ان دونوں نے محمد بن جبیر سے اور محمد بن جبیر نے جبیر بن مطعم سے روایت کی ہے ۔ البتہ احمد بن سعید کی سند والی حدیث ہی صحیح ہے ، اس پر ان کی موافقت ایک جماعت نے کی ہے ، جس میں یحییٰ بن معین اور علی بن مدینی بھی شامل ہیں اور اسے ایک جماعت نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے جیسا کہ احمد بن سعید نے بھی کہا ہے ، اور عبدالاعلی ، ابن مثنی اور ابن بشار کا سماع جیسا کہ مجھے معلوم ہوا ہے ، ایک ہی نسخے سے ہے ۔
Jabir b. ‘Abd Allah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying :
I have been permitted to tell about one of Allah’s angels who bears the throne that the distance between the lobe of his ear and his shoulder is a journey of seven hundred years.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے اجازت ملی ہے کہ میں عرش کے اٹھانے والے فرشتوں میں سے ایک فرشتے کا حال بیان کروں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں ، اس کے کان کی لو سے اس کے مونڈھے تک کا فاصلہ سات سو برس کی مسافت ہے ۱؎ “ ۔
Abu Yunus Sulaim b. Jubair, client of Abu Hurairah, said :
I heard Abu Hurairah recite this verse : “Allah doth command you to render back your trusts to those to whom they are due” up to “For Allah is he who heareth and seeth all things”. He said : I saw the Messenger of Allah (May peace be upon him) putting his thumb on his ear and finger on his eye.
Abu Hurairah said : I saw the Messenger of Allah (May peace be upon him) reciting this verse and putting his fingers. Ibn Yunus said that al-Muqri said. “Allah hears and sees” means that Allah has the power of hearing and seeing.
Abu Dawud said: This is a refutation of the Jahmiyyah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے غلام ابو یونس سلیم بن جبیر کہتے ہیں کہ
میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو آیت کریمہ «إن الله يأمركم أن تؤدوا الأمانات إلى أهلها *** إلى قوله تعالى *** سميعا بصيرا» ” اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ان کے مالکوں تک پہنچا دو ۔ ۔ ۔ اللہ سننے اور دیکھنے والا ہے “ ( سورۃ النساء : ۵۸ ) تک پڑھتے سنا ، وہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے انگوٹھے کو اپنے کان پر اور انگوٹھے کے قریب والی انگلی کو آنکھ پر رکھتے ، ( یعنی شہادت کی انگلی کو ) ، ابوہریرہ کہتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسے پڑھتے اور اپنی دونوں انگلیوں کو رکھتے دیکھا ۔ ابن یونس کہتے ہیں : عبداللہ بن یزید مقری نے کہا : یعنی «إن الله سميع بصير» پر انگلی رکھتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ اللہ کے کان اور آنکھ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ جہمیہ کا رد ہے ۱؎ ۔
When we are were sitting with the Messenger of Allah (May peace be upon him) he looked at the moon on the night when it was full, that is, fourteenth, and said : You will see your Lord as you see this (moon) and have no doubts about seeing him. If, therefore, you can keep from being prevented from prayer before the sun rises and before it sets, do so. He then recited :”Celebrate the praise of your Lord before the rising of the sun and before its setting”.
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے چودہویں شب کے چاند کی طرف دیکھا ، اور فرمایا : ” تم لوگ عنقریب اپنے رب کو دیکھو گے ، جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو ، تمہیں اس کے دیکھنے میں کوئی زحمت نہ ہو گی ، لہٰذا اگر تم قدرت رکھتے ہو کہ تم فجر اور عصر کی نماز میں مغلوب نہ ہو تو ایسا کرو “ پھر آپ نے یہ آیت «فسبح بحمد ربك قبل طلوع الشمس وقبل غروبها» ” اور اپنے رب کی تسبیح کرو ، سورج کے نکلنے اور ڈوبنے سے پہلے “ ( سورۃ طہٰ : ۱۳۰ ) پڑھی ۱؎ ۔
The people asked : Messenger of Allah! Shall we see our lord, the Exalted, on the Day of resurrection? He replied : Do you feel any trouble in seeing the sun at noon when it is not in the cloud? They said: No. He asked : Do you feel any trouble in seeing the moon on the night when it is full and not in the cloud? They replied: No. He said: By him in whose hand my soul is, you will not feel any trouble in seeing him except as much as you feel in seeing any of them.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
کچھ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا قیامت کے دن ہم اپنے رب کو دیکھیں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہیں دوپہر کے وقت سورج کو دیکھنے میں کوئی زحمت ہوتی ہے جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم چودہویں رات کے چاند کو دیکھنے میں دقت محسوس کرتے ہو ، جب کہ وہ بدلی میں نہ ہو ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تمہیں اللہ کے دیدار میں کوئی دقت نہ ہو گی مگر اتنی ہی جتنی ان دونوں میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں ہوتی ہے ۱؎ “ ۔
I asked: Messenger of Allah! will each one of us see his Lord? Ibn Mu'adh's version has: "being alone with Him, on the Day of Resurrection? And what sign is there is His creation?" He replied: AbuRazin! does each one of you not see the moon? Ibn Mu'adh's version has: "on the night when it is full, being alone with it?" Then the agreed version goes: I said: Yes. He said: Allah is more great. Ibn Mu'adh's version has: It is only part of Allah's creation, but Allah is more glorious and greater.
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم میں سے ہر ایک اپنے رب کو ( قیامت کے دن ) بلا رکاوٹ دیکھے گا ؟ اور اس کی مخلوق میں اس کی مثال کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے ابورزین ! کیا تم سب چودہویں کا چاند بلا رکاوٹ نہیں دیکھتے ؟ “ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو اللہ تو اور بھی بڑا ہے “ ابن معاذ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے ، اللہ تو اس سے بہت بڑا اور عظیم ہے ۱؎ “ ۔
‘Abd Allah b. ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:
Allah will fold the heavens an the day of Resurrection, then seizing them in His right hand he will say: I am the king. Where are the mighty men? Where are the proud men? He will then fold the earths and take them in his other hand (According to the version of Ibn al-Ala), and then say ; I am the King. Where are the mighty men? Where are the proud men?
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے روز اللہ آسمانوں کو لپیٹ دے گا ، پھر انہیں اپنے دائیں ہاتھ میں لے لے گا ، اور کہے گا : میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے ؟ کہاں ہیں تکبر اور گھمنڈ کرنے والے ؟ پھر زمینوں کو لپیٹے گا ، پھر انہیں اپنے دوسرے ہاتھ میں لے لے گا ، پھر کہے گا : میں ہوں بادشاہ ، کہاں ہیں ظلم و قہر کرنے والے ؟ کہاں ہیں اترانے والے ؟ “ ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (May peace be upon him) as saying; Our lord gets down every night to the heaven of this world when a third night remains and says :
(Is there anyone) who prays to Me so that I may accept his prayer? (Is there anyone) who asks of Me so that I may give him? (Is there anyone) who asks for my forgiveness so that I may forgive him?
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا پر اترتا ہے ، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور کہتا ہے : کون ہے جو مجھے پکارے ، میں اس کی پکار کو قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے میں اسے دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے میں اسے معاف کر دوں ۱؎ “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) presented himself to the people at Arafat, saying: Is there any man who takes me to his people? The Quraysh have prevented me from preaching the word of my Lord.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود کو موقف ( عرفات میں ٹھہرنے کی جگہ ) میں لوگوں پر پیش کرتے تھے اور فرماتے : ” کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم کے پاس لے چلے ، قریش نے مجھے میرے رب کا کلام پہنچانے سے روک دیا ہے ۱؎ “ ۔
The Prophet (May peace be upon him) used to seek refuge in Allah for al-Hasan and al-husain, saying ; I seek refuge for both of you in the perfect words of Allah from every devil and every poisonous thing and from the evil eye which influences. He would then say; your father sought refuge in Allah by them for Ismail and Ishaq.
Abu Dawud said; this is a proof of the fact that the Quran is not created.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کے لیے ( ان الفاظ میں ) اللہ تعالیٰ پناہ مانگتے تھے «أعيذكما بكلمات الله التامة من كل شيطان وهامة ومن كل عين لامة» ” میں تم دونوں کے لیے پناہ مانگتا ہوں اللہ کے پورے کلمات کے ذریعہ ، ہر شیطان سے ، ہر زہریلے کیڑے ( سانپ بچھو وغیرہ ) سے اور ہر نظر بد والی آنکھ سے “ پھر فرماتے : ” تمہارے باپ ( ابراہیم ) اسماعیل و اسحاق کے لیے بھی انہی کلمات کے ذریعہ پناہ مانگتے تھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن مخلوق نہیں ہے ۔
‘Abd Allah (b. Mas’ud) reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
"When Allah, the exalted, speaks to send revelation, the inhabitants of heaven hear the clanging of a bell from the heavens like a chain being dragged across a rock, and they swoon. They continue to remain like that until Jibril comes to them. When he comes to them, they recover and say: 'O Jibril, what did your Lord say?' He would say: 'The truth,' and they would say: 'The truth, the truth.'"
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ وحی کے لیے کلام کرتا ہے تو سبھی آسمان والے آواز سنتے ہیں جیسے کسی چکنے پتھر پر زنجیر کھینچی جا رہی ہو ، پھر وہ بیہوش کر دئیے جاتے ہیں اور اسی حال میں رہتے ہیں یہاں تک کہ ان کے پاس جبرائیل آتے ہیں ، جب جبرائیل ان کے پاس آتے ہیں تو ان کی غشی جاتی رہتی ہے ، پھر وہ کہتے ہیں : اے جبرائیل ! تمہارے رب نے کیا کہا ؟ وہ کہتے ہیں : حق ( فرمایا ) تو وہ سب کہتے ہیں حق ( فرمایا ) حق ( فرمایا ) “ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ :
" يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ " .
‘Imran b. Husain reported the Prophet(ﷺ) as saying:
People will come forth from Hell by Muhammad’s intercession, will enter paradise and be named Jahannamis.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ لوگ جہنم سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی سفارش پر نکالے جائیں گے ، وہ جنت میں داخل ہوں گے ، اور وہ «جهنميين» جہنمی کہہ کر پکارے جائیں گے “ ۔
Chapter 1700: The Resurrection And The Blowing Of The Trumpet - كتاب السنة
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ :
" كُلَّ ابْنِ آدَمَ تَأْكُلُ الأَرْضُ إِلاَّ عَجْبَ الذَّنَبِ، مِنْهُ خُلِقَ وَفِيهِ يُرَكَّبُ " .
Abu Hurairah reported the Apostle of AllSah(ﷺ) as saying:
Every son of Adam will be devoured by the earth with the exception of the tail-bone from which he was created and from which he will be reconstituted.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمین ابن آدم ( انسان ) کے تمام اعضاء ( جسم ) کو بجز ریڑھ کی نچلی ہڈی کے کھا جاتی ہے اس لیے کہ وہ اسی سے پیدا ہوا ہے ۱؎ ، اور اسی سے اسے دوبارہ جوڑ کر اٹھایا جائے گا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: When Allah created Paradise, He said to Gabriel: Go and look at it. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will fail to enter it.
He then surrounded it with disagreeable things, and said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, I am afraid that no one will enter it.
When Allah created Hell, He said: Go and look at it, Gabriel. He went and looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might, no one who hears of it will enter it.
He then surrounded it with desirable things and said: Go and look at it, Gabriel. He went, looked at it, then came and said: O my Lord! By Thy might and power, I am afraid that no one will remain who does not enter it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ نے جنت کو پیدا کیا تو جبرائیل سے فرمایا : جاؤ اور اسے دیکھو ، وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر واپس آئے ، اور کہنے لگے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ، اس کے متعلق جو کوئی بھی سنے گا وہ اس میں ضرور داخل ہو گا ، پھر ( اللہ نے ) اسے مکروہات ( ناپسندیدہ ) ( چیزوں ) سے گھیر دیا ، پھر فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو ، وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر لوٹ کر آئے تو بولے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ اس میں کوئی داخل نہ ہو سکے گا ، جب اللہ نے جہنم کو پیدا کیا تو فرمایا : اے جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو ، وہ گئے اور اسے دیکھا ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! جو اس کے متعلق سنے گا اس میں داخل نہ ہو گا ، تو اللہ نے اسے مرغوب اور پسندیدہ چیزوں سے گھیر دیا ، پھر فرمایا : جبرائیل ! جاؤ اور اسے دیکھو ، وہ گئے ، جہنم کو دیکھا پھر واپس آئے اور عرض کیا : اے میرے رب ! تیری عزت کی قسم ! مجھے ڈر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں بچے گا جو اس میں داخل نہ ہو ۱؎ “ ۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم :
" إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْهِ كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ " .
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:
Before you there will be a pond the distance between whose sides is like that between Jarbah and Adhruh.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے سامنے ( قیامت کے دن ) ایک حوض ہو گا ، جس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا «جرباء» اور «اذرح» ۱؎ کے درمیان ہے ۲؎ “ ۔