We were with the Messenger of Allah (ﷺ). He said when we arrived at a halting place: You are not a hundred thousandth part of those who will come down to me at the pond. I (the narrator AbuHamzah) asked: What was your number that day? He replied: Seven or eight hundred.
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، ہم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو آپ نے فرمایا : ” تم لوگ ان لوگوں کے ایک لاکھ حصوں میں کا ایک حصہ بھی نہیں ہو جو لوگ حشر میں حوض کوثر پر آئیں گے “ ۔ راوی ( ابوحمزہ ) کہتے ہیں : میں نے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے کہا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ کہا : سات سویا آٹھ سو ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) dozed for a short while and raised his smiling. He either said to them(people) or they said to him: Messenger of Allah! Why did you laugh? He said: A surah has been revealed to me just now, and then he recited: “In the name of Allah, Most Gracious. Most Merciful. To thee We have granted the fount (of abundance)” up to the end. When he recited, he asked: Do you know what al-kauthar is? They replied: Allah and his Apostle know best. He said: It is a river which my Lord, the Exalted, has promised me( to grant) in Paradise: there is abundance of good and upon it there is a pond which my people will approach on the Day of Resurrection. There are vessels as numerous as stars(in the sky).
مختار بن فلفل کہتے ہیں کہ
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : ( ایک بار ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہلکی اونگھ طاری ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکراتے ہوئے سر اٹھایا ، تو یا تو آپ نے لوگوں سے کہا ، یا لوگوں نے آپ سے کہا : اللہ کے رسول ! آپ کو ہنسی کیوں آئی ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابھی میرے اوپر ایک سورت نازل ہوئی “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا : «بسم الله الرحمن الرحيم إنا أعطيناك الكوثر» یہاں تک کہ سورت ختم کر لی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا : ” کیا تم جانتے ہو کوثر کیا ہے ؟ “ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جنت کی ایک نہر ہے جس کا وعدہ مجھ سے میرے رب نے کیا ہے اور اس پر بڑا خیر ہے ، اس پر ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت ( پینے ) آئے گی ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے “ ۔
حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : لَمَّا عُرِجَ بِنَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْجَنَّةِ - أَوْ كَمَا قَالَ - عُرِضَ لَهُ نَهْرٌ حَافَتَاهُ الْيَاقُوتُ الْمُجَيَّبُ أَوْ قَالَ الْمُجَوَّفُ، فَضَرَبَ الْمَلَكُ الَّذِي مَعَهُ يَدَهُ فَاسْتَخْرَجَ مِسْكًا فَقَالَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم لِلْمَلَكِ الَّذِي مَعَهُ :
" مَا هَذَا " . قَالَ : هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ .
Narrated Anas ibn Malik:
When the Prophet of Allah (ﷺ) was lifted to the heavens (for travelling) in Paradise, or as he said, a river whose banks were of transparent or hollowed pearls was presented to him. The angel who was with him struck it with his hand and took out musk. Muhammad (ﷺ) then asked the angel who was with him: What is this? He replied: It is al-Kawthar which Allah has given you.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
جب اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج میں جنت میں لے جایا گیا تو آپ کے سامنے ایک نہر لائی گئی ، جس کے دونوں کنارے «مجیّب» یا کہا «مجوّف» ( خول دار ) یاقوت کے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جو فرشتہ تھا اس نے اپنا ہاتھ مارا اور اندر سے مشک نکالی ، تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا : یہی کوثر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے ۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ أَبُو طَالُوتَ، قَالَ شَهِدْتُ أَبَا بَرْزَةَ دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَحَدَّثَنِي فُلاَنٌ، سَمَّاهُ مُسْلِمٌ وَكَانَ فِي السِّمَاطِ فَلَمَّا رَآهُ عُبَيْدُ اللَّهِ قَالَ : إِنَّ مُحَمَّدِيَّكُمْ هَذَا الدَّحْدَاحُ، فَفَهِمَهَا الشَّيْخُ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَحْسِبُ أَنِّي أَبْقَى فِي قَوْمٍ يُعَيِّرُونِي بِصُحْبَةِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُ عُبَيْدُ اللَّهِ إِنَّ صُحْبَةَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَكَ زَيْنٌ غَيْرُ شَيْنٍ ثُمَّ قَالَ : إِنَّمَا بُعِثْتُ إِلَيْكَ لأَسْأَلَكَ عَنِ الْحَوْضِ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْكُرُ فِيهِ شَيْئًا فَقَالَ أَبُو بَرْزَةَ : نَعَمْ لاَ مَرَّةً وَلاَ ثِنْتَيْنِ وَلاَ ثَلاَثًا وَلاَ أَرْبَعًا وَلاَ خَمْسًا، فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلاَ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ ثُمَّ خَرَجَ مُغْضَبًا .
AbdusSalam ibn AbuHazim AbuTalut said:
I saw AbuBarzah who came to visit Ubaydullah ibn Ziyad. Then a man named Muslim who was there in the company mentioned it to me.
When Ubaydullah saw him, he said: This Muhammadan [i.e. Companion of Muhammad (ﷺ)] of yours is short and fat. The old man (i.e. AbuBarzah) understood it.
So he said: I did not think I would remain amongst a people who would criticize me for having had the company of Muhammad (ﷺ).
Thereupon Ubaydullah said to him: The company of Muhammad (ﷺ) is a honour for you, not a disgrace. He added: I called for you to ask about the Haud (reservoir or cistern). Did you hear the Messenger of Allah (ﷺ) say anything about it? AbuBarzah said: Yes, not once, twice, thrice, four times or five times. Whoever disbelieves in it, may Allah not supply him with water from it. He then went away angrily.
عبدالسلام بن ابی حازم ابوطالوت بیان کرتے ہیں کہ
میں نے ابوبرزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عبیداللہ بن زیاد کے ہاں گئے ، پھر مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا جو ان کی جماعت میں شریک تھا ، ( مسلم نے اس کا نام ذکر کیا ہے ) جب انہیں عبیداللہ نے دیکھا تو بولا : دیکھو تمہارا یہ محمدی موٹا ٹھگنا ہے ، تو شیخ ( ابوبرزہ ) اس کے اس طعنہ اور توہین کو سمجھ گئے اور بولے : مجھے یہ گمان نہ تھا کہ میں ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤں گا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کا مجھے طعنہ دیں گے ، تو عبیداللہ نے ان سے کہا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت تو آپ کے لیے فخر کی بات ہے ، نہ کہ عیب کی ، پھر کہنے لگا : میں نے آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ میں آپ سے حوض کوثر کے بارے میں معلوم کروں ، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ ذکر فرماتے سنا ہے ؟ تو ابوبرزہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ہاں ایک بار نہیں ، دو بار نہیں ، تین بار نہیں ، چار بار نہیں ، پانچ بار نہیں ( یعنی بہت بار سنا ہے ) تو جو شخص اسے جھٹلائے اللہ اسے اس حوض میں سے نہ پلائے ، پھر غصے میں وہ نکل کر چلے گئے ۔
Chapter 1703: Questioning And Punishment In The Grave - كتاب السنة
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ فَشَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ { يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ } .
Al-Bara’ b. ‘Azib reported the Messenger of Allah(ﷺ) as saying:
When a Muslim is questioned in the grave he testifies that there is no god but Allah and that Muhammad is Allah’s Apostle. That is verified by Allah’s words: “Allah establishes those who believe with the word that stands firm.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان سے جب قبر میں سوال ہوتا ہے اور وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں “ ۔ تو یہی مراد ہے اللہ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا بالقول الثابت» ” اللہ ایمان والوں کو پکی بات کے ساتھ مضبوط کرتا ہے “ ( سورۃ ابراہیم : ۲۷ ) سے ۔
The Messenger of Allah(ﷺ) entered the garden of the palm trees of Banu al-Najjar. He heard a voice and was terrified. He asked: Who are the people buried in these graves? The people replied: Messenger of Allah! These are some people who died in the pre-Islamic times. He said: Seek refuge in Allah from the punishment of the fire, and the trail of Antichrist. They asked: Why is it that, Messenger of Allah? He said: When a man is placed in his grave, an angel comes to him and says to him: Whom did you worship? Allah then guides him and he says: I worshiped Allah. He is then asked: What was your opinion of this man? He replies: He is Allah’s servant and His Apostle. He will not then be asked about anything else. He will then be taken to his abode in Hell and will be told: This was your abode in Hell, but Allah protected you and had mercy on you substituted for you an abode in Paradise for it. He will say: Leave me so that I may go and give glad tidings to my family. He will be told: Dwell. When an infidel is placed in his grave, an angel comes to him, reprimands him and asks him: Whom did you worship? He replies: I do not know. He will be told: You neither knew nor did you follow(the believers). He is then asked: What was your opinion on this man? He replies: I held the opinion that the other people held. He will then give him a blow between his ears with an iron hammer and will utter a shout which will be heard by all the creatures(near him) with the exception of men and jinn.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنی نجار کے کھجور کے ایک باغ میں داخل ہوئے ، تو ایک آواز سنی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھبرا اٹھے ، فرمایا : ” یہ قبریں کس کی ہیں ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : زمانہ جاہلیت میں مرنے والوں کی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگ جہنم کے عذاب سے اور دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو “ لوگوں نے عرض کیا : ایسا کیوں ؟ اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مومن جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے ، اور اس سے کہتا ہے : تم کس کی عبادت کرتے تھے ؟ تو اگر اللہ اسے ہدایت دیئے ہوتا ہے تو وہ کہتا ہے : میں اللہ کی عبادت کرتا تھا ؟ پھر اس سے کہا جاتا ہے ، تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے ؟ ۱؎ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، پھر اس کے علاوہ اور کچھ نہیں پوچھا جاتا ، پھر اسے ایک گھر کی طرف لے جایا جاتا ہے ، جو اس کے لیے جہنم میں تھا اور اس سے کہا جاتا ہے : یہ تمہارا گھر ہے جو تمہارے لیے جہنم میں تھا ، لیکن اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا ، تم پر رحم کیا اور اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک گھر دیا ، تو وہ کہتا ہے : مجھے چھوڑ دو کہ میں جا کر اپنے گھر والوں کو بشارت دے دوں ، لیکن اس سے کہا جاتا ہے ، ٹھہرا رہ ، اور جب کافر قبر میں رکھا جاتا ہے ، تو اس کے پاس ایک فرشتہ آتا ہے اور اس سے ڈانٹ کر کہتا ہے : تو کس کی عبادت کرتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، تو اس سے کہا جاتا ہے : نہ تو نے جانا اور نہ کتاب پڑھی ( یعنی قرآن ) ، پھر اس سے کہا جاتا ہے : تو اس شخص کے بارے میں کیا کہتا تھا ؟ تو وہ کہتا ہے : وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے ، تو وہ اسے لوہے کے ایک گرز سے اس کے دونوں کانوں کے درمیان مارتا ہے ، تو وہ اس طرح چلاتا ہے کہ اس کی آواز آدمی اور جن کے علاوہ ساری مخلوق سنتی ہے “ ۔
The tradition mentioned above has also transmitted by ‘Abd al-Wahhab through a different chain of narrators in a similar manner. This version has :
When a man is placed in his grave and his friends leave him, he hears the beat of their sandals. Then two angles come and speak to him. He then mentioned the rest of the tradition nearly similar to the previous one. It goes : As for the infidel and hypocrite they say to them. This version adds the word “hypocrite”. And he said : those who are near him will hear (his shout) with the exception of men and jinn.
عبدالوہاب سے اسی جیسی سند سے اس طرح کی حدیث مروی ہے
اس میں ہے : ” جب بندہ قبر میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور اس کے رشتہ دار واپس لوٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے ، اتنے میں اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، اور اس سے کہتے ہیں پھر انہوں نے پہلی حدیث کے قریب قریب بیان کیا ، اور اس میں اس طرح ہے : رہے کافر اور منافق تو وہ دونوں اس سے کہتے ہیں “ راوی نے ” منافق “ کا اضافہ کیا ہے اور اس میں ہے : ” اسے ہر وہ شخص سنتا ہے جو اس کے قریب ہوتا ہے ، سوائے آدمی اور جن کے ۱؎ “ ۔
We went out with the Messenger of Allah (ﷺ) accompanying the bier of a man of the Ansar. When we reached his grave, it was not yet dug. So the Messenger of Allah (ﷺ) sat down and we also sat down around him as if birds were over our heads. He had in his hand a stick with which he was scratching the ground.
He then raised his head and said: Seek refuge with Allah from the punishment in the grave. He said it twice or thrice.
The version of Jabir adds here: He hears the beat of their sandals when they go back, and at that moment he is asked: O so and so! Who is your Lord, what is your religion, and who is your Prophet?
Hannad's version says: Two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord?
He will reply: My Lord is Allah. They will ask him: What is your religion? He will reply: My religion is Islam. They will ask him: What is your opinion about the man who was sent on a mission among you? He will reply: He is the Messenger of Allah (ﷺ). They will ask: Who made you aware of this? He will reply: I read Allah's Book, believed in it, and considered it true; which is verified by Allah's words: "Allah's Book, believed in it, and considered it true, which is verified by Allah's words: "Allah establishes those who believe with the word that stands firm in this world and the next."
The agreed version reads: Then a crier will call from Heaven: My servant has spoken the truth, so spread a bed for him from Paradise, clothe him from Paradise, and open a door for him into Paradise. So some of its air and perfume will come to him, and a space will be made for him as far as the eye can see.
He also mentioned the death of the infidel, saying: His spirit will be restored to his body, two angels will come to him, make him sit up and ask him: Who is your Lord?
He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask him: What is your religion? He will reply: Alas, alas! I do not know. They will ask: Who was the man who was sent on a mission among you? He will reply: Alas, alas! I do not know. Then a crier will call from Heaven: He has lied, so spread a bed for him from Hell, clothe him from Hell, and open for him a door into Hell. Then some of its heat and pestilential wind will come to him, and his grave will be compressed, so that his ribs will be crushed together.
Jabir's version adds: One who is blind and dumb will then be placed in charge of him, having a sledge-hammer such that if a mountain were struck with it, it would become dust. He will give him a blow with it which will be heard by everything between the east and the west except by men and jinn, and he will become dust. Then his spirit will be restored to him.
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ انصار کے ایک شخص کے جنازے میں نکلے ، ہم قبر کے پاس پہنچے ، وہ ابھی تک تیار نہ تھی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر چڑیاں بیٹھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی ، جس سے آپ زمین کرید رہے تھے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور فرمایا : ” قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو “ اسے دو بار یا تین بار فرمایا ، یہاں جریر کی روایت میں اتنا اضافہ ہے : اور فرمایا : ” اور وہ ان کے جوتوں کی چاپ سن رہا ہوتا ہے جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹتے ہیں ، اسی وقت اس سے پوچھا جاتا ہے ، اے جی ! تمہارا رب کون ہے ؟ تمہارا دین کیا ہے ؟ اور تمہارا نبی کون ہے ؟ “ ہناد کی روایت کے الفاظ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں : تمہارا رب ( معبود ) کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے ، میرا رب ( معبود ) اللہ ہے ، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں : تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر پوچھتے ہیں : یہ کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، پھر وہ دونوں اس سے کہتے ہیں : تمہیں یہ کہاں سے معلوم ہوا ؟ وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی اور اس پر ایمان لایا اور اس کو سچ سمجھا “ جریر کی روایت میں یہاں پر یہ اضافہ ہے : ” اللہ تعالیٰ کے قول «يثبت الله الذين آمنوا» سے یہی مراد ہے “ ( پھر دونوں کی روایتوں کے الفاظ ایک جیسے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا لہٰذا تم اس کے لیے جنت کا بچھونا بچھا دو ، اور اس کے لیے جنت کی طرف کا ایک دروازہ کھول دو ، اور اسے جنت کا لباس پہنا دو “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” پھر جنت کی ہوا اور اس کی خوشبو آنے لگتی ہے ، اور تا حد نگاہ اس کے لیے قبر کشادہ کر دی جاتی ہے “ ۔ اور رہا کافر تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی موت کا ذکر کیا اور فرمایا : ” اس کی روح اس کے جسم میں لوٹا دی جاتی ہے ، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں ، اسے اٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں : تمہارا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم ، وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں : یہ آدمی کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم ، پھر وہ دونوں اس سے پوچھتے ہیں : تمہارا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہا ہا ! مجھے نہیں معلوم ، تو پکارنے والا آسمان سے پکارتا ہے : اس نے جھوٹ کہا ، اس کے لیے جہنم کا بچھونا بچھا دو اور جہنم کا لباس پہنا دو ، اور اس کے لیے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو ، تو اس کی تپش اور اس کی زہریلی ہوا ( لو ) آنے لگتی ہے اور اس کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جاتی ہیں “ جریر کی روایت میں یہ اضافہ ہے : ” پھر اس پر ایک اندھا گونگا ( فرشتہ ) مقرر کر دیا جاتا ہے ، اس کے ساتھ لوہے کا ایک گرز ہوتا ہے اگر وہ اسے کسی پہاڑ پر بھی مارے تو وہ بھی خاک ہو جائے ، چنانچہ وہ اسے اس کی ایک ضرب لگاتا ہے جس کو مشرق و مغرب کے درمیان کی ساری مخلوق سوائے آدمی و جن کے سنتی ہے اور وہ مٹی ہو جاتا ہے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ” پھر اس میں روح لوٹا دی جاتی ہے “ ۔
Chapter 1703: Questioning And Punishment In The Grave - كتاب السنة
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا الْمِنْهَالُ، عَنْ أَبِي عُمَرَ، : زَاذَانَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al-Bara’ (b. ‘Azib) from the prophet (May peace be upon him) through a different chain of narrators is a similar way.
ابوعمر زاذان کہتے ہیں کہ
میں نے براء رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے سنا ، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔
‘A’ishah said that she thought of Hell and wept. The Messenger of Allah (May peace be upon him) asked her :
What makes you weep ? She replied : I thought of Hell and wept. Will you remember your family on the 4th Day of resurrection ? the Messenger of Allah (May peace be upon him) said : There are three places where no one will remember anyone: at the scale until one knows whether his weight is light or heavy; at (the examination of) the book when one is commanded : Take and read Allah’s record, until he knows whether his book will be put into his right hand, or into his left hand, or behind his back ; and the path when it is placed across JAHANNAM.
حسن بصری کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہنم کا ذکر کیا تو رونے لگیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم کیوں روتی ہو ؟ “ ، وہ بولیں : مجھے جہنم یاد آ گئی تو رونے لگی ، کیا آپ قیامت کے دن اپنے گھر والوں کو یاد کریں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین جگہوں پر تو وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا : ایک میزان کے پاس یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا میزان ہلکا ہے یا بھاری ہے ، دوسرے کتاب کے وقت جب کہا جائے گا : آؤ پڑھو اپنی اپنی کتاب یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ اس کی کتاب کس میں دی جائے گی آیا دائیں ہاتھ میں یا بائیں ہاتھ میں ، یا پھر پیٹھ کے پیچھے سے اور تیسرے پل صراط کے پاس جب وہ جہنم پر رکھا جائے گا “ ۔ یعقوب نے «عن يونس» کے الفاظ سے روایت کی اور یہ حدیث اسی کے الفاظ میں ہے ۔
I heard the Prophet (ﷺ) say: There has been no Prophet after Noah who has not warned his people about the antichrist (Dajjal), and I warn you of him. The Messenger of Allah (ﷺ) described him to us, saying: Perhaps some who have seen me and heard my words will live till his time. The people asked: Messenger of Allah! what will be the condition of our hearts on that day? Like what we are today? He replied: Or better.
ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” نوح کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہوا جس نے اپنی قوم کو دجال سے نہ ڈرایا ہو اور میں بھی تمہیں اس سے ڈراتا ہوں “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس کی صفت بیان کی اور فرمایا : ” شاید اسے وہ شخص پائے جس نے مجھے دیکھا اور میری بات سنی “ لوگوں نے عرض کیا : اس دن ہمارے دل کیسے ہوں گے ؟ کیا اسی طرح جیسے آج ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس سے بھی بہتر “ ( کیونکہ فتنہ و فساد کے باوجود ایمان پر قائم رہنا زیادہ مشکل ہے ) ۔
The Messenger of Allah (May peace be upon him) stood among the people and praised Allah in a way which is worthy of him, and mentioned the Antichrist (Dajjal), saying : I warn you of him, and there has been no prophet who has not warned his people about him, and Noah also warned his people about him. But I tell you about him a word which no Prophet had told his people : you should know that he will be blind in one eye, and Allah is not blind is one eye.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی لائق شان حمد و ثنا بیان فرمائی ، پھر دجال کا ذکر کیا اور فرمایا : ” میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں ، کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا نہ ہو ، نوح ( علیہ السلام ) نے بھی اپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا ، لیکن میں تمہیں اس کے بارے میں ایسی بات بتا رہا ہوں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی : وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے “ ۔
Abu Dharr reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
How will you deal with the rulers (imams) who appropriate to themselves this booty? I said : I swear by him who sent you with the truth that at that time I shall put my sword on my shoulder and smite with it till I meet you, or I join you. He said: shall I not guide you to something better than that? You must show endurance till you meet me.
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کیا حال ہو گا ۱؎ جب میرے بعد حکمراں اس مال فے کو اپنے لیے مخصوص کر لیں گے “ میں نے عرض کیا : تب تو اس ذات کی قسم ، جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، میں اپنی تلوار اپنے کندھے پر رکھوں گا ، پھر اس سے ان کے ساتھ لڑوں گا یہاں تک کہ میں آپ سے ملاقات کروں یا آ ملوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں ؟ تم صبر کرنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو “ ۔
Umm Salamah, wife of the Prophet (May peace be upon him) is reported to have said:
The Messenger of Allah (May peace be upon him) said: You will have commanders some of whom you will approve and some of whom you will disapprove. He who expresses disapproval with his tongue (Abu Dawud said : This is Hisham’s version) is guiltless; and he who feels disapproval in his heart, is safe, but he who is pleased and follows them. He was asked; shall we not kill them, Messenger of Allah? Abu Dawud’s version has : Shall we not fight with them? He replied : No, so long as they pray.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عنقریب تم پر ایسے حاکم ہوں گے جن سے تم معروف ( نیک اعمال ) ہوتے بھی دیکھو گے اور منکر ( خلاف شرع امور ) بھی دیکھو گے ، تو جس نے منکر کا انکار کیا ، ( ابوداؤد کہتے ہیں : ہشام کی روایت میں «بلسانہ» کا لفظ بھی ہے ( جس نے منکر کا ) اپنی زبان سے انکار کیا ) تو وہ بری ہو گیا اور جس نے دل سے برا جانا وہ بھی بچ گیا ، البتہ جس نے اس کام کو پسند کیا اور اس کی پیروی کی تو وہ بچ نہ سکے گا “ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم انہیں قتل نہ کر دیں ؟ ( سلیمان ابن داود طیالسی ) کی روایت میں ہے : کیا ہم ان سے قتال نہ کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں جب تک کہ وہ نماز پڑھتے رہیں ۱؎ “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Umm Salamah through a different chain of narrators to the same effect. This version has :
He who disapproves is guiltless, and he who disapproves is safe. Qatadah said : it means one who feels its disapproval in his heart, and one who expresses disapproval in his heart.
اس سند سے بھی ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے ناپسند کیا تو وہ بری ہو گیا اور جس نے کھل کر انکار کر دیا تو وہ محفوظ ہو گیا “ قتادہ کہتے ہیں : مطلب یہ ہے کہ جس نے دل سے اس کا انکار کیا اور جس نے دل سے اسے ناپسند کیا ۔
‘Arfajah told that he heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
various corruptions will arise in my community, so strike with sword the one who tries to cause separation in the matter of Muslims when they are united, whoever he be.
عرفجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میری امت میں کئی بار شر و فساد ہوں گے ، تو متحد مسلمانوں کے شرازہ کو منتشر کرنے والے کی گردن تلوار سے اڑا دو خواہ وہ کوئی بھی ہو “ ۔
‘Ali mentioned about the people of al Nahrawan, saying: Among them there will be a man with a defective hand or with a small hand. if you were not to overjoy. I would inform you of what Allah has promised (the reward for) those who will kill them at the tongue of Muhammad (May peace be upon him). I asked : Have you heard this from him? He replied : Yes, by the lord of the Ka’bah.
عبیدہ سے روایت ہے کہ
علی رضی اللہ عنہ نے اہل نہروان ۱؎ کا ذکر کیا اور کہا : ان میں چھوٹے ہاتھ کا ایک آدمی ہے ، اگر مجھے تمہارے اترانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہیں بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے کس چیز کا وعدہ کیا ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے جنگ کریں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : کیا آپ نے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں رب کعبہ کی قسم ۔
‘Ali sent some gold-mixed dust to the prophet (May peace be upon him). He divided it among the four : al-Aqra b. Habis al-Hanzall and then al-Mujashi, uyainah b. Badr al-fazari, zaid al-khail al-Ta’l, next to one of Banu nabhan, and ‘Alqamah b. ‘Ulathat al-Amiri (in general), next to one of Banu kulaib. The Quraish and the ansar became angry and said : He is giving to the chiefs of the people of Najd and leaving us. He said : I am giving them for reconciliation of their hearts. Then a man with deep-seated eyes, high cheek-bones, a projecting brow, a thick beard and a shaven head came forward and said: For Allah, Muhammad! He said : Who will obey Allah if I disobey Him? Allah entrusts me with power over the inhabitants of the earth, but you do not. A man asked to be allowed to kill him and I think he was Khalid b. al-Walid but he prevented him. Then when the man turned away, he said: From this one’s stock there will be people who recite the Quran, but it will not pass down their throats. They will sever from Islam and leave the worshippers of Idols alone; but if I live up to their time I shall certainly kill them as 'Ad were killed.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مٹی سے آلودہ سونے کا ایک ٹکڑا بھیجا ۱؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چار لوگوں : اقرع بن حابس حنظلی مجاشعی ، عیینہ بن بدر فزاری ، زید الخیل طائی جو بنی نبہان کے ایک فرد ہیں اور علقمہ بن علاثہ عامری جو بنی کلاب سے ہیں کے درمیان تقسیم کر دیا ، اس پر قریش اور انصار کے لوگ ناراض ہو گئے اور کہنے لگے : آپ اہل نجد کے رئیسوں کو دیتے ہیں اور ہمیں چھوڑ دیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں “ اتنے میں ایک شخص آیا ( جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی ، رخسار ابھرے ہوئے اور پیشانی بلند ، داڑھی گھنی اور سر منڈا ہوا تھا ) اور کہنے لگا : اے محمد ! اللہ سے ڈرو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب میں ہی اس کی نافرمانی کرنے لگوں گا تو کون اس کی فرمانبرداری کرے گا ، اللہ تو زمین والوں میں مجھے امانت دار سمجھتا ہے اور تم مجھے امانت دار نہیں سمجھتے ؟ “ تو ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت چاہی ، میرا خیال ہے وہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، اور جب وہ لوٹ گیا تو آپ نے فرمایا : ” اس کی نسل میں کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ، وہ ان کے گلوں سے نیچے نہیں اترے گا ، وہ اسلام سے اسی طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اس شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے جسے تیر مارا جاتا ہے ، وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پوجنے والوں کو چھوڑ دیں گے ، اگر میں نے انہیں پایا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۲؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Soon there will appear disagreement and dissension in my people; there will be people who will be good in speech and bad in work. They recite the Qur'an, but it does not pass their collar-bones. They will swerve from the religion as an animal goes through the animal shot at. They will not return to it till the arrow comes back to its notch. They are worst of the people and animals. Happy is the one who kills them and they kill him. They call to the book of Allah, but they have nothing to do with it. He who fights against them will be nearer to Allah than them (the rest of the people). The people asked: What is their sign? He replied: They shave the head.
ابو سعید خدری اور انس بن مالک رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت میں اختلاف اور تفرقہ ہو گا ، کچھ ایسے لوگ ہوں گے ، جو باتیں اچھی کریں گے لیکن کام برے کریں گے ، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا ، وہ دین سے اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، وہ ( اپنی روش سے ) باز نہیں آئیں گے جب تک تیر سوفار ( اپنی ابتدائی جگہ ) پر الٹا نہ آ جائے ، وہ سب لوگوں اور مخلوقات میں بدترین لوگ ہیں ، بشارت ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے یا جسے وہ قتل کریں ، وہ کتاب اللہ کی طرف بلائیں گے ، حالانکہ وہ اس کی کسی چیز سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتے ہوں گے ، جو ان سے قتال کرے گا ، وہ لوگوں میں سب سے زیادہ اللہ سے قریب ہو گا “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ان کی نشانی کیا ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سر منڈانا “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Anas through a different chain of narrators in a similar manner. This version adds; Their sign is shaving the head and eliminating the hair. If you see them, kill them.
Abu Dawud said:
Tasmid means uprooting the hair.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ، البتہ اس میں یہ ہے کہ آپ نے فرمایا : ” ان کی علامت سر منڈانا اور بالوں کو جڑ سے ختم کرنا ہے ، لہٰذا جب تم انہیں دیکھو تو انہیں قتل کر دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «تسبید» : بال کو جڑ سے ختم کرنے کو کہتے ہیں ۔
When I mention a tradition to you from the Messenger of Allah (May peace be upon him), it is dearer to me that I fall from the heaven than I lie on him. But when I talk to you about matters between me and you, then war is a deception. I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say: Towards the end of the time there will be people who are young in age and from Islam as an arrow goes through the animal aimed at, and their faith will not pass their throats. Wherever you meet them kill them, for their killing will bring a reward for him who kills them on the day of Resurrection.
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث تم سے بیان کروں تو آسمان سے میرا گر جانا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں آپ پر جھوٹ بولوں ، اور جب میں تم سے اس کے متعلق کوئی بات کروں جو ہمارے اور تمہارے درمیان ہے تو جنگ چالاکی و فریب دہی ہوتی ہی ہے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو کم عمر اور کم عقل ہوں گے ، جو تمام مخلوقات میں بہتر شخص کی طرح باتیں کریں گے ، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، ان کا ایمان ان کی گردنوں سے نیچے نہ اترے گا ، لہٰذا جہاں کہیں تم ان سے ملو تم انہیں قتل کر دو ، اس لیے کہ ان کا قتل کرنا ، قیامت کے روز اس شخص کے لیے اجر و ثواب کا باعث ہو گا جو انہیں قتل کرے گا “ ۔
Zaid b. Wahb al-Juhani told us that he was in the army which proceeded to (fight with) the Khawarij in the company of `Ali. `Ali then said: O people! I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: there will appear from among my community people who recite the Qur'an, and your recitation has no comparison with their recitation, and your prayer has no comparison with their prayer, and your fasts have no comparison with their fasts. They will recite the Qur'an thinking that it is beneficial for them, while it is harmful for them. Their prayer will not pass their collar-bones. They will swerve from Islam as an arrow goes through the animal shot at. If the army that is approaching them knows what (reward) has been decided for them at the tongue of their Prophet (ﷺ), they would leave (other good) activities. The sign of that is that among them there will be a man who has an upper arm, but not hand; on his upper arm there will be something like the nipple of a female breast, having white hair thereon. Will you go to Mu`awiyah and the people of Syria, and leave them behind among your children and property? I swear by Allah, I hope these are the same people, for they shed the blood unlawfully, and attacked the cattle of the people so go on in the name of Allah. Salamah b. Kuhail said: Zaid b. Wahb then informed me of all the halting places one by one, (saying): Until we passed a bridge. When we fought with each other, `Abd Allah b. Wahb al-Rasibi, who was the leader of the Khawarij, said to them: Throw away the lances and pull out the swords from their sheaths, for I am afraid they will adjure you as they had adjured on the day of Harura. So they threw away their lances and pulled out their swords, and the people pierced them with their lances. They were killed (lying one on the other). On that day only two persons of the partisans (of `Ali) were afflicted. `Ali said: Search for the man with the crippled hand. But they could not find him. Then `Ali got up himself and went to the people who had been killed and were lying on one another. He said: Take them out. They found him just near the ground. So he shouted: Allah is Most Great! He said: Allah spoke the truth, and His Apostle has conveyed. `Ubaidat al-Salmani stood up to him, saying: Commander of the Faithful! Have you heard it from the Messenger of Allah (ﷺ)? He said: Yes, by him, there is no God but He. He put to swear thrice and he swore.
زید بن وہب جہنی بیان کرتے ہیں کہ
وہ اس فوج میں شامل تھے جو علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھی ، اور جو خوارج کی طرف گئی تھی ، علی نے کہا : اے لوگو ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” میری امت میں کچھ لوگ ایسے نکلیں گے کہ وہ قرآن پڑھیں گے ، تمہارا پڑھنا ان کے پڑھنے کے مقابلے کچھ نہ ہو گا ، نہ تمہاری نماز ان کی نماز کے مقابلے کچھ ہو گی ، اور نہ ہی تمہارا روزہ ان کے روزے کے مقابلے کچھ ہو گا ، وہ قرآن پڑھیں گے ، اور سمجھیں گے کہ وہ ان کے لیے ( ثواب ) ہے حالانکہ وہ ان پر ( عذاب ) ہو گا ، ان کی صلاۃ ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گی ، وہ اسلام سے نکل جائیں گے ، جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ، اگر ان لوگوں کو جو انہیں قتل کریں گے ، یہ معلوم ہو جائے کہ ان کے لیے ان کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی کس چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے ، تو وہ ضرور اسی عمل پر بھروسہ کر لیں گے ( اور دوسرے نیک اعمال چھوڑ بیٹھیں گے ) ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک ایسا آدمی ہو گا جس کے بازو ہو گا ، لیکن ہاتھ نہ ہو گا ، اس کے بازو پر پستان کی گھنڈی کی طرح ایک گھنڈی ہو گی ، اس کے اوپر کچھ سفید بال ہوں گے “ تو کیا تم لوگ معاویہ اور اہل شام سے لڑنے جاؤ گے ، اور انہیں اپنی اولاد اور اسباب پر چھوڑ دو گے ( کہ وہ ان پر قبضہ کریں اور انہیں برباد کریں ) اللہ کی قسم مجھے امید ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں ( جن کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ) اس لیے کہ انہوں نے ناحق خون بہایا ہے ، لوگوں کی چراگاہوں پر شب خون مارا ہے ، چلو اللہ کے نام پر ۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں : پھر زید بن وہب نے مجھے ایک ایک مقام بتایا ( جہاں سے ہو کر وہ خارجیوں سے لڑنے گئے تھے ) یہاں تک کہ وہ ہمیں لے کر ایک پل سے گزرے ۔ وہ کہتے ہیں : جب ہماری مڈبھیڑ ہوئی تو خارجیوں کا سردار عبداللہ بن وہب راسبی تھا اس نے ان سے کہا : نیزے پھینک دو اور تلواروں کو میان سے کھینچ لو ، مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تم سے اسی طرح صلح کا مطالبہ نہ کریں جس طرح انہوں نے تم سے حروراء کے دن کیا تھا ، چنانچہ انہوں نے اپنے نیز ے پھینک دئیے ، تلواریں کھینچ لیں ، لوگوں ( مسلمانوں ) نے انہیں اپنے نیزوں سے روکا اور انہوں نے انہیں ایک پر ایک کر کے قتل کیا اور ( مسلمانوں میں سے ) اس دن صرف دو آدمی شہید ہوئے ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : ان میں «مخدج» یعنی لنجے کو تلاش کرو ، لیکن وہ نہ پا سکے ، تو آپ خود اٹھے اور ان لوگوں کے پاس آئے جو ایک پر ایک کر کے مارے گئے تھے ، آپ نے کہا : انہیں نکالو ، تو انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ سب سے نیچے زمین پر پڑا ہے ، آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور بولے : اللہ نے سچ فرمایا اور اس کے رسول نے ساری باتیں پہنچا دیں ۔ پھر عبیدہ سلمانی آپ کی طرف اٹھ کر آئے کہنے لگے : اے امیر المؤمنین ! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں کیا آپ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ؟ وہ بولے : ہاں ، اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، یہاں تک کہ انہوں نے انہیں تین بار قسم دلائی اور وہ ( تینوں بار ) قسم کھاتے رہے ۔
Search for the man with crippled hand. He then mentioned the rest of the tradition. This version has: They took him out from beneath the slain in the dust. Abu al-wadi said: As if I am looking at an Abyssinian with a shirt on him. He had one of his hands like the nipple of the female breast, having hair on it like the hair on the tail of the jerboa.
ابوالوضی کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : «مخدج» ( لنجے ) کو تلاش کرو ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : لوگوں نے اسے مٹی میں پڑے ہوئے مقتولین کے نیچے سے ڈھونڈ نکالا ، گویا میں اس کی طرف دیکھ رہا ہوں ، وہ ایک حبشی ہے چھوٹا سا کرتا پہنے ہوئے ہے ، اس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہے ، جس پر ایسے چھوٹے چھوٹے بال ہیں ، جیسے جنگلی چوہے کی دم پر ہوتے ہیں ۔
This man with the crippled hand was on that day with us in the mosque. We would sit with him by day and by night, and he was a poor man. I saw him attending the meals of ‘Ali (ra) which he took with the people, and I clothed him with a cloak of mine.
Abu Maryam said: The man with the crippled hand was called Nafi` Dhu al-Thadyah (Nafi`, man of nipple). He had in his hand something like a female breast with a nipple at it ends like the nipple of the female breast. If had some hair on it like the whiskers of cat.
Abu Dawud said: He was known among the people by the name of Harqus.
ابومریم کہتے ہیں کہ
یہ «مخدج» ( لنجا ) مسجد میں اس دن ہمارے ساتھ تھا ہم اس کے ساتھ رات دن بیٹھا کرتے تھے ، وہ فقیر تھا ، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مسکینوں کے ساتھ آ کر علی رضی اللہ عنہ کے کھانے پر لوگوں کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور میں نے اسے اپنا ایک کپڑا دیا تھا ۔ ابومریم کہتے ہیں : لوگ «مخدج» ( لنجے ) کو «نافعا ذا الثدية» ( پستان والا ) کا نام دیتے تھے ، اس کے ہاتھ میں عورت کے پستان کی طرح گوشت ابھرا ہوا تھا ، اس کے سرے پر ایک گھنڈی تھی جیسے پستان میں ہوتی ہے اس پر بلی کی مونچھوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بال تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : لوگوں کے نزدیک اس کا نام حرقوس تھا ۔