The tradition mentioned above has also been transmitted by Yahya b. Yamur and Humaid b. ‘Abd al-Rahman through a different chain of narrators. This version has :
we met ‘Abd Allah b. ‘Umar. We told him about divine decree and what they said about it. He then mentioned something similar to it. He added : A man of Muzainah or juhainah asked : What is the good in doing anything, Messenger of Allah ? should we think that a thing has passed and gone or a thing that has happened now (without predestination)? He replied : About a thing that has passed and gone (i.e. predestined). A man or some people asked: Then, why action? He replied: Those who are among the number of those who go to Paradise will be helped to do the deeds of the people who will go to Paradise, and those who are among the number of those who go to Hell will be helped to do the deeds of those who will go to Hell.
یحییٰ بن یعمر اور حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ
ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملے تو ہم نے آپ سے تقدیر کے بارے میں جو کچھ لوگ کہتے ہیں اس کا ذکر کیا ۔ پھر راوی نے اسی طرح کی روایت ذکر کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ سے مزینہ یا جہینہ ۱؎ کے ایک شخص نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! پھر ہم کیا جان کر عمل کریں ؟ کیا یہ جان کر کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ سب پہلے ہی تقدیر میں لکھا جا چکا ہے ، یا یہ جان کر کہ ( پہلے سے نہیں لکھا گیا ہے ) نئے سرے سے ہونا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ جان کر کہ جو کچھ ہونا ہے سب تقدیر میں لکھا جا چکا ہے “ پھر اس شخص نے یا کسی دوسرے نے کہا : تو آخر یہ عمل کس لیے ہے ؟ ۲؎ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اہل جنت کے لیے اہل جنت والے اعمال آسان کر دئیے جاتے ہیں اور اہل جہنم کو اہل جہنم کے اعمال آسان کر دیئے جاتے ہیں “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Ya’mur, with additions and omissions, through a different chain of narrators. This version adds; He asked :
What is Islam? He replied : It means saying prayer, payment of zakat, performing HAJJ, fasting during RAMADAN, and taking a bath on account of sexual defilement.
Abu Dawud said: 'Alqamah was a Murji'i.
یحییٰ بن یعمر سے یہی حدیث کچھ الفاظ کی کمی اور بیشی کے ساتھ مروی ہے
اس نے پوچھا : اسلام کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز کی اقامت ، زکاۃ کی ادائیگی ، بیت اللہ کا حج ، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اور جنابت لاحق ہونے پر غسل کرنا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : علقمہ مرجئی ہیں ۔
Chapter 1693: Belief In Divine Decree - كتاب السنة
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ قَالاَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَىْ أَصْحَابِهِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلاَ يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ حَتَّى يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ - قَالَ - فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ فَجَلَسَ عَلَيْهِ وَكُنَّا نَجْلِسُ بِجَنْبَتَيْهِ وَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْخَبَرِ فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَذَكَرَ هَيْئَتَهُ حَتَّى سَلَّمَ مِنْ طَرْفِ السِّمَاطِ فَقَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ . قَالَ فَرَدَّ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated AbuDharr and AbuHurayrah:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to sit among his Companions. A stranger would come and not recognize him (the Prophet) until he asked (about him). So we asked the Messenger of Allah (ﷺ) to make a place where he might take his seat so that when a stranger came, he might recognise him. So we built a terrace of soil on which he would take his seat, and we would sit beside him. He then mentioned something similar to this Hadith saying: A man came, and he described his appearance. He saluted from the side of the assembly, saying: Peace be upon you, Muhammad. The Prophet (ﷺ) then responded to him.
ابوذر اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے بیچ میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ جب کوئی اجنبی شخص آتا تو وہ بغیر پوچھے آپ کو پہچان نہیں پاتا تھا ، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ ہم آپ کے لیے ایک ایسی جائے نشست بنا دیں کہ جب بھی کوئی اجنبی آئے تو وہ آپ کو پہچان لے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : چنانچہ ہم نے آپ کے لیے ایک مٹی کا چبوترا بنا دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھتے اور ہم آپ کے اردگرد بیٹھتے ، آگے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اسی جیسی روایت ذکر کی ، اس میں ہے کہ ایک شخص آیا ، پھر انہوں نے اس کی ہیئت ذکر کی ، یہاں تک کہ اس نے بیٹھے ہوئے لوگوں کے کنارے سے ہی آپ کو یوں سلام کیا : السلام علیک یا محمد ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب دیا ۔
I went to Ubayy b. Ka’b and said him : I am confused about Divine decree, so tell me something by means of which Allah may remove the confusion from my mind. He replied : were Allah to punish everyone in the heavens and in the earth. He would do so without being unjust to them, and were he to show mercy to them his mercy would be much better than their actions merited. Were you to spend in support of Allah’s cause an amount of gold equivalent to Uhud, Allah would not accept it from you till you believed in divine decree and knew that what has come to you could not miss you and that what has missed you could not come to you. Were you to die believing anything else you would enter Hell. He said : I then went to ‘Abd Allah b. MAs’ud and he said something to the same effect. I next went to Hudhaifah b. al-Yaman and he said something to the same effect. I next went to Zaid b. Thabit who told me something from the Prophet (May peace be upon him) to the same effect.
ابن دیلمی ۱؎ کہتے ہیں کہ
میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا : میرے دل میں تقدیر کے بارے میں کچھ شبہ پیدا ہو گیا ہے ، لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جس سے یہ امید ہو کہ اللہ اس شبہ کو میرے دل سے نکال دے گا ، فرمایا : اگر اللہ تعالیٰ آسمان والوں اور زمین والوں کو عذاب دینا چاہے تو دے سکتا ہے ، اور عذاب دینے میں وہ ظالم نہیں ہو گا ، اور اگر ان پر رحم کرے تو اس کی رحمت ان کے لیے ان کے اعمال سے بہت بہتر ہے ، اگر تم احد کے برابر سونا اللہ کی راہ میں خرچ کر دو تو اللہ اس کو تمہاری طرف سے قبول نہیں فرمائے گا جب تک کہ تم تقدیر پر ایمان نہ لے آؤ اور یہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں پہنچا ہے وہ ایسا نہیں ہے کہ نہ پہنچتا ، اور جو کچھ تمہیں نہیں پہنچا وہ ایسا نہیں کہ تمہیں پہنچ جاتا ، اور اگر تم اس عقیدے کے علاوہ کسی اور عقیدے پر مر گئے تو ضرور جہنم میں داخل ہو گے ۔ ابن دیلمی کہتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی ، پھر میں حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی اسی طرح کی بات کہی ، پھر میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے مجھ سے اسی کے مثل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مرفوع روایت بیان کی ۔
Son! You will not get the taste of the reality of faith until you know that what has come to you could not miss you, and that what has missed you could not come to you. I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The first thing Allah created was the pen. He said to it: Write. It asked: What should I write, my Lord? He said: Write what was decreed about everything till the Last Hour comes. Son! I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say : He who dies on something other than this does not belong to me.
ابوحفصہ کہتے ہیں کہ
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے کہا : اے میرے بیٹے ! تم ایمان کی حقیقت کا مزہ ہرگز نہیں پا سکتے جب تک کہ تم یہ نہ جان لو کہ جو کچھ تمہیں ملا ہے وہ ایسا نہیں کہ نہ ملتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے ایسا نہیں کہ وہ تمہیں مل جاتا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” سب سے پہلی چیز جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ، قلم ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس سے کہا : لکھ ، قلم نے کہا : اے میرے رب ! میں کیا لکھوں ؟ اللہ تعالیٰ نے کہا : قیامت تک ہونے والی ساری چیزوں کی تقدیریں لکھ “ اے میرے بیٹے ! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” جو اس کے علاوہ ( کسی اور عقیدے ) پر مرا تو وہ مجھ سے نہیں “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
Adam and Moses held a disputation. Moses said : Adam you are our father. You deprived us and caused us to come out from Paradise. Adam said : You are Moses Allah chose you for his speech and wrote the Torah for you with his hand. Do you blame me for doing a deed which Allah had decreed that I should do forty year before he created me? So Adam got the better of Moses in argument.
Ahmad b. Salih said from 'Amr from Tawus who heard Abu Hurairah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدم اور موسیٰ نے بحث کی تو موسیٰ نے کہا : اے آدم ! آپ ہمارے باپ ہیں ، آپ ہی نے ہمیں محرومی سے دو چار کیا ، اور ہمیں جنت سے نکلوایا ، آدم نے کہا : تم موسیٰ ہو تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی گفتگو کے لیے چن لیا ، اور تمہارے لیے تورات کو اپنے ہاتھ سے لکھا ، تم مجھے ایسی بات پر ملامت کرتے ہو جسے اس نے میرے لیے مجھے پیدا کرنے سے چالیس سال پہلے ہی لکھ دیا تھا ، پس آدم موسیٰ پر غالب آ گئے “ ۱؎ ۔
‘Umar b. al-Khattab reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
Moses said : My lord, show us Adam who caused us and himself to come out from Paradise. So Allah showed him Adam. He asked : Are you our father, Adam? Adam said to him : Yes. He said : Are you the one into whom Allah breathed of his spirit, taught you all the names, and commanded angels (to prostrate) and they prostrated to you? He replied : Yes. He asked : Then what moved you to cause us and yourself to come out from paradise? Adam asked him : And who are you? He said : Yes. He asked : Did you not find that was decreed in the book (records) of Allah before I was created? He replied : Yes. He asked : Then why do you blame me about a thing for which Divine decree had already passed before me ? The Messenger of Allah (May peace be upon him) said : So Adam got the better of Moses in argument (peace be upon him).
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا : اے میرے رب ! ہمیں آدم علیہ السلام کو دکھا جنہوں نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوایا ، تو اللہ نے انہیں آدم علیہ السلام کو دکھایا ، موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ ہمارے باپ آدم ہیں ؟ تو آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : آپ ہی ہیں جس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی ، جسے تمام نام سکھائے اور فرشتوں کو حکم دیا تو انہوں نے آپ کو سجدہ کیا ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : تو پھر کس چیز نے آپ کو اس پر آمادہ کیا کہ آپ نے ہمیں اور خود کو جنت سے نکلوا دیا ؟ تو آدم نے ان سے کہا : اور تم کون ہو ؟ وہ بولے : میں موسیٰ ہوں ، انہوں نے کہا : تم بنی اسرائیل کے وہی نبی ہو جس سے اللہ نے پردے کے پیچھے سے گفتگو کی اور تمہارے اور اپنے درمیان اپنی مخلوق میں سے کوئی قاصد مقرر نہیں کیا ؟ کہا : ہاں ، آدم علیہ السلام نے کہا : تو کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں کہ وہ ( جنت سے نکالا جانا ) میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی کتاب میں لکھا ہوا تھا ؟ کہا : ہاں معلوم ہے ، انہوں نے کہا : پھر ایک چیز کے بارے میں جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فیصلہ میرے پیدا کئے جانے سے پہلے ہی مقدر ہو چکا تھا کیوں مجھے ملامت کرتے ہو ؟ “ یہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو آدم ، موسیٰ پر غالب آ گئے ، تو آدم موسیٰ پر غالب آ گئے “ ۔
Muslim ibn Yasar al-Juhani said: When Umar ibn al-Khattab was asked about the verse "When your Lord took their offspring from the backs of the children of Adam" - al-Qa'nabi recited the verse--he said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when he was questioned about it: Allah created Adam, then passed His right hand over his back, and brought forth from it his offspring, saying: I have these for Paradise and these will do the deeds of those who go to Paradise. He then passed His hand over his back and brought forth from it his offspring, saying: I have created these for Hell, and they will do the deeds of those who go to Hell.
A man asked: What is the good of doing anything, Messenger of Allah? The Messenger of Allah (ﷺ) said: When Allah creates a servant for Paradise, He employs him in doing the deeds of those who will go to Paradise, so that his final action before death is one of the deeds of those who go to Paradise, for which He will bring him into Paradise. But when He creates a servant for Hell, He employs him in doing the deeds of those who will go to Hell, so that his final action before death is one of the deeds of those who go to Hell, for which He will bring him into Hell.
مسلم بن یسار جہنی سے روایت ہے کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس آیت «وإذ أخذ ربك من بني آدم من ظهورهم» کے متعلق پوچھا گیا ۱؎ ۔ ( حدیث بیان کرتے وقت ) قعنبی نے آیت پڑھی تو آپ نے کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” اللہ تعالیٰ نے آدم کو پیدا کیا ، پھر ان کی پیٹھ پر اپنا داہنا ہاتھ پھیرا ، اس سے اولاد نکالی اور کہا : میں نے انہیں جنت کے لیے پیدا کیا ہے ، اور یہ جنتیوں کے کام کریں گے ، پھر ان کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا تو اس سے بھی اولاد نکالی اور کہا : میں نے انہیں جہنمیوں کے لیے پیدا کیا ہے اور یہ اہل جہنم کے کام کریں گے “ تو ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! پھر عمل سے کیا فائدہ ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ جب بندے کو جنت کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جنتیوں کے کام کراتا ہے ، یہاں تک کہ وہ جنتیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے ، تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کو جہنم کے لیے پیدا کرتا ہے تو اس سے جہنمیوں کے کام کراتا ہے یہاں تک کہ وہ جہنمیوں کے اعمال میں سے کسی عمل پر مر جاتا ہے تو اس کی وجہ سے اسے جہنم میں داخل کر دیتا ہے “ ۔
The boy whom al-Khidr had killed was created an infidel. Had he lived, he would have moved his parents to rebellion and unbelief.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ لڑکا جسے خضر ( علیہ السلام ) نے قتل کر دیا تھا طبعی طور پر کافر تھا اگر وہ زندہ رہتا تو اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر میں مبتلا کر دیتا “ ۔
I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) explaining the verse “As for the youth his parents were people of Faith,” he was created infidel the day when he was created.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کے فرمان «وأما الغلام فكان أبواه مؤمنين» ” اور رہا لڑکا تو اس کے ماں باپ مومن تھے “ ( سورۃ الکہف : ۸۰ ) کے بارے میں فرماتے سنا کہ وہ پیدائش کے دن ہی کافر پیدا ہوا تھا ۔
Ubayy b. Ka’b told me that the Messenger of Allah (May peace be upon him) said : Al-khidr saw a youth playing with boys. He took him by his head and uprooted it. Moses then said : Hast thou slain an innocent person who had slain none.
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خضر ( علیہ السلام ) نے ایک لڑکے کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو اس کا سر پکڑا ، اور اسے اکھاڑ لیا ، تو موسیٰ ( علیہ السلام ) نے کہا : کیا تم نے بےگناہ نفس کو مار ڈالا ؟ “ ۔
The Messenger of Allah (May peace be upon him) who spoke the truth and whose word was belief told us the following : The constituents of one of you are collected for forty days in his mother’s womb, then they become a piece of congealed blood for a similar period, then they become a lump of flesh for a similar period. Then Allah sends to him an angel with four words who records his provision the period of his life, his deeds, and whether he will be miserable or blessed ; thereafter he breathes the spirit into him. One of you will do the deeds of those who go to Paradise so that there will be only a cubit between him and it or will be within a cubit, then what is decreed will overcome him so that he will do the deeds of those who go to Hell and will enter it; and one of you will do the deeds of those who go to hell, so that there will be only a cubit between him and it or will be within a cubit, then what is decreed will overcome him, so that he will do the deeds of those who go to Paradise and will enter it.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آپ صادق اور آپ کی صداقت مسلم ہے ) بیان فرمایا : ” تم میں سے ہر شخص کا تخلیقی نطفہ چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں جمع رکھا جاتا ہے ، پھر اتنے ہی دن وہ خون کا جما ہوا ٹکڑا رہتا ہے ، پھر وہ اتنے ہی دن گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے ، پھر اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجا جاتا ہے اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے : تو وہ اس کا رزق ، اس کی عمر ، اس کا عمل لکھتا ہے ، پھر لکھتا ہے : آیا وہ بدبخت ہے یا نیک بخت ، پھر وہ اس میں روح پھونکتا ہے ، اب اگر تم میں سے کوئی جنتیوں کے عمل کرتا ہے ، یہاں تک کہ اس ( شخص ) کے اور اس ( جنت ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب ( تقدیر ) اس پر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں کے کام کر بیٹھتا ہے تو وہ داخل جہنم ہو جاتا ہے ، اور تم میں سے کوئی شخص جہنمیوں کے کام کرتا ہے یہاں تک کہ اس ( شخص ) کے اور اس ( جہنم ) کے درمیان صرف ایک ہاتھ یا ایک ہاتھ کے برابر کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ کتاب ( تقدیر ) اس پر سبقت کر جاتی ہے ، اب وہ جنتیوں کے کام کرنے لگتا ہے تو داخل جنت ہو جاتا ہے “ ۔
The Messenger of Allah (May peace be upon him) was asked : Is it known who are those who will go to paradise and those who will go to hell? He said : Yes. He asked : Then what is the good of doing anything by those who act? He replied : Everyone is helped to do for which he has been created.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! کیا جنتی اور جہنمی پہلے ہی معلوم ہو چکے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ اس نے کہا : پھر عمل کرنے والے کس بنا پر عمل کریں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر ایک کو توفیق اسی بات کی دی جاتی ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے “ ۔
I said : Messenger of Allah (May peace be upon him) what happens to the offspring of believers ? He replied : They are joined to their parents. I asked : Messenger of Allah! Although they have done nothing ? He replied : Allah knows best what they were doing. I asked : what happens to the offspring of polytheists, Messenger of Allah ? he replied! They are joined to their parents. I asked : Although they have done nothing? He replied : Allah knows best what they were doing.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! مومنوں کے بچوں کا کیا حال ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! بغیر کسی عمل کے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور مشرکین کے بچے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے ماں باپ کے حکم میں ہوں گے “ میں نے عرض یا بغیر کسی عمل کے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ ۱؎ ۔
The Prophet (May peace be upon him) was invited to the funeral of a boy who belonged to the ANSAR and I said; Messenger of Allah! This one is blessed, for he has done no evil, nor has he known it. He replied : It may be otherwise, ‘A’ishah, for Allah created Paradise and created those who will go to it, and He created it for them when they were still in their father’s loins; and he created hell and created those who will go to it, and created it for them when they were still in their father’s loins.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انصار کا ایک بچہ نماز پڑھنے کے لیے لایا گیا ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! زندگی کے مزے تو اس بچے کے لیے ہیں ، اس نے نہ کوئی گناہ کیا اور نہ ہی وہ اسے ( گناہ کو ) سمجھتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! کیا تم ایسا سمجھتی ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے اور جنت کو ان لوگوں کے لیے جب بنایا جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے ، اور جہنم کو پیدا کیا اور اس کے لیے لوگ بھی پیدا کئے گئے اور جہنم کو ان لوگوں کے لیے پیدا کیا جب کہ وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے “ ۱؎ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
Every child is born on Islam, but his parents make him a Jew and a Christian, just as a beast is born whole. Do you find some among them (born) maimed? The people asked : Messenger of Allah! What do you think about the one who died while he was young? He replied : Allah knows best what he was going to do.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا ڈالتے ہیں ، جیسے اونٹ صحیح و سالم جانور سے پیدا ہوتا ہے تو کیا تمہیں اس میں کوئی کنکٹا نظر آتا ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے جو بچپنے میں مر جائے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ ۔
Malik was asked : The heretics argue from this tradition against us. Malik said : Argue against them from its last part which goes. The people asked : What do you think about the one who died while he was young? He replied : Allah knows best what he was going to do.
ابن وہب کہتے ہیں کہ
میں نے مالک کو کہتے سنا ، ان سے پوچھا گیا : اہل بدعت ( قدریہ ) اس حدیث سے ہمارے خلاف استدلال کرتے ہیں ؟ مالک نے کہا : تم حدیث کے آخری ٹکڑے سے ان کے خلاف استدلال کرو ، اس لیے کہ اس میں ہے : صحابہ نے پوچھا کہ بچپن میں مرنے والے کا کیا حکم ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ” اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے “ ۔
Explaining the tradition “Every child is a born on Islam”, Hammad b. Salamah said :
In our opinion it means that covenant which Allah had taken in the loins of their fathers when He said : “Am I not your Lord? They said: Yes.
حجاج بن منہال کہتے کہ
میں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ” ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے “ ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا ، آپ نے کہا : ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا ، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے ، اللہ نے ان سے پوچھا تھا : «ألست بربكم قالوا بلى» ” کیا میں تمہارا رب ( معبود ) نہیں ہوں ؟ “ تو انہوں نے کہا تھا : کیوں نہیں ، ضرور ہیں ۔
Chapter 1694: The Offspring Of Polytheists - كتاب السنة
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَامِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ " . قَالَ يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا قَالَ أَبِي فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ عَامِرًا حَدَّثَهُ بِذَلِكَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم .
‘Amir reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
The woman who buries alive her new-born girl and the girl who is buried alive both will go to Hell.
This tradition has also been transmitted by Ibn Mas’ud from the Prophet (May peace be upon him) to the same effect through a different chain of narrators.
عامر شعبی کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «وائدہ» ( زندہ درگور کرنے والی ) اور «مؤودہ» ( زندہ درگور کی گئی دونوں ) جہنم میں ہیں “ ۱؎ ۔ یحییٰ بن زکریا کہتے ہیں : میرے والد نے کہا : مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ہے کہ عامر شعبی نے ان سے اسے بیان کیا ہے ، وہ علقمہ سے اور علقمہ ، ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور ابن مسعود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔
A man asked : where is my father, Messenger of Allah? He replied! Your father is in Hell. When he turned his back, he said : My father and your father are in Hell.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والد کہاں ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے والد جہنم میں ہیں “ جب وہ پیٹھ پھیر کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے والد اور تیرے والد دونوں جہنم میں ہیں “ ۱؎ ۔