A man from among the Jews said : By him who chose Moses above the universe. So a Muslim raised his hand and slapped the Jew on his face. The Jew went to the Messenger of Allah (May peace be upon him) and informed him. The Prophet (May peace be upon him) said: Do not make me superior to Moses, for mankind (on the Day of Resurrection) will swoon and I will be the know whether he was among those who swooned and had recovered before me, or he was among those of whom Allah had made an exception.
Abu Dawud said : The tradition of Ibn yahya is more perfect.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
یہود کے ایک شخص نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو چن لیا ، یہ سن کر مسلمان نے یہودی کے چہرہ پر طمانچہ رسید کر دیا ، یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور اس کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا : ” مجھے موسیٰ علیہ السلام پر فضیلت نہ دو ، ( پہلا صور پھونکنے سے ) سب لوگ بیہوش ہو جائیں گے تو سب سے پہلے میں ہوش میں آؤں گا ، اس وقت موسیٰ علیہ السلام عرش کا ایک کنارا مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہوں گے ، تو مجھے نہیں معلوم کہ آیا وہ ان لوگوں میں سے تھے جو بیہوش ہو گئے تھے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ گئے ، یا ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے بیہوش ہونے سے محفوظ رکھا ۱؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن یحییٰ کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
Chapter 1690: Making Distinction Between The Prophets - كتاب السنة
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، يَذْكُرُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ " .
Anas said:
A man said to the Messenger of Allah (May peace be upon him): O best of all creatures! The Messenger of Allah (May peace be upon him) said : That was Abraham (peace be upon him).
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا : اے مخلوق میں سے سب سے بہتر ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ شان تو ابراہیم علیہ السلام کی ہے ۱؎ “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
I shall be pre-eminent among the descendants of Adam, the first from whom the earth will be cleft open the first intercessor, and the first whose intercession will be accepted.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اولاد آدم کا سردار ہوں ، اور میں سب سے پہلا شخص ہوں جو اپنی قبر سے باہر آئے گا ، سب سے پہلے سفارش کرنے والا ہوں اور میری ہی سفارش سب سے پہلے قبول ہو گی “ ۔
I heard the Messenger of Allah (May peace be upon him) say : I am the nearest of kin among the people to (Jesus) son of Mary. The Prophet are brothers, sons of one father by co-wives. There is no Prophet between me and him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں ابن مریم سے لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہوں ، انبیاء علیہم السلام علاتی بھائی ہیں ، میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں ۱؎ “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
Faith has over seventy branches, the most excellent of which is the declaration that there is no god but Allah, and the humblest of which is the removal of a bone from the road. And modesty is a branch of faith.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں ، ان میں سب سے افضل ” لا إله إلا الله “ کہنا ، اور سب سے کم تر راستے سے ہڈی ہٹانا ہے ۲؎ ، اور حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے ۳؎ “ ۔
When the deputation of ‘Abd al-Qais came to the Messenger of Allah (May peace be upon him), he commanded them to believe in Allah. He asked : Do you know what faith in Allah is? They replied : Allah and his Apostle know best. He said: It includes the testimony that there is no god but Allah, and that Muhammad is Allah’s Apostle, the observance of the prayer, the payment of zakat, the fasts of Ramadan, and your giving a fifth of the booty.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عبدالقیس کا وفد جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ نے انہیں ایمان باللہ کا حکم دیا اور پوچھا : ” کیا تم جانتے ہو : ایمان باللہ کیا ہے ؟ “ وہ بولے : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس بات کی شہادت دینی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز کی اقامت ، زکاۃ کی ادائیگی ، رمضان کے روزے رکھنا ، اور مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ ادا کرو “ ۔
'Abd Allah b. 'Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
I did not see more defective in respect of reason and religion than the wise of you (women). A woman asked: What is the defect of reason and religion ? He replied: The defect of reason is the testimony of two women for one man, and the defect of faith is that one of you does not fast during Ramadan (when one is menstruating), and keep away from prayer for some days.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عقل اور دین میں ناقص ہوتے ہوئے عقل والے پر غلبہ پانے والا میں نے تم عورتوں سے زیادہ کسی کو نہیں دیکھا “ ( ایک عورت ) نے کہا : عقل اور دین میں کیا نقص ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عقل کا نقص تو یہ ہے کہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوتی ہے ، اور دین کا نقص یہ ہے کہ ( حیض و نفاس میں ) تم میں کوئی نہ روزے رکھتی ہے اور نہ نماز پڑھتی ہے ۱؎ “ ۔
when the Prophet (May peace be upon him) turned towards the Ka’bah (in prayer), the people asked : Messenger of Allah (May peace be upon him)! what will happen with those who died while they prayed with their faces towards Jerusalem ? Allah the Exalted, then revealed : “And never would Allah make your faith of no effect.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب ( نماز میں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کی طرف رخ کرنا شروع کیا تو لوگ کہنے لگے : اللہ کے رسول ! ان لوگوں کا کیا ہو گا جو مر گئے ، اور وہ بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے تھے ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «وما كان الله ليضيع إيمانكم» ” ایسا نہیں ہے کہ اللہ تمہارے ایمان یعنی نماز ضائع فرما دے “ ( البقرہ : ۱۴۳ ) ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone loves for Allah's sake, hates for Allah's sake, gives for Allah's sake and withholds for Allah's sake, he will have perfect faith.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ ہی کے رضا کے لیے محبت کی ، اللہ ہی کے رضا کے لیے دشمنی کی ، اللہ ہی کے رضا کے لیے دیا ، اللہ ہی کے رضا کے لیے منع کر دیا تو اس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا ۱؎ “ ۔
Chapter 1692: Proof Of Increase And Decrease Of Faith - كتاب السنة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رِجَالاً وَلَمْ يُعْطِ رَجُلاً مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطَيْتَ فُلاَنًا وَفُلاَنًا وَلَمْ تُعْطِ فُلاَنًا شَيْئًا وَهُوَ مُؤْمِنٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَوْ مُسْلِمٌ " . حَتَّى أَعَادَهَا سَعْدٌ ثَلاَثًا وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " أَوْ مُسْلِمٌ " . ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي أُعْطِي رِجَالاً وَأَدَعُ مَنْ هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْهُمْ لاَ أُعْطِيهِ شَيْئًا مَخَافَةَ أَنْ يُكَبُّوا فِي النَّارِ عَلَى وُجُوهِهِمْ " .
Sa’d b. Abi Waqqas said :
The Prophet (May peace be upon him) gave some people and did not give anything to a man of them. Sa’d said : Messenger of Allah! You gave so and so, so and so, but did not give anything to so and so while he is a believer. The Prophet (May peace be upon him) said : Or he is a Muslim. Sa’d repeated it thrice and the Prophet (May peace be upon him) then said : I give some people and leave him who is dearer to me than them. I do not give him anything fearing lest he should fall into Hell on his face.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو دیا اور ان میں سے ایک شخص کو کچھ نہیں دیا تو سعد نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ نے فلاں اور فلاں کو دیا لیکن فلاں کو کچھ بھی نہیں دیا حالانکہ وہ مومن ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا مسلم ہے “ سعد نے تین بار یہی عرض کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے رہے : ” یا مسلم ہے “ پھر آپ نے فرمایا : ” میں بعض لوگوں کو دیتا ہوں اور ان میں تجھے جو زیادہ محبوب ہے اسے چھوڑ دیتا ہوں ، میں اسے کچھ بھی نہیں دیتا ، ایسا اس اندیشے سے کہ کہیں وہ جہنم میں اوندھے منہ نہ ڈال دیئے جائیں ۱؎ “ ۔
Explaining the verse, “say ; You have no faith, but you only say :
We have submitted our wills to Allah”, Al-Zuhri said : We think that ISLAM is a word, and faith is an action.
sanad
ابن شہاب زہری آیت کریمہ «قل لم تؤمنوا ولكن قولوا أسلمنا» ” آپ کہہ دیجئیے تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ مسلمان ہوئے “ ( سورۃ الحجرات : ۱۴ ) کی تفسیر میں کہتے ہیں : ہم سمجھتے ہیں کہ ( اس آیت میں ) اسلام سے مراد زبان سے کلمے کی ادائیگی اور ایمان سے مراد عمل ہے ۔
The Prophet (May peace be upon him) distributed (spoils) among the people I said to him : Give so and so for he is a believer. He said : Or he is a Muslim. I give a man something while another man is dearer to me than him, fearing that he may fall into Hell on his face.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں کچھ تقسیم فرمایا تو میں نے عرض کیا : فلاں کو بھی دیجئیے ، وہ بھی مومن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا مسلم ہے ، میں ایک شخص کو کچھ عطا کرتا ہوں حالانکہ اس کے علاوہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے ( جس کو نہیں دیتا ) اس اندیشے سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میں اس کو نہ دوں تو وہ اوندھے منہ ( جہنم میں ) ڈال دیا جائے “ ۔
Ibn ‘Umar reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
If any believing man calls another believing man an unbeliever, if he is actually an infidel, it is all right ; if not, he will become an infidel.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان کسی مسلمان کو کافر قرار دے تو اگر وہ کافر ہے ( تو کوئی بات نہیں ) ورنہ وہ ( قائل ) خود کافر ہو جائے گا “ ۔
‘Abd Allah b. ‘Amr reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying:
Four characteristics constitute anyone who possesses them a sheer hypocrite, and anyone who possesses one of them possesses a characteristics of hypocrisy till he abandons it : when he talks he lies, when he makes a promise he violates it, when he makes a covenant he acts treacherously, and when he quarrels, he deviates from the Truth.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار خصلتیں جس میں ہوں وہ خالص منافق ہے اور جس میں ان میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے ، معاہدہ کرے تو اس کو نہ نبھائے ، اگر کسی سے جھگڑا کرے تو گالی گلوچ دے “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
When one commits fornication, one is not a believer ; when one steals, one is not a believer ; when one drinks, one is not a believer ; and repentance is placed before him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زانی زنا کے وقت مومن نہیں رہتا ، چور چوری کے وقت مومن نہیں رہتا ، شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا ( یعنی ایمان اس سے جدا ہو جاتا ہے پھر بعد میں واپس آ جاتا ہے ) توبہ کا دروازہ اس کے بعد بھی کھلا ہوا ہے “ ( یعنی اگر توبہ کر لے تو توبہ قبول ہو جائے گی اللہ بخشنے والا ہے ) ۔
The Prophet (ﷺ) said: When a man commits fornication, faith departs from him and there is something like a canvas roof over his head; and when he quits that action, faith returns to him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی زنا کرتا ہے تو ایمان اس سے نکل جاتا ہے اور بادل کے ٹکڑے کی طرح اس کے اوپر لٹکا رہتا ہے ، پھر جب زنا سے الگ ہوتا ہے تو دوبارہ ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The Qadariyyah are the Magians of this community. If they are ill, do not pay a sick visit to them, and if they die, do not attend their funerals.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قدریہ ( منکرین تقدیر ) اس امت ( محمدیہ ) کے مجوس ہیں ، اگر وہ بیمار پڑیں تو ان کی عیادت نہ کرو ، اور اگر وہ مر جائیں تو ان کے جنازے میں شریک مت ہو ۱؎ “ ۔
Hudhaifah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
Every people have Magians, and the Magians of this community are those who declare that there is no destination by Allah. If any one of them dies, do not attend his funeral, and if any one of them is ill, do not pay a sick visit to him. They are the partisans of the Antichrist (Dajjal), and Allah will surely join them with the Antichrist.
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر امت کے مجوس ہوتے ہیں ، اس امت کے مجوس وہ لوگ ہیں جو تقدیر کے منکر ہیں ، ان میں کوئی مر جائے تو تم اس کے جنازے میں شرکت نہ کرو ، اور اگر کوئی بیمار پڑے ، تو اس کی عیادت نہ کرو ، یہ دجال کی جماعت کے لوگ ہیں ، اللہ ان کو دجال کے زمانے تک باقی رکھے گا “ ۔
Abu Musa al-Ash’ari reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
Allah created Adam from a handful which he took from the whole of the earth ; so the children of Adam are in accordance with the earth : some red, some white, some black, some a mixture, also smooth and rough, bad and good.
ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک مٹھی مٹی سے پیدا کیا جس کو اس نے ساری زمین سے لیا تھا ، چنانچہ آدم کی اولاد اپنی مٹی کی مناسبت سے مختلف رنگ کی ہے ، کوئی سفید ، کوئی سرخ ، کوئی کالا اور کوئی ان کے درمیان ، کوئی نرم خو ، تو کوئی درشت خو ، سخت گیر ، کوئی خبیث تو کوئی پاک باز “ ۔
We attended a funeral at Baql’ al-Gharqad which was also attended by the Messenger of Allah (May peace be upon him). The Messenger of Allah (May peace be upon him) came and sat down. He had a stick (in his hand) by which he began to scratch up the ground. He then raised his head and said : The place which every one of you and every soul of you will occupy in Hell or in Paradise has been recorded, and destined wicked or blesses. A man from among the people asked : Prophet of Allah! Should we not then trust simply in what has been recorded for us and abandon (doing good) deeds? Those who are among the number of the blessed will be inclined to blessing, and those of us who are among the number of the wicked will be inclined to wickedness. He replied : Go on doing good actions, for everyone is helped to do that for which he was created. Those who are among the number of wicked will be helped to do wicked deeds. The Prophet of Allah (May peace be upon him) then recited: “So he who gives (in charity) and fears (Allah), and in all sincerity testifies to the best, we will indeed make smooth for him the path to bliss. But he who is a greedy miser and thinks himself self-sufficient, and gives the lie to the best, We will indeed make smooth for him the path of misery.”
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم مدینہ کے قبرستان بقیع غرقد میں ایک جنازے میں شریک تھے ، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تھے ، آپ آئے اور بیٹھ گئے ، آپ کے پاس ایک چھڑی تھی ، چھڑی سے زمین کریدنے لگے ، پھر اپنا سر اٹھایا اور فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک متنفس کا ٹھکانہ جنت یا دوزخ میں لکھ دیا ہے ، اور یہ بھی کہ وہ نیک بخت ہو گا یا بدبخت “ لوگوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! پھر ہم کیوں نہ اپنے لکھے پر اعتماد کر کے بیٹھ رہیں اور عمل ترک کر دیں کیونکہ جو نیک بختوں میں سے ہو گا وہ لازماً نیک بختی کی طرف جائے گا اور جو بدبختوں میں سے ہو گا وہ ضرور بدبختی کی طرف جائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمل کرو ، ہر ایک کے لیے اس کا عمل آسان ہے ، اہل سعادت کے لیے سعادت کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں اور بدبختوں کے لیے بدبختی کی راہیں آسان کر دی جاتی ہیں “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنایا : ” جو شخص اللہ کے راستے میں خرچ کرے ، اللہ سے ڈرے ، اور کلمہ توحید کی تصدیق کرے تو ہم اس کے لیے آسانی اور خوشی کی راہ آسان کر دیں گے ، اور جو شخص بخل کرے ، دنیوی شہوات میں پڑ کر جنت کی نعمتوں سے بے پروائی برتے اور کلمہ توحید کو جھٹلائے تو ہم اس کے لیے سختی اور بدبختی کی راہ آسان کر دیں گے “ ۱؎ ۔
The first to speak on Divine decree in al-Basrah was Ma`bad al Juhani. I and Humaid b. `Abd al-Rahman al-Himyari proceeded to perform Hajj or `Umrah. We said : would that we meet any of the Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) so that we could ask him about what they say with regard to divine decree. So Allah helped us to meet `Abd Allah b. `Umar who was entering the mosque. So I and my companion surrounded him, and I thought that my companion would entrust me the task of speaking to him. Then I said : Abu ‘Abd al-Rahman, there appeared on our side some people who recite the Qur'an and are engaged in the hair-splitting of knowledge. They conceive that there is no Divine decree and everything happens freely without predestination. He said : When you meet those people, tell them that I am free from them, and they are free from me. By Him by Whom swears ‘Abd Allah b. ‘Umar, if one of them has gold equivalent to Uhud and he spends it, Allah will not accept it from him until he believes in Divine decree. He then said : ‘Umar b. Khattab transmitted to me a tradition, saying : One day when we were with the Messenger of Allah (ﷺ) a man with very white clothing and very black hair came up to us. No mark of travel was visible on him, and we did not recognize him. Sitting down beside the Messenger of Allah (ﷺ), leaning his knees against his and placing his hands on his thighs, he said : tell me, Muhammad, about Islam. The Messenger of Allah (ﷺ) said : Islam means that you should testify that there is no god but Allah, and Muhammad is Allah’s Apostle, that you should observe prayer, pay Zakat, fast during Ramadan, and perform Hajj to the house (i.e., Ka`bah), If you have the means to go. He said : You have spoken the truth. We were surprised at his questioning him and then declaring that he spoke the truth. He said : Now tell me about faith. He replied : It means that you should believe in Allah, his angels, his Books, his Apostles and the last day, and that you should believe in the decreeing both of good and evil. He said : You have spoken the truth. He said : now tell me about doing good (ihsan). He replied: It means that you should worship Allah as though you are seeing him; if you are not seeing him, he is seeing you. He said: Now tell me about the hour. He replied : The one who is asked about it is no better informed than the one who is asking. He said : Then tell me about its signs. He replied : That a maidservant should beget her mistress, and that you should see barefooted, naked, poor men and shepherds exalting themselves in buildings. ‘Umar said : He then went away, and I waited for three days, then he said : Do you know who the questioner was, `Umar? I replied : Allah and his Apostle know best. He said : He was Gabriel who came to you to teach you your religion.
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں کہ
بصرہ میں سب سے پہلے معبد جہنی نے تقدیر کا انکار کیا ، ہم اور حمید بن عبدالرحمٰن حمیری حج یا عمرے کے لیے چلے ، تو ہم نے دل میں کہا : اگر ہماری ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے ہوئی تو ہم ان سے تقدیر کے متعلق لوگ جو باتیں کہتے ہیں اس کے بارے میں دریافت کریں گے ، تو اللہ نے ہماری ملاقات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کرا دی ، وہ ہمیں مسجد میں داخل ہوتے ہوئے مل گئے ، چنانچہ میں نے اور میرے ساتھی نے انہیں گھیر لیا ، میرا خیال تھا کہ میرے ساتھی گفتگو کا موقع مجھے ہی دیں گے اس لیے میں نے کہا : ابوعبدالرحمٰن ! ہماری طرف کچھ ایسے لوگ ظاہر ہوئے ہیں جو قرآن پڑھتے اور اس میں علمی باریکیاں نکالتے ہیں ، کہتے ہیں : تقدیر کوئی چیز نہیں ۱؎ ، سارے کام یوں ہی ہوتے ہیں ، تو آپ نے عرض کیا : جب تم ان سے ملنا تو انہیں بتا دینا کہ میں ان سے بری ہوں ، اور وہ مجھ سے بری ہیں ( میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ) ، اس ہستی کی قسم ، جس کی قسم عبداللہ بن عمر کھایا کرتا ہے ، اگر ان میں ایک شخص کے پاس احد کے برابر سونا ہو اور وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے تو بھی اللہ اس کے کسی عمل کو قبول نہ فرمائے گا ، جب تک کہ وہ تقدیر پر ایمان نہ لے آئے ، پھر آپ نے کہا : مجھ سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص ہمارے سامنے نمودار ہوا جس کا لباس نہایت سفید اور بال انتہائی کالے تھے ، اس پر نہ تو سفر کے آثار دکھائی دے رہے تھے ، اور نہ ہی ہم اسے پہچانتے تھے ، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گیا ، اس نے اپنے گھٹنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں سے ملا دئیے ، اور اپنی ہتھیلیوں کو آپ کی رانوں پر رکھ لیا اور عرض کیا : محمد ! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرو ، زکاۃ دو ، رمضان کے روز ے رکھو ، اور اگر پہنچنے کی قدرت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو “ وہ بولا : آپ نے سچ کہا ، عمر بن خطاب کہتے ہیں : ہمیں اس پر تعجب ہوا کہ وہ آپ سے سوال بھی کرتا ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے ۔ اس نے کہا : مجھے ایمان کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر ، اس کے رسولوں پر ، آخرت کے دن پر اور تقدیر ۲؎ کے بھلے یا برے ہونے پر ایمان لاؤ “ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا ۔ پھر پوچھا : مجھے احسان کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو ، اور اگر یہ کیفیت پیدا نہ ہو سکے تو ( یہ تصور رکھو کہ ) وہ تو تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے “ اس نے کہا : مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے پوچھا جا رہا ہے ، وہ اس بارے میں پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا “ ۳؎ ۔ اس نے کہا : تو مجھے اس کی علامتیں ہی بتا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ لونڈی اپنی مالکن کو جنے گی ۴؎ ، اور یہ کہ تم ننگے پیر اور ننگے بدن ، محتاج ، بکریوں کے چرواہوں کو دیکھو گے کہ وہ اونچی اونچی عمارتیں بنانے میں فخر و مباہات کریں گے “ پھر وہ چلا گیا ، پھر میں تین ۵؎ ( ساعت ) تک ٹھہرا رہا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے عمر ! کیا تم جانتے ہو کہ پوچھنے والا کون تھا ؟ “ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ جبرائیل تھے ، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے “ ۔