The Prophet (ﷺ) said: The Caliphate of Prophecy will last thirty years; then Allah will give the Kingdom of His Kingdom to anyone He wills.
Sa'id told that Safinah said to him: Calculate Abu Bakr's caliphate as two years, 'Umar's as ten, 'Uthman's as twelve and 'Ali so and so. Sa'id said: I said to Safinah: They conceive that 'Ali was not a caliph. He replied: The buttocks of Marwan told a lie.
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال رہے گی ۱؎ ، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا دے گا “ سعید کہتے ہیں : سفینہ نے مجھ سے کہا : اب تم شمار کر لو : ابوبکر رضی اللہ عنہ دو سال ، عمر رضی اللہ عنہ دس سال ، عثمان رضی اللہ عنہ بارہ سال ، اور علی رضی اللہ عنہ اتنے سال ۔ سعید کہتے ہیں : میں نے سفینہ رضی اللہ عنہ سے کہا : یہ لوگ ( مروانی ) کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ خلیفہ نہیں تھے ، انہوں نے کہا : بنی زرقاء یعنی بنی مروان کے ۲؎ چوتڑ جھوٹ بولتے ہیں ۔
Safinah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
The caliphate of Prophecy will last thirty years; then Allah will give the Kingdom to whom he wishes; or his kingdom to whom he wishes.
سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خلافت علی منہاج النبوۃ ( نبوت کی خلافت ) تیس سال ہے ، پھر اللہ تعالیٰ سلطنت جسے چاہے گا یا اپنی سلطنت جسے چاہے گا ، دے گا “ ۔
Abdullah ibn Zalim al-Mazini said: I heard Sa'id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl say: When so and so came to Kufah, and made so and so stand to address the people, Sa'id ibn Zayd caught hold of my hand and said: Are you seeing this tyrant? I bear witness to the nine people that they will go to Paradise. If I testify to the tenth too, I shall not be sinful.
I asked: Who are the nine? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said when he was on Hira': Be still, Hira', for only a Prophet, or an ever-truthful, or a martyr is on you. I asked: Who are those nine? He said: The Messenger of Allah, AbuBakr, Umar, Uthman, Ali, Talhah, az-Zubayr, Sa'd ibn AbuWaqqas and AbdurRahman ibn Awf. I asked: Who is the tenth? He paused a moment and said: it is I.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Ashja'i, from Sufyan, from Mansur, from Hilal b. Yasaf, from Ibn Hayyan on the authority of 'Abd Allah b. Zalim through his different chain of narrators in a a similar manner.
عبداللہ بن ظالم مازنی کہتے ہیں کہ
میں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا : جب فلاں شخص کوفہ میں آیا تو فلاں شخص خطبہ کے لیے کھڑا ہوا ۱؎ ، سعید بن زید نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا : ۲؎ کیا تم اس ظالم ۳؎ کو نہیں دیکھتے ۴؎ پھر انہوں نے نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دی کہ وہ جنت میں ہیں ، اور کہا : اگر میں دسویں شخص ( کے جنت میں داخل ہونے ) کی گواہی دوں تو گنہگار نہ ہوں گا ، ( ابن ادریس کہتے ہیں : عرب لوگ ( «إیثم» کے بجائے ) «آثم» کہتے ہیں ) ، میں نے پوچھا : اور وہ نو کون ہیں ؟ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس وقت آپ حراء ( پہاڑی ) پر تھے : ” حراء ٹھہر جا ( مت ہل ) اس لیے کہ تیرے اوپر نبی ہے یا صدیق ہے یا پھر شہید “ میں نے عرض کیا : اور نو کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر ، عمر ، عثمان ، علی ، طلحہ ، زبیر ، سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہم ، میں نے عرض کیا : اور دسواں آدمی کون ہے ؟ تو تھوڑا ہچکچائے پھر کہا : میں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے اشجعی نے سفیان سے ، سفیان نے منصور سے ، منصور نے ہلال بن یساف سے ، ہلال نے ابن حیان سے اور ابن حیان نے عبداللہ بن ظالم سے اسی سند سے روایت کیا ہے ۔
AbdurRahman ibn al-Akhnas said that when he was in the mosque, a man mentioned Ali (may Allah be pleased with him). So Sa'id ibn Zayd got up and said: I bear witness to the Messenger of Allah (ﷺ) that I heard him say: Ten persons will go to Paradise: The Prophet (ﷺ) will go to Paradise, AbuBakr will go to Paradise, Umar will go to Paradise, Uthman will go to Paradise, Ali will go to Paradise, Talhah will go to Paradise: az-Zubayr ibn al-Awwam will go to paradise, Sa'd ibn Malik will go to Paradise, and AbdurRahman ibn Awf will go to Paradise. If I wish, I can mention the tenth. The People asked: Who is he: So he kept silence. The again asked: Who is he: He replied: He is Sa'id ibn Zayd.
عبدالرحمٰن بن اخنس سے روایت ہے کہ
وہ مسجد میں تھے ، ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ کا ( برائی کے ساتھ ) تذکرہ کیا ، تو سعید بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ میں نے آپ کو فرماتے سنا : ” دس لوگ جنتی ہیں : ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں ، عثمان جنتی ہیں ، علی جنتی ہیں ، طلحہ جنتی ہیں ، زبیر بن عوام جنتی ہیں ، سعد بن مالک جنتی ہیں اور عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں “ اور اگر میں چاہتا تو دسویں کا نام لیتا ، وہ کہتے ہیں : لوگوں نے عرض کیا : وہ کون ہیں ؟ تو وہ خاموش رہے ، لوگوں نے پھر پوچھا : وہ کون ہیں ؟ تو کہا : وہ سعید بن زید ہیں ۔
I was sitting with someone in the mosque of Kufah while the people of Kufah were with him. Then Sa'id ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl came and he welcomed him, greeted him, and seated him near his foot on the throne. Then a man of the inhabitants of Kufah, called Qays ibn Alqamah, came. He received him and began to abuse him.
Sa'id asked: Whom is this man abusing? He replied: He is abusing Ali. He said: Don't I see that the companions of the Messenger of Allah (ﷺ) are being abused, but you neither stop it nor do anything about it? I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say--and I need not say for him anything which he did not say, and then he would ask me tomorrow when I see him --AbuBakr will go to Paradise and Umar will go to Paradise. He then mentioned the rest of the tradition to the same effect (as in No. 4632).
He then said: The company of one of their man whose face has been covered with dust by the Messenger of Allah (ﷺ) is better than the actions of one of you for a whole life time even if he is granted the life-span of Noah.
ریاح بن حارث کہتے ہیں
میں کوفہ کی مسجد میں فلاں شخص ۱؎ کے پاس بیٹھا تھا ، ان کے پاس کوفہ کے لوگ جمع تھے ، اتنے میں سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ آئے ، تو انہوں نے انہیں خوش آمدید کہا ، اور دعا دی ، اور اپنے پاؤں کے پاس انہیں تخت پر بٹھایا ، پھر اہل کوفہ میں سے قیس بن علقمہ نامی ایک شخص آیا ، تو انہوں نے اس کا استقبال کیا ، لیکن اس نے برا بھلا کہا اور سب وشتم کیا ، سعید بولے : یہ شخص کسے برا بھلا کہہ رہا ہے ؟ انہوں نے کہا : علی رضی اللہ عنہ کو کہہ رہا ہے ، وہ بولے : کیا میں دیکھ نہیں رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو تمہارے پاس برا بھلا کہا جا رہا ہے لیکن تم نہ منع کرتے ہو نہ اس سے روکتے ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے اور مجھے کیا پڑی ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایسی بات کہوں جو آپ نے نہ فرمائی ہو کہ کل جب میں آپ سے ملوں تو آپ مجھ سے اس کے بارے میں سوال کریں : ” ابوبکر جنتی ہیں ، عمر جنتی ہیں “ پھر اوپر جیسی حدیث بیان فرمایا ، پھر ان ( صحابہ ) میں سے کسی کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی جنگ میں شرکت جس میں اس چہرہ غبار آلود ہو جائے یہ زیادہ بہتر ہے اس سے کہ تم میں کا کوئی شخص اپنی عمر بھر عمل کرے اگرچہ اس کی عمر نوح کی عمر ہو ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، حَدَّثَهُمْ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِرِجْلِهِ وَقَالَ
" اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ " .
Anas b. malik said:
The prophet of Allah (ﷺ) ascended Uhud, and Abu Bakr, ’Umar and 'Uthman followed him. It began to shake with them. The prophet of Allah (ﷺ) struck it with his foot and said: Be still, for only a prophet, an ever-truthful and two martyrs are on you.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر ، عمر ، عثمان رضی اللہ عنہم بھی چڑھے ، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا : ” ٹھہر جا اے احد ! ( تیرے اوپر ) ایک نبی ، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Gabriel came and taking me by the hand showed the gate of Paradise by which my people will enter. AbuBakr then said: Messenger of Allah! I wish I had been with you so that I might have looked at it. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: You, AbuBakr, will be the first of my people to enter Paradise.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل آئے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا ، اور مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری امت داخل ہو گی “ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میری خواہش ہے کہ آپ کے ساتھ میں بھی ہوتا تاکہ میں اسے دیکھتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو اے ابوبکر ! میری امت میں سے تم ہی سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گے “ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الرَّمْلِيُّ، أَنَّ اللَّيْثَ، حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ
" لاَ يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ " .
Jabir reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
No one of those who took the oath of allegiance under the tree will go to hell.
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہنم میں ان لوگوں میں سے کوئی بھی داخل نہیں ہو گا ، جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی ( یعنی صلح حدیبیہ کے وقت بیعت رضوان میں شریک رہے ) “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying – will be according to the version of Musa :
Perhaps Allah, and Ibn Sinan’s version has : Allah looked at the participants of the battle of Badr (with mercy) and said : Do whatever you wish ; I have forgiven you.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( موسیٰ کی روایت میں «فلعل الله» کا لفظ ہے ، اور ابن سنان کی روایت میں «اطلع الله» ہے ) ” اللہ تعالیٰ بدر والوں کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں نظر رحمت و مغفرت سے دیکھا تو فرمایا : جو عمل چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے ۱؎ “ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ ثَوْرٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قَالَ فَأَتَاهُ - يَعْنِي عُرْوَةَ بْنَ مَسْعُودٍ - فَجَعَلَ يُكَلِّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكُلَّمَا كَلَّمَهُ أَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَالْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعَهُ السَّيْفُ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَضَرَبَ يَدَهُ بِنَعْلِ السَّيْفِ وَقَالَ أَخِّرْ يَدَكَ عَنْ لِحْيَتِهِ . فَرَفَعَ عُرْوَةُ رَأْسَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالُوا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ .
Al-Miswar b. Makhramah said :
The prophet (ﷺ) went out during the time of (treaty of) al-Hudaibiyyah. He then mentioned the rest of the tradition. He said : ‘Urwah b. Mas’ud then came to him and began to speak to the Prophet (ﷺ). Whenever he talk to him, he caught his beard ; and al-Mughirah b. Shu’bah was standing near the head of the Prophet (ﷺ) with a sword with him and a helmet on him. He then struck his hand with the handle of the sword, saying : Keep away your hand from his beard. ‘Urwah then raised his head and said : Who is this ? The prophet said : Al-Mughirah b. Shu’bah.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے زمانے میں نکلے ، پھر راوی نے حدیث بیان کی ، وہ کہتے ہیں کہ آپ کے پاس وہ یعنی عروہ بن مسعود آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگا ، جب وہ آپ سے بات کرتا ، تو آپ کی ڈاڑھی پر ہاتھ لگاتا ، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھڑے تھے ، ان کے پاس تلوار تھی اور سر پر خود ، انہوں نے تلوار کے پر تلے کے نچلے حصہ سے اس کے ہاتھ پر مارا اور کہا : اپنا ہاتھ ان کی ڈاڑھی سے دور رکھ ، عروہ نے اپنا سر اٹھایا اور بولا : یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : مغیرہ بن شعبہ ہیں ۔
Al-Aqra', the mu'adhdhin (announcer) of Umar ibn al-Khattab said: Umar sent me to a bishop and I called him.
Umar said to him: Do you find me in the Book? He said: Yes. He asked: How do you find me? He said: I find you (like a) castle. Then he raised a whip to him, saying: What do you mean by castle? He replied: An iron castle and severely trustworthy. He asked: How do you find the one who will come after me? He said: I find him a pious caliph, except that he will prefer his relatives. Umar said: May Allah have mercy on Uthman: He said it three times. He then asked: How do you find the one who will come after him?
He replied: I find him like rusty iron. Umar then put his hand on his head, and said: O filthy! O filthy! He said: Commander of the Faithful! He is a pious caliph, but when he is made caliph, the sword will be unsheathed and blood will be shed.
Abu Dawud said: Al-dafr means filth or evil smell.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے مؤذن اقرع کہتے ہیں
مجھے عمر نے ایک پادری کے پاس بلانے کے لیے بھیجا ، میں اسے بلا لایا ، تو عمر نے اس سے کہا : کیا تم کتاب میں مجھے ( میرا حال ) پاتے ہو ؟ وہ بولا : ہاں ، انہوں نے کہا : کیسا پاتے ہو ؟ وہ بولا : میں آپ کو قرن پاتا ہوں ، تو انہوں نے اس پر درہ اٹھایا اور کہا : قرن کیا ہے ؟ وہ بولا : لوہے کی طرح مضبوط اور سخت امانت دار ، انہوں نے کہا : جو میرے بعد آئے گا تم اسے کیسے پاتے ہو ؟ وہ بولا : میں اسے نیک خلیفہ پاتا ہوں ، سوائے اس کے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کو ترجیح دے گا ، عمر نے کہا : اللہ عثمان پر رحم کرے ، ( تین مرتبہ ) پھر کہا : ان کے بعد والے کو تم کیسے پاتے ہو ؟ وہ بولا : وہ تو لوہے کا میل ہے ( یعنی برابر تلوار سے کام رہنے کی وجہ سے ان کا بدن اور ہاتھ گویا دونوں ہی زنگ آلود ہو جائیں گے ) عمر نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ، اور فرمایا : اے گندے ! بدبودار ( تو یہ کیا کہتا ہے ) اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! وہ ایک نیک خلیفہ ہو گا لیکن جب وہ خلیفہ بنایا جائے گا تو حال یہ ہو گا کہ تلوار بے نیام ہو گی ، خون بہہ رہا ہو گا ، ( یعنی اس کی خلافت فتنہ کے وقت ہو گی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «الدفر» کے معنی «نتن» یعنی بدبو کے ہیں ۔
‘Imran b. Husain reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying :
the best of my people is the generation in which I have been sent, then their immediate followers, then their immediate followers. Allah knows best whether he mentioned the third or not. After them will be people who will give testimony without being asked, who will make vows which they do not fulfill, who will be treacherous and not to be trusted, among whom fatness will appear.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن میں مجھے مبعوث کیا گیا ، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں ، پھر وہ جو ان سے قریب ہیں “ اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسرے کا ذکر کیا یا نہیں ، ” پھر کچھ لوگ رونما ہوں گے جو بلا گواہی طلب کئے گواہی دیتے پھریں گے ، نذر مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے ، خیانت کرنے لگیں گے جس سے ان پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا ، اور ان میں موٹاپا عام ہو گا ۱؎ “ ۔
Abu Sa’id (al-Khudri) reported the Messenger of Allah (May peace be upon him) as saying :
Do not revile my Companions; by him in whose hand my soul is, if one of you contributed the amount of gold equivalent to Uhud, it would not amount to as much as the mudd of one of them, or half of it.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو ، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم میں سے کوئی احد ( پہاڑ ) کے برابر سونا خرچ کر دے تو وہ ان کے ایک مد یا نصف مد کے برابر بھی نہ ہو گا ۱؎ “ ۔
Hudhaifah was in al-Mada’in. He used to mention things which the Messenger of Allah (May peace be upon him) said to some people from among his Companions in anger. The people who heard from Hudhaifah would go to Salman and tell him what Hudhaifah said. Salman would say: Hudhaifah knows best what he says. Then they would come to Hudhaifah and tell him: We mentioned Salman what you said, but he neither testified you nor falsified you. So Hudhaifah came to salman who was in his vegetable farm, and said : Salman, what prevents you from testifying me of what I heard from the Messenger of Allah (May peace be upon him) ? Salman said: The Messenger of Allah (May peace be upon him) sometimes would be angry, and said in anger something to some of his Companions; he would be sometimes pleased and said in pleasure something to some of his Companions. Would you not stop until you create love of some people in the hearts of some people, and hatred of some people in the hearts of some people, and until you generate disagreement and dissension? You know that the Messenger of Allah (May peace be upon him) addressed, saying : If I abused any person of my people, or cursed him in my anger. I am one of the children of Adam : I become angry as they become angry. He (Allah) has sent me as a mercy for all worlds. (O Allah!) make them (Abuse or curse) blessing for them on the day of judgment! I swear by Allah. You should stop (mentioning these traditions), otherwise I shall writ to ‘Umar.
عمرو بن ابی قرہ کہتے ہیں کہ
حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے اور وہ ان باتوں کا ذکر کیا کرتے تھے ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب میں سے بعض لوگوں سے غصہ کی حالت میں فرمائی تھیں ، پھر ان میں سے کچھ لوگ جو حذیفہ سے باتیں سنتے چل کر سلمان رضی اللہ عنہ کے پاس آتے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ کی باتوں کا تذکرہ کرتے تو سلمان رضی اللہ عنہ کہتے : حذیفہ ہی اپنی کہی باتوں کو بہتر جانتے ہیں ، تو وہ لوگ حذیفہ کے پاس لوٹ کر آتے اور ان سے کہتے : ہم نے آپ کی باتوں کا تذکرہ سلمان سے کیا تو انہوں نے نہ آپ کی تصدیق کی اور نہ تکذیب ، یہ سن کر حذیفہ سلمان کے پاس آئے ، وہ اپنی ترکاری کے کھیت میں تھے کہنے لگے : اے سلمان ! ان باتوں میں میری تصدیق کرنے سے آپ کو کون سی چیز روک رہی ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہیں ؟ تو سلمان نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلاشبہ کبھی غصے میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے اور کبھی خوش ہوتے تو خوشی میں اپنے بعض اصحاب سے کچھ باتیں کہہ دیتے ، تو کیا آپ اس وقت تک باز نہ آئیں گے جب تک کہ بعض لوگوں کے دلوں میں بعض لوگوں کی محبت اور بعض دوسروں کے دلوں میں بعض کی دشمنی نہ ڈال دیں اور ان کو اختلاف میں مبتلا نہ کر دیں ، حالانکہ آپ جانتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ میں فرمایا : ” میں نے اپنی امت کے کسی فرد کو غصے کی حالت میں اگر برا بھلا کہا یا اسے لعن طعن کی تو میں بھی تو آدم کی اولاد میں سے ہوں ، مجھے بھی غصہ آتا ہے جیسے انہیں آتا ہے ، لیکن اللہ نے مجھے رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا ہے تو ( اے اللہ ) میرے برا بھلا کہنے اور لعن طعن کو ان لوگوں کے لیے قیامت کے روز رحمت بنا دے “ اللہ کی قسم یا تو آپ اپنی اس حرکت سے باز آ جائیں ورنہ میں عمر بن الخطاب ( امیر المؤمنین ) کو لکھ بھیجوں گا ۔
When the illness of the Messenger of Allah (ﷺ) became serious while I was with him among a group of people, Bilal called him for prayer. He said: Ask someone to lead the people in prayer. So Abdullah ibn Zam'ah went out and found that Umar was present among the people and AbuBakr was not there. I said: Umar, get up and lead the people in prayer. So he came forward and uttered "Allah is Most Great". When the Messenger of Allah (ﷺ) heard his voice, as Umar had a loud voice, he said: Where is AbuBakr? Allah does not allow that, and the Muslims too; Allah does not allow that, and the Muslims too. So he sent for AbuBakr. He came after Umar had led the people in that prayer. He then led the people in prayer.
حارث بن ہشام عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری سخت ہوئی اور میں آپ ہی کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا تو بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو نماز کے لیے بلایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی سے کہو جو لوگوں کو نماز پڑھائے “ عبداللہ بن زمعہ نکلے تو دیکھا کہ لوگوں میں عمر رضی اللہ عنہ موجود ہیں ، ابوبکر رضی اللہ عنہ موقع پر موجود نہ تھے ، میں نے کہا : اے عمر ! اٹھیے نماز پڑھائیے ، تو وہ بڑھے اور انہوں نے اللہ اکبر کہا ، وہ بلند آواز شخص تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا : ” ابوبکر کہاں ہیں ؟ اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی ، اللہ کو یہ پسند نہیں اور مسلمانوں کو بھی “ تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا ، وہ عمر کے نماز پڑھا چکنے کے بعد آئے تو انہوں نے لوگوں کو ( پھر سے ) نماز پڑھائی ۱؎ ۔
Chapter 1688: Proof Of Abu Bakr's Caliphate - كتاب السنة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَمْعَةَ، أَخْبَرَهُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ لَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم صَوْتَ عُمَرَ قَالَ ابْنُ زَمَعَةَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَطْلَعَ رَأْسَهُ مِنْ حُجْرَتِهِ ثُمَّ قَالَ
" لاَ لاَ لاَ لِيُصَلِّ لِلنَّاسِ ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ " . يَقُولُ ذَلِكَ مُغْضَبًا .
The tradition mentioned above has also been transmitted by ‘Abd Allah b. Zam’ah through a different chain. He said:
When the Prophet (May peace be upon him) heard ‘Umar’s voice, Ibn Zam’ah said: The Prophet (May peace be upon him) came out until he took out his head of his apartment. He then said : No, no, no; the son of Abu Quhafah should lead the people in prayer. He said it angrily.
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں یہی بات بتائی اور کہا : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی تو آپ نکلے یہاں تک کہ حجرے سے اپنا سر نکالا ، پھر فرمایا : ” نہیں ، نہیں ، نہیں ، ابن ابی قحافہ ( یعنی ابوبکر ) کو چاہیئے کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ غصے میں فرما رہے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said to al-Hasan ibn Ali. This son of mine is a Sayyid (chief), and I hope Allah may reconcile two parties of my community by means of him. Hammad's version has: And perhaps Allah may reconcile two large parties of Muslims by means of him.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو فرمایا : ” میرا یہ بیٹا سردار ہے اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے میری امت کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا “ ۔ حماد کی روایت میں ہے : ” شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ۱؎ “ ۔
There is no one who will be overtaken by trial regarding whom I do not fear except Muhammad ibn Maslamah, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Trial will not harm you.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ
حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں میں کوئی ایسا نہیں جس کو فتنہ پہنچے اور مجھے اس کے فتنے میں پڑنے کا خوف نہ ہو ، سوائے محمد بن مسلمہ کے کیونکہ ان کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں کوئی فتنہ ضرر نہ پہنچائے گا “ ۔
We entered upon Hudhaifah. He said: I know a man whom the trails will not harm. We came out and found that a tent was pitched. We entered and found in it Muhammad b. Maslamah. We asked him about it. He said : I do not intent that any place of your towns should occupy me until that which is prevailing is removed.
ثعلبہ بن ضبیعہ کہتے ہیں کہ
ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ نے کہا : میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں جسے فتنے کچھ بھی ضرر نہ پہنچا سکیں گے ، ہم نکلے تو دیکھا کہ ایک خیمہ نصب ہے ، ہم اندر گئے تو اس میں محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ملے ، ہم نے ان سے پوچھا ( کہ آبادی چھوڑ کر خیمہ میں کیوں ہیں ؟ ) تو فرمایا : میں نہیں چاہتا کہ تمہارے شہروں کی کوئی برائی مجھ سے چمٹے ، اس لیے جب تک فتنہ فرو نہ ہو جائے اور معاملہ واضح اور صاف نہ ہو جائے شہر کو نہیں جاؤں گا ۔
Chapter 1689: Instructions Regarding Refraining From Speech During The Period Of Turmoil - كتاب السنة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ، قَالَ قُلْتُ لِعَلِيٍّ رضى الله عنه أَخْبِرْنَا عَنْ مَسِيرِكَ هَذَا أَعَهْدٌ عَهِدَهُ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَمْ رَأْىٌ رَأَيْتَهُ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَىْءٍ وَلَكِنَّهُ رَأْىٌ رَأَيْتُهُ .
Qais b. ‘Abbad said :
I said to ‘All (Allah be pleased with him) : Tell me about this march of yours. Is this an order that the Messenger of Allah (May peace be upon him) had given you, or is this your opinion that you have? He said: The Messenger of Allah (May peace be upon him) did not give me any order; but this is an opinion that I have.
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ
میں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : ہمیں آپ ( معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ کے لیے ) اپنی اس روانگی کے متعلق بتائیے کہ آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم ہے جو انہوں نے آپ کو دیا ہے یا آپ کا اپنا خیال ہے جسے آپ درست سمجھتے ہیں ، وہ بولے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ میری رائے ہے ۔