Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 42

Model Behavior of the Prophet (Kitab Al-Sunnah)

كتاب السنة

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 177 hadiths in this chapter

Hadith 4621
Chapter 1683: Adherence To The Sunnah - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ كُنْتُ أَسِيرُ بِالشَّامِ فَنَادَانِي رَجُلٌ مِنْ خَلْفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ فَقَالَ يَا أَبَا عَوْنٍ مَا هَذَا الَّذِي يَذْكُرُونَ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَكْذِبُونَ عَلَى الْحَسَنِ كَثِيرًا ‏.‏

Ibn ‘Awn said:

I was a prisoner in Syria. A man called me from behind. I turned towards him and suddenly found that it was Raja b. Haiwah. He said: Abu ‘Awn, what is this that the people are telling about al-Hasan? I said: They are much lying to al-Hasan.

ابن عون کہتے ہیں کہ

میں ملک شام میں چل رہا تھا تو ایک شخص نے پیچھے سے مجھے پکارا جب میں مڑا تو دیکھا رجاء بن حیوہ ہیں ، انہوں نے کہا : اے ابوعون ! یہ کیا ہے جو لوگ حسن کے بارے میں ذکر کرتے ہیں ؟ میں نے کہا : لوگ حسن پر بہت زیادہ جھوٹ باندھتے ہیں ۱؎ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 26
Hadith 4622
Chapter 1683: Adherence To The Sunnah - كتاب السنة

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يَقُولُ كَذَبَ عَلَى الْحَسَنِ ضَرْبَانِ مِنَ النَّاسِ قَوْمٌ الْقَدَرُ رَأْيُهُمْ وَهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ يُنَفِّقُوا بِذَلِكَ رَأْيَهُمْ وَقَوْمٌ لَهُ فِي قُلُوبِهِمْ شَنَآنٌ وَبُغْضٌ يَقُولُونَ أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا أَلَيْسَ مِنْ قَوْلِهِ كَذَا

Hammad said:

I heard Ayyub say: Two kinds of people have lied to al-Hasan: people who believed in free will and they intended that they publicise their belief by it; and people who had enmity with and hostility (for al-Hasan), saying: Did he not say so and so? Did he not say so and so?

ایوب کہتے ہیں

حسن پر جھوٹ دو قسم کے لوگ باندھتے ہیں : ایک تو قدریہ ، جو چاہتے ہیں کہ اس طرح سے ان کے خیال و نظریہ کا لوگ اعتبار کریں گے ، اور دوسرے وہ لوگ جن کے دلوں میں ان کے خلاف عداوت اور بغض ہے ، وہ کہتے ہیں : کیا یہ ان کا قول نہیں ؟ کیا یہ ان کا قول نہیں ؟ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 27
Hadith 4623
Chapter 1683: Adherence To The Sunnah - كتاب السنة

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، أَنَّ يَحْيَى بْنَ كَثِيرٍ الْعَنْبَرِيَّ، حَدَّثَهُمْ قَالَ كَانَ قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ يَقُولُ لَنَا يَا فِتْيَانُ لاَ تُغْلَبُوا عَلَى الْحَسَنِ فَإِنَّهُ كَانَ رَأْيُهُ السُّنَّةَ وَالصَّوَابَ ‏.‏

Yahya b. Kathir al-‘Anbari said:

Qurrah b. Khalid used to tell us: O young people! Do not think that al-Hasan denied predestination, for his opinion (i.e., belief) was sunnah and sight.

یحییٰ بن کثیر بن عنبری کہتے ہیں کہ

قرہ بن خالد ہم سے کہا کرتے تھے : اے نوجوانو ! حسن کو قدریہ مت سمجھو ، ان کی رائے سنت اور صواب تھی ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 28
Hadith 4624
Chapter 1683: Adherence To The Sunnah - كتاب السنة

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، قَالَ لَوْ عَلِمْنَا أَنَّ كَلِمَةَ، الْحَسَنِ تَبْلُغُ مَا بَلَغَتْ لَكَتَبْنَا بِرُجُوعِهِ كِتَابًا وَأَشْهَدْنَا عَلَيْهِ شُهُودًا وَلَكِنَّا قُلْنَا كَلِمَةٌ خَرَجَتْ لاَ تُحْمَلُ ‏.‏

Ibn ‘Awn said:

If we learnt that the remark of al-Hasan would reach the extent that it has reached, we would write a book for his withdrawal and call witnesses to him; but we said: This is a remark that surprisingly came out (from him) and it will not be transmitted to others.

ابن عون کہتے ہیں کہ

اگر ہمیں یہ معلوم ہوتا کہ حسن کی بات ( غلط معنی کے ساتھ شہرت کے ) اس مقام کو پہنچ جائے گی جہاں وہ پہنچ گئی تو ہم لوگ ان کے اس قول کے بارے میں ان کے رجوع کی بابت ایک کتاب لکھتے اور اس پر لوگوں کو گواہ بناتے ، لیکن ہم نے سوچا کہ ایک بات ہے جو نکل گئی ہے اور اس کے خلاف معنی پر محمول نہیں کی جائے گی ۱؎ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 29
Hadith 4625
Chapter 1683: Adherence To The Sunnah - كتاب السنة

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، قَالَ قَالَ لِيَ الْحَسَنُ مَا أَنَا بِعَائِدٍ، إِلَى شَىْءٍ مِنْهُ أَبَدًا ‏.‏

Ayyub said:

Al-Hasan said: I will never return to it.

ایوب کہتے ہیں کہ

مجھ سے حسن بصری نے کہا : میں اب دوبارہ کبھی اس میں سے کوئی بات نہیں کہوں گا ، ( جس سے تقدیر کی نفی کا گمان ہوتا ) ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 30
Hadith 4626
Chapter 1683: Adherence To The Sunnah - كتاب السنة

حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُثْمَانَ الْبَتِّيِّ، قَالَ مَا فَسَّرَ الْحَسَنُ آيَةً قَطُّ إِلاَّ عَلَى الإِثْبَاتِ ‏.‏

‘Uthman al-Batti said:

Al-Hasan never interpreted any Quranic verse but to establish (Divine decree).

عثمان کہتے ہیں کہ

حسن نے جب بھی کسی آیت کی تفسیر کی تو تقدیر کا اثبات کیا ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 31
Hadith 4627
Chapter 1684: Order Of The Companions In Respect Of Merit - كتاب السنة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَقُولُ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا ثُمَّ عُمَرَ ثُمَّ عُثْمَانَ ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم لاَ تَفَاضُلَ بَيْنَهُمْ ‏.‏

Ibn ‘Umar said:

We used to say in the times of the Prophet (ﷺ): We do not compare anyone with Abu Bakr. ’Umar came next and then ‘Uthman. We then would leave (rest of) the companions of the Prophet (ﷺ) without treating any as superior to other.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کہا کرتے تھے : ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہیں جانتے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ کے ، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو چھوڑ دیتے ، ان میں کسی کو کسی پر فضیلت نہیں دیتے ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 32
Hadith 4628
Chapter 1684: Order Of The Companions In Respect Of Merit - كتاب السنة

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ كُنَّا نَقُولُ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَىٌّ أَفْضَلُ أُمَّةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ رضى الله عنهم أَجْمَعِينَ ‏.‏

Ibn ‘Umar said:

When the Messenger of Allah (ﷺ) was alive, we used to say: The most excellent member of the community of the Prophet (ﷺ) after himself is Abu Bakr, then ‘Umar, then 'Uthman.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں ، پھر عمر ، پھر عثمان ہیں ، رضی اللہ عنہم اجمعین ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 33
Hadith 4629
Chapter 1684: Order Of The Companions In Respect Of Merit - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا جَامِعُ بْنُ أَبِي رَاشِدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ قُلْتُ لأَبِي أَىُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ أَبُو بَكْرٍ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ خَشِيتُ أَنْ أَقُولَ ثُمَّ مَنْ فَيَقُولَ عُثْمَانُ فَقُلْتُ ثُمَّ أَنْتَ يَا أَبَةِ قَالَ مَا أَنَا إِلاَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ‏.‏

Muhammad b. al-Hanafiyyah said:

I said to my father: Which of the people after the Messenger of Allah (ﷺ) is best? He replied: Abu Bakr. I then asked: Who comes next? He said: ‘Umar. I was then afraid of asking him who came next, and he might mention ‘Uthman, so I said: You came next, O my father? He said: I am only a man among the Muslims.

محمد بن حنفیہ کہتے ہیں کہ

میں نے اپنے والد علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں سب سے بہتر کون تھا ؟ انہوں نے کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ ، میں نے کہا : پھر کون ؟ پھر عمر رضی اللہ عنہ ، پھر مجھے اس بات سے ڈر ہوا کہ میں کہوں پھر کون ؟ اور وہ کہیں عثمان رضی اللہ عنہ ، چنانچہ میں نے کہا : پھر آپ ؟ اے ابا جان ! وہ بولے : میں تو مسلمانوں میں کا صرف ایک فرد ہوں ۱؎ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 34
Hadith 4630
Chapter 1684: Order Of The Companions In Respect Of Merit - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي الْفِرْيَابِيَّ - قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عَلِيًّا، عَلَيْهِ السَّلاَمُ كَانَ أَحَقَّ بِالْوِلاَيَةِ مِنْهُمَا فَقَدْ خَطَّأَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارَ وَمَا أُرَاهُ يَرْتَفِعُ لَهُ مَعَ هَذَا عَمَلٌ إِلَى السَّمَاءِ ‏.‏

Muhammad al-Firyabl said:

I heard Sufyan say: If anyone thinks that ‘All (Allah be pleased with him) was more deserving for the Caliphate than both of them, he imputed error to Abu Bakr, ‘Umar, the Muhajirun (Immigrants), and the Ansar (Helpers) Allah be pleased with all of them. I think that with this (belief) none of his action will rise to the heaven.

سفیان کہتے تھے : جو یہ کہے کہ

علی رضی اللہ عنہ ان دونوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ ) سے خلافت کے زیادہ حقدار تھے تو اس نے ابوبکر ، عمر ، مہاجرین اور انصار کو خطاکار ٹھہرایا ، اور میں نہیں سمجھتا کہ اس کے اس عقیدے کے ہوتے ہوئے اس کا کوئی عمل آسمان کو اٹھ کر جائے گا ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 35
Hadith 4631
Chapter 1684: Order Of The Companions In Respect Of Merit - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ السَّمَّاكُ، قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ، يَقُولُ الْخُلَفَاءُ خَمْسَةٌ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ وَعَلِيٌّ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ رضى الله عنهم ‏.‏

Sufyan al-Thawri said:

The Caliphs are five: Abu Bakr, ‘Umar, ‘Uthman, ‘All and ‘Umar b. ‘Abd al-Aziz.

سفیان ثوری کہا کرتے تھے

خلفاء پانچ ہیں : ابوبکر رضی اللہ عنہ ، عمر رضی اللہ عنہ ، عثمان رضی اللہ عنہ ، علی رضی اللہ عنہ اور عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 36
Hadith 4632
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، - قَالَ مُحَمَّدٌ كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ - قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلاً أَتَى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ ظُلَّةً يَنْطِفُ مِنْهَا السَّمْنُ وَالْعَسَلُ فَأَرَى النَّاسَ يَتَكَفَّفُونَ بِأَيْدِيهِمْ فَالْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَأَرَى سَبَبًا وَاصِلاً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَأَرَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذْتَ بِهِ فَعَلَوْتَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَعَلاَ بِهِ ثُمَّ أَخَذَ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَانْقَطَعَ ثُمَّ وُصِلَ فَعَلاَ بِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِي وَأُمِّي لَتَدَعَنِّي فَلأَعْبُرَنَّهَا ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اعْبُرْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَمَّا الظُّلَّةُ فَظُلَّةُ الإِسْلاَمِ وَأَمَّا مَا يَنْطِفُ مِنَ السَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَهُوَ الْقُرْآنُ لِينُهُ وَحَلاَوَتُهُ وَأَمَّا الْمُسْتَكْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ فَهُوَ الْمُسْتَكْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ مِنْهُ وَأَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الأَرْضِ فَهُوَ الْحَقُّ الَّذِي أَنْتَ عَلَيْهِ تَأْخُذُ بِهِ فَيُعْلِيكَ اللَّهُ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ بَعْدَكَ رَجُلٌ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَعْلُو بِهِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِهِ رَجُلٌ آخَرُ فَيَنْقَطِعُ ثُمَّ يُوصَلُ لَهُ فَيَعْلُو بِهِ أَىْ رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي أَصَبْتُ أَمْ أَخْطَأْتُ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَصَبْتَ بَعْضًا وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَقْسَمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُقْسِمْ ‏"‏ ‏.‏

Ibn 'Abbas said:

Abu Hurairah said that a man came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: I saw (in my dream) a piece of cloud from which ghee and honey were dropping. I saw the people spreading their hands. Some of them took much and some a little. I also saw a rope hanging from Heaven to Earth. I saw, Messenger of Allah, that you caught hold of it and ascended by it. Then another man caught hold of it and ascended it. Then another man caught hold of it and ascended it. Then another man caught hold of it, but it broke, and then it was joined and he ascended it. AbuBakr said: May my parents be sacrificed for you, if you allow, I shall interpret it. He said: Interpret it. He said: The piece of cloud is the cloud of Islam; the ghee and honey that were dropping from it are the Qur'an, which contains softness and sweetness. Those who received much or little of it are those who learn much or little of the Qur'an. The rope hanging from Heaven to Earth is the truth which you are following. You catch hold of it and then Allah will raise you to Him. Then another man will catch hold of it and ascend it, Then another man will catch hold of it and it will break. But it will be joined and he will ascend it. Tell me. Messenger of Allah, whether I am right or wrong. He said: You are partly right and partly wrong. He said: I adjure you by Allah, you should tell me where I am wrong. The Prophet (ﷺ) said: Do not take an oath.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے رات کو بادل کا ایک ٹکڑا دیکھا ، جس سے گھی اور شہد ٹپک رہا تھا ، پھر میں نے لوگوں کو دیکھا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے اسے لے رہے ہیں ، کسی نے زیادہ لیا کسی نے کم ، اور میں نے دیکھا کہ ایک رسی آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے ، پھر میں نے آپ کو دیکھا اللہ کے رسول ! کہ آپ نے اسے پکڑ ا اور اس سے اوپر چلے گئے ، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا ، پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا ، پھر اسے ایک اور شخص نے پکڑا تو وہ ٹوٹ گئی پھر اسے جوڑا گیا ، تو وہ بھی اوپر چلا گیا ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں مجھے اس کی تعبیر بیان کرنے دیجئیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی تعبیر بیان کرو “ وہ بولے : بادل کے ٹکڑے سے مراد اسلام ہے ، اور ٹپکنے والے گھی اور شہد سے قرآن کی حلاوت ( شیرینی ) اور نرمی مراد ہے ، کم اور زیادہ لینے والوں سے مراد قرآن کو کم یا زیادہ حاصل کرنے والے لوگ ہیں ، آسمان سے زمین تک پہنچی ہوئی رسی سے مراد حق ہے جس پر آپ ہیں ، آپ اسے پکڑے ہوئے ہیں ، اللہ آپ کو اٹھا لے گا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک اور شخص اسے پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا ، پھر ایک اور شخص پکڑے گا تو وہ بھی اٹھ جائے گا ، پھر اسے ایک اور شخص پکڑے گا ، تو وہ ٹوٹ جائے گی تو اسے جوڑا جائے گا ، پھر وہ بھی اٹھ جائے گا ، اللہ کے رسول ! آپ مجھے بتائیے کہ میں نے صحیح کہا یا غلط ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ صحیح کہا اور کچھ غلط “ کہا : اللہ کے رسول ! میں آپ کو قسم دلاتا ہوں کہ آپ مجھے بتائیے کہ میں نے کیا غلطی کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم نہ دلاؤ “ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 37
Hadith 4633
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ فَأَبَى أَنْ يُخْبِرَهُ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn ‘abbas through a different chain of narrators. This version adds:

He refused to tell him (his mistake).

اس سند سے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ مرفوعاً مروی ہے

لیکن اس میں یہ ہے کہ آپ نے ان کو بتانے سے انکار کر دیا ، ( کہ انہوں نے کیا غلطی کی ہے ) ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 38
Hadith 4634
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا الأَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ ‏ "‏ مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا رَأَيْتُ كَأَنَّ مِيزَانًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ فَوُزِنْتَ أَنْتَ وَأَبُو بَكْرٍ فَرُجِحْتَ أَنْتَ بِأَبِي بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَأَبُو بَكْرٍ فَرُجِحَ أَبُو بَكْرٍ وَوُزِنَ عُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرُجِحَ عُمَرُ ثُمَّ رُفِعَ الْمِيزَانُ فَرَأَيْنَا الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Narrated AbuBakrah:

One day the Prophet (ﷺ) said: Which of you had dream? A man said: It is I. I saw as though a scale descended from the sky. You and AbuBakr were weighed and you were heavier; AbuBakr and Umar were weighed and AbuBakr was heavier: Umar and Uthman were weighed and Umar was heavier; than the scale was taken up. we saw signs of dislike on the face of the Messenger of Allah (ﷺ).

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” تم میں سے کسی نے خواب دیکھا ہے ؟ “ ایک شخص بولا : میں نے دیکھا : گویا ایک ترازو آسمان سے اترا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ابوبکر کو تولا گیا ، تو آپ ابوبکر سے بھاری نکلے ، پھر عمر اور ابوبکر کو تولا گیا تو ابوبکر بھاری نکلے ، پھر عمر اور عثمان کو تولا گیا تو عمر بھاری نکلے ، پھر ترازو اٹھا لیا گیا ، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے میں ناپسندیدگی دیکھی ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 39
Hadith 4635
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ ‏"‏ أَيُّكُمْ رَأَى رُؤْيَا ‏"‏ ‏.‏ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْكَرَاهِيَةَ ‏.‏ قَالَ فَاسْتَاءَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَعْنِي فَسَاءَهُ ذَلِكَ فَقَالَ ‏"‏ خِلاَفَةُ نُبُوَّةٍ ثُمَّ يُؤْتِي اللَّهُ الْمُلْكَ مَنْ يَشَاءُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Bakrah said:

One day the Prophet (ﷺ) asked: Which of you had a dream? He then mentioned the rest of the tradition to the same effect, but he did not mention the word “disliked”. Instead, he said: The Messenger of Allah (ﷺ) was grieved about that. He then said: There will be a caliphate on the model of prophecy, then Allah will give the kingdom to whom he wills.

ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا : ” تم میں سے کس نے خواب دیکھا ہے ؟ “ پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی اور چہرے پر ناگواری دیکھنے کا ذکر نہیں کیا بلکہ یوں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ( خواب ) برا لگا ، اور فرمایا : ” وہ نبوت کی خلافت ہے ، پھر اس کے بعد اللہ جسے چاہے گا سلطنت عطا کرے گا “ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 40
Hadith 4636
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ أُرِيَ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ صَالِحٌ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ نِيطَ بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنِيطَ عُمَرُ بِأَبِي بَكْرٍ وَنِيطَ عُثْمَانُ بِعُمَرَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ جَابِرٌ فَلَمَّا قُمْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قُلْنَا أَمَّا الرَّجُلُ الصَّالِحُ فَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَمَّا تَنَوُّطُ بَعْضِهِمْ بِبَعْضٍ فَهُمْ وُلاَةُ هَذَا الأَمْرِ الَّذِي بَعَثَ اللَّهُ بِهِ نَبِيَّهُ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ يُونُسُ وَشُعَيْبٌ لَمْ يَذْكُرَا عَمْرًا ‏.‏

Jabir b. ‘Abd Allah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:

Last night a good man had a vision in which Abu Bakr seemed to be joined to the Messenger of Allah (ﷺ). ‘Umar to Abu Bakr, and ‘Uthman to ‘Umar. Jabir said: When we got up and left the Messenger of Allah (ﷺ), we said: The good man is the Messenger of Allah (ﷺ), and that their being joined together means that they are the rulers over this matter with which Allah has sent His Prophet (ﷺ). Abu Dawud said: It has been transmitted by Yunus and Shu’aib, but they did not mention ‘Amr b. Aban.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج کی رات ایک صالح شخص کو خواب میں دکھایا گیا کہ ابوبکر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جوڑ دیا گیا ہے ، اور عمر کو ابوبکر سے اور عثمان کو عمر سے “ ۔ جابر کہتے ہیں : جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر آئے تو ہم نے کہا : مرد صالح سے مراد تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، اور بعض کا بعض سے جوڑے جانے کا مطلب یہ ہے کہ یہی لوگ اس امر ( دین ) کے والی ہوں گے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرمایا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے یونس اور شعیب نے بھی روایت کیا ہے ، لیکن ان دونوں نے عمرو بن ابان کا ذکر نہیں کیا ہے ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 41
Hadith 4637
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ رَجُلاً، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ كَأَنَّ دَلْوًا دُلِّيَ مِنَ السَّمَاءِ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ شُرْبًا ضَعِيفًا ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَشَرِبَ حَتَّى تَضَلَّعَ ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَخَذَ بِعَرَاقِيهَا فَانْتَشَطَتْ وَانْتَضَحَ عَلَيْهِ مِنْهَا شَىْءٌ ‏.‏

Samurah b. Jundub told that a man said:

Messenger of Allah (ﷺ)! I saw (in a dream) that a bucket was hung from the sky. Abu Bakr came, caught hold of both ends of its wooden handle, and drank a little of it. Next came ‘Umar who caught hold of both ends of its wooden handle and drank of it to his fill. Next came ‘Uthman who caught hold of both ends of its handle and drank of it to his fill. Next came ‘All. He caught hold of both ends of its handle, but it became upset and some (water) from it was sprinkled on him.

سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے دیکھا گویا کہ آسمان سے ایک ڈول لٹکایا گیا پہلے ابوبکر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑ کر اس میں سے تھوڑا سا پیا ، پھر عمر آئے تو اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور انہوں نے خوب سیر ہو کر پیا ، پھر عثمان آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں اور خوب سیر ہو کر پیا ، پھر علی آئے اور اس کی دونوں لکڑیاں پکڑیں ، تو وہ چھلک گیا اور اس میں سے کچھ ان کے اوپر بھی پڑ گیا ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 42
Hadith 4638
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ لَتَمْخُرَنَّ الرُّومُ الشَّامَ أَرْبَعِينَ صَبَاحًا لاَ يَمْتَنِعُ مِنْهَا إِلاَّ دِمَشْقُ وَعَمَّانُ ‏.‏

Makhul said:

The Romans will enter the Levant and stay there for forty days, and no place will be saved from them but Damascus and 'Uman.

مکحول نے کہا

رومی شام میں چالیس دن تک لوٹ کھسوٹ کرتے رہیں گے اور سوائے دمشق اور عمان کے کوئی شہر بھی ان سے نہ بچے گا ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 43
Hadith 4639
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَامِرٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلاَءِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الأَعْيَسِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَلْمَانَ، يَقُولُ سَيَأْتِي مَلِكٌ مِنْ مُلُوكِ الْعَجَمِ يَظْهَرُ عَلَى الْمَدَائِنِ كُلِّهَا إِلاَّ دِمَشْقَ ‏.‏

Abu al-A’yas ‘Abd al-Rahman b. Salam said:

A king of the foreigners will come and prevail over all the cities except Damascus.

عبدالعزیز بن علاء کہتے ہیں کہ انہوں نے ابو الأ عیس عبدالرحمٰن بن سلمان کو کہتے سنا کہ

عجم کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ تمام شہروں پر غالب آ جائے گا سوائے دمشق کے ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 44
Hadith 4640
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلاَءِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَوْضِعُ فُسْطَاطِ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمَلاَحِمِ أَرْضٌ يُقَالُ لَهَا الْغُوطَةُ ‏"‏ ‏.‏

Makhul reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:

The place of the assembly of Muslims at the time of war will be in a land called al-Ghutah.

مکحول کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمانوں کا خیمہ لڑائیوں کے وقت ایک ایسی سر زمین میں ہو گا جسے غوطہٰ ۱؎ کہا جاتا ہے “ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 45
Hadith 4641
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا أَبُو ظَفَرٍ عَبْدُ السَّلاَمِ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ عَوْفٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّ مَثَلَ عُثْمَانَ عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ يَقْرَؤُهَا وَيَفُسِّرُهَا ‏{‏ إِذْ قَالَ اللَّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ‏}‏ يُشِيرُ إِلَيْنَا بِيَدِهِ وَإِلَى أَهْلِ الشَّامِ ‏.‏

‘Awf said:

I heard al-Hajjaj addressing the people say: The similitude of ‘Uthman with Allah is like the similitude of Jesus son of Mary. He then recited the following verse and explained it: “Behold! Allah said: O Jesus! I will take thee and raise thee to Myself and clear thee (of the falsehood) of those who blaspheme.” He was making a sign with his hand to us and to the people of Syria.

عوف الا عرابی کہتے ہیں کہ

میں نے حجاج کو خطبہ میں یہ کہتے سنا : عثمان کی مثال اللہ کے نزدیک عیسیٰ بن مریم کی طرح ہے ، پھر انہوں نے آیت کریمہ «إذ قال الله يا عيسى إني متوفيك ورافعك إلى ومطهرك من الذين كفروا» ” جب اللہ نے کہا کہ : اے عیسیٰ ! میں تجھے پورا لینے والا ہوں ، اور تجھے اپنی جانب اٹھانے والا ہوں ، اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں “ ( سورۃ آل عمران : ۵۵ ) پڑھی اور اپنے ہاتھ سے ہماری اور اہل شام کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 46
Hadith 4642
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ خَالِدٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَخْطُبُ فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ رَسُولُ أَحَدِكُمْ فِي حَاجَتِهِ أَكْرَمُ عَلَيْهِ أَمْ خَلِيفَتُهُ فِي أَهْلِهِ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي لِلَّهِ عَلَىَّ أَلاَّ أُصَلِّيَ خَلْفَكَ صَلاَةً أَبَدًا وَإِنْ وَجَدْتُ قَوْمًا يُجَاهِدُونَكَ لأُجَاهِدَنَّكَ مَعَهُمْ ‏.‏ زَادَ إِسْحَاقُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَقَاتَلَ فِي الْجَمَاجِمِ حَتَّى قُتِلَ ‏.‏

Al-Rabi’ b. Khalid al-Dabbi said:

I heard al-Hajjaj say in his address: Is the messenger of one of you sent for some need is more respectable with him or his successor among his people? I thought in my mind: I make a vow for Allah that I shall never pray behind you. If I find people who fight against you, I shall fight against you along with them. Ishaq added in his version: He fought in the battle of al-Jamajim until he was killed.

ربیع بن خالد ضبی کہتے ہیں کہ

میں نے حجاج کو خطبہ دیتے سنا ، اس نے اپنے خطبے میں کہا : تم میں سے کسی کا پیغام بر جو اس کی ضرورت سے ( پیغام لے جا رہا ) ہو زیادہ درجے والا ہے ، یا وہ جو اس کے گھربار میں اس کا قائم مقام اور خلیفہ ہو ؟ تو میں نے اپنے دل میں کہا : اللہ کا میرے اوپر حق ہے کہ میں تیرے پیچھے کبھی نماز نہ پڑھوں ، اور اگر مجھے ایسے لوگ ملے جو تجھ سے جہاد کریں تو میں ضرور ان کے ساتھ تجھ سے جہاد کروں گا ۔ اسحاق نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے : چنانچہ انہوں نے جماجم میں جنگ کی یہاں تک کہ مارے گئے ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 47
Hadith 4643
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ اتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ وَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لَيْسَ فِيهَا مَثْنَوِيَّةٌ لأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَبْدِ الْمَلِكِ وَاللَّهِ لَوْ أَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ فَخَرَجُوا مِنْ بَابٍ آخَرَ لَحَلَّتْ لِي دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَاللَّهِ لَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ لَكَانَ ذَلِكَ لِي مِنَ اللَّهِ حَلاَلاً وَيَا عَذِيرِي مِنْ عَبْدِ هُذَيْلٍ يَزْعُمُ أَنَّ قِرَاءَتَهُ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا هِيَ إِلاَّ رَجَزٌ مِنْ رَجَزِ الأَعْرَابِ مَا أَنْزَلَهَا اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَعَذِيرِي مِنْ هَذِهِ الْحَمْرَاءِ يَزْعُمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَرْمِي بِالْحَجَرِ فَيَقُولُ إِلَى أَنْ يَقَعَ الْحَجَرُ قَدْ حَدَثَ أَمْرٌ فَوَاللَّهِ لأَدَعَنَّهُمْ كَالأَمْسِ الدَّابِرِ ‏.‏ قَالَ فَذَكَرْتُهُ لِلأَعْمَشِ فَقَالَ أَنَا وَاللَّهِ سَمِعْتُهُ مِنْهُ ‏.‏

‘Asim said:

I heard al-Hajjaj say on the pulpit: Fear Allah as much as possible; there is no exception in it. Hear and obey the Commander of the Faithful ‘Abd al-Malik; there is no exception in it. I swear by Allah, if order people to come but from a certain gate of the mosque, and they come out from another gate, their blood and their properties will be lawful for me. I swear by Allah, if I seize the tribe of Rabi’ah for the tribe of Mudar, it is lawful for me from Allah. Who will apologies to me for the slave of Hudhail (i.e. ‘Abd Allah b. Mas’ud) who thinks that his reading of the Quran is from Allah. I swear by Allah, it is a rhymed prose of the Bedouins. Allah did not reveal it to his Prophet (ﷺ). Who will apologies to me for these clients (non-Arab). One of them thinks that he will throw a stone and when it falls (on the ground) he says: Something new has happened. I swear by Allah, I shall leave them (ruined and perished) like the day that passes away. He said: I mentioned it to al-A’mash. He said: I swear by Allah, I heard it from him.

عاصم کہتے ہیں کہ

میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا : جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرو ، اس میں کوئی شرط یا استثناء نہیں ہے ، امیر المؤمنین عبدالملک کی بات سنو اور مانو ، اس میں بھی کوئی شرط اور استثناء نہیں ہے ، اللہ کی قسم ، اگر میں نے لوگوں کو مسجد کے ایک دروازے سے نکلنے کا حکم دیا پھر وہ لوگ کسی دوسرے دروازے سے نکلے تو ان کے خون اور ان کے مال میرے لیے حلال ہو جائیں گے ، اللہ کی قسم ! اگر مضر کے قصور پر میں ربیعہ کو پکڑ لوں ، تو یہ میرے لیے اللہ کی جانب سے حلال ہے ، اور کون مجھے عبدہذیل ( عبداللہ بن مسعود ہذلی ) کے سلسلہ میں معذور سمجھے گا جو کہتے ہیں کہ ان کی قرآت اللہ کی طرف سے ہے قسم اللہ کی ، وہ سوائے اعرابیوں کے رجز کے کچھ نہیں ، اللہ نے اس قرآت کو اپنے نبی علیہ السلام پر نہیں نازل فرمایا ، اور کون ان عجمیوں کے سلسلہ میں مجھے معذور سمجھے گا جن میں سے کوئی کہتا ہے کہ وہ پتھر پھینک رہا ہے ، پھر کہتا ہے ، دیکھو پتھر کہاں گرتا ہے ؟ ( فساد کی بات کہہ کر دیکھتا ہے کہ دیکھوں اس کا کہاں اثر ہوتا ہے ) اور کچھ نئی بات پیش آئی ہے ، اللہ کی قسم ، میں انہیں اسی طرح نیست و نابود کر دوں گا ، جیسے گزشتہ کل ختم ہو گیا ( جو اب کبھی نہیں آنے والا ) ۔ عاصم کہتے ہیں : میں نے اس کا تذکرہ اعمش سے کیا تو وہ بولے : اللہ کی قسم میں نے بھی اسے ، اس سے سنا ہے ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 48
Hadith 4644
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الأَعْمَشِ، قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ هَذِهِ الْحَمْرَاءُ هَبْرٌ هَبْرٌ أَمَا وَاللَّهِ لَقَدْ قَرَعْتُ عَصًا بِعَصًا لأَذَرَنَّهُمْ كَالأَمْسِ الذَّاهِبِ يَعْنِي الْمَوَالِي ‏.‏

Al-A’mash said:

These clients (i.e., non-Arabs) are to be struck and cut off. I swear by Allah, if I strike a stick with a stick, I would annihilate them like the day that passed away. Al-hamra means clients or non-Arabs.

اعمش کہتے ہیں کہ

میں نے حجاج کو منبر پر کہتے سنا : یہ گورے ( عجمی ) قیمہ بنائے جانے کے قابل ہیں قیمہ ، موالی ( غلامو ) سنو ، اللہ کی قسم ، اگر میں لکڑی پر لکڑی ماروں تو انہیں اسی طرح برباد کر کے رکھ دوں جس طرح گزرا ہوا کل ختم ہو گیا ، یعنی عجمیوں کو ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 49
Hadith 4645
Chapter 1685: The Caliphs - كتاب السنة

حَدَّثَنَا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَعْمَشِ، قَالَ جَمَّعْتُ مَعَ الْحَجَّاجِ فَخَطَبَ فَذَكَرَ حَدِيثَ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ قَالَ فِيهَا فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا لِخَلِيفَةِ اللَّهِ وَصَفِيِّهِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ قَالَ وَلَوْ أَخَذْتُ رَبِيعَةَ بِمُضَرَ وَلَمْ يَذْكُرْ قِصَّةَ الْحَمْرَاءِ ‏.‏

Sulaiman al-A’mash said:

I prayed the Friday prayer with al-Hajjaj and he addressed. He then transmitted the tradition of Abu Bakr b. ‘Ayyash. He said in it: Hear and obey the caliph of Allah and his select ‘Abd al-Malik bin Marwan. He then transmitted the rest of the tradition, and said: If I seized Rabi’ah for Mudar. But he did not mention the story of the clients (i.e. non Arabs).

سلیمان الاعمش کہتے ہیں

میں نے حجاج کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھی ، اس نے خطبہ دیا ، پھر راوی ابوبکر بن عیاش والی روایت ( ۴۶۴۳ ) ذکر کی ، اس میں ہے کہ اس نے کہا : سنو اور اللہ کے خلیفہ اور اس کے منتخب عبدالملک بن مروان کی اطاعت کرو ، اس کے بعد آگے کی حدیث بیان کی اور کہا : اگر میں مضر کے جرم میں ربیعہ کو پکڑوں ( تو یہ غلط نہ ہو گا ) اور عجمیوں والی بات کا ذکر نہیں کیا ۔

In-book reference : Book 42, Hadith 50
Page 2 of 8

Showing 25 hadiths on this page (Total: 177 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 2 of 8 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00