The Messenger of Allah (ﷺ) married me when I was seven years old. The narrator Sulaiman said: or Six years. He had intercourse with me when I was nine years old.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کی ، اس وقت سات سال کی تھی ( سلیمان کی روایت میں ہے : چھ سال کی تھی ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ( شب زفاف منائی ) اس وقت میں نو برس کی تھی ۔
'Abd al-Malik b. Abi Bakr reported from his father on the authority of Umm Salamah:
When the Messenger of Allah (ﷺ) married Umm Salamah, he stayed with her three night, and said: Your people (i.e. clan) are not being humbled for you in my estimation. If you wish I shall stay with you seven nights; and if I stay with you seven nights, I shall stay with my other wives seven nights.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات رہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اسے اپنے خاندان کے لیے بے عزتی مت تصور کرنا ، اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہ سکتا ہوں لیکن پھر اپنی اور بیویوں کے پاس بھی سات سات رات رہوں گا “ ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) married Safiyyah, he stayed with her three nights. The narrator 'Uthman added: She was non virgin (previously married). He said: This tradition has been narrated to me by Hushaim, reported by Humaid, and transmitted by Anas.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ان کے پاس تین رات گزاری ، اور وہ ثیبہ تھیں ۱؎ ۔
When a man who has a wife married a virgin he should stay with her seven nights ; if he marries to a woman who has been previously married he should stay with her three nights. (The narrator said:) If I say that he (Anas) narrated this tradition from the Prophet (ﷺ) I shall be true. But he said: The Sunnah is so-and-so.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب کوئی ثیبہ کے رہتے ہوئے کنواری سے شادی کرے تو اس کے ساتھ سات رات رہے ، اور جب ثیبہ سے شادی کرے تو اس کے پاس تین رات رہے ۔ راوی کا بیان ہے کہ اگر میں یہ کہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے تو سچ ہے لیکن انہوں نے کہا کہ ” سنت اسی طرح ہے “ ۔
When Ali married Fatimah, the Prophet (ﷺ) said to him: Give her something. He said: I have nothing with me. He said: Where is your Hutamiyyah (coat of mail).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا : ” اسے کچھ دے دو “ ، انہوں نے کہا : میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے ؟ “ ۲؎ ۔
Chapter 702: Regarding A Man Who Consummates His Marriage Before Giving Any Monetary Amount To His Wife - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ - حَدَّثَنِي غَيْلاَنُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ عَلِيًّا عَلَيْهِ السَّلاَمُ لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ لِي شَىْءٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" أَعْطِهَا دِرْعَكَ " . فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا .
Muhammad ibn Abdur Rahman ibn Thawban reported on the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ):
When Ali married Fatimah, daughter of the Messenger of Allah (ﷺ), he intended to have intercourse with her. The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited him to do so until he gave her something. Ali said: I have nothing with me, Messenger of Allah. The Prophet (ﷺ) said: Give her your coat of mail. So he gave her his coat of mail, and then cohabited with her.
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے پاس کچھ نہیں ہے ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے اپنی زرہ ہی دے دو “ ، چنانچہ انہیں زرہ دے دی ، پھر وہ ان کے پاس گئے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) commanded me to send a woman to her husband before he gave something to her.
Abu Dawud said: The narrator Khaithamah did not hear (any tradition) from 'Aishah.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے ۔
'Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather reported The Messenger of Allah (ﷺ) said:
A woman who marries on a dower or a reward or a promise before the solemnisation of marriage is entitled to it; and whatever is fixed for her after solemnisation of marriage belongs to whom it is given. A man is more entitled to receive a thing given as a gift on account of his daughter or sister (than other kinds of gifts).
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا ( انعام وغیرہ ) ، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے “ ۔
When the Prophet (ﷺ) congratulated a man on his marriage, he said: May Allah bless for you, and may He bless on you, and combine both of you in good (works).
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کو شادی کی مبارکباد دیتے تو فرماتے : «بارك الله لك وبارك عليك وجمع بينكما في خير» ” اللہ تعالیٰ تم کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھے ، اور تم دونوں کو خیر پر جمع کر دے “ ۔
I married a virgin woman in her veil. When I entered upon her, I found her pregnant. (I mentioned this to the Prophet). The Prophet (ﷺ) said: She will get the dower, for you made her vagina lawful for you. The child will be your slave. When she has begotten (a child), flog her (according to the version of al-Hasan). The version of Ibn AbusSari has: You people, flog her, or said: inflict hard punishment on him.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Qatadah from Sa'd b. Yazid on the authority of Ibn al-Musayyab in a similar way. This tradition has been narrated by Yahya b. Abi Kathir from Yazid b. Nu'aim from Sa'id b. al-Musayyab, and 'Ata al-Khurasani narrated it from Sa'id b. al-Musayyab ; they all narrated this tradition from the Prophet (ﷺ) omitting the link of the Companion (i.e. a mursal tradition). The version of Yahya b. Abi Kathir has: Basrah b. Aktham married a woman. The agreed version has: He made the child his servant.
بصرہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ایک کنواری پردہ نشین عورت سے نکاح کیا ، میں اس کے پاس گیا ، تو اسے حاملہ پایا تو اس کے متعلق اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے عوض تمہیں مہر ادا کرنا پڑے گا ، اور ( پیدا ہونے والا ) بچہ تمہارا غلام ہو گا ، اور جب وہ بچہ جن دے - ( حسن کی روایت میں ) ” تو تو اسے کوڑے لگا “ ( واحد کے صیغہ کے ساتھ ) اور ابن السری کی روایت میں تو تم اسے کوڑے لگاؤ ( جمع کے صیغہ کے ساتھ ) “ ، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس پر حد جاری کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس حدیث کو قتادہ نے سعید بن زید سے انہوں نے ابن مسیب سے روایت کیا ہے نیز اسے یحییٰ ابن ابی کثیر نے یزید بن نعیم سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عطاء خراسانی نے سعید بن مسیب سے روایت کیا ہے سبھی لوگوں نے اسے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ اور یحییٰ ابن ابی کثیر کی روایت میں ہے کہ بصرہ بن اکثم نے ایک عورت سے نکاح کیا اور سبھی لوگوں کی روایت میں ہے : ” آپ نے لڑکے کو ان کا غلام بنا دیا “ ۔
A man called Basrah b. Akhtam married a woman. The narrator then reported the rest of the tradition to the same effect. This version added: And he separated them. The tradition narrated by Ibn Juraij is perfect.
سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ
بصرہ بن اکثم نامی ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا پھر راوی نے اسی مفہوم کی روایت نقل کی لیکن اس میں اتنا زیادہ ہے کہ ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جدائی کرا دی “ اور ابن جریج والی روایت زیادہ کامل ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: When a man has two wives and he is inclined to one of them, he will come on the Day of resurrection with a side hanging down.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس دو بیویاں ہوں اور اس کا میلان ایک کی جانب ہو تو وہ بروز قیامت اس حال میں آئے گا ، کہ اس کا ایک دھڑا جھکا ہوا ہو گا “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to divide his time equally and said: O Allah, this is my division concerning what I control, so do not blame me concerning what You control and I do not.
Abu Dawud said: By it meant the heart.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی بیویوں کی ) باری مقرر فرماتے تھے اور اس میں انصاف سے کام لیتے تھے ، پھر یہ دعا فرماتے تھے : ” اے اللہ ! یہ میری تقسیم ان چیزوں میں ہے جو میرے بس میں ہے ، رہی وہ بات جو میرے بس سے باہر ہے اور تیرے بس میں ہے ( یعنی دل کا میلان ) تو تو مجھے اس کی وجہ سے ملامت نہ فرمانا “ ۔
Chapter 705: Dividing (Fairly) Between One's Wives - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الزِّنَادِ - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي الْقَسْمِ مِنْ مُكْثِهِ عِنْدَنَا وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلاَّ وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا وَلْقَدْ قَالَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ حِينَ أَسَنَّتْ وَفَرِقَتْ أَنْ يُفَارِقَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ يَوْمِي لِعَائِشَةَ . فَقَبِلَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْهَا قَالَتْ نَقُولُ فِي ذَلِكَ أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى وَفِي أَشْبَاهِهَا أُرَاهُ قَالَ { وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا } .
Narrated Hisham b. 'Urwah:
On the authority of his father that 'Aishah said: O my nephew, the Messenger of Allah (ﷺ) did not prefer one of us to the other in respect of his division of the time of his staying with us. It was very rare that he did not visit us any day (i.e. he visited all of us every day). He would come near each of his wives without having intercourse with her until he reached the one who had her day and passed his night with her. When Saudah daughter of Zam'ah became old and feared that the Messenger of Allah (ﷺ) would divorce her, she said: Messenger of Allah, I give to 'Aishah the day you visit me. The Messenger of Allah (ﷺ) accepted it from her. She said: We think that Allah, the Exalted, revealed about this or similar matter the Qur'anic verse: "If a wife fears cruelty or desertion on her husband's part...." [4:128]
عروہ کہتے ہیں
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میرے بھانجے ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم ازواج مطہرات کے پاس رہنے کی باری میں بعض کو بعض پر فضیلت نہیں دیتے تھے اور ایسا کم ہی ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سب کے پاس نہ آتے ہوں ، اور بغیر محبت کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب کے قریب ہوتے ، اس طرح آپ اپنی اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے جس کی باری ہوتی اور اس کے ساتھ رات گزارتے ، اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا عمر رسیدہ ہو گئیں اور انہیں اندیشہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں الگ کر دیں گے تو کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! میری باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے رہے گی ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی یہ بات قبول فرما لی ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ ہم کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں یا اور اسی جیسی چیزوں کے سلسلے میں آیت کریمہ : «وإن امرأة خافت من بعلها نشوزا» ( سورۃ النساء : ۱۲۸ ) نازل کی : ” اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدمزاجی کا خوف ہو “ ۔
Chapter 705: Dividing (Fairly) Between One's Wives - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ { تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ } قَالَتْ مُعَاذَةُ فَقُلْتُ لَهَا مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كُنْتُ أَقُولُ إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَىَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي .
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) used to aske our permission on the day he had to stay with one of his wives (by turns) after the following Qur'anic verse was revealed: "You may distance those whom you like, and draw close to those whom you like" [33:51]. The narrator Mu'adhah said: I said to her: What did you say to the Messenger of Allah (ﷺ) ? She said: I used to say: If had an option for that, I would not preferred anyone to myself.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
آیت کریمہ : «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» ” آپ ان میں سے جسے آپ چاہیں دور رکھیں اور جسے آپ چاہیں اپنے پاس رکھیں “ ( سورۃ الاحزاب : ۵۱ ) نازل ہوئی تو ہم میں سے جس کسی کی باری ہوتی تھی اس سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اجازت لیتے تھے ۔ معاذہ کہتی ہیں کہ یہ سن کر میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : آپ ایسے موقع پر کیا کہتی تھیں ؟ کہنے لگیں : میں تو یہ ہی کہتی تھی کہ اگر میرا بس چلے تو میں اپنے اوپر کسی کو ترجیح نہ دوں ۔
A’ishah said The Apostle of Allaah(ﷺ) sent for his wives during his illness. When they got together, he(ﷺ) said “I am unable to visit all of you. If you think to permit me to stay with A’ishah you may do so.” So they permitted him (to stay with A’ishah).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرض الموت کے موقع پر سب بیویوں کو بلا بھیجا ، وہ جمع ہوئیں تو فرمایا : ” اب تم سب کے پاس آنے جانے کی میرے اندر طاقت نہیں ، اگر تم اجازت دے دو تو میں عائشہ کے پاس رہوں “ ، چنانچہ ان سب نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اجازت دے دی ۔
Chapter 705: Dividing (Fairly) Between One's Wives - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ وَكَانَ يَقْسِمُ لِكُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ يَوْمَهَا وَلَيْلَتَهَا غَيْرَ أَنَّ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ .
A’ishah wife of the Prophet (ﷺ) reported “When the Apostle of Allaah(ﷺ) intended to go on a journey he cast lots amongst his wives and the one who was chosen by lot went on it with him. He divided his time, day and night (equally) for each of his wives except that Saudah daughter of Zam’ah gave her day to A’ishah.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ
عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے تو جس کا نام نکلتا اس کو لے کر سفر کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بیوی کے لیے ایک دن رات کی باری بنا رکھی تھی ، سوائے سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے انہوں نے اپنی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کو دے رکھی تھی ۔
‘Uqbah bin ‘Amir reported the Apostle of Allaah (ﷺ) as saying “The condition worthier to be fulfilled by you is the one by which you made the private parts (of your wife) lawful (for you).
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پورا کئے جانے کی سب سے زیادہ مستحق شرطیں وہ ہیں جن کے ذریعہ تم نے شرمگاہوں کو حلال کیا ہے “ ۔
I went to al-Hirah and saw them (the people) prostrating themselves before a satrap of theirs, so I said: The Messenger of Allah (ﷺ) has most right to have prostration made before him. When I came to the Prophet (ﷺ), I said: I went to al-Hirah and saw them prostrating themselves before a satrap of theirs, but you have most right, Messenger of Allah, to have (people) prostrating themselves before you. He said: Tell me , if you were to pass my grave, would you prostrate yourself before it? I said: No. He then said: Do not do so. If I were to command anyone to make prostration before another I would command women to prostrate themselves before their husbands, because of the special right over them given to husbands by Allah.
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں حیرہ آیا ، تو دیکھا کہ لوگ اپنے سردار کو سجدہ کر رہے ہیں تو میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار ہیں کہ انہیں سجدہ کیا جائے ، میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ سے کہا کہ میں حیرہ شہر آیا تو میں نے وہاں لوگوں کو اپنے سردار کے لیے سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو اللہ کے رسول ! آپ اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ ہم آپ کو سجدہ کریں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بتاؤ کیا اگر تم میری قبر کے پاس سے گزرو گے ، تو اسے بھی سجدہ کرو گے ؟ “ وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسا نہ کرنا ، اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورتوں کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہروں کو سجدہ کریں اس وجہ سے کہ شوہروں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کیا ہے “ ۔
Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “When a man calls his wife to come to his bed and she refuses and does not come to him and he spends the night angry, the angels curse her till the morning.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ انکار کرے اور اس کے پاس نہ آئے جس کی وجہ سے شوہر رات بھر ناراض رہے تو فرشتے اس عورت پر صبح تک لعنت کرتے رہتے ہیں “ ۔
Mu'awiyah asked: Messenger of Allah, what is the right of the wife of one of us over him? He replied: That you should give her food when you eat, clothe her when you clothe yourself, do not strike her on the face, do not revile her or separate yourself from her except in the house.
Abu Dawud said: The meaning of "do not revile her" is, as you say: "May Allah revile you".
معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے اوپر ہماری بیوی کا کیا حق ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ کہ جب تم کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ ، جب پہنو یا کماؤ تو اسے بھی پہناؤ ، چہرے پر نہ مارو ، برا بھلا نہ کہو ، اور گھر کے علاوہ اس سے جدائی ۱؎ اختیار نہ کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «ولا تقبح» کا مطلب یہ ہے کہ تم اسے «قبحك الله» نہ کہو ۔
Bahz bin Hakim reported on the authority of his father from his grandfather (Mu'awiyah ibn Haydah) as saying:
I said: Messenger of Allah, how should we approach our wives and how should we leave them? He replied: Approach your tilth when or how you will, give her (your wife) food when you take food, clothe when you clothe yourself, do not revile her face, and do not beat her.
Abu Dawud said: The version of Shu'bah has: That you give her food when you have food yourself, and that you clothe her when you clothe yourself.
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم اپنی عورتوں کے پاس کدھر سے آئیں ، اور کدھر سے نہ آئیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : ” اپنی کھیتی ۱؎ میں جدھر سے بھی چاہو آؤ ، جب خود کھاؤ تو اسے بھی کھلاؤ ، اور جب خود پہنو تو اسے بھی پہناؤ ، اس کے چہرہ کی برائی نہ کرو ، اور نہ ہی اس کو مارو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : شعبہ نے «أطعمها إذا طعمت واكسها إذا اكتسيت» کے بجائے «تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت» روایت کیا ہے ۔
I went to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him: What do you say (command) about our wives? He replied: Give them food what you have for yourself, and clothe them by which you clothe yourself, and do not beat them, and do not revile them.
معاویہ قشیری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : ہماری عورتوں کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو تم خود کھاتے ہو وہی ان کو بھی کھلاؤ ، اور جیسا تم پہنتے ہو ویسا ہی ان کو بھی پہناؤ ، اور نہ انہیں مارو ، اور نہ برا کہو “ ۔
Chapter 709: Regarding Hitting Women - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" فَإِنْ خِفْتُمْ نُشُوزَهُنَّ فَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ " . قَالَ حَمَّادٌ يَعْنِي النِّكَاحَ .
Abu Harrah Al Ruqashi reported on the authority of his uncle” The Prophet (ﷺ) said “If you fear the recalcitrance abandon them in their beds.”
The narrator Hammad said “By abandonment he meant abandonment of intercourse.”
ابوحرہ رقاشی اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ان کی نافرمانی سے ڈرو تو انہیں بستروں میں ( تنہا ) چھوڑ دو “ ۔ حماد کہتے ہیں : یعنی ان سے صحبت نہ کرو ۔