Chapter 691: Regarding A Virgin Who Was Married Off By Her Father Without He Consent - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً، بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
A virgin came to the Prophet (ﷺ) and mentioned that her father had married her against her will, so the Prophet (ﷺ) allowed her to exercise her choice.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک کنواری لڑکی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر کر دیا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ۱؎ ۔
Chapter 691: Regarding A Virgin Who Was Married Off By Her Father Without He Consent - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذَا الْحَدِيثِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرِ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ النَّاسُ مُرْسَلاً مَعْرُوفٌ .
The above tradition has been transmitted by ‘Ikrimah from the Prophet (ﷺ). Abu Dawud said “He (Muhammad bin ‘Ubaid) did not mention the name of Ibn ‘Abbas in the chain of this tradition. The people have also narrated it mursal (without the mention of the name of Ibn ‘Abbas) in a similar way. Its transmission in the mursal form is well known.
اس سند سے عکرمہ سے یہ حدیث مرسلاً مروی ہے
ابوداؤد کہتے ہیں : اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر نہیں ہے ، اس روایت کا اسی طرح لوگوں کا مرسلاً روایت کرنا ہی معروف ہے ۔
Ibn ‘Abbas reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and a virgin’s permission must be asked, her permission being her silence. These are the words of Al Qa’nabi.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ثیبہ ۱؎ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کے بارے میں اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی ہی اس کی اجازت ہے “ ۔
The above tradition has been transmitted by ‘Abd Allaah bin Al Fadl through his chain of narrators and with different meaning. The version goes “A woman without a husband has more right to her person than her guardian and the father of a virgin should ask her permission about herself.”
Abu Dawud said “ The word “her father” is not guarded.
عبداللہ بن فضل سے بھی اسی طریق سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
اس میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ثیبہ اپنے نفس کا اپنے ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کنواری لڑکی سے اس کا باپ پوچھے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «أبوها» کا لفظ محفوظ نہیں ہے ۔
The Prophet (ﷺ) said: A guardian has no concern with a woman previously married and has no husband, and an orphan girl (i.e. virgin) must be consulted, her silence being her acceptance.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولی کا ثیبہ عورت پر کچھ اختیار نہیں ، اور یتیم لڑکی سے پوچھا جائے گا اس کی خاموشی ہی اس کا اقرار ہے “ ۔
Khansa’ daughter of Khidham al-Ansariyyah reports that when her father married her when she had previously been married and she disapproved of that she went to the Apostle of Allaah(ﷺ) and mentioned it to him. He (the Prophet) revoked her marriage.
خنسا بنت خذام انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے والد نے ان کا نکاح کر دیا اور وہ ثیبہ تھیں تو انہوں نے اسے ناپسند کیا چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کا نکاح رد کر دیا ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ، حَجَمَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فِي الْيَافُوخِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " يَا بَنِي بَيَاضَةَ أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ وَانْكِحُوا إِلَيْهِ " . قَالَ " وَإِنْ كَانَ فِي شَىْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ " .
Narrated AbuHurayrah:
AbuHind cupped the Prophet (ﷺ) in the middle of his head. The Prophet (ﷺ) said: Banu Bayadah, marry AbuHind (to your daughter), and ask him to marry (his daughter) to you. He said: The best thing by which you treat yourself is cupping.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ابوہند نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چندیا میں پچھنا لگایا تو آپ نے فرمایا : ” بنی بیاضہ کے لوگو ! ابوہند سے تم ( اپنی بچیوں کی ) شادی کرو اور ( ان کی بچیوں سے شادی کرنے کے لیے ) تم انہیں نکاح کا پیغام دو ۱؎ “ ، اور فرمایا : ” تین چیزوں سے تم علاج کرتے ہو اگر ان میں کسی چیز میں خیر ہے تو وہ پچھنا لگانا ہے “ ۔
I went out along with my father during the hajj performed by the Messenger of Allah (ﷺ). I saw the Messenger of Allah (ﷺ). My father came near him; he was riding his she-camel. He stopped there and listened to him. He had a whip like the whip of the teachers. I heard the Bedouin and the people saying: Keep away from the whip. My father came up to him. He caught hold of his foot and acknowledged him (his Prophethood). He stopped and listened to him.
He then said: I participated in the army of Athran (in the pre-Islamic days).
The narrator, Ibn al-Muthanna, said: Army of Gathran. Tariq ibn al-Muraqqa' said: Who will give me a lance and get a reward?
I asked: What is its reward? He replied: I shall marry him to my first daughter born to me. So I gave him my lance and then disappeared from him till I knew that a daughter was born to him and she came of age.
I then came to him and said: Send my wife to me. He swore that he would not do that until I fixed a dower afresh other than that agreed between me and him, and I swore that I should not give him the dower other than that I had given him before.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: How old is she now?
He said: She has grown old. He said: I think you should leave her. He said: This put awe and fear into me, and I looked at the Messenger of Allah (ﷺ).
When he felt this in me, he said: You will not be sinful, nor will your companion be sinful.
Abu Dawud said: Qatir means old age.
سارہ بنت مقسم نے بیان کیا ہے کہ
انہوں نے میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج میں اپنے والد کے ساتھ نکلی ، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب پہنچے ، آپ اپنی اونٹنی پر سوار تھے تو وہ آپ کے پاس کھڑے ہو گئے ، اور آپ کی باتیں سننے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلموں کے درے کی طرح ایک درہ تھا ، میں نے بدوؤں نیز دیگر لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ تھپتھپانے سے بچو ، تھپتھپانے سے بچو تھپتھپانے سے بچو ۱؎ ۔ میرے والد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب جا کر آپ کا پیر پکڑ لیا اور آپ کے رسول ہونے کا اقرار کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ٹھہرے رہے اور آپ کی بات کو غور سے سنا ، پھر کہا کہ میں لشکر عثران ( یہ جاہلیت کی جنگ ہے ) میں حاضر تھا ، ( ابن مثنی کی روایت میں جیش عثران کے بجائے جیش غثران ہے ) تو طارق بن مرقع نے کہا : مجھے اس کے عوض میں نیزہ کون دیتا ہے ؟ میں نے پوچھا : اس کا عوض کیا ہو گا ؟ کہا : میری جو پہلی بیٹی ہو گی اس کے ساتھ اس کا نکاح کر دوں گا ، چنانچہ میں نے اپنا نیزہ اسے دے دیا اور غائب ہو گیا ، جب مجھے پتہ چلا کہ اس کی بیٹی ہو گئی اور جوان ہو گئی ہے تو میں اس کے پاس پہنچ گیا اور اس سے کہا کہ میری بیوی کو میرے ساتھ رخصت کرو تو وہ قسم کھا کر کہنے لگا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتا ، جب تک کہ میں اسے مہر جدید ادا نہ کر دوں اس عہد و پیمان کے علاوہ جو میرے اور اس کے درمیان ہوا تھا ، میں نے بھی قسم کھا لی کہ جو میں اسے دے چکا ہوں اس کے علاوہ کوئی اور مہر نہیں دے سکتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اب وہ کن عورتوں کی عمر میں ہے ( یعنی اس کی عمر اس وقت کیا ہے ) “ ، اس نے کہا : وہ بڑھاپے کو پہنچ گئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری رائے ہے کہ تم اسے جانے دو “ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بات نے مجھے گھبرا دیا میں آپ کی جانب دیکھنے لگا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری جب یہ حالت دیکھی تو فرمایا : ” ( گھبراؤ مت ) نہ تم گنہگار ہو گے اور نہ ہی تمہارا ساتھی ۲؎ گنہگار ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : روایت میں وارد لفظ «قتیر» کا مطلب بڑھاپا ہے ۔
Ibrahim bin Maisarah reported from his maternal aunt who reported on the authority of a woman called Mussaddaqah (a truthful woman). She said “In pre Islamic days, when my father participated in a battle the feet of the people burnt due to intense heat. Thereupon a man said “Who gives me his shoes, I shall marry him to my first daughter born to me. My father took off his shoes and there them before him. A girl was thereafter born to him and came of age.” The narrator then mentioned a similar story. But he did not mention that she had grown old.
ابراہیم بن میسرہ کی روایت ہے کہ
ایک عورت جو نہایت سچی تھی ، کہتی ہے : میرے والد زمانہ جاہلیت میں ایک غزوہ میں تھے کہ ( تپتی زمین سے ) لوگوں کے پیر جلنے لگے ، ایک شخص بولا : کوئی ہے جو مجھے اپنی جوتیاں دیدے ؟ اس کے عوض میں پہلی لڑکی جو میرے یہاں ہو گی اس سے اس کا نکاح کر دوں گا ، میرے والد نے جوتیاں نکالیں اور اس کے سامنے ڈال دیں ، اس کے یہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی اور پھر وہ بالغ ہو گئی ، پھر اسی جیسا قصہ بیان کیا لیکن اس میں «قتیر» کا واقعہ مذکور نہیں ہے ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ - رضى الله عنها - عَنْ صَدَاقِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ ثِنْتَا عَشْرَةَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ . فَقُلْتُ وَمَا نَشٌّ قَالَتْ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ .
Abu Salamah said “I asked A’ishah about the dower given by the Apostle of Allaah(ﷺ). She said “It was twelve Uqiyahs and a nashsh”. I asked “What is nashsh?” She said it is half an uqiyah.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( کی ازواج مطہرات ) کے مہر کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا ۱؎ ، میں نے کہا : نش کیا ہے ؟ فرمایا : آدھا اوقیہ ۲؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَالَ أَلاَ لاَ تُغَالُوا بِصُدُقِ النِّسَاءِ فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ مَكْرُمَةً فِي الدُّنْيَا أَوْ تَقْوَى عِنْدَ اللَّهِ لَكَانَ أَوْلاَكُمْ بِهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَلاَ أُصْدِقَتِ امْرَأَةٌ مِنْ بَنَاتِهِ أَكْثَرَ مِنْ ثِنْتَىْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً .
AbulAjfa' as-Sulami said:
Umar (Allah be pleased with him) delivered a speech to us and said: Do not go to extremes in giving women their dower, for if it represented honour in this world and piety in Allah's sight, the one of you most entitled to do so would have been the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) did not marry any of his wives or gave any of his daughters in marriage for more than twelve uqiyahs.
ابوعجفاء سلمی کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے ، اللہ ان پر رحم کرے ، ہمیں خطاب فرمایا اور کہا : خبردار ! عورتوں کے مہر بڑھا چڑھا کر مت باندھو اس لیے کہ اگر یہ ( مہر کی زیادتی ) دنیا میں باعث شرف اور اللہ کے یہاں تقویٰ اور پرہیزگاری کا ذریعہ ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ حقدار تھے ، آپ نے تو اپنی کسی بھی بیوی اور بیٹی کا بارہ اوقیہ ( چار سو اسی درہم ) سے زیادہ مہر نہیں رکھا ۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ فَمَاتَ بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ فَزَوَّجَهَا النَّجَاشِيُّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَمْهَرَهَا عنه أَرْبَعَةَ آلاَفٍ وَبَعَثَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَعَ شُرَحْبِيلَ ابْنِ حَسَنَةَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ حَسَنَةُ هِيَ أُمُّهُ .
Urwah reported on the authority of Umm Habibah that she was married to Abdullah ibn Jahsh who died in Abyssinia, so the Negus married her to the Prophet (ﷺ) giving her on his behalf a dower of four thousand (dirhams). He sent her to the Messenger of Allah (ﷺ) with Shurahbil ibn Hasanah. AbuDawud said:
Hasanah is his mother.
ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
وہ عبیداللہ بن حجش کے نکاح میں تھیں ، حبشہ میں ان کا انتقال ہو گیا تو نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ان کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دیا ، اور آپ کی جانب سے انہیں چار ہزار ( درہم ) مہر دے کر شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس روانہ کر دیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حسنہ شرحبیل کی والدہ ۲؎ ہیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ، زَوَّجَ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ أَبِي سُفْيَانَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى صَدَاقٍ أَرْبَعَةِ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَكَتَبَ بِذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَبِلَ .
Az-Zuhri said:
The Negus married Umm Habibah daughter of Abu Sufyan to the Messenger of Allah (ﷺ) for a dower of four thousand dirhams. He wrote it to the Messenger of Allah (ﷺ) who accepted it.
ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ
نجاشی ( شاہ حبشہ ) نے ام حبیبہ بنت ابی سفیان رضی اللہ عنہما کا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چار ہزار درہم کے عوض کر دیا اور یہ بات آپ کو لکھ بھیجی تو آپ نے قبول فرما لیا ۔
Chapter 696: Regarding A Small Dowry - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، وَحُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ وَعَلَيْهِ رَدْعُ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَهْيَمْ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً . قَالَ " مَا أَصْدَقْتَهَا " . قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ . قَالَ " أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ " .
Narrated Anas:
The Messenger of Allah (ﷺ) saw the trace of yellow on 'Abd al-Rahman b. 'Awf. The Prophet (ﷺ) said: What is this ? He replied: Messenger of Allah, I have married a woman. He asked: How much dower did you give her ? He said: A nawat weight of gold. He said: Hold a wedding feast, even if only with a sheep.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے جسم پر زعفران کا اثر دیکھا تو پوچھا : ” یہ کیا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے ایک عورت سے شادی کر لی ہے ، پوچھا : ” اسے کتنا مہر دیا ہے ؟ “ جواب دیا : گٹھلی ( نواۃ ۱؎ ) کے برابر سونا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولیمہ کرو چاہے ایک بکری سے ہی کیوں نہ ہو ۲؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone gives as a dower to his wife two handfuls of flour or dates he has made her lawful for him.
AbuDawud said: This tradition has been narrated by Abdur Rahman ibn Mahdi, from Salih ibn Ruman, from Abu al-Zubayr on the authority of Jabir as his own statement (not going back to the Prophet). It has also been transmitted by AbuAsim from Salih ibn Ruman , from AbuzZubayr on the authority of Jabir who said: During the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) we used to contract temporary marriage for a handful of grain.
Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Ibn Juraij from Abu al-Zubair on the authority of Jabir similar to the one narrated by Abu 'Asim.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے ( اس عورت کو اپنے لیے ) حلال کر لیا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے ، صالح نے ابو الزبیر سے ، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے ۔
Chapter 697: On The Dowry Being Some Actions That He Must Perform - كتاب النكاح
حَدَّثَنِي الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ . فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلاً فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَىْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ " . فَقَالَ مَا عِنْدِي إِلاَّ إِزَارِي هَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكَ إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِزَارَكَ جَلَسْتَ وَلاَ إِزَارَ لَكَ فَالْتَمِسْ شَيْئًا " . قَالَ لاَ أَجِدُ شَيْئًا . قَالَ " فَالْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ " . فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَهَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَىْءٌ " . قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا . لِسُوَرٍ سَمَّاهَا . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ " .
Narrated Sahl b. Sa'd al-Sa'idi :
A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have offered myself to you. When she stood for a long time, a man got up and said: Messenger of Allah, marry her to me if you have no need for her. The Messenger of Allah (ﷺ) asked: Have you anything to give her as dower ? He replied: I have nothing by this lower garment of mine. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If you give your lower garment, you will sit while you have no lower garment. So look for something else. He said: I do not find anything. He said: Look for something, even though it should be an iron ring. The man sought it but found nothing. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do you know anything from the Qur'an ? He said: Yes, I know surah so and so, which he named. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I have given you her in marriage for the part of the Qur'an which you know.
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنے آپ کو آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے ، پھر وہ کافی دیر کھڑی رہی ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اگر آپ کو حاجت نہیں تو اس سے میرا نکاح کرا دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اسے مہر میں ادا کرنے کے لیے کچھ ہے ؟ “ وہ بولا : میرے اس تہبند کے علاوہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اپنا ازار اسے ( مہر میں ) دے دو گے تو تمہارے پاس تو ازار بھی نہیں رہے گا ، لہٰذا کوئی اور چیز تلاش کرو “ ، وہ بولا : اور تو کچھ بھی نہیں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تلاش کرو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو “ ، تو اس نے تلاش کیا لیکن اسے کچھ نہ ملا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” کیا تجھے کچھ قرآن یاد ہے ؟ “ کہنے لگا : ہاں فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں ، ان کا نام لے کر اس نے بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” جو کچھ تجھے قرآن یاد ہے اسی کے ( یاد کرانے کے ) بدلے میں نے اس کے ساتھ تیرا نکاح کر دیا ۱؎ “ ۔
A tradition similar to the one narrated above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version does not mention the lower garment and iron ring. He (the Prophet) said:
How much do you memorize from Qur'an? He said: Surat al-Baqarah or the one that follows it. He said: Stand up and teach her twenty verses: she is your wife.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی واقعہ کی طرح مروی ہے
لیکن اس میں تہبند اور انگوٹھی کا ذکر نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تجھے قرآن میں سے کیا یاد ہے ؟ “ جواب دیا : سورۃ البقرہ یا اس کے بعد والی سورت تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اسے بیس آیتیں سکھا دو اور وہ تمہاری بیوی ہے “ ۔
Masruq said on the authority of Abdullah ibn Mas'ud: Abdullah (ibn Mas'ud ) was asked about a man who had married a woman without cohabiting with her or fixing any dower for her till he died. Ibn Mas'ud said: She should receive the full dower (as given to women of her class), observe the waiting period ('Iddah), and have her share of inheritance. Thereupon Ma'qil ibn Sinan said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) giving the same decision regarding Birwa' daughter of Washiq (as the decision you have given).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے
جس نے کسی عورت سے نکاح کیا اور پھر اس سے ہمبستری کرنے سے پہلے اور اس کا مہر متعین کرنے سے پہلے وہ انتقال کر گیا تو انہوں نے کہا : اس عورت کو پورا مہر ملے گا اور اس پر عدت لازم ہو گی اور اسے میراث سے حصہ ملے گا ۔ اس پر معقل بن سنان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے بروع بنت واشق کے سلسلے میں اسی کا فیصلہ فرمایا ۔
Abdullah ibn Utbah ibn Mas'ud said: Abdullah ibn Mas'ud was informed of this story of a man. The people continued to visit him for a month or visited him many times (the narrator was not sure).
He said: In this matter I hold the opinion that she should receive the type of dower given to women of her class with no diminution or excess, observe the waiting period ('iddah) and have her share of inheritance. If it is erroneous, that is from me and from Satan. Allah and His Apostle are free from its responsibility. Some people from Ashja' got up; among them were al-Jarrah and AbuSinan.
They said: Ibn Mas'ud, we bear witness that the Messenger of Allah (ﷺ) gave a decision for us regarding Birwa', daughter of Washiq, to the same effect as the decision you have given. Her husband was Hilal ibn Murrah al-Ashja'i. Thereupon Abdullah ibn Mas'ud was very pleased when his decision agreed with the decision of the Messenger of Allah (ﷺ).
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کا یہی مسئلہ پیش کیا گیا ، راوی کا بیان ہے کہ لوگوں کی اس سلسلہ میں مہینہ بھر یا کہا کئی بار آپ کے پاس آمدورفت رہی ، انہوں نے کہا : اس سلسلے میں میرا فیصلہ یہی ہے کہ بلا کم و کاست اسے اپنی قوم کی عورتوں کی طرح مہر ملے گا ، وہ میراث کی حقدار ہو گی اور اس پر عدت بھی ہو گی ، اگر میرا فیصلہ درست ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے ، اگر غلط ہے تو میری جانب سے اور شیطان کی طرف سے ہے ، اللہ اور اللہ کے رسول اس سے بری ہیں ، چنانچہ قبیلہ اشجع کے کچھ لوگ جن میں جراح و ابوسنان بھی تھے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے : ابن مسعود ! ہم گواہ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں بروع بنت واشق - جن کے شوہر ہلال بن مرہ اشجعی ہیں ، کے سلسلہ میں ایسا ہی فیصلہ کیا تھا جو آپ نے کیا ہے ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو جب ان کا فیصلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے موافق ہو گیا تو بڑی خوشی ہوئی ۔
The Prophet (ﷺ) said to a man: Would you like me to marry you to so-and-so?
He said: Yes. He also said to the woman: Would you like me to marry you to so-and-so?
She said: Yes. He then married one to the other. The man had sexual intercourse with her, but he did not fix any dower for her, nor did he give anything to her. He was one of those who participated in the expedition to al-Hudaybiyyah. One part of the expedition to al-Hudaybiyyah had a share in Khaybar.
When he was nearing his death, he said: The Messenger of Allah (ﷺ) married me to so-and-so, and I did not fix a dower for her, nor did I give anything to her. I call upon you as witness that I have given my share in Khaybar as her dower. So she took the share and sold it for one lakh (of dirhams).
Abu Dawud said: The version of 'Umar b. al-Khattab added in the beginning of this tradition, and his version is more perfect. He reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The best marriage is the one that is most easy. The Messenger of Allah (ﷺ) said to the man. The narrator then transmitted the rest of the tradition to the same effect.
Abu Dawud said: I am afraid this tradition has been added later on, for the matter is otherwise.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، پھر عورت سے کہا : ” کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں ؟ “ اس نے بھی جواب دیا : ہاں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا ، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی ، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا ، جب اس کی وفات کا وقت ہوا تو کہنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت سے میرا نکاح کرایا تھا ، لیکن میں نے نہ تو اس کا مہر مقرر کیا اور نہ اسے کچھ دیا ، لہٰذا میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنا خیبر سے ملنے والا حصہ اس کے مہر میں دے دیا ، چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لے کر ایک لاکھ میں فروخت کیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث کے شروع میں ان الفاظ کا اضافہ کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہتر نکاح وہ ہے جو سب سے آسان ہو “ اور ان کی حدیث سب سے زیادہ کامل ہے اور اس میں «إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم قال للرجل» کے بجائے «قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم للرجل» ہے پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اندیشہ ہے کہ یہ حدیث الحاقی ہو کیونکہ معاملہ اس کے برعکس ہے ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) taught us the address in case of some need:
Praise be to Allah from Whom we ask help and pardon, and in Whom we take refuge from the evils within ourselves. He whom Allah guides has no one who can lead him astray, and he whom He leads astray has no one to guide him. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is His servant and Apostle.
"You who believe,...fear Allah by Whom you ask your mutual rights, and reverence the wombs. Allah has been watching you." ..."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims" ...."you who believe, fear Allah as He should be feared, and die only as Muslims"....."you who believe, fear Allah and say what is true. He will make your deeds sound, and forgive your sins. He who obeys Allah and His Apostle has achieved a mighty success."
The narrator, Muhammad ibn Sulayman, did mention the word "inna" (verily).
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا : «إن الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ به من شرور أنفسنا من يهد الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله» «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله الذي تساءلون به والأرحام إن الله كان عليكم رقيبا» ” اے ایمان والو ! اس اللہ سے ڈرو جس کے نام پر ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور رشتے ناتے توڑنے سے بھی بچو بیشک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہے “ ( سورۃ النساء : ۱ ) «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله حق تقاته ولا تموتن إلا وأنتم مسلمون» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مسلمان ہی رہ کر مرو “ ( سورۃ آل عمران : ۱۰۲ ) ۔ «يا أيها الذين آمنوا اتقوا الله وقولوا قولا سديدا * يصلح لكم أعمالكم ويغفر لكم ذنوبكم ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما» ” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور نپی تلی بات کہو اللہ تعالیٰ تمہارے کام سنوار دے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی تابعداری کرے گا اس نے بڑی مراد پالی “ ( سورۃ الاحزاب : ۷۱ ، ۷۰ ) ، محمد بن سلیمان کی روایت میں «إن» نہیں ہے ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) recited the tashahhud....He then narrated the same tradition. In this version after the word "and His Apostle" he added the words: "He has sent him in truth as a bearer of glad tidings and a warner before the Hour. He who obeys Allah and His Prophet is on the right path, and he who disobeys them does not harm anyone except himself, and he does not harm Allah to the least.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے ، پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی لیکن اس میں «ورسوله» کے بعد یہ الفاظ زائد ہیں : «أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدى الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا» ” اللہ نے آپ کو حق کے ساتھ قیامت سے پہلے خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ، جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی فرمابرداری کرے گا ، وہ ہدایت پا چکا ، اور جو ان کی نافرمانی کرے گا تو وہ اللہ کا کچھ نہ بگاڑے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو نقصان پہنچائے گا “ ۔
On the authority of a man from Banu Sulaim: I asked the Prophet (ﷺ) to marry Umamah daughter of 'Abd al-Muttalib to me. So he married her to me without reciting the tashahhud (i.e. the sermon for marriage).
بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں
میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا ۔