Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 12

Marriage (Kitab Al-Nikah)

كتاب النكاح

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 129 hadiths in this chapter

Hadith 2146
Chapter 709: Regarding Hitting Women - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي خَلَفٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، - قَالَ ابْنُ السَّرْحِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ذَئِرْنَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ ‏.‏ فَرَخَّصَ فِي ضَرْبِهِنَّ فَأَطَافَ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْكُونَ أَزْوَاجَهُنَّ لَيْسَ أُولَئِكَ بِخِيَارِكُمْ ‏"‏ ‏.‏

Iyas ibn Abdullah ibn Abu Dhubab reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:

Do not beat Allah's handmaidens, but when Umar came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Women have become emboldened towards their husbands, he (the Prophet) gave permission to beat them. Then many women came round the family of the Messenger of Allah (ﷺ) complaining against their husbands. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: Many women have gone round Muhammad's family complaining against their husbands. They (those husbands who take to beating their wives) are not the best among you.

ایاس بن عبداللہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی بندیوں کو نہ مارو “ ، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : ( آپ کے اس فرمان کے بعد ) عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مارنے اور تادیب کی رخصت دے دی ، پھر عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر ازواج مطہرات کے پاس پہنچنے لگیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بہت سی عورتیں اپنے شوہروں کی شکایتیں لے کر محمد کے گھر والوں کے پاس پہنچ رہی ہیں ، یہ ( مار پیٹ کرنے والے ) لوگ تم میں بہترین لوگ نہیں ہیں “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 101
Hadith 2147
Chapter 709: Regarding Hitting Women - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَا ضَرَبَ امْرَأَتَهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Umar ibn al-Khattab:

The Prophet (ﷺ) said: A man will not be asked as to why he beat his wife.

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی سے اپنی بیوی کو مارنے کے تعلق سے پوچھ تاچھ نہ ہو گی “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 102
Hadith 2148
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ ‏ "‏ اصْرِفْ بَصَرَكَ ‏"‏ ‏.‏

Jarir said I asked the Apostle of Allaah(ﷺ) about an accidental glance (on a woman). He (ﷺ) said “Turn your eyes away.”

جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اجنبی عورت پر ) اچانک نظر پڑ جانے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنی نظر پھیر لو ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 103
Hadith 2149
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْفَزَارِيُّ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الإِيَادِيِّ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِعَلِيٍّ ‏ "‏ يَا عَلِيُّ لاَ تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الآخِرَةُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Buraydah ibn al-Hasib:

The Prophet (ﷺ) said: to Ali: Do not give a second look, Ali, (because) while you are not to blame for the first, you have no right to the second.

بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : علی ! ( اجنبی عورت پر ) نگاہ پڑنے کے بعد دوبارہ نگاہ نہ ڈالو کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے جائز ہے ، دوسری جائز نہیں ۱؎ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 104
Hadith 2150
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏

Ibn Masu’d reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “ A woman should not rub her body directly with the body of another woman so that she describes it to her husband as if he were looking at her.”

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت عورت سے بدن نہ چپکائے وہ اپنے شوہر سے اس کے بارے میں اس طرح بیان کرے گویا اس کا شوہر اسے دیکھ رہا ہے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 105
Hadith 2151
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى امْرَأَةً فَدَخَلَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا ثُمَّ خَرَجَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ لَهُمْ ‏ "‏ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَمَنْ وَجَدَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّهُ يُضْمِرُ مَا فِي نَفْسِهِ ‏"‏ ‏.‏

Jabir said “The Prophet (ﷺ) saw a woman so he entered upon Zainab daughter of Jahsh and had intercourse with her. He (ﷺ) then came out and said to his companions and said to them “A woman advances in the form of a devil. When one of you finds that he should go to his wife (and have intercourse with her) for that will repel what he is feeling.

جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا تو ( اپنی بیوی ) زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور ان سے اپنی ضرورت پوری کی ، پھر صحابہ کرام کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا : ” عورت شیطان کی شکل میں نمودار ہوتی ہے ۱؎ ، تو جس کے ساتھ اس طرح کا واقعہ پیش آئے وہ اپنی بیوی کے پاس آ جائے ، کیونکہ یہ اس کے دل میں آنے والے احساسات کو ختم کر دے گا “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 106
Hadith 2152
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَشْبَهَ بِاللَّمَمِ مِمَّا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ ذَلِكَ لاَ مَحَالَةَ فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنَّى وَتَشْتَهِي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ وَيُكَذِّبُهُ ‏"‏ ‏.‏

Ibn ‘Abbas said “I did not see anything more resembling to minor sins than what Abu Hurairah reported from the Prophet (ﷺ) who said “Allaah has decreed for the children of Adam a share in adultery, he will get it by all means, the adultery of eyes is looking; the adultery of tongue is speaking; the soul desires and has a passion; the private parts confirms or falsifies it.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

میں نے ( قرآن میں وارد لفظ ) «لمم» ( چھوٹے گناہ ) کے مشابہ ان اعمال سے زیادہ کسی چیز کو نہیں پایا جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث میں مذکور ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے زنا کا جتنا حصہ ہر شخص کے لیے لکھ دیا ہے وہ اسے لازمی طور پر پا کر رہے گا ، چنانچہ آنکھوں کا زنا ( غیر محرم کو بنظر شہوت ) دیکھنا ہے زبان کا زنا ( غیر محرم سے شہوت کی ) بات کرنی ہے ، ( انسان کا ) نفس آرزو اور خواہش کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 107
Hadith 2153
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لِكُلِّ ابْنِ آدَمَ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا ‏"‏ ‏.‏ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ ‏"‏ وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْبَطْشُ وَالرِّجْلاَنِ تَزْنِيَانِ فَزِنَاهُمَا الْمَشْىُ وَالْفَمُ يَزْنِي فَزِنَاهُ الْقُبَلُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah reported the Prophet (ﷺ) as saying “ Every child of Adam has his share in adultery. He then narrated the rest of the tradition. This version goes “And the hands commit adultery; their adultery is catching; and the legs commit adultery; their adultery is walking; and the mouth commits adultery – its adultery is kissing.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر انسان کے لیے زنا کا حصہ متعین ہے ، ہاتھ زنا کرتے ہیں ، ان کا زنا پکڑنا ہے ، پیر زنا کرتے ہیں ان کا زنا چلنا ہے ، اور منہ زنا کرتا ہے اس کا زنا بوسہ لینا ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 108
Hadith 2154
Chapter 710: Regarding The Command To Lower The Gaze - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِهَذِهِ الْقِصَّةِ قَالَ ‏ "‏ وَالأُذُنُ زِنَاهَا الاِسْتِمَاعُ ‏"‏ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators. This version adds “The fornication of ear is hearing.”

اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ قصہ روایت کرتے ہیں اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا : ” اور کانوں کا زنا سننا ہے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 109
Hadith 2155
Chapter 711: Regarding Intercourse With Captives - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ أَبِي عَلْقَمَةَ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ يَوْمَ حُنَيْنٍ بَعْثًا إِلَى أَوْطَاسٍ فَلَقُوا عَدُوَّهُمْ فَقَاتَلُوهُمْ فَظَهَرُوا عَلَيْهِمْ وَأَصَابُوا لَهُمْ سَبَايَا فَكَأَنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحَرَّجُوا مِنْ غِشْيَانِهِنَّ مِنْ أَجْلِ أَزْوَاجِهِنَّ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي ذَلِكَ ‏{‏ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ‏}‏ أَىْ فَهُنَّ لَهُمْ حَلاَلٌ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهُنَّ ‏.‏

Abu Sa’id Al Khudri said “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent a military expedition to Awtas on the occasion of the battle of Hunain. They met their enemy and fought with them. They defeated them and took them captives. Some of the Companions of Apostle of Allaah (ﷺ) were reluctant to have relations with the female captives because of their pagan husbands. So, Allaah the exalted sent down the Qur’anic verse “And all married women (are forbidden) unto you save those (captives) whom your right hand posses.” This is to say that they are lawful for them when they complete their waiting period.

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن مقام اوطاس کی طرف ایک لشکر روانہ کیا تو وہ لشکر اپنے دشمنوں سے ملے ، ان سے جنگ کی ، اور جنگ میں ان پر غالب رہے ، اور انہیں قیدی عورتیں ہاتھ لگیں ، تو ان کے شوہروں کے مشرک ہونے کی وجہ سے بعض صحابہ کرام نے ان سے جماع کرنے میں حرج جانا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں یہ آیت نازل فرمائی : «والمحصنات من النساء إلا ما ملكت أيمانكم» ” اور ( حرام کی گئیں ) شوہر والی عورتیں مگر وہ جو تمہاری ملکیت میں آ جائیں “ ( سورۃ النساء : ۲۴ ) تو وہ ان کے لیے حلال ہیں جب ان کی عدت ختم ہو جائے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 110
Hadith 2156
Chapter 711: Regarding Intercourse With Captives - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى امْرَأَةً مُجِحًّا فَقَالَ ‏"‏ لَعَلَّ صَاحِبَهَا أَلَمَّ بِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَلْعَنَهُ لَعْنَةً تَدْخُلُ مَعَهُ فِي قَبْرِهِ كَيْفَ يُوَرِّثُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ وَكَيْفَ يَسْتَخْدِمُهُ وَهُوَ لاَ يَحِلُّ لَهُ ‏"‏ ‏.‏

Abu Al Darda said “The Apostle of Allaah(ﷺ) was in a battle. He saw a woman who was nearing the time when she was to deliver a child. “He said “Perhaps the master has intercourse with her.”. They(the people) said “Yes”. He said “I am inclined to invoke a curse on him which will enter his grave with him. How can he make it (the child) an heir when it is not lawful for him? How can he take it into his service when that is not lawful for him?”

ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوہ میں تھے کہ آپ کی نظر ایک حاملہ عورت پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے مالک نے شاید اس سے جماع کیا ہے “ ، لوگوں نے کہا : ہاں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے ارادہ کیا کہ میں اس پر ایسی لعنت کروں کہ وہ اس کی قبر میں اس کے ساتھ داخل ہو جائے ، بھلا کیونکر وہ اپنے لڑکے کو اپنا وارث بنائے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں ، وہ کیسے اس سے خدمت لے گا حالانکہ وہ اس کے لیے حلال نہیں “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 111
Hadith 2157
Chapter 711: Regarding Intercourse With Captives - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَرَفَعَهُ، أَنَّهُ قَالَ فِي سَبَايَا أَوْطَاسٍ ‏ "‏ لاَ تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ وَلاَ غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً ‏"‏ ‏.‏

Abu Sa’id Al Khudri traced to Prophet (ﷺ) the following statement regarding the captives taken at Atwas. There must be no intercourse with pregnant woman till she gives birth to her child or with the one who is not pregnant till she has had one menstrual period.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ اوطاس کی قیدی عورتوں کے متعلق فرمایا : ” کسی بھی حاملہ سے وضع حمل سے قبل جماع نہ کیا جائے اسی طرح کسی بھی غیر حاملہ سے جماع نہ کیا جائے ، یہاں تک کہ اسے ایک حیض آ جائے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 112
Hadith 2158
Chapter 711: Regarding Intercourse With Captives - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْ حَنَشٍ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ قَامَ فِينَا خَطِيبًا قَالَ أَمَا إِنِّي لاَ أَقُولُ لَكُمْ إِلاَّ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ ‏"‏ لاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَسْقِيَ مَاءَهُ زَرْعَ غَيْرِهِ ‏"‏ ‏.‏ يَعْنِي إِتْيَانَ الْحَبَالَى ‏"‏ وَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَقَعَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ السَّبْىِ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا وَلاَ يَحِلُّ لاِمْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ يَبِيعَ مَغْنَمًا حَتَّى يُقْسَمَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Ruwayfi' ibn Thabit al-Ansari:

Should I tell you what I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say on the day of Hunayn: It is not lawful for a man who believes in Allah and the last day to water what another has sown with his water (meaning intercourse with women who are pregnant); it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to have intercourse with a captive woman till she is free from a menstrual course; and it is not lawful for a man who believes in Allah and the Last Day to sell spoil till it is divided.

حنش صنعانی کہتے ہیں کہ

رویفع بن ثابت انصاری ہم میں بحیثیت خطیب کھڑے ہوئے اور کہا : سنو ! میں تم سے وہی کہوں گا جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ جنگ حنین کے دن فرما رہے تھے : ” اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے کسی بھی شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے سوا کسی اور کی کھیتی کو سیراب کرے “ ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب حاملہ لونڈی سے جماع کرنا تھا ) اور اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان لانے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی قیدی لونڈی سے جماع کرے یہاں تک کہ وہ استبراء رحم کر لے ، ( یعنی یہ جان لے کہ یہ عورت حاملہ نہیں ہے ) اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے شخص کے لیے حلال نہیں کہ مال غنیمت کے سامان کو بیچے یہاں تک کہ وہ تقسیم کر دیا جائے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 113
Hadith 2159
Chapter 711: Regarding Intercourse With Captives - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ‏"‏ حَتَّى يَسْتَبْرِئَهَا بِحَيْضَةٍ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ فِيهِ ‏{‏ بِحَيْضَةٍ وَهُوَ وَهَمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ صَحِيحٌ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ زَادَ ‏}‏ ‏"‏ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَرْكَبْ دَابَّةً مِنْ فَىْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَعْجَفَهَا رَدَّهَا فِيهِ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ فَلاَ يَلْبَسْ ثَوْبًا مِنْ فَىْءِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى إِذَا أَخْلَقَهُ رَدَّهُ فِيهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الْحَيْضَةُ لَيْسَتْ بِمَحْفُوظَةٍ وَهُوَ وَهَمٌ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ‏.‏

The aforesaid tradition has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators. This version has the traditional word “a menstrual course” in the phrase “till she is free from a menstrual course”. This is a misunderstanding on the part of the narrator Abu Mu’awiyah. This is correct in the tradition of Abu Sa’id Al Khudri. This version has the additional words “he who believes in Allaah and the Last Day should not ride on a mount belonging to the spoil of Muslims and when he makes it emaciated returns it; he who believes in Allaah and the Last Day should not put on cloth belonging to the spoils of Muslims and when makes it old (shabby) returns it. Abu Dawud said “The word “menstrual course” is not guarded. This is a misunderstanding on the part of Abu Mu’awiyah”

اس سند سے بھی ابن اسحاق سے یہی حدیث مروی ہے

اس میں ہے : ” یہاں تک کہ وہ ایک حیض کے ذریعہ استبراء رحم کر لے “ ، اس میں «بحيضة» کا اضافہ ہے ، اور یہ ابومعاویہ کا وہم ہے اور یہ ابوسعید رضی اللہ عنہ کی حدیث میں صحیح ہے ، اور اس روایت میں یہ بھی اضافہ ہے : ” اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کے جانور پر سواری نہ کرے کہ اسے دبلا کر کے واپس دے “ ، اور جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ مسلمانوں کے مال فیٔ کا کپڑا نہ پہنے کہ پرانا کر کے لوٹا دے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ حیض کا لفظ محفوظ نہیں ہے یہ ابومعاویہ کا وہم ہے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 114
Hadith 2160
Chapter 712: Regarding Intercourse - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، - يَعْنِي سُلَيْمَانَ بْنَ حَيَّانَ - عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ إِذَا تَزَوَّجَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً أَوِ اشْتَرَى خَادِمًا فَلْيَقُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ مَا جَبَلْتَهَا عَلَيْهِ وَإِذَا اشْتَرَى بَعِيرًا فَلْيَأْخُذْ بِذِرْوَةِ سَنَامِهِ وَلْيَقُلْ مِثْلَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ زَادَ أَبُو سَعِيدٍ ‏"‏ ثُمَّ لْيَأْخُذْ بِنَاصِيَتِهَا وَلْيَدْعُ بِالْبَرَكَةِ ‏"‏ ‏.‏ فِي الْمَرْأَةِ وَالْخَادِمِ ‏.‏

'Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-'As) reported the Prophet (ﷺ) said:

If one of you marries a woman or buys a slave, he should say: "O Allah, I ask You for the good in her, and in the disposition You have given her; I take refuge in You from the evil in her, and in the disposition You have given her." When he buys a camel, he should take hold of the top of its hump and say the same kind of thing. Abu Dawud said: Abu Sa'id added the following words in his version: He should then tale hold of her forelock and pray for blessing in the case of a woman or a slave.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی جب کسی عورت سے نکاح کرے یا کوئی خادم خریدے تو یہ دعا پڑھے : «اللهم إني أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها ومن شر ما جبلتها عليه» ” اے اللہ ! میں تجھ سے اس کی بھلائی اور اس کی جبلت اور اس کی طبیعت کا خواستگار ہوں ، جو خیر و بھلائی تو نے ودیعت کی ہے ، اس کے شر اور اس کی جبلت اور طبیعت میں تیری طرف سے ودیعت شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب کوئی اونٹ خریدے تو اس کے کوہان کی چوٹی پکڑ کر یہی دعا پڑھے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبداللہ سعید نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ” پھر اس کی پیشانی پکڑے اور عورت یا خادم میں برکت کی دعا کرے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 115
Hadith 2161
Chapter 712: Regarding Intercourse - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ أَهْلَهُ قَالَ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ جَنِّبْنَا الشَّيْطَانَ وَجَنِّبِ الشَّيْطَانَ مَا رَزَقْتَنَا ثُمَّ قُدِّرَ أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فِي ذَلِكَ لَمْ يَضُرَّهُ شَيْطَانٌ أَبَدًا ‏"‏ ‏.‏

Ibn ‘Abbas reported the Prophet (ﷺ) as saying “If anyone who means to have intercourse with his wife says “In the name of Allaah, O Allaah, keep us away from the devil and keep the devil away from what You hast provided us.” It will be ordained that no devil will ever harm the child born to them.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آنے کا ارادہ کرے اور یہ دعا پڑھے : «بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا» ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اے اللہ ہم کو شیطان سے بچا اور اس مباشرت سے جو اولاد ہو اس کو شیطان کے گزند سے محفوظ رکھ “ پھر اگر اس مباشرت سے بچہ ہونا قرار پا جائے تو اللہ تعالیٰ اس بچے پر شیطان کا زور نہ چلنے دے گا یا شیطان اسے کبھی نقصان نہ پہنچ اس کے گا “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 116
Hadith 2162
Chapter 712: Regarding Intercourse - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ مُخَلَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَلْعُونٌ مَنْ أَتَى امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

The Prophet (ﷺ) said: He who has intercourse with his wife through her anus is accursed.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اپنی بیوی کی دبر ( پاخانہ کے مقام ) میں صحبت کرے اس پر لعنت ہے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 117
Hadith 2163
Chapter 712: Regarding Intercourse - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ إِنَّ الْيَهُودَ يَقُولُونَ إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ فِي فَرْجِهَا مِنْ وَرَائِهَا كَانَ وَلَدُهُ أَحْوَلَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى ‏{‏ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ‏}‏ ‏.‏

Muhammad bin Al Munkadir said I heard Jabir say The Jews used to say “When a man has intercourse with his wife through the vagina, but being on her back the child will have a squint, so the verse came down. Your wives are a tilth to you, so come to your tilth however you will.”

محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ

میں نے جابر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یہود کہتے تھے کہ اگر آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ میں پیچھے سے صحبت کرے تو لڑکا بھینگا ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورۃ البقرہ : ۲۲۳ ) تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تو تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ ۱؎ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 118
Hadith 2164
Chapter 712: Regarding Intercourse - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى أَبُو الأَصْبَغِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ - وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ - أَوْهَمَ إِنَّمَا كَانَ هَذَا الْحَىُّ مِنَ الأَنْصَارِ - وَهُمْ أَهْلُ وَثَنٍ - مَعَ هَذَا الْحَىِّ مِنْ يَهُودَ - وَهُمْ أَهْلُ كِتَابٍ - وَكَانُوا يَرَوْنَ لَهُمْ فَضْلاً عَلَيْهِمْ فِي الْعِلْمِ فَكَانُوا يَقْتَدُونَ بِكَثِيرٍ مِنْ فِعْلِهِمْ وَكَانَ مِنْ أَمْرِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَنْ لاَ يَأْتُوا النِّسَاءَ إِلاَّ عَلَى حَرْفٍ وَذَلِكَ أَسْتَرُ مَا تَكُونُ الْمَرْأَةُ فَكَانَ هَذَا الْحَىُّ مِنَ الأَنْصَارِ قَدْ أَخَذُوا بِذَلِكَ مِنْ فِعْلِهِمْ وَكَانَ هَذَا الْحَىُّ مِنْ قُرَيْشٍ يَشْرَحُونَ النِّسَاءَ شَرْحًا مُنْكَرًا وَيَتَلَذَّذُونَ مِنْهُنَّ مُقْبِلاَتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ فَلَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ رَجُلٌ مِنْهُمُ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ فَذَهَبَ يَصْنَعُ بِهَا ذَلِكَ فَأَنْكَرَتْهُ عَلَيْهِ وَقَالَتْ إِنَّمَا كُنَّا نُؤْتَى عَلَى حَرْفٍ فَاصْنَعْ ذَلِكَ وَإِلاَّ فَاجْتَنِبْنِي حَتَّى شَرِيَ أَمْرُهُمَا فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ ‏}‏ أَىْ مُقْبِلاَتٍ وَمُدْبِرَاتٍ وَمُسْتَلْقِيَاتٍ يَعْنِي بِذَلِكَ مَوْضِعَ الْوَلَدِ ‏.‏

Narrated Abdullah Ibn Abbas:

Ibn Umar misunderstood (the Qur'anic verse, "So come to your tilth however you will")--may Allah forgive him. The fact is that this clan of the Ansar, who were idolaters, lived in the company of the Jews who were the people of the Book. They (the Ansar) accepted their superiority over themselves in respect of knowledge, and they followed most of their actions. The people of the Book (i.e. the Jews) used to have intercourse with their women on one side alone (i.e. lying on their backs). This was the most concealing position for (the vagina of) the women. This clan of the Ansar adopted this practice from them. But this tribe of the Quraysh used to uncover their women completely, and seek pleasure with them from in front and behind and laying them on their backs. When the muhajirun (the immigrants) came to Medina, a man married a woman of the Ansar. He began to do the same kind of action with her, but she disliked it, and said to him: We were approached on one side (i.e. lying on the back); do it so, otherwise keep away from me. This matter of theirs spread widely, and it reached the Messenger of Allah (ﷺ). So Allah, the Exalted, sent down the Qur'anic verse: "Your wives are a tilth to you, so come to your tilth however you will," i.e. from in front, from behind or lying on the back. But this verse meant the place of the delivery of the child, i.e. the vagina.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بخشے ان کو «أنى شئتم» کے لفظ سے وہم ہو گیا تھا ، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود ( جو کہ اہل کتاب ہیں کے ) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے ، اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے ، اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے ، اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی ، چنانچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کر دیتے تھے اور آگے سے ، پیچھے سے ، اور چت لٹا کر ہر طرح سے لطف اندوز ہوتے تھے ، مہاجرین کی جب مدینہ میں آمد ہوئی تو ان میں سے ایک شخص نے انصار کی ایک عورت سے شادی کی اور اس کے ساتھ وہی طریقہ اختیار کرنے لگا اس پر عورت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے یہاں تو ایک ہی ( مشہور ) آسن رائج ہے ، لہٰذا یا تو اس طرح کرو ، ورنہ مجھ سے دور رہو ، جب اس بات کا چرچا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی خبر لگ گئی چنانچہ اللہ عزوجل نے یہ آیت «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» نازل فرمائی یعنی آگے سے پیچھے سے ، اور چت لٹا کر اس سے مراد لڑکا پیدا ہونے کی جگہ ہے یعنی شرمگاہ میں جماع ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 119
Hadith 2165
Chapter 713: Regarding Menstruating Women And Embracing Them - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ الْيَهُودَ، كَانَتْ إِذَا حَاضَتْ مِنْهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبَيْتِ وَلَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبَيْتِ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَلِكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏ يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ جَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ وَاصْنَعُوا كُلَّ شَىْءٍ غَيْرَ النِّكَاحِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتِ الْيَهُودُ مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلاَّ خَالَفَنَا فِيهِ ‏.‏ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالاَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا أَفَلاَ نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ فَتَمَعَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجِدَ عَلَيْهِمَا فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَعَثَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا ‏.‏

Anas bin Malik said Among the Jews when a woman menstruated, they did not eat with her and drink with her and did not associate with her in their houses, so the Apostle of Allaah(ﷺ) was questioned about it. Hence, Allah the Exalted revealed “And they ask you about menstruation,. Say “It is harmful, so keep aloof from women during menstruation till the end of the verse. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Associate with them in the houses and do everything except sexual intercourse. The Jews thereupon said “This man does not leave anything we do without opposing us in it. Usaid bin Hudair and Abbad bin Bishr came to the Apostle of Allaah(ﷺ) and said, Apostle of Allaah(ﷺ) the Jews are saying such and such. Shall we not have intercourse with them during their menstruation? The face of the Apostle of Allaah(ﷺ) underwent such a change that we thought he was angry with them, so they went out. They were met by a gift of milk which was being brought to the Apostle of Allaah(ﷺ) and he sent after them, whereby we felt that he was not angry with them.

انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

یہودیوں میں جب کوئی عورت حائضہ ہو جاتی تو اسے گھر سے نکال دیتے نہ اس کے ساتھ کھاتے پیتے اور نہ ہی اسے گھر میں رکھتے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں دریافت کیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «يسألونك عن المحيض قل هو أذى فاعتزلوا النساء في المحيض» ” لوگ آپ سے حیض کے متعلق سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئیے کہ وہ گندگی ہے لہٰذا تم حیض کی حالت میں عورتوں سے علیحدہ رہو “ ( سورۃ البقرہ : ۲۲۲ ) ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ : ” انہیں گھروں میں رکھو اور جماع کے علاوہ ہر کام کرو “ ، اس پر یہودیوں نے کہا کہ : یہ شخص تو ہمارے ہر کام کی مخالفت کرتا ہے ، چنانچہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! یہودی ایسا ایسا کہہ رہے ہیں ، تو کیا ہم ( ان کی مخالفت میں ) عورتوں سے حالت حیض میں جماع نہ کرنے لگیں ؟ یہ سن کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ، یہاں تک کہ ہمیں اپنے اوپر آپ کی ناراضگی کا گمان ہونے لگا چنانچہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے نکل آئے ، اسی اثناء میں آپ کے پاس دودھ کا ہدیہ آ گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا جس سے ہمیں لگا کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہیں ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 120
Hadith 2166
Chapter 713: Regarding Menstruating Women And Embracing Them - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ جَابِرِ بْنِ صُبْحٍ، قَالَ سَمِعْتُ خِلاَسًا الْهَجَرِيَّ، قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - تَقُولُ كُنْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ، صلى الله عليه وسلم نَبِيتُ فِي الشِّعَارِ الْوَاحِدِ وَأَنَا حَائِضٌ طَامِثٌ فَإِنْ أَصَابَهُ مِنِّي شَىْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَإِنْ أَصَابَ - تَعْنِي ثَوْبَهُ - مِنْهُ شَىْءٌ غَسَلَ مَكَانَهُ وَلَمْ يَعْدُهُ وَصَلَّى فِيهِ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

I and the Messenger of Allah (ﷺ) used to lie in one cloth at night while I was menstruating. If anything from me smeared him, he washed the same place (that was smeared), and did not wash beyond it. If anything from him smeared his clothe, he washed the same place and did not wash beyond that, and prayed with it (i.e. the clothe).

خلاس بن عمرو ہجری کہتے ہیں کہ

میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی کپڑے میں رات گزارتے اور میں حالت حیض میں ہوتی ، اگر کہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لگ جاتا تو صرف اس جگہ کو دھو لیتے اس سے آگے نہ بڑھتے ، اور کہیں کپڑے میں لگ جاتا تو صرف اتنی ہی جگہ دھو لیتے ، اس سے آگے نہ بڑھتے اور اسی کپڑے میں نماز پڑھتے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 121
Hadith 2167
Chapter 713: Regarding Menstruating Women And Embracing Them - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ خَالَتِهِ، مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ امْرَأَةً مِنْ نِسَائِهِ وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُهَا ‏.‏

Maimunah daughter of Al Harith said “When the Apostle of Allaah(ﷺ) intended to associate and lie with any of his wives who was menstruating, he ordered her to wrap up the lower garment(loin-cloth) and then he had association with her.

عبداللہ بن شداد اپنی خالہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی سے حالت حیض میں مباشرت کرنے کا ارادہ فرماتے تو اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 122
Hadith 2168
Chapter 714: Regarding The Penalty For The One Who Approaches His Wife While She Is Menstruating - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، - غَيْرُهُ عَنْ سَعِيدٍ، - حَدَّثَنِي الْحَكَمُ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ ‏ "‏ يَتَصَدَّقُ بِدِينَارٍ أَوْ بِنِصْفِ دِينَارٍ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) said about a man who has sexual intercourse with a menstruating woman: He should give one or half dinar as sadaqah.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں صحبت کر بیٹھتا ہے فرمایا : ” وہ ایک یا آدھا دینار ( بطور کفارہ ) صدقہ ادا کرے “ ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 123
Hadith 2169
Chapter 714: Regarding The Penalty For The One Who Approaches His Wife While She Is Menstruating - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ مُطَهَّرٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، - يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ - عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْحَسَنِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ إِذَا أَصَابَهَا فِي الدَّمِ فَدِينَارٌ وَإِذَا أَصَابَهَا فِي انْقِطَاعِ الدَّمِ فَنِصْفُ دِينَارٍ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

If a man has sexual intercourse (with menstruating woman) during her bleeding, he should give one dinar as sadaqah, and if he does so when bleeding has stopped, he should give half a dinar as sadaqah.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

اگر دوران خون صحبت کی تو ایک دینار ، اور خون بند ہو جانے پر صحبت کی تو آدھا دینار ( کفارہ ) ہے ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 124
Hadith 2170
Chapter 715: Regarding 'Azl (Withdrawing Before Ejaculation) - كتاب النكاح

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ قَزَعَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، ذُكِرَ ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - يَعْنِي الْعَزْلَ - قَالَ ‏"‏ فَلِمَ يَفْعَلُ أَحَدُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَقُلْ فَلاَ يَفْعَلْ أَحَدُكُمْ ‏"‏ فَإِنَّهُ لَيْسَتْ مِنْ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ إِلاَّ اللَّهُ خَالِقُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَزَعَةُ مَوْلَى زِيَادٍ ‏.‏

Abu Sa’id reported “The people mentioned about withdrawing the penis before the Prophet (ﷺ). He said “Why one of you does so? He did not say “One of you should not do so”. Every soul that is to be born, Allaah will create it. Abu Dawud said “Qaza’ah is a client of Ziyad”

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عزل ۱؎ کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایسا کیوں کرتا ہے ؟ ( یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ وہ ایسا نہ کرے ) ، کیونکہ اللہ تعالیٰ جس نفس کو پیدا کرنا چاہتا ہے تو وہ اسے پیدا کر کے ہی رہے گا ۲؎ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : قزعہ ، زیاد کے غلام ہیں ۔

In-book reference : Book 12, Hadith 125
Page 5 of 6

Showing 25 hadiths on this page (Total: 129 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 5 of 6 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00