The Prophet (ﷺ) entered al-Ji'ranah. He came to the mosque (there) and prayed as long as Allah desired; he then wore ihram. Then he rode his camel and faced Batn Sarif till he reached the way which leads to Medina. He returned from Mecca (at night to al-Ji'ranah) as if he had passed the night at Mecca.
محرش کعبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں داخل ہوئے تو مسجد آئے اور وہاں اللہ نے جتنی چاہا نماز پڑھی ، پھر احرام باندھا ، پھر اپنی سواری پر جم کر بیٹھ گئے اور وادی سرف کی طرف بڑھے یہاں تک کہ مدینہ کے راستہ سے جا ملے ، پھر آپ نے صبح مکہ میں اس طرح کی جیسے کوئی رات کو مکہ میں رہا ہو ۔
Chapter 650: Tawaf Of Al-Ifadah In Hajj - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَفَاضَ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ بِمِنًى يَعْنِي رَاجِعًا .
Narrated Ibn 'Umar:
The Prophet (ﷺ) performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah) on the day of the sacrifice ; he then offered the noon prayer at Mina when he returned.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر کو طواف افاضہ کیا پھر منی میں ظہر ادا کی یعنی ( طواف سے ) لوٹ کر ۔
The night which the Messenger of Allah (ﷺ) passed with me was the one that followed the day of sacrifice. He came to me and Wahb ibn Zam'ah also visited me. A man belonging to the lineage of AbuUmayyah accompanied him. Both of them were wearing shirts.
The Messenger of Allah (ﷺ) said to Wahb: Did you perform the obligatory circumambulation (Tawaf az-Ziyarah), AbuAbdullah?
He said: No, by Allah Messenger of Allah.
He (the Prophet) said: Take off your shirt. He then took it off over his head, and his companion too took his shirt off over his head.
He then asked: And why (this), Messenger of Allah? He replied: On this day you have been allowed to take off ihram when you have thrown the stones at the jamrahs, that is, everything prohibited during the state of ihram is lawful except intercourse with a woman. If the evening comes before you go round this House (the Ka'bah) you will remain in the sacred state (i.e. ihram), just like the state in which you were before you threw stones at the jamrahs, until you perform the circumambulation of it (i.e. the Ka'bah).
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میری وہ رات جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے یوم النحر کی شام تھی ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ، اتنے میں وہب بن زمعہ اور ان کے ساتھ ابوامیہ کی اولاد کا ایک شخص دونوں قمیص پہنے میرے یہاں آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہب سے پوچھا : ” ابوعبداللہ ! کیا تم نے طواف افاضہ کر لیا ؟ “ وہ بولے : قسم اللہ کی ! نہیں اللہ کے رسول ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو پھر اپنی قمیص اتار دو “ ، چنانچہ انہوں نے اپنی قمیص اپنے سر سے اتار دی اور ان کے ساتھی نے بھی اپنے سر سے اپنی قمیص اتار دی پھر بولے : اللہ کے رسول ! ایسا کیوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ وہ دن ہے کہ جب تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تمہارے لیے وہ تمام چیزیں حلال ہو جائیں گی جو تمہارے لیے حالت احرام میں حرام تھیں سوائے عورتوں کے ، پھر جب شام کر لو اور بیت اللہ کا طواف نہ کر سکو تو تمہارا احرام باقی رہے گا ، اسی طرح جیسے رمی جمرات سے پہلے تھا یہاں تک کہ تم اس کا طواف کر لو “ ۔
Chapter 651: Departing (From Makkah) - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ الأَحْوَلِ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ النَّاسُ يَنْصَرِفُونَ فِي كُلِّ وَجْهٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لاَ يَنْفِرَنَّ أَحَدٌ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَهْدِهِ الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ " .
Narrated Ibn 'Abbas:
The people used to go out (from Mecca after Hajj) by all sides. The Prophet (ﷺ) said: No one should leave (Mecca) until he performs the last circumambulation of the House (the Ka'bah).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگ ہر جانب سے ( مکہ سے ) لوٹتے تھے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی بھی مکہ سے کوچ نہ کرے یہاں تک کہ اس کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ( طواف وداع ) ہو ۱؎ “ ۔
Chapter 652: The Menstruating Woman Who Leaves After (The Tawaf Of) Al-Ifadah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَىٍّ فَقِيلَ إِنَّهَا قَدْ حَاضَتْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَعَلَّهَا حَابِسَتُنَا " . فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ أَفَاضَتْ . فَقَالَ " فَلاَ إِذًا " .
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned about Safiyyah, daughter of Huyayy. He was told that she had menstruated. The Messenger of Allah (ﷺ) said: She may probably detain us. They (the people) said: She has performed the obligatory circumambulation (Tawaf al-Ziyarah). He said: If so, there is no need (of staying any longer).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ بنت حیي رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا تو لوگوں نے عرض کیا : انہیں حیض آ گیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لگتا ہے وہ ہم کو روک لیں گی “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہ طواف افاضہ کر چکی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر تو کوئی بات نہیں “ ۔
Chapter 652: The Menstruating Woman Who Leaves After (The Tawaf Of) Al-Ifadah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ، تَطُوفُ بِالْبَيْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ تَحِيضُ قَالَ لِيَكُنْ آخِرُ عَهْدِهَا بِالْبَيْتِ . قَالَ فَقَالَ الْحَارِثُ كَذَلِكَ أَفْتَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ فَقَالَ عُمَرُ أَرِبْتَ عَنْ يَدَيْكَ سَأَلْتَنِي عَنْ شَىْءٍ سَأَلْتَ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِكَيْمَا أُخَالِفَ .
Al-Harith ibn Abdullah ibn Aws said:
I came to Umar ibn al-Khattab and asked him about a woman who has performed the (obligatory) circumambulation on the day of sacrifice, and then she menstruates. He said: She must perform the last circumambulation of the House (the Ka'bah). Al-Harith said: The Messenger of Allah (ﷺ) told me the same thing. Umar said: May your hands fall down! You asked me about a thing that you had asked the Messenger of Allah (ﷺ) so that I might oppose him.
حارث بن عبداللہ بن اوس کہتے ہیں کہ
میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے اس عورت کے متعلق پوچھا جو یوم النحر کو بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کر چکی ہو ، پھر اسے حیض آ گیا ہو ؟ انہوں نے کہا : وہ آخری طواف ( طواف وداع ) کر کے جائے ( یعنی : طواف وداع کا انتظار کرے ) ، حارث نے کہا : اسی طرح مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بتایا تھا ، اس پر عمر نے کہا تیرے دونوں ہاتھ گر جائیں ۱؎ ! تم نے مجھ سے ایسی بات پوچھی جسے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ چکے تھے تاکہ میں اس کے خلاف بیان کروں ۔
Chapter 653: Regarding The Farewell Tawaf - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَفْلَحَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ أَحْرَمْتُ مِنَ التَّنْعِيمِ بِعُمْرَةٍ فَدَخَلْتُ فَقَضَيْتُ عُمْرَتِي وَانْتَظَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالأَبْطَحِ حَتَّى فَرَغْتُ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالرَّحِيلِ . قَالَتْ وَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْبَيْتَ فَطَافَ بِهِ ثُمَّ خَرَجَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
I put on ihram for umrah at at-Tan'im and I entered (Mecca) and performed my umrah as an atonement. The Messenger of Allah (ﷺ) waited for me at al-Abtah till I finished it. He commanded the people to depart. The Messenger of Allah (ﷺ) came to the House (the Ka'bah), went round it and went out (i.e. left for Medina).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا پھر میں ( مکہ ) گئی اور اپنا عمرہ پورا کیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابطح ۱؎ میں میرا انتظار کیا یہاں تک کہ میں فارغ ہو کر ( آپ کے پاس واپس آ گئی ) تو آپ نے لوگوں کو روانگی کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ آئے اور اس کا طواف کیا پھر روانہ ہوئے ۔
I went out along with the Prophet (ﷺ) during his last march, and he alighted at al-Muhassab.
Abu Dawud said: Ibn Bashshar did not mention that she was sent to al-Tan'im in this tradition. She said: I then came to him in the morning. He announced to his companions for departure, and he himself departed. He passed the house (the Ka'bah) before the dawn prayer, and went round it when he proceeded. He then went away facing Medina.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آخری دن کی روانگی میں نکلی تو آپ وادی محصب میں اترے ، ( ابوداؤد کہتے ہیں : ابن بشار نے اس حدیث میں ان کے تنعیم بھیجے جانے کا واقعہ ذکر نہیں کیا ) پھر میں صبح کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، تو آپ نے لوگوں میں روانگی کی منادی کرا دی ، پھر خود روانہ ہوئے تو فجر سے پہلے بیت اللہ سے گزرے اور نکلتے وقت اس کا طواف کیا ، پھر مدینہ کا رخ کر کے چل پڑے ۔
AbdurRahman reported on the authority of his mother: When the Messenger of Allah (ﷺ) passed any place from the house of Ya'la,--the narrator Ubaydullah forgot its name--he faced the House (the Ka'bah) and supplicated.
عبدالرحمٰن بن طارق اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یعلیٰ کے گھر کی جگہ سے آگے بڑھتے ( اس جگہ کا نام عبیداللہ بھول گئے ) تو بیت اللہ کی جانب رخ کرتے اور دعا مانگتے ۱؎ ۔
Chapter 654: Camping In The Valley Of Al-Muhassab - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمُحَصَّبَ لِيَكُونَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ وَلَيْسَ بِسُنَّةٍ فَمَنْ شَاءَ نَزَلَهُ وَمَنْ شَاءَ لَمْ يَنْزِلْهُ .
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) alighted at al-Muhassab so that it might be easier for him to proceed (to Medina). It is not a sunnah (i.e. a rite of Hajj). Anyone who desires may alight there, and anyone who does not want may not alight.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محصب میں صرف اس لیے اترے تاکہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے میں آسانی ہو ، یہ کوئی سنت نہیں ، لہٰذا جو چاہے وہاں اترے اور جو چاہے نہ اترے ۱؎ ۔
Chapter 654: Camping In The Valley Of Al-Muhassab - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْمَعْنَى، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ قَالَ أَبُو رَافِعٍ لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَنْزِلَهُ وَلَكِنْ ضَرَبْتُ قُبَّتَهُ فَنَزَلَهُ . قَالَ مُسَدَّدٌ وَكَانَ عَلَى ثَقَلِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ عُثْمَانُ يَعْنِي فِي الأَبْطَحِ .
Abu Rafi’ said The Apostle of Allaah(ﷺ) did not command me to align there. But when I pitched his tent there, he alighted. The narrator Musaddad said “He (Abu Rafi’) kept watch over the luggage of the Prophet(ﷺ). The narrator ‘Uthman said That is in Al Abtah.
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : مجھے آپ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں وہاں ( محصب میں ) اتروں ، میں نے وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیمہ نصب کیا تھا ، آپ وہاں اترے تھے ۔ مسدد کی روایت میں ہے ، وہ ( ابورافع ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسباب کے محافظ تھے اور عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں «يعني في الأبطح» کا اضافہ ہے ( مطلب یہ ہے کہ وہ ابطح میں محافظ تھے ) ۔
Usamah bin Zaid said I asked Apostle of Allaah(ﷺ) where will you encamp tomorrow? (This is asked on the occasion of his Hajj). He replied “Did ‘Aqil leave any house for us?” He again said “We shall encamp in the valley (Khaif) of Banu Kinanah where the Quraish took an oath upon disbelief, that is, Al Muhassab.” The oath was that Banu Kinanah concluded a pact with the Quraish against Banu Hashim “they would have no marital relationship with them, nor would give them accommodation nor would have any commercial ties with them.”
Al Zuhri said Al Khaif means valley.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کل حج میں کہاں اتریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا عقیل نے کوئی گھر ہمارے لیے ( مکہ میں ) چھوڑا ہے ؟ “ ، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم خیف بنو کنانہ میں اتریں گے جہاں قریش نے کفر پر عہد کیا تھا ( یعنی وادی محصب میں ) ۱؎ “ ، اور وہ یہ کہ بنو کنانہ نے قریش سے بنی ہاشم کے خلاف قسم کھائی تھی کہ وہ ان سے نہ شادی بیاہ کریں گے ، نہ خرید و فروخت ، اور نہ انہیں پناہ دیں گے ۔ زہری کہتے ہیں : خیف وادی کا نام ہے ۔
Abu Hurairah said “Apostle of Allaah(ﷺ) said when intended to march from Mina we shall encamp tomorrow. The narrator then narrated something similar (as a previous tradition but he did not mention the opening words, nor did he mention the words “Al Khaif, Al Wadi(Khaif means Valley).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب منیٰ سے کوچ کرنے کا قصد کیا تو فرمایا : ” ہم وہاں کل اتریں گے “ ۔ پھر راوی نے ویسا ہی بیان کیا ، اس روایت میں نہ تو حدیث کے شروع کے الفاظ ہیں ، اور نہ ہی یہ ذکر ہے کہ خیف وادی کا نام ہے ۔
Chapter 654: Camping In The Valley Of Al-Muhassab - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، كَانَ يَهْجَعُ هَجْعَةً بِالْبَطْحَاءِ ثُمَّ يَدْخُلُ مَكَّةَ وَيَزْعُمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi’ said “Ibn ‘Umar used to nap for a short while at Batha’ (i.e, Al Muhassab) and then enter Makkah.” He thought that Apostle of Allaah(ﷺ) used to do so.
نافع سے روایت ہے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما بطحاء میں نیند کی ایک جھپکی لے لیتے پھر مکہ میں داخل ہوتے اور بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
Ibn ‘Umar said “The Prophet(ﷺ) offered noon, afternoon, evening and night prayers at Al Batha(i.e, Al Muhassab). He then napped for a short while and then entered Makkah. Ibn ‘Umar also used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء بطحاء میں پڑھی پھر ایک نیند سوئے ، پھر مکہ میں داخل ہوئے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔
‘Abd Allaah bin ‘Amr bin Al ‘As said “The Apostle of Allaah(ﷺ) stopped during the Farewell Pilgrimage at Mina, as the people were to ask him(about the rites of Hajj). A man came and said Apostle of Allaah being ignorant, I shaved before sacrificing. The Apostle of Allaah(ﷺ) replied “Sacrifice, for no harm will come.” Another man came and said “Apostle of Allaah(ﷺ), being ignorant, I sacrificed before throwing the pebbles.” He replied “Throw them for no harm will come.” He (the Prophet) was not asked about anything which had been done before or after its proper time without saying “Do it, for no harm will come.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں منیٰ میں ٹھہرے ، لوگ آپ سے سوالات کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ تھا میں نے ذبح کرنے سے پہلے سر منڈا لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ذبح کر لو کوئی حرج نہیں “ ، پھر ایک اور شخص آیا اور بولا : اللہ کے رسول ! مجھے معلوم نہ تھا میں نے رمی کرنے سے پہلے نحر کر لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رمی کر لو ، کوئی حرج نہیں “ ، اس طرح جتنی چیزوں کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا جو آگے پیچھے ہو گئیں تھیں آپ نے فرمایا : ” کر ڈالو ، کوئی حرج نہیں “ ۔
Usamah bin Sharik said “I went out with the Prophet (ﷺ) to perform Hajj, and the people were coming to him. One would say “Apostle of Allaah(ﷺ) I ran between Al Safa’ and Al Marwah before going round the Ka’bah or I did something before the its proper time or did something after its proper time. He would reply “No harm will come; no harm will come except to one who defames a Muslim acting wrongfully. That is the one who will be in trouble and will perish.
اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلا ، لوگ آپ کے پاس آتے تھے جب کوئی کہتا : اللہ کے رسول ! میں نے طواف سے پہلے سعی کر لی یا میں نے ایک چیز کو مقدم کر دیا یا مؤخر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” کوئی حرج نہیں ، کوئی حرج نہیں ، حرج صرف اس پر ہے جس نے کسی مسلمان کی جان یا عزت و آبرو پامال کی اور وہ ظالم ہو ، ایسا ہی شخص ہے جو حرج میں پڑ گیا اور ہلاک ہوا “ ۔
Narrated Kathir b. Kathir b. al-Muttalib b. Abi Wida'ah
From his people on the authority of his grandfather:
He saw that the Prophet (ﷺ) was praying at the place adjacent to the gate of Banu Sahm and the people were passing before him, and there was no covering (sutrah) between them. The narrator Sufyan said: There was no covering between him and the Ka'bah.
Sufyan said: Ibn Juraij reported us stating that Kathir reported on the authority of his father saying: I did not hear my father say, but I heard some of my people on the authority of my grandfather.
مطلب بن ابی وداعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو باب بنی سہم کے پاس نماز پڑھتے دیکھا ، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزر رہے تھے بیچ میں کوئی سترہ نہ تھا ۱؎ ۔ سفیان کے الفاظ یوں ہیں : ان کے اور کعبہ کے درمیان کوئی سترہ نہ تھا ۔ سفیان کہتے ہیں : ابن جریج نے ان کے بارے میں ہمیں بتایا کہ کثیر نے اپنے والد سے روایت کی ہے ، وہ کہتے ہیں : میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا میں نے اسے اپنے والد سے نہیں سنا ، بلکہ گھر کے کسی فرد سے سنا اور انہوں نے میرے دادا سے روایت کی ہے ۔
Chapter 657: Regarding The Sanctity Of Makkah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ - عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهِمْ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ وَإِنَّمَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ ثُمَّ هِيَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ لاَ يُعْضَدُ شَجَرُهَا وَلاَ يُنَفَّرُ صَيْدُهَا وَلاَ تَحِلُّ لُقَطَتُهَا إِلاَّ لِمُنْشِدٍ " . فَقَامَ عَبَّاسٌ أَوْ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلاَّ الإِذْخِرَ فَإِنَّهُ لِقُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِلاَّ الإِذْخِرَ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَزَادَنَا فِيهِ ابْنُ الْمُصَفَّى عَنِ الْوَلِيدِ فَقَامَ أَبُو شَاهٍ - رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ - فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبُوا لِي . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قُلْتُ لِلأَوْزَاعِيِّ مَا قَوْلُهُ " اكْتُبُوا لأَبِي شَاهٍ " . قَالَ هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Abu Hurairah said “When Allah, the Exalted, granted the conquest of Makkah to his Apostle, the Prophet(ﷺ) stood among them(the people) and praised Allaah and extolled Him. He then said, Verily Allaah stopped the Elephant from Makkah, and gave His Apostle and the believers sway upon it and it has been made lawful for me only for one hour on one day then it will remain sacred till the Day of Resurrection. Its trees are not to be cut, its game is not to be molested and the things dropped there are to be picked up only by one who publicly announces it. ‘Abbas or Al ‘Abbas suggested “Apostle of Allaah(ﷺ) except the rush(idhkir) for it is useful for our graves and our houses. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Except the rush.”
Abu Dawud said “Ibn Al Musaffa added on the authority of Al Walid Abu Shah a man from the people of the Yemen stood and said “Give me in writing, Apostle of Allaah(ﷺ)”. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Give in writing to Abu Shah. I said to Al Awza’i “What does the statement mean? Give Abu Shah in writing?” He said “This was an address which he heard from the Apostle of Allaah(ﷺ).”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ فتح کرا دیا ، تو آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا : ” اللہ نے ہی مکہ سے ہاتھیوں کو روکا ، اور اس پر اپنے رسول اور مومنین کا اقتدار قائم کیا ، میرے لیے دن کی صرف ایک گھڑی حلال کی گئی اور پھر اب قیامت تک کے لیے حرام کر دی گئی ، نہ وہاں ( مکہ ) کا درخت کاٹا جائے ، نہ اس کا شکار بدکایا جائے ، اور نہ وہاں کا لقطہٰ ( پڑی ہوئی چیز ) کسی کے لیے حلال ہے ، بجز اس کے جو اس کی تشہیر کرے “ ، اتنے میں عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! سوائے اذخر کے ۱؎ ( یعنی اس کا کاٹنا درست ہونا چاہیئے ) اس لیے کہ وہ ہماری قبروں اور گھروں میں استعمال ہوتی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سوائے اذخر کے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن مصفٰی نے ولید سے اتنا اضافہ کیا ہے : تو اہل یمن کے ایک شخص ابوشاہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! مجھے لکھ کر دے دیجئیے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابو شاہ کو لکھ کر دے دو “ ، ( ولید کہتے ہیں ) میں نے اوزاعی سے پوچھا : «اكتبوا لأبي شاه» سے کیا مراد ہے ، وہ بولے : یہی خطبہ ہے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
I said: Messenger of Allah, should we not build a house or a building which shades you from the sun? He replied: No, it is a place for the one who reaches there earlier.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے لیے منیٰ میں ایک گھر یا عمارت نہ بنا دیں جو آپ کو دھوپ سے سایہ دے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں یہ ( منیٰ ) اس کی جائے قیام ہے جو یہاں پہلے پہنچ جائے ۱؎ “ ۔