Abu Bakr sent me among those who proclaim at Mina that no polytheist should perform Hajj after this year and no naked person should go round the House (the Ka'bah), and that the day of greater Hajj is the day of sacrifice, and the greater Hajj is the Hajj.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے یوم النحر کو منیٰ ان لوگوں میں بھیجا جو پکار رہے تھے کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ ہی کوئی ننگا بیت اللہ کا طواف کرے گا ، اور حج ا کبر کا دن یوم النحر ہے اور حج اکبر سے مراد حج ہے ۔
The Prophet (ﷺ) gave a sermon during his hajj and said: Time has completed a cycle and assumed the form of the day when Allah created the heavens and the earth. The year contains twelve months of which four are sacred, three of them consecutive, viz. Dhul-Qa'dah, Dhul-Hijjah and Muharram and also Rajab of Mudar which comes between Jumadah and Sha'ban.
ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج میں خطبہ دیا تو فرمایا : ” زمانہ پلٹ کر ویسے ہی ہو گیا جیسے اس دن تھا جب اللہ نے آسمان اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی ، سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے ، ان میں سے چار مہینے حرام ہیں : تین لگاتار ہیں ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب ہے ۱؎ جو جمادی الآخرہ اور شعبان کے بیچ میں ہے “ ۔
The aforesaid tradition has also been transmitted by Abu Bakrah through a different chain of narrators.
Abu Dawud said:
Ibn 'Awn has mentioned his ('Abu Bakrah's) name and narrated this tradition: From 'Abd al-Rahman b. Abi Bakrah on the authority of Abu Bakrah.
اس سند سے بھی ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کی ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابن عون نے اس حدیث میں ان کا نام لیا ہے اور یوں کہا ہے «عن عبدالرحمٰن بن أبي بكرة عن أبي بكرة» ۔
I came to the Holy Prophet (ﷺ) when he was in Arafat. Some people or a group of people came from Najd. They commanded someone (to ask the Prophet about hajj).
So he called the Messenger of Allah (ﷺ), saying: How is the hajj done? He (the Prophet) ordered a man (to reply). He shouted loudly: The hajj, the hajj is on the day of Arafah. If anyone comes over there before the dawn prayer on the night of al-Muzdalifah, his hajj will be complete. The period of halting at Mina is three days. Then whoever hastens (his departure) by two days, it is no sin for him, and whoever delays it there is no sin for him.
The narrator said: He (the Prophet) then put a man behind him on the camel. He began to proclaim this loudly.
Abu Dawud said: This tradition has been narrated by Mahran from Sufyan in a similar way. This version adds: The Hajj, the Hajj, twice. The version narrated by Yaya b. Sa'id al-Qattan has the words: The Hajj only once.
عبدالرحمٰن بن یعمر دیلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ عرفات میں تھے ، اتنے میں نجد والوں میں سے کچھ لوگ آئے ، ان لوگوں نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے آواز دی : اللہ کے رسول ! حج کیوں کر ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا تو اس نے پکار کر کہا : ” حج عرفات میں وقوف ہے ۱؎ جو شخص مزدلفہ کی رات کو فجر سے پہلے ( عرفات میں ) آ جائے تو اس کا حج پورا ہو گیا ، منیٰ کے دن تین ہیں ( گیارہ ، بارہ اور تیرہ ذی الحجہ ) ، جو شخص دو ہی دن کے بعد چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تیسرے دن بھی رکا رہے اس پر کوئی گناہ نہیں “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے پیچھے بٹھا لیا وہ یہی پکارتا جاتا تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح مہران نے سفیان سے «الحج الحج» دو بار نقل کیا ہے اور یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے «الحج» ایک ہی بار نقل کیا ہے ۔
Chapter 636: Whoever Missed 'Arafah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيُّ، قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَوْقِفِ - يَعْنِي بِجَمْعٍ قُلْتُ جِئْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ جَبَلِ طَيِّئٍ أَكْلَلْتُ مَطِيَّتِي وَأَتْعَبْتُ نَفْسِي وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُ مِنْ جَبَلٍ إِلاَّ وَقَفْتُ عَلَيْهِ فَهَلْ لِي مِنْ حَجٍّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ أَدْرَكَ مَعَنَا هَذِهِ الصَّلاَةَ وَأَتَى عَرَفَاتٍ قَبْلَ ذَلِكَ لَيْلاً أَوْ نَهَارًا فَقَدْ تَمَّ حَجُّهُ وَقَضَى تَفَثَهُ " .
Narrated Urwah ibn Mudarris at-Ta'i:
I came to the Messenger of Allah (ﷺ) at the place of halting, that is, al-Muzdalifah. I said: I have come from the mountains of Tayy. I fatigued my mount and fatigued myself. By Allah, I found no hill (on my way) but I halted there. Have I completed my hajj? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Anyone who offers this prayer along with us and comes over to Arafat before it by night or day will complete his hajj and he may wash away the dirt (of his body).
عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا آپ موقف یعنی مزدلفہ میں تھے ، میں نے عرض کیا : میں طی کے پہاڑوں سے آ رہا ہوں ، میں نے اپنی اونٹنی کو تھکا مارا ، اور خود کو بھی تھکا دیا ، اللہ کی قسم راستے میں کوئی ایسا ٹیکرہ نہیں آیا جس پر میں ٹھہرا نہ ہوں ، تو میرا حج درست ہوا یا نہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ہمارے ساتھ اس نماز کو پا لے اور اس سے پہلے رات یا دن کو عرفات میں ٹھہر چکا ہو تو اس کا حج پورا ۱؎ ہو گیا ، اس نے اپنا میل کچیل دور کر لیا ۲؎ “ ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ فَقَالَ " لِيَنْزِلِ الْمُهَاجِرُونَ هَا هُنَا " . وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ " وَالأَنْصَارُ هَا هُنَا " . وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ " ثُمَّ لْيَنْزِلِ النَّاسُ حَوْلَهُمْ " .
AbdurRahman ibn Mu'adh said that he heard a man from the Companions of the Prophet (ﷺ) say:
The Prophet (ﷺ) addressed the people at Mina and he made them stay in their dwellings. He then said: The Muhajirun (Emigrants) should stay here, and he made a sign to the right side of the qiblah, and the Ansar (the Helpers) here, and he made a sign to the left side of the qiblah; the people should stay around them.
عبدالرحمٰن بن معاذ سے روایت ہے
وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں لوگوں سے خطاب کیا ، اور انہیں ان کے ٹھکانوں میں اتارا ، آپ نے فرمایا : ” مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کے دائیں جانب اشارہ کیا ، اور انصار یہاں اتریں ، اور قبلے کے بائیں جانب اشارہ کیا ، پھر باقی لوگ ان کے اردگرد اتریں “ ۔
Chapter 638: What Day Should A Sermon Be Delivered In Mina ? - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلَيْنِ، مِنْ بَنِي بَكْرٍ قَالاَ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ بَيْنَ أَوْسَطِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ وَنَحْنُ عِنْدَ رَاحِلَتِهِ وَهِيَ خُطْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الَّتِي خَطَبَ بِمِنًى .
Ibn AbuNajih reported from his father on the authority of two men from Banu Bakr who said:
We saw the Messenger of Allah (ﷺ) addressing (the people) in the middle of the tashriq days when we were staying near his mount. This is the address of the Messenger of Allah (ﷺ) which he gave at Mina.
بنی بکر کے دو آدمی کہتے ہیں
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ایام تشریق کے بیچ والے دن ( بارہویں ذی الحجہ کو ) خطبہ دے رہے تھے اور ہم آپ کی اونٹنی کے پاس تھے ، یہ وہی خطبہ تھا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں دیا ۔
She was mistress of a temple in pre-Islamic days. She said: The prophet (ﷺ) addressed us on the second day of sacrifice (yawm ar-ru'us) and said: Which is this day? We said: Allah and His Apostle are better aware. He said: Is this not the middle of the tashriq days?
ربیعہ بن عبدالرحمٰن بن حصین کہتے ہیں
مجھ سے میری دادی سراء بنت نبہان رضی اللہ عنہا نے بیان کیا اور وہ جاہلیت میں گھر کی مالکہ تھیں ( جس میں اصنام ہوتے تھے ) ، وہ کہتی ہیں : ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم الروس ۱؎ ( ایام تشریق کے دوسرے دن بارہویں ذی الحجہ ) کو خطاب کیا اور پوچھا : ” یہ کون سا دن ہے ؟ “ ، ہم نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” کیا یہ ایام تشریق کا بیچ والا دن نہیں ہے “ ۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں : ابوحرہ رقاشی کے چچا سے بھی اسی طرح روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام تشریق کے بیچ والے دن خطبہ دیا ۔
Chapter 640: What Time Should The Sermon Be Delivered On The Day Of The Sacrifice - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَامِرٍ الْمُزَنِيِّ، حَدَّثَنِي رَافِعُ بْنُ عَمْرٍو الْمُزَنِيُّ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَخْطُبُ النَّاسَ بِمِنًى حِينَ ارْتَفَعَ الضُّحَى عَلَى بَغْلَةٍ شَهْبَاءَ وَعَلِيٌّ - رضى الله عنه - يُعَبِّرُ عَنْهُ وَالنَّاسُ بَيْنَ قَاعِدٍ وَقَائِمٍ .
Narrated Rafi' ibn Amr al-Muzani:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) addressing the people at Mina (on the day of sacrifice) when the sun rose high (i.e. in the forenoon) on a white mule, and Ali (Allah be pleased with him) was interpreting on his behalf; some people were standing and some sitting.
رافع بن عمرو المزنی کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منیٰ میں ایک سفید خچر پر سوار لوگوں کو خطبہ دیتے سنا جس وقت آفتاب بلند ہو چکا تھا اور علی رضی اللہ عنہ آپ کی طرف سے اسے لوگوں کو پہنچا ۱؎ رہے تھے اور دور والوں کو بتا رہے تھے ، کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے اور کچھ کھڑے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) addressed us when we were at Mina. Our ears were open and we were listening to what he was saying, while we were in our dwellings. He began to teach them the rites of hajj till he reached the injunction of throwing pebbles at the Jamrahs (pillars at Mina). He put his forefingers in his ears and said: (Throw small pebbles. He then commanded the Emigrants (Muhajirun) to station themselves. They stationed themselves before the mosque. He then commanded the Helpers (Ansar) to encamp. They encamped behind the mosque. Thereafter the people encamped.
عبدالرحمٰن بن معاذ تمیمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے کان کھول دئیے گئے آپ جو بھی فرماتے تھے ہم اسے سن لیتے تھے ، ہم اپنے ٹھکانوں میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ارکان حج سکھانا شروع کئے یہاں تک کہ جب آپ جمرات تک پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہادت کی دونوں انگلیوں کو رکھ کر اتنی چھوٹی چھوٹی کنکریاں ماریں جو انگلیوں کے درمیان آ سکتی تھیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین کو حکم دیا کہ وہ مسجد کے اگلے حصہ میں اتریں اور انصار کو حکم دیا کہ وہ لوگ مسجد کے پیچھے اتریں اس کے بعد سب لوگ اترے ۔
We sell the property of the people; so one of us goes to Mecca and passes the night there with the property (during the stay at Mina). He said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pass night and day at Mina.
حریز یا ابوحریز بیان کرتے ہیں کہ
انہوں نے عبدالرحمٰن بن فروخ کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھتے ہوئے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ ہم لوگوں کا مال بیچتے ہیں تو کیا ہم میں سے کوئی منیٰ کی راتوں میں مکہ میں جا کر مال کے پاس رہے ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو رات اور دن دونوں منیٰ میں رہا کرتے تھے ۱؎ ۔
Chapter 642: On Spending Nights Of Mina In Makkah - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَبِيتَ بِمَكَّةَ لَيَالِيَ مِنًى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ .
Narrated Ibn 'Umar:
Al-'Abbas sought permission from the Messenger of Allah (ﷺ) to pass the night at Mecca during the period of his stay at Mina for distributing water among the people. He gave him permission.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حاجیوں کو پانی پلانے کی وجہ سے منیٰ کی راتوں کو مکہ میں گزارنے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ۔
'Uthman prayed four rak'ahs at Mina. 'Abd Allah (b. Mas'ud) said: I prayed two rak'ahs along with the Prophet (ﷺ) and two rak'ahs along with 'Umar. The version of Hafs added: And along with 'Uthman during the early period of his caliphate. He ('Uthman) began to offer complete prayer (i.e. four rak'ahs) later on. The version of Abu Mu'awiyah added: Then your modes of action varied. I would like to pray two rak'ahs acceptable to Allah instead of four rak'ahs.
Al-A'mash said: Mu'awiyah b. Qurrah reported to me from his teachers: 'Abd Allah (b. Mas'ud) once prayed four rak'ahs. He was told: You criticized 'Uthman but you yourself prayed four ? He replied: Dissension is evil.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعتیں پڑھیں تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ دو ہی رکعتیں پڑھیں ( اور حفص کی روایت میں اتنا مزید ہے کہ ) عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی خلافت کے شروع میں ، پھر وہ پوری پڑھنے لگے ، ( ایک روایت میں ابومعاویہ سے یہ ہے کہ ) پھر تمہاری رائیں مختلف ہو گئیں ، میری تو خواہش ہے کہ میرے لیے چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہی ہوں ۔ اعمش کہتے ہیں : مجھ سے معاویہ بن قرہ نے اپنے شیوخ کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعتیں پڑھیں ، تو ان سے کہا گیا : آپ نے عثمان پر اعتراض کیا ، پھر خود ہی چار پڑھنے لگے ؟ تو انہوں نے کہا : اختلاف برا ہے ۔
When Uthman placed his property at at-Ta'if and intended to settle there, he prayed four rak'ahs. The rulers after him followed the same practice.
زہری کہتے ہیں
جب عثمان رضی اللہ عنہ نے طائف میں اپنی جائیداد بنائی اور وہاں قیام کرنے کا ارادہ کیا تو وہاں چار رکعتیں پڑھیں ، وہ کہتے ہیں : پھر اس کے بعد ائمہ نے اسی کو اپنا لیا ۔
Uthman offered complete prayer at Mina for the sake of bedouins who attended (hajj) in large numbers that year. He led the people four rak'ahs in prayer in order to teach them that the prayer (i.e. noon or afternoon prayer) essentially contained four rak'ahs.
زہری سے روایت ہے کہ
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں نماز اس وجہ سے پوری پڑھی کہ اس سال بدوی لوگ بہت آئے تھے تو انہوں نے چار رکعتیں پڑھیں تاکہ ان لوگوں کو معلوم ہو کہ نماز ( اصل میں ) چار رکعت ہی ہے ( نہ کہ دو ، جو قصر کی صورت میں پڑھی جاتی ہے ) ۔
I prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ) at Mina and the people gathered there in large numbers. He led us two rak'ahs in prayer in the Farewell Pilgrimage.
Abu Dawud said: Harithah belonged to the tribe of Khuza'ah, and they had their houses in Mecca.
ابواسحاق کہتے ہیں کہ
مجھ سے حارثہ بن وہب خزاعی نے بیان کیا اور ان کی والدہ عمر رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں تو ان سے عبیداللہ بن عمر کی ولادت ہوئی ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے منیٰ میں نماز پڑھی ، اور لوگ بڑی تعداد میں تھے ، تو آپ نے ہمیں حجۃ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارثہ کا تعلق خزاعہ سے ہے اور ان کا گھر مکہ میں ہے ۔
Chapter 645: Regarding Stoning The Jimar - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الأَحْوَصِ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ رَاكِبٌ يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ وَرَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ يَسْتُرُهُ فَسَأَلْتُ عَنِ الرَّجُلِ فَقَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ وَازْدَحَمَ النَّاسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ لاَ يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمُ الْجَمْرَةَ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ " .
Narrated Sulaiman b. 'Amr b. al-Ahwas:
On the authority of his mother: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) throwing pebbles at the jamrah from the botton of wadi (valley) while he was riding (on a camel). He was uttering the takbir (Allah is most great) with each pebble. A man behind him was shading him. I asked about the man. They (the people) said: He is al-Fadl b. al-'Abbas. The people crowded. The Prophet (ﷺ) said: 'O people, do not kill each other ; when you throw pebbled at the jamrah, throw small pebbles.
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوار ہو کر بطن وادی سے جمرہ پر رمی کرتے دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر کنکری پر تکبیر کہتے تھے ، ایک شخص آپ کے پیچھے تھا ، وہ آپ پر آڑ کر رہا تھا ، میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ تو لوگوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ، اور لوگوں کی بھیڑ ہو گئی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگو ! تم میں سے کوئی کسی کو قتل نہ کرے ( یعنی بھیڑ کی وجہ سے ایک دوسرے کو کچل نہ ڈالے ) اور جب تم رمی کرو تو ایسی چھوٹی کنکریوں سے مارو جنہیں تم دونوں انگلیوں کے بیچ رکھ سکو “ ۔
Sulaiman b. 'Amr b. Ahwas reported on the authority of his mother:
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) near the Jamrat al-Aqabah (the third or last pillar) riding (on a camel) and I saw a pebble between his fingers. He threw the pebbles and the people also threw (stones at the Jamrah).
والدہ سلیمان بن عمرو بن احوص رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمرہ عقبہ کے پاس سوار دیکھا اور میں نے دیکھا کہ آپ کی انگلیوں میں کنکریاں تھیں ، تو آپ نے بھی رمی کی اور لوگوں نے بھی رمی کی ۱؎ ۔
Chapter 645: Regarding Stoning The Jimar - كتاب المناسك
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، - يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ - عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَأْتِي الْجِمَارَ فِي الأَيَّامِ الثَّلاَثَةِ بَعْدَ يَوْمِ النَّحْرِ مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا وَيُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ .
Nafi' reported on the authority of Ibn Umar. He (ibn Umar) used to come (to Mina) and threw pebbles three days after the day of sacrifice walking when arriving and returning (both ways). He reported that the Prophet (ﷺ) used to do so.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
وہ یوم النحر کے بعد تین دنوں میں جمرات کی رمی کے لیے پیدل چل کر آتے تھے اور پیدل ہی واپس جاتے اور وہ بتاتے تھے کہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۱؎ ۔
I saw the Messenger of Allah (ﷺ) throwing pebbles on the day of sacrifice while on his riding beast and saying: Learn your rites, for I do not know whether I am likely to perform Hajj after this occasion.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنی سواری پر یوم النحر کو رمی کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” تم لوگ اپنے حج کے ارکان سیکھ لو کیونکہ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنے اس حج کے بعد کوئی حج کر سکوں گا یا نہیں “ ۔