حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ الأَدْرَعِ السُّلَمِيِّ، قَالَ جِئْتُ لَيْلَةً أَحْرُسُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَإِذَا رَجُلٌ قِرَاءَتُهُ عَالِيَةٌ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا مُرَاءٍ . قَالَ فَمَاتَ بِالْمَدِينَةِ فَفَرَغُوا مِنْ جِهَازِهِ فَحَمَلُوا نَعْشَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " ارْفُقُوا بِهِ رَفَقَ اللَّهُ بِهِ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " . قَالَ وَحَفَرَ حُفْرَتَهُ فَقَالَ " أَوْسِعُوا لَهُ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ " . فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ حَزِنْتَ عَلَيْهِ . فَقَالَ " أَجَلْ إِنَّهُ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ " .
It was narrated that Adra’ As-Sulami said:
“I came one night to guard the Prophet (ﷺ), and there was a man reciting loudly. The Prophet (ﷺ) came out and I said: ‘O Messenger of Allah, this man is showing off.’ Then he died in Al-Madinah, and they finished preparing him, then they carried his dead body. The Prophet (ﷺ) said: ‘Be gentle with him, may Allah be gentle with him, for he loved Allah and His Messenger.’ Then his grave was dug and he (the Prophet (ﷺ)) said: ‘Make it spacious for him, and may Allah make it spacious for him.’ Some of his Companions said: ‘O Messenger of Allah, you are grieving for him.’ He said: ‘Yes indeed, for he loved Allah and His Messenger.’”
ادرع سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک رات آیا ، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پہرہ داری کیا کرتا تھا ، ایک شخص بلند آواز سے قرآن پڑھ رہا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو ریاکار معلوم ہوتا ہے ، پھر اس کا مدینہ میں انتقال ہو گیا ، جب لوگ اس کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوئے ، تو لوگوں نے اس کی لاش اٹھائی تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے ساتھ نرمی کرو “ ، اللہ تعالیٰ بھی اس کے ساتھ نرمی کرے ، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا ، ادرع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس کی قبر کھودی گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کی قبر کشادہ کرو ، اللہ اس پر کشادگی کرے “ ، یہ سن کر بعض صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا اس کی وفات پر آپ کو غم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا “ ۔