حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا غِرْتُ عَلَى امْرَأَةٍ قَطُّ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ مِمَّا رَأَيْتُ مِنْ ذِكْرِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَهَا وَلَقَدْ أَمَرَهُ رَبُّهُ أَنْ يُبَشِّرَهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ . يَعْنِي مِنْ ذَهَبٍ قَالَهُ ابْنُ مَاجَهْ .
It was narrated that 'Aishah said:
"I never felt as jealous of any woman as I did of Khadijah, because I saw how the Messenger of Allah remembered her, and his Lord had told him to give her the glad tidings of a house in Paradise made of Qasab."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں ، یعنی سونے کے مکان کی ، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے “ ۱؎ ۔
"I heard the Messenger of Allah when he was on the pulpit, say: 'Banu Hisham bin Mughirah asked me for permission to marry their daughter to 'Ali bin Abu Talib, but I will not give them permission, and I will not give them permission, and I will not give them permission, unless 'Ali bin Abu Talib wants to divorce my daughter and marry their daughter, for she is a part of me, and what bothers her bothers me, and what upsets her upsets me."
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پہ فرماتے سنا کہ ” ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے کر دیں تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا ، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا ، تو میں انہیں کبھی اجازت نہیں دیتا ، سوائے اس کے کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے کر ان کی بیٹی سے شادی کرنا چاہیں ، اس لیے کہ وہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے ، جو بات اس کو بری لگتی ہے وہ مجھ کو بھی بری لگتی ہے ، اور جس بات سے اس کو تکلیف ہوتی ہے اس سے مجھے بھی تکلیف ہوتی ہے “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ بِنْتُ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ، فَاطِمَةُ أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لاَ تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحًا ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ . قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ
" أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي قَدْ أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لاَ تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا " . قَالَ فَنَزَلَ عَلِيٌّ عَنِ الْخِطْبَةِ .
'Ali bin Husain said that Miswar bin Makhramah told him that:
'Ali bin Abu Talib proposed to the daughter of Abu Jahl, when he was married to Fatimah the daughter of the Prophet. When Fatimah heard of that she went to the Prophet, and said: "Your people are saying that you do not feel angry for your daughters. This 'Ali is going to marry the daughter of Abu Jahl." Miswar said: "The Prophet stood up, and I heard him when he bore witness (i.e., said the Shahadah), then he said: 'I married my daughter (Zainab) to Abul-As bin Rabi', and he spoke to me and was speaking the truth. Fatimah bint Muhammad is a part of me, and I hate to see her faced with troubles. By Allah, the daughter of the Messenger of Allah and the daughter of the enemy of Allah will never be joined together in marriage to one man." He said: So, 'Ali abandoned the marriage proposal.
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کو پیغام دیا جب کہ ان کے عقد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی فاطمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں ، فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ خبر سنی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا : آپ کے متعلق لوگ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی بیٹیوں کے لیے غصہ نہیں آتا ، اب علی رضی اللہ عنہ ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنے والے ہیں ۔ مسور کہتے ہیں : یہ خبر سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر پر ) کھڑے ہوئے ، جس وقت آپ نے خطبہ پڑھا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” امابعد ، میں نے اپنی بیٹی زینب کا نکاح ابوالعاص بن ربیع سے کیا ، انہوں نے جو بات کہی تھی اس کو سچ کر دکھایا ۱؎ میری بیٹی فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے ، اور مجھے ناپسند ہے کہ تم لوگ اسے فتنے میں ڈالو ، قسم اللہ کی ، اللہ کے رسول کی بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی دونوں ایک شخص کے نکاح میں کبھی اکٹھی نہ ہوں گی ، یہ سن کر علی رضی اللہ عنہ شادی کے پیغام سے باز آ گئے ۲؎ ۔
Chapter 57: The woman who offered herself (in marriage) to the Prophet (saws) - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ} . قَالَتْ فَقُلْتُ إِنَّ رَبَّكَ لَيُسَارِعُ فِي هَوَاكَ .
It 'was narrated from Hisham bin 'Urwah, from his father that 'Aishah used to say:
"Wouldn't a woman feel too shy to offer herself to the Prophet?" Until Aileh revealed; "You (O Muhammad) can postpone (the turn of) whom you will of them (your wives), and you may receive whom you will.” She said: "Then I said: 'Your Lord is quick to make things easy for you."'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں
کیا عورت اس بات سے نہیں شرماتی کہ وہ اپنے آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کر دے ؟ ! تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» جس کو تو چاہے اپنی عورتوں میں سے ” اپنے سے جدا کر دے اور جس کو چاہے اپنے پاس رکھے “ ( سورة الأحزاب : 51 ) تب میں نے کہا : آپ کا رب آپ کی خواہش پر حکم نازل کرنے میں جلدی کرتا ہے ۱؎ ۔
Chapter 57: The woman who offered herself (in marriage) to the Prophet (saws) - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، قَالَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا أَقَلَّ حَيَاءَهَا . فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَرَضَتْ نَفْسَهَا عَلَيْهِ .
Thabit said:
“We were sitting with Anas bin Mahk, and a daughter of his was with him. Anas said: 'A woman came to the Prophet and offered herself to him. She said: " O Messenger of Allah, do you have any need of me?"' His daughter said: 'How little modesty she had!' He said: 'She was better than you, because she wanted (to marry) the Messenger of Allah, and she offered herself to him. "
ثابت کہتے ہیں کہ
ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے تھے ، ان کے پاس ان کی ایک بیٹی تھی ، انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور خود کو آپ پر پیش کیا اور بولی : کیا آپ کو میری حاجت ہے ؟ یہ سن کر انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی بولی : اس کو کتنی کم حیاء ہے ! اس پر انس رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ تجھ سے بہتر ہے ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں رغبت کی ، اس لیے خود کو آپ پر پیش کیا ۔
Chapter 58: A man who has doubts concerning his child - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ " . قَالَ نَعَمْ . قَالَ " فَمَا أَلْوَانُهَا " . قَالَ حُمْرٌ . قَالَ " هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ " . قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا . قَالَ " فَأَنَّى أَتَاهَا ذَلِكَ " . قَالَ عَسَى عِرْقٌ نَزَعَهَا . قَالَ " وَهَذَا لَعَلَّ عِرْقًا نَزَعَهُ " . وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الصَّبَّاحِ .
It was narrated that Abu Hurairah said:
"A man from Banu Fazdrah came to the Messenger of Allah, and said: 'O Messenger of Allah, my wife has given birth to a black boy! The Messenger of Allah said: 'Do you have camels?' He said: 'Yes.' He said: 'What color are they?' He said: 'Red.' He said: 'Are there any grey ones among them?' He said: 'Yes, there are some grey ones among them.' He said: 'Where does that come from?' He said: 'Perhaps it is hereditary.' He said: 'Likewise, perhaps this is hereditary! "
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ بنی فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا بچہ جنا ہے ! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے رنگ کیا ہیں “ ؟ اس نے کہا : سرخ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا بھی ہے “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، ان میں خاکی رنگ کے بھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں خاکی رنگ کہاں سے آیا “ ؟ اس نے کہا : کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہاں بھی ( تیرے لڑکے میں ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا “ ۱؎ ۔ یہ الفاظ محمد بن صباح کے ہیں ۔
a man frorn the desert people came to the Prophet and said: "O Messenger of Allah, my wife has given birth on my bed to a black boy, and there are no black people among my family." He said: "Do you have camels?" He said: "Yes." He said: "What color are they?" He said: "Red." He said: are there any black ones among them?" He said, "No." He said: "Are there any grey ones among them?" He said- "Yes." He said "How is that?" He said: "Perhaps it is hereditary." He said: "Perhaps (the color of) this son of yours is also hereditary."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک بدوی ( دیہاتی ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میری بیوی نے ایک کالا کلوٹا لڑکا جنا ہے ، اور ہم ایک ایسے گھرانے کے ہیں جس میں کبھی کوئی کالا نہیں ہوا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” ان کے رنگ کیا ہیں “ ؟ اس نے کہا : سرخ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان میں کوئی سیاہ بھی ہے “ ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا ان میں کوئی خاکی رنگ کا ہے “ ؟ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ رنگ کہاں سے آیا “ ؟ اس نے کہا : ہو سکتا ہے کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پھر شاید تمہارے اس بچے کا بھی یہی حال ہو کہ اسے کسی رگ نے کھینچ لیا ہو “ ۔
Chapter 59: The child is for the bed and the fornicator gets nothing - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّ عَبْدَ بْنَ زَمْعَةَ وَسَعْدًا اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ . فَقَالَ سَعْدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصَانِي أَخِي إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ . وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي وَابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي . فَرَأَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ شَبَهَهُ بِعُتْبَةَ فَقَالَ
" هُوَ لَكَ يَا عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ . الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ " .
It was narrated that 'Aishah said:
Ibn Zam'ah and
Sa'd (Ibn Abu Waqqas) referred a dispute to the Prophet concerning the son of Zam'ah's slave woman. Sa'd said : " O Messenger of Allah my brother (Utbah bin Abu Waqqas) left instructions in his will that when I come to Makkah, I should look for the son of the slave woman of Zam'ah and take him into my care." 'Abd bin Zam’ah said: "He is my brother and the son of the slave woman of my father; he was born on my father's bed." The Prophet ffi saw that he resembled 'Utbah, and said: "He belongs to you, O 'Abd bin Zam'ah. The child is for the bed. Observe Hijab before him, O Saudah." (sahih)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
عبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں ، اور اس کو لے لوں ، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے ، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا : ” عبد بن زمعہ ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎ ، سودہ تم اس سے پردہ کرو “ ۲؎ ۔
Chapter 60: When one spouse becomes Muslim before the other - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ جُمَيْعٍ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَسْلَمَتْ . فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ . قَالَ فَجَاءَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ كُنْتُ أَسْلَمْتُ مَعَهَا وَعَلِمَتْ بِإِسْلاَمِي . قَالَ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ زَوْجِهَا الآخَرِ وَرَدَّهَا إِلَى زَوْجِهَا الأَوَّلِ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
a woman came to the Prophet and became Muslim, and a man married her. Then her first husband came and said: "O Messenger of Allah, I became Muslim with her, and she knew that I was Muslim." So the Messenger of Allah took her away from her second husband and returned her to her first husband.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اسلام قبول کیا ، اور اس سے ایک شخص نے نکاح کر لیا ، پھر اس کا پہلا شوہر آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں اپنی عورت کے ساتھ ہی مسلمان ہوا تھا ، اور اس کو میرا مسلمان ہونا معلوم تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو دوسرے شوہر سے چھین کر پہلے شوہر کے حوالے کر دیا ۔
It was narrated that Judamah bint Wahb Al-Asadiyyah said:
"I heard the Messenger of Allah say: 'I wanted to forbid intercourse with a nursing mother, but then (I saw that) the Persians and the Romans do this, and it does not kill their children.' And I heard him say/when he was asked about coitus interruptus: 'It is the disguised form of b.rryirg children alive."
جدامہ بنت وہب اسدیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” میں نے ارادہ کیا کہ بچہ کو دودھ پلانے والی بیوی سے جماع کرنے کو منع کر دوں ، پھر میں نے دیکھا کہ فارس اور روم کے لوگ ایسا کر رہے ہیں ، اور ان کی اولاد نہیں مرتی “ اور جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے «عزل» کے متعلق پوچھا گیا تھا ، تو میں نے آپ کو فرماتے سنا : ” وہ تو «وأدخفی» ( خفیہ طور زندہ گاڑ دینا ) ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 61: Intercourse with a nursing mother - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُهَاجِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ الْمُهَاجِرَ بْنَ أَبِي مُسْلِمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ بْنِ السَّكَنِ، وَكَانَتْ، مَوْلاَتَهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ
" لاَ تَقْتُلُوا أَوْلاَدَكُمْ سِرًّا فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ الْغَيْلَ لَيُدْرِكُ الْفَارِسَ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ حَتَّى يَصْرَعَهُ " .
It was narrated from Muhajir bin Abu Muslim, from Asma' bint Yazid bin Sakary who was his freed slave womary that:
she heard the Messenger of Allah say: "Do not kill your children secretly, for by the One in Whose Hand is my soul, intercourse with a breastfeeding woman catches up with people when they are riding their horses (in battle) and wrestles them to the ground."
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے «غیل» سوار کو گھوڑے کی پیٹھ پر سے گرا دیتا ہے “ ۔
Chapter 62: A woman who annoys her husband - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ امْرَأَةٌ مَعَهَا صَبِيَّانِ لَهَا قَدْ حَمَلَتْ أَحَدَهُمَا وَهِيَ تَقُودُ الآخَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" حَامِلاَتٌ وَالِدَاتٌ رَحِيمَاتٌ لَوْلاَ مَا يَأْتِينَ إِلَى أَزْوَاجِهِنَّ دَخَلَ مُصَلِّيَاتُهُنَّ الْجَنَّةَ " .
It was narrated that Abu Umamah said:
"A woman came to the Prophet with two of her children, carrying one and leading the other. The Messenger of Allah said: 'They carry children and give birth to them and are compassionate. If they do not annoy their husbands, those among them who perform prayer will enter Paradise."'
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی ، اس کے ساتھ دو بچے تھے ، ایک کو وہ گود میں اٹھائے ہوئی تھی اور دوسرے کو کھینچ رہی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچوں کو اٹھانے والی ، انہیں جننے والی ، اور ان پر شفقت کرنے والی عورتیں اگر اپنے شوہروں کو تکلیف نہ دیتیں تو جو ان میں سے نماز کی پابند ہیں جنت میں جاتیں “ ۔
the Messenger of Allah said: "No woman annoys her husband but his wife among houris (of Paradise) safs: 'Do not annoy him, may Allah destroy you, for he is just a temporary guest with you and soon he will leave you and join us."'
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تکلیف دیتی ہے تو حورعین میں سے اس کی بیوی کہتی ہے : اللہ تجھے ہلاک کرے ، اسے تکلیف نہ دے ، وہ تیرے پاس چند روز کا مہمان ہے ، عنقریب تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا “ ۱؎ ۔