Chapter 48: A woman giving her day to her co-wife - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا أَنْ كَبِرَتْ، سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ وَهَبَتْ يَوْمَهَا لِعَائِشَةَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْسِمُ لِعَائِشَةَ بِيَوْمِ سَوْدَةَ .
'Urwah narrated from 'Aishah:
that when Saudah bint Zam'ah grew old, she gave her day to 'Aishah, and the Messenger of Allah went to 'Aishah on Saudah's day.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب ام المؤمنین سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا بوڑھی ہو گئیں ، تو انہوں نے اپنی باری کا دن عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہبہ کر دیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سودہ رضی اللہ عنہا کی باری والے دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے تھے ۔
Chapter 48: A woman giving her day to her co-wife - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ فِي شَىْءٍ . فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ هَلْ لَكِ أَنْ تُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِّي وَلَكِ يَوْمِي قَالَتْ نَعَمْ . فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ ثُمَّ قَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" يَا عَائِشَةُ إِلَيْكِ عَنِّي إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ " . فَقَالَتْ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ . فَأَخْبَرَتْهُ بِالأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا .
It was narrated from 'Aishah:
that the Messenger of Allah became angry with Safiyyah bint Huyai for something, and Safiyyah said: "O 'Aishah, can you make the Messenger of Allah be pleased with me, and I will give you my day?" She said: "Yes." So she took a headcover of hers that was dyed with saffron and sprinkled it with water so that its fragrance would become stronger, then she sat beside the Messenger of Allah. The Prophet said: "O 'Aishah, go away, because it is not your day!" She said: "That is the Grace of Allah which He bestows on whom He pleases." Then she told him about that matter and he was pleased with her.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا پر کسی وجہ سے ناراض ہو گئے ، تو صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا : عائشہ ! کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے راضی کر سکتی ہو ، اور میں اپنی باری تم کو ہبہ کر دوں گی ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، چنانچہ انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا ، اور اس پہ پانی چھڑکا تاکہ اس کی خوشبو پھوٹے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں بیٹھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ مجھ سے دور ہو جاؤ ، آج تمہاری باری نہیں ہے “ ، تو انہوں نے کہا : یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے ، اور پورا قصہ بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہو گئے ۔
"This Verse 'And making peace is better.' was revealed concerning a man who had been married to a woman for a long time, and she had given birth to his children and he wanted to exchange her (for a new wife). She agreed that he would stay with her (the new wife) and would not give her (the first wife) a share of his time. (i.e.) not spend the nights with her)."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
یہ آیت : «والصلح خير» اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی ، اس سے کئی بچے ہوئے ، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے ( اور اسے طلاق دیدے ) چنانچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی ، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا ۔
Chapter 49: Intercession concerning marriage - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَثَرَ أُسَامَةُ بِعَتَبَةِ الْبَابِ فَشُجَّ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَمِيطِي عَنْهُ الأَذَى " . فَتَقَذَّرْتُهُ فَجَعَلَ يَمَصُّ عَنْهُ الدَّمَ وَيَمُجُّهُ عَنْ وَجْهِهِ ثُمَّ قَالَ " لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً لَحَلَّيْتُهُ وَكَسَوْتُهُ حَتَّى أُنَفِّقَهُ " .
It was narrated that 'Aishah said:
"Usamah stumbled at the threshold of the door and cut his face. The Messenger of Allah said: 'Remove the harm (the blood) from him,' but I was repulsed by that. He started to suck the blood and remove it from his face, then he said: 'If Usamah were a girl, I would have adorned him and dressed him until I married him off."'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
اسامہ رضی اللہ عنہ دروازہ کی چوکھٹ پر گر پڑے ، جس سے ان کے چہرے پہ زخم ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” ان سے خون صاف کرو “ ، میں نے اسے ناپسند کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے زخم سے خون نچوڑنے اور ان کے منہ سے صاف کرنے لگے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اسامہ لڑکی ہوتا تو میں اسے زیورات اور کپڑوں سے اس طرح سنوارتا کہ اس کا چرچا ہونے لگتا “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ، عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لأَهْلِهِ وَأَنَا خَيْرُكُمْ لأَهْلِي " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
the Prophet said: "The best of you is the one who is best to his wife, and I am the best of you to my wives."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہو ، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے تم میں سب سے بہتر ہوں “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَابَقَنِي النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَسَبَقْتُهُ .
It was narrated that 'Aishah said:
"The Prophet raced with me and I beat him."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکل گئی ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الأَنْصَارِ فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا . قَالَتْ فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ فَذَهَبْتُ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي . قَالَتْ فَالْتَفَتَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْىَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي فَقَالَ
" كَيْفَ رَأَيْتِ " . قَالَتْ قُلْتُ أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ .
It was narrated that 'Aishah said:
When the Messenger of Allah came to Al-Madinah, he had just married Safiyyah bint Huyai, and the women of the Ansar came and told us about that. My expression changed and I covered my face and went away. The Messenger of Allah looked at my eyes and recognized me. I turned away and walked quickly, but he caught up with me and put his arm around me and said: 'What did you see?' I said: 'Let me go, (I saw) a Jewish woman among other Jewish women.' "
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( خیبر سے واپس ) مدینہ آئے ، اور صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے آپ دولہا ہوئے ، تو انصار کی عورتیں آئیں ، اور انہوں نے صفیہ رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنی صورت بدلی ، منہ پر نقاب ڈالا ، اور صفیہ رضی اللہ عنہا کو دیکھنے چلی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری آنکھ دیکھ کر مجھے پہچان لیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری طرف متوجہ ہوئے تو میں اور تیزی سے چلی ، لیکن آپ نے مجھ کو پکڑ کر گود میں اٹھا لیا ، اور پوچھا : ” تو نے کیسا دیکھا “ ؟ میں نے کہا : بس چھوڑ دیجئیے ، یہودی عورتوں میں سے ایک یہودی عورت ہے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، عَنْ زَكَرِيَّا، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنِ الْبَهِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا عَلِمْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَىَّ زَيْنَبُ بِغَيْرِ إِذْنٍ وَهِيَ غَضْبَى . ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَسْبُكَ إِذَا قَلَبَتْ لَكَ بُنَيَّةُ أَبِي بَكْرٍ ذُرَيْعَتَيْهَا . ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَىَّ فَأَعْرَضْتُ عَنْهَا حَتَّى قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" دُونَكِ فَانْتَصِرِي " . فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهَا حَتَّى رَأَيْتُهَا وَقَدْ يَبِسَ رِيقُهَا فِي فِيهَا مَا تَرُدُّ عَلَىَّ شَيْئًا فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَتَهَلَّلُ وَجْهُهُ .
Urwah bin Zubair narrated that 'Aishah said:
"I did not know until Zainab burst in on me without permission and she was angry. Then she said: 'O Messenger of Allah, is it enough for you that the young daughter of Abu Bakr waves her hands in front of you?' Then she turned to me, but I ignored her until the Prophet said: 'You should say something to defend yourself.' So I turned on her, (and replied to her) until I saw that her mouth had become dry, and she did not say anything back to me. And I saw the Prophet with his face shining." (Hasan).
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا میرے گھر میں بغیر اجازت کے آ گئیں ، وہ غصہ میں تھیں ، کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے ؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں ، میں نے ان سے منہ موڑ لیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا “ تو میں ان کی طرف پلٹی ، اور میں نے ان کا جواب دیا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا ، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ثُمَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فَوَعَظَهُمْ فِيهِنَّ ثُمَّ قَالَ
" إِلاَمَ يَجْلِدُ أَحَدُكُمُ امْرَأَتَهُ جَلْدَ الأَمَةِ وَلَعَلَّهُ أَنْ يُضَاجِعَهَا مِنْ آخِرِ يَوْمِهِ " .
It was narrated that 'Abduleh bin Zam'ah said:
'The Prophet delivered a sermon then he made mention of women, and exhorted (the men) concerning them. Then he said: 'How long will one of you whip his wife like a slave, then lie with her at the end of the day?'
عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، پھر عورتوں کا ذکر کیا ، اور مردوں کو ان کے سلسلے میں نصیحت فرمائی ، پھر فرمایا : ” کوئی شخص اپنی عورت کو لونڈی کی طرح کب تک مارے گا ؟ ہو سکتا ہے اسی دن شام میں اسے اپنی بیوی سے صحبت کرے “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لاَ تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللَّهِ " . فَجَاءَ عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ ذَئِرَ النِّسَاءُ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ فَأْمُرْ بِضَرْبِهِنَّ . فَضُرِبْنَ فَطَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ ـ صلى الله عليه وسلم ـ طَائِفُ نِسَاءٍ كَثِيرٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ " لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّ امْرَأَةٍ تَشْتَكِي زَوْجَهَا فَلاَ تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ " .
It was narrated that Iyas bin 'Abdullah bin Abu Dhubab said:
"The Prophet said: 'Do not beat the female slaves of Allah.' Then 'Umar came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, the woman have become bold towards their husbands? So order the beatin g of them,' and they were beaten. Then many women went around to the family of Muhammad,. The next day he said: 'Last night seventy women came to the family of Muhammad, each woman complaining about her husband. You will not find that those are the best of you.' "
ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی بندیوں کو نہ مارو “ ، تو عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اللہ کے رسول ! عورتیں اپنے شوہروں پہ دلیر ہو گئی ہیں ، لہٰذا انہیں مارنے کی اجازت دیجئیے ( چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ) تو ان کو مار پڑی ، اب بہت ساری عورتیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کا چکر کاٹنے لگیں ، جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آل محمد کے گھر آج رات ستر عورتیں آئیں ، ہر عورت اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھی ، تو تم انہیں ( زیادہ مارنے والے مردوں کو ) بہتر لوگ نہ پاؤ گے “ ۔
"I was a guest (at the home) of 'Umar one night, and in the middle of the night he went and hit his wife, and I separated them. When he went to bed he said to me: 'O Ash'ath, learn from me something that I heard from the Messenger of Allah" A man should not be asked why he beats his wife, and do not go to sleep until you have prayed the Witr."' And I forgot the third thing."
Chapter 52: Those who put extensions in hair and those who make tattoos - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَتِي عُرَيِّسٌ وَقَدْ أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا . فَأَصِلُ لَهَا فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ " .
It was narrated that Asma' said:
"A woman came to the Prophet and said:, My daughter is going to get married, and she had the measles and her hair has fallen out. Can I put extensions in her hair?, The Messenger of Allah said: ‘Allah has cursed the one who does hair extensions and the one who has that done.'"
اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی : میری بیٹی دلہن ہے ، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے ، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جوڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے “ ۔
Chapter 52: Those who put extensions in hair and those who make tattoos - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ، حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُسْتَوْشِمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ الْمُغَيِّرَاتِ لِخَلْقِ اللَّهِ . فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ يَعْقُوبَ فَجَاءَتْ إِلَيْهِ فَقَالَتْ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ كَيْتَ وَكَيْتَ . قَالَ وَمَالِي لاَ أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ قَالَتْ إِنِّي لأَقْرَأُ مَا بَيْنَ لَوْحَيْهِ فَمَا وَجَدْتُهُ . قَالَ إِنْ كُنْتِ قَرَأْتِهِ فَقَدْ وَجَدْتِهِ أَمَا قَرَأْتِ {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} قَالَتْ بَلَى . قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ نَهَى عَنْهُ . قَالَتْ فَإِنِّي لأَظُنُّ أَهْلَكَ يَفْعَلُونَ . قَالَ اذْهَبِي فَانْظُرِي . فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ فَلَمْ تَرَ مِنْ حَاجَتِهَا شَيْئًا . قَالَتْ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولِينَ مَا جَامَعَتْنَا .
It was narrated that 'Abdulleh said:
"The Messenger of Allah cursed the woman who does tattoos and the one who has them done, and those who pluck their eyebrows and file their teeth for the purpose of beautification, and those who change the creation of Allah." News of that reached a woman of Banu Asad who was called Umm Ya'qub. She came to him and said: "I have heard that you said such and such." He said: 'Why should I not curse those whom the Messenger of Allah cursed ? And it is in the Book of Allah.'' She said: "I read what is between its two covers 'and I have not found that." He said: "If you read it properly you would have found it. Have you not read the words: 'And whatsoever the Messenger (Muhammad) gives you, take it; and whatsoever he forbids you, abstain (from it).'?" She said: "Of course." He said: 'The Messenger of Allah forbade that." She said: 'I think that your wife does it.' He said: " Go and look." So she went and looked and she did not see what she wanted. She said: "I have not seen anything!’ 'Abdullah said: "If she was as you say, I would not have kept her with me. "
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گودنے والیوں اور گودوانے والیوں ، بال اکھیڑنے والیوں ، خوبصورتی کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والیوں ، اور اللہ کی خلقت کو بدلنے والیوں پر لعنت فرمائی ہے ، قبیلہ بنو اسد کی ام یعقوب نامی ایک عورت کو یہ حدیث پہنچی تو وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی : مجھے خبر پہنچی ہے کہ آپ ایسا ایسا کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں مجھے کیا ہوا کہ میں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے ، اور یہ بات تو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود ہے ، وہ کہنے لگی : میں پورا قرآن پڑھتی ہوں ، لیکن اس میں مجھے یہ نہ ملا ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم پڑھتی ہوتی تو ضرور پاتی ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی : «وما آتاكم الرسول فخذوه وما نهاكم عنه فانتهوا» ” رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس چیز سے روک دیں اس سے باز آ جاؤ “ اس عورت نے کہا : ضرور پڑھی ہے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا ہے ، وہ عورت بولی : میرا خیال ہے کہ تمہاری بیوی بھی ایسا کرتی ہو گی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : جاؤ دیکھو ، چنانچہ وہ اسے دیکھنے کے لیے گئی تو اس نے کوئی بات اپنے خیال کے مطابق نہیں پائی ، تب کہنے لگی : میں نے تمہاری بیوی کے پاس ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر ایسا ہوتا جیسا تم کہہ رہی تھیں تو وہ کبھی میرے ساتھ نہ رہتی ۱؎ ۔
"The Prophet, married me in Shawwal, and he consummated the marriage with me in Shawwal, and which of his wives was more favored to him than I." 'Airhuh used to like marriage to be consummated with her female relatives in Shawwal.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شوال میں شادی کی اور شوال ہی میں ملن بھی کیا ، پھر کون سی بیوی آپ کے پاس مجھ سے زیادہ نصیب والی تھی ، اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے یہاں کی عورتوں کو شوال میں ( ان کے شوہروں کے پاس ) بھیجنا پسند کرتی تھیں ۔
It was narrated from Salim, from his father, that:
the Messenger of Allah said: "Omens are only to be found in three things: a horse, a woman and a house." (Sahih)(One of the narrators) Az-Zuhri said: " Abu 'Ubaidah bin 'Abdullah bin Zam'ah said that his mother, Zainab, narrated to him, from Umm Salamah, that she used to list these three, and add to them "the sword."
زہری کہتے ہیں : مجھ سے ابوعبیدہ نے بیان کیا کہ ان کی دادی زینب نے ان سے بیان کیا ، اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ وہ ان تین چیزوں کو گن کر بتاتی تھیں اور ان کے ساتھ تلوار کا اضافہ کرتی تھیں ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ فَأَمَّا مَا يُحِبُّ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَأَمَّا مَا يَكْرَهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:
the Messenger of Allah said: "There is a kind of protective jealousy that Allah loves and a kind that Allah hates. As for that which Allah loves, it is protective jealousy when there are grounds for suspicion. And as for that which He hates, it is protective jealousy when there are no grounds for suspicion."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بعض غیرت اللہ کو پسند ہے اور بعض ناپسند ، جو غیرت اللہ کو پسند ہے وہ یہ ہے کہ شک و تہمت کے مقام میں غیرت کرے ، اور جو غیرت ناپسند ہے وہ غیر تہمت و شک کے مقام میں غیرت کرنا ہے “ ۱؎ ۔