Bahz bin Hakim narrated from his father that his grandfather said:
“I said: 'O Messenger of Allah, with regard to our 'Awrah, what may we uncover of it and what must we conceal?' He said: 'Cover your 'Awrah, except from your wife and those whom your right hand possesses.' I said: 'O Messenger of Allah, what if the people live close together?' He said: 'If you can make sure that no one sees it, then do not let anyone see it.' I said: 'O Messenger of Allah, what if one of us is alone?' He said: 'Allah is more deserving that you should feel shy before Him than People.' ”
معاویہ بن حیدۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم اپنی شرمگاہیں کس قدر کھول سکتے ہیں اور کس قدر چھپانا ضروری ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوی یا لونڈی کے علاوہ ہمیشہ اپنی شرمگاہ چھپائے رکھو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر لوگ ملے جلے رہتے ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم ایسا کر سکو کہ تمہاری شرمگاہ کوئی نہ دیکھے تو ایسا ہی کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر ہم میں سے کوئی اکیلا ہو ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے اللہ زیادہ لائق ہے کہ اس سے شرم کی جائے “ ۱؎ ۔
Chapter 28: Covering oneself when having intercourse - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَوْلًى، لِعَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَا نَظَرْتُ - أَوْ مَا رَأَيْتُ - فَرْجَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَطُّ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ مَوْلاَةٍ لِعَائِشَةَ .
It was narrated from a freed slave of 'Aishah that 'Aishah said:
“I never looked at or I never saw the private part of the Messenger of Allah.' ”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شرمگاہ کبھی نہیں دیکھی ۔ ابوبکر بن ابوشیبہ کہتے ہیں کہ ابونعیم کی روایت میں «عن مولیٰ لعائشۃ» کے بجائے «عن مولاۃ لعائشۃ» ہے ۔
Chapter 29: Prohibition of having intercourse with women in the buttocks - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هَرَمِيٍّ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " إِنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ " . ثَلاَثَ مَرَّاتٍ لاَ تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ " .
It was narrated from Khuzaimah bin Thabit:
That the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah is not too shy to tell the truth,” three times. “Do not have intercourse with women in their buttocks.”
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ حق بات سے شرم نہیں کرتا “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین بار فرمایا ، اور فرمایا : ” عورتوں کی دبر میں جماع نہ کرو “ ۔
that he heard Jabir bin 'Abdullah say: “The Jews used to say that if a man has intercourse with a woman in her vagina from the back, the child would have a squint. Then Allah, Glorious is He, revealed: 'Your wives are a tilth for you, so go to your tilth, when or how you will.' ”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
یہود کہتے تھے کہ جس نے بیوی کی اگلی شرمگاہ میں پیچھے سے جماع کیا تو لڑکا بھینگا ہو گا ، چنانچہ اللہ سبحانہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی : «نساؤكم حرث لكم فأتوا حرثكم أنى شئتم» ( سورة البقرة : 223 ) ” تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں ، لہٰذا تم اپنی کھیتیوں میں جدھر سے چاہو آؤ “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ
" أَوَتَفْعَلُونَ لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا أَنْ تَكُونَ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ " .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Kudri said:
“A man asked the Messenger of about coitus interruptus. He said: 'Do you do that? If you do not do so, it will not harm; for there is no soul that (SWT) has decreed will exist but it will come into being.' “
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے ، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہو گی “ ۔ ۱؎
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ .
It was narrated that Jabir said:
'We used to practice coitus interruptus during the time of the Messenger of Allah when the Qur'an was being revealed.”
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عزل کیا کرتے تھے ، اور قرآن اترا کرتا تھا ۱؎ ۔
Chapter 31: A man should not be married to a woman along with her paternal or maternal aunt at the same time - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَنْهَى عَنْ نِكَاحَيْنِ أَنْ يَجْمَعَ الرَّجُلُ بَيْنَ الْمَرْأَةِ وَعَمَّتِهَا وَبَيْنَ الْمَرْأَةِ وَخَالَتِهَا .
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri said:
“I heard the Messenger of Allah forbid two types of marriage: For a man to be married to a woman and her paternal aunt (at the same time), and to a woman and her maternal aunt( at the same time).”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو نکاحوں سے منع فرماتے ہوئے سنا ، ایک یہ کہ کوئی شخص بھتیجی اور پھوپھی دونوں کو نکاح میں جمع کرے ، دوسرے یہ کہ خالہ اور بھانجی کو جمع کرے ۔
Chapter 31: A man should not be married to a woman along with her paternal or maternal aunt at the same time - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلاَ عَلَى خَالَتِهَا " .
Abu Bakr bin Abu Musa narrated that his father said:
“The Messenger of Allah said: “A man should not be married to a woman and her paternal aunt or maternal aunt at the same time.”
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت سے اس کی پھوپھی کے عقد میں ہوتے ہوئے نکاح نہ کیا جائے ، اور نہ ہی اس کی خالہ کے عقد میں ہوتے ہوئے اس سے نکاح کیا جائے “ ۔
Chapter 32: A man divorces his wife thrice, then another man marries her and divorces her before consummating the marriage. Can she go back to the first man? - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةَ، رِفَاعَةَ الْقُرَظِيِّ جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنِّي كُنْتُ عِنْدَ رِفَاعَةَ فَطَلَّقَنِي فَبَتَّ طَلاَقِي فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ . فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ
" أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ لاَ حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ " .
It was narrated from 'Aishah:
that the wife of Rifa'ah Al-Qurazi came to the Messenger of Allah and said: “I was married to Rifa'ah, and he divorced me and made it irrevocable. Then I married ' Abdur-Rahman bin Zubair, and what he has is like the fringe of a garment.” The Prophet smiled and said: “Do you want to go back to Rifa'ah? No, not until you taste his ('Abdur-Rahman's) sweetness and he tastes your sweetness.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رفاعہ قرظی کی بیوی ( رضی اللہ عنہا ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا کہ میں رفاعہ کے پاس تھی ، انہوں نے مجھے تین طلاق دے دی ، تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی ، اور ان کے پاس جو ہے وہ ایسا ہے جیسے کپڑے کا جھالر ۱؎ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، اور فرمایا : ” کیا تم پھر رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو ؟ نہیں ، یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم عبدالرحمٰن کا مزہ نہ چکھو ، اور وہ تمہارا مزہ نہ چکھیں “ ۲؎ ۔
Chapter 32: A man divorces his wife thrice, then another man marries her and divorces her before consummating the marriage. Can she go back to the first man? - كتاب النكاح
from the Prophet, concerning a man who had a wife then divorced her, then another man married her but divorced her before consummating the marriage. Could she go back to the first man? He said: “No, not until he tastes her sweetness.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے
ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں ، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے ، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے ، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے “ ۔
Chapter 33: The Muhallil and the Muhallal lahu - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ قَالَ لِي أَبُو مُصْعَبٍ مِشْرَحُ بْنُ هَاعَانَ قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَلاَ أُخْبِرُكُمْ بِالتَّيْسِ الْمُسْتَعَارِ " . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ " هُوَ الْمُحَلِّلُ لَعَنَ اللَّهُ الْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ " .
'Uqbah bin 'Amir narrated:
that the Messenger of said: 'Shall I not tell you of a borrowed billy goat.” They said: “Yes, O Messenger of!” He said: “He is Muhallil. May curse the Muhallil and the Muhallal lahu.”
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں تم کو «مستعار» ( مانگے ہوئے ) بکرے کے بارے میں نہ بتاؤں “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ضرور بتائیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ حلالہ کرنے والا ہے ، اللہ نے حلالہ کرنے اور کرانے والے دونوں پر لعنت کی ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 34: What is unlawful due to lineage is unlawful due to breastfeeding - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أُرِيدَ عَلَى بِنْتِ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ
" إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَإِنَّهُ يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas:
that the Messenger of was offered the daughter of Hamzah bin 'Abdul-Muttalib in marriage, and he said: “She is the daughter of my brother through breastfeeding, and breastfeeding makes unlawful (for marriage) the same things that blood ties make unlawful.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے نکاح کا مشورہ دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے ، اور رضاعت سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں “ ۱؎ ۔
Chapter 34: What is unlawful due to lineage is unlawful due to breastfeeding - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، حَدَّثَتْهُ أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّهَا، قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ انْكِحْ أُخْتِي عَزَّةَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَتُحِبِّينَ ذَلِكَ " . قَالَتْ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَإِنَّ ذَلِكَ لاَ يَحِلُّ لِي " . قَالَتْ فَإِنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّكَ تُرِيدُ أَنْ تَنْكِحَ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ . فَقَالَ " بِنْتَ أُمِّ سَلَمَةَ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " فَإِنَّهَا لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي وَأَبَاهَا ثُوَيْبَةُ فَلاَ تَعْرِضْنَ عَلَىَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلاَ بَنَاتِكُنَّ " .
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
It was narrated from 'Urwah bin Zubair that Zainab bint Abi Salmah told him that Umm Habibah told her that she said to Messenger of Allah:
“Marry my sister 'Azzah.” The Messenger of Allah said: 'Would you like that? “She said: “Yes, O Messenger of Allah. I am not the only one living with you and the one who most deserves to share good thingswith me is my sister.” The Messenger of Allah said: “But that is not permissible for me.” She said: “But we throught that you wanted to marry Durrah bint Abi Salmah.” The Messenger of Allah said: The daughter of Umm Salamah?” She said: “Yes” The Messenger of Allah said: “Even if she were not my step-daughter who is under my care, she would not be permissible for me, because she is the daughter of my brother through breastfeeding. Tuwaibah breastfed both her father and I. So do not offer your sisters and daughters to me for marriage.”
“Once of the things that Allah revealed in the the Qur'an and then abrogated was that nothing makes marriage prohibited except ten breastfeedings or five well-known (breastfeedings).”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
پہلے قرآن میں یہ آیت تھی ، پھر وہ ساقط و منسوخ ہو گئی ، وہ آیت یہ ہے «لا يحرم إلا عشر رضعات أو خمس معلومات» دس یا پانچ مقرر رضاعتوں کو واجب کرنے والی رضاعت ثابت ہوتی ہے ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ الْكَرَاهِيَةَ مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَىَّ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَرْضِعِيهِ " . قَالَتْ كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقَالَ " قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ " . فَفَعَلَتْ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ بَعْدُ . وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا .
It was narrated that 'Aishah said:
“Sahlah bint Suhail came to the Prophet and said: 'O Messenger of Allah, I see signs of displeasure on the face of Abu Hudhaifah when Salim enters upon me.” The Prophet said: “Breastfeed him.” She said: “How can I breastfeed him when he is a grown man? The Messenger of Allah smiled and said: “I know that he is a grown man.” So she did that, then she came to the Prophet and said: “I have never seen any signs of displeasure on the face of Abu Hudhayfah after that.” And he was present at (the battle of) Badr.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! سالم کے ہمارے پاس آنے جانے کی وجہ سے میں ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر ناگواری محسوس کرتی ہوں ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم سالم کو دودھ پلا دو “ ، انہوں نے کہا : میں انہیں دودھ کیسے پلاؤں گی وہ بڑی عمر کے ہیں ؟ ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا : ” مجھے معلوم ہے کہ وہ بڑی عمر کے ہیں “ ، آخر سہلہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہا : میں نے ابوحذیفہ کے چہرے پر اس کے بعد کوئی ایسی بات محسوس نہیں کی جسے میں ناپسند کروں ، اور ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک تھے ۔
“The Verse of stoning and of breastfeeding an adult ten times was revealed1, and the paper was with me under my pillow. When the Messenger of Allah died, we were preoccupied with his death, and a tame sheep came in and ate it.”
1: These verses were abrogated in recitation but not ruling. Other ahadith establish the number for fosterage to be 5.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رجم کی آیت اور بڑی عمر کے آدمی کو دس بار دودھ پلا دینے کی آیت اتری ، اور یہ دونوں آیتیں ایک کاغذ پہ لکھی ہوئی میرے تخت کے نیچے تھیں ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی ، اور ہم آپ کی وفات میں مشغول تھے ایک بکری آئی اور وہ کاغذ کھا گئی ۔
Chapter 37: There is no breastfeeding after weaning - كتاب النكاح
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ فَقَالَ " مَنْ هَذَا " . قَالَتْ هَذَا أَخِي . قَالَ " انْظُرُوا مَنْ تُدْخِلْنَ عَلَيْكُنَّ فَإِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنَ الْمَجَاعَةِ " .
It was narrated from 'Aishah:
that the Prophet entered upon her and there was a man with her. He said: “Who is this? She said: “This is my brother.” He said: “Look at whom you allow to enter upon you, because the breastfeeding (that makes a person Mahram) is that which satisfies hunger.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے ، اور اس وقت ایک شخص ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ” یہ کون ہیں “ ؟ انہوں نے کہا : یہ میرے بھائی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو جن لوگوں کو تم اپنے پاس آنے دیتی ہو انہیں اچھی طرح دیکھ لو ( کہ ان سے واقعی تمہارا رضاعی رشتہ ہے یا نہیں ) حرمت تو اسی رضاعت سے ثابت ہوتی ہے جو بچپن کی ہو جس وقت دودھ ہی غذا ہوتا ہے “ ۔