حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، قَالَ أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " الْبَيِّنَةُ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ " . فَقَالَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي . قَالَ فَنَزَلَتْ {وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ} . حَتَّى بَلَغَ {وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} . فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ " إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْ تَائِبٍ " . ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ {أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ} . قَالُوا لَهَا إِنَّهَا الْمُوجِبَةُ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ فَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ . فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ " . فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of the Prophet (ﷺ) of (committing adultery) with Sharik bin Sahma'. The Prophet said: "Bring proof or you will feel the Hadd (punishment) on your back." Hilal bin Umayyah said: "By the One Who sent you with the truth, I am telling the truth, and Allah will send down revelation concerning my situation which will spare my back." Then the following was revealed: "And for those who accuse their wives, but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them be four testimonies (i.e., testifies four times) by Allah that he is one of those who speak the truth. And the fifth (testimony should be) the invoking of the curse of Allah on him if he be of those who tell a lie (against her). But it shall avert the punishment (of stoning to death) from her, it she bears witness four times by Allah, that he (her husband) is telling a lie. And the fifth (testimony) should be that the wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth." The Prophet (ﷺ), turned and sent for them, and they came. Hilal bin Umayyah stood up and bore witness, and the Prophet (ﷺ) said: "Allah knows that one of you is lying. Will either of you repent?" Then she stood up and affirmed her innocence. On the fifth time, meaning that the wrath of Allah be upon her if he (her husband) speaks the truth, they said to her: "It will invoke the wrath of Allah." Ibn 'Abbas said: "She hesitated and backed up, until we thought that she was going to recant. Then she said: 'By Allah, I cannot dishonor my people for ever.' Then the Prophet (ﷺ) said: 'Wait and see. If she gives birth to a child with black eyes, fleshy buttocks and big calves, then he is the son of Sharik bin Sahma'.' And she gave birth to such a child. Then the Prophet (ﷺ) said: 'Had it not the matter been settled by the Book of Allah, I would have punished her severely.' "
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شریک بن سحماء کے ساتھ ( بدکاری کا ) الزام لگایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم گواہ لاؤ ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے لگیں گے ، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں ، اور اللہ تعالیٰ میرے بارے میں کوئی ایسا حکم اتارے گا جس سے میری پیٹھ حد لگنے سے بچ جائے گی ، راوی نے کہا : پھر یہ آیت اتری : «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ” جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس اپنے سوا کوئی گواہ نہیں ہوتے... “ یہاں تک کہ اخیر آیت : «والخامسة أن غضب الله عليها إن كان من الصادقين» ( سورة النور : ۶-۹ ) تک پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور ہلال اور ان کی بیوی دونوں کو بلوایا ، وہ دونوں آئے ، ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور گواہیاں دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کوئی ہے توبہ کرنے والا “ ، اس کے بعد ان کی بیوی کھڑی ہوئی اور اس نے گواہی دی ، جب پانچویں گواہی کا وقت آیا یعنی یہ کہنے کا کہ عورت پہ اللہ کا غضب نازل ہو اگر مرد سچا ہو تو لوگوں نے عورت سے کہا : یہ گواہی ضرور واجب کر دے گی ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ یہ سن کر وہ عورت جھجکی اور واپس مڑی یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ اب وہ اپنی گواہی سے پھر جائے گی ، لیکن اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تو اپنے گھر والوں کو زندگی بھر کے لیے رسوا اور ذلیل نہیں کروں گی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو اگر اس عورت کو کالی آنکھوں والا ، بھری سرین والا ، موٹی پنڈلیوں والا بچہ پیدا ہو ، تو وہ شریک بن سحماء کا ہے “ ، بالآخر اسی شکل کا لڑکا پیدا ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ جو ہو چکا نہ ہوا ہوتا تو میں اس عورت کے ساتھ ضرور کچھ سزا کا معاملہ کرتا “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ . فَقَالَ رَجُلٌ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ قَتَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَكَلَّمَ جَلَدْتُمُوهُ وَاللَّهِ لأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَاتِ اللِّعَانِ . ثُمَّ جَاءَ الرَّجُلُ بَعْدَ ذَلِكَ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ فَلاَعَنَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَهُمَا وَقَالَ
" عَسَى أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ " . فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا .
It was narrated that 'Abdullah said:
"We were in the mosque one Friday night when a man said: 'If a man finds a man with his wife and kills him, will you kill him, and if he speaks,will you flog him. By Allah I will mention that to the Prophet (ﷺ). So he mentioned that to the Prophet (ﷺ), and Allah revealed the Verses of Li'an. Then after that the man came and accused his wife, so the Prophet (ﷺ) told them to go through the procedure of Li'an and he said: 'Perhaps she will give birth to a black child.’ Then she gave birth to a black child with curly hair."
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم جمعہ کی رات کو مسجد میں تھے کہ ایک شخص آ کر کہنے لگا اگر کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے ، پھر اس کو مار ڈالے ، تو تم لوگ اس کو مار ڈالو گے ، اور اگر زبان سے کچھ کہے تو تم اسے کوڑے لگاؤ گے ، اللہ کی قسم میں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر ضرور کروں گا ، آخر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تب اللہ تعالیٰ نے لعان کی آیتیں نازل فرمائیں ، پھر وہ آیا اور اس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرایا اور فرمایا : ” میرا گمان ہے کہ شاید اس عورت کا بچہ کالا ہی پیدا ہو “ چنانچہ ایسا ہی ہوا ، اس کے یہاں کالا گھونگھریالے بال والا بچہ پیدا ہوا ۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ .
It was narrated from Ibn 'Umar that:
a man invoked curses on his wife, and refused to accept her child. The Messenger of Allah (ﷺ) separated them, and left the child with the woman.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک مرد نے اپنی بیوی سے لعان کیا ، اور اس کے بچے کا انکار کر دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں جدائی کرا دی اور بچہ کو ماں کو دیدیا ۱؎ ۔
"A man from among the Ansar manried a wornan from Bal'ijlan. He entered upon her and spent the night with her, then in the morning he said: 'I did not find her to be a virgin.' Her case was taken to the Prophet (ﷺ), and he called the girl and asked her. She said: 'No, I was a virgin.' So he told thern to go through the procedure of Li'an, and gave her the bridal-money.” (D a'if)
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
قبیلہ انصار کے ایک شخص نے قبیلہ بنی عجلان کی ایک عورت سے شادی کی ، اور اس کے پاس رات گزاری ، جب صبح ہوئی تو کہنے لگا : میں نے اسے کنواری نہیں پایا ، آخر دونوں کا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک لے جایا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکی کو بلایا ، اور اس سے پوچھا تو اس نے کہا : میں تو کنواری تھی ، پھر آپ نے حکم دیا تو دونوں نے لعان کیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مہر دلوا دیا ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ ضَمْرَةَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" أَرْبَعٌ مِنَ النِّسَاءِ لاَ مُلاَعَنَةَ بَيْنَهُنَّ النَّصْرَانِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ وَالْيَهُودِيَّةُ تَحْتَ الْمُسْلِمِ وَالْحُرَّةُ تَحْتَ الْمَمْلُوكِ وَالْمَمْلُوكَةُ تَحْتَ الْحُرِّ " .
It was nanated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather, that:
the Prophet (ﷺ) said: "There are four kinds of women for whom there is no Li'an: a Christian woman married to a Muslim, a Jewish woman married to a Muslim, a free woman married to a slave, and a slave woman married to a free man."
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار قسم کی عورتوں میں لعان نہیں ہے ، ایک تو نصرانیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو ، دوسری یہودیہ جو کسی مسلمان کے نکاح میں ہو ، تیسری آزاد عورت جو کسی غلام کے نکاح میں ہو ، چوتھی لونڈی جو کسی آزاد مرد کے نکاح میں ہو “ ۱؎ ۔
Chapter 28: Declaring a woman as unlawful for oneself - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ آلَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنْ نِسَائِهِ وَحَرَّمَ فَجَعَلَ الْحَرَامَ حَلاَلاً . وَجَعَلَ فِي الْيَمِينِ كَفَّارَةً .
It was narrated that 'Aishah said:
"The Messenger of Allah swore to keep away from his wives and declared them as unlawful for him, so he made something permissible forbidden, and he offered expiation for having sworn to do so."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے ایلاء کیا ، اور اپنے اوپر حلال کو حرام ٹھہرا لیا ۱؎ اور قسم کا کفارہ ادا کیا ۲؎ ۔
It was narrated from Sa'eed bin Jubair that Ibn 'Abbas said:
"For the one who makes unlawful is the swearing." (Sahih)And Ibn 'Abbas used to say: "You had the best example in the Messenger of Allah." (33:21)
سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : حلال کو حرام کرنے میں قسم کا کفارہ ہے ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے : «لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة» ( سورة الاحزاب : 21 ) ” تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے “ ۔
Chapter 29: Giving a slave woman the choice when she is freed - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَعْتَقَتْ بَرِيرَةَ فَخَيَّرَهَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ لَهَا زَوْجٌ حُرٌّ .
It was narrated from Aishah that:
she freed Barirah and the Messenger of Allah (ﷺ) gave her the choice, and she (Barirah) had a free husband.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کر دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اختیار دے دیا ، ( کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہیں یا اس سے جدا ہو جائیں ) اور ان کے شوہر آزاد تھے ۱؎ ۔
Chapter 29: Giving a slave woman the choice when she is freed - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ زَوْجُ بَرِيرَةَ عَبْدًا يُقَالُ لَهُ مُغِيثٌ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ يَطُوفُ خَلْفَهَا وَيَبْكِي وَدُمُوعُهُ تَسِيلُ عَلَى خَدِّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لِلْعَبَّاسِ " يَا عَبَّاسُ أَلاَ تَعْجَبُ مِنْ حُبِّ مُغِيثٍ بَرِيرَةَ وَمِنْ بُغْضِ بَرِيرَةَ مُغِيثًا " . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَوْ رَاجَعْتِيهِ فَإِنَّهُ أَبُو وَلَدِكِ " . قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَأْمُرُنِي قَالَ " إِنَّمَا أَشْفَعُ " . قَالَتْ لاَ حَاجَةَ لِي فِيهِ .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:
"The husband of Barirah was a slave called Mughith. It is as if I can see him now, walking behind her and weeping, with tears running down his cheeks. The Prophet (ﷺ) said to 'Abbas: 'O Abbas, are you not amazed by the love of Mughith for Barirah, and the hatred of Barirah for Mughith?' And the Prophet said to her: Why don’t you take him back, for he is the father of your child?' She said: 'O Messenger of Allah, are you commanding me (to do so)?' He said: 'No, rather I am interceding.' She said: 'I have no need of him.' "
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا اس کو مغیث کہا جاتا تھا ، گویا کہ میں اس وقت اس کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ بریرہ کے پیچھے پھر رہا ہے ، اور رو رہا ہے اور اس کے آنسو اس کے گالوں پہ بہہ رہے ہیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عباس رضی اللہ عنہ سے فرما رہے ہیں : ” عباس ! کیا تمہیں بریرہ سے مغیث کی محبت اور مغیث سے بریرہ کی نفرت پہ تعجب نہیں ہے “ ؟ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا سے کہا : ” کاش تو مغیث کے پاس لوٹ جاتی ، وہ تیرے بچے کا باپ ہے “ ، اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ مجھے حکم دے رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” نہیں ، میں صرف سفارش کر رہا ہوں “ ، تو وہ بولی : مجھے مغیث کی کوئی ضرورت نہیں ۔
Chapter 30: Divorce and waiting period of a slave woman - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُظَاهِرِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ " . قَالَ أَبُو عَاصِمٍ فَذَكَرْتُهُ لِمُظَاهِرٍ فَقُلْتُ حَدِّثْنِي كَمَا حَدَّثْتَ ابْنَ جُرَيْجٍ . فَأَخْبَرَنِي عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " طَلاَقُ الأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ " .
It was narrated from 'Aishah that the Prophet (ﷺ) said:
"The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles." Abu 'Asim said: "I mentioned this to Muzahir and said: 'Tell me what you told Ibn Juraij.' So he told me, narrating from Qasim from 'Aishah, that the Prophet (ﷺ) said: 'The divorce of a slave woman is twice, and her (waiting) period is two menstrual cycles."'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لونڈی کی دو طلاقیں ہیں ، اور اس کی عدت دو حیض ہے “ ۔ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے ، تو انہوں نے مجھے «قاسم عن عائشہ» کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے “ ۔
Chapter 31: The divorce performed by a slave - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَيُّوبَ الْغَافِقِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَيِّدِي زَوَّجَنِي أَمَتَهُ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنِي وَبَيْنَهَا . قَالَ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمِنْبَرَ فَقَالَ
" يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَا بَالُ أَحَدِكُمْ يُزَوِّجَ عَبْدَهُ أَمَتَهُ ثُمَّ يُرِيدُ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَهُمَا إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ " .
It was narrated that Ibn 'Abbas said:
"A man came to the Prophet (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, my master married me to his slave woman, and now he wants to separate me and her.' The Messenger of Allah (ﷺ) ascended the pulpit and said: 'O people, what is the matter with one of you who marries his slave to his slave woman, then wants to separate them? Divorce belongs to the one who takes hold of the calf (i.e., her husband).’ “
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے مالک نے اپنی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا تھا ، اب وہ چاہتا ہے کہ مجھ میں اور میری بیوی میں جدائی کرا دے ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا : ” لوگو ! تمہارا کیا حال ہے کہ تم میں سے ایک شخص اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیتا ہے ، پھر وہ چاہتا ہے کہ ان دونوں میں جدائی کرا دے ، طلاق تو اسی کا حق ہے جو عورت کی پنڈلی پکڑے “ ۱؎ ۔
lt was narrated that Abul Hasan, the freed slave of Banu Nawfal, said:
"Ibn 'Abbas was asked about a slave who divorces his wife twice, then (they are freed). Can he marry her? He said: 'Yes.' It was said to him: 'On what basis?' He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) passed such a judgement .' " (D a' if)
ابوالحسن مولی بنی نوفل کہتے ہیں کہ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس غلام کے بارے میں پوچھا گیا جس نے اپنی بیوی کو دو طلاق دے دی ہو پھر دونوں آزاد ہو جائیں ، کیا وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : ہاں ، کر سکتا ہے ، ان سے پوچھا گیا : یہ فیصلہ کس کا ہے ؟ تو وہ بولے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا فیصلہ کیا ۔ عبدالرزاق کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک نے کہا : ابوالحسن نے یہ حدیث روایت کر کے گویا ایک بڑا پتھر اپنی گردن پہ اٹھا لیا ہے ۔
Chapter 34: It is disliked for a recently widowed woman to adorn herself - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، . أَنَّهُ سَمِعَ زَيْنَبَ ابْنَةَ أُمِّ سَلَمَةَ، تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ أُمَّ سَلَمَةَ، وَأُمَّ حَبِيبَةَ تَذْكُرَانِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ ابْنَةً لَهَا تُوُفِّيَ عَنْهَا زَوْجُهَا فَاشْتَكَتْ عَيْنُهَا فَهِيَ تُرِيدُ أَنْ تَكْحَلَهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" قَدْ كَانَتْ إِحْدَاكُنَّ تَرْمِي بِالْبَعْرَةِ عِنْدَ رَأْسِ الْحَوْلِ وَإِنَّمَا هِيَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا " .
It was narrated from Humaid bin Nafi' that:
he heard Zainab the daughter of Umm Salamah narrating that she heard Umm Salamah and Umm Habibah mention that a woman came to the Prophet (ﷺ) and said that her daughter's husband had died, and she was suffering from an eye disease, and she wanted to apply kohl to her eyes (as a remedy). The Messenger of Allah (ﷺ) said: "One of you would throw a she-camel's dropping when a year had passed (since the death of her husband. Rather it is four months and ten (days)."
ام المؤمنین ام سلمہ اور ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہما ذکر کرتی ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ اس کی بیٹی کا شوہر مر گیا ہے ، اور اس کی بیٹی کی آنکھ دکھ رہی ہے وہ سرمہ لگانا چاہتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلے ( زمانہ جاہلیت میں ) تم سال پورا ہونے پر اونٹ کی مینگنی پھینکتی تھی اور اب تو عدت صرف چار ماہ دس دن ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 35: Can a woman mourn for anyone other than her husband? - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ حَفْصَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلاَثٍ إِلاَّ عَلَى زَوْجٍ " .
It was narrated from Hafsah the wife of the Prophet (ﷺ) that:
the Messenger of Allah (ﷺ), said: "It is not permissible for a woman who believes in Allah and the Last Day to mourn for any deceased person for more than three days, except for her husband."
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے “ ۔
It was narrated from Umm 'Atiyyah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
'No deceased person should be mourned for more than three days, except a woman should mourn for her husband for four months and ten days, and she should not wear dyed clothes, except for a garment of 'Asb, and she should not wear kohl or perfume, except at the beginning of her purity, when she may apply a little Qust and Azfar.’”
ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ نہ منایا جائے البتہ بیوی اپنے شوہر پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے ، رنگا ہوا کپڑا نہ پہنے ، ہاں رنگین بنی ہوئی چادر اوڑھ سکتی ہے ، سرمہ اور خوشبو نہ لگائے ، مگر حیض سے پاکی کے شروع میں تھوڑا سا قسط یا اظفار ( خوشبو ) لگا لے “ ۱؎ ۔
Chapter 36: A man whose father orders him to divorce his wife - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ خَالِهِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كَانَتْ تَحْتِي امْرَأَةٌ وَكُنْتُ أُحِبُّهَا وَكَانَ أَبِي يُبْغِضُهَا فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَنِي أَنْ أُطَلِّقَهَا فَطَلَّقْتُهَا .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said:
"I had a wife whom I loved, but my father hated her. 'Umar mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he ordered me to divorce her, so I divorced her."
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے نکاح میں ایک عورت تھی میں اس سے محبت کرتا تھا ، اور میرے والد اس کو برا جانتے تھے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اسے طلاق دے دوں ، چنانچہ میں نے اسے طلاق دے دی ۔
a man's father or mother - Shu'bah (one of the namators) was not sure - ordered him to divorce his wife, and he made a vow that he would free one hundred slaves if he did that. He came to Abu Darda' while he was praying the Duha, and he was making his prayer lengthy, and he prayed between Zuhr and 'Asr. Then he asked him and Abu Darda' said: "Fulfill your vow and honor your parents." Abu Ad-Darda' said: "I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: '(Honoring) one's father may lead one to enter through the best of the gates of Paradise; so take care of your parents, (it is so, whether you take care of them) or not. "
ابوعبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ
ایک شخص کو اس کی ماں نے یا باپ نے ( یہ شک شعبہ کو ہوا ہے ) حکم دیا کہ اپنی بیوی کو طلاق دیدے ، اس نے نذر مان لی کہ اگر اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو اسے سو غلام آزاد کرنا ہوں گے ، پھر وہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، وہ صلاۃ الضحیٰ ( چاشت کی نماز ) پڑھ رہے تھے ، اور اسے خوب لمبی کر رہے تھے ، اور انہوں نے نماز پڑھی ظہر و عصر کے درمیان ، بالآخر اس شخص نے ان سے پوچھا ، تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا : اپنی نذر پوری کرو ، اور اپنے ماں باپ کی اطاعت کرو ۔ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” باپ جنت میں جانے کا بہترین دروازہ ہے ، اب تم اپنے والدین کے حکم کی پابندی کرو ، یا اسے نظر انداز کر دو “ ۱؎ ۔
Chapter 18: The Prohibition Of Selling Water - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ مَضَى فِي بَرِيرَةَ ثَلاَثُ سُنَنٍ خُيِّرَتْ حِينَ أُعْتِقَتْ وَكَانَ زَوْجُهَا مَمْلُوكًا وَكَانُوا يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا فَتُهْدِي إِلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَيَقُولُ " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ " . وَقَالَ " الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
It was narrated that Aishah said:
'Three Sunan were established because of Barirah: She was given the choice (of whether to remain married) when she was freed, and her husband was a slave; they used to give her charity and she used to give it as a gift to the Prophet (ﷺ), and he would say: 'It is charity for her and a gift for us,' and he said, the 'Wala' is for the one who set the slave free.'"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
بریرہ میں تین سنتیں سامنے آئیں ایک تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئیں تو انہیں اختیار دیا گیا ، اور ان کے شوہر غلام تھے ، دوسرے یہ کہ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیا کرتے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ کر دیتیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : ” وہ اس کے لیے صدقہ ہے ، اور ہمارے لیے ہدیہ ہے “ ، تیسرے یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے سلسلہ میں فرمایا : ” حق ولاء ( غلام یا لونڈی کی میراث ) اس کا ہے جو آزاد کرے “ ۱؎ ۔