the Messenger of Allah said. "The Pen has been lifted from three : from the sleeping person until he awakens, from the minor until he grows up, and from the insane person until he comes to his senses."In his narration, (one of the narrators Abu Bakr (Ibn Abu Shaibah) said: "And from the afflicted person, unit he recovers" (1)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین افراد سے قلم اٹھا لیا گیا ہے : ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، تیسرے پاگل اور دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے “ ۔ ابوبکر کی روایت میں «وعن المجنون حتى يعقل» کے بجائے «وعن المبتلى حتى يبرأ» ” دیوانگی میں مبتلا شخص سے یہاں تک کہ وہ اچھا ہو جائے “ ہے ۱؎ ۔
Chapter 16: Divorce of one who is compelled, and of one who is forgetful - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لأُمَّتِي عَمَّا تُوَسْوِسُ بِهِ صُدُورُهَا . مَا لَمْ تَعْمَلْ بِهِ أَوْ تَتَكَلَّمْ بِهِ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ " .
It was narrated from Abu Hurairah that the:
Messenger of Allah (ﷺ) said : "Allah has forgiven my nation for the evil suggestions of their hearts, so long as they do not act upon it or speak of it, and for what they are forced to do."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے میری امت سے جو ان کے دلوں میں وسوسے آتے ہیں معاف کر دیا ہے جب تک کہ اس پہ عمل نہ کریں ، یا نہ بولیں ، اور اسی طرح ان کاموں سے بھی انہیں معاف کر دیا ہے جس پر وہ مجبور کر دیئے جائیں “ ۱؎ ۔
Chapter 18: (Words) by which divorce takes place - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، قَالَ سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ أَىُّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ اسْتَعَاذَتْ مِنْهُ فَقَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ الْجَوْنِ لَمَّا دَخَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَدَنَا مِنْهَا قَالَتْ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" عُذْتِ بِعَظِيمٍ . الْحَقِي بِأَهْلِكِ " .
Awza'i said :
"I asked Zuhri: 'Which of the wives of the Prophet (ﷺ) sought refuge with Allah from him? He said : "Urwah told me, (narrating) from 'Aishah, that when the daughter of Jawn entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he came close to her, she said: "I seek refuge with Allah from you." the Messenger of Allah (ﷺ) said : "You have sought refuge in the Almighty" go to your family."
اوزاعی کہتے ہیں
میں نے زہری سے پوچھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون سی بیوی نے آپ سے اللہ کی پناہ مانگی تو انہوں نے کہا : مجھے عروہ نے خبر دی کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : جَون کی بیٹی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت میں آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب گئے تو بولی : میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے ایک بڑی ہستی کی پناہ مانگی ہے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ “ ۱؎ ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Ali bin Yazid bin Rukanah, from his father, from his grandfather, that:
he divorced his wife irrevocably, then he came to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him. He said: "What did you mean by that?" He said: "One (divorce)." He said: "By Allah did you only mean one (divorce) thereby?" He said: "By Allah, I meant one." Then he sent her back to him. (Da'if)Muhammad bin Majah said: I heard Abul-Hasan ' Ali bin Muhammad Tanafisi saying: "How noble is this Hadith." Ibn Majah said: 'Abu 'Ubaid left it (i.e., did not accept its narration) and Ahmad was fearful of it (i.e., of narrating it)."
رکانہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق بتہ ( قطعی طلاق ) دے دی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے پوچھا : ” تم نے اس سے کیا مراد لی ہے “ ؟ انہوں نے کہا : ایک ہی مراد لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” قسم اللہ کی کیا تم نے اس سے ایک ہی مراد لی ہے “ ؟ ، انہوں نے کہا : قسم اللہ کی میں نے اس سے صرف ایک ہی مراد لی ہے ، تب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیوی انہیں واپس لوٹا دی ۱؎ ۔ محمد بن ماجہ کہتے ہیں : میں نے محمد بن حسن بن علی طنافسی کو کہتے سنا : یہ حدیث کتنی عمدہ ہے ۔ ابن ماجہ کہتے ہیں : ابوعبیدہ نے یہ حدیث ایک گوشے میں ڈال دی ہے ، اور احمد اسے روایت کرنے کی ہمت نہیں کر سکے ہیں ۔
"When the following was revealed: 'But if you desire Allah and His Messenger, (ﷺ) the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me and said: 'O Aishah I want to say something to you, and you do not have to hasten (in making a decision) until you have consulted your parents."' She said: "He knew, by Allah, that my parents would never tell me to leave him." She said: "Then he recited to me: ' O Prophet (Muhammad)! Say to your wives: " If you desire the life of this world, and its glitter.'" I said: 'Do I need to consult my parents about this? I choose Allah and His Messenger."'
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب آیت : «وإن كنتن تردن الله ورسوله» اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے پاس آ کر فرمایا : ” عائشہ ! میں تم سے ایک بات کہنے والا ہوں ، تم اس میں جب تک اپنے ماں باپ سے مشورہ نہ کر لینا جلد بازی نہ کرنا “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اللہ کی قسم ! آپ خوب جانتے تھے کہ میرے ماں باپ کبھی بھی آپ کو چھوڑ دینے کے لیے نہیں کہیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر یہ آیت پڑھی : «يا أيها النبي قل لأزواجك إن كنتن تردن الحياة الدنيا وزينتها» ( سورة الأحزاب : 28 ) ” اے نبی ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئیے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش و زیبائش پسند کرتی ہو تو آؤ میں تم کو کچھ دے کر اچھی طرح رخصت کر دوں ، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور یوم آخرت کو چاہتی ہو تو تم میں سے جو نیک ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے ... “ ( یہ سن کر ) میں بولی : کیا میں اس میں اپنے ماں باپ سے مشورہ لینے جاؤں گی ! میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کر چکی ہوں ۱؎ ۔
Chapter 21: That Khul` is undesirable for the women - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ أَبُو بِشْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَمِّهِ، عُمَارَةَ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" لاَ تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا الطَّلاَقَ فِي غَيْرِ كُنْهِهِ فَتَجِدَ رِيحَ الْجَنَّةِ . وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِينَ عَامًا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:
"No woman asks for divorce when it is not absolutely necessary, but she will never smell the fragrance of paradise, although its fragrance can be detected from a distance of forty years' travel. "
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورت بغیر کسی حقیقی وجہ اور واقعی سبب کے اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ وہ جنت کی خوشبو پا سکے ، جب کہ جنت کی خوشبو چالیس سال کی مسافت سے پائی جاتی ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 21: That Khul` is undesirable for the women - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلاَقَ فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ " .
It was narrated from Thawban that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
'Any woman who asks her husband for a divorce when it is not absolutely necessary, the fragrance of Paradise will be forbidden to her.'"
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کسی عورت نے اپنے شوہر سے بغیر کسی ایسی تکلیف کے جو طلاق لینے پر مجبور کرے طلاق کا مطالبہ کیا ، تو اس پہ جنت کی خوشبو حرام ہے “ ۔
Chapter 22: The man whose wife (seeks) Khul` takes what he had given her - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ سَلُولَ، أَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتٍ فِي دِينٍ وَلاَ خُلُقٍ . وَلَكِنِّي أَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الإِسْلاَمِ لاَ أُطِيقُهُ بُغْضًا . فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا حَدِيقَتَهُ وَلاَ يَزْدَادَ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
Jamilah bint Salul came to the Prophet (ﷺ) and said: "By Allah, I do not find any fault with Thabit regarding his religion nor his behavior, but I hate disbelief after becoming Muslim and I cannot stand him. "The Prophet (ﷺ) said to her: 'WiIl you give him back his garden?" She said: "Yes." So the Messenger of Allah (ﷺ) told him to take back his garden from her and no more than that.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
جمیلہ بنت سلول رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کی قسم میں ( اپنے شوہر ) ثابت پر کسی دینی و اخلاقی خرابی سے غصہ نہیں کر رہی ہوں ، لیکن میں مسلمان ہو کر کفر ( شوہر کی ناشکری ) کو ناپسند کرتی ہوں ، میں ان کے ساتھ نہیں رہ پاؤں گی کیونکہ شکل و صورت سے وہ مجھے ناپسند ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” کیا ان کا دیا ہوا باغ واپس لوٹا دو گی “ ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کو حکم دیا کہ اپنی بیوی جمیلہ سے اپنا باغ لے لیں ، اور زیادہ نہ لیں ۱؎ ۔
Chapter 22: The man whose wife (seeks) Khul` takes what he had given her - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ حَبِيبَةُ بِنْتُ سَهْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَكَانَ رَجُلاً دَمِيمًا . فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةُ اللَّهِ إِذَا دَخَلَ عَلَىَّ لَبَصَقْتُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ " . قَالَتْ نَعَمْ . قَالَ فَرَدَّتْ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ . قَالَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, that his grandfather said:
"Habibah bint Sahl was married to Thabit bin Qais bin Shammas, who was an ugly man. She said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) by Allah, were it not for fear of Allah when he enters upon me I would spit in his face.' The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Will you give him back his garden?' She :said: 'Yes.' So she gave him back his garden and the Messenger of Allah (ﷺ) separated them."
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں ، وہ ناٹے اور بدصورت آدمی تھے ، حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ کا ڈر نہ ہوتا تو ثابت جب میرے پاس آئے تو میں ان کے منہ پر تھوک دیتی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ان کا باغ واپس لوٹا دو گی “ ؟ کہا : ہاں ، اور ان کا باغ انہیں واپس دے دیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی ۔
It was narrated from 'Ubadah bin Samit from Rubai' bint Mu'awwidh bin 'Afra'.:
He said: "I said to her: 'Tell me your Hadith.' She said: 'I got Khul' from my husband, then I came to 'Uthman and asked him: "What waiting period do I have to observe?" He said: "You do not have to observe any waiting period, unless you had intercourse with him recently, in which case you should stay with him until you have menstruated." In that he was following the ruling of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning Maryam Maghaliyyah, who was married to Thabit bin Qais and she got Khul' from him.' "
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے ربیع بنت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہا سے کہا : تم مجھ سے اپنا واقعہ بیان کرو ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے شوہر سے خلع کرا لیا ، پھر میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر پوچھا : مجھ پر کتنی عدت ہے ؟ انہوں نے کہا : تم پر کوئی عدت نہیں مگر یہ کہ تمہارے شوہر نے حال ہی میں تم سے صحبت کی ہو ، تو تم اس کے پاس رکی رہو یہاں تک کہ تمہیں ایک حیض آ جائے ، ربیع رضی اللہ عنہا نے کہا : عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کی پیروی کی ، جو آپ نے بنی مغالہ کی خاتون مریم رضی اللہ عنہا کے سلسلے میں کیا تھا ، جو ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں اور ان سے خلع کر لیا تھا ۱؎ ۔
"The Messenger of Allah (ﷺ) swore that he would not enter upon his wives for a month, and he stayed for twenty-nine days until, on the eve of the thirtieth, he entered upon me. I said: 'You swore not to enter upon us for a month.' He said: 'The month may be like this,' and he held up his (ten) fingers three times; 'or the month may be like this,' and he held up his fingers three times, keeping one finger down on the third time."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ ایک ماہ تک اپنی بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے ، آپ ۲۹ دن تک رکے رہے ، جب تیسویں دن کی شام ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے ، میں نے کہا : آپ نے تو ایک ماہ تک ہمارے پاس نہ آنے کی قسم کھائی تھی ؟ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ اس طرح ہوتا ہے آپ نے دونوں ہاتھوں کی ساری انگلیوں کو کھلا رکھ کر تین بار فرمایا ، اس طرح کل تیس دن ہوئے ، پھر فرمایا : ” اور مہینہ اس طرح بھی ہوتا ہے “ اس بار دو دفعہ ساری انگلیوں کو کھلا رکھا ، تیسری بار میں ایک انگلی بند کر لی ۔
Chapter 24: Swearing to forego marital relations with one’s wife - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنَّمَا آلَى لأَنَّ زَيْنَبَ رَدَّتْ عَلَيْهِ هَدِيَّتَهُ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ لَقَدْ أَقْمَأَتْكَ . فَغَضِبَ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَآلَى مِنْهُنَّ .
It was narrated from Aishah that:
the Messenger of Allah (ﷺ) swore to keep away from his wives, because Zainab had sent back her gift and 'Aishah said: "She has disgraced you." He became angry and swore to keep away from them.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایلاء کیا ، اس لیے کہ ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کا بھیجا ہوا ہدیہ واپس کر دیا تھا ، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : زینب نے آپ کی بےقدری کی ہے ، یہ سن کر آپ غصہ ہوئے اور ان سب سے ایلاء کر لیا ۱؎ ۔
the Messenger of Allah (ﷺ) swore to keep away from some of his wives for a month. On the twenty-ninth day, in the evening or the morning, it was said: "O Messenger of Allah, only twenty-nine days have passed." He said: "The month is twenty-nine days."
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعض بیویوں سے ایک ماہ کا ایلاء کیا ، جب ۲۹ دن ہو گئے تو آپ صبح کو یا شام کو بیویوں کے پاس تشریف لے گئے ، عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ابھی تو ۲۹ ہی دن ہوئے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ ۲۹ کا بھی ہوتا ہے “ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ صَخْرٍ الْبَيَاضِيِّ، قَالَ كُنْتُ امْرَأً أَسْتَكْثِرُ مِنَ النِّسَاءِ لاَ أُرَى رَجُلاً كَانَ يُصِيبُ مِنْ ذَلِكَ مَا أُصِيبُ فَلَمَّا دَخَلَ رَمَضَانُ ظَاهَرْتُ مِنِ امْرَأَتِي حَتَّى يَنْسَلِخَ رَمَضَانُ فَبَيْنَمَا هِيَ تُحَدِّثُنِي ذَاتَ لَيْلَةٍ انْكَشَفَ لِي مِنْهَا شَىْءٌ فَوَثَبْتُ عَلَيْهَا فَوَاقَعْتُهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ عَلَى قَوْمِي فَأَخْبَرْتُهُمْ خَبَرِي وَقُلْتُ لَهُمْ سَلُوا لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . فَقَالُوا مَا كُنَّا لِنَفْعَلَ إِذًا يُنْزِلَ اللَّهُ فِينَا كِتَابًا أَوْ يَكُونَ فِينَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَوْلٌ فَيَبْقَى عَلَيْنَا عَارُهُ وَلَكِنْ سَوْفَ نُسَلِّمُكَ لِجَرِيرَتِكَ اذْهَبْ أَنْتَ فَاذْكُرْ شَأْنَكَ لِرَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ . قَالَ فَخَرَجْتُ حَتَّى جِئْتُهُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " أَنْتَ بِذَاكَ " . فَقُلْتُ أَنَا بِذَاكَ وَهَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَابِرٌ لِحُكْمِ اللَّهِ عَلَىَّ . قَالَ " فَأَعْتِقْ رَقَبَةً " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَصْبَحْتُ أَمْلِكُ إِلاَّ رَقَبَتِي هَذِهِ . قَالَ " فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ " . قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ دَخَلَ عَلَىَّ مَا دَخَلَ مِنَ الْبَلاَءِ إِلاَّ بِالصَّوْمِ قَالَ " فَتَصَدَّقْ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا " . قَالَ قُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ بِتْنَا لَيْلَتَنَا هَذِهِ مَا لَنَا عَشَاءٌ . قَالَ " فَاذْهَبْ إِلَى صَاحِبِ صَدَقَةِ بَنِي زُرَيْقٍ فَقُلْ لَهُ فَلْيَدْفَعْهَا إِلَيْكَ وَأَطْعِمْ سِتِّينَ مِسْكِينًا وَانْتَفِعْ بِبَقِيَّتِهَا " .
It was narrated that Salamah bin Sakhr Al-Bayadi said:
"I was a man who had a lot of desire for women, and I do not think there was any man who had as great a share of that as me. When Ramadan began, I declared Zihar upon my wife (to last) until Ramadan ended. While she was talking to me one night, part of her body became uncovered. I jumped on her and had intercourse with her. The next morning I went to my people and told them, and said to them: 'Ask the Messenger of Allah (ﷺ) for me.' They said: 'We will not do that, lest Allah reveal Quran concerning us or the Messenger of Allah (ﷺ) says, something about us, and it will be a lasting source of disgrace for us. Rather we will leave you to deal with it yourself. Go yourself and tell the Messenger of Allah (ﷺ) about your problem.' So I went out and when I came to him, I told him what happened. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Did you really do that?' I said: 'I really did that, and here I am, O Messenger of Allah. (ﷺ) I will bear Allah’s ruling on me with patience.' He said: 'Free a slave.' I said: 'By the One Who sent you with the truth, I do not own anything but myself.' He said: 'Fast for two consecutive months.' I said: 'O Messenger of Allah, the thing that happened to me was only because of fasting.' He said: 'Then give charity, or feed sixty poor persons.' I said: 'By the One Who sent you with the truttu we spent last night with no dinner.' He said: 'Then go to the collector of charity of Banu Zuraiq, and tell him to give you something, then feed sixty poor persons, and benefit from the rest.'"
سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں ایک ایسا آدمی تھا جسے عورتوں کی بڑی چاہت رہتی تھی ، میں کسی مرد کو نہیں جانتا جو عورت سے اتنی صحبت کرتا ہو جتنی میں کرتا تھا ، جب رمضان آیا تو میں نے اپنی بیوی سے رمضان گزرنے تک ظہار کر لیا ، ایک رات وہ مجھ سے باتیں کر رہی تھی کہ اس کا کچھ بدن کھل گیا ، میں اس پہ چڑھ بیٹھا ، اور اس سے مباشرت کر لی ، جب صبح ہوئی تو میں اپنے لوگوں کے پاس گیا ، اور ان سے اپنا قصہ بیان کیا ، میں نے ان سے کہا : تم لوگ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھو ، تو انہوں نے کہا : ہم نہیں پوچھیں گے ، ایسا نہ ہو کہ ہماری شان میں وحی اترے ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم لوگوں کے سلسلے میں کچھ فرما دیں ، اور اس کا عار ہمیشہ کے لیے باقی رہے لیکن اب یہ کام ہم تمہارے ہی سپرد کرتے ہیں ، اب تم خود ہی جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا حال بیان کرو ۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں خود ہی چلا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ سے واقعہ بیان کیا ، آپ نے فرمایا : ” تم نے یہ کام کیا ہے “ ؟ میں نے عرض کیا : ہاں ، اے اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں اور اپنے بارے میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایک غلام آزاد کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، میں تو صرف اپنی جان کا مالک ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لگاتار دو ماہ کے روزے رکھو ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول یہ بلا جو میرے اوپر آئی ہے روزے ہی کہ وجہ سے تو آئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو صدقہ دو ، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ “ ، میں نے کہا : قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ہم نے یہ رات اس حالت میں گزاری ہے کہ ہمارے پاس رات کا کھانا نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بنی زریق کا صدقہ وصول کرنے والے کے پاس جاؤ ، اور اس سے کہو کہ وہ تمہیں کچھ مال دیدے ، اور اس میں سے ساٹھ مسکینوں کو کھلاؤ اور جو بچے اپنے کام میں لے لو “ ۱؎ ۔
It was narrated from 'Urwah bin Zubair, that 'Aishah said:
"Blessed is the One Whose hearing encompasses all things. I heard some of the words of Khawlah bint Tha'labah, but some of her words were not clear to me, when she complained to the Messenger of Allah (ﷺ) about her husband, and said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) he has consumed my youth and I split my belly for him (i.e., bore him many children), but when I grew old and could no longer bear children he declared Zihar upon me; O Allah, I complain to You.' She continued to complain until Jibra'il brought down these Verses: 'Indeed Allah has heard the statement of she who pleads with you (O Muhammad) concerning her husband, and complains to Allah" (58:1)
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا
بابرکت ہے وہ ذات جو ہر چیز کو سنتی ہے ، میں خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کی بات سن رہی تھی ، کچھ باتیں سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے شوہر کی شکایت کر رہی تھیں کہ میرا شوہر میری جوانی کھا گیا ، میں اس کی اولاد جنتی رہی ، جب میں بوڑھی ہو گئی اور ولادت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ، تو اس نے مجھ سے ظہار کر لیا ، اے اللہ ! میں تجھ ہی سے شکوہ کرتی ہوں ، وہ ابھی وہاں سے ہٹی بھی نہیں تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیتیں لے کر اترے : «قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها وتشتكي إلى الله» ( سورة المجادلة : 1 ) ” اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی “ ۱؎ ۔
Chapter 26: A man who declared Zihar upon his wife, having intercourse with her before offering expiation - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلاً، ظَاهَرَ مِنِ امْرَأَتِهِ فَغَشِيَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ فَأَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ
" مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ بَيَاضَ حِجْلَيْهَا فِي الْقَمَرِ فَلَمْ أَمْلِكْ نَفْسِي أَنْ وَقَعْتُ عَلَيْهَا . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَأَمَرَهُ أَلاَّ يَقْرَبَهَا حَتَّى يُكَفِّرَ .
It was narrated from Ibn 'Abbas that:
a man declared Zihar upon his wife, then he had intercourse with her before offering expiation. He came to the Prophet (ﷺ) and told him about that. He said: "What made you do that?" He said: "I saw her ankles in the moonlight, and I could not control myself, and I had intercourse with her." The Messenger of Allah (ﷺ) smiled and told him not to go near her until he had offered expiation.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا ، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا ، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” تم نے ایسا کیوں کیا “ ؟ وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی ، میں بے اختیار ہو گیا ، اور اس سے جماع کر بیٹھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے ، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے ۔
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ، مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ جَاءَ عُوَيْمِرٌ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ فَقَالَ سَلْ لِي رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَقَتَلَهُ أَيُقْتَلُ بِهِ أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ ذَلِكَ فَعَابَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَسَائِلَ . ثُمَّ لَقِيَهُ عُوَيْمِرٌ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَا صَنَعْتَ فَقَالَ صَنَعْتُ أَنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَعَابَ الْمَسَائِلَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَلأَسْأَلَنَّهُ . فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا فَلاَعَنَ بَيْنَهُمَا فَقَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لَئِنِ انْطَلَقْتُ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا . قَالَ فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَصَارَتْ سُنَّةً فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" انْظُرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الأَلْيَتَيْنِ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ فَلاَ أُرَاهُ إِلاَّ كَاذِبًا " . قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ .
It was narrated that Sahl bin Sa'd As-Sa'idi said:
"Uwaimir came to 'Asim bin 'Adi and said: 'Ask the Messenger of Ailah (ﷺ) for me: "Do you think that if a man finds another man with his wife and kills him, he should be killed in retaliation, or what should he do?" 'Asim asked the Messenger of Allah (ﷺ) about that, and the Messenger of Allah (ﷺ) disapproved of the question. Then 'Uwaimir met him ('Asim) and asked him about that, saying: 'What did you do?’ He said: I did that and you have not brought me any good. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) and he disapproved of this question.’ Uwaimir said: 'By Allah, I will go to the Messenger of Allah (ﷺ) myself and ask him.' So he went to the Messenger of Allah (ﷺ) and found that Qur'an had been revealed concerning them, and the Prophet (ﷺ) told them to go through the procedure of Li'an. 'Uwaimir said: 'O Messenger of Allah, (ﷺ) by Allah if I take her back, I would have been telling lies about her.' So he left her before the Messenger of Allah (ﷺ) told him to do so, and that became the Sunnah for two who engage in the procedure of Li'an. Then the Prophet (ﷺ) said: 'Wait and see. If she gives birth to a child who is black in color with widely-spaced dark eyes and large buttocks, then I think that he was telling the truth about her, but if she gives birth to a child with a red complexion like a Wahrah,[1] then I think that he was lying.' Then she gave birth to a child with features resembling those of the man concerning whom she was accused."
سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
عویمر عجلانی ( رضی اللہ عنہ ) عاصم بن عدی ( رضی اللہ عنہ ) کے پاس آئے ، اور کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے لیے یہ مسئلہ پوچھو کہ اگر کوئی مرد اپنی عورت کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو ( زنا ) کرتے ہوئے پائے پھر اس کو قتل کر دے تو کیا اس کے بدلے اسے بھی قتل کر دیا جائے گا یا وہ کیا کرے ؟ عاصم ( رضی اللہ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے سوالات برے لگے ۱؎ ، پھر عویمر ( رضی اللہ عنہ ) عاصم ( رضی اللہ عنہ ) سے ملے اور پوچھا : تم نے کیا کیا ؟ عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے کیا جو کیا یعنی پوچھا لیکن تم سے مجھے کوئی بھلائی نہیں پہنچی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے اس طرح کے سوالوں کو برا جانا ، عویمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اللہ کی قسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خود جاؤں گا اور آپ سے پوچھوں گا ، چنانچہ وہ خود آپ کے پاس آئے تو دیکھا کہ ان دونوں کے بارے میں وحی اتر چکی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرا دیا ، عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اب اگر اس عورت کو میں ساتھ لے جاؤں تو گویا میں نے اس پر تہمت لگائی چنانچہ انہوں نے اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے پہلے ہی چھوڑ دیا ، پھر لعان کرنے والوں کے بارے میں یہ دستور ہو گیا ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو اگر عویمر کی عورت کالے رنگ کا ، کالی آنکھوں والا ، بڑی سرین والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر سچے ہیں ، اور اگر سرخ رنگ کا بچہ جنے جیسے وحرہ ( سرخ کیڑا ہوتا ہے ) تو میں سمجھتا ہوں وہ جھوٹے ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر اس عورت کا بچہ بری شکل پہ پیدا ہوا ۔