I asked AbuTha'labah al-Khushani: What is your opinion about the verse "Care for yourselves".
He said: I swear by Allah, I asked the one who was well informed about it; I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about it.
He said: No, enjoin one another to do what is good and forbid one another to do what is evil.
But when you see niggardliness being obeyed, passion being followed, worldly interests being preferred, everyone being charmed with his opinion, then care for yourself, and leave alone what people in general are doing; for ahead of you are days which will require endurance, in which showing endurance will be like grasping live coals. The one who acts rightly during that period will have the reward of fifty men who act as he does.
Another version has: He said (The hearers asked:) Messenger of Allah, the reward of fifty of them?
He replied: The reward of fifty of you.
ابوامیہ شعبانی کہتے ہیں کہ
میں نے ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : ابوثعلبہ ! آپ آیت کریمہ «عليكم أنفسكم» کے متعلق کیا کہتے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : قسم اللہ کی ! تم نے اس کے متعلق ایک جانکار شخص سے سوال کیا ہے ، میں نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ( کہ کیا اس آیت کی رو سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت باقی نہیں رہی ؟ ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ تم بھلی بات کا حکم دو ، اور بری بات سے روکو ، یہاں تک کہ تم یہ نہ دیکھ لو کہ بخیلی کی تابعداری ہو رہی ہو اور خواہش نفس کی پیروی کی جاتی ہو اور دنیا کو ترجیح دیا جاتا ہو اور ہر صاحب رائے کا اپنی رائے میں مگن ہونا دیکھ لو ، تو اس وقت تم اپنی ذات کو لازم پکڑنا اور عوام کو چھوڑ دینا کیونکہ اس کے بعد صبر کے دن ہوں گے ان میں صبر کرنا ایسے ہی ہو گا جیسے چنگاری ہاتھ میں لینا ، ان دنوں میں عمل کرنے والے کو پچاس آدمیوں کے برابر جو اسی جیسا عمل کرتے ہوں ثواب ملے گا “ اور ان کے علاوہ نے اس میں یہ اضافہ کیا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ ثواب ایسے پچاس شخصوں کا ہو گا جو انہیں میں سے ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں بلکہ تم میں سے پچاس شخصوں کا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: How will you do when that time will come? Or he said: A time will soon come when the people are sifted and only dregs of mankind survive and their covenants and guarantees have been impaired and they have disagreed among themselves and become thus, interwining his fingers. They asked: What do you order us to do, Messenger of Allah? He replied: Accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs and leave alone the affairs of the generality.
Abu dawud said: A similar tradition has been transmitted by 'Abd Allah bin 'Amr from the Prophet (ﷺ) through different chain.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا اس زمانہ میں کیا حال ہو گا ؟ “ یا آپ نے یوں فرمایا : ” عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ لوگ چھن اٹھیں گے ، اچھے لوگ سب مر جائیں گے ، اور کوڑا کرکٹ یعنی برے لوگ باقی رہ جائیں گے ، ان کے عہد و پیمان اور ان کی امانتوں کا معاملہ بگڑ چکا ہو گا ( یعنی لوگ بدعہدی اور امانتوں میں خیانت کریں گے ) آپس میں اختلاف کریں گے اور اس طرح ہو جائیں گے “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا ، تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس وقت ہم کیا کریں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو بات تمہیں بھلی لگے اسے اختیار کرو ، اور جو بری لگے اسے چھوڑ دو ، اور خاص کر اپنی فکر کرو ، عام لوگوں کی فکر چھوڑ دو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اس سند کے علاوہ سے بھی مروی ہے ۔
When we were around the Messenger of Allah (ﷺ), he mentioned the period of commotion (fitnah) saying: When you see the people that their covenants have been impaired, (the fulfilling of) the guarantees becomes rare, and they become thus (interwining his fingers). I then got up and said: What should I do at that time, may Allah make me ransom for you? He replied: Keep to your house, control your tongue, accept what you approve, abandon what you disapprove, attend to your own affairs, and leave alone the affairs of the generality.
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران آپ نے فتنہ کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم لوگوں کو دیکھو کہ ان کے عہد فاسد ہو گئے ہوں ، اور ان سے امانتداریاں کم ہو گئیں ہوں “ اور آپ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بتایا کہ ان کا حال اس طرح ہو گیا ہو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : یہ سن کر میں آپ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ، اور میں نے عرض کیا : اللہ مجھے آپ پر قربان فرمائے ! ایسے وقت میں میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنے گھر کو لازم پکڑنا ، اور اپنی زبان پر قابو رکھنا ، اور جو چیز بھلی لگے اسے اختیار کرنا ، اور جو بری ہو اسے چھوڑ دینا ، اور صرف اپنی فکر کرنا عام لوگوں کی فکر چھوڑ دینا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: When sin is done in the earth, he who sees it and disapproves of it will be taken like one who was not present, but he who is not present and approves of it will be like him who sees.
عرس بن عمیرہ کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب زمین پر گناہ کے کام کئے جاتے ہوں تو جو شخص وہاں حاضر رہا اور اسے ناپسند کیا یا برا جانا اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جس نے اسے دیکھا ہی نہ ہو ، اور جو شخص وہاں حاضر نہ تھا لیکن اسے پسند کیا تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو وہاں حاضر تھا “ ( یعنی اسے بھی گناہ سے رضا مندی کے باعث گناہ ملے گا ) ۔
Chapter 1603: Command And Prohibition - كتاب الملاحم
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ عُمَرَ، قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، - وَهَذَا لَفْظُهُ - عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ، سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ وَقَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتَّى يَعْذِرُوا أَوْ يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِمْ " .
A man from among the companions of the prophet (ﷺ) reported him as saying:
The people will not perish until their sins and faults become abundant, and there remains no excuse for them.
ابوالبختری کہتے ہیں کہ
مجھے اس شخص نے خبر دی ہے جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ، اور سلیمان کی روایت میں ہے کہ مجھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص نے بیان کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ اس وقت تک ہلاک نہیں ہوں گے جب تک ان کے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے یا وہ خود اپنا عذر زائل نہ کر لیں “ ۔
Chapter 1604: The onset of the hour - كتاب الملاحم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلاَةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ
" أَرَأَيْتُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَى رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ أَحَدٌ " . قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تِلْكَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ عَنْ هَذِهِ الأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاَ يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الأَرْضِ يُرِيدُ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِكَ الْقَرْنُ .
‘Abd Allah b. ‘Umar said :
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in the night prayer one night towards the end of his life. When he uttered the salutation, he got up and said : Have you seen this night of yours ? No one of those who are on the surface of the earth will survive at the ends of one hundred years. Ibn ‘Umar said: The people fell into fallacy by this statement of the Messenger of Allah (ﷺ) about the traditions they used to narrate concerning one hundred years. The Messenger of Allah (ﷺ) said: No one of those who are present today on the surface of the earth will survive, meaning when that century comes to and end.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات ہمیں عشاء پڑھائی ، پھر جب سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” تمہیں پتا ہے ، آج کی رات کے سو سال بعد اس وقت جتنے آدمی اس روئے زمین پر ہیں ان میں سے کوئی بھی ( زندہ ) باقی نہیں رہے گا “ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سو سال کے بعد کے متعلق احادیث بیان کرنے میں غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ سو برس بعد قیامت آ جائے گی ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ آج روئے زمین پر جتنے لوگ زندہ ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی زندہ نہ رہے گا مطلب یہ تھا کہ یہ نسل ختم ہو جائے گی ، اور دوسری نسل آ جائے گی ۔
The Prophet (ﷺ) said: I hope my community will not fail to maintain their position in the sight of their Lord if He delays them half a day. Sa'd was asked: How long is half a day? He said: It is five hundred years.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں امید رکھتا ہوں کہ میری امت اتنی تو عاجز نہ ہو گی کہ اللہ اس کو آدھے دن کی مہلت نہ دے “ ۔ سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ آدھے دن سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے کہا : پانچ سو سال ۔