No prophet was sent who had not warned his people about the one-eyed. Between his eyes will be written “infidel” (kafir).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا گیا جس نے اپنی امت کو کانے اور جھوٹے دجال سے ڈرایا نہ ہو ، تو خوب سن لو کہ وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ہے ، اور اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ یعنی پیشانی پر ” کافر “ لکھا ہو گا “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Let him who hears of the Dajjal (Antichrist) go far from him for I swear by Allah that a man will come to him thinking he is a believer and follow him because of confused ideas roused in him by him.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کو کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو دجال کے متعلق سنے کہ وہ ظاہر ہو چکا ہے تو وہ اس سے دور ہی رہے کیونکہ قسم ہے اللہ کی ! آدمی اس کے پاس آئے گا تو یہی سمجھے گا کہ وہ مومن ہے ، اور وہ اس کا ان مشتبہ چیزوں کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہو گا تابع ہو جائے گا “ راوی کو شک ہے کہ «مما یُبعث بہ» کہا ہے یا «لما یُبعث بہ» ۔
The Prophet (ﷺ) said: I have told you so much about the Dajjal (Antichrist) that I am afraid you may not understand. The Antichrist is short, hen-toed, woolly-haired, one-eyed, an eye-sightless, and neither protruding nor deep-seated. If you are confused about him, know that your Lord is not one-eyed.
Abu Dawud said: 'Amr bin Al-Aswad was appointed a judge.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں دجال کے متعلق تمہیں اتنی باتیں بتا چکا ہوں کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ تم اسے یاد نہ رکھ سکو گے ( تو یاد رکھو ) مسیح دجال پستہ قد ہو گا ، چلنے میں اس کے دونوں پاؤں کے بیچ فاصلہ رہے گا ، اس کے بال گھونگھریالے ہوں گے ، کانا ہو گا ، آنکھ مٹی ہوئی ہو گی ، نہ ابھری ہوئی اور نہ اندر گھسی ہوئی ، پھر اس پر بھی اگر تمہیں اشتباہ ہو جائے تو یاد رکھو تمہارا رب کانا نہیں ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) mentioned the Dajjal (Antichrist) saying: If he comes forth while I am among you I shall be the one who will dispute with him on your behalf, but if he comes forth when I am not among you, a man must dispute on his own behalf, and Allah will take my place in looking after every Muslim. Those of you who live up to his time should recite over him the opening verses of Surat al – Kahf, for they are your protection from his trial. We asked: How long will he remain on the earth ? He replied : Forty days, one like a year, one like a month, one like a week, and rest of his days like yours. We asked : Messenger of Allah, will one day’s prayer suffice us in this day which will be like a year ? He replied : No, you must make an estimate of its extent. Then Jesus son of Marry will descend at the white minaret to the east of Damascus. He will then catch him up at the date of Ludd and kill him.
نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا تو فرمایا : ” اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں موجود رہا تو تمہارے بجائے میں اس سے جھگڑوں گا ، اور اگر وہ ظاہر ہوا اور میں تم میں نہیں رہا تو آدمی خود اس سے نپٹے گا ، اور اللہ ہی ہر مسلمان کے لیے میرا خلیفہ ہے ، پس تم میں سے جو اس کو پائے تو اس پر سورۃ الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کیونکہ یہ تمہیں اس کے فتنے سے بچائیں گی “ ۔ ہم نے عرض کیا : وہ کتنے دنوں تک زمین پر رہے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چالیس دن تک ، اس کا ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا ، اور ایک دن ایک مہینہ کے ، اور ایک دن ایک ہفتہ کے ، اور باقی دن تمہارے اور دنوں کی طرح ہوں گے “ ۔ تو ہم نے پوچھا : اللہ کے رسول ! جو دن ایک سال کے برابر ہو گا ، کیا اس میں ایک دن اور رات کی نماز ہمارے لیے کافی ہوں گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، تم اس دن اندازہ کر لینا ، اور اسی حساب سے نماز پڑھنا ، پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام دمشق کے مشرق میں سفید منارہ کے پاس اتریں گے ، اور اسے ( یعنی دجال کو ) باب لد ۱؎ کے پاس پائیں گے اور وہیں اسے قتل کر دیں گے “ ۔
Chapter 1600: The appearance of the Dajjal - كتاب الملاحم
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ، عَنِ السَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَذَكَرَ الصَّلَوَاتِ مِثْلَ مَعْنَاهُ .
A similar tradition has been transmitted by Abu Umamah from the prophet (ﷺ) through a different chain of narrators. In this version he mentioned the prayers to the same effect.
ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کی حدیث
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اور نمازوں کا ذکر سابقہ حدیث کی طرح کیا ہے ۔
Abu al-Darda’ reported the prophet (ﷺ) as saying :
If anyone memorizes ten verses from the beginning of surat al-Kahf, he will be protected from the trial of Dajjal (Antichrist).
Abu Dawud said: In this way Hashim al-dastawa’I transmitted it from Qatadah, but he said : “If anyone memorizes the closing verses of surat al-Kahf.” Shu’bah narrated from Qatadah the words “from the end of al-Kahf.
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے سورۃ الکہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کر لیں وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح ہشام دستوائی نے قتادہ سے روایت کیا ہے مگر اس میں ہے : ” جس نے سورۃ الکہف کی آخری آیتیں یاد کیں “ ، شعبہ نے بھی قتادہ سے ” کہف کے آخر “ سے کے الفاظ روایت کئے ہیں ۔
The Prophet (ﷺ) said: There is no prophet between me and him, that is, Jesus (ﷺ). He will descent (to the earth). When you see him, recognise him: a man of medium height, reddish fair, wearing two light yellow garments, looking as if drops were falling down from his head though it will not be wet. He will fight the people for the cause of Islam. He will break the cross, kill swine, and abolish jizyah. Allah will perish all religions except Islam. He will destroy the Antichrist and will live on the earth for forty years and then he will die. The Muslims will pray over him.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے اور ان یعنی عیسیٰ کے درمیان کوئی نبی نہیں ، یقیناً وہ اتریں گے ، جب تم انہیں دیکھنا تو پہچان لینا ، وہ ایک درمیانی قد و قامت کے شخص ہوں گے ، ان کا رنگ سرخ و سفید ہو گا ، ہلکے زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوں گے ، ایسا لگے گا کہ ان کے سر سے پانی ٹپک رہا ہے گو وہ تر نہ ہوں گے ، تو وہ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے ، صلیب توڑیں گے ، سور کو قتل کریں گے اور جزیہ معاف کر دیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کے زمانہ میں سوائے اسلام کے سارے مذاہب کو ختم کر دے گا ، وہ مسیح دجال کو ہلاک کریں گے ، پھر اس کے بعد دنیا میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے ، پھر ان کی وفات ہو گی تو مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) once delayed the congregational night prayer.
He came out and said: The talk of Tamim ad-Dari detained me. He transmitted it to me from a man who was on of of the islands of the sea. All of a sudden he found a woman who was trailing her hair. He asked: Who are you?
She said: I am the Jassasah. Go to that castle. So I came to it and found a man who was trailing his hair, chained in iron collars, and leaping between Heaven and Earth.
I asked: Who are you? He replied: I am the Dajjal (Antichrist). Has the Prophet of the unlettered people come forth now? I replied: Yes. He said: Have they obeyed him or disobeyed him? I said: No, they have obeyed him. He said: That is better for them.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک رات عشاء پڑھنے میں دیر کی ، پھر نکلے تو فرمایا : ” مجھے ایک بات نے روک لیا ، جسے تمیم داری ایک آدمی کے متعلق بیان کر رہے تھے ، تو میں سمندر کے جزیروں میں سے ایک جزیرے میں تھا ، تمیم کہتے ہیں کہ ناگاہ میں نے ایک عورت کو دیکھا جو اپنے بال کھینچ رہی ہے ، تو میں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ وہ بولی : میں جساسہ ۱؎ ہوں ، تم اس محل کی طرف جاؤ ، تو میں اس محل میں آیا ، تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں ایک شخص ہے جو اپنے بال کھینچ رہا ہے ، وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے ، اور آسمان و زمین کے درمیان میں اچھلتا ہے ، میں نے اس سے پوچھا : تم کون ہو ؟ تو اس نے کہا : میں دجال ہوں ، کیا امیوں کے نبی کا ظہور ہو گیا ؟ میں نے کہا : ہاں ( وہ ظاہر ہو چکے ہیں ) اس نے پوچھا : لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے یا نافرمانی ؟ میں نے کہا : نہیں ، بلکہ لوگوں نے ان کی اطاعت کی ہے ، تو اس نے کہا : یہ بہتر ہے ان کے لیے “ ۔
I heard the crier of the Messenger of Allah (ﷺ) calling : Assemble for the prayer. I Then came out and prayed along with the Messenger of Allah (ﷺ): When the Messenger of Allah (ﷺ) finished his prayer, he sat on the pulpit laughing, and he said : Everyone should remain where he had said his prayer. He then asked : Do you know why I have assembled you? They said: Allah and His Messenger know best. He (ﷺ) said: I did not call you together fors some alarming news or for something good. Rather, I called you all because Tamim al-Dari, a Christian, who came and accepted Islam, told me something which agrees with what I was telling you about the Dajjal. He told me that he sailed with thirty men of Lakhm and Judham and that they were storm-tossed for a month. They drew near to an island when the sun was setting. They sat in a boat nearest to them and entered the island where they were met by a very hairy beast. They said: Woe to you! What can you be ? It replied : I am the Jassasah. Go to this man in the monastery, for he is anxious to get news of you. He said : When it named a man to us we were afraid of it lest it should be a she-devil. So we went off quickly and entered the monastery, where we found a man with the hugest and strongest frame we had ever seen with his hands chained to his neck. He then narrated the rest of the tradition. He asked them about the palm-trees of Baisan and the spring of Zughar and about the unlettered prophet. He said: I am the messiah (the Antichrist) and will be soon given permission to emerge. And the Prophet (ﷺ) said: He is in the Syrian sea or the Yemeni sea: No, on the contrary, it is towards the east that he is. He said it twice and pointed his hand to the east. She said: I memorized this (tradition) from the Messenger of Allah (ﷺ), and she narrated the tradition.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی کو پکارتے سنا : ” لوگو ! نماز کے لیے جمع ہو جاؤ “ ، تو میں نکلی اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی ، پھر جب آپ نے نماز ختم فرمائی تو ہنستے ہوئے منبر پر جا بیٹھے ، اور فرمایا : ” ہر شخص اپنی جگہ پر بیٹھا رہے “ پھر فرمایا : ” کیا تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کیوں اکٹھا کیا ہے ؟ “ لوگوں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں جہنم سے ڈرانے اور جنت کا شوق دلانے کے لیے نہیں اکٹھا کیا ہے ، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتلانے کے لیے اکٹھا کیا ہے کہ تمیم داری نے جو نصرانی شخص تھے آ کر مجھ سے بیعت کی ہے ، اور اسلام لے آئے ہیں ، انہوں نے مجھ سے ایک واقعہ بیان کیا ہے جو اس بات کے مطابق ہے جو میں نے تمہیں دجال کے متعلق بتائی ہے ، انہوں نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ وہ ایک سمندری کشتی پر سوار ہوئے ، ان کے ہمراہ قبیلہ لخم اور جذام کے تیس آدمی بھی تھے ، تو پورے ایک مہینہ بھر سمندر کی لہریں ان کے ساتھ کھیلتی رہیں پھر سورج ڈوبتے وقت وہ ایک جزیرہ کے پاس جا لگے ، وہاں سے چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ کر جزیرہ میں داخل ہوئے ، وہاں انہیں ایک لمبی دم اور زیادہ بالوں والا ایک دابہ ( جانور ) ملا ، لوگوں نے اس سے کہا : کم بخت تو کیا چیز ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں جساسہ ہوں ، تم اس شخص کے پاس جاؤ جو اس گھر میں ہے ، وہ تمہاری خبروں کا بہت مشتاق ہے ، جب ہم سے اس نے اس شخص کا نام لیا تو ہم اس جانور سے ڈرے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو ، پھر وہاں سے جلدی سے بھاگے اور اس گھر میں جا پہنچے ، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک عظیم الجثہ اور انتہائی طاقتور انسان ہے کہ اس جیسا انسان ہم نے کبھی نہیں دیکھا ، جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے اور اس کے دونوں ہاتھ گردن سے بندھے ہوئے ہیں ، پھر انہوں نے پوری حدیث بیان کی ۱؎ اور ان سے بیسان ۲؎ کے کھجوروں ، اور زعر ۳؎ کے چشموں کا حال پوچھا ، اور نبی امی کے متعلق دریافت کیا ، پھر اس نے اپنے متعلق بتایا کہ میں مسیح دجال ہوں ، اور قریب ہے کہ مجھے نکلنے کی اجازت دے دی جائے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شام کے سمندر میں ہے ، یا یمن کے سمندر میں ، ( پھر آپ نے کہا : ) نہیں ، بلکہ مشرق کی سمت میں ہے “ اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دو بار مشرق کی جانب اشارہ کیا ۔ فاطمہ کہتی ہیں : یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر یاد کی ہے ، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
The prophet (ﷺ) offered the noon prayer and ascended the pulpit. Before this day he did not ascend it except on Friday. He then narrated this story.
Abu Dawud said: Ibn Sudran belongs to Basrah. He was drowned in the sea along with Ibn Miswar, and no one could escape except him.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر پڑھی ، پھر آپ منبر پر چڑھے ، اس سے پہلے آپ صرف جمعہ ہی کو منبر پر چڑھتے تھے ، پھر راوی نے اسی قصہ کا ذکر کیا ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said one day from the pulpit: When some people were sailing in the sea, their food was finished. An island appeared to them. They went out seeking bread. They were met by the Jassasah (the Antichrist's spy).
I said to AbuSalamah: What is the Jassasah? He replied: A woman trailing the hair of her skin and of her head. She said: In this castle. He then narrated the rest of the (No. 4311) tradition. He asked about the palm-trees of Baysan and the spring of Zughar. He said: He is the Antichrist. Ibn Salamah said to me: There is something more in this tradition, which I could not remember. He said: Jabir testified that it was he who was Ibn Sayyad.
I said: He died. He said: Let him die. I said: He accepted Islam. He said: Let him accept Islam. I said: He entered Medina. He said: Let him enter Medina.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر فرمایا : ” کچھ لوگ سمندر میں سفر کر رہے تھے کہ اسی دوران ان کا کھانا ختم ہو گیا تو ان کو ایک جزیرہ نظر آیا اور وہ روٹی کی تلاش میں نکلے ، ان کی ملاقات جساسہ سے ہوئی “ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں : میں نے ابوسلمہ سے پوچھا : جساسہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ ایک عورت تھی جو اپنی کھال اور سر کے بال کھینچ رہی تھی ، اس جساسہ نے کہا : اس محل میں ( چلو ) پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی اس میں ہے ” اور دجال نے بیسان کے کھجور کے درختوں ، اور زغر کے چشموں کے متعلق دریافت کیا ، اس میں ہے ” یہی مسیح ہے “ ۔ ولید بن عبداللہ کہتے ہیں : اس پر ابن ابی سلمہ نے مجھ سے کہا : اس حدیث میں کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جو مجھے یاد نہیں ہیں ۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں : جابر نے پورے وثوق سے کہا : یہی ابن صیاد ۱؎ ہے ، تو میں نے کہا : وہ تو مر چکا ہے ، اس پر انہوں نے کہا : مر جانے دو ، میں نے کہا : وہ تو مسلمان ہو گیا تھا ، کہا : ہو جانے دو ، میں نے کہا : وہ مدینہ میں آیا تھا ، کہا : آنے دو ، اس سے کیا ہوتا ہے ۔
Chapter 1602: Reports regarding Ibn As-Sa'id - كتاب الملاحم
حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ بِابْنِ صَائِدٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلاَمٌ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ " . قَالَ فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ . ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ " . ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " مَا يَأْتِيكَ " . قَالَ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ " . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي قَدْ خَبَّأْتُ لَكَ خَبِيئَةً " . وَخَبَّأَ لَهُ { يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ } قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ هُوَ الدُّخُّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " . فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ " . يَعْنِي الدَّجَّالَ " وَإِلاَّ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ فِي قَتْلِهِ " .
Ibn ‘Umar said :
The prophet (ﷺ) passed by Ibn Sa’Id along with some of his companions. ‘Umar b. al-Kattab was among them. He was playing with boys near the fortress of Banu Maghalah. He was near the age of puberty (i.e. a boy). Before he was aware, the Messenger of Allah (ﷺ) gave him a pat on the back and said : Do you testify that you are the Messenger of Allah Ibn Sayyad then looked at him and said: I testify that you are the Apostle of Gentiles. Ibn Sayyad then said the prophet (ﷺ) then asked him : What comes to you ? He replied: One who speaks the truth and one who lies come to me. The prophet (may peace upon him) said: You are confused. The Messenger of Allah (may peace upon him) said to him: I have concealed something (in my hand) and he concealed the verse “the day when the sky will bring forth smoke (dukhan) clearly visible Ibn Sayyad said: It is smoke (dukhan) .The Messenger of Allah (ﷺ) said: Away with you, You cannot get farther than your rank. ‘Umar said: “Messenger of Allah, permit me to cut off his head. The Messenger of Allah (ﷺ) said: If he is the one (the Dajjal), you will not be given power over him, and if he is not, you will not do well in killing him.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے ، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا ، وہ ایک کمسن لڑکا تھا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ “ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا ، اور بولا : ہاں ، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں ، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ تو آپ نے اس سے فرمایا : ” میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : ” تیرے پاس کیا چیز آتی ہے ؟ “ وہ بولا : سچی اور جھوٹی باتیں آتی ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو معاملہ تیرے اوپر مشتبہ ہو گیا ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تیرے لیے ایک بات چھپائی ہے “ اور آپ نے اپنے دل میں «يوم تأتي السماء بدخان مبين» ( سورۃ الدخان : ۱۰ ) والی آیت چھپا لی ، تو ابن صیاد نے کہا : وہ چھپی ہوئی چیز «دُخ» ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہٹ جا ، تو اپنی حد سے آگے نہیں بڑھ سکے گا “ ، اس پر عمر رضی اللہ عنہ بولے : اللہ کے رسول ! مجھے اجازت دیجئیے ، میں اس کی گردن مار دوں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر یہ ( دجال ) ہے تو تم اس پر قادر نہ ہو سکو گے ، اور اگر وہ نہیں ہے تو پھر اس کے قتل میں کوئی بھلائی نہیں “ ۔
Chapter 1602: Reports regarding Ibn As-Sa'id - كتاب الملاحم
حَدَّثَنَا ابْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ تَحْلِفُ بِاللَّهِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Muhammad ibn al-Munkadir told that he saw Jabir ibn Abdullah swearing by Allah that Ibn as-Sa'id was the Dajjal (Antichrist). I expressed my surprise by saying:
You swear by Allah! He said: I heard Umar swearing to that in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ), but the Messenger of Allah (ﷺ) did not make any objection to it.
محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے ، میں نے کہا : آپ اللہ کی قسم کھا رہے ہیں ؟ تو بولے : میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے سنا ہے ، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان پر کوئی نکیر نہیں فرمائی ۱؎ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The Last Hour will not come before there come forth thirty Dajjals (fraudulents), everyone presuming himself that he is an apostle of Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تیس دجال ظاہر نہ ہو جائیں ، وہ سب یہی کہیں گے کہ میں اللہ کا رسول ہوں “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: The Last Hour will not come before there come forth thirty liar Dajjals (fraudulents) lying on Allah and His Apostle.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت قائم نہیں ہو گی جب تک کہ تیس جھوٹے دجال ظاہر نہ ہو جائیں ، اور ان میں سے ہر ایک اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھے گا “ ۔
A similar tradition has also been transmitted by Ibrahim (al-Nakha’l) through a different chain if narrators. I (Ibrahim) said to ‘Ubaidat al-Salmant :
Do you think that his one of them, that is al-Mukhtar (al-Thaqaff)? He said : He is from the leaders.
ابراہیم کہتے ہیں : عبیدہ سلمانی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی
تو میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ اسے یعنی مختار ( ابن ابی عبید ثقفی ) کو بھی انہیں دجالوں میں سے ایک سمجھتے ہیں تو عبیدہ کہنے لگے : وہ تو ان کا سردار ہے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: The first defect that permeated Banu Isra'il was that a man (of them) met another man and said: O so-and-so, fear Allah, and abandon what you are doing, for it is not lawful for you. He then met him the next day and that did not prevent him from eating with him, drinking with him and sitting with him. When they did so. Allah mingled their hearts with each other.
He then recited the verse: "curses were pronounced on those among the children of Isra'il who rejected Faith, by the tongue of David and of Jesus the son of Mary"...up to "wrongdoers".
He then said: By no means, I swear by Allah, you must enjoin what is good and prohibit what is evil, prevent the wrongdoer, bend him into conformity with what is right, and restrict him to what is right.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پہلی خرابی جو بنی اسرائیل میں پیدا ہوئی یہ تھی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملتا تو کہتا کہ اللہ سے ڈرو اور جو تم کر رہے ہو اس سے باز آ جاؤ کیونکہ یہ تمہارے لیے درست نہیں ہے ، پھر دوسرے دن اس سے ملتا تو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اس کی ہم نشینی اختیار کرنے سے یہ چیزیں ( غلط کاریاں ) اس کے لیے مانع نہ ہوتیں ، تو جب انہوں نے ایسا کیا تو اللہ نے بھی بعضوں کے دل کو بعضوں کے دل کے ساتھ ملا دیا “ پھر آپ نے آیت کریمہ «لعن الذين كفروا من بني إسرائيل على لسان داود وعيسى ابن مريم» سے لے کر ۔ ۔ ۔ اللہ تعالیٰ کے قول «فاسقون» ” بنی اسرائیل کے کافروں پر داود علیہ السلام اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کی زبانی لعنت کی گئی “ ( سورۃ المائدہ : ۷۸ ) تک کی تلاوت کی ، پھر فرمایا : ” ہرگز ایسا نہیں ، قسم اللہ کی ! تم ضرور اچھی باتوں کا حکم دو گے ، بری باتوں سے روکو گے ، ظالم کے ہاتھ پکڑو گے ، اور اسے حق کی طرف موڑے رکھو گے اور حق و انصاف ہی پر اسے قائم رکھو گے “ یعنی زبردستی اسے اس پر مجبور کرتے رہو گے ۔
A similar tradition (to the No. 4322) has also been transmitted by Ibn Mas'ud through a different chain of narrators to the same effect.
This version adds:
"Or Allah will mingle your hearts together and curse you as He cursed them."
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by al-Muharibi, from al-'Ala bin al-Musayyab, from 'Abd Allah bin 'Amr bin Murrah, from Salim al-Aftas, from Abu Ubaidah, from 'Abd Allah; and it is been transmitted by Khalid al-Tahhan, from al-'Ala, from 'Amr bin Murrah from Abu 'Ubaidah.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے
اس میں یہ اضافہ ہے : ” اللہ تم میں سے بعض کے دلوں کو بعض کے دلوں سے ملا دے گا ، پھر تم پر بھی لعنت کرے گا جیسے ان پر لعنت کی ہے “ ۔
You people recite this verse "You who believe, care for yourselves; he who goes astray cannot harm you when you are rightly-guided," and put it in its improper place.
Khalid's version has: We heard the Prophet (ﷺ) say: When the people see a wrongdoer and do not prevent him, Allah will soon punish them all. Amr ibn Hushaym's version has: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If acts of disobedience are done among any people and do not change them though the are able to do so, Allah will soon punish them all.
Adu Dawud said: This tradition has also been transmitted by Abu Usamah and a group transmitters similar to the version narrated by Khalid. The version of Shu'bah has: "If acts of obedience are done among any people who are more numerous than those who do them...."
قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : لوگو ! تم آیت کریمہ «عليكم أنفسكم لا يضركم من ضل إذا اهتديتم» ” اے ایمان والو اپنی فکر کرو جب تم راہ راست پر چل رہے ہو تو جو شخص گمراہ ہے وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا “ ( سورۃ المائدہ : ۱۰۵ ) پڑھتے ہو اور اسے اس کے اصل معنی سے پھیر کر دوسرے معنی پر محمول کر دیتے ہو ۔ وھب کی روایت جسے انہوں نے خالد سے روایت کیا ہے ، میں ہے : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، آپ فرما رہے تھے : ” لوگ جب ظالم کو ظلم کرتے دیکھیں ، اور اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو قریب ہے کہ اللہ سب کو اپنے عذاب میں پکڑ لے “ ۔ اور عمرو کی حدیث میں جسے انہوں نے ہشیم سے روایت کی ہے مذکور ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس قوم میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں ، پھر وہ اسے روکنے پر قادر ہو اور نہ روکے تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو عذاب میں گرفتار کر لے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے ابواسامہ اور ایک جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے خالد نے کیا ہے ۔ شعبہ کہتے ہیں : اس میں یہ بات بھی ہے کہ ایسی کوئی قوم نہیں جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور زیادہ تر افراد گناہ کے کام میں ملوث ہوں اور ان پر عذاب نہ آئے ۔
The Prophet (ﷺ) said: If any man is among a people in whose midst he does acts of disobedience, and, though they are able to make him change (his acts), they do not change, Allah will smite them with punishment before they die.
جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو آدمی کسی ایسی قوم میں ہو جس میں گناہ کے کام کئے جاتے ہوں اور وہ اسے روکنے پر قدرت رکھتا ہو اور نہ روکے تو اللہ اسے مرنے سے پہلے ضرور کسی نہ کسی عذاب میں مبتلا کر دیتا ہے “ ۔
I head the Messenger of Allah (ﷺ) say: If any one you sees something objectionable, he should change it with his hand if he can change it with his hand. (The narrator Hammad broke the rest of the tradition which was completed by Ibn al-‘Ala’.) But if he cannot (do so), he should do it with his tongue, and if he cannot (do so with) his tongue he should do it in his heart, that being the weakest form of faith.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جو کوئی منکر دیکھے ، اور اپنے ہاتھ سے اسے روک سکتا ہو تو چاہیئے کہ اسے اپنے ہاتھ سے روک دے ، اگر وہ ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے ، اور اگر اپنی زبان سے بھی نہ روک سکے تو اپنے دل میں اسے برا جانے اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے “ ۔