Muhammad bin Kathir said “Sufyan was asked to explain the tradition mentioned above.” He said “When he embraces Islam, no jizyah will be levied on him.”
محمد بن کثیر کہتے ہیں
سفیان سے اس حدیث کا مطلب ۱؎ پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ جب ذمی اسلام قبول کر لے تو اس پر ( اسلام لاتے وقت سال میں سے گزرے ہوئے دنوں کا ) جزیہ نہ ہو گا ۔
I met Bilal, the Mu'adhdhin of the Messenger of Allah (ﷺ) at Aleppo, and said: Bilal, tell me, what was the financial position of the Messenger of Allah (ﷺ)?
He said: He had nothing. It was I who managed it on his behalf since the day Allah made him Prophet of Allah (ﷺ) until he died. When a Muslim man came to him and he found him naked, he ordered me (to clothe him). I would go, borrow (some money), and purchase a cloak for him. I would then clothe him and feed him.
A man from the polytheists met me and said: I am well off, Bilal. Do not borrow money from anyone except me. So I did accordingly. One day when I performed ablution and stood up to make call to prayer, the same polytheist came along with a body of merchants.
When he saw me, he said: O Abyssinian. I said: I am at your service. He met me with unpleasant looks and said harsh words to me. He asked me: Do you know how many days remain in the completion of this month? I replied: The time is near. He said: Only four days remain in the completion of this month. I shall then take that which is due from you (i.e. loan), and then shall return you to tend the sheep as you did before. I began to think in my mind what people think in their minds (on such occasions). When I offered the night prayer, the Messenger of Allah (ﷺ) returned to his family. I sought permission from him and he gave me permission.
I said: Messenger of Allah, may my parents be sacrificed for you, the polytheist from whom I used to borrow money said to me such-and-such. Neither you nor I have anything to pay him for me, and he will disgrace me. So give me permission to run away to some of those tribes who have recently embraced Islam until Allah gives His Apostle (ﷺ) something with which he can pay (the debt) for me. So I came out and reached my house. I placed my sword, waterskin (or sheath), shoes and shield near my head. When dawn broke, I intended to be on my way.
All of a sudden I saw a man running towards me and calling: Bilal, return to the Messenger of Allah (ﷺ). So I went till I reached him. I found four mounts kneeling on the ground with loads on them. I sought permission.
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: Be glad, Allah has made arrangements for the payment (of your debt). He then asked: Have you not seen the four mounts kneeling on the ground?
I replied: Yes. He said: You may have these mounts and what they have on them. There are clothes and food on them, presented to me by the ruler of Fadak. Take them away and pay off your debt. I did so.
He then mentioned the rest of the tradition. I then went to the mosque and found that the Messenger of Allah (ﷺ) was sitting there. I greeted him.
He asked: What benefit did you have from your property? I replied: Allah Most High paid everything which was due from the Messenger of Allah (ﷺ). Nothing remains now.
He asked: Did anything remain (from that property)? I said: Yes. He said: Look, if you can give me some comfort from it, for I shall not visit any member of my family until you give me some comfort from it. When the Messenger of Allah (ﷺ) offered the night prayer, he called me and said: What is the position of that which you had with you (i.e. property)?
I said: I still have it, no one came to me. The Messenger of Allah (ﷺ) passed the night in the mosque.
He then narrated the rest of the tradition. Next day when he offered the night prayer, he called me and asked: What is the position of that which you had (i.e. the rest of the property)?
I replied: Allah has given you comfort from it, Messenger of Allah. He said: Allah is Most Great, and praised Allah, fearing lest he should die while it was with him. I then followed him until he came to his wives and greeted each one of them and finally he came to his place where he had to pass the night. This is all for which you asked me.
عبداللہ ہوزنی کہتے ہیں کہ
میں نے مؤذن رسول بلال رضی اللہ عنہ سے حلب ۱؎ میں ملاقات کی ، اور کہا : بلال ! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کیسے چلتا تھا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ نہ ہوتا ، بعثت سے لے کر موت تک جب بھی آپ کو کوئی ضرورت پیش آتی میں ہی اس کا انتظام کرتا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپ اس کو ننگا دیکھتے تو مجھے حکم کرتے ، میں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا ، اسے پہننے کے لیے دے دیتا اور اسے کھانا کھلاتا ، یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک شخص مجھے ملا اور کہنے لگا : بلال ! میرے پاس وسعت ہے ( تنگی نہیں ہے ) آپ کسی اور سے قرض نہ لیں ، مجھ سے لے لیا کریں ، میں ایسا ہی کرنے لگا یعنی ( اس سے لینے لگا ) پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں نے وضو کیا اور اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا کہ اچانک وہی مشرک سوداگروں کی ایک جماعت لیے ہوئے آ پہنچا جب اس نے مجھے دیکھا تو بولا : اے حبشی ! میں نے کہا : «يا لباه» ۲؎ حاضر ہوں ، تو وہ ترش روئی سے پیش آیا اور سخت سست کہنے لگا اور بولا : تو جانتا ہے مہینہ پورا ہونے میں کتنے دن باقی رہ گئے ہیں ؟ میں نے کہا : قریب ہے ، اس نے کہا : مہینہ پورا ہونے میں صرف چار دن باقی ہیں ۳؎ میں اپنا قرض تجھ سے لے کر چھوڑوں گا اور تجھے ایسا ہی کر دوں گا جیسے تو پہلے بکریاں چرایا کرتا تھا ، مجھے اس کی باتوں کا ایسے ہی سخت رنج و ملال ہوا جیسے ایسے موقع پر لوگوں کو ہوا کرتا ہے ، جب میں عشاء پڑھ چکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس تشریف لے جا چکے تھے ( میں بھی وہاں گیا ) اور شرف یابی کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی ، میں نے ( حاضر ہو کر ) عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ، وہ مشرک جس سے میں قرض لیا کرتا تھا اس نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے اور نہ آپ کے پاس مال ہے جس سے میرے قرض کی ادائیگی ہو جائے اور نہ ہی میرے پاس ہے ( اگر ادا نہ کیا ) تو وہ مجھے اور بھی ذلیل و رسوا کرے گا ، تو آپ مجھے اجازت دے دیجئیے کہ میں بھاگ کر ان قوموں میں سے کسی قوم کے پاس جو مسلمان ہو چکے ہیں اس وقت تک کے لیے چلا جاؤں جب تک کہ اللہ اپنے رسول کو اتنا مال عطا نہ کر دے جس سے میرا قرض ادا ہو جائے ، یہ کہہ کر میں نکل آیا اور اپنے گھر چلا آیا ، اور اپنی تلوار ، موزہ جوتا اور ڈھال سرہانے رکھ کر سو گیا ، صبح ہی صبح پو پھٹتے ہی یہاں سے چلے جانے کا ارادہ کیا ہی تھا کہ ایک شخص بھاگا بھاگا پکارتا ہوا آیا کہ اے بلال ( تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یاد کر رہے ہیں ) چل کر آپ کی بات سن لو ، تو میں چل پڑا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ چار لدے ہوئے جانور بیٹھے ہیں ، آپ سے اجازت طلب کی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” بلال ! خوش ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے تمہاری ضرورت پوری کر دی ، کیا تم نے چاروں بیٹھی ہوئی سواریاں نہیں دیکھیں ؟ “ ، میں نے کہا : ہاں دیکھ لی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ وہ جانور بھی لے لو اور جو ان پر لدا ہوا ہے وہ بھی ان پر کپڑا اور کھانے کا سامان ہے ، فدک کے رئیس نے مجھے ہدیہ میں بھیجا ہے ، ان سب کو اپنی تحویل میں لے لو ، اور ان سے اپنا قرض ادا کر دو “ ، تو میں نے ایسا ہی کیا ۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی ۔ بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں مسجد میں آیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما ہیں ، میں نے آپ کو سلام کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” جو مال تمہیں ملا اس کا کیا ہوا ؟ “ ، میں نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے سارے قرضے ادا کر دیئے اب کوئی قرضہ باقی نہ رہا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کچھ مال بچا بھی ہے ؟ “ ، میں نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ جو بچا ہے اسے اللہ کی راہ میں صرف کر کے مجھے آرام دو کیونکہ جب تک یہ مال صرف نہ ہو جائے گا میں اپنی ازواج ( مطہرات ) میں سے کسی کے پاس نہ جاؤں گا “ ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء سے فارغ ہوئے تو مجھے بلایا اور فرمایا : ” کیا ہوا وہ مال جو تمہارے پاس بچ رہا تھا ؟ “ میں نے کہا : وہ میرے پاس موجود ہے ، کوئی ہمارے پاس آیا ہی نہیں کہ میں اسے دے دوں تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے رات مسجد ہی میں گزاری ۔ راوی نے پوری حدیث بیان کی ( اس میں ہے ) یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کی نماز پڑھ چکے یعنی دوسرے دن تو آپ نے مجھے بلایا اور پوچھا : ” وہ مال کیا ہوا جو تمہارے پاس بچ رہا تھا ؟ “ ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ نے آپ کو اس سے بے نیاز و بےفکر کر دیا ( یعنی وہ میں نے ایک ضرورت مند کو دے دیا ) یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ اکبر کہا ، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور اس کی حمد و ثنا بیان کی اس ڈر سے کہ کہیں آپ کو موت نہ آ جاتی اور یہ مال آپ کے پاس باقی رہتا ، پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چلا ، آپ اپنی بیویوں کے پاس آئے اور ایک ایک کو سلام کیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے گئے جہاں رات گزارنی تھی ، ( اے عبداللہ ہوزنی ! ) یہ ہے تمہارے سوال کا جواب ۔
Chapter 1123: Regarding The Imam Accepting Gifts From Idolaters - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ أَبِي تَوْبَةَ وَحَدِيثِهِ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ
" مَا يَقْضِي عَنِّي " . فَسَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاغْتَمَزْتُهَا .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Mu’awiyah through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Abu Taubah. This version has “I have nothing to pay from me. The Apostle of Allaah(ﷺ) thereupon kept silence and this displeased me.”
اس سند سے بھی ابوتوبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہ
جب میں نے کہا کہ نہ آپ کے پاس اتنا مال ہے اور نہ میرے پاس کہ قرضہ ادا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بڑی گرانی ہوئی ( کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ نہیں دی ) ۔
Chapter 1123: Regarding The Imam Accepting Gifts From Idolaters - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، قَالَ أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَاقَةً فَقَالَ " أَسْلَمْتَ " . فَقُلْتُ لاَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي نُهِيتُ عَنْ زَبْدِ الْمُشْرِكِينَ " .
Narrated Iyad ibn Himar:
I presented a she-camel to the Prophet (ﷺ). He asked: Have you embraced Islam? I replied: No. The Prophet (ﷺ) said: I have been prohibited to accept the present of polytheists.
عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہدیہ میں دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا تم مسلمان ہو گئے ہو ؟ “ میں نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے مشرکوں سے تحفہ لینے کی ممانعت کر دی گئی ہے ۱؎ “ ۔
Chapter 1124: Allocation Of Land - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ فِطْرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَالَ خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَارًا بِالْمَدِينَةِ بِقَوْسٍ وَقَالَ
" أَزِيدُكَ أَزِيدُكَ " .
Narrated Amr ibn Hurayth:
The Messenger of Allah (ﷺ) demarcated a house with a bow at Medina for me. He said: I shall give you more. I shall give you more.
عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں مجھے گھر بنانے کے لیے کمان سے نشان لگا کر ایک زمین دی اور فرمایا : ” میں تمہیں مزید دوں گا مزید دوں گا “ ( فی الحال یہ لے لو ) ۔
Rabi'ah reported on the authority of more than one person saying: The Messenger of Allah (ﷺ) assigned as a fief to Bilal ibn al-Harith al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah which is in the neighbourhood of al-Fur', and only zakat is levied on those mines up to the present day.
ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے کئی لوگوں سے روایت کی ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو فرع ۱؎ کی طرف کے قبلیہ ۲؎ کے کان دیئے ، تو ان کانوں سے آج تک زکاۃ کے سوا کچھ نہیں لیا جاتا رہا ۔
The Prophet (ﷺ) assigned as a fief to Bilal ibn al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah both which lay on the upper side and which lay on the lower side, and (the land) which was suitable for cultivation at Quds. He did not give him (the land which involved) the right of a Muslim. The Prophet (ﷺ) wrote a document for him. It goes: "In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. This is what the Messenger of Allah (ﷺ) assigned to Bilal ibn Harith al-Muzani. He gave him the mines of al-Qabaliyyah, both which lay on the upper side and which lay on the lower side, and (the land) which is suitable for cultivation at Quds. He did not give him the right of any Muslim."
Abu Uwais said: A similar tradition has been narrated to me by Thawr b. Zaid, client of Banu al-Dail b. Bakr b. Kinahah from 'Ikrimah on the authority of Ibn 'Abbas.
عمرو بن عوف مزنی رضی اللہ عنہ ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کی نشیب و فراز کی کانیں ٹھیکہ میں دیں ۱؎ ۔ ( ابوداؤد کہتے ہیں ) اور دیگر لوگوں نے «جلسيها وغوريها» کہا ہے ) اور قدس ( ایک پہاڑ کا نام ہے ) کی وہ زمین بھی دی جو قابل کاشت تھی اور وہ زمین انہیں نہیں دی جس پر کسی مسلمان کا حق اور قبضہ تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کے لیے ایک دستاویز لکھ کر دی ، وہ اس طرح تھی : ” بسم الله الرحمن الرحيم ، ، یہ دستاویز ہے اس بات کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو قبلیہ کے کانوں کا جو بلندی میں ہیں اور پستی میں ہیں ، ٹھیکہ دیا اور قدس کی وہ زمین بھی دی جس میں کھیتی ہو سکتی ہے ، اور انہیں کسی مسلمان کا حق نہیں دیا “ ۔ ابواویس راوی کہتے ہیں : مجھ سے بنو دیل بن بکر بن کنانہ کے غلام ثور بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے عکرمہ سے اور عکرمہ نے ابن عباس سے اسی کے ہم مثل روایت کی ہے ۔
Chapter 1124: Allocation Of Land - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ، قَالَ سَمِعْتُ الْحُنَيْنِيَّ، قَالَ قَرَأْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ يَعْنِي كِتَابَ قَطِيعَةِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَقْطَعَ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسِيَّهَا وَغَوْرِيَّهَا - قَالَ ابْنُ النَّضْرِ وَجَرْسَهَا وَذَاتَ النُّصُبِ ثُمَّ اتَّفَقَا - وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ . وَلَمْ يُعْطِ بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ حَقَّ مُسْلِمٍ وَكَتَبَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" هَذَا مَا أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِلاَلَ بْنَ الْحَارِثِ الْمُزَنِيَّ أَعْطَاهُ مَعَادِنَ الْقَبَلِيَّةِ جَلْسَهَا وَغَوْرَهَا وَحَيْثُ يَصْلُحُ الزَّرْعُ مِنْ قُدْسٍ وَلَمْ يُعْطِهِ حَقَّ مُسْلِمٍ " . قَالَ أَبُو أُوَيْسٍ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِثْلَهُ زَادَ ابْنُ النَّضْرِ وَكَتَبَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ .
Narrated Amr ibn Awf al-Muzani:
The Prophet (ﷺ) assigned as a fief to Bilal ibn Harith al-Muzani the mines of al-Qabaliyyah, both those which lay on the upper side those and which lay on the lower side. The narrator, Ibn an-Nadr, added: "also Jars and Dhat an-Nusub." The agreed version reads: "and (the land) which is suitable for cultivation at Quds". He did not assign to Bilal ibn al-Harith the right of any Muslim. The Prophet (ﷺ) wrote a document to him:
"This is what the Messenger of Allah (ﷺ) assigned to Bilal ibn al-Harith al-Muzani. He gave him the mines of al-Qabaliyyah both those which lay on the upper and lower side, and that which is fit for cultivation at Quds. He did not give him the right of any Muslim."
The narrator AbuUways said: A similar tradition has been transmitted to me by Thawr ibn Zayd from Ikrimah on the authority of Ibn Abbas from the Prophet (ﷺ). Ibn an-Nadr added: Ubayy ibn Ka'b wrote it.
محمد بن نضر کہتے ہیں کہ
میں نے حنینی کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے اسے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے جاگیر نامہ کو کئی بار پڑھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھ سے کئی ایک نے حسین بن محمد کے واسطہ سے بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں : مجھے ابواویس نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں : مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا ہے وہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی رضی اللہ عنہ کو قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں بطور جاگیر دیں ۔ ابن نضر کی روایت میں ہے : اور اس کے جرس اور ذات النصب ۱؎ کو دیا ، پھر دونوں راوی متفق ہیں : اور قدس کی قابل کاشت زمین دی ، اور بلال بن حارث کو کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لکھ کر دیا کہ یہ وہ تحریر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال بن حارث مزنی کو لکھ کر دی ، انہیں قبلیہ کے نشیب و فراز کی کانیں اور قدس کی قابل کاشت زمینیں دیں ، اور انہیں کسی اور مسلمان کا حق نہیں دیا ۔ ابواویس کہتے ہیں کہ ثور بن زید نے مجھ سے بیان کیا انہوں نے عکرمہ سے ، عکرمہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ابن عباس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے ہم مثل روایت کیا اور ابن نضر نے اتنا اضافہ کیا کہ ( یہ دستاویز ) ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے لکھی ۔
Abyad went to the Messenger of Allah (ﷺ) and asked him for assigning him (the mines of) salt as fief. (The narrator Ibn al-Mutawakkil said: which was in Ma'arib.)
So he assigned it to him as a fief. When he returned, a man in the meeting asked: Do you know what you have assigned him as a fief? You have assigned him the perennial spring water. So he took it back from him. He asked him about protecting land which had arak trees growing in it. He replied: He could have such as was beyond the region where the hoofs (of camels) went.
The narrator Ibn al-Mutwakkil said: "that is the camel hoofs."
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے نمک کی کان کی جاگیر مانگی ( ابن متوکل کی روایت میں ہے : جو مآرب ۱؎ میں تھی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دے دی ، لیکن جب وہ واپس مڑے تو مجلس میں موجود ایک شخص نے عرض کیا : جانتے ہیں کہ آپ نے ان کو کیا دے دیا ہے ؟ آپ نے ان کو ایسا پانی دے دیا ہے جو ختم نہیں ہوتا ، بلا محنت و مشقت کے حاصل ہوتا ہے ۲؎ وہ کہتے ہیں : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لے لیا ، تب انہوں نے آپ سے پوچھا : پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ گھیری جائے ؟ ۳؎ ، آپ نے فرمایا : ” جہاں جانوروں کے پاؤں نہ پہنچ سکیں “ ۴؎ ۔ ابن متوکل کہتے ہیں : خفاف سے مراد «أخفاف الإبل» ( یعنی اونٹوں کے پیر ) ہیں ۔
Muhammad bin Al hasan Al Mukhzumi said “The sentence “that which is not reached by the Camel hoofs” means that the Camels eat (the arak trees) within the reach of their heads. So the land (where the arak trees are growing) may be protected beyond such a region.
ہارون بن عبداللہ کہتے ہیں کہ
محمد بن حسن مخزومی نے کہا : «ما لم تنله أخفاف الإبل» کا مطلب یہ ہے کہ اونٹ کا سر جہاں تک پہنچے گا وہاں تک وہ کھائے ہی کھائے گا اس سے اوپر کا حصہ بچایا جا سکتا ہے ( اس لیے ایسی جگہ گھیرو جہاں اونٹ جاتے ہی نہ ہوں ) ۔
Chapter 1124: Allocation Of Land - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ حِمَى الأَرَاكِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لاَ حِمَى فِي الأَرَاكِ " . فَقَالَ أَرَاكَةً فِي حِظَارِي . فَقَالَ النَّبِيُّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ " لاَ حِمَى فِي الأَرَاكِ " . قَالَ فَرَجٌ يَعْنِي بِحِظَارِي الأَرْضَ الَّتِي فِيهَا الزَّرْعُ الْمُحَاطُ عَلَيْهَا .
Narrated Abyad ibn Hammal:
He asked the Messenger of Allah (ﷺ) for giving him some land which had arak trees growing in it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no (permission for) protecting a land which has arak trees growing in it. He said: These arak trees are within the boundaries of my field. The Prophet (ﷺ) said: There is no (permission for) protecting a land which has arak trees growing in it.
The narrator Faraj said: By the phrase 'within the boundaries of my field' he meant the land which had crop growing in it and was surrounded on four sides.
ابیض بن حمال ماربی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیلو کی ایک چراگاہ مانگی ۱؎ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیلو میں روک نہیں ہے “ ، انہوں نے کہا : پیلو میرے باڑھ اور احاطے کے اندر ہیں ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیلو میں روک نہیں ہے “ ( اس لیے کہ اس کی حاجت سبھی آدمیوں کو ہے ) ۔ فرج کہتے ہیں : «حظاری» سے ایسی سر زمین مراد ہے جس میں کھیتی ہوتی ہو اور وہ گھری ہوئی ہو ۔
Chapter 1124: Allocation Of Land - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَبُو حَفْصٍ، حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، قَالَ عُمَرُ - وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ - قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، صَخْرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَزَا ثَقِيفًا فَلَمَّا أَنْ سَمِعَ ذَلِكَ صَخْرٌ رَكِبَ فِي خَيْلٍ يُمِدُّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَوَجَدَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدِ انْصَرَفَ وَلَمْ يَفْتَحْ فَجَعَلَ صَخْرٌ يَوْمَئِذٍ عَهْدَ اللَّهِ وَذِمَّتَهُ أَنْ لاَ يُفَارِقَ هَذَا الْقَصْرَ حَتَّى يَنْزِلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُفَارِقْهُمْ حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَتَبَ إِلَيْهِ صَخْرٌ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ ثَقِيفًا قَدْ نَزَلَتْ عَلَى حُكْمِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا مُقْبِلٌ إِلَيْهِمْ وَهُمْ فِي خَيْلٍ . فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالصَّلاَةِ جَامِعَةً فَدَعَا لأَحْمَسَ عَشْرَ دَعَوَاتٍ " اللَّهُمَّ بَارِكْ لأَحْمَسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا " . وَأَتَاهُ الْقَوْمُ فَتَكَلَّمَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ صَخْرًا أَخَذَ عَمَّتِي وَدَخَلَتْ فِيمَا دَخَلَ فِيهِ الْمُسْلِمُونَ . فَدَعَاهُ فَقَالَ " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْمُغِيرَةِ عَمَّتَهُ " . فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ وَسَأَلَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَاءً لِبَنِي سُلَيْمٍ قَدْ هَرَبُوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَتَرَكُوا ذَلِكَ الْمَاءَ . فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَنْزِلْنِيهِ أَنَا وَقَوْمِي . قَالَ " نَعَمْ " . فَأَنْزَلَهُ وَأَسْلَمَ - يَعْنِي السُّلَمِيِّينَ - فَأَتَوْا صَخْرًا فَسَأَلُوهُ أَنْ يَدْفَعَ إِلَيْهِمُ الْمَاءَ فَأَبَى فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَسْلَمْنَا وَأَتَيْنَا صَخْرًا لِيَدْفَعَ إِلَيْنَا مَاءَنَا فَأَبَى عَلَيْنَا . فَأَتَاهُ فَقَالَ " يَا صَخْرُ إِنَّ الْقَوْمَ إِذَا أَسْلَمُوا أَحْرَزُوا أَمْوَالَهُمْ وَدِمَاءَهُمْ فَادْفَعْ إِلَى الْقَوْمِ مَاءَهُمْ " . قَالَ نَعَمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ . فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَغَيَّرُ عِنْدَ ذَلِكَ حُمْرَةً حَيَاءً مِنْ أَخْذِهِ الْجَارِيَةَ وَأَخْذِهِ الْمَاءَ .
Narrated Sakhr ibn al-Ayla al-Ahmasi:
The Messenger of Allah (ﷺ) raided Thaqif. When Sakhr heard this, he proceeded on his horse along with some horsemen to support the Prophet (ﷺ). He found the Prophet of Allah (ﷺ) had returned and he did not conquer (Ta'if).
On that day Sakhr made a covenant with Allah and had His protection that he would not depart from that fortress until they (the inhabitants) surrendered to the command of the Messenger of Allah (ﷺ). He did not leave them until they had surrendered to the command of the Messenger of Allah (ﷺ).
Sakhr then wrote to him: To proceed: Thaqif have surrendered to your command, Messenger of Allah, and I am on my way to them. They have horses with them.
The Messenger of Allah (ﷺ) then ordered prayers to be offered in congregation. He then prayed for Ahmas ten times: O Allah, send blessings the horses and the men of Ahmas.
The people came and Mughirah ibn Shu'bah said to him: Prophet of Allah, Sakhr took my paternal aunt while she embraced Islam like other Muslims.
He called him and said: Sakhr, when people embrace Islam, they have security of their blood and property. Give back to Mughirah his paternal aunt.
So he returned his aunt to him and asked the Prophet of Allah (ﷺ): What about Banu Sulaym who have run away for (fear of) Islam and left that water? He said: Prophet of Allah, allow me and my people to settle there.
He said: Yes. So he allowed him to settle there. Banu Sulaym then embraced Islam, and they came to Sakhr. They asked him to return their water to them. But he refused.
So they came to the Prophet (ﷺ) and said: Prophet of Allah, we embraced Islam and came to Sakhr so that he might return our water to us. But he has refused.
He (the Prophet) then came to him and said: When people embrace Islam, they secure their properties and blood. Return to the people their water.
He said: Yes, Prophet of Allah. I saw that the face of the Messenger of Allah (ﷺ) was reddening at that moment, being ashamed of taking back from him the slave-girl and the water.
صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جہاد کیا ( یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے ) چنانچہ جب صخر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو چکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے ، تو صخر رضی اللہ عنہ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کر دیں ( پھر ایسا ہی ہوا ) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ گئے ۔ صخر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لکھا : ” امّا بعد ، اللہ کے رسول ! ثقیف آپ کا حکم مان گئے ہیں اور وہ اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ ہیں میں ان کے پاس جا رہا ہوں ( تاکہ آگے کی بات چیت کروں ) “ ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی تو آپ نے باجماعت نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور نماز میں احمس ۱؎ کے لیے دس ( باتوں کی ) دعائیں مانگیں اور ( ان دعاؤں میں سے ایک دعا یہ بھی تھی ) : «اللهم بارك لأحمس في خيلها ورجالها» ” اے اللہ ! احمس کے سواروں اور پیادوں میں برکت دے “ ، پھر سب لوگ ( یعنی ضحر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی اور کہا : اللہ کے نبی ! صخر نے میری پھوپھی کو گرفتار کر لیا ہے جب کہ وہ اس ( دین ) میں داخل ہو چکی ہیں جس میں سبھی مسلمان داخل ہو چکے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلایا ، اور فرمایا : ” صخر ! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو وہ اپنی جانوں اور مالوں کو بچا اور محفوظ کر لیتی ہے ، اس لیے مغیرہ کی پھوپھی کو انہیں لوٹا دو “ ، تو صخر رضی اللہ عنہ نے مغیرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی پھوپھی واپس کر دی ، پھر صخر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سلیمیوں کے پانی کے چشمے کو مانگا جسے وہ لوگ اسلام کے خوف سے چھوڑ کر بھاگ لیے تھے ، صخر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے نبی ! آپ مجھے اور میری قوم کو اس پانی کے چشمے پہ رہنے اور اس میں تصرف کرنے کا حق و اختیار دے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : ” ہاں ہاں ( لے لو اور ) رہو “ ، تو وہ لوگ رہنے لگے ( اور کچھ دنوں بعد ) بنو سلیم مسلمان ہو گئے اور صخر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور صخر رضی اللہ عنہ سے درخواست کی کہ وہ انہیں پانی ( کا چشمہ ) واپس دے دیں ، صخر رضی اللہ عنہ ( اور ان کی قوم ) نے دینے سے انکار کیا ( اس خیال سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چشمہ انہیں اور ان کی قوم کو دے دیا ہے ) تو وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ہم مسلمان ہو چکے ہیں ، ہم صخر کے پاس پہنچے ( اور ان سے درخواست کی ) کہ ہمارا پانی کا چشمہ ہمیں واپس دے دیں تو انہوں نے ہمیں لوٹانے سے انکار کر دیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صخر رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا : ” صخر ! جب کوئی قوم اسلام قبول کر لیتی ہے تو اپنی جانوں اور مالوں کو محفوظ کر لیتی ہے ( نہ اسے ناحق قتل کیا جا سکتا ہے اور نہ اس کا مال لیا جا سکتا ہے ) تو تم ان کو ان کا چشمہ دے دو “ صخر رضی اللہ عنہ نے کہا : بہت اچھا اللہ کے نبی ! ( صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) میں نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے مبارک کو دیکھا کہ وہ شرم و ندامت سے بدل گیا اور سرخ ہو گیا ( یہ سوچ کر ) کہ میں نے اس سے لونڈی بھی لے لی اور پانی بھی ۲؎ ۔
The Prophet (ﷺ) alighted at a place where a mosque has been built under a large tree. He tarried there for three days, and then proceeded to Tabuk. Juhaynah met him on a wide plain. He asked them: who are the people of Dhul-Marwah? They replied: Banu Rifa'ah of Juhaynah. He said: I have given this (land) to Banu Rifa'ah as a fief. Therefore, they divided it. Some of them sold (their share) and others retained and worked on it.
(Sub-narrator Ibn Wahab said: I then asked AbdulAziz about this tradition. He narrated a part of it to me and did not narrate it in full.
ربیع جہنی کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ جہاں اب مسجد ہے ایک بڑے درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ، وہاں تین دن قیام کیا ، پھر تبوک ۱؎ کے لیے نکلے ، اور جہینہ کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک وسیع میدان میں جا کر ملے ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : ” مروہ والوں میں سے یہاں کون رہتا ہے ؟ “ ، لوگوں نے کہا : بنو رفاعہ کے لوگ رہتے ہیں جو قبیلہ جہینہ کی ایک شاخ ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ، ، میں یہ زمین ( علاقہ ) بنو رفاعہ کو بطور جاگیر دیتا ہوں تو انہوں نے اس زمین کو آپس میں بانٹ لیا ، پھر کسی نے اپنا حصہ بیچ ڈالا اور کسی نے اپنے لیے روک لیا ، اور اس میں محنت و مشقت ( یعنی زراعت ) کی ۔ ابن وہب کہتے ہیں : میں نے پھر اس حدیث کے متعلق سبرہ کے والد عبدالعزیز سے پوچھا تو انہوں نے مجھ سے اس کا کچھ حصہ بیان کیا پورا بیان نہیں کیا ۔
Abdullah ibn Hasan al-Anbari said: My grandmothers, Safiyyah and Duhaybah, narrated to me, that hey were the daughters of Ulaybah and were nourished by Qaylah, daughter of Makhramah. She was the grandmother of their father.
She reported to them, saying: We came upon the Messenger of Allah (ﷺ). My companion, Hurayth ibn Hassan, came to him as a delegate from Bakr ibn Wa'il. He took the oath of allegiance of Islam for himself and for his people.
He then said: Messenger of Allah (ﷺ), write a document for us, giving us the land lying between us and Banu Tamim at ad-Dahna' to the effect that not one of them will cross it in our direction except a traveller or a passer-by.
He said: Write down ad-Dahna' for them, boy. When I saw that he passed orders to give it to him, I became anxious, for it was my native land and my home.
I said: Messenger of Allah, he did not ask you for a true border when he asked you. This land of Dahna' is a place where the camels have their home, and it is a pasture for the sheep. The women of Banu Tamim and their children are beyond it.
He said: Stop, boy! A poor woman spoke the truth: a Muslim is a brother of a Muslim. Each one of them may benefit from water and trees, and they should cooperate with each other against Satan.
عبداللہ بن حسان عنبری کا بیان ہے کہ
مجھ سے میری دادی اور نانی صفیہ اور دحیبہ نے حدیث بیان کی یہ دونوں علیبہ کی بیٹیاں تھیں اور قیلہ بنت مخرمہ رضی اللہ عنہا کی پروردہ تھیں اور قیلہ ان دونوں کے والد کی دادی تھیں ، قیلہ نے ان سے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ہمارا ساتھی حریث بن حسان جو بکر بن وائل کی طرف پیامبر بن کر آیا تھا ہم سے آگے بڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا ، اور آپ سے اسلام پر اپنی اور اپنی قوم کی طرف سے بیعت کی پھر عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے اور بنو تمیم کے درمیان دہناء ۱؎ کو سرحد بنا دیجئیے ، مسافر اور پڑوسی کے سوا اور کوئی ان میں سے آگے بڑھ کر ہماری طرف نہ آئے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے غلام ! دہناء کو انہیں لکھ کر دے دو “ ، قیلہ کہتی ہیں : جب میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دہناء انہیں دے دیا تو مجھے اس کا ملال ہوا کیونکہ وہ میرا وطن تھا اور وہیں میرا گھر تھا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! انہوں نے اس زمین کا آپ سے مطالبہ کر کے مبنی پر انصاف مطالبہ نہیں کیا ہے ، دہناء اونٹوں کے باندھنے کی جگہ اور بکریوں کی چراگاہ ہے اور بنی تمیم کی عورتیں اور بچے اس کے پیچھے رہتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے غلام رک جاؤ ! ( مت لکھو ) بڑی بی صحیح کہہ رہی ہیں ، مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ایک دوسرے کے درختوں اور پانی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور مصیبتوں و فتنوں میں ایک دوسرے کی مدد کر سکتے اور کام آ سکتے ہیں “ ۔
I came to the Prophet (ﷺ), and took the oath of allegiance to him. He said: If anyone reaches a water which has not been approached before by any Muslim, it belongs to him. The people, therefore, went out running and marking (on the land).
اسمر بن مضرس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے بیعت کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص کسی ایسے پانی ( چشمے یا تالاب ) پر پہنچ جائے ( یعنی اس کا کھوج لگا لے ) جہاں اس سے پہلے کوئی اور مسلمان نہ پہنچا ہو تو وہ اس کا ہے “ ، ( یعنی وہ اس کا مالک و مختار ہو گا ) ( یہ سن کر ) لوگ دوڑتے اور نشان لگاتے ہوئے چلے ( تاکہ نشانی رہے کہ ہم یہاں تک آئے تھے ) ۔
The Prophet (ﷺ) gave az-Zubayr the land as a fief up to the reach of his horse when he runs. He, therefore, made his horse run until it stopped. He then threw his flog. Thereupon he said: Give him (the land) up to the point where his flog has reached.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی زمین جاگیر میں دی جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے ، تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنا گھوڑا دوڑایا اور جہاں گھوڑا رکا اس سے آگے انہوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دے دو زبیر کو جہاں تک ان کا کوڑا پہنچا ہے “ ۔
Chapter 1125: Reviving Dead Land - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" مَنْ أَحْيَا أَرْضًا مَيْتَةً فَهِيَ لَهُ وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ " .
Narrated Sa'id ibn Zayd:
The Prophet (ﷺ) said: If anyone brings barren land into cultivation, it belongs to him, and the unjust vein has no right.
سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اسی کا ہے ( وہی اس کا مالک ہو گا ) کسی اور ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ہے ۱؎ “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone brings barren land into cultivation, it belong to him. He then transmitted a similar tradition mentioned above (No. 3067).
He ('Urwah) said: One who transmitted this tradition to me said that two persons brought their dispute to the Messenger of Allah (ﷺ). One of them grew palm trees in the land of the other. He decided to return the land to its owner of the palm-trees to remove his palm-trees. He said: I saw when their roots were being struck with axes. The trees were fully grown up, but they were removed from there.
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ زمین اسی کی ہے “ ۔ پھر راوی نے اس کے مثل ذکر کیا ، راوی کہتے ہیں : جس نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی اسی نے یہ بھی ذکر کیا کہ دو شخص اپنا جھگڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر گئے ایک نے دوسرے کی زمین میں کھجور کے درخت لگا رکھے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو اس کی زمین دلا دی ، اور درخت والے کو حکم دیا کہ تم اپنے درخت اکھاڑ لے جاؤ میں نے دیکھا کہ ان درختوں کی جڑیں کلہاڑیوں سے کاٹی گئیں اور وہ زمین سے نکالی گئیں ، حالانکہ وہ لمبے اور گنجان پورے پورے درخت ہو گئے تھے ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Ibn Ishaq through a different chain of narrators and to the same effect. Instead of the phrase “one who transmitted this tradition to me” this version has “A man from among the Companions of the Prophet (ﷺ) and probably he was Abu Sa’id Al Khudri. I saw the man striking at the roots of the palm trees.”
ابن اسحاق اسی سند سے اسی مفہوم کی حدیث روایت کرتے ہیں
مگر اس میں «الذي حدثني هذا» کی جگہ یوں ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا : میرا گمان غالب یہ ہے کہ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رہے ہوں گے کہ میں نے اس آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے درختوں کی جڑیں کاٹ رہا ہے ۔
Chapter 1125: Reviving Dead Land - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الآمُلِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ الأَرْضَ أَرْضُ اللَّهِ وَالْعِبَادَ عِبَادُ اللَّهِ وَمَنْ أَحْيَا مَوَاتًا فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ جَاءَنَا بِهَذَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الَّذِينَ جَاءُوا بِالصَّلَوَاتِ عَنْهُ .
Narrated Urwah:
I testify that the Messenger of Allah (ﷺ) decided that the land is the land of Allah, and the servants are the servants of Allah. If anyone brings barren land into cultivation, he has more right to it.
This tradition has been transmitted to us from the Prophet (ﷺ) by those who transmitted the traditions about prayer from him.
عروہ کہتے ہیں کہ
میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( فیصلہ ) فرمایا ہے کہ زمین اللہ کی ہے اور بندے بھی سب اللہ کے بندے ہیں اور جو شخص کسی بنجر زمین کو آباد کرے تو وہ اس زمین کا زیادہ حقدار ہے ، یہ حدیث ہم سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطہ سے ان لوگوں نے بیان کی ہے جنہوں نے آپ سے نماز کی روایت کی ہے ۔