Chapter 1115: The Ruling On The Land Of Yemen - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرَشِيُّ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُمْ حَدَّثَنَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنِي عَمِّي، ثَابِتُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ، سَعِيدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبْيَضَ - عَنْ جَدِّهِ، أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ أَنَّهُ كَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الصَّدَقَةِ حِينَ وَفَدَ عَلَيْهِ فَقَالَ
" يَا أَخَا سَبَإٍ لاَ بُدَّ مِنْ صَدَقَةٍ " . فَقَالَ إِنَّمَا زَرْعُنَا الْقُطْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَقَدْ تَبَدَّدَتْ سَبَأٌ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلاَّ قَلِيلٌ بِمَأْرِبٍ . فَصَالَحَ نَبِيَّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى سَبْعِينَ حُلَّةِ بَزٍّ مِنْ قِيمَةِ وَفَاءِ بَزِّ الْمَعَافِرِ كُلَّ سَنَةٍ عَمَّنْ بَقِيَ مِنْ سَبَإٍ بِمَأْرِبَ فَلَمْ يَزَالُوا يُؤَدُّونَهَا حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَإِنَّ الْعُمَّالَ انْتَقَضُوا عَلَيْهِمْ بَعْدَ قَبْضِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيمَا صَالَحَ أَبْيَضُ بْنُ حَمَّالٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْحُلَلِ السَّبْعِينَ فَرَدَّ ذَلِكَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى مَا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى مَاتَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا مَاتَ أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه انْتَقَضَ ذَلِكَ وَصَارَتْ عَلَى الصَّدَقَةِ .
Narrated Abyad ibn Hammal:
Abyad spoke to the Messenger of Allah (ﷺ) about sadaqah when he came along with a deputation to him.
He replied: O brother of Saba', sadaqah is unavoidable. He said: We cultivated cotton, Messenger of Allah. The people of Saba' scattered, and there remained only a few at Ma'arib.
He therefore concluded a treaty of peace with the Messenger of Allah (ﷺ) to give seventy suits of cloth, equivalent to the price of the Yemeni garments known as al-mu'afir, to be paid every year on behalf of those people of Saba' who remained at Ma'arib.
They continued to pay them till the Messenger of Allah (ﷺ) died.
The governors after the death of the Messenger of Allah (ﷺ) broke the treaty concluded by Abyad by Hammal with the Messenger of Allah (ﷺ) to give seventy suits of garments.
AbuBakr then revived it as the Messenger of Allah (ﷺ) had done till AbuBakr died. When AbuBakr died, it was discontinued and the sadaqah was levied.
ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب وہ وفد میں شامل ہو کر رسول اللہ کے پاس آئے تو آپ سے صدقے کے متعلق بات چیت کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اے سبائی بھائی ! ( سبا یمن کے ایک شہر کا نام ہے ) صدقہ دینا تو ضروری ہے “ ، ابیض بن حمال نے کہا : اللہ کے رسول ! ہماری زراعت تو صرف کپاس ( روئی ) ہے ، ( سبا اب پہلے والا سبا نہیں رہا ) سبا والے متفرق ہو گئے ( یعنی وہ شہر اور وہ آبادی اب نہیں رہی جو پہلے بلقیس کے زمانہ میں تھی ، اب تو بالکل اجاڑ ہو گیا ہے ) اب کچھ تھوڑے سے سبا کے باشندے مارب ( ایک شہر کا نام ہے ) میں رہ رہے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ہر سال کپڑے کے ایسے ستر جوڑے دینے پر مصالحت کر لی جو معافر ۱؎ کے ریشم کے جوڑے کی قیمت کے برابر ہوں ، وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک برابر یہ جوڑے ادا کرتے رہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد عمال نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ابیض بن حمال سے سال بہ سال ستر جوڑے دیتے رہنے کے معاہدے کو توڑ دیا ، پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سال میں ستر جوڑے دئیے جانے کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو دوبارہ جاری کر دیا ، پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو یہ معاہدہ بھی ٹوٹ گیا اور ان سے بھی ویسے ہی صدقہ لیا جانے لگا جیسے دوسروں سے لیا جاتا تھا ۔
Ibn ‘Abbas said that the Prophet (ﷺ) gave three instructions saying “Expel the polytheists from Arabia, reward deputations as I did”. Ibn ‘Abbas said “He either did not mention the third or I have been caused to forget it. Al Humaidi said on the authority of Sufyan that Sulaiman said “I do not know whether Sa’id mentioned the third and I forgot or he himself did not mention it.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی وفات کے وقت ) تین چیزوں کی وصیت فرمائی ( ایک تو یہ ) کہا کہ مشرکوں کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا ، دوسرے یہ کہ وفود ( ایلچیوں ) کے ساتھ ایسے ہی سلوک کرنا جیسے میں ان کے ساتھ کرتا ہوں ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : اور تیسری چیز کے بارے میں انہوں نے سکوت اختیار کیا یا کہا کہ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر تو کیا ) لیکن میں ہی اسے بھلا دیا گیا ۔ حمیدی سفیان سے روایت کرتے ہیں کہ سلیمان نے کہا کہ مجھے یاد نہیں ، سعید نے تیسری چیز کا ذکر کیا اور میں بھول گیا یا انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا خاموش رہے ۔
Jabir bin ‘Abd Allah said that he was told by ‘Umar bin Al Khattab that he heard the Apostle of Allaah(ﷺ) say “I will certainly expel the Jews and the Christians from Arabia and I shall leave only Muslims in it.”
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” میں جزیرہ عرب سے یہود و نصاری کو ضرور با لضرور نکال دوں گا اور اس میں مسلمانوں کے سوا کسی کو نہ رہنے دوں گا “ ۔
Chapter 1116: The Expulsion Of The Jews From Arabia - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ وَالأَوَّلُ أَتَمُّ .
The tradition mentioned above has also been transmitted by ‘Umar through a different chain of narrators.” He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to the same effect. The former version is ore perfect.”
اس سند سے بھی عمر رضی اللہ عنہ سے اسی کی ہم معنی حدیث مروی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، لیکن پہلی حدیث زیادہ کامل ہے ۔
Sa’id bin Abd Al ‘Aziz said “Arabia lies between Al Wadi to the extremes of the Yemen extending to the frontiers of Al Iraq and the sea.”
Abu Dawud said “This tradition was read out to Al Harith bin Miskin while I was a witness”. Ashhab bin ‘Abd Al Aziz reported it to you on the authority of Malik who said ‘Umar expelled the people of Najran, but he did not expel (them) from Taima. For it did not fall within the territory of Arabia. As for Al Wadi, I think the Jews were not expelled from there. They did not think it a part of the land of Arabia.
سعید یعنی ابن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ
جزیرہ عرب وادی قریٰ سے لے کر انتہائے یمن تک عراق کی سمندری حدود تک ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : حارث بن مسکین کے سامنے یہ پڑھا گیا اور میں وہاں موجود تھا کہ اشہب بن عبدالعزیز نے آپ کو خبر دی ہے کہ مالک کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ نے اہل نجران ۱؎ کو جلا وطن کیا ، اور تیماء سے جلا وطن نہیں کیا ، اس لیے کہ تیماء ۲؎ بلاد عرب میں شامل نہیں ہے ، رہ گئے وادی قریٰ کے یہودی تو میرے خیال میں وہ اس وجہ سے جلا وطن نہیں کئے گئے کہ ان لوگوں نے وادی قری کو عرب کی سر زمین میں سے نہیں سمجھا ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying “Iraq will prevent its measure (qafiz) and dirham. Syria will prevent its measure (mudi) and dinar. Egypt will prevent its measure (irdabb) and dinar. Then you will return to the position where you started. Zuhair said this three times. The flesh and blood of Abu Hurairah witnessed it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ایک وقت آئے گا ) جب عراق اپنے پیمانے اور روپے روک دے گا اور شام اپنے مدوں اور اشرفیوں کو روک دے گا اور مصر اپنے اردبوں ۲؎ اور اشرفیوں کو روک دے گا ۳؎ پھر ( ایک وقت آئے گا جب ) تم ویسے ہی ہو جاؤ گے جیسے شروع میں تھے ۴؎ “ ، ( احمد بن یونس کہتے ہیں : ) زہیر نے یہ بات ( زور دینے کے لیے ) تین بار کہی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے گوشت و خون ( یعنی ان کی ذات ) نے اس کی گواہی دی ۔
Chapter 1117: Making Endowments Of The Lands Of As-Sawad, And The Lands That Were Conquered By Force - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ ثُمَّ هِيَ لَكُمْ " .
Abu Hurairah reported the Apostle of Allaah(ﷺ) as saying “Whatever town you come to and stay in , your portion is in it, but whatever town disobeys Allaah and His Apostle a fifth of it goes to Allaah and His Apostle and what remains is yours.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس بستی میں تم آؤ اور وہاں رہو تو جو تمہارا حصہ ہے وہی تم کو ملے گا ۱؎ اور جس بستی کے لوگوں نے اللہ و رسول کی نافرمانی کی ( اور اسے تم نے زور و طاقت سے زیر کیا ) تو اس میں سے پانچواں حصہ اللہ و رسول کا نکال کر باقی تمہیں مل جائے گا ( یعنی بطور غنیمت مجاہدین میں تقسیم ہو جائے گا ) “ ۔
The Prophet (ﷺ) sent Khalid ibn al-Walid to Ukaydir of Dumah. He was seized and they brought him to him (i.e. the Prophet). He spared his life and made peace with him on condition that he should pay jizyah (poll-tax).
انس رضی اللہ عنہ سے ( مرفوعاً ) اور عثمان بن ابو سلیمان سے ( مرسلاً ) روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو اکیدر ۱؎ دومہ کی طرف بھیجا ، تو خالد اور ان کے ساتھیوں نے اسے گرفتار کر لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے ، آپ نے اس کا خون معاف کر دیا اور جزیہ پر اس سے صلح کر لی ۔
When the Prophet (ﷺ) sent him to the Yemen, he ordered to take from everyone who had reached puberty one dinar or its equivalent in Mu'afiri garment of Yemen origin.
معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کی طرف ( حاکم بنا کر ) بھیجا ، تو انہیں حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر قیمت کا معافری کپڑا جو یمن میں تیار ہوتا ہے جزیہ لیں ۔
‘Ali said “If I survive for the Christians of Banu Taghlib I shall kill fighters and captivate children for I had written a document between them and the Prophet(ﷺ) to the effect that they would not make their children Christian.
Abu Dawud said “This is rejected (munkar) tradition and it has reached me from Ahmad (bin Hanbal) that he used to reject this tradition seriously.
Abu ‘Ali said “Abu Dawud did not present this (tradition) in this second reading.”
زیاد بن حدیر کہتے ہیں کہ
علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں زندہ رہا تو بنی تغلب کے نصاریٰ کے لڑنے کے قابل لوگوں کو قتل کر دوں گا اور ان کی اولاد کو قیدی بنا لوں گا کیونکہ ان کے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا وہ عہد نامہ میں نے ہی لکھا تھا اس میں تھا کہ وہ اپنی اولاد کو نصرانی نہ بنائیں گے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حدیث منکر ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ امام احمد بھی اس حدیث کا نہایت سختی سے انکار کرتے تھے ۔ ابوعلی کہتے ہیں : ابوداؤد نے دوسری بار جب اس کتاب کو سنایا تو اس میں اس حدیث کو نہیں پڑھا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) concluded peace with the people of Najran on condition that they would pay to Muslims two thousand suits of garments, half of Safar, and the rest in Rajab, and they would lend (Muslims) thirty coats of mail, thirty horses, thirty camels, and thirty weapons of each type used in battle. Muslims will stand surely for them until they return them in case there is any plot or treachery in the Yemen. No church of theirs will be demolished and no clergyman of theirs will be turned out. There will be no interruption in their religion until they bring something new or take usury. Isma'il said: They took usury.
Abu Dawud said: If they violate any provision of the treaty, they will be deemed as bringing something new.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجران سے اس شرط پر صلح کی کہ وہ کپڑوں کے دو ہزار جوڑے مسلمانوں کو دیا کریں گے ، آدھا صفر میں دیں ، اور باقی ماہ رجب میں ، اور تیس زرہیں ، تیس گھوڑے اور تیس اونٹ اور ہر قسم کے ہتھیاروں میں سے تیس تیس ہتھیار جس سے مسلمان جہاد کریں گے بطور عاریت دیں گے ، اور مسلمان ان کے ضامن ہوں گے اور ( ضرورت پوری ہو جانے پر ) انہیں لوٹا دیں گے اور یہ عاریۃً دینا اس وقت ہو گا جب یمن میں کوئی فریب کرے ( یعنی سازش کر کے نقصان پہنچانا چاہے ) یا مسلمانوں سے غداری کرے اور عہد توڑے ( اور وہاں جنگ در پیش ہو ) اس شرط پر کہ ان کا کوئی گرجا نہ گرایا جائے گا ، اور کوئی پادری نہ نکالا جائے گا ، اور ان کے دین میں مداخلت نہ کی جائے گی ، جب تک کہ وہ کوئی نئی بات نہ پیدا کریں یا سود نہ کھانے لگیں ۔ اسماعیل سدی کہتے ہیں : پھر وہ سود کھانے لگے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب انہوں نے اپنے اوپر لاگو بعض شرائط توڑ دیں تو نئی بات پیدا کر لی ( اور وہ ملک عرب سے نکال دئیے گئے ) ۔
Amr ibn Aws and AbulSha'tha' reported that Bujalah said: I was secretary to Jaz' ibn Mu'awiyah, the uncle of Ahnaf ibn Qays.
A letter came to us from Umar one year before his death, saying: Kill every magician, separate the relatives of prohibited degrees from the Magians, and forbid them to murmur (before eating). So we killed three magicians in one day, and separated from a Magian husband his wife of a prohibited degree according to the Book of Allah.
He prepared abundant food and called them, and placed the sword on his thigh. They ate (the food) but did not murmur. They threw (on the ground) one or two mule-loads of silver. Umar did not take jizyah from Magians until AbdurRahman ibn Awf witnessed that the Messenger of Allah (ﷺ) had taken jizyah from the Magians of Hajar.
عمرو بن دینار سے روایت ہے ، انہوں نے بجالہ کو عمرو بن اوس اور ابوشعثاء سے بیان کرتے سنا کہ
میں احنف بن قیس کے چچا جزء بن معاویہ کا منشی ( کاتب ) تھا ، کہ ہمارے پاس عمر رضی اللہ عنہ کا خط ان کی وفات سے ایک سال پہلے آیا ( اس میں لکھا تھا کہ ) : ” ہر جادوگر کو قتل کر ڈالو ، اور مجوس کے ہر ذی محرم کو دوسرے محرم سے جدا کر دو ، ۱؎ اور انہیں زمزمہ ( گنگنانے اور سر سے آواز نکالنے ) سے روک دو “ ، تو ہم نے ایک دن میں تین جادوگر مار ڈالے ، اور جس مجوسی کے بھی نکاح میں اس کی کوئی محرم عورت تھی تو اللہ کی کتاب کے مطابق ہم نے اس کو جدا کر دیا ، احنف بن قیس نے بہت سارا کھانا پکوایا ، اور انہیں ( کھانے کے لیے ) بلوا بھیجا ، اور تلوار اپنی ران پر رکھ کر بیٹھ گیا تو انہوں نے کھانا کھایا اور وہ گنگنائے نہیں ، اور انہوں نے ایک خچر یا دو خچروں کے بوجھ کے برابر چاندی ( بطور جزیہ ) لا کر ڈال دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے مجوسیوں سے جزیہ نہیں لیا جب تک کہ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے گواہی نہ دے دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجر ۲؎ کے مجوسیوں سے جزیہ لیا تھا ۔
A man belonging to Usbadhiyin of the people of Bahrayn, who were the Magians of Hajar, came to the Messenger of Allah (ﷺ) and remained with him (for some time), and then came out. I asked him: What have Allah and His Messenger of Allah decided for you? He replied: Evil. I said: Silent. He said: Islam or killing. AbdurRahman ibn Awf said: He accepted jizyah from them. Ibn Abbas said: The people followed the statement of AbdurRahman ibn Awf, and they left that which I heard from the Usbadhi.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
بحرین کے رہنے والے اسبذیوں ۱؎ ( ہجر کے مجوسیوں ) میں کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کے پاس تھوڑی دیر ٹھہرا رہا پھر نکلا تو میں نے اس سے پوچھا : اللہ اور اس کے رسول نے تم سب کے متعلق کیا فیصلہ کیا ؟ وہ کہنے لگا : برا فیصلہ کیا ، میں نے کہا : چپ ( ایسی بات کہتا ہے ) اس پر اس نے کہا : فیصلہ کیا ہے کہ یا تو اسلام لاؤ یا قتل ہو جاؤ ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے ان سے جزیہ لینا قبول کر لیا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو لوگوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے قول پر عمل کیا اور اسبذی سے جو میں نے سنا تھا اسے چھوڑ دیا ( عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے مقابل میں کافر اسبذی کے قول کا کیا اعتبار ) ۔
‘Urwa bin Al Zubair said “Hisham bin Halim bin Hizam found a man who was the governor of Hims making some Copts stand in the sun for the payment of jizyah. He said “What is this?” I heard the Apostle (ﷺ) as saying “Allaah Most High will punish those who punish the people in this world.”
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ
ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے حمص کے ایک عامل ( محصل ) کو دیکھا کہ وہ کچھ قبطیوں ( عیسائیوں ) سے جزیہ وصول کرنے کے لیے انہیں دھوپ میں کھڑا کر کے تکلیف دے رہا تھا ، تو انہوں نے کہا : یہ کیا ہے ؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” اللہ عزوجل ایسے لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو عذاب دیا کرتے ہیں ۱؎ “ ۔
Harb ibn Ubaydullah told on the authority of his grandfather, his mother's father, that he had it on the authority of his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Tithes are to be levied on Jews and Christians, but not on Muslims.
حرب بن عبیداللہ کے نانا ( جو بنی تغلب سے ہیں ) کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عشر ( دسواں حصہ ) یہود و نصاریٰ سے لیا جائے گا اور مسلمانوں پر دسواں حصہ ( مال تجارت میں ) نہیں ہے ( بلکہ ان سے چالیسواں حصہ لیا جائے گا ۔ البتہ پیداوار اور زراعت میں ان سے دسواں حصہ لیا جائے گا ) “ ۔
Chapter 1121: Levying The 'Ushur On Ahl Adh-Dhimmah If They Deal In Trade - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْمُحَارِبِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمَعْنَاهُ قَالَ " خَرَاجٌ " . مَكَانَ " الْعُشُورُ " .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Harb bin ‘Ubaid Allah from the Prophet (ﷺ) to the same effect through a different chain of narrators. This version has the word kharaj(land tax) instead of ‘ushr (tithes).
حرب بن عبیداللہ سے اسی مفہوم کی حدیث مرفوعاً مروی ہے
A man reported from Bakr bin Wa’il on the authority of his maternal uncle as saying, I said “Apostle of Allaah(ﷺ) may I levy tithe on my people.?” He replied “Tithes are to be levied on Jews and Christians.”
عطا سے روایت ہے
انہوں نے ( قبیلہ ) بکر بن وائل کے ایک شخص سے اس نے اپنے ماموں سے روایت کیا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! کیا میں اپنی قوم سے ( اموال تجارت میں ) دسواں حصہ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دسواں حصہ یہود و نصاریٰ پر ہے “ ۔
Harb ibn Ubaydullah ibn Umayr ath-Thaqafi told on the authority of his grandfather, a man of Banu Taghlib: I came to the Prophet (ﷺ), embraced Islam, and he taught me Islam. He also taught me how I should take sadaqah from my people who had become Muslim. I then returned to him and said: Messenger of Allah, I remembered whatever you taught me except the sadaqah. Should I levy tithe on them? He replied: No, tithes are to be levied on Christians and Jews.
حرب بن عبیداللہ کے نانا جو بنی تغلب سے تعلق رکھتے تھے کہتے ہیں
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مسلمان ہو کر آیا ، آپ نے مجھے اسلام سکھایا ، اور مجھے بتایا کہ میں اپنی قوم کے ان لوگوں سے جو اسلام لے آئیں کس طرح سے صدقہ لیا کروں ، پھر میں آپ کے پاس لوٹ کر آیا اور میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جو آپ نے مجھے سکھایا تھا سب مجھے یاد ہے ، سوائے صدقہ کے کیا میں اپنی قوم سے دسواں حصہ لیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں ، دسواں حصہ تو یہود و نصاریٰ پر ہے “ ۔
We alighted with the Prophet (ﷺ) at Khaybar, and he had his companions with him. The chief of Khaybar was a defiant and abominable man.
He came to the Prophet (ﷺ) and said: Is it proper for you, Muhammad, that you slaughter our donkeys, eat our fruit, and beat our women?
The Prophet (ﷺ) became angry and said: Ibn Awf, ride your horse, and call loudly: Beware, Paradise is lawful only for a believer, and that they (the people) should gather for prayer.
They gathered and the Prophet (ﷺ) led them in prayer, stood up and said: Does any of you, while reclining on his couch, imagine that Allah has prohibited only that which is to be found in this Qur'an? By Allah, I have preached, commanded and prohibited various matters as numerous as that which is found in the Qur'an, or more numerous. Allah has not permitted you to enter the houses of the people of the Book without permission, or beat their women, or eat their fruits when they give you that which is imposed on them.
عرباض بن ساریہ سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر میں پڑاؤ کیا ، جو لوگ آپ کے اصحاب میں سے آپ کے ساتھ تھے وہ بھی تھے ، خیبر کا رئیس سرکش و شریر شخص تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا : محمد ! کیا تمہارے لیے روا ہے کہ ہمارے گدھوں کو ذبح کر ڈالو ، ہمارے پھل کھاؤ ، اور ہماری عورتوں کو مارو پیٹو ؟ ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوئے ، اور عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” عبدالرحمٰن ! اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر اعلان کر دو کہ جنت سوائے مومن کے کسی کے لیے حلال نہیں ہے ، اور سب لوگ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ “ ، تو سب لوگ اکٹھا ہو گئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی پھر کھڑے ہو کر فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی شخص اپنی مسند پر تکیہ لگائے بیٹھ کر یہ سمجھتا ہے کہ اللہ نے اس قرآن میں جو کچھ حرام کیا اس کے سوا اور کچھ حرام نہیں ہے ؟ خبردار ! سن لو میں نے تمہیں کچھ باتوں کی نصیحت کی ہے ، کچھ باتوں کا حکم دیا ہے اور کچھ باتوں سے روکا ہے ، وہ باتیں بھی ویسی ہی ( اہم اور ضروری ) ہیں جیسی وہ باتیں جن کا ذکر قرآن میں ہے یا ان سے بھی زیادہ ۱؎ ، اللہ نے تمہیں بغیر اجازت اہل کتاب کے گھروں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ہے ، اور نہ ہی ان کی عورتوں کو مارنے و ستانے کی ، اور نہ ہی ان کے پھل کھانے کی ، جب تک کہ وہ تمہیں وہ چیزیں دیتے رہیں جو تمہارا ان پر ہے ( یعنی جزیہ ) “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: Probably you will fight with a people, you will dominate them, and they will save themselves and their children by their property. The version of Sa'id has You will then conclude peace with them. The agreed version goes: Then do no take anything from them more than that, for it is not proper for you.
جہینہ کے ایک شخص کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایسا ہو سکتا ہے کہ تم ایک قوم سے لڑو اور اس پر غالب آ جاؤ تو وہ تمہیں مال ( جزیہ ) دے کر اپنی جانوں اور اپنی اولاد کو تم سے بچا لیں “ ۔ سعید کی روایت میں ہے : «فيصالحونكم على صلح» پھر وہ تم سے صلح پر مصالحت کر لیں پھر ( مسدد اور سعید بن منصور دونوں راوی آگے کی بات پر ) متفق ہو گئے کہ : جتنے پر مصالحت ہو گئی ہو اس سے زیادہ کچھ بھی نہ لینا کیونکہ یہ تمہارے واسطے درست نہیں ہے ۔
Chapter 1121: Levying The 'Ushur On Ahl Adh-Dhimmah If They Deal In Trade - كتاب الخراج والإمارة والفىء
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ الْمَدِينِيُّ، أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ سُلَيْمٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عِدَّةٍ، مِنْ أَبْنَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ آبَائِهِمْ دِنْيَةً عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" أَلاَ مَنْ ظَلَمَ مُعَاهِدًا أَوِ انْتَقَصَهُ أَوْ كَلَّفَهُ فَوْقَ طَاقَتِهِ أَوْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ فَأَنَا حَجِيجُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
Narrated A number of Companions of the Prophet:
Safwan reported from a number of Companions of the Messenger of Allah (ﷺ) on the authority of their fathers who were relatives of each other. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Beware, if anyone wrongs a contracting man, or diminishes his right, or forces him to work beyond his capacity, or takes from him anything without his consent, I shall plead for him on the Day of Judgment.
ابوصخر مدینی کا بیان ہے کہ
صفوان بن سلیم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے کچھ بیٹوں سے اور انہوں نے اپنے آبائ سے ( جو ایک دوسرے کے عزیز تھے ) اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! جس نے کسی ذمی پر ظلم کیا یا اس کا کوئی حق چھینا یا اس کی طاقت سے زیادہ اس پر بوجھ ڈالا یا اس کی کوئی چیز بغیر اس کی مرضی کے لے لی تو قیامت کے دن میں اس کی طرف سے ” وکیل “ ۱؎ ہوں گا “ ۔