حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَىِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ لَيْلَةً .
Narrated Ubayy ibn Ka'b:
The Prophet (ﷺ) used to observe i'tikaf during the last ten days of Ramadan. One year he did not observe i'tikaf. When the next year came, he observed i'tikaf for twenty nights (i.e. days).
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ، ایک سال ( کسی وجہ سے ) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات کا اعتکاف کیا ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) intended to observe I'tikaf, he prayed the fajr prayer and then entered his place of seclusion. Once he intended to observe I'tikaf during the last ten days of Ramadan. She said: He ordered to pitch a tent for him, and it was pitched. She said: The other wives of the Prophet (ﷺ) also ordered to pitch tents for them and they were pitched. When he offered the fajr prayer, he saw the tents, and said: What is this ? Did you intend to do an act of virtue ? She said: He then ordered to demolish his tent, and it was demolished. Then his wives also ordered to demolish their tents and they were demolished. He then postponed I'tikaf till the first ten days, that is of Shawwal.
Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Ibn Ishaq and al-Auza'i from Yahya b. Sa'id in a similar manner, and Malik narrated it from Yahya b. Sa'id, saying: He observed I'tikaf during twenty days of Shawwal.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے ، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا ، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا ، خیمہ لگا دیا گیا ، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا ، اسے بھی لگایا گیا ، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا : یہ کیا ہیں ؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے ؟ ۱؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا ، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا ۔
Chapter 844: Where Is Al-I'tikaf (Observed) ? - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، أَنَّ نَافِعًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ . قَالَ نَافِعٌ وَقَدْ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ الْمَكَانَ الَّذِي يَعْتَكِفُ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَسْجِدِ .
Ibn 'Umar said:
The Prophet (ﷺ) used to observe I'tikaf during the last ten days of Ramadan. Nafi' said: 'Abd Allah (b. 'Umar) showed me the place in the mosque where Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرتے تھے ۔ نافع کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عمر نے مجھے مسجد کے اندر وہ جگہ دکھائی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف کیا کرتے تھے ۔
Chapter 844: Where Is Al-I'tikaf (Observed) ? - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعْتَكِفُ كُلَّ رَمَضَانَ عَشَرَةَ أَيَّامٍ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا .
Abu Hurairah said:
The Prophet (ﷺ) used to observe I'tikaf during ten days of Ramadan every year. But when the year in which he died, he observed I'tikaf for twenty days.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کرتے تھے ، لیکن جس سال آپ کا انتقال ہوا اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن کا اعتکاف کیا ۔
When the Messenger of Allah (ﷺ) observed I'tikaf, he would put his head near me, and I would comb it. and he entered the house only to fulfill human needs (i.e. to urinate or to relieve himself).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو ( مسجد ہی سے ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے اور میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں کسی انسانی ضرورت ہی کے پیش نظر داخل ہوتے تھے ۔
A similar tradition has been transmitted by 'Aishah from the Prophet (ﷺ) through a different chain of narrators.
Abu Dawud said:
And Yunus also narrated in a similar way from al-Zuhri, and no one supported Malik in his narration from 'Urwah from 'Umrah ; and Ma'mar, Ziyad b. Sad and others have also narrated it from al-Zuhri from 'Urwah on the authority of 'Aishah.
The Messenger of Allah (ﷺ) used to observe I'tikaf in the mosque and put his head near me through the opening of the apartment, and I would wash his head. Musaddad said: "And I would comb it while I was menstruating."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اندر اعتکاف کی حالت میں ہوتے تو حجرے کے کسی جھروکے سے اپنا سر میری طرف کر دیتے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو دیتی ، کنگھی کر دیتی ، اور میں حیض سے ہوتی تھی ۔
Chapter 845: The Person Observing I'tikaf Entering His House For A Need - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَبُّويَةَ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ صَفِيَّةَ، قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُعْتَكِفًا فَأَتَيْتُهُ أَزُورُهُ لَيْلاً فَحَدَّثْتُهُ ثُمَّ قُمْتُ فَانْقَلَبْتُ فَقَامَ مَعِي لِيَقْلِبَنِي - وَكَانَ مَسْكَنُهَا فِي دَارِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ - فَمَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ فَلَمَّا رَأَيَا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَسْرَعَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّهَا صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ " . قَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ الإِنْسَانِ مَجْرَى الدَّمِ فَخَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا " . أَوْ قَالَ " شَرًّا " .
Safiyyah said:
When the Messenger of Allah (ﷺ) was observing I'tikaf (in the mosque), I would come to him to visit him. I had a talk with him and then stood up. I then returned and he (the Prophet) also stood up to accompany me (to my house). Her dwelling place was in the house of Usamah b. Zaid. Two men from the Ansar (helpers) passed (by him at the moment). When they saw the Prophet (ﷺ), they walked quickly. The Prophet (ﷺ) said: Be at ease, she is Safiyyah daughter of Huyayy. They said: Be glory to Allah, Messenger of Allah! He said: Satan runs in man like blood. I feared he might inspire something in your mind, or he said: evil (the narrator doubted).
ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معتکف تھے تو میں رات میں ملاقات کی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بات چیت کی ، پھر میں کھڑی ہو کر چلنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی مجھے واپس کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے ، ( اس وقت ان کی رہائش اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مکان میں تھی ) اتنے میں دو انصاری وہاں سے گزرے ، وہ آپ کو دیکھ کر تیزی سے نکلنے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرو ، یہ صفیہ بنت حیی ( میری بیوی ) ہے ( ایسا نہ ہو کہ تمہیں کوئی غلط فہمی ہو جائے ) “ ، وہ بولے : سبحان اللہ ! اللہ کے رسول ! ( آپ کے متعلق ایسی بدگمانی ہو ہی نہیں سکتی ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کچھ ( یا کہا : کوئی شر ) نہ ڈال دے “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Zuhri through a different chain of narrators. In this version she said “When he was at the gate of the mosque which was near the gate of Umm Salamah, two men passed them. The narrator then transmitted the tradition to the same effect.
زہری سے اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے جس میں ام المؤمنین صفیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے اس دروازے پر پہنچے جو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس ہے تو ان کے قریب سے دو شخص گزرے ، اور پھر اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔
Chapter 846: A Person Observing I'tikaf Visiting The Sick - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ بْنُ حَرْبٍ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - قَالَ النُّفَيْلِيُّ - قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَمُرُّ بِالْمَرِيضِ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فَيَمُرُّ كَمَا هُوَ وَلاَ يُعَرِّجُ يَسْأَلُ عَنْهُ . وَقَالَ ابْنُ عِيسَى قَالَتْ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَعُودُ الْمَرِيضَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ .
According to the version of Al Nufaili, A’ishah said “The Prophet (ﷺ) used to pass by a patient while he was observing I’tikaf(in the mosque) but he passed as usual and did not stay asking about him.”
According to the version of Ibn Isa she said “The Prophet (ﷺ) would visit a patient while he was observing I’tikaf.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حالت اعتکاف میں مریض کے پاس سے عیادت کرتے ہوئے گزر جاتے جس طرح کے ہوتے اور ٹھہرتے نہیں بغیر ٹھہرتے اس کا حال پوچھتے ۔
The sunnah for one who is observing i'tikaf (in a mosque) is not to visit a patient, or to attend a funeral, or touch or embrace one's wife, or go out for anything but necessary purposes. There is no i'tikaf without fasting, and there is no i'tikaf except in a congregational mosque.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
سنت یہ ہے کہ اعتکاف کرنے والا کسی مریض کی عیادت نہ کرے ، نہ جنازے میں شریک ہو ، نہ عورت کو چھوئے ، اور نہ ہی اس سے مباشرت کرے ، اور نہ کسی ضرورت سے نکلے سوائے ایسی ضرورت کے جس کے بغیر کوئی چارہ نہ ہو ، اور بغیر روزے کے اعتکاف نہیں ، اور جامع مسجد کے سوا کہیں اور اعتکاف نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عبدالرحمٰن کے علاوہ دوسروں کی روایت میں «قالت السنة» کا لفظ نہیں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : انہوں نے اسے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول قرار دیا ہے ۔
Chapter 846: A Person Observing I'tikaf Visiting The Sick - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُدَيْلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ، - رضى الله عنه - جَعَلَ عَلَيْهِ أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَيْلَةً أَوْ يَوْمًا عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَسَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" اعْتَكِفْ وَصُمْ " .
Narrated Abdullah ibn Umar:
Umar (may Allah be pleased with him) took a vow in the pre-Islamic days to spend a night or a day in devotion near the Ka'bah (in the sacred mosque). He asked the Prophet (ﷺ) about it. He said: Observe i'tikaf (i.e. spend a night or a day near the Ka'bah) and fast.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عمر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت میں اپنے اوپر کعبہ کے پاس ایک دن اور ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : ” اعتکاف کرو اور روزہ رکھو “ ۔
The tradition mentioned above (No. 2468) has also been transmitted by Abdullah ibn Budayl through a different chain of narrators in a similar way.
This version adds: While he (Umar) was observing i'tikaf (in the sacred mosque), the people uttered (loudly): "Allah is most great." He said: What is this, Abdullah? He said: These are the captives of the Hawazin whom the Messenger of Allah (ﷺ) has set free. He said: This slave-girl too? He sent her along with them.
اس سند سے بھی عبداللہ بن بدیل سے اسی طرح مروی ہے ، اس میں ہے اسی دوران کہ
وہ ( عمر رضی اللہ عنہ ) حالت اعتکاف میں تھے لوگوں نے ” الله أكبر “ کہا ، تو پوچھا : عبداللہ ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ قبیلہ ہوازن والوں کے قیدیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد کر دیا ہے ، کہا : یہ لونڈی بھی ( تو انہیں میں سے ہے ) ۱؎ چنانچہ انہوں نے اسے بھی ان کے ساتھ آزاد کر دیا ۔
Chapter 847: The Woman Suffering From Istihadah Observing I'tikaf - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتِ اعْتَكَفَتْ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ فَكَانَتْ تَرَى الصُّفْرَةَ وَالْحُمْرَةَ فَرُبَّمَا وَضَعْنَا الطَّسْتَ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي .
A’ishah(may Allaah be pleased with her) said “One of the wives of the Apostle of Allaah(ﷺ) observed I’tikaf along with him (in the mosque). She would see yellowness and redness. Sometimes we would place a washbasin while she prayed.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا وہ ( خون میں ) پیلا پن اور سرخی دیکھتیں ( یعنی انہیں استحاضہ کا خون جاری رہتا ) تو بسا اوقات ہم ان کے نیچے ( خون کے لیے ) بڑا برتن رکھ دیتے اور وہ حالت نماز میں ہوتیں ۔