The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: There is no virtue more to the liking of Allah in any day than in these days, that is, the first ten days of Dhu al-Hijjah. They (the Companions) asked: Messenger of Allah, not even the struggle in the path of Allah (Jihad) ? He said: (Yes), not even the struggle in the path of Allah, except a man who goes out (in the path of Allah) with his life and property, and does not return with any of them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دنوں یعنی عشرہ ذی الحجہ کا نیک عمل اللہ تعالیٰ کو تمام دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہے “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی راہ میں جہاد بھی ( اسے نہیں پا سکتا ) ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جہاد بھی نہیں ، مگر ایسا شخص جو اپنی جان و مال کے ساتھ نکلا اور لوٹا ہی نہیں “ ۔
Chapter 830: Regarding Fasting On (The Day Of) 'Arafah At 'Arafat - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ، عَنْ مَهْدِيٍّ الْهَجَرِيِّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ .
Narrated AbuHurayrah:
Ikrimah said: We were with AbuHurayrah in his house when he narrated to us: The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited fasting on the day of Arafah at Arafah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کے روزے سے منع فرمایا ۔
On the day of 'Arafah some people near her argued whether the Messenger of Allah (ﷺ) was fasting, some saying that he was, and others saying that he was not. I, therefore, sent him a cup of milk while he was observing the halt at 'Arafah on his camel, and he drank it.
ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے پاس لوگ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم عرفہ ( نویں ذی الحجہ ) کے روزے سے متعلق جھگڑنے لگے ، کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں اور کچھ کہہ رہے تھے کہ روزے سے نہیں ہیں چنانچہ میں نے دودھ کا ایک پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اس وقت آپ عرفہ میں اپنے اونٹ پر وقوف کئے ہوئے تھے تو آپ نے اسے نوش فرما لیا ۔
Chapter 831: Regarding Fasting The Day Of 'Ashura' - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - قَالَتْ كَانَ يَوْمُ عَاشُورَاءَ يَوْمًا تَصُومُهُ قُرَيْشٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ هُوَ الْفَرِيضَةَ وَتُرِكَ عَاشُورَاءُ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ .
'Aishah said:
The Quraish used to fast on the day of 'Ashurah in pre Islamic days. The Messenger of Allah (ﷺ) would fast on it in pre-Islamic period. When the Messenger of Allah (ﷺ) came to Medina, he fasted on it and commanded to fast on it. When the fast of Ramadan was prescribed, that became obligatory, and (fasting on) 'Ashurah was abandoned. He who wishes may fast on it and he who wishes may leave it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
زمانہ جاہلیت میں قریش عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس کا روزہ نبوت سے پہلے رکھتے تھے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے اس کا روزہ رکھا ، اور اس کے روزے کا حکم دیا ، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو رمضان کے روزے ہی فرض رہے ، اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا گیا اب اسے جو چاہے رکھے جو چاہے چھوڑ دے ۔
'Ashurah was a day on which we used to fast in pre-Islamic days. When (fasting of) Ramadan was prescribed, the Messenger of Allah (ﷺ) said: This is one of the days of Allah ; he who wishes may fast on it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
زمانہ جاہلیت میں ہم عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے ، پھر جب رمضان کے روزوں فرضیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ( یوم عاشوراء ) اللہ کے دنوں میں سے ایک دن ہے لہٰذا جو روزہ رکھنا چاہے رکھے ، اور جو نہ چاہے نہ رکھے “ ۔
Chapter 831: Regarding Fasting The Day Of 'Ashura' - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمَدِينَةَ وَجَدَ الْيَهُودَ يَصُومُونَ عَاشُورَاءَ فَسُئِلُوا عَنْ ذَلِكَ فَقَالُوا هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي أَظْهَرَ اللَّهُ فِيهِ مُوسَى عَلَى فِرْعَوْنَ وَنَحْنُ نَصُومُهُ تَعْظِيمًا لَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" نَحْنُ أَوْلَى بِمُوسَى مِنْكُمْ " . وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ .
Ibn 'Abbas said:
When the Prophet (ﷺ) came to Medina, he found the Jews observing fast on the day of 'Ashurah; so they were asked about it (by the Prophet). They said: This is a day on which Allah gave Moses domination over Pharaoh. We fast on it out of reverence to him. The Messenger of Allah (ﷺ) said: We have a closer connection with Moses than you have. He then gave orders that it should be observed.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو یہودیوں کو یوم عاشورہ کا روزہ رکھتے ہوئے پایا ، اس کے متعلق جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( وضاحت ) کو فرعون پر فتح نصیب کی تھی ، چنانچہ تعظیم کے طور پر ہم اس دن کا روزہ رکھتے ہیں ، ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم موسیٰ علیہ السلام کے تم سے زیادہ حقدار ہیں “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔
Chapter 832: What Has Been Related Regarding 'Ashura' Being The Ninth Day (Of Muharram) - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، أَنَّ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ الْقُرَشِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ أَبَا غَطَفَانَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ حِينَ صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَأَمَرَنَا بِصِيَامِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ يَوْمٌ تُعَظِّمُهُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" فَإِذَا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ صُمْنَا يَوْمَ التَّاسِعِ " . فَلَمْ يَأْتِ الْعَامُ الْمُقْبِلُ حَتَّى تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Ibn 'Abbas said:
When the Prophet (ﷺ) on the day of 'Ashurah and commanded us to fast on it, they (i.e. Companions) said: Messenger of Allah, this is a day which is considered great by Jews and Christians ? The Messenger of Allah (ﷺ) said: When the next year comes, we shall fast on the 9th of Muharram. But the next year the Messenger of Allah (ﷺ) breathed his last.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور ہمیں بھی اس کے روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ ایسا دن ہے کہ یہود و نصاری اس دن کی تعظیم کرتے ہیں ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگلے سال ہم نویں محرم کا بھی روزہ رکھیں گے “ ، لیکن آئندہ سال نہیں آیا کہ آپ وفات فرما گئے ۱؎ ۔
Chapter 832: What Has Been Related Regarding 'Ashura' Being The Ninth Day (Of Muharram) - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، - يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ - عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ غَلاَبٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، أَخْبَرَنِي حَاجِبُ بْنُ عُمَرَ، - جَمِيعًا الْمَعْنَى - عَنِ الْحَكَمِ بْنِ الأَعْرَجِ، قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَهُوَ مُتَوَسِّدٌ رِدَاءَهُ فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ فَقَالَ إِذَا رَأَيْتَ هِلاَلَ الْمُحَرَّمِ فَاعْدُدْ فَإِذَا كَانَ يَوْمُ التَّاسِعِ فَأَصْبِحْ صَائِمًا . فَقُلْتُ كَذَا كَانَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ فَقَالَ كَذَلِكَ كَانَ مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ .
Al-Hakam b. al-A'raj said:
I came to Ibn 'Abbas who was leaning against his sheet of cloth in the Sacred Mosque (al-Masjid al-Haram). I asked him about fasting on the day of 'Ashurah. He said: When you sight the moon of al-Muharram, count (the days). When the 9th of Muharram comes, fast from the morning. I said: Would Muhammad (ﷺ) observe this fast ? He replied: Thus Muhammad (ﷺ) used to fast.
حکم بن الاعرج کہتے ہیں کہ
میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ مسجد الحرام میں اپنی چادر کا تکیہ لگائے ہوئے تھے ، میں نے عاشوراء کے روزے سے متعلق ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : جب تم محرم کا چاند دیکھو تو گنتے رہو اور نویں تاریخ آنے پر روزہ رکھو ، میں نے پوچھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ( ہاں ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح روزہ رکھتے تھے ۱؎ ۔
AbdurRahman reported on the authority of his uncle that the people of the tribe Aslam came to the Prophet (ﷺ). He said (to them): Did you fast on this day? They replied: No. He said: Complete the rest of your day, and make atonement for it.
عبدالرحمٰن بن مسلمہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ
قبیلہ اسلم کے لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، آپ نے پوچھا : ” کیا تم لوگوں نے اپنے اس دن کا روزہ رکھا ہے ؟ “ جواب دیا : نہیں ، فرمایا : ” دن کا بقیہ حصہ بغیر کھائے پئے پورا کرو اور روزے کی قضاء کرو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یعنی عاشوراء کے دن ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: The fast most liked by Allah is the one observed by Dawud (David), and the prayer dearer to Allah is the one offered by Dawud (David): he would sleep half the night, and stand (in prayer) one-third of it, and sleep one-sixth of it. He would go without fasting one day, and fast the other day.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے : وہ آدھی رات تک سوتے ، اور تہائی رات تک قیام کرتے ( تہجد پڑھتے ) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے ، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے ، ایک دن رکھتے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to command us to fast the days of the white (nights): thirteenth, fourteenth and fifteenth of the month. He said: This is like keeping perpetual fast.
قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں ، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے ، اور فرماتے : ” یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے “ ۔
Hunaydah al-Khuza'i reported on the authority of her mother who said: I entered upon Umm Salamah and asked her about fasting. She said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to command me to fast three days every month beginning with Monday or Thursday.
ہنیدہ خزاعی اپنی والدہ سے روایت کرتی ہیں ، وہ کہتی ہیں کہ
میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی اور ان سے روزے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھنے کا حکم فرماتے تھے ، ان میں سے پہلا دوشنبہ کا ہوتا اور جمعرات کا ۱؎ ۔
I asked 'Aishah: Would the Messenger of Allah (ﷺ) fast three days every month ? She replied: Yes. I asked: Which days in the month he used to fast ? She replied: He did not care which days of the month he fasted.
معاذہ کہتی ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا کہ
کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزے رکھتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں ، میں نے پوچھا : مہینے کے کون سے دنوں میں روزے رکھتے تھے ؟ جواب دیا کہ آپ کو اس کی پروا نہیں ہوتی تھی کہ مہینہ کے کن دنوں میں رکھیں ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: He who does not determine to fast before dawn does not fast.
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے فجر ہونے سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہو گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے لیث اور اسحاق بن حازم نے عبداللہ بن ابی بکر سے اسی کے مثل ( یعنی مرفوعاً ) روایت کیا ہے ، اور اسے معمر ، زبیدی ، ابن عیینہ اور یونس ایلی نے ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا پر موقوف کیا ہے ، یہ سارے لوگ زہری سے روایت کرتے ہیں ۔
When the Prophet (ﷺ) entered upon me, he would ask: Do you have food ? When we said: No, he would say: I am fasting. Waki' added in his version: Another day when he entered upon us, we said: Messenger of Allah, some pudding (hair) has been presented to us and we have retained it for you. He said: Bring it to me. Talhah said: He fasted in the morning, but broke his fast (that day).
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے پاس تشریف لاتے تو پوچھتے : کیا تمہارے پاس کچھ کھانا ہے ؟ جب میں کہتی : نہیں ، تو فرماتے : ” میں روزے سے ہوں “ ، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، تو ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیے میں ( کھجور ، گھی اور پنیر سے بنا ہوا ) ملیدہ آیا ہے ، اور اسے ہم نے آپ کے لیے بچا رکھا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لاؤ اسے حاضر کرو “ ۔ طلحہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے سے ہو کر صبح کی تھی لیکن روزہ توڑ دیا ۔
On the days of the conquest of Mecca, when Mecca was captured, Fatimah came and sat on the left side of the Messenger of Allah (ﷺ), and Umm Hani was on his right side. A slave-girl brought a vessel which contained some drink; she gave it to him and he drank of it. He then gave it to Umm Hani who drank of it. She said: Messenger of Allah, I have broken my fast; I was fasting. He said to her: Were you making atonement for something? She replied: No. He said: Then it does not harm you if it was voluntary (fast).
ام ہانی رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
فتح مکہ کا دن تھا ، فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں جانب بیٹھ گئیں اور میں دائیں جانب بیٹھی ، اس کے بعد لونڈی برتن میں کوئی پینے کی چیز لائی ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا ، آپ نے اس میں سے نوش فرمایا ، پھر مجھے دے دیا ، میں نے بھی پیا ، پھر میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں تو روزے سے تھی ، میں نے روزہ توڑ دیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم کسی روزے کی قضاء کر رہی تھیں ؟ “ جواب دیا نہیں ، فرمایا : ” اگر نفلی روزہ تھا تو تجھے کوئی نقصان نہیں “ ۱؎ ۔
Chapter 840: Whoever Held The View That Such Person Has To Make It Up - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ زُمَيْلٍ، مَوْلَى عُرْوَةَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أُهْدِيَ لِي وَلِحَفْصَةَ طَعَامٌ وَكُنَّا صَائِمَتَيْنِ فَأَفْطَرْنَا ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْنَا لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَاشْتَهَيْنَاهَا فَأَفْطَرْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ عَلَيْكُمَا صُومَا مَكَانَهُ يَوْمًا آخَرَ " .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
Some food was presented to me and Hafsah. We were fasting, but broke our fast. Then the Messenger of Allah (ﷺ) entered upon us. We said to him: A gift was presented to us; we coveted it and we broke our fast. The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no harm to you; keep a fast another day in lieu of it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میرے اور ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھانا ہدیے میں آیا ، ہم دونوں روزے سے تھیں ، ہم نے روزہ توڑ دیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہم نے آپ سے دریافت کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ہدیہ آیا تھا ہمیں اس کے کھانے کی خواہش ہوئی تو روزہ توڑ دیا ( یہ سن کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ توڑ دیا تو کوئی بات نہیں ، دوسرے دن اس کے بدلے رکھ لینا “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
It is not allowable for a woman to keep (voluntary) fast when her husband is present without his permission, and she may not allow anyone to enter his house without his permission.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر کوئی عورت روزہ نہ رکھے سوائے رمضان کے ، اور بغیر اس کی اجازت کے اس کی موجودگی میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت نہ دے “ ۔
A woman came to the Prophet (ﷺ) while we were with him.
She said: Messenger of Allah, my husband, Safwan ibn al-Mu'attal, beats me when I pray, and makes me break my fast when I keep a fast, and he does not offer the dawn prayer until the sun rises.
He asked Safwan, who was present, about what she had said. He replied: Messenger of Allah, as for her statement "he beats me when I pray", she recites two surahs (during prayer) and I have prohibited her (to do so).
He (the Prophet) said: If one surah is recited (during prayer), that is sufficient for the people.
(Safwan continued:) As regards her saying "he makes me break my fast," she dotes on fasting; I am a young man, I cannot restrain myself.
The Messenger of Allah (ﷺ) said on that day: A woman should not fast except with the permission of her husband.
(Safwan said:) As for her statement that I do not pray until the sun rises, we are a people belonging to a class, and that (our profession of supplying water) is already known about us. We do not awake until the sun rises. He said: When you awake, offer your prayer.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، ہم آپ کے پاس تھے ، کہنے لگی : اللہ کے رسول ! میرے شوہر صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھتی ہوں تو مجھے مارتے ہیں ، اور روزہ رکھتی ہوں تو روزہ تڑوا دیتے ہیں ، اور فجر سورج نکلنے سے پہلے نہیں پڑھتے ۔ صفوان اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان باتوں کے متعلق پوچھا جو ان کی بیوی نے بیان کیا تو انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس کا یہ الزام کہ نماز پڑھنے پر میں اسے مارتا ہوں تو بات یہ ہے کہ یہ دو دو سورتیں پڑھتی ہے جب کہ میں نے اسے ( دو دو سورتیں پڑھنے سے ) منع کر رکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگ اگر ایک ہی سورت پڑھ لیں تب بھی کافی ہے “ ۔ صفوان نے پھر کہا کہ اور اس کا یہ کہنا کہ میں اس سے روزہ افطار کرا دیتا ہوں تو یہ روزہ رکھتی چلی جاتی ہے ، میں جوان آدمی ہوں صبر نہیں کر پاتا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن فرمایا : ” کوئی عورت اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر ( نفل روزہ ) نہ رکھے “ ۔ رہی اس کی یہ بات کہ میں سورج نکلنے سے پہلے نماز نہیں پڑھتا تو ہم اس گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جس کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ سورج نکلنے سے پہلے ہم اٹھ ہی نہیں پاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب بھی جاگو نماز پڑھ لیا کرو ۱؎ “ ۔
Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
When one of you receives an invitation (for a meal), he should accept it. If he isn to fasting, he should eat, and if he is fasten, he should pray. Hisham said: The word salat means to pray (for him to Allah).
Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Hafs b. Ghiyath from Hisham.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کو دعوت دی جائے تو اسے قبول کرنا چاہیئے ، اگر روزے سے نہ ہو تو کھا لے ، اور اگر روزے سے ہو تو اس کے حق میں دعا کر دے “ ۔ ہشام کہتے ہیں : «صلاۃ» سے مراد دعا ہے ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ .
'Aishah said:
The Prophet (ﷺ) used to observe retirement (i'tikaf) to the mosque during the last ten days of Ramadan till Allah took him, and then his wives observed retirement to the mosque after his death.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وفات تک رہا ، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا ۔