Chapter 802: Whoever Awoke In The Morning In A State Of Sexual Impurity During Ramadan - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الأَذْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ زَوْجَىِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُمَا قَالَتَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصْبِحُ جُنُبًا . قَالَ عَبْدُ اللَّهِ الأَذْرَمِيُّ فِي حَدِيثِهِ فِي رَمَضَانَ مِنْ جِمَاعٍ غَيْرِ احْتِلاَمٍ ثُمَّ يَصُومُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَمَا أَقَلَّ مَنْ يَقُولُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ - يَعْنِي يُصْبِحُ جُنُبًا فِي رَمَضَانَ - وَإِنَّمَا الْحَدِيثُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا وَهُوَ صَائِمٌ .
Narrated 'Aishah and Umm Salamah, wives of the Prophet (ﷺ):
The Messenger of Allah (ﷺ) would be overtaken by the dawn when he was in a state of sexual defilement. The narrator 'Abd Allah al-Adhrami said in his version: During Ramadan, due to sexual intercourse and no owing to a dream (i.e. nocturnal emission), and would fast.
Abu Dawud said: How brief is this sentence uttered by the narrator, this is, "he was overtaken by daw when he was in the state of sexual defilement"? The tradition says: The Prophet (ﷺ) was overtaken by dawn in the state of sexual defilement when he was fasting.
ام المؤمنین عائشہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں صبح کرتے ۔ عبداللہ اذرمی کی روایت میں ہے : ایسا رمضان میں احتلام سے نہیں بلکہ جماع سے ہوتا تھا ، پھر آپ روزہ سے رہتے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کتنی کم تر ہے اس شخص کی بات جو یہ یعنی «يصبح جنبا في رمضان» کہتا ہے ، حدیث تو ( جو کہ بہت سے طرق سے مروی ہے ) یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنبی ہو کر صبح کرتے تھے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے ۱؎ ۔
Chapter 802: Whoever Awoke In The Morning In A State Of Sexual Impurity During Ramadan - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، - يَعْنِي الْقَعْنَبِيَّ - عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، مَوْلَى عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّ رَجُلاً قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ فَأَغْتَسِلُ وَأَصُومُ " . فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ " وَاللَّهِ إِنِّي لأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَعْلَمَكُمْ بِمَا أَتَّبِعُ " .
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):
A man said to Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, I was overtaken by dawn while I was sexually defiled, and I want to keep fast. The Messenger of Allah (ﷺ) said: I am also overtaken by dawn while I am in the state of sexual defilement ; I also want to keep fast. I take a bath and I keep fast. The man said: Messenger of Allah, you are not like us ; Allah has forgiven you your past and future sins. The Messenger of Allah (ﷺ) became angry and said: I swear by Allah, I hope I shall be the most fearful of you of Allah, and most familiar of you with what I follow.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دروازے پر کھڑے ہو کر کہا : اللہ کے رسول ! میں جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنا چاہتا ہوں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں بھی جنابت کی حالت میں صبح کرتا ہوں اور روزہ رکھنے کا ارادہ رکھتا ہوں پھر غسل کرتا ہوں اور روزہ رکھ لیتا ہوں “ ، اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ تو ہماری طرح نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کر رکھے ہیں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہو گئے اور فرمایا : ” اللہ کی قسم ! مجھے امید ہے کہ میں تم میں اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ، اور مجھے کیا کرنا ہے اس بات کو بھی تم سے زیادہ جانتا ہوں “ ۔
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: I am undone. He asked him: What has happened to you ? He said: I had intercourse with my wife in Ramadan (while I was fasting). He asked: Can you set a slave free ? He said: No. He again asked: Can you fast for two consecutive months ? He said: No. He asked: Can you provide food for sixty poor people ? He said: No. He said: Sit down. Then a huge basket containing dates ('araq) was brought to the Prophet (ﷺ). He then said to him: Give it as sadaqah (i.e. alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer family than mine between the two lave plains of it (Medina). The Messenger of Allah (ﷺ) laughed so that his eye-teeth became visible, and said: Give it to your family to eat. Musaddad said in another place: "his canine teeth".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں ہلاک ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ “ اس نے کہا : میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر لیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم ایک گردن آزاد کر سکتے ہو ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، فرمایا : ” دو مہینے مسلسل روزے رکھنے کی طاقت ہے ؟ “ کہا : نہیں ، فرمایا : ” ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو ؟ “ ، کہا : نہیں ، فرمایا : ” بیٹھو “ ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” انہیں صدقہ کر دو “ ، کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مدینہ کی ان دونوں سیاہ پتھریلی پہاڑیوں کے بیچ ہم سے زیادہ محتاج کوئی گھرانہ ہے ہی نہیں ، اس پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت ظاہر ہو گئے اور فرمایا : ” اچھا تو انہیں ہی کھلا دو “ ۔ مسدد کی روایت میں ایک دوسری جگہ «ثناياه» کی جگہ «أنيابه» ہے ۔
This tradition has also been transmitted by al-Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. Al-Zuhri added in his version:
This was a special concession for him. If a man commits this act today, the expiation is necessary for him.
Abu Dawud said: Al-Laith b. Sa'd, al-Awza'i, Mansur b. al-Mu'tamir and 'Irak b. Malik have narrated this tradition like the one narrated by Ibn 'Uyainah. Al-Awza'i narrated in his version the words: Beg pardon of Allah.
اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے
اس میں زہری نے یہ الفاظ زائد کہے کہ یہ ( کھجوریں اپنے اہل و عیال کو ہی کھلا دینے کا حکم ) اسی شخص کے ساتھ خاص تھا اگر اب کوئی اس گناہ کا ارتکاب کرے تو اسے کفارہ ادا کئے بغیر چارہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے لیث بن سعد ، اوزاعی ، منصور بن معتمر اور عراک بن مالک نے ابن عیینہ کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے اور اوزاعی نے اس میں «واستغفر الله» ” اور اللہ سے بخشش طلب کر “ کا اضافہ کیا ہے ۔
Chapter 803: Expiation For A Man Who Has Sexual Intercourse With His Wife During Ramadan - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلاً، أَفْطَرَ فِي رَمَضَانَ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ يَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ أَوْ يُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا . قَالَ لاَ أَجِدُ . فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " اجْلِسْ " . فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ فَقَالَ " خُذْ هَذَا فَتَصَدَّقْ بِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَحَدٌ أَحْوَجَ مِنِّي . فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَنْيَابُهُ وَقَالَ لَهُ " كُلْهُ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَلَى لَفْظِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلاً أَفْطَرَ وَقَالَ فِيهِ " أَوْ تُعْتِقَ رَقَبَةً أَوْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ أَوْ تُطْعِمَ سِتِّينَ مِسْكِينًا " .
Narrated Abu Hurairah:
(A man broke his fast intentionally) during Ramadan. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded him to emancipate a slave, or fast for two months, or feed sixty poor men. He said: I cannot provide. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Sit down. Thereafter a huge basket of dates ('araq) was brought to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Take this and give it as sadaqah (alms). He said: Messenger of Allah, there is no poorer than I. The Messenger of Allah (ﷺ) thereupon laughed so that his canine teeth became visible and said: Eat it yourself.
Abu Dawud said: Ibn Juraij narrated it from al-Zuhri in the wordings of the narrator Malik that a man broke his fast. This version says: You should either free a slave, or fast for two months, or provide food for sixty poor men.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک غلام آزاد کرنے ، یا دو مہینے کا مسلسل روزے رکھنے ، یا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا ، وہ شخص کہنے لگا کہ میں تو ( ان میں سے ) کچھ نہیں پاتا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” بیٹھ جاؤ “ ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آ گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہیں لے لو اور صدقہ کر دو “ ، وہ کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مجھ سے زیادہ ضرورت مند تو کوئی ہے ہی نہیں ، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے یہاں تک کہ آپ کے سامنے کے دانت نظر آنے لگے اور اس سے فرمایا : ” تم ہی اسے کھا جاؤ “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے زہری سے مالک کی روایت کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے روزہ توڑ دیا ، اس میں ہے «أو تعتق رقبة أو تصوم شهرين أو تطعم ستين مسكينا» ۱؎ ۔
A man came to the Prophet (ﷺ). He broke his fast during Ramadan. He then narrated the rest of this tradition adding: Then a huge basket containing fifteen sa's of dates was brought to him. He said: Eat it yourself and your family and keep one fast and beg pardon of Allah.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اس نے رمضان میں روزہ توڑ دیا تھا ، آگے اوپر والی حدیث کا ذکر ہے اس میں ہے : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک بڑا تھیلا آیا جس میں پندرہ صاع کے بقدر کھجوریں تھیں ، اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے تم اور تمہارے گھر والے کھاؤ ، اور ایک دن کا روزہ رکھ لو ، اور اللہ سے بخشش طلب کرو “ ۔
Chapter 803: Expiation For A Man Who Has Sexual Intercourse With His Wife During Ramadan - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْمَهْرِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ عَائِشَةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم تَقُولُ أَتَى رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَسْجِدِ فِي رَمَضَانَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْتَرَقْتُ . فَسَأَلَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَا شَأْنُهُ قَالَ أَصَبْتُ أَهْلِي . قَالَ " تَصَدَّقْ " . قَالَ وَاللَّهِ مَا لِي شَىْءٌ وَلاَ أَقْدِرُ عَلَيْهِ . قَالَ " اجْلِسْ " . فَجَلَسَ فَبَيْنَمَا هُوَ عَلَى ذَلِكَ أَقْبَلَ رَجُلٌ يَسُوقُ حِمَارًا عَلَيْهِ طَعَامٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ آنِفًا " . فَقَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " تَصَدَّقْ بِهَذَا " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعَلَى غَيْرِنَا فَوَاللَّهِ إِنَّا لَجِيَاعٌ مَا لَنَا شَىْءٌ . قَالَ " كُلُوهُ " .
Narrated 'Aishah, wife of Prophet (ﷺ):
A man came to the Prophet (ﷺ) during Ramadan in the mosque. He said: Messenger of Allah, I am burnt. The Prophet (ﷺ) asked him what happened to him. He said: I had sexual intercourse with my wife. He said: Give sadaqah (alms). He said: I swear by Allah, I possess nothing with me, and I cannot do this. He said: Sit down. He sat down. While he was waiting, a man came forward driving his donkey loaded with food. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Where is the man who was burnt just now ? Thereupon the man stood up. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Give it as sadaqah (alms). He asked: Messenger of Allah, to others than us ? By Allah. we are hungry, we have nothing (to eat). He said: Eat it yourselves.
عباد بن عبداللہ بن زبیر کا بیان ہے کہ
انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص رمضان میں مسجد کے اندر آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں تو بھسم ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہے ؟ کہنے لگا : میں نے اپنی بیوی سے صحبت کر لی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ کر دو “ ، وہ کہنے لگا : اللہ کی قسم ! میرے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے ، اور نہ میرے اندر استطاعت ہے ، فرمایا : ” بیٹھ جاؤ “ ، وہ بیٹھ گیا ، اتنے میں ایک شخص غلے سے لدا ہوا گدھا ہانک کر لایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابھی بھسم ہونے والا کہاں ہے ؟ “ وہ شخص کھڑا ہو گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے صدقہ کر دو “ ، بولا : اللہ کے رسول ! کیا اپنے علاوہ کسی اور پر صدقہ کروں ؟ اللہ کی قسم ! ہم بھوکے ہیں ، ہمارے پاس کچھ بھی نہیں ، فرمایا : ” اسے تم ہی کھا لو “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: If anyone breaks his fast one day in Ramadan without a concession granted to him by Allah, a perpetual fast will not atone for it.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے رمضان میں بغیر کسی شرعی عذر کے ایک دن کا روزہ توڑ دیا تو اس کی قضاء زمانہ بھر کے روزے بھی نہیں کر سکیں گے “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Hurairah through a different chain of narrators similar to the tradition narrated by Ibn Kathir and Sulaiman.
Abu Dawud said:
Sufyan and Shu'bah differed among themselves on the name of the narrator Ibn al-Mutawwas and Abu al-Mutawwas.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے
ابن کثیر اور سلیمان کی حدیث نمبر ( ۲۳۹۶ ) کے مثل مرفوعاً مروی ہے ۔
A man came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I ate and drank in forgetfulness when I was fasting. Hie said: Allah had fed you and given you drink.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے بھول کر کھا پی لیا ، اور میں روزے سے تھا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا “ ۔
The Prophet (ﷺ) as saying: If anyone dies when some fast is due from him (i.e. which he could not keep) his heir must fast on his behalf.
Abu Dawud said: This applies to the fast which a man vows ; and this is the opinion of Ahmad b. Hanbal.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص فوت ہو جائے اور اس کے ذمہ روزے ہوں تو اس کی جانب سے اس کا ولی روزے رکھے گا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ حکم نذر کے روزے کا ہے اور یہی احمد بن حنبل کا قول ہے ۔
If a man falls ill during Ramadan and he dies, while he could not keep the fast, food will be provided (for the poor men) on his behalf ; there is no atonement (for his fasts) due from him. If there is some vow which he could not fulfill, his heir must atone on his behalf.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب آدمی رمضان میں بیمار ہو جائے پھر مر جائے اور روزے نہ رکھ سکے تو اس کی جانب سے کھانا کھلایا جائے گا اور اس پر قضاء نہیں ہو گی اور اگر اس نے نذر مانی تھی تو اس کا ولی اس کی جانب سے پورا کرے گا ۔
Hamzat al-Aslami asked the Prophet (ﷺ): Messenger of Allah, I am a man who keeps perpetual fast, may I fast while on a journey? He replied: Fast if you like, or break your fast if you like.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! میں مسلسل روزے رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاہو تو رکھو اور چاہو تو نہ رکھو “ ۔
I said: Messenger of Allah. I am a master of mounts and I use them ! I myself travel on them and I rent them. This month, that is, Ramadan, happend to come to me (while I am on a journey), and I find myself strong enough (to fast) as I am young, and I find that it is easier for me to fast than to postpone it, and i becomes debt due from me. Does it bring me more reward, Messenger of Allah, if I fast, or if I break ? He replied: Whichever you like, Hamzah.
حمزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میں سواریوں والا ہوں ، انہیں لے جایا کرتا ہوں ، ان پر سفر کرتا ہوں اور انہیں کرایہ پر بھی دیتا ہوں ، اور بسا اوقات مجھے یہی مہینہ یعنی رمضان مل جاتا ہے اور میں جوان ہوں اپنے اندر روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں ، میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ روزہ مؤخر کرنے سے آسان یہ ہے کہ اسے رکھ لیا جائے ، تاکہ بلاوجہ قرض نہ بنا رہے ، اللہ کے رسول ! میرے لیے روزہ رکھنے میں زیادہ ثواب ہے یا چھوڑ دینے میں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حمزہ ! جیسا بھی تم چاہو “ ۔
Chapter 808: Fasting During A Journey - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى مَكَّةَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فَرَفَعَهُ إِلَى فِيهِ لِيُرِيَهُ النَّاسَ وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ . فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ قَدْ صَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَفْطَرَ فَمَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ .
Narrated Ibn 'Abbas:
The Prophet (ﷺ) left Medina for Mecca till he reached 'Usfan, He then called for a vessel (of water). It was raised to his mouth to show it to the people, and that was in Ramadan. Ibn 'Abbas used to say: The Prophet (ﷺ) fasted and he broke his fast. He who likes may fast and he who likes may break.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے مکہ کے لیے نکلے یہاں تک کہ مقام عسفان پر پہنچے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پانی وغیرہ کا ) برتن منگایا اور اسے اپنے منہ سے لگایا تاکہ آپ اسے لوگوں کو دکھا دیں ( کہ میں روزے سے نہیں ہوں ) اور یہ رمضان میں ہوا ، اسی لیے ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ بھی رکھا ہے اور افطار بھی کیا ہے ، تو جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے ۔
Chapter 808: Fasting During A Journey - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ فَصَامَ بَعْضُنَا وَأَفْطَرَ بَعْضُنَا فَلَمْ يَعِبِ الصَّائِمُ عَلَى الْمُفْطِرِ وَلاَ الْمُفْطِرُ عَلَى الصَّائِمِ .
Narrated Anas :
We travelled along with the Prophet (ﷺ) during Ramadan. Some of us were fasting and other broke their fast. Those who fasted did not find fault with those who broke, and those who broke their fast did not find fault with those who fasted.
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رمضان میں سفر کیا تو ہم میں سے بعض لوگوں نے روزہ رکھا اور بعض نے نہیں رکھا تو نہ تو روزہ توڑنے والوں نے ، روزہ رکھنے والوں پر عیب لگایا ، اور نہ روزہ رکھنے والوں نے روزہ توڑنے والوں پر عیب لگایا ۔
Chapter 808: Fasting During A Journey - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ قَزَعَةَ، قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَهُوَ يُفْتِي النَّاسَ وَهُمْ مُكِبُّونَ عَلَيْهِ فَانْتَظَرْتُ خَلْوَتَهُ فَلَمَّا خَلاَ سَأَلْتُهُ عَنْ صِيَامِ رَمَضَانَ فِي السَّفَرِ فَقَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي رَمَضَانَ عَامَ الْفَتْحِ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَصُومُ وَنَصُومُ حَتَّى بَلَغَ مَنْزِلاً مِنَ الْمَنَازِلِ فَقَالَ " إِنَّكُمْ قَدْ دَنَوْتُمْ مِنْ عَدُوِّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ " . فَأَصْبَحْنَا مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ - قَالَ - ثُمَّ سِرْنَا فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً فَقَالَ " إِنَّكُمْ تُصَبِّحُونَ عَدُوَّكُمْ وَالْفِطْرُ أَقْوَى لَكُمْ فَأَفْطِرُوا " . فَكَانَتْ عَزِيمَةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو سَعِيدٍ ثُمَّ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَصُومُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَبْلَ ذَلِكَ وَبَعْدَ ذَلِكَ .
Narrated Qaza'ah:
I came to Abu Sa'id al-Khudri while he was giving his legal opinion to the people who bent down on him. So I waited to see hi when he was alone. When he became alone, I asked him about keeping fast while travelling. He said: we went out along with the Prophet (ﷺ) in Ramadan in the year of conquest of Mecca. The Messenger of Allah (ﷺ) fasted and we fasted until he reached a certain stage. He said: You have come near your enemy; the breaking of fast will bring you more strength. Then morning came when some of us fasted and other broke their fast. He (Abu Sa'id al-Khudri) said: We then proceeded and alighted at a stage. He said: You are going to attack your enemy tomorrow morning ; breaking the fast will bring you more strength ; so break your fast (i.e. do not keep fast). This resolution (of breaking the fast) took place (due to the announcement) from the Messenger of Allah (ﷺ).
Abu Sa'id said: Then I found myself keeping fast along with the Prophet (ﷺ) before and after that.
قزعہ کہتے ہیں کہ
میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ لوگوں کو فتوی دے رہے تھے ، اور لوگ ان پر جھکے جا رہے تھے تو میں تنہائی میں ملاقات کی غرض سے انتظار کرتا رہا ، جب وہ اکیلے رہ گئے تو میں نے سفر میں رمضان کے مہینے کے روزے کا حکم دریافت کیا ، انہوں نے کہا : ہم فتح مکہ کے سال رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر پر نکلے ، سفر میں اللہ کے رسول بھی روزے رکھتے تھے اور ہم بھی ، یہاں تک کہ جب منزلیں طے کرتے ہوئے ایک پڑاؤ پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب تم دشمن کے بالکل قریب آ گئے ہو ، روزہ چھوڑ دینا تمہیں زیادہ توانائی بخشے گا “ ، چنانچہ دوسرے دن ہم میں سے کچھ لوگوں نے روزہ رکھا اور کچھ نے نہیں رکھا ، پھر ہمارا سفر جاری رہا پھر ہم نے ایک جگہ قیام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبح تم دشمن کے پاس ہو گے اور روزہ نہ رکھنا تمہارے لیے زیادہ قوت بخش ہے ، لہٰذا روزہ چھوڑ دو “ ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے تاکید تھی ۔ ابوسعید کہتے ہیں : پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس سے پہلے بھی روزے رکھے اور اس کے بعد بھی ۔
The Prophet (ﷺ) saw a man who had been put in the shade and saw a crowd of people around him (in the course of a journey). He said: Fasting while on journey is not part of righteousness.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جس پر سایہ کیا جا رہا تھا اور اس پر بھیڑ لگی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی کا کام نہیں “ ۔
Chapter 809: The Preference To Break The Fast (While On A Journey) - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلاَلٍ الرَّاسِبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ سَوَادَةَ الْقُشَيْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، - رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ إِخْوَةِ بَنِي قُشَيْرٍ - قَالَ أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَانْتَهَيْتُ - أَوْ قَالَ فَانْطَلَقْتُ - إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ يَأْكُلُ فَقَالَ " اجْلِسْ فَأَصِبْ مِنْ طَعَامِنَا هَذَا " . فَقُلْتُ إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ " اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّلاَةِ وَعَنِ الصِّيَامِ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى وَضَعَ شَطْرَ الصَّلاَةِ أَوْ نِصْفَ الصَّلاَةِ وَالصَّوْمَ عَنِ الْمُسَافِرِ وَعَنِ الْمُرْضِعِ أَوِ الْحُبْلَى " . وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا جَمِيعًا أَوْ أَحَدَهُمَا قَالَ فَتَلَهَّفَتْ نَفْسِي أَنْ لاَ أَكُونَ أَكَلْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Anas ibn Malik:
A man from Banu Abdullah ibn Ka'b brethren of Banu Qushayr (not Anas ibn Malik, the well-known Companion), said: A contingent from the cavalry of the Messenger of Allah (ﷺ) raided us. I reached (for he said went) to the Messenger of Allah (ﷺ) who was taking his meals. He said: Sit down, and take some from this meal of ours. I said: I am fasting, he said: Sit down, I shall tell you about prayer and fasting. Allah has remitted half the prayer to a traveller, and fasting to the traveller, the woman who is suckling an infant and the woman who is pregnant, I swear by Allah, he mentioned both (i.e. suckling and pregnant women) or one of them. I was grieved for not taking the food of the Messenger of Allah (ﷺ).
انس بن مالک ۱؎ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ( جو بنی قشیر کے برادران بنی عبداللہ بن کعب کے ایک فرد ہیں ) وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑ سوار دستے نے ہم پر حملہ کیا ، میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا ، یا یوں کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چلا ، آپ کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھو ، اور ہمارے کھانے میں سے کچھ کھاؤ “ ، میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اچھا بیٹھو ، میں تمہیں نماز اور روزے کے بارے میں بتاتا ہوں : اللہ نے ( سفر میں ) نماز آدھی کر دی ہے ، اور مسافر ، دودھ پلانے والی ، اور حاملہ عورت کو روزہ رکھنے کی رخصت دی ہے “ ، قسم اللہ کی ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا ذکر کیا یا ان دونوں میں سے کسی ایک کا ، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھانے میں سے نہ کھا پانے کا افسوس رہا ۔
Chapter 810: Whoever Preferred To Fast (While On A Journey) - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ أَوْ كَفَّهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ مَا فِينَا صَائِمٌ إِلاَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ .
Narrated Abu al-Darda:
We went out along with the Messenger of Allah (ﷺ) for some battle in intense heat, so much so that one of us placed his hand on his head, or placed his palm on his head, due to intense heat, No one of us fasted except the Messenger of Allah (ﷺ) and 'Abd Allah b. Rawahah.
ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کسی غزوے میں نکلے ، گرمی اس قدر شدید تھی کہ شدت کی وجہ سے ہم میں سے ہر شخص اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھ لیتا ، اس موقعے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے علاوہ ہم میں سے کوئی بھی روزے سے نہ تھا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone has a riding beast which carries him to where he can get sufficient food, he should keep the fast of Ramadan wherever he is when it comes.
سلمہ بن محبق ہذلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس منزل پر ایسی سواری ہو جو اسے ایسی جگہ پہنچا سکے جہاں اسے راحت و آسودگی ملے تو وہ جہاں بھی رمضان کا مہینہ پا لے روزے رکھے “ ۔
Ja'far ibn Jubayr said: I accompanied AbuBusrah al-Ghifari, a Companion of the Messenger of Allah (ﷺ), in a boat proceeding from al-Fustat (Cairo) during Ramadan. He was lifted (to the boat), then his meal was brought to him. The narrator Ja'far said in his version: He did not go beyond the houses (of the city) but he called for the dining sheet. He said (to me): Come near. I said: Do you not see the houses? AbuBusrah said: Do you detest the sunnah (practice) of the Messenger of Allah (ﷺ)? The narrator Ja'far said in his version: He then ate (it).
عبید بن جبر کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ رمضان میں ایک کشتی میں تھا جو فسطاط شہر کی تھی ، کشتی پر بیٹھے ہی تھے کہ صبح کا کھانا آ گیا ، ( جعفر کی روایت میں ہے کہ ) شہر کے گھروں سے ابھی آگے نہیں بڑھے تھے کہ انہوں نے دستر خوان منگوایا اور کہنے لگے : نزدیک آ جاؤ ، میں نے کہا : کیا آپ ( شہر کے ) گھروں کو نہیں دیکھ رہے ہیں ؟ ( ابھی تو شہر بھی نہیں نکلا اور آپ کھانا کھا رہے ہیں ) کہنے لگے : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے اعراض کرتے ہو ؟ ( جعفر کی روایت میں ہے ) تو انہوں نے کھانا کھایا ۔