Husayn ibn al-Harith al-Jadli from the tribe of Jadilah Qays said: The governor of Mecca delivered a speech and said: The Messenger of Allah (ﷺ) took a pledge from us that we should perform the rites of hajj after sighting the moon. If we do not sight it and two reliable persons bear witness, we should perform the rites of hajj on the basis of their witness.
I then asked al-Husayn ibn al-Harith: Who was the governor of Mecca? He replied: I do not know. He then met me later on and told me: He was al-Harith ibn Hatib, brother of Muhammad ibn Hatib. The governor then said: There is among you a man who is more acquainted with Allah and His Apostle than I. He witnessed this from the Messenger of Allah (ﷺ). He then pointed with his hand to a man. Al-Husayn said: I asked an old man beside me: Who is that man to whom the governor has alluded?
He said: "This is Abdullah ibn Umar, and he spoke the truth. He was more acquainted with Allah than he. He (Abdullah ibn Umar) said: For this is what the Messenger of Allah (ﷺ) commanded us (to do).
ابو مالک اشجعی سے روایت ہے کہ
ہم سے حسین بن حارث جدلی نے ( جو جدیلہ قیس سے تعلق رکھتے ہیں ) بیان کیا کہ امیر مکہ نے خطبہ دیا پھر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے یہ عہد لیا کہ ہم چاند دیکھ کر حج ادا کریں ، اگر ہم خود نہ دیکھ سکیں اور دو معتبر گواہ اس کی رویت کی گواہی دیں تو ان کی گواہی پر حج ادا کریں ، میں نے حسین بن حارث سے پوچھا کہ امیر مکہ کون تھے ؟ کہا کہ میں نہیں جانتا ، اس کے بعد وہ پھر مجھ سے ملے اور کہنے لگے : وہ محمد بن حاطب کے بھائی حارث بن حاطب تھے پھر امیر نے کہا : تمہارے اندر ایک ایسے شخص موجود ہیں جو مجھ سے زیادہ اللہ اور اس کے رسول کی باتوں کو جانتے ہیں اور وہ اس حدیث کے گواہ ہیں ، اور انہوں نے اپنے ہاتھ سے ایک شخص کی طرف اشارہ کیا ۔ حسین کا بیان ہے کہ میں نے اپنے پاس بیٹھے ایک بزرگ سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں جن کی طرف امیر نے اشارہ کیا ہے ؟ کہنے لگے : یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں اور امیر نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ اللہ کو ان سے زیادہ جانتے ہیں ، اس پر انہوں نے ( ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ) کہا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم فرمایا ہے ۔
Chapter 779: Testimony Of Two Men About Sighting The Crescent Of Shawwal - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ الْمُقْرِئُ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي آخِرِ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ فَقَدِمَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِاللَّهِ لأَهَلاَّ الْهِلاَلَ أَمْسِ عَشِيَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّاسَ أَنْ يُفْطِرُوا زَادَ خَلَفٌ فِي حَدِيثِهِ وَأَنْ يَغْدُوا إِلَى مُصَلاَّهُمْ .
Narrated Rib'i b. Hirash:
On the authority of a man from the Companions of the Prophet (ﷺ): People differed among themselves on the last day of Ramadan (about the appearance of the moon of Shawwal). Then two bedouins came and witnessed before the Prophet (ﷺ) swearing by Allah that they had sighted moon the previous evening. So the Messenger of Allah (ﷺ) commanded the people to break the fast. The narrator Khalaf has added in his version: "and that they should proceed to the place of prayer (for 'Id)".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت ہے ، وہ کہتے ہیں
رمضان کے آخری دن لوگوں میں ( چاند کی رویت پر ) اختلاف ہو گیا ، تو دو اعرابی آئے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ انہوں نے کل شام میں چاند دیکھا ہے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو افطار کرنے اور عید گاہ چلنے کا حکم دایا ۔
A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said: I have sighted the moon. Al-Hasan added in his version: that is, of Ramadan. He asked: Do you testify that there is no god but Allah? He replied: Yes. He again asked: Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah? He replied: Yes. and he testified that he had sighted the moon. He said: Bilal, announce to the people that they must fast tomorrow.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا : میں نے چاند دیکھا ہے ، ( راوی حسن نے اپنی روایت میں کہا ہے یعنی رمضان کا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے پوچھا : ” کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا اس بات کی بھی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ وہ کل روزہ رکھیں “ ۔
Once the people doubted the appearance of the moon of Ramadan, and intended neither to offer the tarawih prayer nor to keep fast. A bedouin came from al-Harrah and testified that he had sighted the moon. He was brought to the Prophet (ﷺ). He asked: Do you testify that there is no god but Allah, and that I am the Messenger of Allah? He said: Yes; and he testified that he had sighted the moon. He commanded Bilal who announced to the people to offer the tarawih prayer and to keep fast.
عکرمہ کہتے ہیں کہ
ایک بار لوگوں کو رمضان کے چاند ( کی روئیت ) سے متعلق شک ہوا اور انہوں نے یہ ارادہ کر لیا کہ نہ تو تراویح پڑھیں گے اور نہ روزے رکھیں گے ، اتنے میں مقام حرہ سے ایک اعرابی آ گیا اور اس نے چاند دیکھنے کی گواہی دی چنانچہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا ، آپ نے اس سے سوال کیا : ” کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، اور چاند دیکھنے کی گواہی بھی دی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں منادی کر دیں کہ لوگ تراویح پڑھیں اور روزہ رکھیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ایک جماعت نے سماک سے اور انہوں نے عکرمہ سے مرسلاً روایت کیا ہے ، اور سوائے حماد بن سلمہ کے کسی اور نے تراویح پڑھنے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔
The people looked for the moon, so I informed the Messenger of Allah (ﷺ) that I had sighted it. He fasted and commanded the people to fast.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
لوگوں نے چاند دیکھنے کی کوشش کی ( لیکن انہیں نظر نہ آیا ) اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ میں نے اسے دیکھا ہے ، چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ۔
Addressing (the people) Samurah b. Jundub reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
The adhan (call to prayer) of Bilal should not prevent you from taking a meal shortly before dawn, not does the whiteness of horizon (before dawn) in this way (vertically) until it spreads out horizontally.
سوادہ قشیری کہتے ہیں کہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ خطبہ دے رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہیں سحری کھانے سے بلال کی اذان ہرگز نہ روکے اور نہ آسمان کے کنارے کی سفیدی ( صبح کاذب ) ہی باز رکھے ، جو اس طرح ( لمبائی میں ) ظاہر ہوتی ہے یہاں تک کہ وہ پھیل جائے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The summons (adhan) of Bilal should not restrain one of you from taking a meal shortly before dawn, for he utters adhan or calls (for prayer) so that the man at prayer may return, and the man asleep may get up. Dawn is not (the whiteness) which indicates thus (in perpendicular) - the narrator Musaddad said: Yahya joined his palms (indicating the spread of whiteness vertically - until it indicates thus - and Yahya spread out two ring-fingers of his (demonstrating the spread of whiteness horizontally)l
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے ہرگز نہ روکے ، کیونکہ وہ اذان یا ندا دیتے ہیں تاکہ تم میں قیام کرنے ( تہجد پڑھنے ) والا تہجد پڑھنا بند کر دے ، اور سونے والا جاگ جائے ، فجر کا وقت اس طرح نہیں ہے “ ۔ مسدد کہتے ہیں : راوی یحییٰ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں اکٹھی کر کے اور دونوں شہادت کی انگلیاں دراز کر کے اشارے سے سمجھایا یعنی اوپر کو چڑھنے والی روشنی صبح صادق نہیں بلکہ صبح کاذب ہے ، یہاں تک اس طرح ہو جائے ( یعنی روشنی لمبائی میں پھیل جائے ) ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Eat and drink; let not the white and ascending light prevent you from (eating and drinking); so eat and drink until the red light spreads horizontally.
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ پیو ، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے “ ۔
When the verse "Until the white thread of dawn appear to you distinct from its black thread" was revealed, I took a white rope and a black rope, and placed them beneath my pillow ; and then I looked at them, byt they were not clear to me. So I mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). He laughed and said: Your pillow is so broad and lengthy ; that is (i.e. means) night and day. The version of the narrator 'Uthman has: That is the blackness of night and whiteness of day.
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب آیت کریمہ «حتى يتبين لكم الخيط الأبيض من الخيط الأسود» ” یہاں تک کہ صبح کا سفید دھاگا سیاہ دھاگے سے ظاہر ہو جائے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۸۷ ) نازل ہوئی تو میں نے ایک سفید اور ایک کالی رسی لے کر اپنے تکیے کے نیچے ( صبح صادق جاننے کی غرض سے ) رکھ لی ، میں دیکھتا رہا لیکن پتہ نہ چل سکا ، میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور کہنے لگے ، ” تمہارا تکیہ تو بڑا لمبا چوڑا ہے ، اس سے مراد رات اور دن ہے “ ۔ عثمان کی روایت میں ہے : ” اس سے مراد رات کی سیاہی اور دن کی سفیدی ہے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: When any of you hears the summons to prayer while he has a vessel in his hand, he should not lay it down till he fulfils his need.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کوئی جب صبح کی اذان سنے اور ( کھانے پینے کا ) برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اسے اپنی ضرورت پوری کئے بغیر نہ رکھے “ ۔
The Prophet (ﷺ) as saying: When the night approaches from this side and the day retreats on that side, and the sun sets - according to the version of Musaddad - he who fasts has reached the time to break it.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزہ افطار کرنے کا وقت ہو گیا “ ۔
We went along with the Messenger of Allah (ﷺ) while he was fasting. When the sun set, he said to Bilal: Bilal, come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, would that you waited for the evening. He said: Come down and prepare barley beverage for us. He said: Messenger of Allah, the say still remains on you (i.e. there remains the brightness of the day). He said: Come down and prepare barley drink for us. So he came down and prepared barley drink. The Messenger of Allah (ﷺ) drank it and said: When you see that the night approaches from this side, he who fasts has reached the time to break it ; and he pointed to the east with his finger.
سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے آپ روزے سے تھے ، جب سورج غروب ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلال ! ( سواری سے ) اترو ، اور ہمارے لیے ستو گھولو “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر اور شام ہو جانے دیں تو بہتر ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اترو ، اور ہمارے لیے ستو گھولو “ ، بلال رضی اللہ عنہ نے پھر کہا : اللہ کے رسول ! ابھی تو دن ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اترو ، اور ہمارے لیے ستو گھولو “ ، چنانچہ وہ اترے اور ستو گھولا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا پھر فرمایا : ” جب تم دیکھ لو کہ رات ادھر سے آ گئی تو روزے کے افطار کا وقت ہو گیا “ ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی سے مشرق کی جانب اشارہ فرمایا ۔
The Prophet (ﷺ) said: Religion will continue to prevail as long as people hasten to break the fast, because the Jews and the Christians delay doing so.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دین برابر غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے ، کیونکہ یہود و نصاری اس میں تاخیر کرتے ہیں “ ۔
Chapter 786: The Recommendation Of Hastening To Break The Fast - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ - رضى الله عنها - أَنَا وَمَسْرُوقٌ فَقُلْنَا يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ رَجُلاَنِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم أَحَدُهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ وَالآخَرُ يُؤَخِّرُ الإِفْطَارَ وَيُؤَخِّرُ الصَّلاَةَ قَالَتْ أَيُّهُمَا يُعَجِّلُ الإِفْطَارَ وَيُعَجِّلُ الصَّلاَةَ قُلْنَا عَبْدُ اللَّهِ . قَالَتْ كَذَلِكَ كَانَ يَصْنَعُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Narrated Abu 'Atiyyah:
I and Masruq entered upon 'Aishah and we said: Mother of believers, there are two persons from the Companions of the Muhammad (ﷺ). One of them hastens to break the fast and hastens to pray while the other delays to break the fast and delays praying. She asked: Which of them hastens to break the fast and hasten to pray ? We replied: 'Abd Allah (b. Mas'ud). She said: Thus did the Messenger of Allah (ﷺ) do.
ابوعطیہ کہتے ہیں کہ
میں اور مسروق دونوں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے کہا : ام المؤمنین ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو آدمی ہیں ان میں ایک افطار بھی جلدی کرتا ہے اور نماز بھی جلدی پڑھتا ہے ، اور دوسرا ان دونوں چیزوں میں تاخیر کرتا ہے ، ( بتائیے ان میں کون درستگی پر ہے ؟ ) ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا : ان دونوں میں افطار اور نماز میں جلدی کون کرتا ہے ؟ ہم نے کہا : وہ عبداللہ ہیں ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
The Prophet (ﷺ) said: When one of you is fasting, he should break his fast with dates; but if he cannot get any, then (he should break his fast) with water, for water is purifying.
سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی روزے سے ہو تو اسے کھجور ۱؎ سے روزہ افطار کرنا چاہیئے اگر کھجور نہ پائے تو پانی سے کر لے اس لیے کہ وہ پاکیزہ چیز ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) used to break his fast before praying with some fresh dates; but if there were no fresh dates, he had a few dry dates, and if there were no dry dates, he took some mouthfuls of water.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ( مغرب ) پڑھنے سے پہلے چند تازہ کھجوروں سے روزہ افطار کرتے تھے ، اگر تازہ کھجوریں نہ ملتیں تو خشک کھجوروں سے افطار کر لیتے اور اگر خشک کھجوریں بھی نہ مل پاتیں تو چند گھونٹ پانی نوش فرما لیتے ۔
I saw Ibn Umar holding his beard with his hand and cutting what exceeded the handful of it. He (Ibn Umar) said that the Prophet (ﷺ) said when he broke his fast: Thirst has gone, the arteries are moist, and the reward is sure, if Allah wills.
مروان بن سالم مقفع کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا ، وہ اپنی داڑھی کو مٹھی میں پکڑتے اور جو مٹھی سے زائد ہوتی اسے کاٹ دیتے ، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تو یہ دعا پڑھتے : «ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله» ” پیاس ختم ہو گئی ، رگیں تر ہو گئیں ، اور اگر اللہ نے چاہا تو ثواب مل گیا “ ۔
Chapter 788: The Saying At The Time Of Breaking The Fast - كتاب الصوم
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ زُهْرَةَ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا أَفْطَرَ قَالَ
" اللَّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ " .
Narrated Mu'adh ibn Zuhrah:
The Prophet of Allah (ﷺ) used to say when he broke his fast: O Allah, for Thee I have fasted, and with Thy provision I have broken my fast.
معاذ بن زہرہ سے روایت ہے کہ
انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب روزہ افطار فرماتے تو یہ دعا پڑھتے : «اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت» ” اے اللہ ! میں نے تیری ہی خاطر روزہ رکھا اور تیرے ہی رزق سے افطار کیا “ ۔
We broke the fast one during Ramadan when it was cloudy in the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ) ; then the sun rose. Abu Usamah said: I said to Hisham: Were they commanded to atone for it ? He replied: That was inevitable.
اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ماہ رمضان میں ایک دن ہم نے بدلی میں روزہ کھول لیا اس کے بعد سورج نمودار ہو گیا ۔ راوی ابواسامہ کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن عروہ سے سوال کیا کہ پھر تو لوگوں کو روزے کی قضاء کا حکم دیا گیا ہو گا ؟ کہنے لگے : کیا اس کے بغیر بھی چارہ ہے ؟ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) prohibited perpetual fasting. They (the people) said: You keep perpetual fasting, Messenger of Allah. He said: My position is not like that you yours. I am provided with food and drink.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال ( مسلسل روزے رکھنے ) سے منع فرمایا ہے ، لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول ! آپ تو مسلسل روزے رکھتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، مجھے تو کھلایا پلایا جاتا ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Do not observe perpetual fasting. If any of you wants to observe perpetual fast, he should observe it until the dawn. They (the people) asked: You observe perpetual fast ? He replied: My position is not like that of yours. There is One Who gives me to eat, and there is One who gives me to drink.
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم صوم وصال نہ رکھو ، اگر تم میں سے کوئی صوم وصال رکھنا چاہے تو سحری کے وقت تک رکھے “ ۔ لوگوں نے کہا : آپ تو رکھتے ہیں ؟ فرمایا : ” میں تمہاری طرح نہیں ہوں ، کیونکہ مجھے کھلانے پلانے والا کھلاتا پلاتا رہتا ہے “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: If anyone does not abandon falsehood and action is accordance with it, Allah has no need that he should abandon his food and drink.
The narrator Ahmad (b. Yunus) said: I learnt the chain of narrators from Ibn Abi Dhi'b, and a man by his side made me understand the tradition. I think he was his cousin.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ( روزے کی حالت میں ) جھوٹ بولنا ، اور برے عمل کرنا نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو حاجت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے “ ۔