My people married me to a Roman slave-girl of theirs. I had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Abdullah. I again had intercourse with her, and she gave birth to a black (male) child like me. I named it Ubaydullah. Then a Roman slave of my people, called Yuhannah, incited her, and spoke to her in his own unintelligible language. She gave birth to a son like a chameleon (red).
I asked her: What is this? She replied: This belongs to Yuhannah. We then brought the case to Uthman (for a decision). I think Mahdi said these words. He inquired from both of them, and they acknowledged (the facts).
He then said to them: Do you agree that I take the decision about you, which the Messenger of Allah (ﷺ) had taken? The Messenger of Allah (ﷺ) decided that the child was to attributed to the one on whose bed it was born. And I think he said: He flogged her and flogged him, for they were slaves.
رباح کہتے ہیں کہ
میرے گھر والوں نے اپنی ایک رومی لونڈی سے میرا نکاح کر دیا ، میں نے اس سے جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح کالا لڑکا جنا جس کا نام میں نے عبداللہ رکھا ، میں نے پھر جماع کیا تو اس نے میری ہی طرح ایک اور کالے لڑکے کو جنم دیا جس کا نام میں نے عبیداللہ رکھا ، اس کے بعد میرے خاندان کے یوحنا نامی ایک رومی غلام نے اسے پھانس لیا اور اس نے اس سے اپنی زبان میں بات کی چنانچہ گرگٹ جیسا ( سرخ ) رنگ کا بچہ اس سے پیدا ہوا ، میں نے پوچھا : یہ کیا ہے ؟ کہنے لگی : یہ یوحنا کا بچہ ہے تو ہم نے یہ معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش کیا ، تو انہوں نے ان سے بازپرس کی تو دونوں نے اعتراف کر لیا ، پھر انہوں نے ان دونوں سے کہا : کیا تم دونوں اس بات پر رضامند ہو کہ میں تمہارا فیصلہ اس طرح کر دوں جس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا ؟ آپ نے فیصلہ فرمایا کہ ” بچہ بستر والے کا ہے “ ۔ راوی کا خیال ہے کہ پھر ان دونوں کو کوڑے لگائے ، ( سنگسار نہیں کیا ) کیونکہ وہ دونوں لونڈی و غلام تھے ۔
'Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-'As) reported:
A woman said: Messenger of Allah, my womb is a vessel to this son of mine, my breasts, a water-skin for him, and my lap a guard for him, yet his father has divorced me, and wants to take him away from me. The Messenger of Allah (ﷺ) said: You have more right to him as long as you do not marry.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے ، میرا پیٹ اس کا گھر رہا ، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی ، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی ، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے ، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک تو ( دوسرا ) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے “ ۔
Hilal ibn Usamah quoted Abu Maimunah Salma, client of the people of Medina, as saying:
While I was sitting with AbuHurayrah, a Persian woman came to him along with a son of hers. She had been divorced by her husband and they both claimed him.
She said: AbuHurayrah, speaking to him in Persian, my husband wishes to take my son away.
AbuHurayrah said: Cast lots for him, saying it to her in a foreign language.
Then her husband came and asked: Who is disputing with me about my son?
AbuHurayrah said: O Allah, I do not say this, except that I heard a woman who came to the Messenger of Allah (ﷺ) while I was sitting with him, and she said: My husband wishes to take away my son, Messenger of Allah, and he draws water for me from the well of AbuInabah, and he has been good to me.
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Cast lots for him. Her husband said: Who is disputing with me about my son? The Prophet (ﷺ) said: This is your father and this your mother, so take whichever of them you wish by the hand. So he took his mother's hand and she went away with him.
ہلال بن اسامہ سے روایت ہے کہ
ابومیمونہ سلمی جو اہل مدینہ کے مولی اور ایک سچے آدمی ہیں کا بیان ہے کہ میں ایک بار ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ اسی دوران ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی جس کے ساتھ اس کا لڑکا بھی تھا ، اس کے شوہر نے اسے طلاق دے دی تھی اور وہ دونوں ہی اس کے دعویدار تھے ، عورت کہنے لگی : ابوہریرہ ! ( پھر اس نے فارسی زبان میں گفتگو کی ) میرا شوہر مجھ سے میرے بیٹے کو لے لینا چاہتا ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی فارسی زبان ہی میں اس سے گفتگو کی ، اتنے میں اس کا شوہر آیا اور کہنے لگا : میرے لڑکے کے بارے میں مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے ؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : یا اللہ ! میں نے تو یہ فیصلہ صرف اس وجہ سے کیا ہے کہ میں نے ایک عورت کو کہتے سنا تھا وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی میں آپ کے پاس بیٹھا تھا ، وہ کہنے لگی : اللہ کے رسول ! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے ، حالانکہ وہ ابوعنبہ کے کنویں سے مجھے پانی لا کر پلاتا ہے اور وہ مجھے فائدہ پہنچاتا ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم دونوں اس کے لیے قرعہ اندازی کرو “ ، اس کا شوہر بولا : میرے لڑکے کے متعلق مجھ سے کون جھگڑا کر سکتا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تیرا باپ ہے ، اور یہ تیری ماں ہے ، ان میں سے تو جس کا بھی چاہے ہاتھ تھام لے “ ، چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا ، اور وہ اسے لے کر چلی گئی ۱؎ ۔
Zayd ibn Harithah went out to Mecca and brought the daughter of Hamzah with him. Then Ja'far said: I shall take her; I have more right to her; she is my uncle's daughter and her maternal aunt is my wife; the maternal aunt is like mother. Ali said: I am more entitled to take her. She is my uncle's daughter. The daughter of the Messenger of Allah (ﷺ) is my wife, and she has more right to her. Zayd said: I have more right to her. I went out and journeyed to her, and brought her with me. The Prophet (ﷺ) came out.
The narrator mentioned the rest of the tradition. He (i.e. the Prophet) said: As for the girl, I decided in favour of Ja'far. She will live with her maternal aunt. The maternal aunt is like mother.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ مکہ گئے تو حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے آئے ، جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اسے میں لوں گا ، میں اس کا زیادہ حقدار ہوں ، یہ میری چچا زاد بہن ہے ، نیز اس کی خالہ میرے پاس ہے ، اور خالہ ماں کے درجے میں ہوتی ہے ، اور علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اس کا زیادہ حقدار میں ہوں کیونکہ یہ میری چچا زاد بہن ہے ، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی میرے نکاح میں ہے ، وہ بھی اس کی زیادہ حقدار ہیں اور زید رضی اللہ عنہ نے کہا : سب سے زیادہ اس کا حقدار میں ہوں کیونکہ میں اس کے پاس گیا ، اور سفر کر کے اسے لے کر آیا ہوں ، اتنے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے تو علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لڑکی کا فیصلہ میں جعفر کے حق میں کرتا ہوں وہ اپنی خالہ کے پاس رہے گی اور خالہ ماں کے درجے میں ہے “ ۔
This tradition has been narrated by ‘Abd Al Rahman bin Abi Laila through a different chain of narrators. This version has “He decided that she would be given to Ja’far and said “Her maternal aunt is with him(i.e., his wife).
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی سے یہی حدیث مروی ہے لیکن پوری نہیں ہے
اس میں ہے کہ : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ لڑکی جعفر رضی اللہ عنہ کے پاس رہے گی ، کیونکہ ان کے نکاح میں اس کی خالہ ہے “ ۔
When we came out from Mecca, Hamzah's daughter pursued us crying: My uncle. Ali lifted her and took her by the hand. (Addressing Fatimah he said:) Take your uncle's daughter. She then lifted her. The narrator then transmitted the rest of the tradition. Ja'far said: She is my uncle's daughter. Her maternal aunt is my wife. The Prophet (ﷺ) decided in favour of her maternal aunt, and said: The maternal aunt is like mother.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جب ہم مکہ سے نکلے تو ہمارے پیچھے پیچھے حمزہ کی لڑکی چچا چچا پکارتی آ گئی ، علی رضی اللہ عنہ ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ساتھ لے آئے اور ( فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ) کہا : اپنے چچا کی لڑکی کو لو ، انہوں نے اسے اٹھا لیا ، راوی نے پھر پورا قصہ بیان کیا اور کہا کہ : جعفر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یہ میرے چچا کی بیٹی ہے ، اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالہ کے حق میں فیصلہ دیا اور فرمایا : ” خالہ ماں کے درجے میں ہے “ ۔
Amr ibn Muhajir reported on the authority of his father:
Asma', daughter of Yazid ibn as-Sakan al-Ansariyyah, was divorced in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). No waiting period was prescribed for a divorced woman (at that time). When Asma' was divorced, Allah, the Exalted, sent down the injunction of waiting period for divorce. She is the first of the divorced women about whom the verse relating to waiting period was sent down.
اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں انہیں طلاق دے دی گئی ، اس وقت مطلقہ کی کوئی عدت نہیں تھی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا چنانچہ یہی پہلی خاتون ہیں جن کے متعلق مطلقہ عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا ۔
Women who are divorced shall wait, keeping themselves apart, three monthly courses; and then said: And for such of your women as despair of menstruation, if ye doubt, their period (of waiting) shall be three months. This was abrogated from the former verse. Again he said: (O ye who believe, if ye wed believing women) and divorce them before ye have touched them, then there is no period that ye should reckon."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء» ” اور طلاق دی ہوئی عورتیں اپنے آپ کو تین طہر تک روکے رکھیں “ ( سورۃ البقرہ : ۲۲۸ ) اور فرمایا : «واللائي يئسن من المحيض من نسائكم إن ارتبتم فعدتهن ثلاثة أشهر» ” اور تمہاری وہ عورتیں جو حیض سے ناامید ہو گئی ہوں اگر تمہیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے “ ( سورۃ الطلاق : ۴ ) تو یہ عورتیں پہلی آیت کے حکم سے نکال لی گئیں ہیں ، اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «وإن طلقتموهن من قبل أن تمسوهن» ” اگر تم انہیں چھونے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو انہیں کوئی عدت گزارنے کی ضرورت نہیں “ ( سورۃ الاحزاب : ۴۹ ) اس آیت میں مذکور عورتوں کو بھی پہلی آیت کے حکم سے نکال دیا گیا ہے ۔
Abu Salamah bin ‘Abd Al Rahman reported on the authority of Fatimah daughter of Qais Abu ‘Amr bin Hafs divorced her (Fatimah daughter of Qais) absolutely when he was away from home and his agent sent her home barley. She was displeased with it. He said “I swear by Allah, you have no claim on us. She then came to Apostle of Allah (ﷺ) and mentioned that to him. He said to her “No maintenance is due to you from him. He ordered her to spend the waiting period in the house of Umm Sharik but he said afterwards “that is a woman whom my Companions visit. Spend the waiting period in the house of Ibn Umm Maktum for he is blind and you can undress. Then when you are in a position of being remarried, tell me.” She said “When I was in a position to remarry, I mentioned to him that Mu’awiyah bin Abi Sufyan and Abu Jahm had asked me in marriage. The Apostle of Allah (ﷺ)said “As for Abu Jahm, he does not put down his stick from his shoulder, and as for Mu’awiyah he is a poor man who has no property; marry Usamah bin Zaid. I disliked him but he said “Marry Usamah bin Zaid. So, I married him. And Allah prospered him very much and I was envied.”
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ
ابوعمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ دے دی ۱؎ ابوعمرو موجود نہیں تھے تو ان کے وکیل نے فاطمہ کے پاس کچھ جو بھیجے ، اس پر وہ برہم ہوئیں ، تو اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں بنتا ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ماجرا بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ سے فرمایا : ” اس کے ذمہ تمہارا نفقہ نہیں ہے “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام شریک کے گھر میں عدت گزارنے کا حکم دیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک ایسی عورت ہے کہ اس کے پاس میرے صحابہ کا اکثر آنا جانا لگا رہتا ہے ، لہٰذا تم ابن ام مکتوم کے گھر میں عدت گزارو کیونکہ وہ نابینا ہیں ، پردے کی دقت نہ ہو گی ، تم اپنے کپڑے اتار سکو گی ، اور جب عدت مکمل ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا “ ۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جب عدت گزر گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہما کے پیغام کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رہے ابوجہم تو وہ کندھے سے لاٹھی ہی نہیں اتارتے ( یعنی بہت زدو کوب کرنے والے شخص ہیں ) اور جہاں تک معاویہ کا سوال ہے تو وہ کنگال ہیں ، ان کے پاس مال نہیں ہے ۲؎ ، لہٰذا تم اسامہ بن زید سے نکاح کر لو “ ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ وہ مجھے پسند نہیں آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ اسامہ بن زید سے نکاح کر لو ، چنانچہ میں نے اسامہ سے نکاح کر لیا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں اس قدر بھلائی رکھی کہ لوگ مجھ پر رشک کرنے لگے ۔
Abu Salamah bin ‘Abd Al Rahman said that Fatimah daughter of Qais told him that Abu Hafs Al Mughirah divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. The version has Khalid bin Walid and some people of Banu Makhzum came to the Prophet (ﷺ) and said Prophet of Allaah (ﷺ) Abu Hafs Al Mughirah divorced his wife three times and he has left a little for her. He said “No maintenance is necessary for her. He then transmitted the rest of the tradition. The tradition narrated by Malik is more perfect.
یحییٰ بن ابی کثیر کہتے ہیں کہ
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے مجھ سے بیان کیا کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان کیا کہ ابو حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور بنی مخزوم کے کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! ابو حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو تینوں طلاقیں دے دی ہیں ، اور اسے معمولی نفقہ ( خرچ ) دیا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کے لیے نفقہ نہیں ہے “ ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، یہ مالک کی روایت زیادہ کامل ہے ۱؎ ۔
Chapter 755: Regarding The Maintenance Of One Who Has Been Irrevocably Divorced - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا عَمْرِو بْنَ حَفْصٍ الْمَخْزُومِيَّ، طَلَّقَهَا ثَلاَثًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَخَبَرَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لَيْسَتْ لَهَا نَفَقَةٌ وَلاَ مَسْكَنٌ " . قَالَ فِيهِ وَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ لاَ تَسْبِقِينِي بِنَفْسِكِ .
Abu Salamah reported on the authority of Fatimah daughter of Qais that Abu ‘Amr bin Hafs Al Makhzumi divorced her three times. He then narrated the rest of the tradition. He then mentioned about Khalid bin Walid and said that the Prophet (ﷺ) said “There are no maintenance and dwelling for her.” This version has “The Apostle of Allaah(ﷺ) sent a message to her “Do not give her consent for marriage without my permission.””
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ
مجھ سے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ابوعمرو بن حفص مخزومی رضی اللہ عنہ نے انہیں تینوں طلاقیں دے دیں ، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ والا قصہ بیان کیا کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” نہ تو اس کے لیے نفقہ ہے اور نہ رہائش “ ، نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ خبر بھیجی کہ تو اپنے بارے میں مجھ سے سبقت نہ کرنا ۱؎ ۔
Fatimah daughter of Qais said “I was married to a man of Banu Makhzum. He divorced me absolutely. The narrator then transmitted the rest of the tradition like that of Malik. This version has “Do not marry yourself without my permission.”
Abu Dawud said Al Sha’bi, Al Bahiyy and ata from abd Al Rahman bin asim and Abu Bakr bin Abi Al Jahm all narrated on the authority of Fatimah daughter of Qais that her husband had divorced her three times.
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں قبیلہ بنی مخروم کے ایک شخص کے نکاح میں تھی اس نے مجھے طلاق بتہ دے دی ، پھر راوی نے مالک کی حدیث کے مثل حدیث بیان کی اس میں «ولا تفوتيني بنفسك» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح اسے شعبی اور بہی نے اور عطاء نے بواسطہ عبدالرحمٰن بن عاصم اور ابوبکر بن جہم اور سبھوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ ” انہیں ان کے شوہر نے تین طلاق دی “ ( نہ کہ طلاق بتہ ) ۔
Chapter 755: Regarding The Maintenance Of One Who Has Been Irrevocably Divorced - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، أَنَّ زَوْجَهَا، طَلَّقَهَا ثَلاَثًا فَلَمْ يَجْعَلْ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم نَفَقَةً وَلاَ سُكْنَى .
The tradition mentioned above has also been transmitted by Al Sha’bi through a different chain of narrators. This version has “The husband of Fathima daughter of Qais pronounced her triple divorce. The Prophet (ﷺ) did not allow her to have maintenance and dwelling.”
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان کے شوہر نے انہیں تین طلاق دے دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو انہیں نفقہ دلایا ، اور نہ ہی رہائش دلائی ۔
Abu Salamah reported on the authority of Fatimah daughter of Qays who said to him that she was the wife of AbuHafs ibn al-Mughirah who divorced her by three pronouncements. She said that she came to the Messenger of Allah (ﷺ) and sought his opinion about her going out from her house. He commanded her to shift to (the house of )Ibn Umm Maktum who was blind. Marwan denied to confirm the tradition of Fatimah about the going out of a divorced woman from her house. Urwah said:
Aisha objected to Fatimah daughter of Qays.
Abu Dawud said: Salih b. Kaisan, Ibn Juraij, and Shu'aib b. Abi Hamzah -- all of them narrated on the authority of al-Zuhru in a similar way.
Abu Dawud said: Shu'aibn b. Abi Hamzah the name of Abu Hamzah is Dinar. He is a client of Ziyad.
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف الزہری کہتے ہیں کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ
وہ ابوحفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں ، اور ابوحفص نے انہیں تین طلاق میں سے آخری طلاق بھی دے دی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنے گھر نکلنے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا تو آپ نے انہیں نابینا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جانے کا حکم دیا ۱؎ ۔ مروان نے یہ حدیث سنی تو مطلقہ کے گھر سے نکلنے کے سلسلہ میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کی تصدیق کرنے سے انکار کیا ، عروہ کہتے ہیں : ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی بات کا انکار کیا ۔
‘Ubaid Allah said “Marwan sent someone (Qabisah) to Fatimah and asked her (about the case). She said that she was the wife of Abu Hafs. The Prophet (ﷺ) appointed ‘Ali as governor in a certain part of Yemen. Her husband also proceeded with him. From there he sent a message to her pronouncing one divorce that had yet remained. He commanded ‘Ayyash bin Abi Rabi’ah and Al Harith bin Hisham to provide maintenance to her. They said “By Allah there is no sustenance for her except in case she is pregnant.” She came to the Prophet(ﷺ) who said “There is no sustenance for you except in case you are pregnant. She then asked permission to shift (from her house) and he gave her permission.” She asked “Where should I shift. Apostle of Allaah(ﷺ)? The Apostle of Allaah(ﷺ) said to Ibn Umm Maktum . He was blind. She would undress herself and he could not see her. She lived there till her waiting period passed. The Prophet (ﷺ) married her to Usamah. Qabisah then returned to Marwan and narrated that to him. Marwan said “We did not hear this tradition except from a woman, so we shall follow the reliable practice on which we found the people”. When this reached Fatimah she said “between me and you is the Book of Allah”. Allaah the exalted said “Divorce them for their waiting period...” Thou knowest not it may be that Allaah will afterward bring some new thing to pass. She said “What a new thing will emerge after triple divorce.”
Abu Dawud said “A similar tradition has been narrated by Yunus on the authority of Al Zuhri. As for Al Zubaidi he narrated both traditions, the tradition of ‘Ubaid Allah in the version of Ma’mar and the tradition of Abu
Salamah in the version of ‘Aqil.”
Abu Dawud said “Muhammad bin Ishaq narrated on the authority of Al Zuhri that Qabisah bin Dhuwaib transmitted to him the version which was narrated by ‘Ubaid Allah bin ‘Abd Allaah which has Qabisah then returned to Marwan and informed him about that.”
عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ
مروان نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو بلوایا ، اور ان سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ ابوحفص رضی اللہ عنہ کے عقد میں تھیں ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو یمن کا یعنی یمن کے بعض علاقے کا امیر بنا کر بھیجا تو ان کے شوہر بھی علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے اور وہیں سے انہیں بقیہ ایک طلاق بھیج دی ، اور عیاش بن ابی ربیعہ اور حارث بن ہشام کو انہیں نفقہ دینے کے لیے کہہ دیا تو وہ دونوں کہنے لگے : اللہ کی قسم حاملہ ہونے کی صورت ہی میں وہ نفقہ کی حقدار ہو سکتی ہیں ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ( اور آپ سے دریافت کیا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے لیے نفقہ صرف اس صورت میں ہے کہ تم حاملہ ہو “ ، پھر فاطمہ نے گھر سے منتقل ہونے کی اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی ، پھر فاطمہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میں کہاں جاؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر رہو ، وہ نابینا ہیں ، سو وہ ان کے پاس کپڑے بھی اتارتی تھیں تو وہ اسے دیکھ نہیں پاتے تھے “ ، چنانچہ وہ وہیں رہیں یہاں تک کہ ان کی عدت پوری ہو گئی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ تو قبیصہ ۱؎ مروان کے پاس واپس آئے اور انہیں اس کی خبر دی تو مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت کے منہ سے سنی ہے ہم تو اسی مضبوط اور صحیح بات کو اپنائیں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس کا علم ہوا تو کہنے لگیں : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب فیصلہ کرے گی ، اللہ کا فرمان ہے «فطلقوهن لعدتهن» ، «لا تدري لعل الله يحدث بعد ذلك أمرا» ۲؎ تک ” یعنی خاوند کا دل مائل ہو جائے اور رجوع کر لے “ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : تین طلاق کے بعد کیا نئی بات ہو گی ؟ ۳؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسی طرح اسے یونس نے زہری سے روایت کیا ہے ، رہے زبیدی تو انہوں نے دونوں حدیثوں کو ملا کر ایک ساتھ روایت کیا ہے یعنی عبیداللہ کی حدیث کو معمر کی حدیث کے ہم معنی اور ابوسلمہ کی حدیث کو عقیل کی حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے ۔ اور اسے محمد بن اسحاق نے زہری سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ قبیصہ بن ذویب نے ان سے اس معنی کی حدیث بیان کی ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ کی حدیث پر دلالت ہے جس وقت انہوں نے یہ کہا کہ قبیصہ مروان کے پاس لوٹے اور انہیں اس واقعہ کی خبر دی ۔
Chapter 756: Whoever Rejected What Fatimah Bint Qais Said - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ مَعَ الأَسْوَدِ فَقَالَ أَتَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رضى الله عنه - فَقَالَ مَا كُنَّا لِنَدَعَ كِتَابَ رَبِّنَا وَسُنَّةَ نَبِيِّنَا صلى الله عليه وسلم لِقَوْلِ امْرَأَةٍ لاَ نَدْرِي أَحَفِظَتْ ذَلِكَ أَمْ لاَ .
Abu Ishaq said “I was with Al Aswad in the congregational mosque. He said “Fathimah daughter of Qais came to ‘Umar bin Al Khattab(may Allaah be pleased with him). (When she narrated the tradition about her divorce) he said “We are not to leave the Book of our Lord and the Sunnah of our Prophet (ﷺ) for the statement of a woman, we do not know whether she remembered it or not.”
ابواسحاق کہتے ہیں کہ
میں اسود کے ساتھ جامع مسجد میں تھا تو انہوں نے کہا : فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے کہا کہ ہم اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو ایک عورت کے کہنے پر نہیں چھوڑ سکتے ، پتا نہیں اسے یہ ( اصل بات ) یاد بھی ہے یا بھول گئی ۱؎ ۔
Chapter 756: Whoever Rejected What Fatimah Bint Qais Said - كتاب الطلاق
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ عَابَتْ ذَلِكَ عَائِشَةُ - رضى الله عنها - أَشَدَّ الْعَيْبِ يَعْنِي حَدِيثَ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ وَقَالَتْ إِنَّ فَاطِمَةَ كَانَتْ فِي مَكَانٍ وَحْشٍ فَخِيفَ عَلَى نَاحِيَتِهَا فَلِذَلِكَ رَخَّصَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم .
Urwah said:
Aisha (Allah be pleased with her) severely objected to the tradition of Fatimah daughter of Qays. She said: Fatimah lived in a desolate house and she feared for her loneliness there. Hence the Messenger of Allah (ﷺ) accorded permission to her (to leave the place).
عروہ کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث پر سخت نکیر کرتی تھیں اور کہتی تھیں : چونکہ فاطمہ ایک ویران مکان میں رہتی تھیں جس کی وجہ سے ان کے بارے میں خدشہ لاحق ہوا اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( مکان بدلنے کی ) رخصت دی تھی ۔
Aisha was asked: Did you not see (i.e. known) the statement of Fatimah? She replied: It is not good for her to mention it (to others).
عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے فاطمہ ( فاطمہ بنت قیس ) رضی اللہ عنہا کے بیان پر اظہار خیال کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا اس میں اس کے لیے کوئی فائدہ نہیں ۔
Al-Qasim ibn Muhammad and Sulayman ibn Yasar reported:
Yahya ibn Sa'id ibn al-'As divorced the daughter of 'Abd al-Rahman ibn al-Hakam absolutely. 'Abd al-Rahman shifted her (from there). Aisha sent a message to Marwan ibn al-Hakam who was the governor of Medina, and said to him: Fear Allah, and return the woman to her home. Marwan said (according to Sulayman's version): 'Abd al-Rahman forced me. Marwan said (according to the version of al-Qasim): Did not the case of Fatimah daughter of Qays reach you? Aisha replied: There would be no harm to you if you did not make mention of the tradition of Fatimah. Marwan said: If you think that it was due to some evil (i.e. reason), then it is sufficient for you to see that there is also an evil between the two.
یحییٰ بن سعید قاسم بن محمد اور سلیمان بن یسار سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے ان دونوں کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی کو تین طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن نے انہیں اس گھر سے منتقل کر لیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس وقت مدینہ کے امیر مروان بن حکم کو کہلا بھیجا کہ اللہ کا خوف کھاؤ اور عورت کو اس کے گھر واپس بھیج دو ، بروایت سلیمان : مروان نے کہا : عبدالرحمٰن مجھ پر غالب آ گئے یعنی انہوں نے میری بات نہیں مانی ، اور بروایت قاسم : کیا آپ کو فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کا قصہ معلوم نہیں ؟ تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : فاطمہ والی حدیث نہ بیان کرو تو تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے ، تو مروان نے کہا : اگر آپ نزدیک وہاں برائی کا اندیشہ تھا تو سمجھ لو یہاں ان دونوں ( عمرہ اور ان کے شوہر یحییٰ ) کے درمیان بھی اسی برائی کا اندیشہ ہے ۔
Maimun bin Mihram said “I came to Median and went to Sa’id bin Al Musayyab”. I said (to him) Fathimah daughter of Qais was divorced and she shifted from her house. Sa’id said “This woman has perverted people. She was arrogant so she was placed with Ibn Umm Makhtum, the blind.”
میمون بن مہران کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو سعید بن مسیب کے پاس گیا اور میں نے کہا کہ
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو طلاق دی گئی تو وہ اپنے گھر سے چلی گئی ( ایسا کیوں ہوا ؟ ) تو سعید نے جواب دیا : اس عورت نے لوگوں کو فتنے میں مبتلا کر دیا تھا کیونکہ وہ زبان دراز تھی لہٰذا اسے ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے پاس رکھا گیا جو نابینا تھے ۔
Jabir said “My maternal aunt was divorced by three pronouncements and she went out to cut down fruit from her palm trees. A man met her and forbade her (to go out). So she went to the Prophet (ﷺ) and mentioned it to him. He said “Go out, and cut down fruit from your palm trees for perhaps you may give alms (sadaqah) or do an act of kindness.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میری خالہ کو تین طلاقیں دی گئیں ، وہ اپنی کھجوریں توڑنے نکلیں ، راستے میں ایک شخص ملا تو اس نے انہیں نکلنے سے منع کیا چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، اور آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جاؤ اور اپنی کھجوریں توڑو ، ہو سکتا ہے تم اس میں سے صدقہ کرو یا اور کوئی بھلائی کا کام کرو “ ۔
The Qur’anic verse “Those of you who die and leave widows should bequeath for their widows a year’s maintenance and residence was abrogated by the verse containing the laws of succession, as one-fourth or one-eighth share was prescribed for them (i.e., the widows). The waiting period for one year was also repealed as a period of four months ten days was prescribed for them.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
اللہ کا فرمان «والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا وصية لأزواجهم متاعا إلى الحول غير إخراج» ” اور تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ وصیت کر جائیں کہ ان کی بیویاں سال بھر تک فائدہ اٹھائیں انہیں کوئی نہ نکالے “ ( سورۃ البقرہ : ۲۴۰ ) میراث کی آیت نازل ہو جانے کے بعد منسوخ ہو گیا کیونکہ اس میں ان کے لیے چوتھائی اور آٹھواں حصہ مقرر کر دیا گیا ہے اسی طرح ایک سال تک نہ نکلنے کا حکم چار مہینے دس دن کی عدت کا حکم آ جانے کے بعد منسوخ ہو گیا ۔
Humaid ibn Nafi' reported the following three traditions on the authority of Zaynab, daughter of Abu Salamah:
Zainab said: I visited Umm Habibah when her father AbuSufyan, died. She asked for some yellow perfume containing saffron (khaluq) or something else. Then she applied it to a girl and touched her cheeks.
She said: I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to observe mourning for one who has died, more than three nights, except for four months and ten days in the case of a husband.
Zaynab said: I also visited Zaynab, daughter of Jahsh, when her brother died. She asked for some perfume and used it upon herself.
She then said: I have no need of perfume, but I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when he was on the pulpit: It is not lawful for a woman who believes in Allah and the Last Day to observe mourning for one who has died, more than three nights, except for four months and ten days in the case of a husband.
Zaynab said: I heard my mother, Umm Salamah, say: A woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, the husband of my daughter has died, and she is suffering from sore eyes; may we put antimony in her eyes?
The Messenger of Allah (ﷺ) said: No. He said this twice or thrice. Each time he said: No. The Messenger of Allah (ﷺ) said: The waiting period is now four months and ten days. In pre-Islamic days one of you used to throw away a piece of dung at the end of a year.
Humayd said: I asked Zaynab: What do you mean by throwing away a piece of dung at the end of a year.
Zaynab replied: When the husband of a woman died, she entered a small cell and put on shabby clothes, not touching perfume or any other thing until a year passed. Then an animal such as donkey or sheep or bird was provided for her. She rubbed herself with it. The animal with which she rubbed herself rarely survived. She then came out and was given a piece of dung which she threw away. She then used perfume or something else which she desired.
Abu Dawud said: The Arabic word "hafsh" means a small cell.
حمید بن نافع کہتے ہیں کہ
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہما نے انہیں ان تینوں حدیثوں کی خبر دی کہ جب ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں ان کے پاس گئی ، انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگا کر ایک لڑکی کو لگائی پھر اپنے دونوں رخساروں پر بھی مل لی اس کے بعد کہنے لگیں : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی قطعاً حاجت نہ تھی ، میں نے تو ایسا صرف اس بنا پر کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا تھا : ” کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، ہاں خاوند پر چار مہینے دس دن تک سوگ منانا ہے “ ۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں ام المؤمنین زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے پاس گئی جس وقت کہ ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا تھا ، انہوں نے ( بھی ) خوشبو منگا کر لگائی اس کے بعد کہنے لگیں : اللہ کی قسم ! مجھے خوشبو لگانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، میں نے ایسا صرف اس بنا پر کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا : ” کسی بھی عورت کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو یہ حلال نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے ہاں شوہر کی وفات پر سوگ چار مہینے دس دن ہے “ ۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے اپنی والدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بیٹی کے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور اس کی آنکھیں دکھ رہی ہیں ، کیا ہم اسے سرمہ لگا دیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ ، اس نے دو بار یا تین بار پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار فرمایا : ” نہیں “ ، پھر فرمایا : ” تم چار مہینے دس دن صبر نہیں کر سکتی ، حالانکہ زمانہ جاہلیت میں جب تم میں سے کسی عورت کا شوہر مر جاتا تھا تو ایک سال پورے ہونے پر اسے مینگنی پھینکنی پڑتی تھی “ ۔ حمید راوی کہتے ہیں میں نے زینب رضی اللہ عنہا سے پوچھا : مینگنی پھینکنے سے کیا مراد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ جاہلیت کے زمانہ میں جب کسی عورت کا شوہر مر جاتا تو وہ ایک معمولی سی جھونپڑی میں رہائش اختیار کرتی ، پھٹے پرانے اور میلے کچیلے کپڑے پہنتی ، نہ خوشبو استعمال کر سکتی اور نہ ہی کوئی زینت و آرائش کر سکتی تھی ، جب سال پورا ہو جاتا تو اسے گدھا یا کوئی پرندہ یا بکری دی جاتی جسے وہ اپنے بدن سے رگڑتی ، وہ جانور کم ہی زندہ رہ پاتا ، پھر اس کو مینگنی دی جاتی جسے وہ سر پر گھما کر اپنے پیچھے پھینک دیتی ، اس کے بعد وہ عدت سے باہر آتی اور زیب و زینت کرتی اور خوشبو استعمال کرتی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «حفش» چھوٹے گھر ( تنگ کوٹھری ) کو کہتے ہیں ۔