Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 13

Divorce (Kitab Al-Talaq)

كتاب الطلاق

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 138 hadiths in this chapter

Hadith 2250
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ، وَغَيْرِهِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سُنَّةً ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لاَ يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Sa’d Al Sa’idi through a different chain of narrators. This version has “He divorced her three times before the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) implemented it and what is done before the Prophet (ﷺ) is sunnah(model behavior of the Prophet). Sahl said “I attended this before the Messenger of Allah(ﷺ). Afterwards the sunnah about those who invoked curses on each other was established that they (the spouses) were separated from each other and they would never be united.”

اس سند سے بھی سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے

اس میں ہے : انہوں ( عاصم بن عدی ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اسے تین طلاق دے دی تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نافذ فرما دیا ، اور جو کام آپ کی موجودگی میں کیا گیا ہو وہ سنت ہے ۔ سہل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت میں موجود تھا ، اس کے بعد لعان کرنے والے مرد اور عورت کے سلسلہ میں طریقہ ہی یہ ہو گیا کہ انہیں جدا کر دیا جائے ، اور وہ دونوں پھر کبھی اکٹھے نہ ہوں ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 76
Hadith 2251
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَوَهْبُ بْنُ بَيَانٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ شَهِدْتُ الْمُتَلاَعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ تَلاَعَنَا ‏.‏ وَتَمَّ حَدِيثُ مُسَدَّدٍ ‏.‏ وَقَالَ الآخَرُونَ إِنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ فَقَالَ الرَّجُلُ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا - لَمْ يَقُلْ بَعْضُهُمْ عَلَيْهَا - قَالَ أَبُو دَاوُدَ لَمْ يُتَابِعِ ابْنَ عُيَيْنَةَ أَحَدٌ عَلَى أَنَّهُ فَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏

Sahl bin Sa’ad said “The version of Musaddad has “I witnessed the invoking of curses by the two spouses during the life time of the Apostle of Allaah(ﷺ) when I was fifteen years old. When they finished invoking curses, the Apostle of Allaah(ﷺ) separated them from each other. Here ends the version of Musaddad. Others said “He was present when the Prophet (ﷺ) separated the spouses who invoked curses on each other. The man (Sahl) said “I shall have lied against her, Apostle of Allaah(ﷺ) if I keep her. Abu Dawud said “Some narrators did not mention the word ‘alaiha(against her).” Abu Dawud said “No one supported Ibn ‘Uyainah that he separated the spouses who invoked curses.”

سہل بن سعد رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں دونوں لعان کرنے والوں کے پاس موجود تھا ، اور میں پندرہ سال کا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کے بعد جدائی کرا دی ، یہاں مسدد کی روایت پوری ہو گئی ، دیگر لوگوں کی روایت میں ہے کہ : ” وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے دونوں لعان کرنے والے مرد اور عورت کے درمیان جدائی کرا دی تو مرد کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر بہتان لگایا “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ سفیان ابن عیینہ کی کسی نے اس بات پر متابعت نہیں کی کہ : ” آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں کے درمیان تفریق کرا دی “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 77
Hadith 2252
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَكَانَتْ حَامِلاً فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ أَنْ يَرِثَهَا وَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهَا ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by Sahl bin Sa’d through a different chain of narrators. This version has “She was pregnant, he denied pregnancy from him. So her son was attributed to her. In the law of succession the practice (sunnah) was established that the son gets a share in the inheritance of his mother and the mother gets the share in the inheritance of her son according to the shares prescribed by Allaah the Exalted.

اس سند سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہما سے یہی حدیث مروی ہے

اس میں ہے کہ : ” وہ عورت حاملہ تھی اور اس نے اس کے حمل کا انکار کیا ، چنانچہ اس عورت کا بیٹا اسی طرف منسوب کر کے پکارا جاتا تھا ، اس کے بعد میراث میں بھی یہی طریقہ رہا کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصہ میں ماں لڑکے کی وارث ہوتی اور لڑکا ماں کا وارث ہوتا “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 78
Hadith 2253
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّا لَلَيْلَةُ جُمْعَةٍ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ بِهِ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ فَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ وَاللَّهِ لأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً فَتَكَلَّمَ بِهِ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى غَيْظٍ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ افْتَحْ ‏"‏ ‏.‏ وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ ‏{‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ ‏}‏ هَذِهِ الآيَةُ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَاءَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَتَلاَعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ قَالَ فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَهْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَتْ فَفَعَلَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ ‏"‏ لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيءَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا ‏.‏

‘Abd Allah (bin Mas’ud) said “We were in the mosque on the night of a Friday, suddenly a man from the Ansar entered the mosque”. And said “If a man finds a man along with wife and declares (about her adultery) you will flog him. Or if he kills you, you will kill him or if keeps silence he will keep silence in anger. I swear by Allaah, I shall ask the Apostle of Allaah(ﷺ) about it”. On the next day he came to the Apostle of Allaah(ﷺ) and said “If a man finds a man along with wife and declares (about her adultery) you will flog him. Or if he kills you, you will kill him or if keeps silence he will keep silence in anger.” He said “O Allaah, disclose”. He kept on praying until the verses regarding invoking curses (li’an) came down “As for those who accuse their wives but have no witnesses except themselves.” So, the man was first involved in this trial among the people. He and his wife came to the Apostle of Allaah(ﷺ). They invoked curses on each other. The man bore witness before Allaah four times that the thing he said was indeed true. He then invoked curse of Allaah on him for the fifth time if he was a liar. She then wanted to invoke curses of Allaah on him. The Prophet (ﷺ) said “Do not do that. Bust she refused and did so (i.e., invoked curses). When they returned he said “Perhaps she will give birth to a black child with curly hair.

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں ( ایک دفعہ ) جمعہ کی رات مسجد میں تھا کہ اچانک انصار کا ایک شخص مسجد میں آیا ، اور کہنے لگا : اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی ( اجنبی ) آدمی کو پا لے اور ( حقیقت حال ) بیان کرے تو تم لوگ اسے کوڑے لگاؤ گے ، یا وہ قتل کر دے تو اس کے بدلے میں تم لوگ اسے قتل کر دو گے ، اور اگر وہ چپ رہے تو اندر ہی اندر غصہ میں جلے بھنے ، اللہ کی قسم ، میں اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا ، چنانچہ جب دوسرا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی ( اجنبی ) آدمی کو پا لے اور حقیقت حال بیان کرے تو ( تہمت کی حد کے طور پر ) آپ اسے کوڑے لگائیں گے ، یا وہ قتل کر دے تو اسے قتل کر دیں گے ، یا وہ خاموشی اختیار کر کے اندر ہی غصہ سے جلے بھنے ، یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرنے لگے : ” اے اللہ ! معاملے کی وضاحت فرما دے “ ، چنانچہ لعان کی آیت «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» ” اور جو لوگ اپنی بیویوں کو تہمت لگاتے ہیں اور ان کے پاس گواہ نہ ہوں “ ( سورۃ النور : ۶ ) آخر تک نازل ہوئی تو لوگوں میں یہی شخص اس مصیبت میں مبتلا ہوا چنانچہ وہ دونوں میاں بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان دونوں نے لعان کیا ، اس آدمی نے چار بار اللہ کا نام لے کر اپنے سچے ہونے کی گواہی دی ، اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو ، پھر عورت لعان کرنے چلی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھہرو “ ، لیکن وہ نہیں مانی اور لعان کر ہی لیا ، تو جب وہ دونوں جانے لگے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شاید یہ عورت کالا گھنگرالے بالوں والا بچہ جنم دے “ چنانچہ اس نے وہ کالا اور گھنگرالے بالوں والا بچہ ہی جنم دیا ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 79
Hadith 2254
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ هِلاَلَ بْنَ أُمَيَّةَ، قَذَفَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْبَيِّنَةَ أَوْ حَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا رَأَى أَحَدُنَا رَجُلاً عَلَى امْرَأَتِهِ يَلْتَمِسُ الْبَيِّنَةَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ الْبَيِّنَةَ وَإِلاَّ فَحَدٌّ فِي ظَهْرِكَ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ هِلاَلٌ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَصَادِقٌ وَلَيُنْزِلَنَّ اللَّهُ فِي أَمْرِي مَا يُبَرِّئُ ظَهْرِي مِنَ الْحَدِّ فَنَزَلَتْ ‏{‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ ‏}‏ فَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ ‏{‏ مِنَ الصَّادِقِينَ ‏}‏ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمَا فَجَاءَا فَقَامَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ فَشَهِدَ وَالنَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا مِنْ تَائِبٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ قَامَتْ فَشَهِدَتْ فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ الْخَامِسَةِ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ وَقَالُوا لَهَا إِنَّهَا مُوجِبَةٌ ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَتَلَكَّأَتْ وَنَكَصَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهَا سَتَرْجِعُ فَقَالَتْ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي سَائِرَ الْيَوْمِ ‏.‏ فَمَضَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَبْصِرُوهَا فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَكْحَلَ الْعَيْنَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِشَرِيكِ بْنِ سَحْمَاءَ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ بِهِ كَذَلِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ مَا مَضَى مِنْ كِتَابِ اللَّهِ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا مِمَّا تَفَرَّدَ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ حَدِيثُ ابْنِ بَشَّارٍ حَدِيثُ هِلاَلٍ ‏.‏

Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah accused his wife in the presence of Prophet (ﷺ) of having committed adultery with Sharik bin Sahma’”. The Prophet (ﷺ) said “Produce evidence or you must receive punishment on your back.” He said “Apostle of Allaah(ﷺ) when one of us sees a man having intercourse with his wife should he go and seek evidence?” But the Prophet (ﷺ) merely said “You must produce evidence or you must receive punishment on your back.” Hilal then said “By Him Who sent you with the Truth, I am speaking Truly. May Allaah send down something which will free my back from punishment. Then the following Qur’anic verses were revealed “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves” reciting till he reached “one of those who speak the truth”. The Prophet (ﷺ) then returned and sent for them and they came (to him). Hilal bin Umayyah stood up and testified and the Prophet (ﷺ) was saying “Allaah knows that one of you is lying. Will one of you repent?” Then the woman got up and testified, but when she was about to do it a fifth time saying that Allaah’s anger be upon her if he was one of those who spoke the truth, they said to her “this is the deciding one”. Ibn ‘Abbas said “She then hesitated and drew back so that we thought the she would withdraw(what she said) “Look and see whether she gives birth to a child with eyes looking as if they have antimony in them, wide buttocks and fat legs, if she did. Sharik bin Sahma’ will be its father. She then gave birth to a child of a similar description. The Prophet (ﷺ) thereupon said “If it were not for what has already been stated in Allaah’s book I would have dealt severely with her.” Abu Dawud said “This tradition has been transmitted by the people of Medina alone. They narrated the tradition of Hilal on the authority of Ibn Bashshar.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ ( زنا کی ) تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ثبوت لاؤ ورنہ پیٹھ پر کوڑے لگیں گے “ ، تو ہلال نے کہا کہ : اللہ کے رسول ! جب ہم میں سے کوئی شخص کسی آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ دیکھے تو وہ گواہ ڈھونڈنے جائے ؟ اس پر بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہی فرمائے جا رہے تھے کہ : ” گواہ لاؤ ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر کوڑے پڑیں گے “ ، تو ہلال نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر بھیجا ہے میں بالکل سچا ہوں اور اللہ تعالیٰ ضرور میرے بارے میں وحی نازل کر کے میری پیٹھ کو حد سے بری کرے گا ، چنانچہ «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم» کی آیت نازل ہوئی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا یہاں تک کہ آپ پڑھتے پڑھتے «من الصادقين» ۱؎ تک پہنچے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پلٹے اور آپ نے ان دونوں کو بلوایا ، وہ دونوں آئے ، پہلے ہلال بن امیہ کھڑے ہوئے اور گواہی دینے لگے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” اللہ خوب جانتا ہے کہ تم میں سے ایک جھوٹا ہے ، تو کیا تم دونوں میں سے کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟ “ پھر عورت کھڑی ہوئی اور گواہی دینے لگی ، پانچویں بار میں جب ان الفاظ کے کہنے کی باری آئی کہ ” اگر وہ سچا ہے تو مجھ پر اللہ کا غضب نازل ہو “ تو لوگ اس سے کہنے لگے : یہ عذاب کو واجب کر دینے والا ہے ۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے : تو وہ ہچکچائی اور ہٹ گئی اور ہمیں یہ گمان ہوا کہ وہ باز آ جائے گی ، لیکن پھر کہنے لگی : ہمیشہ کے لیے میں اپنی قوم پر رسوائی کا داغ نہ لگاؤں گی ( یہ کہہ کر ) اس نے آخری جملہ کو بھی ادا کر دیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” دیکھو اس کا ہونے والا بچہ اگر سرمگیں آنکھوں ، بڑی سرینوں اور موٹی پنڈلیوں والا ہوا تو وہ شریک بن سحماء کا ہے “ ، چنانچہ انہیں صفات کا بچہ پیدا ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر اللہ کی کتاب کا فیصلہ نہ آ گیا ہوتا تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا “ ، یعنی میں اس پر حد جاری کرتا ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 80
Hadith 2255
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَ رَجُلاً حِينَ أَمَرَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَنْ يَتَلاَعَنَا أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عَلَى فِيهِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ يَقُولُ إِنَّهَا مُوجِبَةٌ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

When the Prophet (ﷺ) ordered a man and his wife to invoke curses on each other, he ordered a man to put his hand on his mouth when he came to the fifth utterance, saying that it would be the deciding one.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت دونوں کو لعان کا حکم فرمایا تو ایک شخص کو حکم دیا کہ پانچویں بار میں اپنا ہاتھ مرد کے منہ پر رکھ دے اور کہے : یہ ( عذاب کو ) واجب کرنے والا ہے ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 81
Hadith 2256
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ هِلاَلُ بْنُ أُمَيَّةَ وَهُوَ أَحَدُ الثَّلاَثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ فَجَاءَ مِنْ أَرْضِهِ عَشِيًّا فَوَجَدَ عِنْدَ أَهْلِهِ رَجُلاً فَرَأَى بِعَيْنَيْهِ وَسَمِعَ بِأُذُنَيْهِ فَلَمْ يَهِجْهُ حَتَّى أَصْبَحَ ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي جِئْتُ أَهْلِي عِشَاءً فَوَجَدْتُ عِنْدَهُمْ رَجُلاً فَرَأَيْتُ بِعَيْنِي وَسَمِعْتُ بِأُذُنِي فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَا جَاءَ بِهِ وَاشْتَدَّ عَلَيْهِ فَنَزَلَتْ ‏{‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلاَّ أَنْفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ ‏}‏ الآيَتَيْنِ كِلْتَيْهِمَا فَسُرِّيَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَبْشِرْ يَا هِلاَلُ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ فَرَجًا وَمَخْرَجًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ هِلاَلٌ قَدْ كُنْتُ أَرْجُو ذَلِكَ مِنْ رَبِّي ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرْسِلُوا إِلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَتْ فَتَلاَ عَلَيْهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَذَكَّرَهُمَا وَأَخْبَرَهُمَا أَنَّ عَذَابَ الآخِرَةِ أَشَدُّ مِنْ عَذَابِ الدُّنْيَا فَقَالَ هِلاَلٌ وَاللَّهِ لَقَدْ صَدَقْتُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ قَدْ كَذَبَ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَعِنُوا بَيْنَهُمَا ‏"‏ ‏.‏ فَقِيلَ لِهِلاَلٍ اشْهَدْ ‏.‏ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهُ يَا هِلاَلُ اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكَ الْعَذَابَ ‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ لاَ يُعَذِّبُنِي اللَّهُ عَلَيْهَا كَمَا لَمْ يَجْلِدْنِي عَلَيْهَا ‏.‏ فَشَهِدَ الْخَامِسَةَ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ قِيلَ لَهَا اشْهَدِي ‏.‏ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ فَلَمَّا كَانَتِ الْخَامِسَةُ قِيلَ لَهَا اتَّقِي اللَّهَ فَإِنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْمُوجِبَةُ الَّتِي تُوجِبُ عَلَيْكِ الْعَذَابَ ‏.‏ فَتَلَكَّأَتْ سَاعَةً ثُمَّ قَالَتْ وَاللَّهِ لاَ أَفْضَحُ قَوْمِي فَشَهِدَتِ الْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَقَضَى أَنْ لاَ يُدْعَى وَلَدُهَا لأَبٍ وَلاَ تُرْمَى وَلاَ يُرْمَى وَلَدُهَا وَمَنْ رَمَاهَا أَوْ رَمَى وَلَدَهَا فَعَلَيْهِ الْحَدُّ وَقَضَى أَنْ لاَ بَيْتَ لَهَا عَلَيْهِ وَلاَ قُوتَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُمَا يَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَيْرِ طَلاَقٍ وَلاَ مُتَوَفَّى عَنْهَا وَقَالَ ‏"‏ إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُصَيْهِبَ أُرَيْصِحَ أُثَيْبِجَ حَمْشَ السَّاقَيْنِ فَهُوَ لِهِلاَلٍ وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ فَهُوَ لِلَّذِي رُمِيَتْ بِهِ فَجَاءَتْ بِهِ أَوْرَقَ جَعْدًا جُمَالِيًّا خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ سَابِغَ الأَلْيَتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَوْلاَ الأَيْمَانُ لَكَانَ لِي وَلَهَا شَأْنٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عِكْرِمَةُ فَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَمِيرًا عَلَى مُضَرَ وَمَا يُدْعَى لأَبٍ ‏.‏

Ibn ‘Abbas said “Hilal bin Umayyah was one of the three persons whose repentance was accepted by Allaah. One night he returned from his land and found a man along with his wife. He witnessed with his eyes and heard with his ears. He did not threaten him till the morning.” Next day he went to the Apostle of Allaah(ﷺ) in the morning and said Apostle of Allaah(ﷺ) “I came to my wife in the night and found a man along with her. I saw with my own eyes and heard with my own ears. The Apostle of Allaah(ﷺ) disliked what he described and he took it seriously. There upon the following Qur’anic verse came down “And those who make charges against their spouses but have no witnesses except themselves, let the testimony of one of them ....” When the Apostle of Allaah(ﷺ) came to himself (after the revelation ended) he said “Glad tidings to you Hilal, Allaah the exalted has made ease and a way out for you.” Hilal said “I expected that from my Lord. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Send for her. She then came.” The Apostle of Allaah(ﷺ) recited the verses to them and he reminded them and told them that the punishment in the next world was more severe than that in n this world. Hilal said “I swear by Allah I spoke the truth against her.” She said “He told a lie.” The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Apply the method of invoking curses on one another. Hilal was told “Bear witness. So he bore witness before Allaah four times that he spoke the truth.” When he was about to utter the fifth time he was told “Hilal fear Allah, for the punishment in this world is easier than that in the next world and this is the deciding one, that will surely cause punishment to you.” He said “I swear by Allaah. Allah will not punish me for this (act), as He did not cause me to be flogged for this (act).” So he bore witness a fifth time invoking the curse of Allah on him if he was of those who tell a lie. Then the people said to her, Testify. So she gave testimony before Allaah that he was a liar. When she was going to testify the fifth time she was told “Fear Allah, for the punishment in this world is easier than that in the next world. This is the deciding one that will surely cause punishment to you.” She hesitated for a moment. And then said “By Allah, I will not disgrace my people.” So she testified a fifth time invoking the curse of Allah on her if he spoke the truth. Apostle of Allaah(ﷺ) separated them from each other and decided that the child will not be attributed to its father. Neither she nor her child will be accused of adultery. He who accuses her or her child will be liable to punishment. He also decided that there will be no dwelling and maintenance for her (from the husband) as they were separated without divorce and death. He then said “If she gives birth to a child with reddish hair, light buttocks, wide belly and light shins he will be the child of Hilal. If she bears a dusky child with curly hair, fat limbs, fat shins and fat buttocks he will be the child of the one who was accused of adultery. She gave birth to a child with curly hair, fat limbs, fat shins and fat buttocks. The Apostle of Allaah(ﷺ) said “Had there been no oaths, I would have dealt with her severely.” ‘Ikrimah said “Later on he became the chief of the tribe of Mudar. He was not attributed to his father.”

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ( جو کہ ان تین اشخاص میں سے ایک تھے جن کی اللہ تعالیٰ نے ( ایک غزوہ میں پچھڑ جانے کی وجہ سے سرزنش کے بعد ) توبہ قبول فرمائی تھی ، وہ ) اپنی زمین سے رات کو آئے تو اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا ، اپنی آنکھوں سے سارا منظر دیکھا ، اور کانوں سے پوری گفتگو سنی ، لیکن صبح تک اس معاملہ کو دبا کر رکھا ، صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! رات کو میں گھر آیا تو اپنی بیوی کے پاس ایک مرد کو پایا ، اپنی آنکھوں سے ( سب کچھ ) دیکھا ، اور کانوں سے ( سب ) سنا ، ان کی ان باتوں کو آپ نے ناپسند کیا اور ان پر ناگواری کا اظہار فرمایا ، تو یہ دونوں آیتیں نازل ہوئیں «والذين يرمون أزواجهم ولم يكن لهم شهداء إلا أنفسهم فشهادة أحدهم» ” اور جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں اور ان کے پاس کوئی گواہ بجز ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کا ثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وہ سچوں میں سے ہیں اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وہ جھوٹوں میں سے ہو “ ( سورۃ النور : ۷ ، ۶ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب وحی کی کیفیت دور ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” ہلال ! خوش ہو جاؤ ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کشادگی کا راستہ نکال دیا ہے “ ، ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا : مجھے اپنے پروردگار سے اسی کی امید تھی ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے بلواؤ “ ، تو وہ آئی تو آپ نے دونوں پر یہ آیتیں تلاوت فرمائیں ، اور نصیحت کی نیز بتایا کہ : ” آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے “ ۔ ہلال رضی اللہ عنہ نے کہا : قسم اللہ کی میں نے اس کے متعلق جو کہا ہے سچ کہا ہے ، وہ کہنے لگی : یہ جھوٹے ہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کے درمیان لعان کراؤ “ ، چنانچہ ہلال رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ گواہی دیں تو انہوں نے چار بار اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ سچے ہیں ، پانچویں کے وقت کہا گیا : ہلال ! اللہ سے ڈرو کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے ، اور اس بار کی گواہی تمہارے لیے عذاب کو واجب کر دے گی ، وہ بولے : اللہ کی قسم ! جس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے کوڑوں سے بچایا ہے اسی طرح عذاب سے بھی بچائے گا ، چنانچہ پانچویں گواہی بھی دے دی کہ اگر وہ جھوٹے ہوں تو ان پر اللہ کی لعنت ہو ۔ پھر عورت سے گواہی دینے کے لیے کہا گیا ، تو اس نے بھی چار بار گواہی دی کہ وہ جھوٹے ہیں ، پانچویں بار اس سے بھی کہا گیا کہ اللہ سے ڈر جا کیونکہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب کے مقابلے میں بہت آسان ہے ، اور اس دفعہ کی گواہی عذاب کو واجب کر دے گی ، یہ سن کر وہ ایک لمحہ کے لیے ہچکچائی پھر بولی : اللہ کی قسم میں اپنی قوم کو رسوا نہ کروں گی ، چنانچہ پانچویں بار بھی گواہی دے دی کہ اگر وہ سچے ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان تفریق کرا دی ، اور فیصلہ فرمایا کہ اس کا لڑکا باپ کی طرف نہ منسوب کیا جائے ، اور لڑکے اور عورت کو تہمت نہ لگائی جائے جو اس پر یا اس کے لڑکے پر اب تہمت لگائے گا تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ اسے نان نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی ، کیونکہ ان کی جدائی نہ تو طلاق کی بنا پر ہوئی ہے اور نہ شوہر کے انتقال کی وجہ سے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر وہ بھورے بالوں والا ، پتلی سرین والا ، چوڑی پیٹھ والا اور پتلی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو وہ ہلال کا ( نطفہ ) ہے ، اور اگر مٹیالے رنگ والا ، گھنگرالے بالوں والا ، موٹی پنڈلیوں والا ، اور بھاری سرین والا جنے تو اس کا جس کے نام کی تہمت لگائی گئی ہے “ ، چنانچہ اس عورت کا بچہ مٹیالے رنگ کا گھنگرالے بالوں والا ، موٹی پنڈلیوں والا اور بھاری سرین والا پیدا ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر قسمیں نہ ہوتیں تو میرا اور اس کا معاملہ کچھ اور ہوتا “ ۔ عکرمہ کہتے ہیں : یہی بچہ آگے چل کر مضر کا امیر بنا ، اسے باپ کی جانب منسوب نہیں کیا جاتا تھا ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 82
Hadith 2257
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏"‏ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي ‏.‏ قَالَ ‏"‏ لاَ مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهُوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَلِكَ أَبْعَدُ لَكَ ‏"‏ ‏.‏

Ibn ‘Umar said “The Apostle of Allaah(ﷺ) said to the spouses who invoked curses on each other. Your reckoning is in Allaah’s hands for one of you is liar there is no way for you to (remarry) her. He then asked Apostle of Allaah(ﷺ) what about my property? He replied “There is no property for you. If you have spoken the truth, it is the price for your having had the right to intercourse with her and if you have lied against her it is still more remote for you.

سعید بن جبیر کہتے ہیں : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں لعان کرنے والوں سے فرمایا : ” تم دونوں کا حساب اللہ پر ہے ، تم میں سے ایک تو جھوٹا ہے ہی ( مرد سے فرمایا ) اب تجھے اس پر کچھ اختیار نہیں “ ، اس پر اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے مال کا کیا ہو گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کوئی مال نہیں ، اگر تم اس پر تہمت لگانے میں سچے ہو تو مال کے بدلے اس کی شرمگاہ حلال کر چکے ہو اور اگر تم نے اس پر جھوٹ بولا ہے تب تو کسی طرح بھی تم مال کے مستحق نہیں “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 83
Hadith 2258
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ قُلْتُ لاِبْنِ عُمَرَ رَجُلٌ قَذَفَ امْرَأَتَهُ ‏.‏ قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ ‏.‏ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ ‏"‏ ‏.‏ يُرَدِّدُهَا ثَلاَثَ مَرَّاتٍ فَأَبَيَا فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا ‏.‏

Sa’d bin Jubair said I asked Ibn ‘Umar A man accused his wife of adultery? He said “The Apostle of Allaah(ﷺ) separated the brother and the sister of Banu Al ‘Ajilan (i.e., husband and wife). He said Allaah knows that one of you is a liar, will one of you repent? He repeated these words three times, but they refused. So he separated them from each other.

سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جو کہا کہ

ایک شخص اپنی عورت کو تہمت لگائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو عجلان کے دونوں بھائی بہنوں ۱؎ کو ( اس صورت میں ) جدا کرا دیا تھا اور فرمایا تھا : ” اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم میں ایک ضرور جھوٹا ہے ، تو کیا تم دونوں میں کوئی توبہ کرنے والا ہے ؟ “ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ کو تین بار دہرایا لیکن ان دونوں نے انکار کیا تو آپ نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 84
Hadith 2259
Chapter 743: Regarding Li'an (Mutual Cursing) - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَانْتَفَى مِنْ وَلَدِهَا فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مَالِكٌ قَوْلُهُ ‏ "‏ وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْأَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ فِي حَدِيثِ اللِّعَانِ وَأَنْكَرَ حَمْلَهَا فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَيْهَا ‏.‏

Ibn ‘Umar said A man invoked curses on his wife (charging her of adultery) during the time of Apostle of Allaah(ﷺ) and disowned the child. The Apostle of Allaah(ﷺ) therefore separated them and attributed the child to the woman. Abu Dawud said “The words narrated by Malik alone are “and he attributed the child to the woman.”" Abu Dawud said:

The words narrated by Malik alone are: "and he attributed the child to the woman." Yunus narrated from Al Zuhri on the authority of Sahl bin Sa’d in the tradition regarding li’an(invoking curses). He disowned her conception hence her child was attributed to her.

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص نے اپنی عورت سے لعان کیا اور اس کے بچے کا باپ ہونے سے انکار کر دیا چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان علیحدگی کرا دی ، اور بچے کو عورت سے ملا دیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جس کی روایت میں مالک منفرد ہیں وہ «وألحق الولد بالمرأة» کا جملہ ہے ، اور یونس نے زہری سے انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے لعان کی حدیث روایت کی ہے اس میں ہے : اس نے اس کے حمل کا انکار کیا تو اس ( عورت ) کا بیٹا اسی ( عورت ) کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 85
Hadith 2260
Chapter 744: Doubting The Child's Paternity - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ بَنِي فَزَارَةَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ فَقَالَ ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا أَلْوَانُهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ حُمْرٌ قَالَ ‏"‏ فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَّى تُرَاهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏"‏ ‏.‏

Abu Hurairah said A man from Banu Fazarah came to the Prophet (ﷺ) and said “My wife has given birth to a black son”. He said “Have you any camels?” He said “They are red”. He asked “Is there a dusky one among them?” He replied “Some of them are dusky”. He asked “How do you think they have come about?” He replied “This may be a strain to which they reverted”. He said “And this is perhaps a strain to which the child has reverted.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی فزارہ کا ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میری عورت نے ایک کالا بچہ جنا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ “ اس نے جواب دیا : ہاں ، پوچھا : ” کون سے رنگ کے ہیں ؟ “ جواب دیا : سرخ ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا کوئی خاکستری بھی ہے ؟ “ جواب دیا : ہاں ، خاکی رنگ کا بھی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” پھر یہ کہاں سے آ گیا ؟ “ ، بولا : شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہاں بھی ہو سکتا ہے ( تمہارے لڑکے میں بھی ) کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 86
Hadith 2261
Chapter 744: Doubting The Child's Paternity - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ وَهُوَ حِينَئِذٍ يُعَرِّضُ بِأَنْ يَنْفِيَهُ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been narrated by Al Zuhri through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “At that time he was hinting at disowning the child.”

اس سند سے بھی زہری سے اسی مفہوم کی حدیث مروی ہے

لیکن اس میں یہ ہے کہ یہ کہہ کر اس کا مقصد اپنے سے بچہ کی نفی کرنی تھی ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 87
Hadith 2262
Chapter 744: Doubting The Child's Paternity - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ وَإِنِّي أُنْكِرُهُ ‏.‏ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

A bedouin came to the Prophet (ﷺ), and said: My wife has given birth to a black son, and I disown him. He then narrated the rest of the tradition to the same effect.

اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : میری عورت نے ایک کالا لڑکا جنا ہے اور میں اس کا انکار کرتا ہوں ، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث بیان کی ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 88
Hadith 2263
Chapter 745: Severe Reprimand Regarding Negating One's Child - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ حِينَ نَزَلَتْ آيَةُ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏ "‏ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَدْخَلَتْ عَلَى قَوْمٍ مَنْ لَيْسَ مِنْهُمْ فَلَيْسَتْ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ وَلَنْ يُدْخِلَهَا اللَّهُ جَنَّتَهُ وَأَيُّمَا رَجُلٍ جَحَدَ وَلَدَهُ وَهُوَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ احْتَجَبَ اللَّهُ مِنْهُ وَفَضَحَهُ عَلَى رُءُوسِ الأَوَّلِينَ وَالآخِرِينَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuHurayrah:

AbuHurayrah heard the Messenger of Allah (ﷺ) say when the verse about invoking curses came down: Any woman who brings to her family one who does not belong to it has nothing to do with Allah (i.e. expects no mercy from Allah), and Allah will not bring her into His Paradise. Allah, the Exalted, will veil Himself from any man who disowns his child when he looks at him, and disgrace him in the presence of all creatures, first and last.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

جس وقت آیت لعان نازل ہوئی انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس عورت نے کسی قوم میں ایسے فرد کو شامل کر دیا جو حقیقت میں اس قوم کا فرد نہیں ہے ، تو وہ اللہ کی رحمت سے دور رہے گی ، اسے اللہ تعالیٰ جنت میں ہرگز داخل نہ کرے گا ، اسی طرح جس شخص نے اپنے بچے کا انکار کیا حالانکہ اسے معلوم ہے کہ وہ اس کا بچہ ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب نہ ہو گا ، اور وہ اگلی پچھلی ساری مخلوق کے سامنے اسے رسوا کرے گا ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 89
Hadith 2264
Chapter 746: Claiming An Illegitimate Son - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ سَلْمٍ، - يَعْنِي ابْنَ أَبِي الذَّيَّالِ - حَدَّثَنِي بَعْضُ، أَصْحَابِنَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ مُسَاعَاةَ فِي الإِسْلاَمِ مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ لَحِقَ بِعَصَبَتِهِ وَمَنِ ادَّعَى وَلَدًا مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلاَ يَرِثُ وَلاَ يُورَثُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Prophet (ﷺ) said: There is no prostitution in Islam. If anyone practised prostitution in pre-Islamic times, the child will be attributed to the master (of the slave-woman). He who claims his child without a valid marriage or ownership will neither inherit nor be inherited.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں اجرت پر بدکاری اور زنا نہیں ہے ، جس نے زمانہ جاہلیت میں بدکاری اور زنا سے کمائی کی ، تو زنا سے پیدا ہونے والا بچہ اپنے عصبہ ( مالک ) سے مل جائے گا اور جس نے بغیر نکاح یا ملک کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو نہ تو ( بچہ ) اس کا وارث ہو گا اور نہ وہ بچے کا “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 90
Hadith 2265
Chapter 746: Claiming An Illegitimate Son - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، - وَهُوَ أَشْبَعُ - عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ كُلَّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ فَقَضَى أَنَّ كُلَّ مَنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ أَصَابَهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنِ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ شَىْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلاَ يُلْحَقُ إِذَا كَانَ أَبُوهُ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَمْ يَمْلِكْهَا أَوْ مِنْ حُرَّةٍ عَاهَرَ بِهَا فَإِنَّهُ لاَ يُلْحَقُ بِهِ وَلاَ يَرِثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ فَهُوَ وَلَدُ زِنْيَةٍ مِنْ حُرَّةٍ كَانَ أَوْ أَمَةٍ ‏.‏

'Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather reported:

The Prophet (ﷺ) decided regarding one who was treated as a member of a family after the death of his father, to whom he was attributed when the heirs said he was one of them, that if he was the child of a slave-woman whom the father owned when he had intercourse with her, he was included among those who sought his inclusion, but received none of the inheritance which was previously divided; he, however, received his portion of the inheritance which had not already been divided; but if the father to whom he was attributed had disowned him, he was not joined to the heirs. If he was a child of a slave-woman whom the father did not possess or of a free woman with whom he had illicit intercourse, he was not joined to the heirs and did not inherit even if the one to whom he was attributed is the one who claimed paternity, since he was a child of fornication whether his mother was free or a slave.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ جس لڑکے کو اس کے باپ کے مرنے کے بعد اس باپ سے ملایا جائے جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اور باپ کے وارث اسے اپنے سے ملانے کا دعویٰ کریں تو اگر اس کی پیدائش ایسی لونڈی سے ہوئی ہے جو صحبت کے دن اس کے ملکیت میں رہی ہو تو ملانے والے سے اس کا نسب مل جائے گا اور جو ترکہ اس کے ملائے جانے سے پہلے تقسیم ہو گیا ہے اس میں اس کو حصہ نہ ملے گا ، البتہ جو ترکہ تقسیم نہیں ہوا ہے اس میں اسے حصہ دیا جائے گا ، لیکن جس باپ سے اس کا نسب ملایا جاتا ہے اس نے ( اپنی زندگی میں اس کے بیٹا ہونے سے ) انکار کیا ہو تو وارثوں کے ملانے سے وہ نہیں ملے گا ، اگر وہ لڑکا ایسی لونڈی سے ہو جس کا مالک اس کا باپ نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس کے باپ نے زنا کیا تو اس کا نسب نہ ملے گا اور نہ اس کا وارث ہو گا گرچہ جس کے نام سے اسے پکارا جاتا ہے اسی نے ( اپنی زندگی میں ) اس کے بیٹا ہونے کا دعویٰ کیا ہو کیونکہ وہ زنا کی اولاد ہے آزاد عورت سے ہو یا لونڈی سے ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 91
Hadith 2266
Chapter 746: Claiming An Illegitimate Son - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ زَادَ وَهُوَ وَلَدُ زِنًا لأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً وَذَلِكَ فِيمَا اسْتُلْحِقَ فِي أَوَّلِ الإِسْلاَمِ فَمَا اقْتُسِمَ مِنْ مَالٍ قَبْلَ الإِسْلاَمِ فَقَدْ مَضَى ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by Muhammad bin Rashid through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “he is the child of fornication for the people of his mother whether she was free or a slave. This attribution of a child to the parents was practiced in the beginning of Islam. The property divided before Islam will not be taken into account.

اس سند سے بھی محمد بن راشد سے اسی مفہوم کی روایت منقول ہے

لیکن اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ ولد الزنا ہے اور اپنی ماں کے خاندان سے ملے گا چاہے وہ آزاد ہوں یا غلام ، یہ شروع اسلام میں پیش آمدہ معاملہ کا حکم ہے ، رہا جو مال قبل از اسلام تقسیم ہو چکا اس سے کچھ سروکار نہیں ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 92
Hadith 2267
Chapter 747: Regarding Al-Qafah - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - الْمَعْنَى - وَابْنُ السَّرْحِ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ مُسَدَّدٌ وَابْنُ السَّرْحِ يَوْمًا مَسْرُورًا وَقَالَ عُثْمَانُ يُعْرَفُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَىْ عَائِشَةُ أَلَمْ تَرَىْ أَنَّ مُجَزِّزًا الْمُدْلِجِيَّ رَأَى زَيْدًا وَأُسَامَةَ قَدْ غَطَّيَا رُءُوسَهُمَا بِقَطِيفَةٍ وَبَدَتْ أَقْدَامُهُمَا فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon me. The version of Musaddad and Ibn as-Sarh has: one day looking pleased". The version of Uthman has: "The lines of his forehead were realised." He said: O Aisha, are you not surprised to hear that Mujazziz al-Mudlaji saw that Zayd and Usamah had a rug over them concerning their heads and letting their feet appear. He said: These feet are related. Abu Dawud: Usamah was black and Zaid was white.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ( مسدد اور ابن سرح کی روایت میں ہے ) ایک دن خوش و خرم تشریف لائے ( اور عثمان کی روایت میں ہے آپ کے چہرے پر خوشی کی لکیریں ۱؎ محسوس کی جا رہی تھیں ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عائشہ ! کیا تو نے دیکھا نہیں کہ مجزز مدلجی نے زید بن حارثہ اور اسامہ بن زید کو اس حال میں دیکھا کہ وہ دونوں اپنے سر چادر سے ڈھانکے ہوئے تھے اور پیر کھلے ہوئے تھے تو کہا کہ یہ پاؤں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسامہ کالے تھے اور زید گورے تھے ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 93
Hadith 2268
Chapter 747: Regarding Al-Qafah - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ قَالَ قَالَتْ دَخَلَ عَلَىَّ مَسْرُورًا تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَأَسَارِيرُ وَجْهِهِ ‏.‏ لَمْ يَحْفَظْهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ هُوَ تَدْلِيسٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ لَمْ يَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ إِنَّمَا سَمِعَ الأَسَارِيرَ مِنْ غَيْرِ الزُّهْرِيِّ ‏.‏ قَالَ وَالأَسَارِيرُ مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ وَغَيْرِهِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَسَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ صَالِحٍ يَقُولُ كَانَ أُسَامَةُ أَسْوَدَ شَدِيدَ السَّوَادِ مِثْلَ الْقَارِ وَكَانَ زَيْدٌ أَبْيَضَ مِثْلَ الْقُطْنِ ‏.‏

The tradition mentioned above has also been transmitted by ibn Shihab through a different chain of narrators to the same effect. This version adds “She said “he entered upon me looking pleased with the lines of his face brightened. Abu Dawud said “Ibn ‘Uyainah did not remember the words “the lines of his face”.” Abu Dawud said “The words “the lines of his face” have been narrated by Ibn ‘Uyainah himself. He did not hear Al Zuhri say (these words). He heard some person other than Al Zuhri say these words. The words “the lines of his face” occur in the tradition narrated by Al Laith and others. Abu Dawud said “ I heard Ahmad bin Salih say “Usamah was very black like tar and Zaid was white like cotton.”

اس سند سے بھی زہری نے اسی طریق سے اسی مفہوم کی روایت بیان کی ہے اس میں ہے کہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے آپ کے چہرے کی لکیریں چمک رہی تھیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «أسارير وجهه» کے الفاظ کو ابن عیینہ یاد نہیں رکھ سکے ، ابوداؤد کہتے ہیں : «أسارير وجهه» ابن عیینہ کی جانب سے تدلیس ہے انہوں نے اسے زہری سے نہیں سنا ہے انہوں نے «أسارير وجهه» کے بجائے «لأسارير من غير» کے الفاظ سنے ہیں اور «أسارير» کا ذکر لیث وغیرہ کی حدیث میں ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن صالح کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اسامہ رضی اللہ عنہ تارکول کی طرح بہت زیادہ کالے تھے ۱؎ اور زید رضی اللہ عنہ روئی کی طرح سفید ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 94
Hadith 2269
Chapter 748: Those Who Said That Lots Should Be Drawn If They Differ About The Child - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ الأَجْلَحِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْخَلِيلِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَجَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَمَنِ فَقَالَ إِنَّ ثَلاَثَةَ نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ أَتَوْا عَلِيًّا يَخْتَصِمُونَ إِلَيْهِ فِي وَلَدٍ وَقَدْ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَقَالَ لاِثْنَيْنِ مِنْهُمَا طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا ‏.‏ فَغَلَيَا ثُمَّ قَالَ لاِثْنَيْنِ طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا ‏.‏ فَغَلَبَا ثُمَّ قَالَ لاِثْنَيْنِ طِيبَا بِالْوَلَدِ لِهَذَا ‏.‏ فَغَلَبَا فَقَالَ أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَمَنْ قُرِعَ فَلَهُ الْوَلَدُ وَعَلَيْهِ لِصَاحِبَيْهِ ثُلُثَا الدِّيَةِ ‏.‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلَهُ لِمَنْ قُرِعَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ أَضْرَاسُهُ أَوْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏

Narrated Zayd ibn Arqam:

I was sitting with the Prophet (ﷺ). A man came from the Yemen, and said: Three men from the people of the Yemen came to Ali, quarrelling about a child, asking him to give a decision. They had had sexual intercourse with a woman during a single state of purity. He said to two of them: Give this child to this man (the third person) with pleasure. But they (refused and) cried loudly. Again he said to two of them: Give the child to the man (the third person) willingly. But they (refused and) cried loudly. He then said: You are quarrelsome partners. I shall cast lots among you; he who receives the lot, will acquire the child, and he shall pay two-thirds of the blood-money to both his companions. He then cast lots among them, and gave the child to the one who received the lot. The Messenger of Allah (ﷺ) laughed so much that his canine or molar teeth appeared.

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں یمن کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اہل یمن میں سے تین آدمی علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک لڑکے کے لیے جھگڑتے ہوئے آئے ، ان تینوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر ( پاکی ) میں جماع کیا تھا ، تو علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے دو سے کہا کہ تم دونوں خوشی سے یہ لڑکا اسے ( تیسرے کو ) دے دو ، یہ سن کر وہ دونوں بھڑک گئے ، پھر دو سے یہی بات کہی ، وہ بھی بھڑک اٹھے ، پھر دو سے اسی طرح گفتگو کی لیکن وہ بھی بھڑک اٹھے ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ : ” تم تو باہم ضد کرنے والے ساجھی دار ہو لہٰذا میں تمہارے درمیان قرعہ اندازی کرتا ہوں ، جس کے نام کا قرعہ نکلے گا ، لڑکا اسی کو ملے گا اور وہ اپنے ساتھیوں کو ایک ایک تہائی دیت ادا کرے گا “ ، آپ نے قرعہ ڈالا اور جس کا نام نکلا اس کو لڑکا دے دیا ، یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے یہاں تک کہ آپ کی ڈاڑھیں یا کچلیاں نظر آنے لگیں ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 95
Hadith 2270
Chapter 748: Those Who Said That Lots Should Be Drawn If They Differ About The Child - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ صَالِحٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ - رضى الله عنه - بِثَلاَثَةٍ وَهُوَ بِالْيَمَنِ وَقَعُوا عَلَى امْرَأَةٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ قَالاَ لاَ ‏.‏ حَتَّى سَأَلَهُمْ جَمِيعًا فَجَعَلَ كُلَّمَا سَأَلَ اثْنَيْنِ قَالاَ لاَ ‏.‏ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالَّذِي صَارَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَىِ الدِّيَةِ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ‏.‏

Narrated Zayd ibn Arqam:

Three persons were brought to Ali (Allah be pleased with him) when he was in the Yemen. They and sexual intercourse with a woman during a single state of purity. He asked two of them: Do you acknowledge this child for this (man)? They replied: No. He then put this (question) to all of them. Whenever he asked two of them, they replied in the negative. He, therefore, cast a lot among them, and attributed the child to the one who received the lot. He imposed two-third of the blood-money (i.e. the price of the mother) on him. This was then mentioned to the Prophet (ﷺ) and he laughed so much that his molar teeth appeared.

زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

علی رضی اللہ عنہ کے پاس یمن میں تین آدمی ( ایک لڑکے کے لیے جھگڑا لے کر ) آئے جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی طہر میں صحبت کی تھی ، تو آپ نے ان میں سے دو سے پوچھا : کیا تم دونوں یہ لڑکا اسے ( تیسرے کو ) دے سکتے ہو ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، اس طرح آپ نے سب سے دریافت کیا ، اور سب نے نفی میں جواب دیا ، چنانچہ ان کے درمیان قرعہ اندازی کی ، اور جس کا نام نکلا اسی کو لڑکا دے دیا ، نیز اس کے ذمہ ( دونوں ساتھیوں کے لیے ) دو تہائی دیت مقرر فرمائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب اس کا تذکرہ آیا تو آپ ہنسے یہاں تک کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہو گئیں ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 96
Hadith 2271
Chapter 748: Those Who Said That Lots Should Be Drawn If They Differ About The Child - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ، سَمِعَ الشَّعْبِيَّ، عَنِ الْخَلِيلِ، أَوِ ابْنِ الْخَلِيلِ قَالَ أُتِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رضى الله عنه - فِي امْرَأَةٍ وَلَدَتْ مِنْ ثَلاَثٍ نَحْوَهُ لَمْ يَذْكُرِ الْيَمَنَ وَلاَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَلاَ قَوْلَهُ طِيبَا بِالْوَلَدِ ‏.‏

Khalil or Ibn Khalil said “A woman was brought to Ali bin Abi Talib(may Allaah be pleased with him). She bore a child from intercourse of three persons. The narrator transmitted the rest of the tradition similar to the previous one. But in this version he did not mention “Yemen” and the Prophet (ﷺ) and his words “give the child willingly.”

خلیل یا ابن خلیل کہتے ہیں کہ

علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت کا مقدمہ لایا گیا جس نے تین آدمیوں سے صحبت کے بعد ایک لڑکا جنا تھا ، آگے اسی طرح کی روایت ہے اس میں نہ تو انہوں نے یمن کا ذکر کیا ہے ، نہ ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ، اور نہ ( علی رضی اللہ عنہ کے ) اس قول کا کہ خوشی سے تم دونوں لڑکے کو اسے ( تیسرے کو ) دے دو ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 97
Hadith 2272
Chapter 749: Regarding The Types Of Marriages That Were Practiced Before Islam - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، - رضى الله عنها - زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النِّكَاحَ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَنْحَاءٍ فَنِكَاحٌ مِنْهَا نِكَاحُ النَّاسِ الْيَوْمَ يَخْطُبُ الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَلِيَّتَهُ فَيُصْدِقُهَا ثُمَّ يَنْكِحُهَا وَنِكَاحٌ آخَرُ كَانَ الرَّجُلُ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ إِذَا طَهُرَتْ مِنْ طَمْثِهَا أَرْسِلِي إِلَى فُلاَنٍ فَاسْتَبْضِعِي مِنْهُ وَيَعْتَزِلُهَا زَوْجُهَا وَلاَ يَمَسُّهَا أَبَدًا حَتَّى يَتَبَيَّنَ حَمْلُهَا مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي تَسْتَبْضِعُ مِنْهُ فَإِذَا تَبَيَّنَ حَمْلُهَا أَصَابَهَا زَوْجُهَا إِنْ أَحَبَّ وَإِنَّمَا يَفْعَلُ ذَلِكَ رَغْبَةً فِي نَجَابَةِ الْوَلَدِ فَكَانَ هَذَا النِّكَاحُ يُسَمَّى نِكَاحَ الاِسْتِبْضَاعِ وَنِكَاحٌ آخَرُ يَجْتَمِعُ الرَّهْطُ دُونَ الْعَشَرَةِ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ كُلُّهُمْ يُصِيبُهَا فَإِذَا حَمَلَتْ وَوَضَعَتْ وَمَرَّ لَيَالٍ بَعْدَ أَنْ تَضَعَ حَمْلَهَا أَرْسَلَتْ إِلَيْهِمْ فَلَمْ يَسْتَطِعْ رَجُلٌ مِنْهُمْ أَنْ يَمْتَنِعَ حَتَّى يَجْتَمِعُوا عِنْدَهَا فَتَقُولُ لَهُمْ قَدْ عَرَفْتُمُ الَّذِي كَانَ مِنْ أَمْرِكُمْ وَقَدْ وَلَدْتُ وَهُوَ ابْنُكَ يَا فُلاَنُ فَتُسَمِّي مَنْ أَحَبَّتْ مِنْهُمْ بِاسْمِهِ فَيُلْحَقُ بِهِ وَلَدُهَا وَنِكَاحٌ رَابِعٌ يَجْتَمِعُ النَّاسُ الْكَثِيرُ فَيَدْخُلُونَ عَلَى الْمَرْأَةِ لاَ تَمْتَنِعُ مِمَّنْ جَاءَهَا وَهُنَّ الْبَغَايَا كُنَّ يَنْصِبْنَ عَلَى أَبْوَابِهِنَّ رَايَاتٍ يَكُنَّ عَلَمًا لِمَنْ أَرَادَهُنَّ دَخَلَ عَلَيْهِنَّ فَإِذَا حَمَلَتْ فَوَضَعَتْ حَمْلَهَا جُمِعُوا لَهَا وَدَعَوْا لَهُمُ الْقَافَةَ ثُمَّ أَلْحَقُوا وَلَدَهَا بِالَّذِي يَرَوْنَ فَالْتَاطَهُ وَدُعِيَ ابْنَهُ لاَ يَمْتَنِعُ مِنْ ذَلِكَ فَلَمَّا بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم هَدَمَ نِكَاحَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ كُلَّهُ إِلاَّ نِكَاحَ أَهْلِ الإِسْلاَمِ الْيَوْمَ ‏.‏

A’ishah wife of the Prophet (ﷺ) said “Marriage in pre Islamic times was of four kinds.” One of them was the marriage contracted by the people today. A man asked another man to marry his relative (sister or daughter) to him. He fixed the dower and married her to him. Another kind of marriage was that a man asked his wife when she became pure from menstruation to send fro so and so and have sexual intercourse with him. Her husband kept himself aloof and did not have intercourse with her till It became apparent that she was pregnant from the man who had intercourse with her. When it was manifest that she was pregnant, her husband approached her if he liked. This marriage was called istibda’(to utilize man for intercourse for a noble birth). A third kind of marriage was that a group of people less than ten in number entered upon a woman and had intercourse with her. When she conceived gave birth to a child and a number of days passed after her delivery, she sent for them. No one of them could refuse to attend and they gathered before her. She said to them “You have realized your affair. I have now given birth to a child. And this is your son. O so and so. She called the name of anyone of them she liked and the child was attributed to him. A fourth kind of marriage was that many people gathered together and entered upon a woman who did not prevent anyone who came to her. They were prostitutes. They hoisted flags at their doors which served as a sign for the one who intended to enter upon them. When she became pregnant and delivered the child , they got together before her and called for the experts of tracing relationship from physical features. They attributed the child to whom they considered and it was given to him. The child was called his son and he could not deny. When Allah sent Muhammad (ﷺ) as a Prophet, he abolished all kinds of marriages prevalent among the people of the pre Islamic times except of the Muslims practiced today.

محمد بن مسلم بن شہاب کہتے ہیں کہ عروہ بن زبیر نے مجھے خبر دی ہے کہ

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ زمانہ جاہلیت میں چار قسم کے نکاح ہوتے تھے : ایک تو ایسے ہی جیسے اس زمانے میں ہوتا ہے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے پاس اس کی بہن یا بیٹی وغیرہ کے لیے نکاح کا پیغام دیتا ہے وہ مہر ادا کرتا ہے اور نکاح کر لیتا ہے ۔ نکاح کی دوسری قسم یہ تھی کہ آدمی اپنی بیوی سے حیض سے پاک ہونے کے بعد کہہ دیتا کہ فلاں شخص کو بلوا لے ، اور اس کا نطفہ حاصل کر لے پھر وہ شخص تب تک اپنی بیوی سے صحبت نہ کرتا جب تک کہ مطلوبہ شخص سے حمل نہ قرار پا جاتا ، حمل ظاہر ہونے کے بعد ہی وہ چاہتا تو اس سے جماع کرتا ، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ لڑکا نجیب ( عمدہ نسب کا ) ہو ، اس نکاح کو نکاح استبضاع ( نطفہ حاصل کرنے کا نکاح ) کہا جاتا تھا ۔ نکاح کی تیسری قسم یہ تھی کہ نو افراد تک کا ایک گروہ بن جاتا پھر وہ سب اس سے صحبت کرتے رہتے ، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچے کی ولادت ہوتی تو ولادت کے کچھ دن بعد وہ عورت ان سب لوگوں کو بلوا لیتی ، کوئی آنے سے انکار نہ کرتا ، جب سب جمع ہو جاتے تو کہتی : تمہیں اپنا حال معلوم ہی ہے ، اور میں نے بچہ جنا ہے ، پھر وہ جسے چاہتی اس کا نام لے کر کہتی کہ اے فلاں ! یہ تیرا بچہ ہے ، اور اس بچے کو اس کے ساتھ ملا دیا جاتا ۔ نکاح کی چوتھی قسم یہ تھی کہ بہت سے لوگ جمع ہو جاتے اور ایک عورت سے صحبت کرتے ، وہ کسی بھی آنے والے کو منع نہ کرتی ، یہ بدکار عورتیں ہوتیں ، ان کے دروازوں پر بطور نشانی جھنڈے لگے ہوتے ، جو شخص بھی چاہتا ان سے صحبت کرتا ، جب وہ حاملہ ہو جاتی اور بچہ جن دیتی تو سب جمع ہو جاتے ، اور قیافہ شناس کو بلاتے ، وہ جس کا بھی نام لیتا اس کے ساتھ ملا دیا جاتا ، وہ بچہ اس کا ہو جاتا اور وہ کچھ نہ کہہ پاتا ، تو جب اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا تو زمانہ جاہلیت کے سارے نکاحوں کو باطل قرار دے دیا سوائے اہل اسلام کے نکاح کے جو آج رائج ہے ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 98
Hadith 2273
Chapter 750: "The Child Belongs To The Bed" - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، اخْتَصَمَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ وَعَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَقَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِي أَخِي عُتْبَةُ إِذَا قَدِمْتُ مَكَّةَ أَنْ أَنْظُرَ إِلَى ابْنِ أَمَةِ زَمْعَةَ فَأَقْبِضَهُ فَإِنَّهُ ابْنُهُ ‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ أَخِي ابْنُ أَمَةِ أَبِي وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي ‏.‏ فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَبَهًا بَيِّنًا بِعُتْبَةَ فَقَالَ ‏"‏ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ ‏"‏ ‏.‏ زَادَ مُسَدَّدٌ فِي حَدِيثِهِ وَقَالَ ‏"‏ هُوَ أَخُوكَ يَا عَبْدُ ‏"‏ ‏.‏ ‏.‏

A’ishah said “Sa’d bin Abi Waqqas and ‘Abd bin Zamah disputed amongst themselves about the (relationship of the) son of the slave girl of Zam’ah and brought the case to the Apostle of Allaah(ﷺ). Sa’d said “My brother ‘Utbah enjoined me that when I came to Makkah I should see the son of the slave girl of Zam’ah and take his possession for that is his son”. ‘Abd bin Zam’ah said “He is my brother, the son of my father’s slave girl having been born on my father’s bed”. The Apostle of Allaah(ﷺ) saw his clear resemblance to ‘Utbah. So he said “The child is attributed to the one on whose bed it is born and the fornicator is deprived of any right (lit. the fornicator will have the stone). Veil yourself from him, Saudah. Musaddad added in his version “he is your brother ‘Abd”.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہما دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کا جھگڑا لے آئے ، سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے : میرے بھائی عتبہ نے مجھے وصیت کی تھی کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں تو اس کو لے لوں کیونکہ وہ انہیں کا بیٹا ہے ، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے : یہ میرا بھائی ہے کیونکہ میرے والد کی لونڈی کا بیٹا ہے ، اور میرے والد کے بستر پر اس کی ولادت ہوئی ہے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبہ کے ساتھ کھلی مشابہت دیکھی ( اس کے باوجود ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بچہ بستر والے کا ہے ، اور زانی کے لیے سنگساری ہے ، اور سودہ ! تم اس سے پردہ کرو “ ۔ مسدد نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زیادہ کئے ہیں کہ ” آپ نے فرمایا : عبد ! یہ تیرا بھائی ہے “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 99
Hadith 2274
Chapter 750: "The Child Belongs To The Bed" - كتاب الطلاق

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلاَنًا ابْنِي عَاهَرْتُ بِأُمِّهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ دِعْوَةَ فِي الإِسْلاَمِ ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ ‏"‏ ‏.‏

'Amr b. Shu'aib on his father's authority said that his grandfather reported:

A man got up and said: Messenger of Allah, so-and-so is my son; I had illicit intercourse with his mother in the pre-Islamic period. The Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no unlawful claiming of paternity in Islam. What was done in pre-Islamic times has been annulled. The child is attributed to the one on whose bed it is born, and the fornicator is deprived of any right.

عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! فلاں میرا بیٹا ہے میں نے زمانہ جاہلیت میں اس کی ماں سے زنا کیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسلام میں اس طرح کا مطالبہ صحیح نہیں ، زمانہ جاہلیت کی بات ختم ہوئی ، بچہ صاحب بستر کا ہے اور زانی کے لیے سنگساری ہے “ ۔

In-book reference : Book 13, Hadith 100
Page 4 of 6

Showing 25 hadiths on this page (Total: 138 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 4 of 6 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00