Chapter 39: The Water Left By A Cat - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِينَارٍ التَّمَّارِ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّ مَوْلاَتَهَا، أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ رضى الله عنها فَوَجَدْتُهَا تُصَلِّي فَأَشَارَتْ إِلَىَّ أَنْ ضَعِيهَا فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا فَلَمَّا انْصَرَفَتْ أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ فَقَالَتْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ " . وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
Dawud ibn Salih ibn Dinar at-Tammar quoted his mother as saying that her mistress sent her with some pudding (harisah) to Aisha who was offering prayer. She made a sign to me to place it down. A cat came and ate some of it, but when Aisha finished her prayer, she ate from the place where the cat had eaten. She stated: The Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not unclean: it is one of those who go round among you. She added: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing ablution from the water left over by the cat.
داود بن صالح بن دینار تمار اپنی والدہ سے روایت کرتے ہیں کہ
ان کی مالکن نے انہیں ہریسہ ( ایک قسم کا کھانا ) دے کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا تو انہوں نے عائشہ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے کھانا رکھ دینے کا اشارہ کیا ( میں نے کھانا رکھ دیا ) ، اتنے میں ایک بلی آ کر اس میں سے کچھ کھا گئی ، جب ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نماز سے فارغ ہوئیں تو بلی نے جہاں سے کھایا تھا وہیں سے کھانے لگیں اور بولیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” یہ ناپاک نہیں ہے ، کیونکہ یہ تمہارے پاس آنے جانے والوں میں سے ہے “ ، اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلی کے جھوٹے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
The males and females during the time of the Apostle of Allaah ( sal Allahu alayhi wa sallam ) used to perform the ablution from one vessel together.
The wordings "from one vessel" occur in the version of Musaddad.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مرد اور عورتیں ایک ہی برتن سے ایک ساتھ وضو کرتے تھے ۔
Chapter 40: Wudu' From The Water Left By A Woman - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، قَالَ كُنَّا نَتَوَضَّأُ نَحْنُ وَالنِّسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ نُدْلِي فِيهِ أَيْدِيَنَا .
Narrated 'Abd Allaah b. 'Umar:
We (men) and women during the life-time of the Apostle of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam) used to perform ablution from one vessel. We all put our hands in it.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم اور عورتیں مل کر ایک برتن سے وضو کرتے ، اور ہم اپنے ہاتھ اس میں ( باری باری ) ڈالتے تھے ۔
Chapter 41: The Prohibition Of That - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ حُمَيْدٍ الْحِمْيَرِيِّ، قَالَ لَقِيتُ رَجُلاً صَحِبَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعَ سِنِينَ كَمَا صَحِبَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَغْتَسِلَ الْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ أَوْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ الْمَرْأَةِ - زَادَ مُسَدَّدٌ - وَلْيَغْتَرِفَا جَمِيعًا .
Narrated Humayd al-Himyari:
Humayd al-Himyari reported: I met a person (among the Companion of Prophet) who remained in the company of the Prophet (ﷺ)for four years as AbuHurayrah remained in his company. He reported: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade that the female should wash with the water left over by the male, and that the male should wash with the left-over of the female.
The version of Musaddad adds: "That they both take the handful of water together."
حمید حمیری کہتے ہیں کہ
میری ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوئی جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں اسی طرح چار سال تک رہنے کا موقع ملا تھا جیسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہے تھے ، وہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو مرد کے بچے ہوئے پانی سے اور مرد کو عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنے سے منع فرمایا ۔ مسدد نے اتنا اضافہ کیا ہے : ” چاہیئے کہ دونوں ایک ساتھ لپ سے پانی لیں “ ۔
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, we travel on the sea and take a small quantity of water with us. If we use this for ablution, we would suffer from thirst. Can we perform ablution with sea water? The Messenger (ﷺ) replied: Its water is pure and what dies in it is lawful food.
قبیلہ بنو عبدالدار کے ایک فرد مغیرہ بن ابی بردہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
( عبداللہ مدلجی نامی ) ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا : اللہ کے رسول ! ہم سمندر کا سفر کرتے ہیں اور اپنے ساتھ تھوڑا پانی لے جاتے ہیں اگر ہم اس سے وضو کر لیں تو پیاسے رہ جائیں گے ، کیا ایسی صورت میں ہم سمندر کے پانی سے وضو کر سکتے ہیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا پانی بذات خود پاک اور دوسرے کو پاک کرنے والا ہے ، اور اس کا مردار حلال ہے “ ۔
AbuZayd quoted Abdullah ibn Mas'ud as saying that on the night when the jinn listened to the Qur'an the Prophet (ﷺ) said: What is in your skin vessel? He said: I have some nabidh. He (the Holy Prophet) said: It consists of fresh dates and pure water.
Sulayman ibn Dawud reported the same version of this tradition on the authority of AbuZayd or Zayd. But Sharik said that Hammad did not mention the words "night of the jinn".
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنوں والی رات میں مجھ سے پوچھا : ” تمہاری چھاگل میں کیا ہے ؟ “ ، میں نے کہا : نبیذ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ پاک کھجور اور پاک پانی ہے “ ۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لَيْلَةَ الْجِنِّ فَقَالَ مَا كَانَ مَعَهُ مِنَّا أَحَدٌ .
Narrated 'Alqamah:
I asked 'Abd Allaah b Mas'ud: Which of you was in the company of the Messenger of Allaah ( sal Allaahu alayhi wa sallam ) on the night when the jinn attended him? He replied : None of us was with him.
علقمہ کہتے ہیں کہ
میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا : «ليلة الجن» ( جنوں والی رات ) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ لوگوں میں سے کون تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم میں سے کوئی نہ تھا ۱؎ ۔
I asked Abu'l-'Aliyah whether a person who is sexually defiled and has no water with him, but he has only nabidh, can wash with it? He replied in the negative.
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ
میں نے ابوالعالیہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جسے جنابت لاحق ہوئی ہو اور اس کے پاس پانی نہ ہو ، بلکہ نبیذ ہو تو کیا وہ اس سے غسل کر سکتا ہے ؟ آپ نے کہا : نہیں ۔
Urwah reported on the authority of his father that Abdullah ibn al-Arqam travelled for performing hajj (pilgrimage) or umrah. He was accompanied by the people whom he led in prayer. One day when he was leading them in the dawn (fajr) prayer, he said to them: One of you should come forward. He then went away to relieve himself. He said: I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: When any of you feels the need of relieving himself while the congregational prayer is ready, he should go to relieve himself.
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
وہ حج یا عمرہ کے لیے نکلے ، ان کے ساتھ اور لوگ بھی تھے ، وہی ان کی امامت کرتے تھے ، ایک دن انہوں نے فجر کی نماز کی اقامت کہی پھر لوگوں سے کہا : تم میں سے کوئی امامت کے لیے آگے بڑھے ، وہ قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے یہ کہتے ہوئے نکل گئے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم میں سے کسی کو پاخانہ کی حاجت ہو اور اس وقت نماز کھڑی ہو چکی ہو تو وہ پہلے قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : وہیب بن خالد ، شعیب بن اسحاق اور ابوضمرۃ نے بھی اس حدیث کو ہشام بن عروہ سے روایت کیا ہے ، ہشام نے اپنے والد عروہ سے ، اور عروہ نے ایک مبہم شخص سے ، اور اس نے اسے عبداللہ بن ارقم سے بیان کیا ہے ، لیکن ہشام سے روایت کرنے والوں کی اکثریت نے اسے ویسے ہی روایت کیا ہے جیسے زہیر نے کیا ہے ( یعنی «عن رجل» کا اضافہ نہیں کیا ہے ) ۔
We were in the company of 'Aishah. When her food was brought in, al-Qasim stood up to say his prayer. Thereupon , 'Aishah said : I heard the Messenger of Allaah (sal Allaahu alayhi wa sallam) say: Prayer should not be offered in presence of meals, nor at the moment when one is struggling with two evils (e.g. when one is feeling the call of nature.)
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ
ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم ( قاسم بن محمد ) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، یہ دیکھ کر وہ بولیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں ( پاخانہ و پیشاب ) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں “ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Three things one is not allowed to do: supplicating Allah specifically for himself and ignoring others while leading people in prayer; if he did so, he deceived them; looking inside a house before taking permission: if he did so, it is as if he entered the house, saying prayer while one is feeling the call of nature until one eases oneself.
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین چیزیں کسی آدمی کے لیے جائز نہیں : ایک یہ کہ جو آدمی کسی قوم کا امام ہو وہ انہیں چھوڑ کر خاص اپنے لیے دعا کرے ، اگر اس نے ایسا کیا تو اس نے ان سے خیانت کی ، دوسرا یہ کہ کوئی کسی کے گھر کے اندر اس سے اجازت لینے سے پہلے دیکھے ، اگر اس نے ایسا کیا تو گویا وہ اس کے گھر میں گھس گیا ، تیسرا یہ کہ کوئی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے ، جب تک کہ وہ ( اس سے فارغ ہو کر ) ہلکا نہ ہو جائے “ ۔
The Prophet (ﷺ) said: It is not permissible for a man who believes in Allah and in the Last Day that he should say the prayer while he is feeling the call of nature until he becomes light (by relieving himself).
Then the narrator Thawr b. Yazid transmitted a similar tradition with the following wordings: "It is not permissible for a man who believes in Allah and in the Last Day that he should lead the people in prayer but with their permission; and that he should not supplicate to Allah exclusively for himself leaving all others. If he did so, he violated trust."
Abu Dawud said: This is a tradition reported by the narrators of Syria; no other person has joined them in relating this tradition.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھے جب تک کہ ( وہ فارغ ہو کر ) ہلکا نہ ہو جائے “ ۔ پھر راوی نے اسی طرح ان الفاظ کے ساتھ آگے حدیث بیان کی ہے ، اس میں ہے : ” کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں کہ وہ کسی قوم کی امامت ان کی اجازت کے بغیر کرے اور نہ ہی یہ جائز ہے کہ وہ انہیں چھوڑ کر صرف اپنے لیے دعا کرے ، اگر اس نے ایسا کیا تو ان سے خیانت کی “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اہل شام کی حدیثوں میں سے ہے ، اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ۔
Chapter 45: The Amount Of Water That Is Acceptable For Performing Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ أَبَانُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ صَفِيَّةَ .
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:
The Prophet (ﷺ) used to wash himself with a sa' (of water) and perform ablution with a mudd (of water).
Abu Dawud said: This tradition has also been narrated by Aban on the authority of Qatadah. In this version he said: "I herd safiyyah."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے تھے اور ایک مد سے وضو ۱؎ ۔
Chapter 45: The Amount Of Water That Is Acceptable For Performing Wudu' - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبٍ الأَنْصَارِيِّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ تَمِيمٍ، عَنْ جَدَّتِهِ، وَهِيَ أُمُّ عُمَارَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ قَدْرُ ثُلُثَىِ الْمُدِّ .
Narrated Umm Umarah:
Habib al-Ansari reported: I heard Abbad ibn Tamim who reported on the authority of my grandmother, Umm Umarah, saying: The Prophet (ﷺ) wanted to perform ablution. A vessel containing 2/3 mudd of water was brought to him.
عباد بن تمیم کی دادی ام عمارہ ( ام عمارہ بنت کعب ) رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کا ارادہ کیا تو آپ کے پاس پانی کا ایک برتن لایا گیا جس میں دو تہائی مد کے بقدر پانی تھا ۔
The Prophet (ﷺ) performed ablution with a vessel which contained two rotls (of water) and took a bath with a sa’ (of water).1
Abu Dawud Said : This tradition has berated on the authority of Anas through a different chain. This version mentions: “He performed ablution with one makkuk. “It makes no mention of two rotls. 2
Abu Dawud said : This tradition has also been narrated by Yahya b. Adam from Sharik. But this chain mentions Ibn Jabr b. ‘Atik instead of ‘ Abd Allah b. Jabr.
Abu Dawud Said : This tradition has also been narrated by Sufyan from ‘Abd Allah b. ‘Isa. This chain mentions the name Jabr b. ‘Abd Allah instead of ‘Abd Allah b. Jabr.
Abu Dawud Said : I heard Ahmad b. Hanbal say : one sa’ measures five rotls. It was the sa’ of Ibn Abi Dhi’b and also of the Prophet (ﷺ).
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسے برتن سے وضو کرتے تھے جس میں دو رطل پانی آتا تھا ، اور ایک صاع پانی سے غسل کرتے تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یحییٰ بن آدم نے اسے شریک سے روایت کیا ہے مگر اس روایت میں ( عبداللہ بن جبر کے بجائے ) ابن جبر بن عتیک ہے ، نیز سفیان نے بھی اسے عبداللہ بن عیسیٰ سے روایت کیا ہے اس میں «حدثني جبر بن عبد الله.» ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اور اسے شعبہ نے بھی روایت کیا ہے ، اس میں «حدثني عبد الله بن عبد الله بن جبر سمعت أنسا» ہے ، مگر فرق یہ ہے کہ انہوں نے «يتوضأ بإناء يسع رطلين» کے بجائے : «يتوضأ بمكوك» کہا ہے اور «رطلين» کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا ہے کہ ایک صاع پانچ رطل کا ہوتا ہے ، یہی ابن ابی ذئب کا صاع تھا اور یہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی صاع تھا ۔
Abdullah heard his son praying to Allah: O Allah, I ask Thee a white palace on the right of Paradise when I enter it. He said: O my son, ask Allah for Paradise and seek refuge in Him from Hell-Fire, for I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: In this community there will be some people who will exceed the limits in purification as well as in supplication.
ابونعامہ سے روایت ہے کہ
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو کہتے سنا : اے اللہ ! میں جب جنت میں داخل ہوں تو مجھے جنت کے دائیں طرف کا سفید محل عطا فرما ، آپ نے کہا : میرے بیٹے ! تم اللہ سے جنت طلب کرو اور جہنم سے پناہ مانگو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اس امت میں عنقریب ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو طہارت اور دعا میں حد سے تجاوز کریں گے “ ۱؎ ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) saw some people (performing ablution) while their heels were dry. He then said : Woe to the heels because of Hell. Perform the ablution in full.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کو اس حال میں دیکھا کہ وضو کرنے میں ان کی ایڑیاں ( پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے ) خشک تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایڑیوں کو بھگونے میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے جہنم کی آگ سے تباہی ہے وضو پوری طرح سے کرو ۱؎ “ ۔