Abu Hurairah reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying:
Whoever takes bath due to sexual defilement on Friday and goes out (for Friday prayer), is treated like one who offers a camel as sacrifice; he who goes out in the second instance as one who offers a cow; he who goes out in the third instance is treated as one who offers horned cow ; he who goes out in the fourth instance is treated as one who offers hen ; he who goes out in the fifth instance is treated as one who offers an egg. When the Imam comes out (for sermon), the angels too attend to listen to the sermon.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کی طرح غسل کیا پھر ( پہلی گھڑی میں ) جمعہ کے لیے ( مسجد ) گیا تو گویا اس نے ایک اونٹ اللہ کی راہ میں پیش کیا ، جو دوسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک گائے اللہ کی راہ میں پیش کی ، اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک سینگ دار مینڈھا اللہ کی راہ میں پیش کیا ، جو چوتھی گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک مرغی اللہ کی راہ میں پیش کی ، اور جو پانچویں گھڑی میں گیا گویا اس نے ایک انڈا اللہ کی راہ میں پیش کیا ، پھر جب امام ( خطبہ کے لیے ) نکل آتا ہے تو فرشتے بھی آ جاتے ہیں اور ذکر ( خطبہ ) سننے لگتے ہیں “ ۔
The people (mostly) were workers and they would come for Friday prayer in the same condition, so it was said to them: If only you were to perform Ghusl.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
لوگ اپنے کام خود کرتے تھے ، اور جمعہ کے لیے اسی حالت میں چلے جاتے تھے ( ان کی بو سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی ، جب اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ) تو ان لوگوں سے کہا گیا : ” کاش تم لوگ غسل کر کے آتے “ ۔
Some people of Iraq came and said: Ibn 'Abbas, do you regard taking a bath on Friday as obligatory ? He said: No, it is only a means of cleanliness, and is better for one who washes oneself. Anyone who does not take a bath, it is not essential for him. I inform you how the bath (on Friday) commenced. The people were poor and used to wear woolen clothes, and would carry loads on their backs. Their mosque was small and its rood was lowered down. It was a sort of trellis of vine. The Messenger of Allah (ﷺ) once came out on a hot day and the people perspired profusely in the woolen clothes so much so that foul smell emitted from them and it caused trouble to each other. When the Messenger of Allah (ﷺ) found the foul smell, he said: O people, when this day (Friday) comes, you should take bath and every one should anoint the best oil and perfume one has. Ibn 'Abbas then said: Then Allah, the Exalted, provided wealth (to the people) and they wore clothes other than the woolen, and were spared from work, and their mosque became vast. The foul smell that caused trouble to them became non-existent.
عکرمہ کہتے ہیں کہ
عراق کے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے : اے ابن عباس ! کیا جمعہ کے روز غسل کو آپ واجب سمجھتے ہیں ؟ آپ نے کہا : نہیں ، لیکن جو غسل کرے اس کے لیے یہ بہتر اور پاکیزگی کا باعث ہے ، اور جو غسل نہ کرے اس پر واجب نہیں ہے ، اور میں تم کو بتاتا ہوں کہ غسل کی ابتداء کیسے ہوئی : لوگ پریشان حال تھے ، اون پہنا کرتے تھے ، اپنی پیٹھوں پر بوجھ ڈھوتے تھے ، ان کی مسجد بھی تنگ تھی ، اس کی چھت نیچی تھی بس کھجور کی شاخوں کا ایک چھپر تھا ، ( ایک بار ) ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن نکلے ، لوگوں کو کمبل پہننے کی وجہ سے بےحد پسینہ آیا یہاں تک کہ ان کی بدبو پھیلی اور اس سے ایک دوسرے کو تکلیف ہوئی ، تو جب یہ بو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوئی تو آپ نے فرمایا : ” لوگو ! جب یہ دن ہوا کرے تو تم غسل کر لیا کرو ، اور اچھے سے اچھا جو تیل اور خوشبو میسر ہو لگایا کرو “ ، ابن عباس کہتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو وسعت دی ، وہ لوگ اون کے علاوہ کپڑے پہننے لگے ، خود محنت کرنے کی ضرورت نہیں رہی ، ان کی مسجد بھی کشادہ ہو گئی ، اور پسینے کی بو سے ایک دوسرے کو جو تکلیف ہوتی تھی ختم ہو گئی ۔
Chapter 132: The Permissibility Of Not Performing Ghusl On Friday - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَمَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَفْضَلُ " .
Narrated Samurah:
If any one of you performs ablution (on Friday) that is all right; and if any of you takes a bath, that is better.
سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن وضو کیا ، تو اس نے سنت پر عمل کیا اور یہ اچھی بات ہے ، اور جس نے غسل کیا تو یہ افضل ہے “ ۱؎ ۔
Chapter 133: A Person Accepts Islam, And Is Ordered To Perform Ghusl - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَغَرُّ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ جَدِّهِ، قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أُرِيدُ الإِسْلاَمَ فَأَمَرَنِي أَنْ أَغْتَسِلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ .
Narrated Qays ibn Asim:
I came to the Prophet (ﷺ) with the intention of embracing Islam. He commanded me to take a bath with water (boiled with) the leaves of the lote-tree.
قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پانی اور بیر کی پتی سے غسل کرنے کا حکم دیا ۔
Chapter 133: A Person Accepts Islam, And Is Ordered To Perform Ghusl - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أُخْبِرْتُ عَنْ عُثَيْمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ قَدْ أَسْلَمْتُ . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ " . يَقُولُ احْلِقْ . قَالَ وَأَخْبَرَنِي آخَرُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لآخَرَ مَعَهُ " أَلْقِ عَنْكَ شَعْرَ الْكُفْرِ وَاخْتَتِنْ " .
'Uthaim b. Kulaib reported from his father (Kuthair) on the authority of his grandfather (Kulaib) that he came to the Prophet (ﷺ):
I have embraced Islam. The Prophet (ﷺ) said to him: Remove from yourself the hair that grew during of unbelief, saying "shave them". He further says that another person (other than the grandfather of 'Uthaim) reported to him that the Prophet (ﷺ) said to another person who accompanied him: Remove from yourself the hair that grew during the period of unbelief and get yourself circumcised.
کلیب کہتے ہیں کہ
وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بولے : میں اسلام لے آیا ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” تم اپنے ( بدن ) سے کفر کے بال صاف کراؤ “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے : ” بال منڈوا لو “ ، عثیم کے والد کا بیان ہے کہ ایک دوسرے شخص نے مجھے یہ خبر دی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے شخص سے جو ان کے ساتھ تھا فرمایا : ” تم اپنے ( بدن ) سے کفر کے بال صاف کرو اور ختنہ کرو “ ۔
Mu'adhah said that 'Aishah was asked about (washing) the clothes of a menstruating woman smeared with blood. She said:
She should wash it; in case mark is not removed she should change it by applying some yellow color. I had three menstruations together while I lives with the Messenger of Allah (ﷺ), but I did not wash my clothes.
معاذہ کہتی ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس حائضہ کے بارے میں دریافت کیا جس کے کپڑے پر ( حیض کا ) خون لگ جائے ، تو انہوں نے کہا : ” وہ اسے دھو ڈالے اور اگر اس کا اثر زائل نہ ہو تو اسے کسی زرد چیز سے ( رنگ کر ) بدل دے “ ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : ” مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تین تین حیض اکٹھے لگاتار آتے تھے ، میں ( ایام حیض میں پہنا ہوا ) اپنا کپڑا نہیں دھوتی تھی “ ۔
Each of us (wives of the Prophet) had only one clothe in which she would menstruate. Whenever it was smeared with blood, she would moisten it with her saliva and scratch it with saliva.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم میں سے کسی کے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ہوتا تھا ، اسی کپڑے میں اسے حیض ( بھی ) آتا تھا ، اگر اس میں ( حیض کا ) کچھ خون لگ جاتا تو وہ اپنے تھوک سے اسے تر کرتی پھر اسے تھوک کے ذریعہ ناخن سے کھرچ دیتی تھی ۔
Bakkar ibn Yahya said that his grandmother narrated to him: I entered upon Umm Salamah. A woman from the Quraysh asked her about praying with the clothes which a woman wore while she menstruated.
Umm Salamah said: We would menstruate in the lifetime of the Messenger of Allah (ﷺ). Then each one of us refrained (from prayer) during menstrual period. When she was purified, she would look at the clothe in which she menstruated. If it were smeared with blood, we would wash it and pray with it; if there were nothing in it, we would leave it and that would not prevent us from praying with it (the same clothe).
As regards the woman who had plaited hair - sometimes each of us had plaited hair - when she washed, she would not undo the hair. She would instead pour three handfuls of water upon her head. When she felt moisture in the roots of her hair, she would rub them. Then she would pour water upon her whole body.
بکار بن یحییٰ کی دادی سے روایت ہے کہ
میں ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو قریش کی ایک عورت نے ان سے حیض کے کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا ، تو ام سلمہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہمیں حیض آتا تو ہم میں سے ( جسے حیض آتا ) وہ اپنے حیض کے دنوں میں ٹھہری رہتی ، پھر وہ حیض سے پاک ہو جاتی تو ان کپڑوں کو جن میں وہ حیض سے ہوتی تھی دیکھتی ، اگر ان میں کہیں خون لگا ہوتا تو ہم اسے دھو ڈالتے ، پھر اس میں نماز پڑھتے ، اور اگر ان میں کوئی چیز نہ لگی ہوتی تو ہم انہیں چھوڑ دیتے اور ہمیں ان میں نماز پڑھنے سے یہ چیز مانع نہ ہوتی ، رہی ہم میں سے وہ عورت جس کے بال گندھے ہوتے تو وہ جب غسل کرتی تو اپنی چوٹی نہیں کھولتی ، البتہ تین لپ پانی لے کر اپنے سر پر ڈالتی ، جب وہ بال کی جڑوں تک تری دیکھ لیتی تو ان کو ملتی ، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتی ۔
I heard a woman asking the Messenger of Allah (ﷺ): What should any of us to with her clothe (in which she menstruated) when she becomes purified ? Can she pray in that (clothe) ? He said: She should see; if she finds blood in it, she should scratch it with some water and (in case of doubt) sprinkle upon it (some water) and pray so long as she does not find (any blood).
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
میں نے ایک عورت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے سنا : جب ہم میں سے کوئی عورت پاکی دیکھ لے تو ایام حیض میں پہنے ہوئے کپڑوں کو وہ کیا کرے ؟ کیا اس میں نماز پڑھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ اسے دیکھے اگر اس کپڑے میں خون لگا ہوا نظر آئے تو تھوڑے سے پانی سے اسے کھرچ دے اور دھو لے یہاں تک کہ وہ چھوٹ جائے ، اور اس میں نماز پڑھے “ ۔
A woman asked the Messenger of Allah (ﷺ): Messenger of Allah, what do you think if the clothe of any of us smeared with the blood of menstruation; what should she do ? He said: If (the clothe of) any of you is smeared with blood of menstruation, she should scratch it; then she should sprinkle water upon it and then she may pray.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ کے رسول ! بتائیے اگر ہم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو وہ کیا کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کسی کے کپڑے میں حیض کا خون لگ جائے تو اسے چٹکیوں سے مل دے ، پھر اسے پانی سے دھو ڈالے پھر ( اس میں ) نماز پڑھے “ ۔
I asked the Prophet (ﷺ) about the blood of menstruation on the clothe. He said: Erase it off with a piece of wood and then wash it away with water and the leaves of the lote-tree.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے خون کے بارے میں جو کپڑے میں لگ جائے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کسی لکڑی سے رگڑ کر چھڑا دو ، اور پانی اور بیر کی پتی سے اسے دھو ڈالو “ ۔
One of us would have a shirt in which she would menstruate and in it she became sexually defiled. Then if she ever saw any drop of blood in it, she would rub it off by applying her saliva.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ہم میں سے ایک کے پاس ایک قمیص ہوتی ، اسی میں اسے حیض بھی آتا اور اسی میں اسے جنابت بھی لاحق ہوتی ، پھر اس میں خون کا کوئی قطرہ اسے نظر آتا تو وہ اسے اپنے تھوک سے مل کر کھرچ ڈالتی ۔
Abu Hurairah reported that Khawlah daughter of Yasar came to the Prophet (ﷺ) and said:
Messenger of Allah, I have only one clothe and I menstruate in it, how should I do ? He said: When you are purified, wash it and pray in it. She asked: If the blood is not removed, (then what) ? He said: It is enough for you to wash the blood, its mark will not do any harm to you.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
خولہ بنت یسار رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس سوائے ایک کپڑے کے کوئی اور کپڑا نہیں ، اسی میں مجھے حیض آتا ہے ، میں کیا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم پاک ہو جاؤ ( حیض رک جائے ) تو اسے دھو ڈالو ، پھر اس میں نماز پڑھو “ ، اس پر خولہ نے کہا : اگر خون زائل نہ ہو تو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خون کو دھو لینا تمہارے لیے کافی ہے ، اس کا اثر ( دھبہ ) تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا “ ۔
Chapter 135: Praying In A Garment In Which He Has Engaged In Intercourse - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حُدَيْجٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ أُخْتَهُ أُمَّ حَبِيبَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُهَا فِيهِ فَقَالَتْ نَعَمْ إِذَا لَمْ يَرَ فِيهِ أَذًى .
Narrated Umm Habibah:
Mu'awiyah ibn AbuSufyan asked his sister Umm Habibah, the wife of the Prophet (ﷺ): Would the apostle of Allah (ﷺ) pray in the clothe in which he had an intercourse? She said: Yes, when he would not see any impurity in it.
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انہوں نے اپنی بہن ام المؤمنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے جس میں آپ جماع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے کہا : ہاں ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں کوئی گندگی نہ دیکھتے ۔
The Prophet (ﷺ) would not in our quilts. Hammad said: I heard Sa'id b. Abi Sadaqah say: I asked Muhammad (b. Sirin) about it. He did not narrate it to me, but said: I heard it a long time ago and I do not know whom I heard it. I do not know whether I heard it from a trustworthy person or not. Make an inquiry about it.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۔
The Prophet (ﷺ) prayed on a sheet of cloth put on by one of his wives who was menstruating. He was praying while (a part of) it was upon him.
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی اور آپ کے جسم پر ایک چادر تھی جس کا کچھ حصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی پر پڑا ہوا تھا ، وہ حائضہ تھیں اور آپ اسے اوڑھ کر نماز پڑھ رہے تھے ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) would pray at night while I lay by his side during my menstrual period. A sheet of cloth would be partly on me and partly on him.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں نماز پڑھتے ، میں حالت حیض میں آپ کے پہلو میں ہوتی ، اور میرے اوپر میری ایک چادر ہوتی جس کا کچھ حصہ آپ پر ہوتا تھا ۔
Hammam b. al-Harith reported, he has a sexual dream when he was staying with 'Aishah. The slave girl of 'Aishah saw him while he was washing the mark of defilement, or he was washing his clothe. She informed 'Aishah who said:
He witnessed me rubbing off the semen from the clothe of the Messenger of Allah (ﷺ).
Abu Dawud said: Al-A'mash narrated it as narrated by al-Hakam.
ہمام بن حارث کہتے ہیں کہ
وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے ، ہمام کو احتلام ہو گیا ، تو عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک لونڈی نے انہیں دیکھ لیا کہ وہ اپنے کپڑے سے جنابت کے اثر کو یا اپنے کپڑے کو دھو رہے ہیں ، اس نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے کہا : میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچتے دیکھا ہے ۔
I used to rub off the semen from the clothe of the Messenger of Allah (ﷺ). He would would pray in it.
Abu Dawud said: Mughirah, Abu Ma'shar, and Wasil also narrated it to the same effect.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی کھرچ ڈالتی تھی ، پھر آپ اسی میں نماز پڑھتے تھے ۔
I heard 'Aishah say that she would wash semen from the clothe of the Messenger of Allah (ﷺ). She added: Then I would see a mark or marks (after washing).
سلیمان بن یسار کہتے ہیں کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے سنا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوتی تھیں ، کہتی ہیں کہ پھر میں اس میں ایک یا کئی دھبے اور نشان دیکھتی تھی ۔
Chapter 139: A Child's Urine Splashes On A Garment - كتاب الطهارة
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ، أَنَّهَا أَتَتْ بِابْنٍ لَهَا صَغِيرٍ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي حِجْرِهِ فَبَالَ عَلَى ثَوْبِهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ وَلَمْ يَغْسِلْهُ .
Umm Qais daughter of Mihsan reported that she came to the Messenger of Allah (ﷺ) with her little son who had not attained the age of eating food. The Messenger of Allah (ﷺ) seated him in his lap, and he urinated on his clothe. He sent for water and sprayed it (over his clothe) and did not wash it.
ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
وہ اپنے ایک چھوٹے اور شیر خوار بچے کو لے کر جو ابھی کھانا نہیں کھاتا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی گود میں بٹھا لیا ، اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر چھینٹا ما ر لیا اور اسے دھویا نہیں ۔
Al-Husayn ibn Ali was (sitting) in the lap of the Messenger of Allah (ﷺ). He passed water on him. I said: Put on (another) clothe, and give me your wrapper to wash. He said: The urine of a female child should be washed (thoroughly) and the urine of a male child should be sprinkled over.
لبابہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
حسین بن علی رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر پیشاب کر دیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ کوئی دوسرا کپڑ ا پہن لیجئے اور اپنا تہہ بند مجھے دے دیجئیے تاکہ میں اسے دھو دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صرف لڑکی کے پیشاب کو دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر پانی چھڑکا جاتا ہے “ ۔