حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، ح وَحَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، جَمِيعًا عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ مَرَّ بِي خَالِي - سَمَّاهُ هُشَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو - وَقَدْ عَقَدَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم لِوَاءً فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ تُرِيدُ فَقَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ مِنْ بَعْدِهِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَهُ .
It was narrated that Bara bin Azib said:
“My maternal uncle passed by me - (one of the narrators) Hushaim named him in his narration as Harith bin Amr - and the Prophet (ﷺ) had given him a banner to carry. I said to him: 'Where are you going?’ He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) has sent me to a man who married his father's wife after he died, and has commanded me to strike his neck (i.e. execute him).”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میرے ماموں کا گزر میرے پاس سے ہوا ( راوی حدیث ہشیم نے ان کے ماموں کا نام حارث بن عمرو بتایا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک جھنڈا باندھ دیا تھا ، میں نے ان سے پوچھا : کہاں کا قصد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کے پاس روانہ کیا ہے جس نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اس کی بیوی ( یعنی اپنی سوتیلی ماں ) سے شادی کر لی ہے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں ۔