حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، . أَنَّهَا قَالَتْ نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ {وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} فِي رَجُلٍ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ قَدْ طَالَتْ صُحْبَتُهَا وَوَلَدَتْ مِنْهُ أَوْلاَدًا فَأَرَادَ أَنْ يَسْتَبْدِلَ بِهَا فَرَاضَتْهُ عَلَى أَنْ تُقِيمَ عِنْدَهُ وَلاَ يَقْسِمَ لَهَا .
It was narrated that 'Aishah said:
"This Verse 'And making peace is better.' was revealed concerning a man who had been married to a woman for a long time, and she had given birth to his children and he wanted to exchange her (for a new wife). She agreed that he would stay with her (the new wife) and would not give her (the first wife) a share of his time. (i.e.) not spend the nights with her)."
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
یہ آیت : «والصلح خير» اس شخص کے بارے میں اتری جس کی ایک بیوی تھی اور مدت سے اس کے ساتھ رہی تھی ، اس سے کئی بچے ہوئے ، اب مرد نے ارادہ کیا کہ اس کے بدلے دوسری عورت سے نکاح کرے ( اور اسے طلاق دیدے ) چنانچہ اس عورت نے مرد کو اس بات پر راضی کر لیا کہ وہ اس کے پاس رہے گی ، اور وہ اس کے لیے باری نہیں رکھے گا ۔