Chapter 24: Giving charity to relatives - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَيُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لَهَا أَجْرَانِ أَجْرُ الصَّدَقَةِ وَأَجْرُ الْقَرَابَةِ " .
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْنِ أَخِي، زَيْنَبَ عَنْ زَيْنَبَ، امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ .
It was narrated that:
Zainab, the wife of Abdullah said: “I asked the Messenger of Allah: 'Will it be accepted as charity on my part if I spend on my husband and the orphans in my care?' The Messenger of Allah said: 'She will have two rewards, the reward for charity and the reward for upholding ties of kinship.'”
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہو جائے گی ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کو دہرا اجر ملے گا ، ایک صدقے کا اجر ، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر “ ۱؎ ۔عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے ۔
Umm Salamah said: “The Messenger of Allah enjoined charity upon us. Zainab, the wife of Abdullah said: 'Will it be accepted as charity on my part if I give charity to my husband who is poor, and to the children of a brother of mine who are orphans, spending such and such on them, and in all circumstances?' He said: 'Yes.'”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کا حکم دیا ، تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : کیا میری زکاۃ ادا ہو جائے گی اگر میں اپنے شوہر پہ جو محتاج ہیں ، اور اپنے بھتیجوں پہ جو یتیم ہیں صدقہ کروں ، اور میں ہر حال میں ان پر ایسے اور ایسے خرچ کرتی ہوں ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ دست کاری کرتی تھیں ( اور پیسے کماتی تھیں ) ۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَوْدِيُّ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ فَيَأْتِيَ الْجَبَلَ فَيَجِيءَ بِحُزْمَةِ حَطَبٍ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهَا فَيَسْتَغْنِيَ بِثَمَنِهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ " .
It was narrated from Hisham bin Urwah, from his father, that:
his grandfather said: “The Messenger of Allah said: 'If one of you were to take his rope (or ropes) and go to the mountains, and bring a bundle of firewood on his back to sell, and thus become independent of means, that would be better for him than begging from people who may either give him something or not give him anything.'”
زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم میں سے کوئی اپنی رسی لے اور پہاڑ پر جا کر ایک گٹھا لکڑیوں کا اپنی پیٹھ پر لادے ، اور اس کو بیچ کر اس کی قیمت پر قناعت کرے ، تو یہ اس کے لیے لوگوں کے سامنے مانگنے سے بہتر ہے کہ لوگ دیں یا نہ دیں “ ۱؎ ۔
Thawban said: “The Messenger of Allah said: 'Who will commit himself to one thing, I will guarantee him paradise?' I said: 'I will.' He said: 'Do not ask people for anything.' So Thawban would drop his whip while he was on his mount, and he would not say to anyone: 'Get that for me' rather he would dismount and grab it.”
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون میری ایک بات قبول کرتا ہے ؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں “ ، میں نے عرض کیا : میں قبول کرتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو “ ، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو ، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎ ۔
Chapter 26: One who asks when he is not in need - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جَمْرَ جَهَنَّمَ فَلْيَسْتَقِلَّ مِنْهُ أَوْ لِيُكْثِرْ " .
Abu Hurairah narrated that:
the Messenger of Allah(ﷺ) said: “Whoever begs from people so as to accumulate more riches, he is asking for alive coal from hell, so let him ask for a lot or a little.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے لوگوں سے مال بڑھانے کے لیے مانگا ، تو وہ جہنم کے انگارے مانگتا ہے ، چاہے اب وہ زیادہ مانگے یا کم مانگے “ ۔
the Messenger of Allah said: “Whoever begs when he has enough to suffice him, his begging will come on the Day of Resurrection like lacerations on his face. ” It was said: “O Messenger of Allah, what is sufficient for him?” He said: “Fifty Dirham or their value in gold.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص سوال کرے اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے بے نیاز کرتا ہو ، تو یہ سوال قیامت کے دن اس کے چہرے پہ زخم کا نشان بن کر آئے گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کتنا مال آدمی کو بے نیاز کرتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پچاس درہم یا اس کی مالیت کا سونا “ ۱؎ ۔ ایک شخص نے سفیان ثوری سے کہا : شعبہ تو حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے ؟ سفیان ثوری نے کہا کہ یہ حدیث ہم سے زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمٰن کے واسطے سے روایت کی ہے ۔
Chapter 27: For whom is charity permissible - كتاب الزكاة
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لاَ تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ إِلاَّ لِخَمْسَةٍ لِعَامِلٍ عَلَيْهَا أَوْ لِغَازٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ لِغَنِيٍّ اشْتَرَاهَا بِمَالِهِ أَوْ فَقِيرٍ تُصُدِّقَ عَلَيْهِ فَأَهْدَاهَا لِغَنِيٍّ أَوْ غَارِمٍ " .
Abu Sa'eed Al-Khudri narrated that:
the Messenger of Allah said: “Charity is not permissible for a rich man except in five cases: One who is appointed to collect it, a warrior fighting in the cause of Allah, a rich man who buys it with his own money, a poor man who receives the charity and gives it as a gift to a rich man, and a debtor.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں ہے مگر پانچ آدمیوں کے لیے : زکاۃ وصول کرنے والے کے لیے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لیے ، یا ایسے مالدار کے لیے جس نے اپنے پیسے سے اسے خرید لیا ہو ، یا کوئی فقیر ہو جس پر صدقہ کیا گیا ہو ، پھر وہ کسی مالدار کو اسے ہدیہ کر دے ، ( تو اس مالدار کے لیے وہ زکاۃ حلال ہے ) یا وہ جو مقروض ہو ۔
he heard Abu Hurairah say: “The Messenger of Allah said: 'No one gives charity from good sources - for Allah does not accept anything but that which is good - but the Most Merciful takes it in His right hand, even if it is a date, and it flourishes in the Hand of the Most Merciful until it becomes bigger than a mountain and he tends it as anyone of you would tend to his colt (i.e., young pony) or his young (weaned) camel.'”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” جو شخص حلال مال سے صدقہ دے ، اور اللہ تعالیٰ تو حلال ہی قبول کرتا ہے ، اس کے صدقہ کو دائیں ہاتھ میں لیتا ہے ، گرچہ وہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو ، پھر وہ صدقہ رحمن کی ہتھیلی میں بڑھتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ پہاڑ سے بھی بڑا ہو جاتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کو ایسے ہی پالتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی اپنے گھوڑے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے “ ۱؎ ۔
the Messenger of Allah said: “Each one of you will be spoken to by his lord, with no mediator between them. He will look in from of him and the fire will be facing him. He will look to his right and will not see anything but something that he had sent on before. He will look to his left and will not see anything but something that he had sent on before. Whoeever among you can save himself in Fire, even with half a date, let him do so.”
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تم میں سے ہر شخص سے قیامت کے دن کلام کرے گا ، اور دونوں کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہو گا ، وہ اپنے سامنے دیکھے گا تو آگ ہو گی ، دائیں جانب دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا کچھ نہ پائے گا ، اور بائیں دیکھے گا تو اپنے اعمال کے سوا ادھر بھی کچھ نہ دیکھے گا ، لہٰذا تم میں سے جو جہنم سے بچ سکے تو اپنے بچاؤ کا سامان کرے ، اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی صدقہ کر کے “ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ بِنْتِ صُلَيْعٍ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ وَهِيَ عَلَى ذِي الْقَرَابَةِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ " .
Salman bin Amir Dabbi narrated that:
the Messenger of Allah said: “Charity given to the poor is charity, and that given to a relative is two things: charity and upholding the ties of kinship.”
سلمان بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسکین و فقیر کو صدقہ دینا ( صرف ) صدقہ ہے ، اور رشتہ دار کو صدقہ دینا دو چیز ہے ، ایک صدقہ اور دوسری صلہ رحمی “ ۔