Chapter 52: What was narrated concerning the prohibition of striking one’s cheeks and tearing one’s garment - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ .
It was
narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ)
cursed the
woman who scratches her face and rends her garment and
cries that she
is doomed (i.e. because of the death of this person).
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے ، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے ۔
Chapter 52: What was narrated concerning the prohibition of striking one’s cheeks and tearing one’s garment - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي، بُرْدَةَ قَالاَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ:
" أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ " .
‘Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah said:
“When Abu Musa fell
sick, his wife Umm ‘Abdullah started to wail loudly. He woke up and
said to her: ‘Do you not know that I am innocent of those whom the
Messenger of Allah (ﷺ) declared innocence of?’ And he told her
that
the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am innocent of those who
shave
their heads, raise their voices and tear their garments (at
times of
calamity).’”
عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی ، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں ، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا : کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے ، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے ، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎ “ ۔
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ " .
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
It was
narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) was
attending a
funeral. ‘Umar saw a woman and shouted at her, but the
Prophet
(ﷺ) said, “Leave her alone, O ‘Umar, for the eye weeps and
the
heart is afflicted, and the bereavement is recent.”
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے ، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے ، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اسے چھوڑ دو ، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے ، جان مصیبت میں ہے ، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے “ ۱؎ ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے ۔
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْضِي فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ " لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ " . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ . قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ كَأَنَّهُ شَنَّةٌ . قَالَ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: " الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ " .
Usamah
bin Zaid said:
“The son of one of the daughters of the
Messenger of
Allah (ﷺ) was dying. She sent for him, asking him to
come to her,
and he sent word to her, saying: ‘To Allah belongs what
He has
taken and to Him belongs what He has given. Everything has an
appointed time with Him, so be patient and seek reward.’ But she
sent
for him again, adjuring him to come. So the Messenger of Allah
(ﷺ)
got up, and I got up with him, as did Mu’adh bin Jabal, Ubayy
bin Ka’b
and ‘Ubadah bin Samit. When we entered they handed the
child to the
Messenger of Allah (ﷺ), and his soul was rattling in
his chest.” I
think he was that it was like a water skin. “The
Messenger of Allah
(ﷺ) wept, and ‘Ubadah bin Samit said to him:
‘What is this, O
Messenger of Allah?’ He said: ‘It is
compassion which Allah has
created in the son of Adam. Allah only
shows mercy to those of His
slaves who are compassionate.’”
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا : ” جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے ، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے ، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے ، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں “ لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا ، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا ، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل ، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے ، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا ، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی ، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا : ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎ “ ۔
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ وَإِمَّا عُمَرُ - أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهَ حَقَّهُ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ لَوْلاَ أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ وَأَنَّ الآخِرَ تَابِعٌ لِلأَوَّلِ لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ " .
It was
narrated that Asma’ bint Yazid said:
“When Ibrahim, the son of
the Messenger of Allah (ﷺ), died, the Messenger of Allah (ﷺ)
wept.
The one who was consoling him, either Abu Bakr or ‘Umar, said
to him:
‘You are indeed the best of those who glorify Allah with
what is due
to him.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The eye
weeps and the
heart grieves, but we do not say anything that angers
the Lord. Were
it not that death is something that inevitably comes
to all, and that
the latter will surely join the former, then we
would have been more
than we are, verily we grieve for you.’”
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے ، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا : آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آنکھ روتی ہے ، دل غمگین ہوتا ہے ، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو ، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا ، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے ، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا ، تو اے ابراہیم ! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے ، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎ “ ۔
It was
narrated from Hamnah bint Jahsh that it was said to her:
“Your
brother has been killed.” She said: “May Allah have mercy on him.
Inna
lillahi wa inna ilayhi raji’un (Truly, to Allah we belong and
truly,
to Him we shall return).” They said: “Your husband has
been killed.”
She said: “O grief!” The Messenger of Allah (ﷺ)
said: “The woman has
a strong love for her husband, which she does
not have for anything
else.”
حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ان سے کہا گیا : آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ” ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں “ لوگوں نے بتایا : آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے ، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا : ہائے غم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا “ ۔
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " لَكِنَّ حَمْزَةَ لاَ بَوَاكِيَ لَهُ " . فَجَاءَ نِسَاءُ الأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ " وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ؟ مُرُوهُنَّ فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلاَ يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ " .
It was
narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ)
passed by
some women of ‘Abdul-Ashhal who were weeping for their slain
on the
Day of Uhud. The Messenger of Allah (ﷺ) said:
“But there is
no
one to weep for Hamzah.” So the women of Ansar started to weep for
Hamzah. The Messenger of Allah (ﷺ) woke up and said, ‘Woe to
them,
have they not gone home yet? Tell them to go home and not to
weep for
anyone who dies after this day.’”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قبیلہ ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے ، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں “ ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں ، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے ، تو فرمایا : ” ان عورتوں کا برا ہو ، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں ؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں “ ۔
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمَرَاثِي .
It was
narrated that Ibn Abi Awfa said:
“The Messenger of Allah (ﷺ)
forbade eulogies.”
عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
Chapter 54: What was narrated concerning the deceased being punished for the wailing over him - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، . أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ إِذَا قَالُوا وَاعَضُدَاهْ وَاكَاسِيَاهْ . وَانَاصِرَاهْ وَاجَبَلاَهْ وَنَحْوَ هَذَا - يُتَعْتَعُ وَيُقَالُ أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ " . قَالَ أَسِيدٌ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ {وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى } . قَالَ وَيْحَكَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى؟
It was
narrated from Asid bin Abu Asid, from Musa bin Abu Musa Ash’ari,
from his father that the Prophet (ﷺ) said:
“The deceased is
punished for the weeping of the living. If they say: ‘O my
strength, O he who clothed us, O my help, O my rock,’ and so on, he
is rebuked and it is said: ‘Were you really like that? Were you
really like that?’” Asid said: "I said: 'Subhan-Allah! Allah says: "And no bearer of burdens shall another's burden (35:18)." He said: "Woe to you, I tell you that Abu Musa narrated to me from the Messenger of Allah (ﷺ), and you think that Abu Musa was telling lies about the Prophet (ﷺ)? Or do you think that I am telling lies about Abu Musa?"
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، جب لوگ کہتے ہیں : «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ” ہائے میرے بازو ، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے ، ہائے میری مدد کرنے والے ، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور “ اور اس طرح کے دوسرے کلمات ، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے : کیا تو ایسا ہی تھا ؟ کیا تو ایسا ہی تھا ؟ “ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا : سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے : «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا “ تو انہوں ( موسیٰ ) نے کہا : تمہارے اوپر افسوس ہے ، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے ؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے ؟ ۔
Chapter 54: What was narrated concerning the deceased being punished for the wailing over him - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ. فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكُونَ عَلَيْهَا قَالَ:
" فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا " .
It was
narrated that ‘Aishah said:
“A Jewish woman had died, and the
Prophet (ﷺ) heard the weeping for her. He said: ‘Her family is
weeping for her, and she is being punished in her grave.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا ، تو فرمایا : ” اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے “ ۔
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ:
" يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ " .
It was
narrated from Abu Umamah that the Prophet (ﷺ) said:
“Allah
says:
‘O son of Adam! If you are patient and seek reward at the moment
of
first shock, I will not approve of any reward for you less than
Paradise.’”
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے آدمی ! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو ، اور ثواب کی نیت رکھو ، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا “ ۔
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهَا أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ:
" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ قَوْلِهِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعُضْنِي مِنْهَا - إِلاَّ آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا " . قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا . فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَعُضْنِي خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي: أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا ـ صلى الله عليه وسلم ـ . وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي .
It was
narrated from Umm Salamah that Abu Salamah told her that he
heard the
Messenger of Allah (ﷺ) say:
“There is no Muslim who is
stricken
with a calamity and reacts by saying as Allah has commanded:
‘Inna
lillahi, wa inna ilayhi raji’un. Allahumma indaka ahtasabtu
musibati, fajurni fiha, wa ‘awwidni minha (Truly, to Allah we belong
and truly, to Him we shall return. O Allah, with You I seek reward
for
my calamity, so reward me for it and compensate me),’ but Allah
will
reward him for that and compensate him with something better
than it.”
She said: “When Abu Salamah died, I remembered what he
had told me
from the Messenger of Allah (ﷺ) and I said: ‘Inna
lillahi, wa inna
ilayhi raji’un. Allahumma indaka ahtasabtu
musibati, fajurni alaiha
(Truly, to Allah we belong and truly, to Him
we shall return. O Allah,
with You I seek reward for my calamity, so
reward me for it).’ But
when I wanted to say wa ‘awwidni minha
(and compensate me with
better), I said to myself: ‘How can I be
compensated with something
better than Abu Salamah?’ Then I said
it, and Allah compensated me
with Muhammad (ﷺ) and rewarded me for
my calamity.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا : انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے ، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ” ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا ، تو مجھے اس میں اجر دے ، اور مجھے اس کا بدلہ دے “ جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا ، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا “ ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی ، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی ، چنانچہ میں نے کہا : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» ” مجھے اس سے بہتر بدلا دے “ کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا : کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے ؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا ۔
“The Messenger of Allah (ﷺ)
opened
a door that was between him and the people or drew back a
curtain and
he saw the people praying behind Abu Bakr. He praised
Allah for what
he saw of their good situation and hoped that Allah
succeed him by
what he saw in them.* He said: ‘O people, whoever among
the people
or among the believers is stricken with a calamity, then
let him
console himself with the loss of me, for no one among my
nation will
be stricken with any calamity worse than my loss.’”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا ، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا ، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا ، اور فرمایا : ” اے لوگو ! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے ، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے ، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو “ ۱؎ ۔
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا - وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا - كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ " .
It was
narrated from Fatimah bint Husain that her father said:
The
Prophet
(ﷺ) said: “Whoever was stricken with a calamity and when he
remembers it he says ‘Inna lillahi, wa inna ilayhi raji’un
(Truly, to
Allah we belong and truly, to Him we shall return),’
even though it
happened a long time ago, Allah will record for him a
reward like that
of the day it befell him.”
حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو ، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے : «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے ، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی ۱؎ “ ۔
Qais,
Abu ‘Umarah, the freed slave of the Ansar, said:
“I heard
‘Abdullah bin Abu Bakr bin Muhammad bin ‘Amr bin Hazm narrating
from
his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said:
‘There
is no believer who consoles for his brother for a calamity,
but Allah
will clothe him with garments of honor on the Day of
Resurrection.’”
محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا “ ۔
“I heard the Messenger of Allah (ﷺ)
say:
‘There is no Muslim, three of whose children die before reaching
the age of puberty, but they will meet him at the eight gates of
Paradise and whichever one he wants he will enter through it.’”
عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس مسلمان کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں ، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے ، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ۱؎ “ ۔
Chapter 57: What was narrated concerning the reward of one who (loses) his child - كتاب الجنائز
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ " .
It was
narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) said:
“There
are no two Muslims (mother and father), three of whose children
die
before reaching the age of puberty, but Allah will admit them to
Paradise by virtue of His mercy towards them.”
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا “ ۔
It was
narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“Whoever sends fourth three of his children who had not reached
the
age of puberty, they will be a strong fortification for him
against
the Fire.” Abu Dharr said: “I sent forth two.” He said: “And
two” Ubayy bin Ka’b, the chief of the reciters, said: “I sent
forth
one.” He said: “Even one.”
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے ، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے “ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اور دو بھی “ ، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور ایک بھی “ ۔