Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 6

Chapters Regarding Funerals

كتاب الجنائز

From Sunan Ibn Majah - showing 25 of 205 hadiths in this chapter

Hadith 1583
Chapter 51: What was narrated concerning the prohibition of wailing - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ تُتْبَعَ جِنَازَةٌ مَعَهَا رَانَّةٌ ‏.‏

It was narrated that Ibn ‘Umar said:

“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade following a funeral that was accompanied by a wailing woman.”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے جنازے کے ساتھ جانے سے منع فرمایا ” جس کے ساتھ کوئی نوحہ کرنے والی عورت ہو “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 151
Hadith 1584
Chapter 52: What was narrated concerning the prohibition of striking one’s cheeks and tearing one’s garment - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ وَضَرَبَ الْخُدُودَ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

“He is not one of us who tears his garments, strikes his cheeks, and cries with the cry of the Days of Ignorance.’”

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص ( نوحہ میں ) گریبان پھاڑے ، منہ پیٹے ، اور جاہلیت کی پکار پکارے ، وہ ہم میں سے نہیں ہے “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 152
Hadith 1585
Chapter 52: What was narrated concerning the prohibition of striking one’s cheeks and tearing one’s garment - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ كَرَامَةَ، قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَالْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ لَعَنَ الْخَامِشَةَ وَجْهَهَا وَالشَّاقَّةَ جَيْبَهَا وَالدَّاعِيَةَ بِالْوَيْلِ وَالثُّبُورِ ‏.‏

It was narrated from Abu Umamah that the Messenger of Allah (ﷺ) cursed the woman who scratches her face and rends her garment and cries that she is doomed (i.e. because of the death of this person).

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا ( نوحہ میں ) چہرہ نوچے ، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 153
Hadith 1586
Chapter 52: What was narrated concerning the prohibition of striking one’s cheeks and tearing one’s garment - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي الْعُمَيْسِ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَخْرَةَ، يَذْكُرُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، وَأَبِي، بُرْدَةَ قَالاَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى أَقْبَلَتِ امْرَأَتُهُ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ تَصِيحُ بِرَنَّةٍ فَأَفَاقَ فَقَالَ لَهَا: أَوَ مَا عَلِمْتِ أَنِّي بَرِيءٌ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَكَانَ يُحَدِّثُهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: ‏ "‏ أَنَا بَرِيءٌ مِمَّنْ حَلَقَ وَسَلَقَ وَخَرَقَ ‏"‏ ‏.‏

‘Abdur-Rahman bin Yazid and Abu Burdah said:

“When Abu Musa fell sick, his wife Umm ‘Abdullah started to wail loudly. He woke up and said to her: ‘Do you not know that I am innocent of those whom the Messenger of Allah (ﷺ) declared innocence of?’ And he told her that the Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘I am innocent of those who shave their heads, raise their voices and tear their garments (at times of calamity).’”

عبدالرحمٰن بن یزید اور ابوبردہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

جب ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی بیماری شدید ہو گئی ، تو ان کی بیوی ام عبداللہ چلّا چلّا کر رونے لگیں ، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے بیوی سے کہا : کیا تم نہیں جانتی کہ میں اس شخص سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بری ہوئے ، اور وہ اپنی بیوی سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں اس سے بری ہوں جو مصیبت کے وقت سر منڈائے ، روئے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 154
Hadith 1587
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كَانَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى عُمَرُ امْرَأَةً فَصَاحَ بِهَا فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ دَعْهَا يَا عُمَرُ فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ وَالنَّفْسَ مُصَابَةٌ وَالْعَهْدَ قَرِيبٌ ‏"‏ ‏.‏ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الأَزْرَقِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ ‏.‏

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) was attending a funeral. ‘Umar saw a woman and shouted at her, but the Prophet (ﷺ) said, “Leave her alone, O ‘Umar, for the eye weeps and the heart is afflicted, and the bereavement is recent.”

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے ، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے ، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اسے چھوڑ دو ، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے ، جان مصیبت میں ہے ، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے “ ۱؎ ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 155
Hadith 1588
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الأَحْوَلُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ كَانَ ابْنٌ لِبَعْضِ بَنَاتِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقْضِي فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أَنْ يَأْتِيَهَا فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا أَنَّ ‏"‏ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلُّ شَىْءٍ عِنْدَهُ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَأَقْسَمَتْ عَلَيْهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَقُمْتُ مَعَهُ وَمَعَهُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَعُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ فَلَمَّا دَخَلْنَا نَاوَلُوا الصَّبِيَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَرُوحُهُ تَقَلْقَلُ فِي صَدْرِهِ ‏.‏ قَالَ حَسِبْتُهُ قَالَ كَأَنَّهُ شَنَّةٌ ‏.‏ قَالَ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ‏"‏ الرَّحْمَةُ الَّتِي جَعَلَهَا اللَّهُ فِي بَنِي آدَمَ وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ ‏"‏ ‏.‏

Usamah bin Zaid said:

“The son of one of the daughters of the Messenger of Allah (ﷺ) was dying. She sent for him, asking him to come to her, and he sent word to her, saying: ‘To Allah belongs what He has taken and to Him belongs what He has given. Everything has an appointed time with Him, so be patient and seek reward.’ But she sent for him again, adjuring him to come. So the Messenger of Allah (ﷺ) got up, and I got up with him, as did Mu’adh bin Jabal, Ubayy bin Ka’b and ‘Ubadah bin Samit. When we entered they handed the child to the Messenger of Allah (ﷺ), and his soul was rattling in his chest.” I think he was that it was like a water skin. “The Messenger of Allah (ﷺ) wept, and ‘Ubadah bin Samit said to him: ‘What is this, O Messenger of Allah?’ He said: ‘It is compassion which Allah has created in the son of Adam. Allah only shows mercy to those of His slaves who are compassionate.’”

اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی بیٹی کا ایک لڑکا مرنے کے قریب تھا ، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب میں کہلا بھیجا : ” جو لے لیا وہ اللہ ہی کا ہے ، اور جو دے دیا وہ بھی اللہ ہی کا ہے ، اور اس کے پاس ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے ، انہیں چاہیئے کہ صبر کریں اور ثواب کی امید رکھیں “ لڑکی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ بلا بھیجا ، اور قسم دلائی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضرور تشریف لائیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، آپ کے ساتھ میں بھی اٹھا ، آپ کے ساتھ معاذ بن جبل ، ابی بن کعب اور عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہم بھی تھے ، جب ہم گھر میں داخل ہوئے تو لوگ بچے کو لے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا ، بچے کی جان اس کے سینے میں اتھل پتھل ہو رہی تھی ، ( راوی نے کہا کہ میں گمان کرتا ہوں یہ بھی کہا : ) گویا وہ پرانی مشک ہے ( اور اس میں پانی ہل رہا ہے ) : یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے ، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان میں رکھی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اپنے رحم دل بندوں ہی پر رحم کرتا ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 156
Hadith 1589
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، قَالَتْ لَمَّا تُوُفِّيَ ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِبْرَاهِيمُ بَكَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ لَهُ الْمُعَزِّي - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ وَإِمَّا عُمَرُ - أَنْتَ أَحَقُّ مَنْ عَظَّمَ اللَّهَ حَقَّهُ ‏.‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ تَدْمَعُ الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ وَلاَ نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ لَوْلاَ أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَمَوْعُودٌ جَامِعٌ وَأَنَّ الآخِرَ تَابِعٌ لِلأَوَّلِ لَوَجَدْنَا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَفْضَلَ مِمَّا وَجَدْنَا وَإِنَّا بِكَ لَمَحْزُونُونَ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated that Asma’ bint Yazid said:

“When Ibrahim, the son of the Messenger of Allah (ﷺ), died, the Messenger of Allah (ﷺ) wept. The one who was consoling him, either Abu Bakr or ‘Umar, said to him: ‘You are indeed the best of those who glorify Allah with what is due to him.’ The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘The eye weeps and the heart grieves, but we do not say anything that angers the Lord. Were it not that death is something that inevitably comes to all, and that the latter will surely join the former, then we would have been more than we are, verily we grieve for you.’”

اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہما کہتی ہیں کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحب زادے ابراہیم کا انتقال ہو گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے ، آپ سے تعزیت کرنے والے نے ( وہ یا تو ابوبکر تھے یا عمر رضی اللہ عنہما ) کہا : آپ سب سے زیادہ اللہ کے حق کو بڑا جاننے والے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آنکھ روتی ہے ، دل غمگین ہوتا ہے ، اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جس سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہو ، اور اگر قیامت کا وعدہ سچا نہ ہوتا ، اور اس وعدہ میں سب جمع ہونے والے نہ ہوتے ، اور بعد میں مرنے والا پہلے مرنے والے کے پیچھے نہ ہوتا ، تو اے ابراہیم ! ہم اس رنج سے زیادہ تم پر رنج کرتے ، ہم تیری جدائی سے رنجیدہ ہیں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 157
Hadith 1590
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَحْشٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ، أَنَّهُ قِيلَ لَهَا قُتِلَ أَخُوكِ ‏.‏ فَقَالَتْ رَحِمَهُ اللَّهُ وَإِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ‏.‏ قَالُوا قُتِلَ زَوْجُكِ ‏.‏ قَالَتْ وَاحُزْنَاهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّ لِلزَّوْجِ مِنَ الْمَرْأَةِ لَشُعْبَةً مَا هِيَ لِشَىْءٍ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Hamnah bint Jahsh that it was said to her:

“Your brother has been killed.” She said: “May Allah have mercy on him. Inna lillahi wa inna ilayhi raji’un (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return).” They said: “Your husband has been killed.” She said: “O grief!” The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The woman has a strong love for her husband, which she does not have for anything else.”

حمنہ بنت حجش رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

ان سے کہا گیا : آپ کا بھائی قتل کر دیا گیا ہے تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، «إنا لله وإنا إليه راجعون» ” ہم اللہ کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں “ لوگوں نے بتایا : آپ کے شوہر قتل کر دئیے گئے ، یہ سنتے ہی انہوں نے کہا : ہائے غم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوی کو شوہر سے ایک ایسا قلبی لگاؤ ہوتا ہے جو دوسرے کسی سے نہیں ہوتا “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 158
Hadith 1591
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ لَكِنَّ حَمْزَةَ لاَ بَوَاكِيَ لَهُ ‏"‏ ‏.‏ فَجَاءَ نِسَاءُ الأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏"‏ وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ؟ مُرُوهُنَّ فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلاَ يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Ibn ‘Umar that the Messenger of Allah (ﷺ) passed by some women of ‘Abdul-Ashhal who were weeping for their slain on the Day of Uhud. The Messenger of Allah (ﷺ) said:

“But there is no one to weep for Hamzah.” So the women of Ansar started to weep for Hamzah. The Messenger of Allah (ﷺ) woke up and said, ‘Woe to them, have they not gone home yet? Tell them to go home and not to weep for anyone who dies after this day.’”

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قبیلہ ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے ، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں “ ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں ، اور حمزہ رضی اللہ عنہ پر رونے لگیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے ، تو فرمایا : ” ان عورتوں کا برا ہو ، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں ؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 159
Hadith 1592
Chapter 53: What was narrated concerning weeping for the deceased - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنِ الْمَرَاثِي ‏.‏

It was narrated that Ibn Abi Awfa said:

“The Messenger of Allah (ﷺ) forbade eulogies.”

عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں پر مرثیہ خوانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 160
Hadith 1593
Chapter 54: What was narrated concerning the deceased being punished for the wailing over him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، ح: وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالاَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ح: وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ، وَوَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: ‏ "‏ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from ‘Umar bin Khattab that the Prophet (ﷺ) said:

“The deceased is punished for the wailing over him.”

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میت پر نوحہ کرنے کی وجہ سے اسے عذاب دیا جاتا ہے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 161
Hadith 1594
Chapter 54: What was narrated concerning the deceased being punished for the wailing over him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَسِيدُ بْنُ أَبِي أَسِيدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، ‏.‏ أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏"‏ الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَىِّ إِذَا قَالُوا وَاعَضُدَاهْ وَاكَاسِيَاهْ ‏.‏ وَانَاصِرَاهْ وَاجَبَلاَهْ وَنَحْوَ هَذَا - يُتَعْتَعُ وَيُقَالُ أَنْتَ كَذَلِكَ أَنْتَ كَذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَسِيدٌ فَقُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ ‏{وَلاَ تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى }‏ ‏.‏ قَالَ وَيْحَكَ أُحَدِّثُكَ أَنَّ أَبَا مُوسَى حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَتَرَى أَنَّ أَبَا مُوسَى كَذَبَ عَلَى النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَوْ تَرَى أَنِّي كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى؟

It was narrated from Asid bin Abu Asid, from Musa bin Abu Musa Ash’ari, from his father that the Prophet (ﷺ) said:

“The deceased is punished for the weeping of the living. If they say: ‘O my strength, O he who clothed us, O my help, O my rock,’ and so on, he is rebuked and it is said: ‘Were you really like that? Were you really like that?’” Asid said: "I said: 'Subhan-Allah! Allah says: "And no bearer of burdens shall another's burden (35:18)." He said: "Woe to you, I tell you that Abu Musa narrated to me from the Messenger of Allah (ﷺ), and you think that Abu Musa was telling lies about the Prophet (ﷺ)? Or do you think that I am telling lies about Abu Musa?"

ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مردے کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، جب لوگ کہتے ہیں : «واعضداه واكاسياه. واناصراه واجبلاه» ” ہائے میرے بازو ، ہائے میرے کپڑے پہنانے والے ، ہائے میری مدد کرنے والے ، ہائے پہاڑ جیسے قوی و طاقتور “ اور اس طرح کے دوسرے کلمات ، تو اسے ڈانٹ کر کہا جاتا ہے : کیا تو ایسا ہی تھا ؟ کیا تو ایسا ہی تھا ؟ “ اسید کہتے ہیں کہ میں نے کہا : سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے : «ولا تزر وازرة وزر أخرى» ” کوئی کسی کا بوجھ نہ اٹھائے گا “ تو انہوں ( موسیٰ ) نے کہا : تمہارے اوپر افسوس ہے ، میں تم سے بیان کرتا ہوں کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان فرمائی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ باندھا ہے ؟ یا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں نے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ پر جھوٹ باندھا ہے ؟ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 162
Hadith 1595
Chapter 54: What was narrated concerning the deceased being punished for the wailing over him - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ. فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَبْكُونَ عَلَيْهَا قَالَ: ‏ "‏ فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا ‏"‏ ‏.‏

It was narrated that ‘Aishah said:

“A Jewish woman had died, and the Prophet (ﷺ) heard the weeping for her. He said: ‘Her family is weeping for her, and she is being punished in her grave.’”

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

ایک یہودی عورت کا انتقال ہو گیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا ، تو فرمایا : ” اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 163
Hadith 1596
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Anas bin Malik that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

"Patience should come with the first shock."

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صبر تو وہ ہے جو مصیبت کے اول وقت میں ہو “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 164
Hadith 1597
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عَجْلاَنَ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ: ‏ "‏ يَقُولُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ: ابْنَ آدَمَ إِنْ صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Abu Umamah that the Prophet (ﷺ) said:

“Allah says: ‘O son of Adam! If you are patient and seek reward at the moment of first shock, I will not approve of any reward for you less than Paradise.’”

ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے آدمی ! اگر تم مصیبت پڑتے ہی صبر کرو ، اور ثواب کی نیت رکھو ، تو میں جنت سے کم ثواب پر تمہارے لیے راضی نہیں ہوں گا “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 165
Hadith 1598
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ، حَدَّثَهَا أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ: ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَفْزَعُ إِلَى مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ مِنْ قَوْلِهِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا وَعُضْنِي مِنْهَا - إِلاَّ آجَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا وَعَاضَهُ خَيْرًا مِنْهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ ذَكَرْتُ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقُلْتُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي هَذِهِ فَأْجُرْنِي عَلَيْهَا ‏.‏ فَإِذَا أَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَعُضْنِي خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي: أُعَاضُ خَيْرًا مِنْ أَبِي سَلَمَةَ ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا فَعَاضَنِي اللَّهُ مُحَمَّدًا ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏.‏ وَآجَرَنِي فِي مُصِيبَتِي ‏.‏

It was narrated from Umm Salamah that Abu Salamah told her that he heard the Messenger of Allah (ﷺ) say:

“There is no Muslim who is stricken with a calamity and reacts by saying as Allah has commanded: ‘Inna lillahi, wa inna ilayhi raji’un. Allahumma indaka ahtasabtu musibati, fajurni fiha, wa ‘awwidni minha (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return. O Allah, with You I seek reward for my calamity, so reward me for it and compensate me),’ but Allah will reward him for that and compensate him with something better than it.” She said: “When Abu Salamah died, I remembered what he had told me from the Messenger of Allah (ﷺ) and I said: ‘Inna lillahi, wa inna ilayhi raji’un. Allahumma indaka ahtasabtu musibati, fajurni alaiha (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return. O Allah, with You I seek reward for my calamity, so reward me for it).’ But when I wanted to say wa ‘awwidni minha (and compensate me with better), I said to myself: ‘How can I be compensated with something better than Abu Salamah?’ Then I said it, and Allah compensated me with Muhammad (ﷺ) and rewarded me for my calamity.”

ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا : انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس مسلمان کو کوئی مصیبت پیش آئے ، تو وہ گھبرا کر اللہ کے فرمان کے مطابق یہ دعا پڑھے : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» ” ہم اللہ ہی کی ملک ہیں اور اسی کی جانب لوٹ کر جانے والے ہیں ، اے اللہ ! میں نے تجھی سے اپنی مصیبت کا ثواب طلب کیا ، تو مجھے اس میں اجر دے ، اور مجھے اس کا بدلہ دے “ جب یہ دعا پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کا اجر دے گا ، اور اس سے بہتر اس کا بدلہ عنایت کرے گا “ ۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : جب ( میرے شوہر ) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ، تو مجھے وہ حدیث یاد آئی ، جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر مجھ سے بیان کی تھی ، چنانچہ میں نے کہا : «إنا لله وإنا إليه راجعون اللهم عندك احتسبت مصيبتي فأجرني فيها وعضني منها» اور جب «وعضني خيرا منها» ” مجھے اس سے بہتر بدلا دے “ کہنے کا ارادہ کیا تو دل میں سوچا : کیا مجھے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر بدلہ دیا جا سکتا ہے ؟ پھر میں نے یہ جملہ کہا ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بدلہ میں دے دیا اور میری مصیبت کا بہترین اجر مجھے عنایت فرمایا ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 166
Hadith 1599
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السُّكَيْنِ، حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَابًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّاسِ أَوْ كَشَفَ سِتْرًا فَإِذَا النَّاسُ يُصَلُّونَ وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ فَحَمِدَ اللَّهَ عَلَى مَا رَأَى مِنْ حُسْنِ حَالِهِمْ رَجَاءَ أَنْ يَخْلُفَهُ اللَّهُ فِيهِمْ بِالَّذِي رَآهُمْ فَقَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَيُّمَا أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ أَوْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ فَلْيَتَعَزَّ بِمُصِيبَتِهِ بِي عَنِ الْمُصِيبَةِ الَّتِي تُصِيبُهُ بِغَيْرِي فَإِنَّ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِي لَنْ يُصَابَ بِمُصِيبَةٍ بَعْدِي أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ مُصِيبَتِي ‏"‏ ‏.‏

It was narrated that ‘Aishah said:

“The Messenger of Allah (ﷺ) opened a door that was between him and the people or drew back a curtain and he saw the people praying behind Abu Bakr. He praised Allah for what he saw of their good situation and hoped that Allah succeed him by what he saw in them.* He said: ‘O people, whoever among the people or among the believers is stricken with a calamity, then let him console himself with the loss of me, for no one among my nation will be stricken with any calamity worse than my loss.’”

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) ایک دروازہ کھولا جو آپ کے اور لوگوں کے درمیان تھا ، یا پردہ ہٹایا تو دیکھا کہ لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اچھی حالت میں دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کیا ، اور امید کی کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کو ان کے درمیان آپ کے انتقال کے بعد بھی باقی رکھے گا ، اور فرمایا : ” اے لوگو ! لوگوں میں سے یا مومنوں میں سے جو کوئی کسی مصیبت میں مبتلا ہو جائے ، تو وہ میری وفات کی مصیبت کو یاد کر کے صبر کرے ، اس لیے کہ میری امت میں سے کسی کو میرے بعد ایسی مصیبت نہ ہو گی جو میری وفات کی مصیبت سے اس پر زیادہ سخت ہو “ ۱؎ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 167
Hadith 1600
Chapter 55: What was narrated concerning bearing calamity with patience - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهَا، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ فَذَكَرَ مُصِيبَتَهُ فَأَحْدَثَ اسْتِرْجَاعًا - وَإِنْ تَقَادَمَ عَهْدُهَا - كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلَهُ يَوْمَ أُصِيبَ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Fatimah bint Husain that her father said:

The Prophet (ﷺ) said: “Whoever was stricken with a calamity and when he remembers it he says ‘Inna lillahi, wa inna ilayhi raji’un (Truly, to Allah we belong and truly, to Him we shall return),’ even though it happened a long time ago, Allah will record for him a reward like that of the day it befell him.”

حسین بن علی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جسے کوئی مصیبت پیش آئی ہو ، پھر وہ اسے یاد کر کے نئے سرے سے : «إنا لله وإنا إليه راجعون» کہے ، اگرچہ مصیبت کا زمانہ پرانا ہو گیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھے گا جتنا اس دن لکھا تھا جس دن اس کو یہ مصیبت پیش آئی تھی ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 168
Hadith 1601
Chapter 56: What was narrated concerning the reward for one who consoles a person afflicted by calamity - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنِي قَيْسٌ أَبُو عُمَارَةَ، مَوْلَى الأَنْصَارِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَزِّي أَخَاهُ بِمُصِيبَةٍ إِلاَّ كَسَاهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ مِنْ حُلَلِ الْكَرَامَةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏"‏ ‏.‏

Qais, Abu ‘Umarah, the freed slave of the Ansar, said:

“I heard ‘Abdullah bin Abu Bakr bin Muhammad bin ‘Amr bin Hazm narrating from his father, from his grandfather, that the Prophet (ﷺ) said: ‘There is no believer who consoles for his brother for a calamity, but Allah will clothe him with garments of honor on the Day of Resurrection.’”

محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو کسی مصیبت میں تسلی دے ، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے عزت کا جوڑا پہنائے گا “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 169
Hadith 1602
Chapter 56: What was narrated concerning the reward for one who consoles a person afflicted by calamity - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُوقَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ مَنْ عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated that ‘Abdullah said:

“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever consoles a person stricken by calamity will have a reward equal to his.’”

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی مصیبت زدہ کو تسلی دے ، تو اسے بھی اتنا ہی ثواب ملے گا ( جتنا مصیبت زدہ کو ملے گا ) “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 170
Hadith 1603
Chapter 57: What was narrated concerning the reward of one who (loses) his child - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ لاَ يَمُوتُ لِرَجُلٍ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلاَّ تَحِلَّةَ الْقَسَمِ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said:

“No man who loses three of his children will ever enter the Fire, except in fulfillment of the oath (of Allah).”*

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے تین بچے انتقال کر جائیں ، وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا مگر قسم پوری کرنے کے لیے ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 171
Hadith 1604
Chapter 57: What was narrated concerning the reward of one who (loses) his child - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا حَرِيزُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ، قَالَ لَقِيَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ السُّلَمِيُّ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ: ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ ‏"‏ ‏.‏

‘Utbah bin ‘Abd Sulami said:

“I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: ‘There is no Muslim, three of whose children die before reaching the age of puberty, but they will meet him at the eight gates of Paradise and whichever one he wants he will enter through it.’”

عتبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” جس مسلمان کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں ، تو وہ اس کو جنت کے آٹھوں دروازوں سے استقبال کریں گے ، جس میں سے چاہے وہ داخل ہو ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 172
Hadith 1605
Chapter 57: What was narrated concerning the reward of one who (loses) his child - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ ‏ "‏ مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلاَثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلاَّ أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَةِ اللَّهِ إِيَّاهُمْ ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Anas bin Malik that the Prophet (ﷺ) said:

“There are no two Muslims (mother and father), three of whose children die before reaching the age of puberty, but Allah will admit them to Paradise by virtue of His mercy towards them.”

انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس مسلمان مرد و عورت کے تین بچے ( بلوغت سے پہلے ) مر جائیں ، تو اللہ تعالیٰ ایسے والدین اور بچوں کو اپنی رحمت سے جنت میں داخل کرے گا “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 173
Hadith 1606
Chapter 57: What was narrated concerning the reward of one who (loses) his child - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنِ الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏"‏ مَنْ قَدَّمَ ثَلاَثَةً مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ كَانُوا لَهُ حِصْنًا حَصِينًا مِنَ النَّارِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: قَدَّمْتُ اثْنَيْنِ ‏.‏ قَالَ: ‏"‏ وَاثْنَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ أَبُو الْمُنْذِرِ سَيِّدُ الْقُرَّاءِ: قَدَّمْتُ وَاحِدًا ‏.‏ قَالَ" ‏"‏ وَوَاحِدًا ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from ‘Abdullah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

“Whoever sends fourth three of his children who had not reached the age of puberty, they will be a strong fortification for him against the Fire.” Abu Dharr said: “I sent forth two.” He said: “And two” Ubayy bin Ka’b, the chief of the reciters, said: “I sent forth one.” He said: “Even one.”

عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے تین نابالغ بچے آگے بھیجے ، تو وہ اس کے لیے جہنم سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے “ ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے دو بچے آگے بھیجے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” اور دو بھی “ ، پھر قاریوں کے سردار ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے تو ایک ہی آگے بھیجا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اور ایک بھی “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 174
Hadith 1607
Chapter 58: What was narrated concerning one who suffers from a miscarriage - كتاب الجنائز

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ‏ "‏ لَسِقْطٌ أُقَدِّمُهُ بَيْنَ يَدَىَّ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ فَارِسٍ أُخَلِّفُهُ خَلْفِي ‏"‏ ‏.‏

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:

‘A miscarried fetus sent before me is dearer to me than a horseman whom I leave behind.”

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناتمام بچہ جسے میں آگے بھیجوں ، میرے نزدیک اس سوار سے زیادہ محبوب ہے جسے میں پیچھے چھوڑ جاؤں ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 6, Hadith 175
Page 7 of 9

Showing 25 hadiths on this page (Total: 205 hadiths in Sunan Ibn Majah)

First Previous Page 7 of 9 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00