"The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.'" [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were)."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے ، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ” ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے “ ( يسين : 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۱؎ ۔
Chapter 17: Severe warning Against Missing Prayer In Congregation - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلاً فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ ثُمَّ أَنْطَلِقَ بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " .
It was narrated that Abu Hurairah said:
"The Messenger of Allah said: 'I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے ، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے ، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو ، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں ، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں “ ۱؎ ۔
"I said to the Prophet: 'I am an old man and blind; my house is far away, and I have no one to lead me. Is there any concession (for me not to have to attend the prayer in the mosque)?' He said: 'Can you hear the call?' I said: 'Yes.' He said: 'Then I do not find any concession for you.'"
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں بوڑھا اور نابینا ہوں ، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے ، تو کیا آپ میرے لیے ( جماعت سے غیر حاضری کی ) کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اذان سنتے ہو ؟ “ ، میں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا “ ۱؎ ۔
Chapter 17: Severe warning Against Missing Prayer In Congregation - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، وَابْنُ، عُمَرَ أَنَّهُمَا سَمِعَا النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ عَلَى أَعْوَادِهِ
" لَيَنْتَهِيَنَّ أَقْوَامٌ عَنْ وَدْعِهِمُ الْجَمَاعَاتِ أَوْ لَيَخْتِمَنَّ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ ثُمَّ لَيَكُونُنَّ مِنَ الْغَافِلِينَ " .
Ibn 'Abbas and Ibn 'Umar narrated that:
They heard the Prophet say on his pulpit: "People should desist from failing to attend the congregations, otherwise Allah will seal their hearts, and they will be among the negligent."
عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ
ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : ” لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں ، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا ، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا “ ۱؎ ۔
Chapter 18: Performing The 'Isha' And Fajr Prayers In Congregation - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ، حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي صَلاَةِ الْعِشَاءِ وَصَلاَةِ الْفَجْرِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
'Aishah said:
"The Messenger of Allah said: 'If the people knew what (reward) there is in the 'Isha' prayer and fajr prayer, they would come even if they had to crawl.'"
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر لوگوں کو عشاء اور فجر کی نماز کا ثواب معلوم ہو جائے ، تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور آئیں ، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے “ ۱؎ ۔
Chapter 18: Performing The 'Isha' And Fajr Prayers In Congregation - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِنَّ أَثْقَلَ الصَّلاَةِ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلاَةُ الْعِشَاءِ وَصَلاَةُ الْفَجْرِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
It was narrated that Abu Hurairah said:
"The Messenger of Allah said: 'The most burdensome prayers for the hypocrites are the 'Isha' prayer and the Fajr prayer. If only they knew what (reward) there is in them, they would come to them even if they had to crawl.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” منافقین پر سب سے بھاری عشاء اور فجر کی نماز ہے ، اگر وہ ان دونوں نمازوں کا ثواب جان لیں تو مسجد میں ضرور آئیں گے ، خواہ سرین کے بل گھسٹتے ہوئے کیوں نہ آنا پڑے “ ۔
Chapter 18: Performing The 'Isha' And Fajr Prayers In Congregation - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ
" مَنْ صَلَّى فِي مَسْجِدٍ جَمَاعَةً أَرْبَعِينَ لَيْلَةً لاَ تَفُوتُهُ الرَّكْعَةُ الأُولَى مِنْ صَلاَةِ الْعِشَاءِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا عِتْقًا مِنَ النَّارِ " .
It was narrated from 'Umar bin Khattab that:
The Prophet used to say: "Whoever performs prayer in congregation at the mosque for forty nights, never missing the first Rak'ah of the 'Isha' prayer, Allah will thereby decree for him salvation from the Fire."
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے : ” جس شخص نے مسجد میں چالیس دن تک جماعت کے ساتھ نماز پڑھی ، اور نماز عشاء کی پہلی رکعت فوت نہ ہوئی ، تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس کے لیے جہنم سے آزادی لکھ دے گا “ ۱؎ ۔
"The Messenger of Allah said: 'When one of you enters the mosque, he is in a state of prayer, so long as the prayer keeps him there, and the angels will send prayer upon anyone of you so long as he remains in the place where he prayed, saying: "O Allah, forgive him; O Allah, have mercy on him; O Allah, accept his repentance," so long as he does not commit Hadath nor disturb anyone.'"
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو کر نماز کے لیے رکے رہتا ہے تو وہ نماز ہی میں رہتا ہے ، اور فرشتے اس شخص کے لیے اس وقت تک دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں جب تک وہ اس جگہ بیٹھا رہتا ہے جس جگہ اس نے نماز ادا کی ہے ، وہ کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے بخش دے ، اے اللہ ! اس پر رحم کر ، اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ، یہ دعا یوں ہی جاری رہتی ہے جب تک کہ اس کا وضو نہ ٹوٹے ، اور جب تک وہ ایذا نہ دے “ ۱؎ ۔
Chapter 19: Staying In The Mosques And Awaiting The Prayer - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" مَا تَوَطَّنَ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلاَةِ وَالذِّكْرِ إِلاَّ تَبَشْبَشَ اللَّهُ لَهُ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ " .
It was narrated from Abu Hurairah that:
The Prophet said: "A muslim does not regularly attend the mosques to perform prayer and remember Allah, but Allah feels happy with him just as the family of one who is absent feels happy when he comes back to them."
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو مسلمان مسجد کو نماز اور ذکر الٰہی کے لیے اپنا گھر بنا لے تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسا خوش ہوتا ہے جیسے کہ کوئی شخص بہت دن غائب رہنے کے بعد گھر واپس لوٹے ، تو گھر والے خوش ہوتے ہیں “ ۔
Chapter 19: Staying In The Mosques And Awaiting The Prayer - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ و قَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ
" أَبْشِرُوا هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى " .
It was narrated that 'Abdullah bin 'Amr said:
"We performed the Maghrib (prayer) with the Messenger of Allah, then those who went back went back, and those who stayed, stayed. Then the Messenger of Allah came back in a hurry, out of breath, with his garment pulled up to his knees, and said: 'Be of good cheer, for your Lord has opened one of the gates of heaven and is boasting of you before the angels, saying: "Look at My slaves; they have fulfilled one obligatory duty and are awaiting another."
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، کچھ لوگ واپس چلے گئے ، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے ، آپ کا سانس پھول رہا تھا ، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ! یہ تمہارا رب ہے ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے : فرشتو ! میرے بندوں کو دیکھو ، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے ، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں “ ۱؎ ۔
Chapter 19: Staying In The Mosques And Awaiting The Prayer - كتاب المساجد والجماعات
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَعْتَادُ الْمَسَاجِدَ فَاشْهَدُوا لَهُ بِالإِيمَانِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ} الآيَةَ .
It was narrated from Abu Sa'eed that:
The Messenger of Allah said: "If you see a man frequenting the mosques, then bear witness to his faith. Allah says: 'The mosques of Allah shall be maintained only by those who believe in Allah and the Last Day. [At-Taubah: 18]'"
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم کسی شخص کو مسجد میں ( نماز کے لیے ) پابندی سے آتے جاتے دیکھو تو اس کے ایمان کی شہادت دو “ ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «إنما يعمر مساجد الله من آمن بالله» ” اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پہ ایمان رکھتے ہیں “ ( سورة التوبة : ۱۸ ) ۔