Chapter 8: What is disliked to use for a sacrifice - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ سَمِعَ جُرَىَّ بْنَ كُلَيْبٍ، يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيًّا، يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَهَى أَنْ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالأُذُنِ .
It was
narrated from Qatadah that he said that he heard Juray bin
Kulaib
narrate that he heard ‘Ali narrate that the Messenger of Allah
(ﷺ) forbade sacrificing animals with broken horns and ears.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ ٹوٹے اور کن کٹے جانور کی قربانی سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔
Chapter 9: One who buys a sound, healthy animal then something happens to it while it is in his care - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو بَكْرٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَرَظَةَ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ ابْتَعْنَا كَبْشًا نُضَحِّي بِهِ فَأَصَابَ الذِّئْبُ مِنْ أَلْيَتِهِ أَوْ أُذُنِهِ فَسَأَلْنَا النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَمَرَنَا أَنْ نُضَحِّيَ بِهِ .
It was
narrated that Abu Sa’eed Al-Khudri said:
“We bought a ram for
sacrifice, then a wolf tore some flesh from its rump and ears. We
asked the Prophet (ﷺ) and he told us to offer it as a sacrifice.”
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے قربانی کے لیے ایک مینڈھا خریدا ، پھر بھیڑئیے نے اس کے سرین یا کان کو زخمی کر دیا ، ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس سلسلے میں ) سوال کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسی کی قربانی کریں ۔
Chapter 10: One who offers a sheep on behalf of his family - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ سَأَلْتُ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ كَيْفَ كَانَتِ الضَّحَايَا فِيكُمْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ كَانَ الرَّجُلُ فِي عَهْدِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يُضَحِّي بِالشَّاةِ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ ثُمَّ تَبَاهَى النَّاسُ فَصَارَ كَمَا تَرَى .
It was
narrated that ‘Ata’ bin Yasar said:
“I asked Abu Ayyub
Al-
Ansari: ‘How were sacrifices offered among you at the time of
the
Messenger of Allah (ﷺ)?’ He said: ‘At the time of the
Prophet (ﷺ),
a man would sacrifice a sheep on behalf of himself and
the members of
his household, and they would eat some of it and give
some to others.
Then people started to compete and it because as you
see (nowadays).’”
عطا بن یسار کہتے ہیں کہ میں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آپ لوگوں کی قربانیاں کیسی ہوتی تھیں ؟ تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آدمی اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربانی کرتا تھا تو اسے سارے گھر والے کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے ، پھر لوگ فخر و مباہات کرنے لگے ، تو معاملہ ایسا ہو گیا جو تم دیکھ رہے ہو ۔
“My family started to put
pressure
on me after I came to know the Sunnah. People used to
sacrifice one
or two sheep, but now our neighbors call us stingy.”
ابوسریحہ کہتے ہیں کہ
سنت کا طریقہ معلوم ہو جانے کے بعد بھی ہمارے اہل نے ہمیں زیادتی پر مجبور کیا ، حال یہ تھا کہ ایک گھر والے ایک یا دو بکریوں کی قربانی کرتے تھے ، اور اب ( اگر ہم ایسا کرتے ہیں ) تو ہمارے ہمسائے ہمیں بخیل کہتے ہیں ۱؎ ۔
Chapter 11: The one who wants to offer a sacrifice should not remove anything from his hair or nails during the ten (days at the beginning of Dhul-Hijjah) - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" إِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَأَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يُضَحِّيَ فَلاَ يَمَسَّ مِنْ شَعَرِهِ وَلاَ بَشَرِهِ شَيْئًا " .
It was
narrated from Umm Salamah that the Prophet (ﷺ) said:
“When
the
ten days (of Dhul-Hijjah) begin, and one of you wants to offer a
sacrifice, let him not remove anything from his hair or skin.”
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے اور تم میں کا کوئی قربانی کا ارادہ رکھتا ہو ، تو اسے اپنے بال اور اپنی کھال سے کچھ نہیں چھونا چاہیئے “ ۱؎ ۔
Chapter 11: The one who wants to offer a sacrifice should not remove anything from his hair or nails during the ten (days at the beginning of Dhul-Hijjah) - كتاب الأضاحي
Chapter 12: Prohibition of slaughtering the sacrifices before the (`Id) prayer - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَجُلاً، ذَبَحَ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُعِيدَ .
It was
narrated from Anas bin Malik that a man slaughtered on the Day
of
Sacrifice, (meaning) before the ‘Eid prayer, and the Prophet (ﷺ)
ordered him to do it again.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک شخص نے قربانی کے دن قربانی کر لی یعنی نماز عید سے پہلے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔
Chapter 12: Prohibition of slaughtering the sacrifices before the (`Id) prayer - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ جُنْدَبٍ الْبَجَلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ شَهِدْتُ الأَضْحَى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَذَبَحَ أُنَاسٌ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ كَانَ ذَبَحَ مِنْكُمْ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ أُضْحِيَّتَهُ وَمَنْ لاَ فَلْيَذْبَحْ عَلَى اسْمِ اللَّهِ " .
It was
narrated from Aswad bin Qais that he heard Jundub Al-Bajali
say:
“I
was present on Adha day with the Messenger of Allah (ﷺ), and
some
people slaughtered before the prayer. The Prophet (ﷺ) said:
‘Whoever among you has slaughtered before the prayer, let him
repeat
his sacrifice, and whoever has not, let him offer his
sacrifice in the
Name of Allah.’”
جندب بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں عید الاضحی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا ، کچھ لوگوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نماز عید سے پہلے ذبح کیا ہو وہ دوبارہ قربانی کرے ، اور جس نے نہ ذبح کیا ہو وہ اللہ کے نام پر ذبح کرے “ ۔
Chapter 12: Prohibition of slaughtering the sacrifices before the (`Id) prayer - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ
" أَعِدْ أُضْحِيَّتَكَ " .
It was
narrated from ‘Uwaimir bin Ashqar that he slaughtered before
the
prayer, and he mentioned that to the Prophet (ﷺ) who said:
“Repeat
your sacrifice.”
عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ کہتے کہ
انہوں نے نماز عید سے پہلے قربانی کر لی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی قربانی دوبارہ کرو “ ۔
“The Messenger of Allah
(ﷺ) passed by one of the houses of the Ansar and noticed the smell
of a cooking pot. He said: ‘Who is this who has slaughtered?’ A
man
from among us came out and said: ‘It is me, O Messenger of
Allah, I
slaughtered before the prayer so that I could feed my family
and
neighbors.’ He commanded him to repeat it. He said: ‘No, by
the One
besides Whom there is none worthy of worship, I do not have
anything
but a one-year-old sheep or a lamb.’ He (ﷺ) said:
‘Sacrifice it, but
a one-year-old sheep will not do for anyone
after you.’”
ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر انصار کے گھروں میں سے ایک گھر سے ہوا ، تو آپ نے وہاں گوشت بھوننے کی خوشبو پائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کس شخص نے ذبح کیا ہے “ ؟ ہم میں سے ایک شخص آپ کی طرف نکلا ، اور آ کر اس نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ! میں نے نماز عید سے پہلے ذبح کر لیا ، تاکہ گھر والوں اور پڑوسیوں کو کھلا سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ قربانی کا حکم دیا ، اس شخص نے عرض کیا : قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی سچا معبود نہیں ، میرے پاس ایک جذعہ یا بھیڑ کے بچہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسی کو ذبح کر لو اور تمہارے بعد کسی کے لیے جذعہ کافی نہیں ہو گا “ ۔
Chapter 13: One who slaughters his sacrifice with his own hand - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ، مُؤَذِّنِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ عِنْدَ طَرَفِ الزُّقَاقِ طَرِيقِ بَنِي زُرَيْقٍ بِيَدِهِ بِشَفْرَةٍ .
‘Abdur-Rahman bin Sa’d bin ‘Ammar bin Sa’d, the Mu’adhdhin
of the
Messenger of Allah (ﷺ), told us:
“My father told me, from
my
grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) slaughtered his
sacrifice at the side of an alley, on the road of Banu Zuraiq, with
his own hand, using a blade.”
مؤذن رسول سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی زریق کے راستے میں گلی کے کنارے اپنی قربانی اپنے ہاتھ سے ایک چھری سے ذبح کی ۔
Chapter 14: The skins of the sacrificial animals - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ مُجَاهِدًا، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ بُدْنَهُ كُلَّهَا لُحُومَهَا وَجُلُودَهَا وَجِلاَلَهَا لِلْمَسَاكِينِ .
‘Ali
bin Abu Talib narrated that the Messenger of Allah (ﷺ)
commanded
him to distribute the entire sacrificial camel – its meat,
skin and
covers – among the poor.
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے اونٹ کے سبھی اجزاء ، اس کے گوشت ، اس کی کھالوں اور جھولوں سمیت سبھی کچھ مساکین کے درمیان تقسیم کرنے کا حکم دیا ۔
Chapter 15: Eating from the sacrificial meat - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَمَرَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلُوا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَوْا مِنَ الْمَرَقِ .
It was
narrated from Jabir bin ‘Abdullah that the Messenger of Allah
(ﷺ)
ordered that a piece from every camel that had been slaughtered
be
brought and placed in a pot, then they ate from its meat and drank
some of the broth.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے ہر اونٹ کا ایک ٹکڑا منگایا ، پھر ان سب ٹکڑوں کو ایک ہانڈی میں پکانے کا حکم دیا ، تو وہ ایک ہانڈی میں رکھ کر پکایا گیا ، پھر سبھی لوگوں نے اس کا گوشت کھایا ، اور اس کا شوربہ پیا ۔
Chapter 16: Storing the meat of sacrificial animals - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ لِجَهْدِ النَّاسِ ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا .
It was
narrated that ‘Aishah said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) only
forbade storing the meat of the sacrifices because the people were
facing hardship. Then later he permitted that.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی محتاجی اور فقر کی وجہ سے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی سے منع فرما دیا تھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دے دی ۔
Chapter 16: Storing the meat of sacrificial animals - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ
" كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا " .
It was
narrated from Nubaishah that the Messenger of Allah (ﷺ)
said:
“I
used to forbid you to store the meat of the sacrifices for
more than
three days, but (now) eat some and store some.”
نبیشہ ( نبیشہ بن عبداللہ الہذلی ) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا ، لیکن اب اسے کھاؤ اور ذخیرہ اندوزی کرو “ ۱؎ ۔
Chapter 17: Slaughtering at the prayer place - كتاب الأضاحي
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنَّهُ كَانَ يَذْبَحُ بِالْمُصَلَّى .
It was
narrated from Ibn ‘Umar that the Prophet (ﷺ) used to
slaughter at
the prayer place (of the ‘Eid congregation).
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں ذبح کرتے تھے ۔