It was
narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his
grandfather, that the Prophet (ﷺ) said:
“It is disbelief for a
man
to attribute himself to someone other than his father knowingly,
or to
deny his connection to his father, even subtly.”*
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کسی شخص کا ایسے نسب کا دعویٰ کرنا جس کو وہ پہچانتا نہیں کفر ہے یا اپنے نسب کا انکار کر دینا گرچہ اس کا سبب باریک ( دقیق ) ہو یہ بھی کفر ہے “ ۔
It was
narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his
grandfather that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever
commits
adultery with a slave woman or a free woman, his child is
illegitimate, and he cannot inherit from him or be inherited from
(i.e., this child cannot inherit from him).”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے کسی لونڈی یا آزاد عورت سے زنا کیا ، پھر اس سے بچہ پیدا ہوا تو وہ ولدالزنا ہے ، نہ وہ مرد اس بچے کا وارث ہو گا ، نہ وہ بچہ اس مرد کا “ ۔
It was
narrated from ‘Amr bin Shu’aib, from his father, from his
grandfather, that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Every child
who
is attributed to his father after his father to whom he is
attributed
has died, and his heirs attributed him to him after he
died, he ruled
that* whoever was born to a slave woman whom he owned
at the time when
he had intercourse with her, he should be named
after the one to whom
he was attributed, but he has no share of any
inheritance that was
distributed previously. Whatever inheritance he
finds has not yet been
distributed, he will have a share of it. But
he cannot be named after
his father if the man whom he claimed as his
father did not
acknowledge him. If he as born to a slave woman whom
his father did
not own, or to a free woman with whom he committed
adultery, then he
cannot be named after him and he does not inherit
from him, even if
the one whom he claims as his father acknowledges
him. So he is an
illegitimate child who belongs to his mother’s
people, whoever they
are, whether she is a free woman or a slave.”
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس بچے کا نسب اس کے والد کے مرنے کے بعد اس سے ملایا جائے مثلاً اس کے بعد اس کے وارث دعویٰ کریں ( کہ یہ ہمارے مورث کا بچہ ہے ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں یہ فیصلہ فرمایا : ” اگر وہ بچہ لونڈی کے پیٹ سے ہو لیکن وہ لونڈی اس کے والد کی ملکیت رہی ہو جس دن اس نے اس سے جماع کیا تھا تو ایسا بچہ یقیناً اپنے والد سے مل جائے گا ، لیکن اس کو اس میراث میں سے حصہ نہ ملے گا جو اسلام کے زمانے سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں اس کے والد کے دوسرے وارثوں نے تقسیم کر لی ہو ، البتہ اگر ایسی میراث ہو جو ابھی تقسیم نہ ہوئی ہو تو اس میں سے وہ بھی حصہ پائے گا ، لیکن اگر اس کے والد نے جس سے وہ اب ملایا جاتا ہے ، اپنی زندگی میں اس سے انکار کیا ہو یعنی یوں کہا ہو کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے ، تو وارثوں کے ملانے سے وہ اب اس کا بچہ نہ ہو گا ، اگر وہ بچہ ایسی لونڈی سے ہو جو اس مرد کی ملکیت نہ تھی ، یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس کا نسب کبھی اس مرد سے ثابت نہ ہو گا ، گو اس مرد کے وارث اس بچے کو اس مرد سے ملا دیں ، اور وہ بچہ اس مرد کا وارث بھی نہ ہو گا ، ( اس لیے کہ وہ ولدالزنا ہے ) گو کہ اس مرد نے خود اپنی زندگی میں بھی یہ کہا ہو کہ یہ میرا بچہ ہے ، جب بھی وہ ولدالزنا ہی ہو گا ، اور عورت کے کنبے والوں کے پاس رہے گا ، خواہ وہ آزاد ہو یا لونڈی “ ۔ محمد بن راشد کہتے ہیں : اس سے مراد وہ میراث ہے جو اسلام سے پہلے جاہلیت میں تقسیم کر دی گئی ہو ۔
It was
narrated from ‘Abdullah bin ‘Umar that the Messenger of Allah
(ﷺ) said:
“Whatever division of inheritance was made during the
Ignorance period, stands according to the division of the Ignorance
period, and whatever division of inheritance was made during Islam,
it
stands according to the division of Islam.”
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو میراث زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہو چکی ، وہ بدستور اس تقسیم پر رہے گی ، اور جو میراث زمانہ اسلام آنے تک تقسیم نہیں ہوئی اسے اسلامی دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے گا “ ۱؎ ۔
It was
narrated from Jabir bin ‘Abdullah and Miswar bin Makhrumah
that the
Messenger of Allah (ﷺ) said:
“No child inherits until he
raises
his voice or cries.”
جابر بن عبداللہ اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( ولادت کے وقت ) بچہ وارث نہیں ہو گا جب تک کہ وہ زور سے استہلال نہ کرے “ ۱؎ ۔ راوی کہتے ہیں : بچے کے استہلال کا مطلب یہ ہے کہ وہ روے یا چیخے یا چھینکے ۔
“I heard Tamim Ad-
Dari
say: ‘I said: O Messenger of Allah, what is the Sunnah concerning
a
man from among the People of the Book who becomes a Muslim at the
hands of another man?’ He said: ‘He is the closest of all people
to
him in life and in death.’”
عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ
میں نے تمیم داری رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اہل کتاب کا کوئی آدمی اگر کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے تو اس میں شرعی حکم کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زندگی اور موت دونوں حالتوں میں وہ اس کا زیادہ قریبی ہے “ ۱؎ ۔