“The Messenger of Allah (ﷺ) passed by a Jew with a blackened face who had been flogged. He called them and said: 'Is this the punishment for the adulterer that you find in your Book?' They said: 'Yes.' Then he called one of their scholars and said: 'I adjure you by Allah (SWT) Who sent down the Tawrah (Torah) to Musa! Is this the punishment for the adulterer that you find in your Book?' He said: 'No; if you had not adjured me by Allah (SWT), I would not have told you. The punishment for the adulterer that we find in our Book is stoning, but many of our nobles were being stoned (because of the prevalence of adultery among them), so if we caught one of our nobles (committing adultery), we would let him go; but if we caught one of the weak among us, we would carry out the punishment on him. We said: “Come, let us agree upon something that we may impose on both noble and weak alike.” So we agreed to blacken the face and whip them, instead of stoning.' The Prophet (ﷺ) 'O Allah (SWT), I am the first of those who revive your command which they had killed off,' and he issued orders that (the man) be stoned.”
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک یہودی کے پاس سے ہوا جس کا منہ کالا کیا گیا تھا اور جس کو کوڑے لگائے گئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان یہودیوں کو بلایا اور پوچھا : ” کیا تم لوگ اپنی کتاب توریت میں زانی کی یہی حد پاتے ہو “ ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہاں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عالموں میں سے ایک شخص کو بلایا ، اور اس سے پوچھا : ” میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جس نے موسیٰ پر توراۃ نازل فرمائی : کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد یہی پاتے ہو “ ؟ اس نے جواب دیا : نہیں ، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی قسم نہ دی ہوتی تو میں آپ کو کبھی نہ بتاتا ، ہماری کتاب میں زانی کی حد رجم ہے ، لیکن ہمارے معزز لوگوں میں کثرت سے رجم کے واقعات پیش آئے ، تو جب ہم کسی معزز آدمی کو زنا کے جرم میں پکڑتے تو اسے چھوڑ دیتے اور اگر پکڑا جانے والا معمولی آدمی ہوتا تو ہم اس پر حد جاری کرتے ، پھر ہم نے لوگوں سے کہا کہ آؤ ایسی حد پر اتفاق کریں کہ جو معزز اور معمولی دونوں قسم کے آدمیوں پر ہم یکساں طور پر قائم کر سکیں ، چنانچہ ہم نے رجم کی جگہ منہ کالا کرنے اور کوڑے مارنے کی سزا پر اتفاق کر لیا ، یہ سن کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم إني أول من أحيا أمرك إذ أماتوه» یعنی ” اے اللہ ! میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے تیرے اس حکم کو زندہ کیا ہے جسے ان لوگوں نے مردہ کر دیا تھا “ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور وہ یہودی رجم کر دیا گیا ۔
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“If I were to stone anyone without proof, I would have stoned so-and-so, for there is obviously doubt concerning her speech, her appearance and those who enter upon her.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو فلاں عورت کو کرتا ، اس لیے کہ اس کی بات چیت سے اس کی شکل و صورت سے اور جو لوگ اس کے پاس آتے ہیں اس سے اس کا فاحشہ ہونا ظاہر ہو چکا ہے “ ۱؎ ۔
“Ibn `Abbas mentioned two people who had engaged in the process of Li`an. Ibn Shaddad said to him: 'Is this the one of whom the Messenger of Allah (ﷺ) said: “If I were to stone anyone without proof I would have stoned so-and-so.” Ibn`Abbas said: 'No, that was a woman who, (although she was a Muslim), used to expose herself.'”
قاسم بن محمد کہتے ہیں کہ
ابن عباس رضی اللہ عنہما نے دو لعان کرنے والوں کا تذکرہ کیا ، تو ان سے ابن شداد نے پوچھا : کیا یہ وہی عورت تھی جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا : ” اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کرتا تو اس عورت کو کرتا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : وہ تو ایسی عورت تھی جو علانیہ بدکار تھی ۔
It was narrated from Ibn`Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“Whoever has intercourse with a Mahram relative, kill him; and whoever has intercourse with an animal, kill him, and kill the animal.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کسی محرم سے جماع کرے اسے قتل کر دو ، اور جو کسی جانور سے جماع کرے تو اسے بھی قتل کر دو ، اور اس جانور کو بھی “ ۔
It was narrated that Abu Hurairah, Zaid bin Khalid and Shibl said:
“We were with the Prophet (ﷺ) and a man asked him about a slave woman who commits fornication (again), whip her, even if that is for a rope of hair.' ”
ابوہریرہ ، زید بن خالد اور شبل رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ
ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ ایک شخص نے آپ سے اس لونڈی کے بارے میں سوال کیا جس نے شادی شدہ ہونے سے پہلے زنا کیا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کوڑے مارو ، اگر پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری یا چوتھی مرتبہ میں کہا : ” اسے بیچ دو خواہ وہ بالوں کی ایک رسی کے عوض بکے “ ۔
'Aishah narrated that the Messenger of Allah(ﷺ) said:
“If a slave woman commits fornication then whip her, and if she commits fornication then whip her, and if she commits fornication then whip her, then sell her even if that is for a rope.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب لونڈی زنا کرے تو اسے کوڑے مارو ، پھر زنا کرے تو پھر کوڑے مارو ، اگر اب بھی زنا کرے تو پھر کوڑے مارو ، اس کے بعد اگر زنا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک «ضفیر» ہی کے بدلے ہو ، اور «ضفیر» رسی کو کہتے ہیں ۔
“When my innocence was revealed, the Messenger of Allah (ﷺ) stood on the pulpit and mentioned that, and he recited Quran. When he came down, he ordered that the legal punishment (of slandering) be carried out on two men and a woman.”
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
جب میری براءت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور اس کا تذکرہ کر کے قرآنی آیات کی تلاوت کی ، اور جب منبر سے اتر آئے ، تو دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم دیا چنانچہ ان کو حد لگائی گئی ۱؎ ۔
It was narrated from Ibn Abbas that the Prophet (ﷺ) said:
“If one man says another: 'O effeminate one!' give him twenty lashes. And if one man says to another: 'O homosexual!' give him twenty twenty lashes.”
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر کوئی آدمی کسی کو کہے : اے مخنث ! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ ، اور اگر کوئی کسی کو کہے : اے لوطی ! تو اسے بیس کوڑے لگاؤ “ ۔
“I would not pay the blood money (Diyah) for those on whom I carried out the legal punishment, except for the wine-drinker. The Messenger of Allah did not institute anything in that case, rather it is something that we would do.”
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
جس پر میں حد جاری کروں ( اگر وہ مر جائے ) تو میں اس کی دیت ادا نہیں کروں گا ، سوائے شرابی کے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کوئی حد نہیں مقرر فرمائی ، بلکہ یہ تو ہماری اپنی مقرر کی ہوئی حد ہے ۔
“When Walid bin `Uqbah was brought to `Uthman, they had testified against him. He said to 'Ali: 'You are close to your uncle's son, so carry out the legal punishment on him.' So 'Ali whipped him. He said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) gave forty lashes, and Abu Bakr gave forty lashes, and 'Umar gave eighty all are Sunnah.'”
حضین بن منذر رقاشی کہتے ہیں کہ
جب ولید بن عقبہ کو عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا اور لوگوں نے ان کے خلاف گواہی دی ، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : اٹھئیے اور اپنے چچا زاد بھائی پر حد جاری کیجئے ، چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے ان کو کوڑے مارے اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگائے ، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس کوڑے لگائے ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے لگائے ، اور ان میں سے ہر ایک سنت ہے ۱؎ ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“If he gets drunk, then whip him. If he does it again, then whip him. If he does it again, then whip him.' And he said concerning the fourth time: 'If he does it again, then strike his neck (i.e., execute him).' ”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی نشے میں آ جائے تو اسے کوڑے لگاؤ ، اور اگر پھر ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو ، اور پھر بھی ایسا کرے تو پھر کوڑے مارو “ ، پھر چوتھی بار کے لیے فرمایا : ” اس کے بعد بھی ایسا کرے تو اس کی گردن اڑا دو “ ۱؎ ۔
It was narrated from Mu`awiyah bin Abu Sufyan that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
“If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then whip them. If they drink (again), then kill them.”
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب لوگ شراب پئیں تو انہیں کوڑے لگاؤ ، پھر پئیں تو کوڑے لگاؤ ، اس کے بعد بھی پئیں تب بھی کوڑے لگاؤ ، اس کے بعد پئیں تو انہیں قتل کر دو “ ۱؎ ۔
It was narrated that Sa'eed bin Sa'd bin `Ubadah said:
“There was a man living among our dwellings who had a physical defect, and to our astonishment he was seen with one of the slave women of the dwellings, committing illegal sex with her. Sa'd bin 'Ubadah referred his case to the Messenger of Allah (ﷺ), who said: 'Give him one hundred lashes.' They said: 'O Prophet (ﷺ) of Allah (ﷺ), he is too weak to bear that. If we give him one hundred lashes he will die.' He said: “Then take a branch with a hundred twigs and hit him once.”
Another chain reports a similar hadith.
Chapter 20: Those Who Engage In Banditry and Spread Mischief In The Land - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ أُنَاسًا، مِنْ عُرَيْنَةَ قَدِمُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاجْتَوَوُا الْمَدِينَةَ فَقَالَ
" لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا " . فَفَعَلُوا فَارْتَدُّوا عَنِ الإِسْلاَمِ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاسْتَاقُوا ذَوْدَهُ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ فِي طَلَبِهِمْ فَجِيءَ بِهِمْ فَقَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ بِالْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا .
Anas bin Malik narrated that :
some people from (the tribe of) `Urainah came to us (to Al-Madinah) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ), but they did not want to stay in Al-Madinah because the climate did not suit them. He said: “Go out to the camels which belong to us, and drink their milk and urine.” So they did that (and recovered), then they apostatized from Islam and killed the herdsman of the Messenger of Allah (ﷺ) and stole his camels. The Messenger of Allah (ﷺ) sent people after them, and they were brought back. Then he cut off their hands and feet, branded their eyes and left them in Harrah until they died.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
قبیلہ عرینہ کے چند لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں آئے ، انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اگر تم ہمارے اونٹوں کے ریوڑ میں جاؤ ، اور ان کا دودھ اور پیشاب پیو تو صحت مند ہو جاؤ گے “ ۱؎ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ اسلام سے پھر گئے ( مرتد ہو گئے ) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چرواہے کو قتل کر کے آپ کے اونٹوں کو ہانک لے گئے ، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں گرفتار کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا ، چنانچہ وہ گرفتار کر کے لائے گئے ، تو آپ نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے ، ان کی آنکھوں میں لوہے کی گرم سلائی پھیر دی ، ۲؎ اور انہیں حرہ ۳؎ میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مر گئے “ ۔
Chapter 20: Those Who Engage In Banditry and Spread Mischief In The Land - كتاب الحدود
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالاَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ قَوْمًا، أَغَارُوا عَلَى لِقَاحِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَطَعَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ .
It was narrated from 'Aishah that :
some people raided the she-camels of the Messenger of Allah (ﷺ) , so the Prophet(ﷺ) cut off their hands and feet (on opposite sides) and lanced (gouged out) their eyes.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر دیا ، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ پیر کاٹ دئیے اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۱؎ ۔
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'If a man's property is wrongfully targeted, and he is killed, he is a martyr.”
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس سے اس کا مال ناجائز طریقے سے لینے کا ارادہ کیا جائے ، اور وہ اس کے بچانے میں قتل کر دیا جائے ، تو وہ شہید ہے “ ۔