It was narrated from Mujahid, that 'Abdur-Rahman bin Safwan, or Safwan bin 'Abdur- Rahman Al-Qurashi said:
"On the Day of the conquest of Makkah, he came with his father and he said: 'O Messenger of Allah, give my father a share of Hijrah.' He said: 'There is no Hijrah.' Then he went away and entered upon 'Abbas and said: 'Do you know who I am?' He said: 'Yes.' Then 'Abbas went out, wearing a shirt and no upper wrap, and said: 'O Messenger of Allah, do you know so-and-so with whom we have friendly ties? He brought his father to swear an oath of allegiance (i.e., promise) to emigrate.' The Prophet (ﷺ) said: 'There is no Hijrah.'" 'Abbas said: 'I adjure you to do it.' The Prophet (ﷺ) stretched forth his hand and touched his hand, and said: 'I have fulfilled the oath of my uncle, but there is no Hijrah."' (Da'if)Another chain with similar wording. Yazid bin Abu Ziyad said: "Meaning: There is no Hijrah from a land whose people have accepted Islam."
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں کہ
اس شہر سے ہجرت نہیں جس کے رہنے والے مسلمان ہو گئے ہوں ۔ اس سند سے بھی یزید بن ابی زیاد نے ایسے ہی روایت کی ہے ، اور سند دونوں کی ایک ہی ہے ۔
Chapter 13: Prohibition on saying: “What Allah wills and you will” - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا الأَجْلَحُ الْكِنْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الأَصَمِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" إِذَا حَلَفَ أَحَدُكُمْ فَلاَ يَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ . وَلَكِنْ لِيَقُلْ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شِئْتَ " .
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
'When anyone of you swears an oath, let him not say: 'What Allah wills and what you will.' Rather let him say: 'What Allah wills and then what you will.'
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب کوئی شخص قسم کھائے تو «ما شاء الله وشئت» ” جو اللہ چاہے اور آپ چاہیں “ نہ کہے ، بلکہ یوں کہے : «ما شاء الله ثم شئت» ” جو اللہ چاہے پھر آپ چاہیں “ ۱؎ ۔
Chapter 13: Prohibition on saying: “What Allah wills and you will” - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ لَقِيَ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ نِعْمَ الْقَوْمُ أَنْتُمْ لَوْلاَ أَنَّكُمْ تُشْرِكُونَ تَقُولُونَ مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ مُحَمَّدٌ . وَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ
" أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لأَعْرِفُهَا لَكُمْ قُولُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ مُحَمَّدٌ " .
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ سَخْبَرَةَ، أَخِي عَائِشَةَ لأُمِّهَا عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
It was narrated from Hudhaifah bin Yaman that :
a Muslim man saw in a dream that he met a man from among the People of the Book, who said: "What good people you would be if only you were not committing Shirk. For you say: 'What Allah wills and Muhammad wills."' He mentioned that to the Prophet (ﷺ) and he said: "By Allah, I am aware of that. Say: 'What Allah wills then what Muhammad wills."'Another chain from Tufail bin Sakhbarah, the brother of 'Aishah by her mother, from the Prophet (ﷺ), with similar wording.
اس سند سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے
علاتی بھائی طفیل بن سخبرہ رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے ۔
Chapter 14: One who uses ambiguous words in his oath - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ، عَنْ أَبِيهَا، سُوَيْدِ بْنِ حَنْظَلَةَ قَالَ خَرَجْنَا نُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَمَعَنَا وَائِلُ بْنُ حُجْرٍ فَأَخَذَهُ عَدُوٌّ لَهُ فَتَحَرَّجَ النَّاسُ أَنْ يَحْلِفُوا فَحَلَفْتُ أَنَا أَنَّهُ أَخِي فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ تَحَرَّجُوا أَنْ يَحْلِفُوا وَحَلَفْتُ أَنَا أَنَّهُ أَخِي فَقَالَ
" صَدَقْتَ الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ " .
It was narrated that Suwaid bin Hanzalah said:
"We went out looking for the Messenger of Allah (ﷺ) and Wa'il bin Hujr was with us. An enemy of his seized him and the people were reluctant to swear an oath but I swore that he was my brother, so they set him free. We came to the Messenger of Allah (ﷺ) and I told him that the people had been reluctant to swear an oath, but I had sworn that he was my brother. He said: 'You told the truth. The Muslim is the brother of his fellow Muslim.' "
سوید بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہونے کے ارادے سے نکلے ، اور ہمارے ساتھ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، ان کو ان کے ایک دشمن نے پکڑ لیا ، تو لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا ، آخر میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے ، تو اس نے انہیں چھوڑ دیا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور میں نے آپ کو بتایا کہ لوگوں نے قسم کھانے میں حرج محسوس کیا ، اور میں نے قسم کھائی کہ یہ میرا بھائی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے سچ کہا مسلمان مسلمان کا بھائی ہے “ ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Vows do not bring the son of Adam anything unless it has been decreed for him. But he is dominated by Divine preordainment, and will get what is decreed for him. And (vows) are a means of making the miser give something, so what he desires becomes obtainable for him, which was not obtainable before his vow. And Allah says: 'Spend, I will spend on you.'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نذر سے آدمی کو کچھ نہیں ملتا مگر وہ جو اس کے لیے مقدر کر دیا گیا ہے ، لیکن آدمی کی تقدیر میں جو ہوتا ہے وہ نذر پر غالب آ جاتا ہے ، تو اس نذر سے بخیل کا مال نکالا جاتا ہے ، اور اس پہ وہ بات آسان کر دی جاتی ہے ، جو پہلے آسان نہ تھی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” تو مال خرچ کر ، میں تجھ پر خرچ کروں گا “ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ فَلْيُطِعْهُ وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ فَلاَ يَعْصِهِ " .
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
"Whoever vows to obey Allah, let him obey Him, and whoever vows to disobey Allah, let him not disobey Him. "
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہو وہ اس کی اطاعت کرے ، اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی نذر مانی ہو تو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے “ ۱؎ ۔
lt was narrated from Ibn 'Abbas that the Prophet (ﷺ) said:
"Whoever makes a vow and does not state it specifically, the expiation (for such a vow) is the expiation for breaking an oath. Whoever makes a vow and is not able to fulfill it, the expiation for that is the expiation for breaking an oath. Whoever makes a vow and is able to fulfill it, let him do so."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے نذر مانی اور اس کی تعیین نہ کی ، تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے ، اور جس نے ایسی نذر مانی جس کے پورا کرنے کی طاقت ہو تو اس کو پورا کرے “ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ نَذَرْتُ نَذْرًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بَعْدَ مَا أَسْلَمْتُ فَأَمَرَنِي أَنْ أُوفِيَ بِنَذْرِي .
It was narrated that 'Umar bin Khattab said:
"I made a vow during the Ignorance period and I asked the Prophet (ﷺ) (about it) after I became Muslim. He told me to fulfill my vow."
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے زمانہ جاہلیت میں نذر مانی ، پھر اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی نذر پوری کرنے کا حکم دیا “ ۱؎ ۔
It was narrated from Ibn Abbas that a man came to the Prophet (ﷺ) and said:
"O Messenger of Allah, I vowed to offer a sacrifice at Buwanah." He said: "Do you intend any action of Ignorance period?" He said: "No." He said: "Then fulfill your vow."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے “ ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی نذر پوری کرو “ ۱؎ ۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ الْيَسَارِيَّةِ، أَنَّ أَبَاهَا، لَقِيَ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهِيَ رَدِيفَةٌ لَهُ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ بِبُوَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ " هَلْ بِهَا وَثَنٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " أَوْفِ بِنَذْرِكَ " .
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ دُكَيْنٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ كَرْدَمٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ بِنَحْوِهِ .
It was narrated from Maimunah bint Kardam Al-Yasariyyah that :
her father met the Prophet (ﷺ) when she was riding behind him. He said: "I vowed to offer a sacrifice at Buwanah." The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Is there any idol there?" He said: "No." He said: " Fulfill your vow." (Hasan)Another chain with similar wording.
اس سند سے بھی
میمونہ بنت کردم رضی اللہ عنہما سے اسی طرح روایت ہے ۔
Chapter 19: One who dies with a vow left to fulfill - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فِي نَذْرٍ كَانَ عَلَى أُمِّهِ تُوُفِّيَتْ وَلَمْ تَقْضِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" اقْضِهِ عَنْهَا " .
It was narrated from Ibn 'Abbas' that :
Sa'd bin 'Ubadah asked the Messenger of Allah (ﷺ) about a vow which his mother had made, but she had died without fulfilling it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: "Fulfill it on her behalf ."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھا کہ میری ماں کے ذمہ ایک نذر تھی وہ مر گئیں ، اور اس کو ادا نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کی جانب سے اسے پوری کر دو “ ۔
Chapter 19: One who dies with a vow left to fulfill - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، . أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ
" لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ " .
It was narrated from Jabir bin 'Abdullsh that :
a woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: "My mother has died, and she had made a vow to fast, but she died before she could fulfill it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Let her guardian fast on her behalf ."
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اس نے کہا : میری ماں کا انتقال ہو گیا ، اور ان کے ذمہ روزوں کی نذر تھی ، اور وہ اس کی ادائیگی سے پہلے وفات پا گئیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان کا ولی ان کی جانب سے روزے رکھے “ ۱؎ ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Ar-Ru'aini that 'Abdullah bin Malik told him, that :
'Uqbah bin 'Amir told him, that his sister vowed to walk, barefoot and bareheaded, and he mentioned that to the Messenger of Allah (ﷺ) He said: "Order her to ride and to cover her head, and to fast for three days."
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ان کی بہن نے نذر مانی کہ ننگے پاؤں ، ننگے سر اور پیدل چل کر حج کے لیے جائیں گی ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حکم دو کہ سوار ہو جائے ، دوپٹہ اوڑھ لے ، اور تین دن کے روزے رکھے “ ۱؎ ۔
"The Prophet (ﷺ) saw an old man walking between his two sons, and he said: What is the matter with him?' His sons said: 'A vow, O Messenger of Allah.' He said: 'Let this old man ride, for Allah has no need of you or your vow."'
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بوڑھے کو دیکھا کہ اپنے دو بیٹوں کے درمیان چل رہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اس کا کیا معاملہ ہے “ ؟ اس کے بیٹوں نے کہا : اس نے نذر مانی ہے ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بوڑھے سوار ہو جاؤ ، اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے “ ۔
Chapter 21: One who mixes obedience and sin in his vow - كتاب الكفارات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرْوِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مَرَّ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ وَهُوَ قَائِمٌ فِي الشَّمْسِ فَقَالَ " مَا هَذَا " . قَالُوا نَذَرَ أَنْ يَصُومَ وَلاَ يَسْتَظِلَّ إِلَى اللَّيْلِ وَلاَ يَتَكَلَّمَ وَلاَ يَزَالَ قَائِمًا . قَالَ " لِيَتَكَلَّمْ وَلْيَسْتَظِلَّ وَلْيَجْلِسْ وَلْيُتِمَّ صِيَامَهُ " .
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شَنَبَةَ الْوَاسِطِيُّ، حَدَّثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، عَنْ وُهَيْبٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ نَحْوَهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ .
It was narrated from Ibn Abbas that the :
Messenger of Allah (ﷺ) passed by a man in Makkah who was standing in the sun. He said: "What is this?" They said: "He vowed to fast and not to seek shade until night comes, and not to speak, and to remain standing." He said: "Let him speak and seek shade and let him sit down, but let him complete his fast."Another chain from Ibn 'Abbas, from the Prophet (ﷺ), with similar wording. expiation for breaking an oath."
اس سند سے بھی
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی مرفوعاً روایت آئی ہے ۔ «واللہ اعلم» ۔