حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اسْتَأْذَنَ حَسَّانُ بْنُ ثَابِتٍ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي هِجَاءِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" فَكَيْفَ بِنَسَبِي ". فَقَالَ حَسَّانُ لأَسُلَّنَّكَ مِنْهُمْ كَمَا تُسَلُّ الشَّعَرَةُ مِنَ الْعَجِينِ. وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ذَهَبْتُ أَسُبُّ حَسَّانَ عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ لاَ تَسُبُّهُ فَإِنَّهُ كَانَ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Aisha:
Hassan bin Thabit asked the permission of Allah's Messenger (ﷺ) to lampoon the pagans (in verse). Allah's
Apostle said, "What about my fore-fathers (ancestry)?' Hassan said (to the Prophet) "I will take you
out of them as a hair is taken out of dough."
Narrated Hisham bin `Urwa that his father said, "I called Hassan with bad names in front of `Aisha."
She said, "Don't call him with bad names because he used to defend Allah's Messenger (ﷺ) (against the
pagans).
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو کرنے کی اجازت چاہی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا اور میرا خاندان تو ایک ہی ہے ( پھر تو میں بھی اس ہجو میں شریک ہو جاؤں گا ) حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ہجو سے آپ کو اس طرح صاف نکال دوں گا جس طرح گندھے ہوئے آٹے سے بال نکال لیا جاتا ہے ۔ اور ہشام بن عروہ سے روایت ہے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی مجلس میں برا کہنے لگا تو انہوں نے کہا کہ حسان کو برا بھلا نہ کہو ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مشرکوں کوجواب دیتا تھا ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, একবার হাস্সান ইবনু সাবিত (রাঃ) রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিকট মুশরিকদের নিন্দা করার অনুমতি চাইলেন। তখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ তা হলে এ নিন্দা থেকে আমার বংশের মর্যাদা কীভাবে রক্ষা পাবে? তখন হাস্সান (রাঃ) বললেনঃ আমি তাদের থেকে আপনাকে এমনভাবে বের করে নেব, যেভাবে মাখানো আটা থেকে চুল বের করা হয়।
রাবী ‘উরওয়াহ বর্ণনা করেন, একদিন আমি ‘আয়িশা (রাঃ) -এর কাছে হাস্সান (রাঃ) -কে গালি দিতে লাগলাম, তখন তিনি বললেনঃ তুমি তাঁকে গালি দিওনা। কারণ, তিনি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর পক্ষ হতে মুশরিকদের প্রতিরোধ করতেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬০৬)
that he heard Abu Huraira in his narration, mentioning that the Prophet (ﷺ) said, "A Muslim brother of
yours who does not say dirty words." and by that he meant Ibn Rawaha, "said (in verse): 'We have
Allah's Messenger (ﷺ) with us who recites the Holy Qur'an in the early morning time. He gave us guidance
and light while we were blind and astray, so our hearts are sure that whatever he says, will certainly
happen. He does not touch his bed at night, being busy in worshipping Allah while the pagans are
sound asleep in their beds.' "
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں ہشیم بن ابی سنان نے خبر دی کہ
انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حالات اور قصص کے تحت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کر رہے تھے ۔ کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے ایک بھائی نے کوئی بری بات نہیں کہی ۔ آپ کا اشارہ ابن رواحہ کی طرف تھا ( اپنے اشعار میں ) انہوں نے یوں کہا تھا : ” اور ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ، اس وقت جب فجر کی روشنی پھوٹ کر پھیل جاتی ہے ۔ ہمیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہدایت کا راستہ دکھایا ۔ پس ہمارے دل اس امر پر یقین رکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا ۔ آپ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے جدا رہتا ہے ( یعنی جاگ کر ) جب کہ کافروں کے بوجھ سے ان کی خواب گاہیں بوجھل ہوئی رہتی ہیں ۔ “ یونس کے ساتھ اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور عبدالرحمٰن اعرج سے انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کو روایت کیا ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আবূ হুরায়রা (রাঃ) তাঁর বর্ণনায় নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কথা উল্লেখ করে বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ তোমাদের ভাই অর্থাৎ কবি ইবনু রাওয়াহা (রাঃ) অশ্লীল কথা বলেননি। তিনি বলতেনঃ
আমাদের মধ্যে রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) রয়েছেন, তিনি কুরআন তিলাওয়াত করেন;
যখন সকালের মন মাতানো আলো ফুটে উঠে।
আমরা পথহারা হবার পর তিনি আমাদের সুপথ দেখিয়েছেন।
আর আমরা অন্তরের সাথে একীন করলাম যে, তিনি যা বলেছেন, তা ঘটবেই।
তিনি নিজ পৃষ্ঠদেশ বিছানা থেকে আলাদা রেখেই রাত্রি অতিবাহিত করেন।
যখন কাফিরদের আনন্দের শয্যা তাদের পক্ষে খুব কষ্টকর হয়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬০৭)
that he heard Hassan bin Thabit Al-Ansari asking the witness of Abu Huraira, saying, "O Abu-
Huraira! I beseech you by Allah (to tell me). Did you hear Allah's Messenger (ﷺ) saying' 'O Hassan ! Reply
on behalf of Allah's Messenger (ﷺ). O Allah ! Support him (Hassan) with the Holy Spirit (Gabriel).'?" Abu
Huraira said, "Yes."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے محمد بن ابی عتیق نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ
اے ابوہریرہ ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں ، کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے حسان ! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کوجواب دو ، اے اللہ ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں ۔
হাস্সান ইবনু সাবিত (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, হে আবূ হুরাইয়া! আমি আপনাকে আল্লাহ্র কসম দিয়ে জিজ্ঞেস করছি। আপনি কি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে এ কথা বলতে শুনেছেন যে, ওহে হাস্সান! তুমি আল্লাহ্র রসূলের পক্ষ থেকে প্রত্যুত্তর দাও। হে আল্লাহ্! তুমি জিবরীল (আঃ) -এর দ্বারা তাকে সাহায্য কর। আবূ হুরাইয়াহ (রাঃ) বললেনঃ হাঁ।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬০৮)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 173
Hadith 6153
Chapter 91: Lampooning Al-Mushrikin - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِحَسَّانَ
" اهْجُهُمْ ـ أَوْ قَالَ هَاجِهِمْ ـ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ ".
Narrated Al-Bara:
The Prophet (ﷺ) said to Hassan, "Lampoon them (the pagans) in verse, and Gabriel is with you."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا ان کی ہجو کرو ۔ ( یعنی مشرکین قریش کی ) یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ھاجھم کے الفاظ فرمائے ) حضرت جبرائیل علیہ السلام تیرے ساتھ ہیں ۔
বারাআ’ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ যে, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হাস্সান (রাঃ) -কে বললেনঃ তুমি কাফিরদের নিন্দা করো। জিবরীল (‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এ কাজে তোমাকে সাহায্য করবেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬০৯)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 175
Hadith 6155
Chapter 92: To indulge in poetry - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا ".
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ); said, "It is better for anyone of you that the inside of his body be filled with pus
which may consume his body, than it be filled with poetry."
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، انہوں کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہاکہ
میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ، اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرلے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھرجائے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ কোন ব্যক্তির পেট কবিতা দিয়ে ভরার চেয়ে এমন পুঁজে ভরা উত্তম, যা তোমাদের পেটকে ধ্বংস করে ফেলে।[মুসলিম পর্ব ৪১/হাঃ ২২৫৭, আহমাদ ১০২০১] আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১১)
Allah, the brother of Abu Al-Qu'ais asked my permission to enter after the verses of Al-Hijab (veiling
the ladies) was revealed, and I said, "By Allah, I will not admit him unless I take permission of Allah's
Apostle for it was not the brother of Al-Qu'ais who had suckled me, but it was the wife of Al-Qu'ais,
who had suckled me." Then Allah's Messenger (ﷺ) entered upon me, and I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The man
has not nursed me but his wife has nursed me." He said, "Admit him because he is your uncle (not
from blood relation, but because you have been nursed by his wife), Taribat Yaminuki." `Urwa said,
"Because of this reason, ' Aisha used to say: Foster suckling relations render all those things
(marriages etc.) illegal which are illegal because of the corresponding blood relations." (See Hadith
No. 36, Vol. 7)
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
ابو قعیس کے بھائی افلح ( میرے رضاعی چچانے ) مجھ سے پردہ کا حکم نازل ہونے کے بعد اندر آنے کی اجازت چاہی ، میں نے کہا کہ اللہ کی قسم جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اجازت نہ دیں گے میں اندر آنے کی اجازت نہیں دوں گی ۔ کیونکہ ابو قعیس کے بھائی نے مجھے دودھ نہیں پلایا بلکہ ابو القعیس کی بیوی نے دودھ پلایا ہے ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مرد نے تو مجھے دودھ نہیں پلایا تھا ، دودھ تو ان کی بیوی نے پلایا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو ، کیونکہ وہ تمہارے چچا ہیں ، تمہارے ہاتھ میں مٹی لگے ۔ عروہ نے کہا کہ اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ جتنے رشتے خون کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہی سمجھو ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, পর্দার হুকুম অবতীর্ণ হবার পর আবূ কু’আইসের ভাই আফলাহ আমার ঘরে প্রবেশের অনুমতি চাইলেন। আমি বললামঃ আল্লাহর কসম! আমি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে অনুমতি না নিয়ে তাকে অনুমতি দেব না। কারণ আবূ কু’আইসের স্ত্রী আমাকে দুগ্ধ পান করিয়েছেন। ইতোমধ্যে রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার ঘরে প্রবেশ করলেন। আমি বললামঃ হে আল্লাহর রসূল! এ লোক আমাকে দুধ পান করাননি। বরং তাঁর স্ত্রী আমাকে দুধ পান করিয়েছেন। তিনি বললেনঃ অনুমতি দাও। কারণ এ লোকটি তোমার (দুধ) চাচা। তোমার ডান হস্ত ধূলি ধূসরিত হোক। রাবী ‘উরওয়াহ বলেন, এ কারণেই ‘আয়িশা (রাঃ) বলতেন যে, বংশগত সম্পর্কে যারা হারাম হয়, দুধ পান সম্পর্কেও তোমরা তাদের হারাম গণ্য করবে।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১২)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 177
Hadith 6157
Chapter 93: Taribat yaminuka and Aqra halqa - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ أَرَادَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْفِرَ فَرَأَى صَفِيَّةَ عَلَى باب خِبَائِهَا كَئِيبَةً حَزِينَةً لأَنَّهَا حَاضَتْ فَقَالَ " عَقْرَى حَلْقَى ـ لُغَةُ قُرَيْشٍ ـ إِنَّكِ لَحَابِسَتُنَا " ثُمَّ قَالَ " أَكُنْتِ أَفَضْتِ يَوْمَ النَّحْرِ ". يَعْنِي الطَّوَافَ قَالَتْ نَعَمْ. قَالَ " فَانْفِرِي إِذًا ".
Narrated `Aisha:
The Prophet (ﷺ) intended to return home after the performance of the Hajj, and he saw Safiya standing at
the entrance of her tent, depressed and sad because she got her menses. The Prophet (ﷺ) said, "Aqra
Halqa! --An expression used in the Quraish dialect--"You will detain us." The Prophet (ﷺ) then asked
(her), "Did you perform the Tawaf Al-Ifada on the Day of Sacrifice (10th of Dhul-Hijja)?" She said,
"Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Then you can leave (with us).
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حکم بن عتیبہ نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج سے ) واپسی کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے خیمے کے دروازہ پر رنجیدہ کھڑی ہیں کیونکہ وہ حائضہ ہو گئی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ۔ عقریٰ حلقیٰ ۔ یہ قریش کامحاورہ ہے ۔ اب تم ہمیں رو کو گی ! پھر دریافت فرمایا کیا تم نے قربانی کے دن طواف افاضہ کر لیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ فرمایا کہ پھر چلو ۔
আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) (হাজ্জ সমাপন শেষে) ফিরে আসার ইচ্ছে পোষণ করলেন। তখন ঋতুস্রাব শুরু হওয়ার কারণে তাঁর দরজার সামনে সাফিয়্যাহ (রাঃ) চিন্তিত ও বিষণ্ন মুখে দাঁড়িয়ে আছেন দেখতে পেলেন। তখন তিনি কুরাইশদের বাগধারায় বললেনঃ ‘আক্রা হাল্কা’। তুমি তো দেখছি, আমাদের আটকে দিবে। এরপর জিজ্ঞেস করলেন, তুমি কি কুরবানীর দিনে ফরয তাওয়াফ করেছিলে? তিনি বললেনঃ হাঁ। তখন তিনি বললেনঃ তাহলে এখন রওনা দাও।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৩)
(the daughter of Abu Talib) I visited Allah's Messenger (ﷺ) in the year of the Conquest of Mecca and found
him taking a bath, and his daughter, Fatima was screening him. When I greeted him, he said, "Who is
it?" I replied, "I am Um Hani, the daughter of Abu Talib." He said, "Welcome, O Um Hani ! " When
the Prophet (ﷺ) had finished his bath, he stood up and offered eight rak`at of prayer while he was wrapped
in a single garment. When he had finished his prayer, I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My maternal brother
assumes (or claims) that he will murder some man whom I have given shelter, i.e., so-and-so bin
Hubaira." Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Um Hani! We shelter him whom you have sheltered." Um Hani
added, "That happened in the forenoon."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے عمر بن عبیداللہ کے غلام ابو النضر نے ، ان سے ام ہانی بنت ابی طالب کے غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی بنت ابی طالب سے سنا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ
فتح مکہ کے موقع پر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ میں نے دیکھا کہ آپ غسل کر رہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پردہ کر دیا ہے ۔ میں نے سلام کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں ؟ میں نے کہا کہ ام ہانی بنت ابی طالب ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام ہانی ! مرحبا ہو ۔ جب آپ غسل کر چکے تو کھڑے ہو کر آٹھ رکعات پڑھیں ۔ آپ اس وقت ایک کپڑے میں جسم مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے ۔ جب نماز سے فارغ ہو گئے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے بھائی ( علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ) کا خیال ہے کہ وہ ایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جسے میں نے امان دے رکھی ہے ۔ یعنی فلاں بن ہبیرہ کو ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ام ہانی جسے تم نے امان دی اسے ہم نے بھی امان دی ۔ ام ہانی نے بیان کیا کہ یہ نماز چاست کی تھی ۔
উম্মু হানী বিন্ত আবূ ত্বলিব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, মাক্কাহ বিজয়ের বছর আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিকট গিয়ে তাঁকে গোসলরত অবস্থায় পেলাম। তখন তাঁর কন্যা ফাতিমাহ (রাঃ) তাঁকে পর্দা দিয়ে আড়াল করছিলেন। আমি তাঁকে সালাম করলাম। তিনি জিজ্ঞেস করলেনঃ এ কে? আমি বললামঃ আমি আবূ ত্বলিবের কন্যা উম্মু হানী। তিনি বললেনঃ উম্মু হানীর জন্য মারহাবা। তারপর তিনি যখন গোসল শেষ করলেন। তখন তিনি দাঁড়ালেন এবং এক কাপড় গায়ে জড়িয়ে আট রাক’আত সলাত আদায় করলেন। তিনি সলাত শেষ করলে আমি বললামঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আমি হুবাইরার ছেলে অমুককে নিরাপত্তা দান করেছিলাম কিন্তু আমার ভাই বলছে, সে তাকে হত্যা করবে। রসূলুল্লাহ সালাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম বললেনঃ হে উম্মু হানী! তুমি যাকে নিরাপত্তা দিয়েছ, আমিও তাকে নিরাপত্তা দিলাম। উম্মু হানী (রাঃ) বলেনঃ এই সময়টি ছিল চাশ্তের সময়।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৪)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 179
Hadith 6159
Chapter 95: Saying "Wailaka." - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا ". قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ".
Narrated Anas:
The Prophet (ﷺ) saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said (to him). "Ride it." The man
said, "It is a Bandana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it." The man said, "It is a Bandana." The Prophet (ﷺ)
said, Ride on it, woe to you!"
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ قربانی کے لئے ایک اونٹنی ہانکے لئے جا رہا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس پر سوار ہو کر جا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو قربانی کا جانور ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سوار ہو جا ، افسوس ( ویلک ) دوسری یا تیسری مرتبہ یہ فرمایا ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ যে, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক ব্যক্তিকে একটা কুরবানীর উট হাঁকিয়ে নিতে দেখে, তাকে বললেনঃ এতে সওয়ার হও। সে বললঃ এটি তো কুরবানীর উট। তিনি পুনরায় বললেনঃ এতে সওয়ার হও। সে বললঃ এটি তো কুরবানীর উট। তিনি বললেনঃ এতে সওয়ার হও। সে বলল, এটি তো কুরবানীর উট। তিনি বললেনঃ ওয়াইলাকা (তোমার অকল্যাণ হোক) তুমি এটির উপর সওয়ার হয়ে যাও।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭১৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 180
Hadith 6160
Chapter 95: Saying "Wailaka." - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يَسُوقُ بَدَنَةً فَقَالَ لَهُ " ارْكَبْهَا ". قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا بَدَنَةٌ. قَالَ " ارْكَبْهَا وَيْلَكَ ". فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ.
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) saw a man driving a Badana (a camel for sacrifice) and said to him, "Ride on it." The
man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It is a Bandana." The Prophet (ﷺ) said, "Ride on it, woe to you!" on the
second or third time.
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، وہ امام مالک سے روایت کرتے ہیں ، وہ ابوالزناد سے ، وہ اعرج سے ، وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کودیکھا کہ قربانی کا اونٹ ہنکا ئے جا رہا ہے ۔ آپ نے اس سے کہا کہ تو اس پر سوار ہو جا ۔ اس نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ تو قربانی کا اونٹ ہے ۔ آپ نے دوسری بار یا تیسری بار فرمایا کہ تیری خرابی ہو ، تو سوار ہو جا ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ যে, রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক ব্যক্তিকে একটা কুরবানীর উট হাঁকিয়ে নিয়ে যেতে দেখে বললেনঃ তুমি এর উপর সওয়ার হও। সে বললঃ হে আল্লাহ্র রসূল! এটি তো কুরবানীর উট। তখন তিনি দ্বিতীয় বা কিংবা তৃতীয়বার বললেনঃ ওয়াইলাকা (তোমার অনিষ্ট হোক) তুমি এতে সওয়ার হও।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৬)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 181
Hadith 6161
Chapter 95: Saying "Wailaka." - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،. وَأَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، وَكَانَ مَعَهُ غُلاَمٌ لَهُ أَسْوَدُ، يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ، يَحْدُو، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ ".
Narrated Anas bin Malik:
Allah's Messenger (ﷺ) was on a journey and he had a black slave called Anjasha, and he was driving the
camels (very fast, and there were women riding on those camels). Allah's Messenger (ﷺ) said, "Waihaka
(May Allah be merciful to you), O Anjasha! Drive slowly (the camels) with the glass vessels
(women)!"
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) اور اس حدیث کو حماد نے ایوب سختیانی سے اور ایوب نے ابوقلابہ سے روایت کیا اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے اور آپ کے ساتھ آپ کا ایک حبشی غلام تھا ۔ ان کا نام انجشہ تھا وہ حدی پڑھ رہا تھا ۔ ( جس کی وجہ سے سواری تیز چلنے لگی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( ویحک ) اے انجشہ شیشوں کے ساتھ آہستہ آہستہ چل ۔
আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়াসাল্লাম) -এর এক সফরে ছিলাম। তাঁর সঙ্গে তখন আনজাশাহ নামের এক কালো গোলাম ছিল। সে পুঁথি গাইছিল। রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাকে বললেনঃ ওহে আনজাশাহ! তোমার সর্বনাশ। তুমি উটটিকে কাঁচপাত্র সদৃশ সওয়ারীদের নিয়ে ধীরে চালাও।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৭)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 182
Hadith 6162
Chapter 95: Saying "Wailaka." - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" وَيْلَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ أَخِيكَ ـ ثَلاَثًا ـ مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا لاَ مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلاَنًا ـ وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ـ وَلاَ أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا. إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ".
Narrated Abu Bakra:
A man praised another man in front of the Prophet. The Prophet (ﷺ) said thrice, "Wailaka (Woe on you) !
You have cut the neck of your brother!" The Prophet (ﷺ) added, "If it is indispensable for anyone of you
to praise a person, then he should say, "I think that such-and-such person (is so-and-so), and Allah is
the one who will take his accounts (as he knows his reality) and none can sanctify anybody before
Allah (and that only if he knows well about that person.)".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے خالد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ( ویلک ) تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی ۔ تین مرتبہ ( یہ فرمایا ) اگر تمہیں کسی کی تعریف ہی کرنی پڑ جائے تو یہ کہے کہ فلاں کے متعلق میرا یہ خیال ہے ۔ اگر وہ بات اس کے متعلق جانتا ہو اور اللہ اس کا نگراں ہے میں تو اللہ کے مقابلے میں کسی کو نیک نہیں کہہ سکتا ۔ یعنی یوں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اللہ کے علم میں بھی نیک ہے ۔
আবূ বাক্রাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ এক ব্যক্তি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর সামনে অন্য জনের প্রশংসা করলো। তিনি বললেনঃ ‘ওয়াইলাকা’ (তোমার অমঙ্গল হোক) তুমি তো তোমার ভাই এর গর্দান কেটে দিয়েছ। তিনি এ কথাটি তিনবার বললেন। তিনি আরও বললেনঃ যদি তোমাদের কাউকে কারো প্রশংসা করতেই হয়, আর সে তার ব্যাপারে অবগত থাকে, তবে শুধু এতটুকু বলবে যে, আমি এ ব্যক্তি সম্পর্কে এ রকম ধারণা পোষণ করি। প্রকৃত হিসাব নিকাশের মালিক একমাত্র আল্লাহ্। আর আমি নিশ্চিতভাবে আল্লাহ্র সামনে কারো পবিত্রতা বর্ণনা করছি না।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৮)
While the Prophet (ﷺ) was distributing (war booty etc.) one day, Dhul Khawaisira, a man from the tribe of
Bani Tamim, said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Act justly." The Prophets said, "Woe to you! Who else would
act justly if I did not act justly?" `Umar said (to the Prophet (ﷺ) ), "Allow me to chop his neck off." The
Prophet said, "No, for he has companions (who are apparently so pious that) if anyone of (you
compares his prayer with) their prayer, he will consider his prayer inferior to theirs, and similarly his
fasting inferior to theirs, but they will desert Islam (go out of religion) as an arrow goes through the
victim's body (games etc.) in which case if its Nasl is examined nothing will be seen thereon, and if its
Nady is examined, nothing will be seen thereon, and if its Qudhadh is examined, nothing will be seen
thereon, for the arrow has gone out too fast even for the excretions and blood to smear over it. Such
people will come out at the time of difference among the (Muslim) people and the sign by which they
will be recognized, will be a man whose one of the two hands will look like the breast of a woman or
a lump of flesh moving loosely." Abu Sa`id added, "I testify that I heard that from the Prophet (ﷺ) and
also testify that I was with `Ali when `Ali fought against those people. The man described by the
Prophet was searched for among the killed, and was found, and he was exactly as the Prophet (ﷺ) had
described him." (See Hadith No. 807, Vol. 4)
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، ان سے امام اوزاعی نے ، ان سے زہری نے ، ان سے ابوسلمہ اور ضحاک نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے ۔ بنی تمیم کے ایک شخص ذوالخویصرۃ نے کہا یا رسول اللہ ! انصاف سے کام لیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ! اگر میں ہی انصاف نہیں کروں گا تو پھر کون کرے گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں ۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں ۔ اس کے کچھ ( قبیلہ والے ) ایسے لوگ پیدا ہوں گے کہ تم ان کی نماز کے مقابلہ میں اپنی نماز کومعمولی سمجھو گے اور ان کے روزوں کے مقابلہ میں اپنے روزے کو معمولی سمجھو گے لیکن وہ دین سے اس طرح نکل چکے ہوں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے ۔ تیرکے پھل میں دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا ۔ اس کی لکڑی پر دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نہیں ملے گا ۔ پھر اس کے دندانوں میں دیکھا جائے اور اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا پھر اس کے پر میں دیکھا جائے تو اس میں بھی کچھ نہیں ملے گا ۔ ( یعنی شکار کے جسم کو پار کرنے کا کوئی نشان ) تیر لید اور خون کو پار کر کے نکل چکا ہو گا ۔ یہ لوگ اس وقت پیدا ہوں گے جب لوگوں میں پھوٹ پڑ جائے گی ۔ ( ایک خلیفہ پر متفق نہ ہوں گے ) ان کی نشانی ان کا ایک مرد ( سردار لشکر ) ہو گا ۔ جس کا ایک ہاتھ عورت کے پستان کی طرح ہو گا یا ( فرمایا ) گوشت کے لوتھڑے کی طرح تھل تھل ہل رہا ہو گا ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ سے یہ حدیث سنی اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ۔ جب انہوں نے ان خارجیوں سے ( نہروان میں ) جنگ کی تھی ۔ مقتولین میں تلاش کی گئی توایک شخص انہیں صفات کالا یا گیا جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی تھیں ۔ اس کا ایک ہاتھ پستان کی طرح کا تھا ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একবার নিজ অধিকারভুক্ত কিছু মাল নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বন্টন করে দিচ্ছিলেন। এমন সময় তামীম গোত্রের যুল খুয়াইসিরা নামক এক ব্যক্তি বলে উঠলঃ হে আল্লাহ্র রসূল! ইনসাফ করুন। তখন তিনি বললেনঃ ওয়াইলাকা (তোমার অমঙ্গল হোক) আমি ইনসাফ না করলে আর কে ইনসাফ করবে? তখন ‘উমার (রাঃ) বললেনঃ আপনি আমাকে অনুমতি দিন, আমি এর গর্দান উড়িয়ে দেই। তিনি বললেনঃ না। কারণ, তার এমন কতকগুলো সঙ্গী আছে, যাদের সলাতের সামনে নিজেদের সলাতকে তুচ্ছ মনে করবে এবং তাদের সিয়ামের সামনে তোমাদের নিজেদের সিয়ামকে তুচ্ছ মনে করবে। তারা দ্বীন থেকে এমনভাবে বেরিয়ে যাবে, যেমন তীর শিকার ভেদ করে বেরিয়ে যায়...... গোবর ও রক্তকে এমনভাবে অতিক্রম করে যায় যে তীরের অগ্রভাগ দেখলে তাতে কোন চিহ্ন পাওয়া যায় না, তার উপরিভাগে দেখলেও কোন চিহ্ন পাওয়া যায় না। তার কাঠামোতেও কোন চিহ্ন নেই। তার পাতির মধ্যেও কোন চিহ্ন নেই। এমন সময় তাদের আবির্ভাব হবে, যখন মুসলিমদের মধ্যে মতপার্থক্য দেখা দিবে। তাদের পরিচয় হলো, তাদের নেতা এমন এক ব্যক্তি হবে, যার একহাত স্ত্রীলোকের স্তনের মত অথবা পিত্তের মত কাঁপতে থাকবে। রাবী আবূ সা’ঈদ (রাঃ) বলেন, আমি সাক্ষ্য দিয়ে বলছি যে, আমি নিশ্চয়ই নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে একথা শুনেছি এবং আরও সাক্ষ্য দিচ্ছি যে, আমি নিজে ‘আলী (রাঃ) -এর সাথে ছিলাম যখন তিনি এ দলের বিরুদ্ধে যুদ্ধ করছিলেন। তখন সে লোকটিকে যুদ্ধে নিহত লোকদের মধ্য থেকে তালাশ করে আনার পর তাকে ঠিক সেই হালাতেই পাওয়া গেল, যে হালাতের বর্ণনা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) দিয়েছিলেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬১৯)
A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I am ruined!" The Prophet (ﷺ) said,
"Waihaka (May Allah be merciful to you) !" The man said, "I have done sexual intercourse with my
wife while fasting in Ramadan." The Prophet (ﷺ) said, "Manumit a slave." The man said, " I cannot afford
that. " The Prophet (ﷺ) said; "Then fast for two successive months." The man said, " I have no power to
do so." The Prophet (ﷺ) said, "Then feed sixty poor persons." The man said, "I have nothing (to feed sixty
persons). Later a basket full of dates were brought to the Prophet (ﷺ) and he said (to the man), "Take it
and give it in charity." The man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I give it to people other than my
family? By Him in Whose Hand my life is, there is nobody poorer than me in the whole city of
Medina." The Prophet (ﷺ) smiled till his premolar teeth became visible, and said, "Take it." Az-Zuhri said
(that the Prophet (ﷺ) said). "Wailaka."
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بیان کیا ، کہا ہم کو حضرت عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو امام اوزاعی نے خبر دی ، کہا کہ مجھ کو ابن شہاب نے خبر دی ، بیان کیا ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک صحابی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں تو تباہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( کیا بات ہوئی ؟ ) انہوں نے کہا کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے صحبت کر لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایک غلام آزاد کر ۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرے پاس غلام ہے ہی نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر دو مہینے متواتر روزے رکھ ۔ اس نے کہا کہ اس کی مجھ میں طاقت نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا ۔ کہا کہ اتنا بھی میں اپنے پاس نہیں پاتا ۔ اس کے بعد کھجور کا ایک ٹوکرا آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے لے اور صدقہ کر دے ۔ انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! کیا اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور کو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! سارے مدینہ کے دونوں طنابوں یعنی دونوں کناروںمیں مجھ سے زیادہ کوئی محتاج نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس پر اتنا ہنس دیئے کہ آپ کے آگے کے دندان مبارک دکھائی دینے لگے ۔ فرمایا کہ جاؤتم ہی لے لو ۔ اوازاعی کے ساتھ اس حدیث کو یونس نے بھی زہری سے روایت کیا اور عبدالرحمٰن بن خالد نے زہری سے اس حدیث میں بجائے لفظ ویحک کے لفظ ویلک روایت کیا ہے ( معنی دونوں کے ایک ہی ہیں )
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ যে, একবার এক ব্যক্তি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর খিদমাতে এসে বললঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আমি তো ধ্বংস হয়ে গেছি। তিনি বললেনঃ ‘ওয়াইহাকা’ (আফসোস তোমার জন্য) এরপর সে বললঃ আমি রমাযানের মধ্যেই দিনের বেলায় স্ত্রীর সাথে যৌন সঙ্গম করে ফেলেছি। তিনি বললেনঃ একটা গোলাম আযাদ করে দাও। সে বললঃ আমার কাছে তা নেই। তিনি বললেনঃ তাহলে তুমি এক নাগাড়ে দু’মাস সাওম পালন কর। সে বললঃ আমি এতেও অপারগ। তিনি বললেনঃ তবে তুমি ষাটজন মিসকীনকে খাওয়াও। লোকটি বললঃ আমি এটাও পারি না। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিকট এক ঝুড়ি খেজুর এলো। তখন তিনি বললেনঃ এটা নিয়ে যাও এবং সদাকাহ করে দাও। সে বললঃ হে আল্লাহ্র রসূল! তা কি আমার পরিবার ছাড়া অন্যকে দেব? সেই সত্তার কসম! যাঁর হাতে আমার প্রাণ। মাদীনাহ্র উভয় প্রান্তের মধ্যস্থলে আমার চেয়ে অভাবী আর কেউ নেই। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এমনভাবে হাসলেন, তাঁর পার্শ্বের ছেদন দন্ত পর্যন্ত প্রকাশ পেল। তিনি বললেনঃ তবে তুমিই নিয়ে যাও। (আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২০)
যুহরি হতে ইউনুস এরকমই বর্ণনা করেছেন। যুহরি হতে ‘আবদুর রহমান বিন খালিদ ‘ওয়াইলাকা’ বলেছেন।
A bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Inform me about the emigration." The Prophet (ﷺ) said, "Waihaka
(May Allah be merciful to you)! The question of emigration is a difficult one. Have you got some
camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet (ﷺ) said, "Do you pay their Zakat?" He said, "Yes." The
Prophet said, "Go on doing like this from beyond the seas, for Allah will not let your deeds go in
vain."
ہم سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یزید لیثی نے اور ان سے ابو سعید خدری نے کہ
ایک دیہاتی نے کہا ، یا رسول اللہ ! ہجرت کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے ( اس کی نیت ہجرت کی تھی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تجھ پر افسوس ! ہجرت کو تو نے کیا سمجھا ہے یہ بہت مشکل ہے ۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ ہیں ۔ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ فرمایا کہ پھر سات سمندر پار عمل کرتے رہو ۔ اللہ تمہارے کسی عمل کے ثواب کوضائع نہ کرے گا ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একজন গ্রাম্য লোক এসে বললঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আপনি আমাকে হিজরাতের বিষয়ে কিছু বলুন। তিনি বললেনঃ আফসোস তোমার প্রতি, হিজরাত তো খুব কঠিন কাজ। তোমার কি উট আছে? সে বললঃ হাঁ। তিনি জিজ্ঞেস করলেনঃ তুমি কি এর যাকাত দিয়ে থাক? লোকটি বললঃ হাঁ। তিনি বললেনঃ তবে তুমি সমুদ্রের ঐ পাশ থেকেই ‘আমাল করে যাও। নিশ্চয়ই আল্লাহ্ তোমার ‘আমাল এতটুকু কমিয়ে দিবেন না।(আধুনিক প্রকাশনী- ,৫৭২৫ ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২১)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 186
Hadith 6166
Chapter 95: Saying "Wailaka." - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاقِدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، سَمِعْتُ أَبِي، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" وَيْلَكُمْ ـ أَوْ وَيْحَكُمْ قَالَ شُعْبَةُ شَكَّ هُوَ ـ لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ". وَقَالَ النَّضْرُ عَنْ شُعْبَةَ وَيْحَكُمْ. وَقَالَ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ وَيْلَكُمْ أَوْ وَيْحَكُمْ.
Narrated Ibn `Umar:
The Prophet (ﷺ) said, "Wailakum" (woe to you) or "waihakum" (May Allah be merciful to you)." Shu`ba
is not sure as to which was the right word. "Do not become disbelievers after me by cutting the necks
of one another."
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے واقد بن محمد بن زید نے بیان کیا ، انہوں نے ان کے والد سے سنا اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، افسوس ( ویلکم یا ویحکم ) شعبہ نے بیان کیا کہ شک ان کے شیخ ( واقد بن محمد کو ) تھا ۔ میرے بعد تم کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو ۔ اور نضر نے شعبہ سے بیان کیا ” ویحکم “ اور عمر بن محمد نے اپنے والد سے ” ویلکم یا ویحکم “ کے لفظ نقل کئے ہیں ۔
ইবনু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ ‘ওয়াইলাকুম’ অথবা ‘ওয়াইহাকুম’ (তোমাদের জন্য আফসোস) আমার পরে তোমরা আবার কাফির অবস্থায় ফিরে যেয়ো না। যাতে তোমরা একে অন্যের গর্দান উড়িয়ে দেবে। (আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২২)
A bedouin came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! When will The Hour be established?"
The Prophet (ﷺ) said, "Wailaka (Woe to you), What have you prepared for it?" The bedouin said, "I have
not prepared anything for it, except that I love Allah and H is Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "You will
be with those whom you love." We (the companions of the Prophet (ﷺ) ) said, "And will we too be so?
The Prophet (ﷺ) said, "Yes." So we became very glad on that day. In the meantime, a slave of Al-Mughira
passed by, and he was of the same age as I was. The Prophet (ﷺ) said. "If this (slave) should live long, he
will not reach the geriatric old age, but the Hour will be established."
ہم سے عمرو ابن عاصم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس نے کہ
ایک بدوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ا ورپوچھا یا رسول اللہ قیامت کب آئے گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس ( ویلک ) تم نے اس قیامت کے لئے کیا تیاری کر لی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا میں نے اس کے لئے توکوئی تیاری نہیں کی ہے البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر تم قیامت کے دن ان کے ساتھ ہو ، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ ہم نے عرض کیا اور ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو گا ؟ فرمایا کہ ہاں ۔ ہم اس دن بہت زیادہ خوش ہوئے ۔ پھر مغیرہ کے ایک غلام وہاں سے گزرے وہ میرے ہم عمر تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ بچہ زندہ رہا تو اس کے بڑھاپا آنے سے پہلے قیامت قائم ہو جائے گی ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ যে, এক গ্রাম্য লোক নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর খিদমাতে এসে বললঃ হে আল্লাহ্র রসূল! ক্বিয়ামাত কবে হবে? তিনি বললেনঃ তোমার জন্য আক্ষেপ, তুমি এর জন্য কী প্রস্তুতি গ্রহণ করেছ? সে জবাব দিলঃ আমি তো তার জন্য কিছু প্রস্তুতি গ্রহণ করিনি, তবে আল্লাহ ও তাঁর রসূলকে ভালবাসি। তিনি বললেনঃ তুমি যাকে ভালবাস, ক্বিয়ামতের দিন তুমি তাঁর সঙ্গেই থাকবে। তখন আমরা বললামঃ আমাদের জন্যও কি এরূপ? তিনি বললেনঃ হাঁ। এতে আমরা সে দিন অতিশয় আনন্দিত হলাম। আনাস (রাঃ) বলেন, এ সময় মুগীরাহ (রাঃ)’র একটি যুবক বয়সের ছেলে পাশ দিয়ে যাচ্ছিল। সে ছিল আমার বয়সী। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ যদি এ যুবকটি অধিক দিন বেঁচে থাকে, তবে সে বৃদ্ধ হবার আগেই ক্বিয়ামত সংঘটিত হতে পারে।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৩)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 188
Hadith 6168
Chapter 96: The signs of loving Allah - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ
" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ".
Narrated `Abdullah:
The Prophet (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves."
ہم سے بشر بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔
আব্দুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ মানুষ যাকে ভালবাসবে সে তারই সাথী হবে।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৪)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 189
Hadith 6169
Chapter 96: The signs of loving Allah - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ـ رضى الله عنه جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمْ يَلْحَقْ بِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". تَابَعَهُ جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ وَأَبُو عَوَانَةَ عَنِ الأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم.
Narrated `Abdullah bin Mas`ud:
A man came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you say about a man who loves
some people but cannot catch up with their good deeds?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Everyone will be with
those whom he loves."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود نے کہ
ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کا اس شخص کے بارے میں کیا ارشاد ہے جو ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن ان سے میل نہیں ہو سکا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کی انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتاہے ۔ اس روایت کی متابعت جریر بن حازم ، سلیمان بن قرم اور ابو عوانہ نے اعمش سے کی ، ان سے ابووائل نے ، ان سے عبداللہ بن مسعود نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
আব্দুল্লাহ ইবনু মাস’উদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আব্দুল্লাহ ইবনু মাস’উদ (রাঃ) বলেছেনঃ এক ব্যক্তি রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর নিকট এসে জিজ্ঞেস করলঃ হে আল্লাহ্র রসূল! এমন ব্যক্তির ব্যাপারে আপনি কী বলেন, যে ব্যক্তি কোন দলকে ভালবাসে, কিন্তু (‘আমালের ক্ষেত্রে) তাদের সমান হতে পারেনি? তিনি বললেনঃ মানুষ যাকে ভালবাসে সে তারই সাথী হবে। [৬১৬৮; মুসলিম ৪৫/৫০/, হাঃ ২৬৪০, আহমাদ ১৮১১৩] আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭২৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৫)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 190
Hadith 6170
Chapter 96: The signs of loving Allah - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ قِيلَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ
" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ". تَابَعَهُ أَبُو مُعَاوِيَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ.
Narrated Abu Musa:
It was said to the Prophet; , "A man may love some people but he cannot catch up with their good
deeds?" The Prophet (ﷺ) said, "Everyone will be with those whom he loves."
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا ایک شخص ایک جماعت سے محبت رکھتا ہے لیکن اس سے مل نہیں سکا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انسان اس کے ساتھ ہے جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ سفیان کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابومعاویہ اورمحمد بن عبید نے کی ہے ۔
আবূ মূসা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে জিজ্ঞেস করা হলোঃ এক ব্যক্তি একদলকে ভালবাসে, কিন্তু (‘আমালে) তাদের সমপর্যায়ের হতে পারেনি। তিনি বললেনঃ মানুষ যাকে ভালবাসে, সে তারই সাথী হবে।[মুসলিম৪৫/৫০, হাঃ ২৬৪১] আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৬)
A man asked the Prophet (ﷺ) "When will the Hour be established O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) . said,
"What have you prepared for it?" The man said, " I haven't prepared for it much of prayers or fast or
alms, but I love Allah and His Apostle." The Prophet (ﷺ) said, "You will be with those whom you love."
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو ہمارے والد عثمان مروزی نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں عمرو بن مرہ نے ، انہیں سالم بن ابی الجعد نے اور انہیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہو گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تم نے اس کے لئے کیا تیاری کی ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے اس کے لئے بہت ساری نمازیں ، روزے اور صدقے نہیں تیار کر رکھے ہیں ، لیکن میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہو جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔
আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ এক ব্যক্তি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে জিজ্ঞেস করলঃ হে আল্লাহ্র রসূল! ক্বিয়ামাত কবে হবে? তিনি তাকে জিজ্ঞেস করলেনঃ তুমি এর জন্য কী প্রস্তুতি গ্রহণ করেছ? সে বললঃ আমি এর জন্য তো অধিক কিছু সালাত, সাওম এবং সদাকাহ আদায় করতে পারিনি। কিন্তু আমি আল্লাহ্ ও তাঁর রসূলকে ভালবাসি। তিনি বললেনঃ তুমি যাকে ভালবাস তারই সাথী হবে। [৩৬৮৮; মুসলিম ৪৫/৫০, হাঃ ২৬৩৯, আহমাদ ১২০৭৬] আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৭)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 192
Hadith 6172
Chapter 97: The saying of one man to another: Ikhsa - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لاِبْنِ صَائِدٍ " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا فَمَا هُوَ ". قَالَ الدُّخُّ. قَالَ " اخْسَأْ ".
Narrated Ibn `Abbas:
Allah's Messenger (ﷺ) said to Ibn Saiyad "I have hidden something for you in my mind; What is it?" He said,
"Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa."
ہم سے ابو الولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے مسلم بن زریر نے بیان کیا ، کہا میں نے ابو رجاء سے سنا اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ، میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے ، وہ کیا ہے ؟ وہ بولا ” الدخ “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا ۔
ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ রাসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ইবনু সা’ঈদকে বললেনঃ আমি তোমার জন্য একটি কথা গোপন রেখেছি, তুমি বলতো সে কথাটা কী? সে বললঃ ‘দুখ’ তখন তিনি বললেনঃ ‘দূর হও’।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৮)
USC-MSA web (English) reference : Vol. 8, Book 73, Hadith 193
Hadith 6173
Chapter 78: Good Manners and Form (Al-Adab) - كتاب الأدب
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ فِي أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ". فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الأُمِّيِّينَ. ثُمَّ قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَرَضَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ". ثُمَّ قَالَ لاِبْنِ صَيَّادٍ " مَاذَا تَرَى ". قَالَ يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " خُلِّطَ عَلَيْكَ الأَمْرُ ". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنِّي خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ". قَالَ هُوَ الدُّخُّ. قَالَ " اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ ". قَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَأْذَنُ لِي فِيهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنْ يَكُنْ هُوَ لاَ تُسَلَّطُ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ هُوَ فَلاَ خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ ". قَالَ سَالِمٌ فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ الأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، وَهْوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنِ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لاِبْنِ صَيَّادٍ أَىْ صَافِ ـ وَهْوَ اسْمُهُ ـ هَذَا مُحَمَّدٌ. فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ". قَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي النَّاسِ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ ذَكَرَ الدَّجَّالَ فَقَالَ " إِنِّي أُنْذِرُكُمُوهُ، وَمَا مِنْ نَبِيٍّ إِلاَّ وَقَدْ أَنْذَرَ قَوْمَهُ، لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ قَوْمَهُ، وَلَكِنِّي سَأَقُولُ لَكُمْ فِيهِ قَوْلاً لَمْ يَقُلْهُ نَبِيٌّ لِقَوْمِهِ، تَعْلَمُونَ أَنَّهُ أَعْوَرُ، وَأَنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ ".
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ خَسَأْتُ الْكَلْبَ بَعَّدْتُهُ خَاسِئِينَ مُبْعَدِينَ
Narrated `Abdullah bin `Umar:
`Umar bin Al-Khattab set out with Allah's Messenger (ﷺ), and a group of his companions to Ibn Saiyad.
They found him playing with the boys in the fort or near the Hillocks of Bani Maghala. Ibn Saiyad
was nearing his puberty at that time, and he did not notice the arrival of the Prophet (ﷺ) till Allah's
Apostle stroked him on the back with his hand and said, "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?"
Ibn Saiyad looked at him and said, "I testify that you are the Apostle of the unlettered ones
(illiterates)". Then Ibn Saiyad said to the Prophets . "Do you testify that I am Allah's Messenger (ﷺ)?" The
Prophet denied that, saying, "I believe in Allah and all His Apostles," and then said to Ibn Saiyad,
"What do you see?" Ibn Saiyad said, "True people and liars visit me." The Prophet (ﷺ) said, "You have
been confused as to this matter." Allah's Messenger (ﷺ) added, "I have kept something for you (in my
mind)." Ibn Saiyad said, "Ad-Dukh." The Prophet (ﷺ) said, "Ikhsa (you should be ashamed) for you can
not cross your limits." `Umar said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Allow me to chop off h is neck." Allah's
Apostle said (to `Umar). "Should this person be him (i.e. Ad-Dajjal) then you cannot over-power him;
and should he be someone else, then it will be no use your killing him." `Abdullah bin `Umar added:
Later on Allah's Messenger (ﷺ) and Ubai bin Ka`b Al-Ansari (once again) went to the garden in which Ibn
Saiyad was present.
When Allah's Messenger (ﷺ) entered the garden, he started hiding behind the trunks of the date-palms
intending to hear something from Ibn Saiyad before the latter could see him. Ibn Saiyad was Lying on
his bed, covered with a velvet sheet from where his mumur were heard. Ibn Saiyad's mother saw the
Prophet and said, "O Saf (the nickname of Ibn Saiyad)! Here is Muhammad!" Ibn Saiyad stopped his
murmuring. The Prophet (ﷺ) said, "If his mother had kept quiet, then I would have learnt more about
him." `Abdullah added: Allah's Messenger (ﷺ) stood up before the people (delivering a sermon), and after
praising and glorifying Allah as He deserved, he mentioned the Ad-Dajjal saying, "I warn you against
him, and there has been no prophet but warned his followers against him. Noah warned his followers
against him but I am telling you about him, something which no prophet has told his people of, and
that is: Know that he is blind in one eye where as Allah is not so."
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی ، انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ، کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابن صیاد کی طرف گئے ۔ بہت سے دوسرے صحابہ بھی ساتھ تھے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ وہ چند بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے قلعہ کے پاس کھیل رہا ہے ۔ ان دنوں ابن صیاد بلوغ کے قریب تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا اسے احساس نہیں ہوا ۔ یہاں تک کہ آپ نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا ۔ پھر فرمایا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر کہا ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے یعنی ( عربوں کے ) رسول ہیں ۔ پھر ابن صیاد نے کہا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اسے دفع کر دیا اور فرمایا ، میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا ۔ پھر ابن صیاد سے آپ نے پوچھا ، تم کیا دیکھتے ہو ؟ اس نے کہا کہ میرے پاس سچا اور جھوٹا دونوں آتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے معاملہ کومشتبہ کر دیا گیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہارے لئے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ وہ ” الدخ “ ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دور ہو ، اپنی حیثیت سے آگے نہ بڑھ ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ مجھے اجازت دیں گے کہ اسے قتل کر دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر یہ وہی ( دجال ) ہے تو اس پر غالب نہیں ہوا جا سکتا اور اگر یہ دجال نہیں ہے تو اسے قتل کرنے میں کوئی خیر نہیں ۔
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں ۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنارہا تھا ۔ ابن صیاد کی ماں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف ! ( یہ اس کا نام تھا ) محمد آ رہے ہیں ۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی ۔
سالم نے بیان کیا کہ عبداللہ نے بیان کیاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی اس کی شان کے مطابق تعریف کرنے کے بعد آپ نے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ میں تمہیں اس سے ڈراتا ہوں ۔ کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی قوم کو اس سے نہ ڈرایا ہو ۔ نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس سے ڈرایا لیکن میں اس کی تمہیں ایک ایسی نشانی بتاؤں گا جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی ۔ تم جانتے ہو کہ وہ کانا ہو گا اور اللہ کانا نہیں ہے ۔
আবদুল্লাহ ইবনু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, ‘উমার ইবনু খাত্তাব (রাঃ) একদল সাহাবীসহ রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর সঙ্গে ইবনু সাইয়্যাদের নিকট গমন করেন। তাঁরা সেখানে গিয়ে তাকে বনূ মাগালাহের দুর্গের পার্শ্বে বালকদের খেলায় মগ্ন পেলেন। তখন সে বালেগ হবার নিকটবর্তী বয়সে পৌছেছে। সে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর আগমন টের পেল না যতক্ষণ না রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর হাত দিয়ে তাঁর পিঠে মারলেন। তারপর তিনি
বললেনঃ তুমি কি সাক্ষ্য দাও যে, আমিই আল্লাহ্র রসূল! তখন সে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর দিকে তাকেয়ে বললোঃ আমি সাক্ষ্য দিচ্ছি যে, আপনি উম্মী সম্প্রদায়ের রসূল! এরপর ইবনু সাইয়্যাদ বললঃ আপনি কি সাক্ষ্য দিচ্ছেন যে, আমিই আল্লাহ্র রসূল? রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাকে ধাক্কা মেরে বললেনঃ আমি আল্লাহ ও তাঁর রসূলদের উপর ঈমান রাখি। তারপর আবার তিনি ইবনু সাইয়্যাদকে জিজ্ঞেস করলেনঃ তুমি কী দেখতে পাও? সে বললঃ আমার নিকট সত্যবাদী ও মিথ্যাচারী উভয়ই আসেন। রাসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ বিষয়টি তোমার উপর এলোমেলো করে দেওয়া হয়েছে। এরপর নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাকে বললেনঃ আমি তোমার (পরীক্ষার) জন্য কিছু গোপন রাখছি। সে বললঃ তা ‘দুখ’। তখন তিনি বললেনঃ ‘দূর হও’। তুমি কখনো তোমার ভাগ্যকে অতিক্রম করতে পারবে না। ‘উমার (রাঃ) বললেনঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আপনি কি তার ব্যাপারে আমাকে অনুমতি দেন যে, আমি তার গর্দান কেটে দেই। তখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ এ যদি সে (দাজ্জালই) হয়, তাহলে তার উপর তোমাকে ক্ষমতা দেয়া হবে না। আর এ যদি সে না হয়ে থাকে, তবে তাকে হত্যা করা তোমার জন্য ভাল হবে না।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৯)
সালিম (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ সালিম (রহঃ) বলেন, এরপর আমি ‘আবদুল্লাহ ইবনু ‘উমার (রাঃ) -কে বলতে শুনেছি যে, এ ঘটনার পর একদিন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এবং উবাই ইবনু কা’ব (রাঃ) সেই খেজুর বাগানের দিকে রওয়ানা হলেন, যেখানে ইবনু সাইয়্যাদ ছিল। অবশেষে যখন রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বাগানে প্রবেশ করলেন, তখন তিনি খেজুর গাছের আড়ালে চলতে লাগলেন। তাঁর উদ্দেশ্য ছিল যে, ইবনু সাইয়্যাদ তাঁকে দেখার আগেই যেন তিনি তাঁর কিছু কথাবার্তা শুনে নিতে পারেন। এ সময় ইবনু সাইয়্যাদ তার বিছানায় একখানায় একখানা চাদর গায়ে দিয়ে শুয়েছিল। আর তার চাদরের মধ্যে হতে বিড়বিড় শব্দ শুনা যাচ্ছিল। ইতোমধ্যে ইবনু সাইয়্যাদের মা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে দেখল যে, তিনি খেজুরের গাছের আড়ালে লুকিয়ে লুকিয়ে আসছেন। তখন তার মা তাকে ডেকে বললঃ ওহে সাফ্! –এটা ছিল তার ডাক নাম- এই যে, মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)। তখন ইবনু সাইয়্যাদ চুপ হল। তখন রসূলুল্লাহ (রাঃ) বললেনঃ যদি তার মা তাকে সতর্ক না করতো তবে তার (ব্যাপার) প্রকাশ পেয়ে যেতো।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৯)
আবদুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘আবদুল্লাহ বর্ণনা করেছেন যে, একদিন রাসূলুল্লাহ সাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম সহাবাদের মধ্যে দাঁড়িয়ে আল্লাহ তা‘আলার যথাবিহিত প্রশংসার পর দাজ্জালের উল্লেখ করে বললেনঃ আমি তোমাদের তার ব্যাপারে সাবধান করে দিচ্ছি। প্রত্যেক নাবীই এর ব্যাপারে তাঁর কওমকে সাবধান করে গিয়েছেন। আমি এর ব্যাপারে এমন কথা বলছি যা অন্য কোন নাবী তাঁর কওমকে বলেননি। তোমরা জেনে রাখ সে কানা; কিন্তু আল্লাহ কানা নন। [৩০৫৭] আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬২৯)
আবূ আবদুল্লাহ বুখারী (রহ.) বলেন, خسأت الكلب অর্থাৎ আমি তাকে দূর করেছি। خايئين অর্থ বিতাড়নকারী।
When the delegation of `Abdul Qais came to the Prophet, he said, "Welcome, O the delegation who
have come! Neither you will have disgrace, nor you will regret." They said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We
are a group from the tribe of Ar-Rabi`a, and between you and us there is the tribe of Mudar and we
cannot come to you except in the sacred months. So please order us to do something good (religious
deeds) so that we may enter Paradise by doing that, and also that we may order our people who are
behind us (whom we have left behind at home) to follow it." He said, "Four and four:" offer prayers
perfectly , pay the Zakat, (obligatory charity), fast the month of Ramadan, and give one-fifth of the
war booty (in Allah's cause), and do not drink in (containers called) Ad-Duba,' Al-Hantam, An-Naqir
and Al-Muzaffat."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، ان سے ابو التیاح یزید بن حمید نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے اور ا ن سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب قبیلہ عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مرحبا ان لوگوں کو جو آن پہنچے تو وہ ذلیل ہوئے نہ شرمندہ ( خوشی سے مسلمان ہو گئے ورنہ مارے جاتے شرمندہ ہوتے ) انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! ہم قبیلہ ربیع کی شاخ سے تعلق رکھتے ہیں اور چونکہ ہمارے اور آپ کے درمیان قبیلہ مضر کے کافر لوگ حائل ہیں اس لئے ہم آپ کی خدمت میں صرف حرمت والے مہینوں ہی میں حاضر ہو سکتے ہیں ( جن میں لوٹ کھسوٹ نہیں ہوتی ) آپ کچھ ایسی جچی تلی بات بتا دیں جس پر عمل کرنے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور جو لوگ نہیں آ سکے ہیں انہیں بھی اس کی دعوت پہنچائیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چار چار چیزیں ہیں ۔ نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، رمضان کے روزے رکھو اورغنیمت کا پانچواں حصہ ( بیت المال کو ) ادا کرو اور دباء ، حنتم ، نقیر اور مزفت میں نہ پیو ۔
ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ ‘আবদুল কায়সের প্রতিনিধি দল নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -এর কাছে এলে তিনি বললেনঃ এই প্রতিনিধি দলের প্রতি ‘মারহাবা’, যারা লাঞ্ছিত ও লজ্জিত হয়ে আসেনি। তারা বললঃ হে আল্লাহ্র রসূল! আমরা রাবি’য়া গোত্রের লোক। আমরা ও আপনার মাঝে অবস্থান করছে ‘মুযার’ গোত্র। এজন্য আমরা হারাম মাস ব্যতীত আপনার খিদমতে পৌছতে পারি না। সুতরাং আপনি আমাদের এমন কিছু চূড়ান্ত নিয়ম-নীতি বাত্লিয়ে দেন যা অনুসরণ করে আমরা জান্নাতে যেতে পারি এবং আমাদের পেছনে যারা রয়েছে তাদের পথ দেখাতে পারি। তিনি বললেনঃ আমি চারটি ও চারটি নির্দেশ দিচ্ছি। তোমরা সালাত কায়িম করবে, যাকাত দিবে, রমাযান মাসের সিয়াম পালন করবে এবং গানীমাতের মালের পঞ্চমাংশ দান করবে। আর কদুর খোলে, সবুজ রং করা কলসে, খেজুর মূলের পাত্রে আলকাতরা রঙানো পাত্রে পান করবে না।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫৭৩৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৫৬৩০)