Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 70

Food, Meals

كتاب الأطعمة

From Sahih al-Bukhari - showing 25 of 94 hadiths in this chapter

Hadith 5398
Chapter 13: To eat while leaning - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ آكُلُ مُتَّكِئًا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Juhaifa:

Allah's Messenger (ﷺ) said, "I do not take my meals while leaning (against something).

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا ، ان سے علی ابن الاقمر نے کہ

میں نے ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔

আবূ জুহাইফাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ আমি হেলান দিয়ে খাদ্য গ্রহন করি না। [৩৮](আধুনিক প্রকাশনী- ৪৯৯৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৩)

In-book reference : Book 70, Hadith 26
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 310
Hadith 5399
Chapter 13: To eat while leaning - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الأَقْمَرِ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِرَجُلٍ عِنْدَهُ ‏ "‏ لاَ آكُلُ وَأَنَا مُتَّكِئٌ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Juhaifa:

While I was with the Prophet (ﷺ) he said to a man who was with him, "I do not take my meals while leaning."

مجھ سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو جریر نے خبر دی ، انہیں منصور نے ، انہیں علی ابن الاقمر نے اور ان سے ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا ۔ آپ نے ایک صحابی سے جو آپ کے پاس موجود تھے فرمایا کہ میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا ۔

আবূ জুহাইফাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাছে ছিলাম। তিনি তাঁর নিকট উপবিষ্ট জনৈক ব্যক্তিকে বললেনঃ আমি হেলান দিয়ে খাবার খাই না।(আধুনিক প্রকাশনী- ৪৯৯৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৪)

In-book reference : Book 70, Hadith 27
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 311
Hadith 5400
Chapter 14: Roasted (meat). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِضَبٍّ مَشْوِيٍّ، فَأَهْوَى إِلَيْهِ لِيَأْكُلَ فَقِيلَ لَهُ إِنَّهُ ضَبٌّ، فَأَمْسَكَ يَدَهُ، فَقَالَ خَالِدٌ أَحَرَامٌ هُوَ قَالَ ‏ "‏ لاَ، وَلَكِنَّهُ لاَ يَكُونُ بِأَرْضِ قَوْمِي، فَأَجِدُنِي أَعَافُهُ ‏"‏‏.‏ فَأَكَلَ خَالِدٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْظُرُ‏.‏ قَالَ مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ‏.‏

Narrated Khalid bin Al-Walid:

"A roasted mastigure was brought to the Prophet (ﷺ) who stretched his hand towards it to eat it. But it was said to him, "It is a mastigure." So he withdrew his hand. Khalid asked, "Is it unlawful to eat?" the Prophet said, "No, but it is not found in the land of my people and that is why I do not like eating it." So Khalid started eating (it) while Allah's Messenger (ﷺ) was looking at him. An-Nadr said: 'Al-Khazira' (is prepared) from bran while 'Al-Harira' is prepared from milk.

ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں ابوامامہ بن سہل نے اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھنا ہوا ساہنہ پیش کیا گیاتو آپ اسے کھانے کے لیے متوجہ ہوئے ۔ اسی وقت آپ کو بتایا گیا کہ یہ ساہنہ ہے تو آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا ۔ حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ حرام ہے ؟ فرمایا کہ نہیں لیکن چونکہ یہ میرے ملک میں نہیں ہوتا اس لیے طبیعت اسے گوارا نہیں کرتی ۔ پھر خالد رضی اللہ عنہ نے اسے کھایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔ امام مالک نے ابن شہاب سے ” ضب محنوذ “ ( یعنی بھنا ہوا ساہنہ ضب مشوی کی جگہ محنوذ نقل کیا ، دونوں لفظوں کا ایک معنی ہے )

খালিদ ইবনু ওয়ালীদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নাবীসাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লাম-এর নিকট ভুনা যবব আনা হলে তিনি তা খাওয়ার উদ্দেশে হাত বাড়ালেন। তখন তাঁকে বলা হলোঃ এটাতো যবব, এতে তিনি হাত গুটিয়ে নিলেন। খালিদ জিজ্ঞেস করলেনঃ এটা কি হারাম? তিনি বললেনঃ না। যেহেতু এটা আমাদের এলাকায় নেই তাই আমি এটা খাওয়া পছন্দ করি না। তারপর খালিদ তা খেতে থাকলেন, আর রাসূলুল্লাহসাল্লাল্লাহু আলাইহি ওয়াসাল্লামদেখছিলেন। মালিক, ইবনু শিহাব হতেبِضَبٍّ مَشْوِيٍّ এর স্থলে)بِضَبٍّ مَحْنُوذٍ বলেছেন। [৫৩৯১] আধুনিক প্রকাশনী- ৪৯৯৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৫)

In-book reference : Book 70, Hadith 28
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 312
Hadith 5401
Chapter 15: Al-Khazira (dish prepared with while flour and fat) - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الأَنْصَارِ ـ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، فَوَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّي فِي بَيْتِي، فَأَتَّخِذُهُ مُصَلًّى‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَذِنْتُ لَهُ فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ ‏"‏‏.‏ فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَكَبَّرَ، فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرٍ صَنَعْنَاهُ، فَثَابَ فِي الْبَيْتِ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ ذَوُو عَدَدٍ فَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ ذَلِكَ مُنَافِقٌ لاَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تَقُلْ، أَلاَ تَرَاهُ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ قَالَ قُلْنَا فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَإِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ‏.‏ يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ ‏"‏‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِيَّ أَحَدَ بَنِي سَالِمٍ وَكَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنْ حَدِيثِ مَحْمُودٍ فَصَدَّقَهُ‏.‏

Narrated 'Urban bin Malik:

who attended the Badr battle and was from the Ansar, that he came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Apostle! I have lost my eyesight and I lead my people in the prayer (as an Imam). When it rains, the valley which is between me and my people, flows with water, and then I cannot go to their mosque to lead them in the prayer. O Allah's Messenger (ﷺ)! I wish that you could come and pray in my house so that I may take it as a praying place. The Prophet (ﷺ) said, "Allah willing, I will do that." The next morning, soon after the sun had risen, Allah's Messenger (ﷺ) came with Abu Bakr. The Prophet (ﷺ) asked for the permission to enter and I admitted him. The Prophet (ﷺ) had not sat till he had entered the house and said to me, "Where do you like me to pray in your house?" I pointed at a place in my house whereupon he stood and said, "Allahu Akbar." We lined behind him and he prayed two rak`at and finished it with Taslim. We then requested him to stay for a special meal of Khazira which we had prepared. A large number of men from the adjoining area gathered in the house. One of them said, "Where is Malik bin Ad-Dukhshun?" Another man said, "He is a hypocrite and does not love Allah and His Apostle." The Prophet said, "Do not say so. Do you not think that he has said: "None has the right to be worshipped but Allah," seeking Allah's pleasure? The man said, "Allah and His Apostle know better, but we have always seen him mixing with hypocrites and giving them advice." The Prophet (ﷺ) said, "Allah has forbidden the (Hell) Fire for those who testify that none has the right to be worshipped but Allah, seeking Allah's pleasure. "

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، ان سے امام لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں محمود بن ربیع انصاری نے خبر دی کہ

عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور قبیلہ انصار کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے بدر کی لڑائی میں شرکت کی تھی ۔ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میری آنکھ کی بصارت کمزور ہے اور میں اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہوں ۔ برسات میں وادی جو میرے اور ان کے درمیان حائل ہے ۔ بہنے لگتی ہے اور میرے لیے ان کی مسجد میں جانا اور ان میں نماز پڑھنا ممکن نہیں رہتا ۔ اس لیے یا رسول اللہ ! میری یہ خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لے چلیں اور میرے گھر میں آپ نماز پڑھیں تاکہ میں اسی جگہ کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انشاءاللہ میں جلدی ہی ایسا کروں گا ۔ حضرت عتبان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ چاشت کے وقت جب سورج کچھ بلند ہو گیا تشریف لائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اندر آنے کی اجازت چاہی ۔ میں نے آپ کو اجازت دے دی ۔ آپ بیٹھے نہیں بلکہ گھر میں داخل ہو گئے اور دریافت فرمایا کہ اپنے گھر میں کس جگہ تم پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں ؟ میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کھڑے ہو گئے اور ( نماز کے لیے ) تکبیر کہی ۔ ہم نے بھی ( آپ کے پیچھے ) صف بنا لی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوخزیرہ ( حریرہ کی ایک قسم ) کے لیے جو آپ کے لیے ہم نے بنایا تھا روک لیا ۔ گھر میں قبیلہ کے بہت سے لوگ آآ کر جمع ہو گئے ۔ ان میں سے ایک صاحب نے کہا مالک بن دخشن رضی اللہ عنہ کہاں ہیں ؟ اس پر کسی نے کہا کہ وہ تو منافق ہے اللہ اور اس کے رسول سے اسے محبت نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، یہ نہ کہو ، کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہوں نے اقرار کیا ہے کہ لا الہٰ الا اللہ یعنی اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنا ہے ۔ ان صحابی نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم نے عرض کیا ( یا رسول اللہ ! ) لیکن ہم ان کی توجہ اور ان کا لگاؤ منافقین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن اللہ نے دوزخ کی آگ کو اس شخص پر حرام کر دیا ہے جس نے کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار کر لیا ہو اور اس سے اس کا مقصد اللہ کی خوشنودی ہو ۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ پھر میں نے حصین بن محمد انصاری سے جو بنی سالم کے ایک فرد اور ان کے سردار تھے ۔ محمود کی حدیث کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔

ইয়াহ্ইয়া ইবনু বুকাইর (রহঃ) ‘ইতবান ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ছিলেন রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এক বদর যুদ্ধে অংশ গ্রহণকারী আনসান সাহাবীদের একজন। একবার তিনি রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাছে এসে বলেনঃ হে আল্লাহর রসূল! আমার দৃষ্টিশক্তি দুর্বল হয়ে পড়েছে। আমি আমার গোত্রের লোকদের নিতে সলাত আদায় করি। কিন্তু বৃষ্টি হলে আমার ও তাদের মধ্যকার উপত্যকায় পানি প্রবাহিত হয়। তখন আমি তাদের মসজিদে আসতে পারি না যে, তাদের নিয়ে সলাত আদায় করব। তাই হে আল্লাহর রসূল! আমার আকাঙ্ক্ষা, আপনি এসে যদি আমার ঘরে সলাত আদায় করতেন, তাহলে আমি সে স্থান সলাতের জন্য নির্ধারণ করে নিতাম। তিনি বললেনঃ ইন্‌শাআল্লাহ্‌ আমি শীঘ্রই তা করব। ‘ইতবান (রাঃ) বলেনঃ পূর্ণরূপে সূর্য কিছু উপরে উঠলে রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) ও আবূ বকর (রাঃ) আসলেন। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) অনুমতি চাইলেন। আমি তাকে অনুমতি দিলাম। তিনি না বসেই সঙ্গে সঙ্গেই ঘরে প্রবেশ করে আমাকে বললেনঃ তোমার ঘরের কোন স্থানে আমার সলাত আদায় করা তোমার পছন্দ? আমি ঘরের এক দিকে ইশারা করলাম। তিনি সেখানে দাঁড়িয়ে তাকবীর বললেন। আমরা কাতার বাঁধলাম। তিনি দু’রাক’আত সলাত আদায় করে সালাম ফিরালেন। আমরা যে হাযীরা প্রস্তুত করেছিলাম তা খাওয়ার জন্য তাঁকে বসালাম। তাঁর মহল্লার বহু সংখ্যক লোক প্রবেশ করতে লাগল। তারপর তারা সমবেত হলে তাদের একজন বলল, মালিক ইবনু দুখশান কোথায়? আরেকজন বললঃ সে মুনাফিক? অন্য একজন বললঃ সে মুনাফিক, সে আল্লাহ্‌ ও তাঁর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে ভালবাসে না। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেনঃ এমন কথা বলো না। তুমি কি জান না, সে আল্লাহর সন্তুষ্টি অর্জনের জন্য ‘লা-ইলাহা ইল্লাল্লাহ’ পড়েছে? লোকটি বললঃ আল্লাহ্‌ ও তাঁর রসূল-ই ভাল জানেন। সে আবার বললঃ কিন্তু আমরা যে মুনাফিকদের সঙ্গে তাঁর সম্পর্ক ও তাদের প্রতি শুভ কামনা দেখতে পাই? তিনি বললেনঃ আল্লাহ্‌ তো জাহান্নামকে ঐলোকের জন্য হারাম করে দিয়েছেন যে আল্লাহ্‌র সন্তুষ্টি অর্জনের আশায় ‘লা-ইলাহা ইল্লাল্লাহ’ পাঠ করবে। ইবনু শিহাব বলেনঃ এরপর আমি হুসাইন ইবনু মুহাম্মাদ আনসারী, যিনি ছিলেন বানূ সালিমের একজন নেতৃস্থানীয় লোক, তাকে মাহমূদের এ হাদীসের ব্যাপারে জিজ্ঞেস করলাম। তিনি এর সত্যতা স্বীকার করলেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৬)

In-book reference : Book 70, Hadith 29
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 313
Hadith 5402
Chapter 16: Al-Aqit (dried yoghourt) - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ أَهْدَتْ خَالَتِي إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ضِبَابًا وَأَقِطًا وَلَبَنًا، فَوُضِعَ الضَّبُّ عَلَى مَائِدَتِهِ، فَلَوْ كَانَ حَرَامًا لَمْ يُوضَعْ وَشَرِبَ اللَّبَنَ، وَأَكَلَ الأَقِطَ‏.‏

Narrated Ibn `Abbas:

My aunt presented (roasted) mastigures, Iqt and milk to the Prophet (ﷺ) . The mastigures were put on his dining sheet, and if it was unlawful to eat, it would not have been put there. The Prophet (ﷺ) drank the milk and ate the Iqt only.

ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کی ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابو بشر نے ، ان سے سعید نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میری خالہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ساہنہ کا گوشت ، پنیر اور دودھ ہدیتاً پیش کیا تو ساہنہ کا گوشت آپ کے دسترخوان پررکھاگیا اوراگرساہنہ حرام ہوتا تو آپ کے دسترخوان پر نہیں رکھا جا سکتا تھا لیکن آپ نے دودھ پیااور پنیر کھایا ۔

ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমার খালা কয়েকটি যব্ব, কিছু পনির এবং দুধ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে হাদিয়া দিলেন এবং দস্তরখানে ‘যব্ব’ রাখা হয়। যদি তা হারাম হতো তার দস্তরখানে তা রাখা হতো না। তিনি (শুধু) দুধ পান করলেন এবং পনির খেলেন। [২৫৭৫; মুসলিম ৩৪০/৭, হাঃ ১৯৪৭] আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৭)

In-book reference : Book 70, Hadith 30
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 314
Hadith 5403
Chapter 17: As-Salq (a kind of beet) and barley - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ إِنْ كُنَّا لَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَأْخُذُ أُصُولَ السِّلْقِ، فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ لَهَا، فَتَجْعَلُ فِيهِ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ، إِذَا صَلَّيْنَا زُرْنَاهَا فَقَرَّبَتْهُ إِلَيْنَا، وَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ، وَمَا كُنَّا نَتَغَدَّى وَلاَ نَقِيلُ إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةِ، وَاللَّهِ مَا فِيهِ شَحْمٌ وَلاَ وَدَكٌ‏.‏

Narrated Sahl bin Sa`d:

We used to be happy on Fridays, for there was an old lady who used to pull out the roots of Silq and put it in a cooking pot with some barley. When we had finished the prayer, we would visit her and she would present that dish before us. So we used to be happy on Fridays because of that, and we never used to take our meals or have a mid-day nap except after the Friday prayer. By Allah, that meal contained no fat.

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ہمیں جمعہ کے دن بڑی خوشی رہتی تھی ۔ ہماری ایک بوڑھی خاتون تھیں وہ چقندر کی جڑ یں لے کر اپنی ہانڈی میں پکاتی تھیں ، اوپر سے کچھ دانے جو کے اس میں ڈال دیتی تھی ۔ ہم جمعہ کی نماز پڑھ کر ان کی ملاقات کو جاتے تو وہ ہمارے سامنے یہ کھانا رکھتی تھی ۔ جمعہ کے دن ہمیں بڑی خوشی اسی وجہ سے رہتی تھی ۔ ہم نماز جمعہ کے بعد ہی کھانا کھایا کرتے تھے ۔ اللہ کی قسم نہ اس میں چربی ہوتی تھی نہ گھی اور جب بھی ہم مزے سے اس کو کھاتے ۔

সাহল ইবনু সা’দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, জুমু’আর দিন আসলে আমরা খুবই খুশী হতাম। এক বৃদ্ধা আমাদের জন্য সিলক (শালগম জাতীয় এক প্রকার সুস্বাদু সবজী)-এর মূল তুলে তা তাঁর হাঁড়িতে চড়িয়ে দিতেন। তারপর এতে অল্প কিছু যব ছেড়ে দিতেন। [৩৯] সলাতের পর আমরা তাঁর সঙ্গে দেখা করতে গেলে তিনি এ খাবার আমাদের সম্মুখে হাজির করতেন। এ কারণেই জুমু’আহর দিন আসলে আমরা খুব খুশী হতাম। আমরা সকালে আহার ও বিশ্রাম গ্রহণ করতাম না জুমু’আহর পর ব্যতীত। আল্লাহর কসম! সে খাদ্যে কোন চর্বি থাকত না।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৮)

In-book reference : Book 70, Hadith 31
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 315
Hadith 5404
Chapter 18: To seize and catch flesh with the teeth (while eating). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ تَعَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتِفًا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated Ibn 'Abbas:

The Prophet (ﷺ) ate of the meat of a shoulder (by cutting the meat with his teeth), and then got up and offered the prayer without performing the ablution anew.

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شانے کی ہڈی کا گوشت کھایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔ آپ نے ( نماز کے لیے نیا ) وضو نہیں کیا اور ( اسی سند سے )

ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একটি স্কন্ধের গোশত দাঁত দিয়ে ছিঁড়ে খেলেন। [৪০] তারপর তিনি উঠে গিয়ে (নতুনভাবে) অযূ না করেই সলাত আদায় করলেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৯)

In-book reference : Book 70, Hadith 32
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 316
Hadith 5405
Chapter 18: To seize and catch flesh with the teeth (while eating). - كتاب الأطعمة

وَعَنْ أَيُّوبَ، وَعَاصِمٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ انْتَشَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَرْقًا مِنْ قِدْرٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ صَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated Ibn 'Abbas:

The Prophet (ﷺ) took out a bone with meat on it from a cooking pot and ate of it, and then offered the prayer without performing ablution anew.

ایوب اورعاصم سے روایت ہے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پکتی ہوئی ہنڈیا میں سے ادھ کچی بوٹی نکالی اور اسے کھایا پھر نماز پڑھائی اور نیا وضو نہیں کیا ۔

অন্য সনদে আইয়ুব ও আসিম (রহঃ) ইকরামাহর সূত্রে ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেছেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হাঁড়ি থেকে একটি গোশত যুক্ত হাড় বের করে তা খেলেন। তারপর (নতুন) অযূ না করেই সলাত আদায় করলেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৮৯৯)

In-book reference : Book 70, Hadith 33
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 316
Hadith 5406
Chapter 19: To eat the flesh of a foreleg (by stripping the bone of its meat with the teeth). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَ مَكَّةَ‏.‏

Narrated Abu Qatada:

We went out towards Mecca with the Prophet.

مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عثمان ابن عمر نے بیان کیا ، ان سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار مدنی نے ، کہا ہم سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ کی طرف نکلے ( صلح حدیبیہ کے موقع پر ) دوسری سند ( حدیث دیکھیں 5407 )

আবূ ক্বাতাদাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমরা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সঙ্গে মাক্কাহ অভিমুখে রওয়ানা হলাম।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০০)

In-book reference : Book 70, Hadith 34
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 317
Hadith 5407
Chapter 19: To eat the flesh of a foreleg (by stripping the bone of its meat with the teeth). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ السَّلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ يَوْمًا جَالِسًا مَعَ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي مَنْزِلٍ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَازِلٌ أَمَامَنَا، وَالْقَوْمُ مُحْرِمُونَ وَأَنَا غَيْرُ مُحْرِمٍ، فَأَبْصَرُوا حِمَارًا وَحْشِيًّا وَأَنَا مَشْغُولٌ أَخْصِفُ نَعْلِي، فَلَمْ يُؤْذِنُونِي لَهُ، وَأَحَبُّوا لَوْ أَنِّي أَبْصَرْتُهُ، فَالْتَفَتُّ فَأَبْصَرْتُهُ فَقُمْتُ إِلَى الْفَرَسِ فَأَسْرَجْتُهُ‏.‏ ثُمَّ رَكِبْتُ وَنَسِيتُ السَّوْطَ وَالرُّمْحَ فَقُلْتُ لَهُمْ نَاوِلُونِي السَّوْطَ وَالرُّمْحَ‏.‏ فَقَالُوا لاَ وَاللَّهِ لاَ نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَىْءٍ‏.‏ فَغَضِبْتُ فَنَزَلْتُ فَأَخَذْتُهُمَا، ثُمَّ رَكِبْتُ فَشَدَدْتُ عَلَى الْحِمَارِ فَعَقَرْتُهُ، ثُمَّ جِئْتُ بِهِ وَقَدْ مَاتَ فَوَقَعُوا فِيهِ يَأْكُلُونَهُ، ثُمَّ إِنَّهُمْ شَكُّوا فِي أَكْلِهِمْ إِيَّاهُ وَهُمْ حُرُمٌ، فَرُحْنَا وَخَبَأْتُ الْعَضُدَ مَعِي، فَأَدْرَكْنَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏ "‏ مَعَكُمْ مِنْهُ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَنَاوَلْتُهُ الْعَضُدَ فَأَكَلَهَا حَتَّى تَعَرَّقَهَا، وَهْوَ مُحْرِمٌ‏.‏ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ مِثْلَهُ‏.‏

Narrated Abu Qatada:

Once, while I was sitting with the companions of the Prophet (ﷺ) at a station on the road to Mecca and Allah's Messenger (ﷺ) was stationing ahead of us and all the people were assuming Ihram while I was not. My companion, saw an onager while I was busy Mending my shoes. They did not Inform me of the onager but they wished that I would see it Suddenly I looked and saw the onager Then I headed towards my horse, saddled it and rode, but I forgot to take the lash and the spear. So I said to them my companions), "Give me the lash and the spear." But they said, "No, by Allah we will not help you in any way to hunt it ' I got angry, dismounted, took it the spear and the lash), rode (the horse chased the onager and wounded it Then I brought it when it had dyed. My companions started eating of its (cooked) meat, but they suspected that it might be unlawful to eat of its meat while they were in a state of Ihram Then I proceeded further and I kept one of its forelegs with me. When we met Allah's Apostle we asked him about that. He said, "Have you some of its meat with you?" I gave him that foreleg and he ate the meat till he stripped the bone of its flesh although he was in a state of Ihram.

اور مجھ سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ اسلمی نے ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چندصحابہ کے ساتھ مکہ کے راستہ میں ایک منزل پر بیٹھا ہوا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے آگے پڑاؤ کیا تھا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم احرام کی حالت میں تھے لیکن میں احرام میں نہیں تھا ۔ لوگوں نے ایک گور خر کو دیکھا ۔ میں اس وقت اپنا جوتا ٹانکنے میں مصروف تھا ۔ ان لوگوں نے مجھے اس گور خر کے متعلق بتایا کچھ نہیں لیکن چاہتے تھے کہ میں کسی طرح دیکھ لوں ۔ چنانچہ میں متوجہ ہوا اور میں نے اسے دیکھ لیا ، پھر میں گھوڑے کے پاس گیا اور اسے زین پہنا کر اس پر سوار ہو گیا لیکن کوڑا اور نیزہ بھول گیا تھا ۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ کوڑا اور نیزہ مجھے دے دو ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں خدا کی قسم ہم تمہاری شکار کے معاملہ میں کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ ( کیونکہ ہم محرم ہیں ) میں غصہ ہو گیا اور میں نے اترکر خود یہ دونوں چیزیں اٹھائیں پھر سوار ہو کر اس پر حملہ کیا اور ذبح کر لیا ۔ جب وہ ٹھنڈا ہو گیا تو میں اسے ساتھ لایا پھر پکا کر میں نے اور سب نے کھایا لیکن بعد میں انہیں شبہ ہوا کہ احرام کی حالت میں اس ( شکار کا گوشت ) کھانا کیسا ہے ؟ پھر ہم روانہ ہوئے اور میں نے اس کا گوشت چھپا کر رکھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے آپ سے اس کے متعلق پوچھا ۔ آپ نے دریافت فرمایا ، تمہارے پاس کچھ بچا ہوا بھی ہے ؟ میں نے وہی دست پیش کیا اور آپ نے بھی اسے کھایا ۔ یہاں تک کہ اس کا گوشت آپ نے اپنے دانتوں سے کھینچ کھینچ کر کھایا اور آپ احرام میں تھے ۔ محمد بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے یہ واقعہ بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسی طرح سارا واقعہ بیان کیا ۔

আবূ ক্বাতাদাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ একবার আমি মক্কার পথে কোন এক মনযিলে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কিছু সংখ্যক সাহাবীর সঙ্গে উপবিষ্ট ছিলাম। রাসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমাদের সামনেই অবস্থান করছিলেন। আমি ব্যতীত দলের সকলেই ছিলেন ইহ্‌রাম অবস্থায়। আমি আমার জুতা সেলাই করতে ব্যস্ত ছিলাম। এমন সময় তারা একটি বন্য গাধা দেখতে পেল। কিন্তু আমাকে জানাল না। তবে তারা আশা করছিল, যদি আমি ওটা দেখতাম! তারপর আমি চোখ ফেরাতেই ওটা দেখে ফেললাম। এরপর আমি ঘোড়ার কাছে গিয়ে তার পিঠে জিন লাগিয়ে তার উপর আরোহণ করলাম। কিন্তু চাবুক ও বর্শার কথা ভুলে গেলাম। কাজেই আমি তাদের বললাম, চাবুক ও বর্শাটি আমাকে তুলে দাও! তারা বললঃ না, আল্লাহ্‌র কসম! এ কাজে তোমাকে আমরা কিছুই সাহায্য করব না। এতে আমি রাগান্বিত হলাম এবং নীচে নেমে ওদু’টি নিয়ে পুনরায় সাওয়ার হলাম। তারপর আমি গাধাটির পেছনে দ্রুত তাড়া করে তাকে ঘায়েল করে ফেললাম। তখন সেটি মরে গেল এবং আমি তা নিয়ে এলাম (পাকানোর পর) তাড়া সকলে এটা খাওয়া শুরু করল। তারপর ইহ্‌রাম অবস্থায় এটা খাওয়া নিয়ে তারা সন্দেহে পড়ল। আমি সন্ধ্যার দিকে রওনা হলাম এবং এর একটি বাহু লুকিয়ে রাখলাম। এরপর রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাছে গেলাম এবং তাঁকে এ বিষয়ে জিজ্ঞেস করলাম। তিনি বললেনঃ তোমাদের কাছে এর কিছু আছে? এ কথা শুনে আমি বাহুটি তাঁর সামনে পেশ করলাম। তিনি মুহ্‌রিম অবস্থায় তা খেলেন, এমন কি এর হাড়ের সঙ্গে সংলগ্ন গোশ্‌তও দাঁত দিয়ে ছিঁড়ে ছিঁড়ে খেলেন। ইবনু জা’ফর বলেছেনঃ যায়দ ইবনু আসলাম (রহঃ) ‘আত্বা ইবনু ইয়াসার-এর সূত্রে আবূ ক্বাতাদাহ (রাঃ) থেকে এরকম হাদিস বর্ণনা করেছেন। (আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০০)

In-book reference : Book 70, Hadith 35
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 318
Hadith 5408
Chapter 20: To cut the meat with a knife - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، أَنَّ أَبَاهُ، عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، رَأَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ فِي يَدِهِ، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ فَأَلْقَاهَا وَالسِّكِّينَ الَّتِي يَحْتَزُّ بِهَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated `Amr bin Umaiyya:

that he saw the Prophet (ﷺ) holding a shoulder piece of mutton in his hand and cutting part of it with a knife. Then he was called for the prayer whereupon he put down the shoulder piece and the knife with which he was cutting it, and then stood for prayer without performing ablution again.

ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری نے خبر دی ، انہیں ان کے والد عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ اپنے ہاتھ سے بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھا رہے تھے ، پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ نے گوشت اور وہ چھری جس سے گوشت کی بوٹی کاٹ رہے تھے ، ڈال دی اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور آپ نے نیا وضو نہیں کیا ( کیونکہ آپ پہلے ہی وضو کئے ہوئے تھے )

‘আম্‌র ইবনু উমাইয়্যাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে (রান্না করা) বকরীর কাঁধের গোশ্‌ত নিজ হাতে খেতে দেখেছেন। সলাতের জন্য তাঁকে ডাকা হলে তিনি তা এবং যে চাকু দিয়ে কাটছিলেন সেটিও রেখে দেন। অতঃপর উঠে গিয়ে সলাত আদায় করেন। অথচ তিনি (নতুনভাবে) অযূ করেননি। (আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০১)

In-book reference : Book 70, Hadith 36
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 319
Hadith 5409
Chapter 21: The Prophet (saws) never criticized any food. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ مَا عَابَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم طَعَامًا قَطُّ، إِنِ اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ، وَإِنْ كَرِهَهُ تَرَكَهُ‏.‏

Narrated Abu Huraira:

The Prophet (ﷺ) never criticized any food (he was invited to) but he used to eat if he liked the food, and leave it if he disliked it.

ہم سے محمد بن کثیرنے بیان کیا ، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں ابوحازم نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں کوئی عیب نہیں نکالا ۔ اگر پسند ہوا تو کھا لیا اور اگر ناپسند ہوا تو چھوڑ دیا ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কখনো কোন খাবারের দোষ-ত্রুটি প্রকাশ করেননি। ভালো লাগলে তিনি খেতেন এবং খারাপ লাগলে রেখে দিতেন।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০২)

In-book reference : Book 70, Hadith 37
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 320
Hadith 5410
Chapter 22: To blow barley (to remove the husk). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ سَهْلاً هَلْ رَأَيْتُمْ فِي زَمَانِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم النَّقِيَّ قَالَ لاَ‏.‏ فَقُلْتُ فَهَلْ كُنْتُمْ تَنْخُلُونَ الشَّعِيرَ قَالَ لاَ وَلَكِنْ كُنَّا نَنْفُخُهُ‏.‏

Narrated Abu Hazim:

that he asked Sahl, "Did you use white flour during the lifetime of the Prophet (ﷺ) ?" Sahl replied, "No. Hazim asked, "Did you use to sift barley flour?" He said, "No, but we used to blow off the husk (of the barley).

ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو غسان ( محمد بن مطرف لیثی ) نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے پوچھا

کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں میدہ دیکھا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ میں نے پوچھا کیا تم جو کے آٹے کو چھانتے تھے ؟ کہا نہیں ، بلکہ ہم اسے صرف پھونک لیا کرتے تھے ۔

আবূ হাযিম (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি সাহ্‌ল (রাঃ) -কে জিজ্ঞেস করলেনঃ আপনারা কি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর যুগে ময়দা দেখেছেন? তিনি বললেনঃ না। আমি বললামঃ আপনারা কি যবের আটা চালুনিতে চালতেন? তিনি বললেনঃ না। আমরা ওকে ফুঁক দিতাম।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৩)

In-book reference : Book 70, Hadith 38
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 321
Hadith 5411
Chapter 23: What the Prophet (saws) and his Companions used to eat. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا، فَأَعْطَى كُلَّ إِنْسَانٍ سَبْعَ تَمَرَاتٍ، فَأَعْطَانِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ، فَلَمْ يَكُنْ فِيهِنَّ تَمْرَةٌ أَعْجَبَ إِلَىَّ مِنْهَا، شَدَّتْ فِي مَضَاغِي‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Once the Prophet (ﷺ) distributed dates among his companions and gave each one seven dates. He gave me seven dates too, one of which was dry and hard, but none of the other dates was more liked by me than that one, for it prolonged my chewing it.

ہم سے ابو النعمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے عباس جریری نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو کھجور تقسیم کی اور ہر شخص کو سات کھجوریں دیں ۔ مجھے بھی سات کھجوریں عنایت فرمائیں ۔ ان میں ایک خراب تھی ( اور سخت تھی ) لیکن مجھے وہی سب سے زیادہ اچھی معلوم ہوئی کیونکہ اس کا چبانا مجھ کو مشکل ہو گیا ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একদিন তাঁর সাহাবীদের মধ্যে কিছু বণ্টন করে দিলেন। তিনি প্রত্যেককে সাতটি করে খেজুর দিলেন। আমাকেও সাতটি খেজুর দিলেন। তার মধ্যে একটি ছিল খারাপ। তবে সাতটি খেজুরের মধ্যে এটিই ছিল আমার কাছে সবচেয়ে প্রিয়। কারণ, এটি চিবাতে আমার কাছে খুব শক্ত লাগছিল। (তাই এটি বেশি সময় ধরে আমার মুখে ছিল।)(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৪)

In-book reference : Book 70, Hadith 39
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 322
Hadith 5412
Chapter 23: What the Prophet (saws) and his Companions used to eat. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَا لَنَا طَعَامٌ إِلاَّ وَرَقُ الْحُبْلَةِ ـ أَوِ الْحَبَلَةِ ـ حَتَّى يَضَعَ أَحَدُنَا مَا تَضَعُ الشَّاةُ، ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَى الإِسْلاَمِ، خَسِرْتُ إِذًا وَضَلَّ سَعْيِي‏.‏

Narrated Sa`d:

I was one of (the first) seven (who had embraced Islam) with Allah's Messenger (ﷺ) and we had nothing to eat then, except the leaves of the Habala or Hubula tree, so that our stool used to be similar to that of sheep. Now the tribe of Bani Asad wants to teach me Islam; I would be a loser and all my efforts would be in vain (if I learn Islam anew from them).

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان سات آدمیوں میں سے ساتواں پایا ( جنہوںنے اسلام سب سے پہلے قبول کیا تھا ) اس وقت ہمارے پاس کھانے کے لیے یہی کیکر کے پھل یا پتے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا ۔ یہ کھاتے کھاتے ہم لوگوں کا پا ئخانہ بھی بکری کی مینگنیوں کی طرح ہو گیا تھا یا اب یہ زمانہ ہے کہ نبی اسد قبیلے کے لوگ مجھ کو شریعت کے احکام سکھلاتے ہیں ۔ اگر میں ابھی تک اس حال میں ہوں کہ نبی اسد کے لوگ مجھ کوشریعت کے احکام سکھلائیں تب تو میں تباہ ہی ہو گیا میری محنت برباد ہو گئی ۔

সা’দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি ছিলাম নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সহাবীদের মধ্যে (ইসলাম গ্রহণের ক্ষেত্রে) সপ্তম। হুবলা (কাঁটা যুক্ত গাছ) বা হাবলা (এক জাতীয় গাছ) ব্যতীত আমাদের খাওয়ার আর কিছুই ছিল না। এমনকি আমাদের কেউ কেউ বকরীর মত মলত্যাগ করত। এরপরও বনূ আসাদ আমাকে ইসলামের ব্যাপারে তিরস্কার করছে? তাহলে তো আমি ক্ষতিগ্রস্ত হয়ে গেছি আর আমি পণ্ডশ্রম।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০০৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৫)

In-book reference : Book 70, Hadith 40
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 323
Hadith 5413
Chapter 23: What the Prophet (saws) and his Companions used to eat. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَأَلْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ فَقُلْتُ هَلْ أَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّقِيَّ فَقَالَ سَهْلٌ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم النَّقِيَّ مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ‏.‏ قَالَ فَقُلْتُ هَلْ كَانَتْ لَكُمْ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَنَاخِلُ قَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مُنْخُلاً مِنْ حِينَ ابْتَعَثَهُ اللَّهُ حَتَّى قَبَضَهُ‏.‏ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ غَيْرَ مَنْخُولٍ قَالَ كُنَّا نَطْحَنُهُ وَنَنْفُخُهُ، فَيَطِيرُ مَا طَارَ وَمَا بَقِيَ ثَرَّيْنَاهُ فَأَكَلْنَاهُ‏.‏

Narrated Abu Hazim:

I asked Sahl bin Sa`d, "Did Allah's Messenger (ﷺ) ever eat white flour?" Sahl said, "Allah's Messenger (ﷺ) never saw white flour since Allah sent him as an Apostle till He took him unto Him." I asked, "Did the people have (use) sieves during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ)?" Sahl said, "Allah's Messenger (ﷺ) never saw (used) a sieve since Allah sent him as an Apostle until He took him unto Him," I said, "How could you eat barley unsifted?" he said, "We used to grind it and then blow off its husk, and after the husk flew away, we used to prepare the dough (bake) and eat it."

سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیاکہ

میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا ، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میدہ کھایا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میدہ دیکھا بھی نہیں تھا ۔ میں نے پوچھا کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے پاس چھلنیاں تھیں ۔ کہا کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی بنایا اس وقت سے آپ کی وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چھلنی دیکھی بھی نہیں ۔ بیان کیا کہ میں نے پوچھا آپ لوگ پھر بغیر چھنا ہوا جو کس طرح کھاتے تھے ؟ بتلایا ہم اسے پیس لیتے تھے پھر اسے پھونکتے تھے جو کچھ اڑنا ہوتا اڑجاتا اور جو باقی رہ جاتا اسے گوندھ لیتے ( اور پکا کر ) کھالیتے تھے ۔

আবূ হাযিম (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি সাহ্‌ল (রাঃ) -কে জিজ্ঞেস করলামঃ রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কি ময়দা খেয়েছেন? সাহ্‌ল (রাঃ) বললেনঃ আল্লাহ তা’আলা যখন থেকে রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে পাঠিয়েছেন তখন থেকে মৃত্যু পর্যন্ত তিনি ময়দা দেখেননি। তিনি আবার তাকে জিজ্ঞেস করলামঃ রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর যুগে কি আপনাদের চালুনি ছিল? তিনি বললেনঃ আল্লাহ তা’আলা রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর পাঠানোর পর থেকে মৃত্যু পর্যন্ত তিনি চালুনিও দেখেননি। আবূ হাযিম বলেন, আমি বললামঃ তাহলে আপনারা না চেলে যবের আটা কিভাবে খেতেন? তিনি বললেনঃ আমরা যব পিষে তাতে ফুঁক দিতাম, এতে যা উড়ার তা উড়ে যেত, আর যা বাকী থাকত তা মথে নিতাম, তারপর তা খেতাম।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১০, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৬)

In-book reference : Book 70, Hadith 41
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 324
Hadith 5414
Chapter 23: What the Prophet (saws) and his Companions used to eat. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنَ الْخُبْزِ الشَّعِيرِ‏.‏

Narrated Abu Huraira:

that he passed by a group of people in front of whom there was a roasted sheep. They invited him but he refused to eat and said, "Allah's Messenger (ﷺ) left this world without satisfying his hunger even with barley bread."

مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہیں روح بن عبادہ نے خبر دی ، ان سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مقبری نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

وہ کچھ لوگوں کے پاس سے گزر ے جن کے سامنے بھنی ہوئی بکری رکھی تھی ۔ انہوں نے ان کو کھانے پر بلایا لیکن انہوں نے کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے کبھی جو کی روٹی بھی آسودہ ہو کر نہیں کھائی ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি একদল লোকের নিকট দিয়ে যাচ্ছিলেন যাদের সামনে একটি ভুনা বক্‌রী। তারা তাঁকে (খেতে) ডাকল। তিনি খেতে অস্বীকার করলেন এবং বললেনঃ রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) পৃথিবী থেকে চলে গেছেন অথচ তিনি কোন দিন যবের রুটিও পেট ভরে খাননি।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১১, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৭)

In-book reference : Book 70, Hadith 42
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 325
Hadith 5415
Chapter 23: What the Prophet (saws) and his Companions used to eat. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الأَسْوَدِ، حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يُونُسَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ مَا أَكَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى خِوَانٍ، وَلاَ فِي سُكْرُجَةٍ، وَلاَ خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ‏.‏ قُلْتُ لِقَتَادَةَ عَلَى مَا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik:

The Prophet (ﷺ) never took his meals at a dining table, nor in small plates, and he never ate thin wellbaked bread. (The sub-narrator asked Qatada, "Over what did they use to take their meals?" Qatada said, "On leather dining sheets."

ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے یونس بن ابی الفرات نے ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی میز پر کھانا نہیں کھایا اور نہ تشتری میں دو چار قسم کی چیزیں رکھ کر کھائے اور نہ کبھی چپاتی کھائی ۔ میں نے قتادہ سے پوچھا ، پھر آپ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے ؟ بتلایا کہ سفرہ ( چمڑے کے دسترخوان ) پر ۔

আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কখনো ‘খিওয়ান’ (টেবিলের মত উঁচু স্থানে)-এর উপর খাবার রেখে আহার করেননি এবং ছোট ছোট বাটিতেও তিনি আহার করেননি। আর তাঁর জন্য কখনো পাতলা রুটি তৈরী করা হয়নি। ইউনুস বলেন, আমি কাত্বাদাহ্‌কে জিজ্ঞেস করলামঃ তাহলে তাঁরা কিসের উপর আহার করতেন? তিনি বললেনঃ দস্তরখানের উপর। [৪১](আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১২, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৮)

In-book reference : Book 70, Hadith 43
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 326
Hadith 5416
Chapter 23: What the Prophet (saws) and his Companions used to eat. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ الْبُرِّ ثَلاَثَ لَيَالٍ تِبَاعًا، حَتَّى قُبِضَ‏.‏

Narrated `Aisha:

The family of Muhammad had not eaten wheat bread to their satisfaction for three consecutive days since his arrival at Medina till he died.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

مدینہ ہجرت کرنے کے بعد آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی برابر تین دن تک گیہوں کی روٹی پیٹ بھر کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ دنیا سے تشریف لے گئے ۔

কুতাইবাহ (রহঃ) ‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মদিনায় আসার পর থেকে মৃত্যু পর্যন্ত তাঁর পরিবারের লোকেরা এক নাগাড়ে তিন রাত গমের রুটি পেট পুরে খাননি।(৬৪৫৪; মুসলিম পর্ব ৫৩/হাঃ ২৯৭০, আহমাদ ২৬৪২৭] আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৩, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯০৯)

In-book reference : Book 70, Hadith 44
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 327
Hadith 5417
Chapter 24: At-Talbina (a kind of dish prepared from flour or bran) - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ مِنْ أَهْلِهَا فَاجْتَمَعَ لِذَلِكَ النِّسَاءُ، ثُمَّ تَفَرَّقْنَ، إِلاَّ أَهْلَهَا وَخَاصَّتَهَا، أَمَرَتْ بِبُرْمَةٍ مِنْ تَلْبِينَةٍ فَطُبِخَتْ، ثُمَّ صُنِعَ ثَرِيدٌ فَصُبَّتِ التَّلْبِينَةُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَتْ كُلْنَ مِنْهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ التَّلْبِينَةُ مَجَمَّةٌ لِفُؤَادِ الْمَرِيضِ، تَذْهَبُ بِبَعْضِ الْحُزْنِ ‏"‏‏.‏

Narrated `Aisha:

(the wife of the Prophet) that whenever one of her relatives died, the women assembled and then dispersed (returned to their houses) except her relatives and close friends. She would order that a pot of Talbina be cooked. Then Tharid (a dish prepared from meat and bread) would be prepared and the Talbina would be poured on it. `Aisha would say (to the women),"Eat of it, for I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'The Talbina soothes the heart of the patient and relieves him from some of his sadness.' "

ہم سے یحییٰ بن بکیرنے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل بن خالد نے ، ان سے ابن شہاب زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

جب کسی گھر میں کسی کی وفات ہو جاتی اور اس کیوجہ سے عورتیں جمع ہوتیں اور پھر وہ چلی جاتیں ۔ صرف گھر والے اورخاص خاص عورتیں رہ جاتیں تو آپ ہانڈی میں تلبینہ پکانے کا حکم دیتیں ۔ وہ پکایا جاتا پھر ثرید بنایا جاتا اور تلبینہ اس پر ڈالا جاتا ۔ پھر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتیں کہ اسے کھاؤ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ فرماتے تھے کہ تلبینہ مریض کے دل کو تسکین دیتا ہے اور اس کا غم دور کرتا ہے ۔

নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর স্ত্রী আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তাঁর পরিবারের কোন ব্যক্তি মারা গেলে মহিলারা এসে জড় হলো। তারপর তাঁর আত্মীয়রা ও বিশেষ ঘনিষ্ঠ মহিলারা ব্যতীত বাকী সবাই চলে গেলে, তিনি ডেগে ‘তালবীনা’ (আটা, মধু ইত্যাদি দিয়ে তৈরী খাবার) পাক করতে বললেন। তা পাকানো হলো। এরপর ‘সারীদ’ (গোশতের মধ্যে রুটির টুকরো দিয়ে তৈরী খাবার) প্রস্তুত করা হলো এবং তাতে তালবীনা ঢালা হলো। তিনি বললেনঃ তোমরা এ থেকে খাও। কারণ, আমি রসূলুল্লাহ্‌ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে বলতে শুনেছি যে, ‘তালবীনা’ রুগ্ন ব্যক্তির হৃদয়ে প্রশান্তি আনে এবং শোক দুঃখ কিছুটা দূর করে। [৪২][৫৬৮৯, ৫৬৯০; মুসলিম ৩৯/৩০, হাঃ ২২১৬, আহমাদ ২৫২৭৪] আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৪, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯১০)

In-book reference : Book 70, Hadith 45
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 328
Hadith 5418
Chapter 25: Ath-Tharid (a dish prepared from meat and bread). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ الْجَمَلِيِّ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ، وَفَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:

The Prophet (ﷺ) said, "Many men reached perfection but none among the women reached perfection except Mary, the daughter of ' `Imran, and Asia, Pharoah's wife. And the superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food.

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ جملی نے بیان کیا ، ان سے مرہ ہمدانی نے ، ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مردوں میں تو بہت سے کامل ہوئے لیکن عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کے سوا اور کوئی کامل نہیں ہوا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت تمام عورتوں پرایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے ۔

আবূ মূসা আশ’আরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ পুরুষদের মধ্যে অনেকেই কামেল হতে পেরেছে। কিন্তু স্ত্রীলোকদের মধ্য ‘ইমরান কন্যা মারইয়াম এবং ফিরাউন পত্নী আসিয়া ছাড়া অন্য কেউই কামেল হতে পারেনি। স্ত্রী লোকদের মধ্যে ‘আয়িশাহ্‌র মর্যাদাও তেমন, খাদ্যের মধ্যে যেমন সারীদের মর্যাদা।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৫, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯১১)

In-book reference : Book 70, Hadith 46
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 329
Hadith 5419
Chapter 25: Ath-Tharid (a dish prepared from meat and bread). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي طُوَالَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas:

The Prophet (ﷺ) said, "The superiority of `Aisha to other women is like the superiority of Tharid to other kinds of food . "

ہم سے عمرو بن عون نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے ابو طوالہ نے اور ان سے حضرت انس نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ایسی ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی فضیلت ہے ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেনঃ সমস্ত স্ত্রী লোকদের মধ্যে ‘আয়িশাহ্‌র মর্যাদা তেমন, খাদ্যের মধ্যে যেমন সারীদের মর্যাদা। (আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯১২)

In-book reference : Book 70, Hadith 47
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 330
Hadith 5420
Chapter 25: Ath-Tharid (a dish prepared from meat and bread). - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ أَبَا حَاتِمٍ الأَشْهَلَ بْنَ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَلَى غُلاَمٍ لَهُ خَيَّاطٍ، فَقَدَّمَ إِلَيْهِ قَصْعَةً فِيهَا ثَرِيدٌ ـ قَالَ ـ وَأَقْبَلَ عَلَى عَمَلِهِ ـ قَالَ ـ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ ـ قَالَ ـ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُهُ فَأَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ـ قَالَ ـ فَمَا زِلْتُ بَعْدُ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ‏.‏

Narrated Anas:

I went along with the Prophet (ﷺ) to the house of a young tailor of his. The tailor presented a dish of Tharid to the Prophet (ﷺ) and resumed his work. The Prophet (ﷺ) started picking the pieces of gourd and I too, started picking them and putting it before him. Since then I have always loved (to eat) gourd.

ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا ، انہوں نے ابوحاتم اشہل ابن حاتم سے سنا ، ان سے ابن عون نے بیان کیا ، ان سے شمامہ بن انس نےء اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے ایک غلام کے پاس گیا جودرزی تھے ۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک پیالہ پیش کیا جس میں ثرید تھا ۔ بیان کیا کہ پھر وہ اپنے کام میں لگ گئے ۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو تلاش کرنے لگے کہا کہ پھر میں بھی اس میں سے کدو تلاش کر کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنے لگا ۔ بیان کیا کہ اس کے بعد سے میں بھی کدو بہت پسند کرتا ہوں ۔

আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেনঃ আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সঙ্গে তাঁর এক দর্জি গোলামের বাড়ীতে গেলাম। সে তাঁর সম্মুখে সারীদের পেয়ালা হাজির করল এবং নিজের কাজে লেগে গেল। আনাস (রাঃ) বলেনঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কদু বেছে নিতে শুরু করলে আমি কদুর টুকরাগুলো বেছে তাঁর সামনে দিতে লাগলাম এবং তখন থেকে আমি কদু পছন্দ করতে শুরু করি।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৭, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯১৩)

In-book reference : Book 70, Hadith 48
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 331
Hadith 5421
Chapter 26: A roasted sheep. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ، وَلاَ رَأَى شَاةً سَمِيطًا بِعَيْنِهِ قَطُّ‏.‏

Narrated Qatada:

We used to visit Anas bin Malik while his baker was standing (and baking). Anas would say, "Eat! I do not know that the Prophet (ﷺ) had ever seen well-baked bread till he met Allah, nor had he ever seen a roasted sheep with his own eyes."

ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے بیان کیاکہ

ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کی روٹی پکانے والا ان کے پاس ہی کھڑا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کھاؤ ۔ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پتلی روٹی ( چپاتی ) دیکھی ہو ۔ یہاں تک کہ آپ اللہ سے جا ملے اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی مسلم بھنی ہوئی بکری دیکھی ۔

ক্বাতাদাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমরা আনাস ইবনু মালিকের কাছে গেলাম। তাঁর বাবুর্চি সেখানে দাঁড়িয়ে ছিল। তিনি বললেনঃ আহার কর! নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আল্লাহ্‌র সঙ্গে মিলিত হবার পূর্ব পর্যন্ত পাতলা রুটি দেখেছেন বলে আমার জানা নেই এবং তিনি ভুনা বকরী কখনও চোখে দেখেননি।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৮, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯১৪)

In-book reference : Book 70, Hadith 49
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 332
Hadith 5422
Chapter 26: A roasted sheep. - كتاب الأطعمة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَحْتَزُّ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ، فَأَكَلَ مِنْهَا، فَدُعِيَ إِلَى الصَّلاَةِ، فَقَامَ فَطَرَحَ السِّكِّينَ فَصَلَّى، وَلَمْ يَتَوَضَّأْ‏.‏

Narrated `Amr bin Umaiyay Ad-Damri:

I saw Allah's Messenger (ﷺ) cutting part of the shoulder of mutton with a knife. He ate of it and then was called for prayer whereupon he got up and put down the knife and offered the prayer without performing new ablution.

ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں جعفر بن عمر بن امیہ ضمری نے ، انہیں ان کے والد نے ، انہوں نے بیان کیا کہ

میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بکری کے شانہ میں سے گوشت کاٹ رہے تھے ، پھر آپ نے اس میں سے کھایا ۔ پھر آپ کو نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ کھڑے ہو گئے اور چھری ڈال دی اور نماز پڑھی لیکن نیا وضو نہیں کیا ۔

‘আম্‌র ইবনু উমাইয়্যাহ যামরী (রাঃ) তাঁর পিতা থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) -কে বকরীর ঘাড় থেকে গোশ্‌ত কাটতে দেখেছি। তিনি তা থেকে আহার করলেন। তারপর যখন সলাতের দিকে আহ্বান করা হল, তখন তিনি উঠলেন এবং চাকুটি রেখে দিয়ে সলাত আদায় করলেন। অথচ তিনি (নতুন করে) অযূ করেননি।(আধুনিক প্রকাশনী- ৫০১৯, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৯১৫)

In-book reference : Book 70, Hadith 50
USC-MSA web (English) reference : Vol. 7, Book 65, Hadith 333
Page 2 of 4

Showing 25 hadiths on this page (Total: 94 hadiths in Sahih al-Bukhari)

First Previous Page 2 of 4 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00