That the Prophet (ﷺ) talked to them about the night of his Ascension to the Heavens. He said, "(Then
Gabriel took me) and ascended up till he reached the second heaven where he asked for the gate to be
opened, but it was asked, 'Who is it?' Gabriel replied, 'I am Gabriel.' It was asked, 'Who is
accompanying you?' He replied, 'Muhammad.' It was asked, 'Has he been called?' He said, 'Yes.'
When we reached over the second heaven, I saw Yahya (i.e. John) and Jesus who were cousins.
Gabriel said, 'These are John (Yahya) and Jesus, so greet them.' I greeted them and they returned the
greeting saying, 'Welcome, O Pious Brother and Pious Prophet!;' "
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شب معراج کے متعلق بیان فرمایا کہ پھر آپ اوپر چڑھے اور دوسرے آسمان پر تشریف لے گئے ۔ پھر دروازہ کھولنے کے لئے کہا ۔ پوچھا گیا ، کون ہیں ؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام ۔ پوچھا گیا ، آپ کے ساتھ کون ہیں ؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ پوچھا گیا ، کیا انہیں لانے کے لیے بھیجا ، کہا کہ جی ہاں ۔ پھر جب میں وہاں پہنچا تو عیسیٰ اور یحییٰ علیہماالسلام وہاں موجود تھے ۔ یہ دونوں نبی آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں ۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام ہیں ۔ انہیں سلام کیجئے ۔ میں نے سلام کیا ، دونوں نے جواب دیا اور کہا خوش آمدید نیک بھائی اور نیک نبی ۔
মালিক ইব্নু সা’সা’আহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সাহাবাগণের নিকট মিরাজের রাত্রির বর্ণনায় বলেছেন, তারপর তিনি আমাকে নিয়ে উপরে চললেন, এমনকি দ্বিতীয় আকাশে এসে পৌঁছলেন এবং দরজা খুলতে বললেন, জিজ্ঞেস করা হল কে? বললেন, আমি জিব্রাঈল। প্রশ্ন হলো। আপনার সঙ্গে কে? তিনি বললেন, মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)। জিজ্ঞেস করা হলো। তাঁকে কি ডেকে পাঠানো হয়েছে? উত্তর দিলেন হাঁ, অতঃপর আমরা যখন সেখানে পৌঁছলাম তখন সেখানে ইয়াহ্ইয়া ও ‘ঈসা (‘আঃ)-কে দেখলাম। তাঁরা উভয়ে খালাতো ভাই ছিলেন। জিব্রাঈল বললেন, এঁরা হলেন, ইয়াহ্ইয়া এবং ‘ঈসা (‘আঃ)। তাদেরকে সালাম করুন, তখন আমি সালাম দিলাম। তাঁরাও সালামের জবাব দিলেন। অতঃপর তাঁরা বললেন, নেক ভাই এবং নেক নবীর প্রতি মারহাবা।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 640
Hadith 3431
Chapter 44: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ " مَا مِنْ بَنِي آدَمَ مَوْلُودٌ إِلاَّ يَمَسُّهُ الشَّيْطَانُ حِينَ يُولَدُ، فَيَسْتَهِلُّ صَارِخًا مِنْ مَسِّ الشَّيْطَانِ، غَيْرَ مَرْيَمَ وَابْنِهَا ". ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ {وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ }.
Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab:
Abu Huraira said, "I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'There is none born among the off-spring of Adam,
but Satan touches it. A child therefore, cries loudly at the time of birth because of the touch of Satan,
except Mary and her child." Then Abu Huraira recited: "And I seek refuge with You for her and for
her offspring from the outcast Satan" (3.36)
ہم سے ابو لیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا انہوں نے کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا ، کہا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ ہر ایک بنی آدم جب پیدا ہوتا ہے تو پیدائش کے وقت شیطان اسے چھوتا ہے اور بچہ شیطان کے چھونے سے زور سے چیختا ہے ۔ سوائے مریم اور ان کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام کے ۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ( اس کی وجہ مریم علیہما السلام کی والدہ کی دعا ہے کہ اے اللہ ! ) میں اسے ( مریم کو ) اور اس کی اولاد کو شیطان رجیم سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আমি আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, এমন কোন আদম সন্তান নেই যাকে জন্মের সময় শয়তান স্পর্শ করে না। জন্মের সময় শয়তানের স্পর্শের কারণেই সে চিৎকার করে কাঁদে। তবে মারইয়াম এবং তাঁর ছেলে (ঈসা) (‘আঃ)-এর ব্যতিক্রম। অতঃপর আবূ হুরায়রা বলেন, “হে আল্লাহ্! নিশ্চয় আমি আপনার নিকট তাঁর এবং তাঁর বংশধরদের জন্য বিতাড়িত শয়তান হতে আশ্রয় প্রার্থনা করছি।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 641
Hadith 3432
Chapter 45: "And (remember) when the angels said: 'O Maryam (Mary)! Verily, Allah has chosen you..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ أَبِي رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ، عَنْ هِشَامٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ، قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" خَيْرُ نِسَائِهَا مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَخَيْرُ نِسَائِهَا خَدِيجَةُ ".
Narrated `Ali:
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Mary, the daughter of `Imran, was the best among the women (of the
world of her time) and Khadija is the best amongst the women. (of this nation).
مجھ سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے نضر نے بیان کیا ، ان سے ہشام ، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی ، کہا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا ، کہا کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ مریم بنت عمران ( اپنے زمانہ میں ) سب سے بہترین خاتون تھیں اور اس امت کی سب سے بہترین خاتون حضرت خدیجہ ہیں ( رضی اللہ عنہا ) ۔
‘আলী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে এ কথা বলতে শুনেছি যে, সমগ্র নারীদের মধ্যে ইমরানের কন্যা মারইয়াম হলেন সর্বোত্তম আর নারীদের সেরা হলেন খাদীজা (রাঃ)।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 642
Hadith 3433
Chapter 46: The Statement of Allah Taa'la: "When the angels said: O Maryam! Verily, Allah gives you glad tidings of a Word..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ، كَمَلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيرٌ، وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ ".
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:
The Prophet (ﷺ) said, "The superiority of `Aisha to other ladies is like the superiority of Tharid (i.e. meat and bread dish) to other meals. Many men reached the level of perfection, but no woman reached such a level except Mary, the daughter of `Imran and Asia, the wife of Pharaoh."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انھوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، انہوں نے کہا ہم کہ میں نے مرہ ہمدانی سے سنا ۔ وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کی ۔ مردوں میں سے تو بہت سے کامل ہو گزرے ہیں لیکن عورتوں میں مریم بنت عمران اور فرعون کی بیوی آسیہ کے سوا اور کوئی کامل پیدا نہیں ہوئی ۔
আবূ মূসা আল-আশ’আরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, সকল নারীর উপর ‘আয়িশার মর্যাদা এমন, যেমন সকল খাদ্যের উপর সারীদের মর্যাদা। পুরুষদের মধ্যে অনেকেই পূণাঙ্গতা অর্জন করেছেন। কিন্তু নারীদের মধ্যে ইমরানের কন্যা মারইয়াম এবং ফির’আউনের স্ত্রী আছিয়া ছাড়া কেউ পূর্ণাঙ্গতা অর্জন করতে পারেনি।
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "Amongst all those women who ride camels (i.e. Arabs), the ladies of Quraish are the best. They are merciful and kind to their off-spring and the best guardians of their husbands' properties.' Abu Huraira added, "Mary the daughter of `Imran never rode a camel."
اور ابن وہب نے بیان کیا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا کہ اونٹ سوار ہونے والیوں ( عربی خواتین ) میں سب سے بہترین قریشی خواتین ہیں ۔ اپنے بچے پر سب سے زیادہ محبت و شفقت کرنے والی اور اپنے شوہر کے مال و اسباب کی سب سے بہتر نگراں و محافظ ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہتے تھے کہ مریم بنت عمران اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئی تھیں ۔ یونس کے ساتھ اس حدیث کو زہری کے بھتیجے اور اسحاق کلبی نے بھی زہری سے روایت کیا ہے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, কুরাইশ বংশীয়া নারীরা উটে আরোহণকারী সকল নারীদের তুলনায় উত্তম। এরা শিশু সন্তানের উপর অধিক স্নেহশীলা হয়ে থাকে আর স্বামীর সম্পদের প্রতি খুব যত্নবান হয়ে থাকে। অতঃপর আবূ হুরায়রা (রাঃ) বলেছেন, ইমরানের কন্যা মারইয়াম কখনও উটে আরোহণ করেননি। ইব্নু আখী যুহরী ও ইসহাক কালবী (রহঃ) যুহরী (রহঃ) হতে হাদীস বর্ণনায় ইউনুস (রহঃ)-এর অনুসরণ করেছেন।
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone testifies that None has the right to be worshipped but Allah Alone Who
has no partners, and that Muhammad is His Slave and His Apostle, and that Jesus is Allah's Slave and
His Apostle and His Word which He bestowed on Mary and a Spirit created by Him, and that Paradise
is true, and Hell is true, Allah will admit him into Paradise with the deeds which he had done even if
those deeds were few." (Junada, the sub-narrator said, " 'Ubada added, 'Such a person can enter
Paradise through any of its eight gates he likes.")
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، ان سے اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عمیر بن ہانی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے جنادہ بن ابی امیہ نے بیان کیا اور ان سے عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ وحدہ لا شریک ہے اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں ، جسے پہنچا دیا تھا اللہ نے مریم تک اور ایک روح ہیں اس کی طرف سے اور یہ کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو اس نے جو بھی عمل کیا ہو گا ( آخر ) اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا ۔ ولید نے بیان کیا ، کہ مجھ سے ابن جابر نے بیان کیا ، ان سے عمیر نے اور جنادہ نے اور اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا ( ایسا شخص ) جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے ( داخل ہو گا ) ۔
“উবাদা (রাঃ) সূত্রে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, যে ব্যক্তি সাক্ষ্য দিল, আল্লাহ্ ব্যতীত আর কোন ইলাহ নেই, তিনি একক, তাঁর কোন শরীক নেই আর মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর বান্দা ও রসূল আর নিশ্চয়ই ‘ঈসা (‘আঃ) আল্লাহ্র বান্দা ও তাঁর রাসূল এবং তাঁর সেই কালিমাহ যা তিনি মারইয়ামকে পৌঁছিয়েছেন এবং তাঁর নিকট হতে একটি রূহ মাত্র, আর জান্নাত সত্য ও জাহান্নাম সত্য আল্লাহ্ তাকে জান্নাতে প্রবেশ করাবেন, তার ‘আমল যাই হোক না কেন। ওয়ালীদ (রহঃ).....জুনাদাহ (রহঃ) হতে বর্ণিত হাদীসে জুনাদাহ অতিরিক্ত বলেছেন যে, জান্নাতে আট দরজার যেখান দিয়েই সে চাইবে।
The Prophet (ﷺ) said, "None spoke in cradle but three: (The first was) Jesus, (the second was), there a man
from Bani Israel called Juraij. While he was offering his prayers, his mother came and called him. He
said (to himself), 'Shall I answer her or keep on praying?" (He went on praying) and did not answer
her, his mother said, "O Allah! Do not let him die till he sees the faces of prostitutes." So while he was
in his hermitage, a lady came and sought to seduce him, but he refused. So she went to a shepherd and
presented herself to him to commit illegal sexual intercourse with her and then later she gave birth to a
child and claimed that it belonged to Juraij. The people, therefore, came to him and dismantled his
hermitage and expelled him out of it and abused him. Juraij performed the ablution and offered prayer,
and then came to the child and said, 'O child! Who is your father?' The child replied, 'The shepherd.'
(After hearing this) the people said, 'We shall rebuild your hermitage of gold,' but he said, 'No, of
nothing but mud.'(The third was the hero of the following story) A lady from Bani Israel was nursing
her child at her breast when a handsome rider passed by her. She said, 'O Allah ! Make my child like
him.' On that the child left her breast, and facing the rider said, 'O Allah! Do not make me like him.'
The child then started to suck her breast again. (Abu Huraira further said, "As if I were now looking at
the Prophet (ﷺ) sucking his finger (in way of demonstration.") After a while the people passed by, with a
lady slave and she (i.e. the child's mother) said, 'O Allah! Do not make my child like this (slave girl)!,
On that the child left her breast and said, 'O Allah! Make me like her.' When she asked why, the child
replied, 'The rider is one of the tyrants while this slave girl is falsely accused of theft and illegal sexual
intercourse."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریربن حازم نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گود میں تین بچوں کے سوا اور کسی نے بات نہیں کی ۔ اول عیسیٰ علیہ السلام ( دوسرے کا واقعہ یہ ہے کہ ) بنی اسرائیل میں ایک بزرگ تھے ، نام جریج تھا ۔ وہ نماز پڑھ رہے تھے کہ ان کی ماں نے انہیں پکارا ۔ انہوں نے ۔ ( اپنے دل میں ) کہا کہ میں والدہ کا جواب دوں یا نماز پڑھتا رہوں ؟ اس پر ان کی والدہ نے ( غصہ ہو کر ) بدعا کی ، اے اللہ ! اس وقت تک اسے موت نہ آئے جب تک یہ زانیہ عورتوں کا منہ نہ دیکھ لے ۔ جریج اپنے عبادت خانے میں رہا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ان کے سامنے ایک فاحشہ عورت آئی اور ان سے بدکاری چاہی لیکن انہوں نے ( اس کی خواہش پوری کرنے سے ) انکار کیا ۔ پھر ایک چرواہے کے پاس آئی اور اسے اپنے اوپر قابو دے دیا اس سے ایک بچہ پیدا ہوا ۔ اور اس نے ان پر یہ تہمت دھری کہ یہ جریج کا بچہ ہے ۔ ان کی قوم کے لوگ آئے اور ان کا عبادت خانہ توڑ دیا ، انہیں نیچے اتار کر لائے اور انہیں گالیاں دیں ۔ پھر انہوں نے وضو کر کے نماز پڑھی ، اس کے بعد بچے کے پاس آئے اور اس سے پوچھا کہ تیرا باپ کون ہے ؟ بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ چرواہا ہے اس پر ( ان کی قوم شرمندہ ہوئی اور ) کہا ہم آپ کا عبادت خانہ سونے کا بنائیں گے ۔ لیکن انہوں نے کہا ہرگز نہیں ، مٹی ہی کا بنے گا ( تیسرا واقعہ ) اور ایک بنی اسرائیل کی عورت تھی ، اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ۔ قریب سے ایک سوار نہایت عزت والا اور خوش پوش گزرا ، اس عورت نے دعا کی ، اے اللہ ! میرے بچے کو بھی اسی جیسا بنا دے لیکن بچہ ( اللہ کے حکم سے ) بول پڑا کہ اے اللہ ! مجھے اس جیسا نہ بنانا ۔ پھر اس کے سینے سے لگ کر دودھ پینے لگا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے میں اس وقت بھی دیکھ رہا ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگلی چوس رہے ہیں ( بچے کے دودھ پینے لگنے کی کیفیت بتلاتے وقت ) پھر ایک باندی اس کے قریب سے لے جائی گئی ( جسے اس کے مالک مار رہے تھے ) تو اس عورت نے دعا کی کہ اے اللہ ! میرے بچے کو اس جیسا نہ بنانا ۔ بچے نے پھر اس کا پستان چھوڑ دیا اور کہا کہ اے اللہ ! مجھے اسی جیسا بنا دے ۔ اس عورت نے پوچھا ۔ ایسا تو کیوں کہہ رہا ہے ؟ بچے نے کہا کہ وہ سوار ظالموں میں سے ایک ظالم شخص تھا اور اس باندی سے لوگ کہہ رہے تھے کہ تم نے چوری کی اور زنا کیا حالانکہ اس نے کچھ بھی نہیں کیا تھا ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেন, তিনজন শিশু ছাড়া আর কেউ দোলনায় থেকে কথা বলেনি। ঈসা (‘আঃ), দ্বিতীয় জন বনী ইসরাঈলের এক ব্যক্তি যাকে ‘জুরাইজ’ নামে ডাকা হতো। একদা ‘ইবাদাতে রত থাকা অবস্থায় তার মা এসে তাকে ডাকল। সে ভাবল আমি কি তার ডাকে সাড়া দেব, না সালাত আদায় করতে থাকব। তার মা বলল, হে আল্লাহ্! ব্যাভিচারিণীর মুখ না দেখা পর্যন্ত তুমি তাকে মৃত্যু দিও না। জুরাইজ তার ‘ইবাদতখানায় থাকত। একবার তার নিকট একটি নারী আসল। তার সঙ্গে কথা বলল। কিন্ত জুরাইজ তা অস্বীকার করল। অতঃপর নারীটি একজন রাখালের নিকট গেল এবং তাকে দিয়ে মনোবাসনা পূর্ণ করল। পরে সে একটি পুত্র সন্তান প্রসব করল। তাকে জিজ্ঞেস করা হলো এটি কার থেকে? স্ত্রী লোকটি বলল, জুরাইজ থেকে। লোকেরা তার নিকট আসল এবং তার ‘ইবাদতখানা ভেঙ্গে দিল। আর তাকে নীচে নামিয়ে আনল ও তাকে গালি গালাজ করল। তখন জুরাইজ ঊযূ সেরে ‘ইবাদত করল। অতঃপর নবজাত শিশুটির নিকট এসে তাকে জিজ্ঞেস করল হে শিশু! তোমার পিতা কে? সে জবাব দিল সেই রাখাল। তারা বলল, আমরা আপনার ‘ইবাদতখানাটি সোনা দিয়ে তৈরী করে দিচ্ছি। সে বলল, না। তবে মাটি দিয়ে। (তৃতীয় জন) বনী ইসরাঈলের একজন নারী তার শিশুকে দুধ পান করাচ্ছিল। তার কাছ দিয়ে একজন সুদর্শন পুরুষ আরোহী চলে গেল। নারীটি দু’আ করল, হে আল্লাহ্! আমার ছেলেটি তার মত বানাও। শিশুটি তখনই তার মায়ের স্তন ছেড়ে দিল এবং আরোহীটির দিকে মুখ ফিরালো। আর বলল, হে আল্লাহ্! আমাকে তার মত করো না। অতঃপর মুখ ফিরিয়ে স্তন্য পান করতে লাগল। আবূ হুরায়রা (রাঃ) বললেন, আমি যেন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে দেখতে পাচ্ছি তিনি আঙ্গুল চুষছেন। অতঃপর সেই নারীটির পার্শ্ব দিয়ে একটি দাসী চলে গেল। নারীটি বলল, হে আল্লাহ্! আমার শিশুটিকে এর মত করো না। শিশুটি তাৎক্ষণিক তার মায়ের স্তন্য ছেড়ে দিল। আর বলল, হে আল্লাহ্! আমাকে তার মত কর। তার মা বলল, তা কেন? শিশুটি বলল, সেই আরোহীটি ছিল যালিমদের একজন। আর এ দাসীটির ব্যাপারে লোকে বলেছে তুমি চুরি করেছ, যিনা করেছ। অথচ সে কিছুই করেনি।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 645
Hadith 3437
Chapter 48: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, the story of Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ،. حَدَّثَنِي مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ لَقِيتُ مُوسَى ـ قَالَ فَنَعَتَهُ ـ فَإِذَا رَجُلٌ ـ حَسِبْتُهُ قَالَ ـ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ، كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ ـ قَالَ ـ وَلَقِيتُ عِيسَى ـ فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ـ رَبْعَةٌ أَحْمَرُ كَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ ـ يَعْنِي الْحَمَّامَ ـ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ، وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ ـ قَالَ ـ وَأُتِيتُ بِإِنَاءَيْنِ أَحَدُهُمَا لَبَنٌ وَالآخَرُ فِيهِ خَمْرٌ، فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ. فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ، فَقِيلَ لِي هُدِيتَ الْفِطْرَةَ، أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ، أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُكَ ".
Narrated Hisham:
From Ma`mar as below.
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "I met Moses on the night of my Ascension to heaven." The Prophet (ﷺ) then described
him saying, as I think, "He was a tall person with lank hair as if he belonged to the people of the tribe
of Shanu's.' The Prophet (ﷺ) further said, "I met Jesus." The Prophet (ﷺ) described him saying, "He was one
of moderate height and was red-faced as if he had just come out of a bathroom. I saw Abraham whom
I resembled more than any of his children did." The Prophet (ﷺ) further said, "(That night) I was given
two cups; one full of milk and the other full of wine. I was asked to take either of them which I liked,
and I took the milk and drank it. On that it was said to me, 'You have taken the right path (religion). If
you had taken the wine, your (Muslim) nation would have gone astray."
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام نے خبر دی ، انہیں معمر نے ( دوسری سند ) مجھ سے محمود نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو معمر نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس رات میری معراج ہوئی ، میں نے موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی تھی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا حلیہ بیان کیا وہ .... میرا خیال ہے کہ معمر نے کہا .... درازقامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کے لوگ ہوتے ہیں ۔ آپ نے بیان کیا کہ میں نے عیسیٰ علیہ السلام سے بھی ملاقات کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا بھی حلیہ بیان فرمایا کہ درمیانہ قد اور سرخ و سپید تھے ، جیسے ابھی ابھی غسل خانے سے باہر آئے ہوں اور میں نے ابراہیم علیہ السلام سے بھی ملاقات کی تھی اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس دو برتن لائے گئے ، ایک میں دودھ تھا اور دوسرے میں شراب ۔ مجھ سے کہا گیا کہ جو آپ کا جی چاہے لے لو ۔ میں نے دودھ کا برتن لے لیا اور پی لیا ۔ اس پر مجھ سے کہا گیا کہ فطرت کی آپ نے راہ پالی ، یا فطرت کو آپ نے پا لیا ۔ اس کے بجائے اگر آپ شراب کا برتن لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, মিরাজের রাতে আমি মূসা (‘আঃ)-এর দেখা পেয়েছি। আবূ হুরায়রা (রাঃ) বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মূসা (‘আঃ)-এর আকৃতি বর্ণনা করেছেন। মূসা (‘আঃ) একজন দীর্ঘদেহধারী, মাথায় কোঁকড়ানো চুলবিশিষ্ট, যেন শানুআ গোত্রের একজন লোক। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেন, আমি ‘ঈসা (‘আঃ)-এর দেখা পেয়েছি। অতঃপর তিনি তাঁর চেহারা বর্ণনা করে বলেছেন, তিনি হলেন মাঝারি গড়নের গৌর বর্ণবিশিষ্ট, যেন তিনি এই মাত্র হাম্মামখানা থেকে বেরিয়ে এসেছেন। আর আমি ইব্রাহীম (‘আঃ)-কেও দেখেছি। তাঁর সন্তানদের মধ্যে আকৃতিতে আমিই তার অধিক সদৃশ। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেন, অতঃপর আমার সামনে দুটি পেয়ালা আনা হল। একটিতে দুধ, অপরটিতে শরাব। আমাকে বলা হলো, আপনি যেটি ইচ্ছা গ্রহণ করতে পারেন। আমি দুধের বাটিটি গ্রহণ করলাম আর তা পান করলাম। তখন আমাকে বলা হলো, আপনি ফিত্রাত বা স্বভাবকেই গ্রহণ করে নিয়েছেন। দেখুন! আপনি যদি শরাব গ্রহণ করতেন, তাহলে আপনার উম্মত পথভ্রষ্ট হয়ে যেত।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 646
Hadith 3438
Chapter 48: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, the story of Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" رَأَيْتُ عِيسَى وَمُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ، فَأَمَّا عِيسَى فَأَحْمَرُ جَعْدٌ عَرِيضُ الصَّدْرِ، وَأَمَّا مُوسَى فَآدَمُ جَسِيمٌ سَبْطٌ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ الزُّطِّ ".
Narrated Ibn `Abbas:
The Prophet (ﷺ) said, "I saw Moses, Jesus and Abraham (on the night of my Ascension to the heavens).
Jesus was of red complexion, curly hair and a broad chest. Moses was of brown complexion, straight
hair and tall stature as if he was from the people of Az-Zutt."
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ، کہا ہم کو اسرائیل نے خبر دی ، کہا ہم کو عثمان بن مغیرہ نے خبر دی ، انہیں مجاہد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے عیسیٰ ، موسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام کو دیکھا ۔ عیسیٰ علیہ السلام نہایت سرخ گھونگھریالے بال والے اور چوڑے سینے والے تھے اور موسیٰ علیہ السلام گندم ، گوں درازقامت اور سیدھے بالوں والے تھے جیسے کوئی قبیلہ زط کا آدمی ہو ۔
ইব্নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, আমি ‘ঈসা (‘আঃ), মূসা (‘আঃ) ও ইব্রাহীম (‘আঃ)-কে দেখেছি। ‘ঈসা (‘আঃ) গৌর বর্ণ, সোজা চুল এবং প্রশস্ত বুকবিশিষ্ট লোক ছিলেন, মূসা (‘আঃ) বাদামী রঙের ছিলেন, তাঁর দেহ ছিল সুঠাম এবং মাথার চুল ছিল কোঁকড়ানো যেন ‘যুত’ গোত্রের একজন মানুষ।
The Prophet (ﷺ) mentioned the Masih Ad-Dajjal in front of the people saying, Allah is not one-eyed
while Masih Ad-Dajjal is blind in the right eye and his eye looks like a bulging out grape. While
sleeping near the Ka`ba last night, I saw in my dream a man of brown color the best one can see
amongst brown color and his hair was long that it fell between his shoulders. His hair was lank and
water was dribbling from his head and he was placing his hands on the shoulders of two men while
circumambulating the Ka`ba. I asked, 'Who is this?' They replied, 'This is Jesus, son of Mary.' Behind
him I saw a man who had very curly hair and was blind in the right eye, resembling Ibn Qatan (i.e. an
infidel) in appearance. He was placing his hands on the shoulders of a person while performing Tawaf
around the Ka`ba. I asked, 'Who is this? 'They replied, 'The Masih, Ad-Dajjal.' "
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوضمرہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، ان سے نافع نے بیان کیا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم نے ایک دن لوگوں کے سامنے دجال کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعا لیٰ کانا نہیں ہے ، لیکن دجال داہنی آنکھ سے کانا ہو گا ، اس کی آنکھ اٹھے ہوئے انگور کی طرح ہو گی ۔
اور میں نے رات کعبہ کے پاس خواب میں ایک گندمی رنگ کے آدمی کو دیکھا جو گندمی رنگ کے آدمیوں میں شکل کے اعتبار سے سب سے زیادہ حسین و جمیل تھا ۔ اس کے سر کے بال شانوں تک لٹک رہے تھے ، سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے شانوں پر رکھے ہوئے وہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں ؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ مسیح ابن مریم ہیں ۔ اس کے بعد میں نے ایک شخص کو دیکھا ، سخت اور مڑے ہوئے بالوں والا جو داہنی آنکھ سے کانا تھا ۔ اسے میں نے ابن قطن سے سب سے زیادہ شکل میں ملتا ہوا پایا ، وہ بھی ایک شخص کے شانوں پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا ۔ میں نے پوچھا ، یہ کون ہیں ؟ فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے ۔ اس روایت کی متابعت عبیداللہ نے نافع سے کی ہے ۔
‘আবদুল্লাহ ইব্নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, একদা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) লোকজনের সামনে মাসীহ দাজ্জাল সম্পর্কে আলোচনা করলেন। তিনি বললেন, আল্লাহ্ টেঁড়া নন। সাবধান! মাসীহ দাজ্জালের ডান চক্ষু টেঁড়া। তার চক্ষু যেন ফুলে যাওয়া আঙ্গুরের মত।
‘আবদুল্লাহ ইব্নু ‘উমর (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আমি এক রাতে স্বপ্নে নিজেকে কা’বার নিকট দেখলাম। হঠাৎ সেখানে বাদামী রং এর এক ব্যক্তিকে দেখলাম। তোমরা যেমন সুন্দর বাদামী রঙের লোক দেখে থাক তার থেকেও অধিক সুন্দর ছিলেন তিনি। তাঁর মাথার সোজা চুল, তাঁর দু’স্কন্ধ পর্যন্ত ঝুলছিল। তার মাথা হতে পানি ফোঁটা ফোঁটা পড়ছিল। তিনি দু’জন লোকের স্কন্ধে হাত রেখে কা’বা তাওয়াফ করছিলেন। আমি জিজ্ঞেস করলাম ইনি কে? তারা জবাব দিলেন, ইনি হলেন, মসীহ ইব্নু মারইয়াম। অতঃপর তাঁর পেছনে অন্য একজন লোককে দেখলাম। তার মাথায় চুল ছিল বেশ কোঁকড়ানো, ডান চক্ষু টেঁড়া, আকৃতিতে সে আমার দেখা ইব্নু কাতানের সঙ্গে অধিক সাদৃশ্যপূর্ণ। সে একজন লোকের দু’স্কন্ধে ভর দিয়ে কা’বার চারদিকে ঘুরছিল। আমি জিজ্ঞেস করলাম, এ লোকটি কে? তারা বললেন, এ হল মাসীহ দাজ্জাল।
No, By Allah, the Prophet (ﷺ) did not tell that Jesus was of red complexion but said, "While I was asleep
circumambulating the Ka`ba (in my dream), suddenly I saw a man of brown complexion and lank hair
walking between two men, and water was dropping from his head. I asked, 'Who is this?' The people
said, 'He is the son of Mary.' Then I looked behind and I saw a red-complexioned, fat, curly-haired
man, blind in the right eye which looked like a bulging out grape. I asked, 'Who is this?' They replied,
'He is Ad-Dajjal.' The one who resembled to him among the people, was Ibn Qatar." (Az-Zuhri said,
"He (i.e. Ibn Qatan) was a man from the tribe Khuza`a who died in the pre-lslamic period.")
ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابراہیم بن سعد سے سنا ، کہا کہ مجھ سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سالم نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
ہرگز نہیں ۔ خدا کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عیسیٰ کے بارے میں یہ نہیں فرمایا تھا کہ وہ سرخ تھے بلکہ آپ نے یہ فرمایا تھا کہ میں نے خواب میں ایک مرتبہ بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اپنے کو دیکھا ، اس وقت مجھے ایک صاحب نظر آئے جو گندمی رنگ لٹکے ہوئے بال والے تھے ، دو آدمیوں کے درمیان ان کا سہارا لئے ہوئے اور سر سے پانی صاف کر رہے تھے ۔ میں نے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ آپ ابن مریم علیہما السلام ہیں ۔ اس پر میں نے انہیں غور سے دیکھا تو مجھے ایک اور شخص بھی دکھائی دیا جو سرخ ، موٹا ، سر کے بال مڑے ہوئے اور داہنی آنکھ سے کانا تھا ، اس کی آنکھ ایسی دکھائی دیتی تھی جیسے اٹھا ہوا انار ہو ، میں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ دجال ہے ۔ اس سے شکل و صورت میں ابن قطن بہت زیادہ مشابہ تھا ۔ زہری نے کہا کہ یہ قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا جو جاہلیت کے زمانہ میں مر گیا تھا ۔
সালিম (রাঃ)-এর পিতা থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহ্র শপথ! নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) এ কথা বলেননি যে ‘ঈসা (‘আঃ) লাল বর্ণের ছিলেন। বরং বলেছেন, একদা আমি স্বপ্নে কা’বা ঘর তাওয়াফ করছিলাম। হঠাৎ সোজা চুল ও বাদামী রঙের জনৈক ব্যক্তিকে দেখলাম। তিনি দু’জন লোকের মাঝখানে চলছেন। তাঁর মাথার পানি ঝরছে অথবা বলেছেন, তার মাথা হতে পানি বেয়ে পড়ছে। আমি বললাম, ইনি কে? তারা বললেন, ইনি মারিয়ামের পুত্র। তখন আমি এদিক ওদিক তাকালাম। হঠাৎ দেখলাম, এক লোক তার গায়ের রং লালবর্ণ, খুব মোটা, মাথার চুল কোঁকড়ানো এবং তার ডান চোখ টেঁড়া, তার চোখ যেন আঙ্গুরের মত। আমি জিজ্ঞেস করলাম, এ লোকটি কে? তারা বললেন, এ হলো দাজ্জাল। মানুষের মধ্যে ইব্নু কাতানের সঙ্গে তার বেশি সাদৃশ্য রয়েছে। যুহরী (রহঃ) তার বর্ণনায় বলেন, ইব্নু কাতান খুযাআ গোত্রের জনৈক ব্যক্তি, সে জাহিলীয়াতের যুগেই মারা গেছে।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 650
Hadith 3442
Chapter 48: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, the story of Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عَنْهُ ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِابْنِ مَرْيَمَ، وَالأَنْبِيَاءُ أَوْلاَدُ عَلاَّتٍ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ ".
Narrated Abu Huraira:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "I am the nearest of all the people to the son of Mary, and all the
prophets are paternal brothers, and there has been no prophet between me and him (i.e. Jesus).
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں ابوسلمہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ میں ابن مریم علیہما السلام سے دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ قریب ہوں ، انبیاء علاتی بھائیوں کی طرح ہیں اور میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, আমি মারিয়ামের পুত্র ‘ঈসার অধিক ঘনিষ্ঠ। আর নবীগণ পরস্পর বৈমাত্রেয় ভাই। আমার ও তার মাঝখানে কোন নবী নেই।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 651
Hadith 3443
Chapter 48: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, the story of Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ، وَالأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلاَّتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى، وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ". وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Both in this world and in the Hereafter, I am the nearest of all the people to
Jesus, the son of Mary. The prophets are paternal brothers; their mothers are different, but their
religion is one."
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہلال بن علی نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علیہم السلام علاتی بھائیوں ( کی طرح ) ہیں ۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے ۔ اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے ، ان سے صفوان بن سلیم نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, আমি দুনিয়া ও আখিরাতে ‘ঈসা ইব্নু মারিয়ামের ঘনিষ্ঠতম। নবীগণ একে অন্যের বৈমাত্রেয় ভাই। তাঁদের মা ভিন্ন ভিন্ন কিন্তু দ্বীন হল এক।
ইব্রাহীম ইব্নু তাহমান (রহঃ).... আবূ হুরায়রা (রাঃ) হতে বর্ণিত। তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন।
The Prophet (ﷺ) said, "Jesus, seeing a man stealing, asked him, 'Did you steal?, He said, 'No, by Allah, besides Whom there is none who has the right to be worshipped' Jesus said, 'I believe in Allah and suspect my eyes."
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالر زاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے ہوئے دیکھا پھر اس سے دریافت فرمایا تو نے چوری کی ہے ؟ اس نے کہا ہرگز نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں اللہ پر ایمان لایا اور میری آنکھوں کو دھوکا ہوا ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেন, ‘ঈসা (‘আঃ) এক লোককে চুরি করতে দেখলেন, তখন তিনি বললেন, তুমি কি চুরি করেছ? সে বলল, কক্ষণও নয়। সেই সত্তার কসম! যিনি ছাড়া আর কোন ইলাহ নেই। তখন ‘ঈসা (‘আঃ) বললেন, আমি আল্লাহ্র উপর ঈমান এনেছি আর আমি আমার দু’চোখ অবিশ্বাস করলাম।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 653
Hadith 3445
Chapter 48: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, the story of Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، يَقُولُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، سَمِعَ عُمَرَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" لاَ تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتِ النَّصَارَى ابْنَ مَرْيَمَ، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُهُ، فَقُولُوا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ".
Narrated `Umar:
I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Do not exaggerate in praising me as the Christians praised the son of
Mary, for I am only a Slave. So, call me the Slave of Allah and His Apostle."
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے زہری سے سنا ، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ کہتے سنا تھا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا مجھے میرے مرتبے سے زیادہ نہ بڑھاؤ جیسے عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام کو نصاریٰ نے ان کے رتبے سے زیادہ بڑھا دیا ہے ۔ میں تو صرف اللہ کا بندہ ہوں ، اس لئے یہی کہا کرو ( میرے متعلق ) کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ۔
ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি ‘উমর (রাঃ)-কে মিম্বারের ওপর দাঁড়িয়ে বলতে শুনেছেন যে, আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, তোমরা আমার প্রশংসা করতে গিয়ে বাড়াবাড়ি করো না, যেমন ‘ঈসা মারইয়াম (‘আঃ) সম্পর্কে নাছারা (খ্রিস্টানরা) বাড়াবাড়ি করেছিল। আমি তাঁর বান্দা, তাই তোমরা বলবে, আল্লাহ্র বান্দা ও তাঁর রাসূল।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 654
Hadith 3446
Chapter 48: The Statement of Allah Taa'la: "And mention in the Book, the story of Maryam..." - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا صَالِحُ بْنُ حَىٍّ، أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ خُرَاسَانَ قَالَ لِلشَّعْبِيِّ. فَقَالَ الشَّعْبِيُّ أَخْبَرَنِي أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا أَدَّبَ الرَّجُلُ أَمَتَهُ فَأَحْسَنَ تَأْدِيبَهَا، وَعَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا، كَانَ لَهُ أَجْرَانِ، وَإِذَا آمَنَ بِعِيسَى ثُمَّ آمَنَ بِي، فَلَهُ أَجْرَانِ، وَالْعَبْدُ إِذَا اتَّقَى رَبَّهُ وَأَطَاعَ مَوَالِيَهُ، فَلَهُ أَجْرَانِ ".
Narrated Abu Musa Al-Ash`ari:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a person teaches his slave girl good manners properly, educates her properly,
and then manumits and marries her, he will get a double reward. And if a man believes in Jesus and
then believes in me, he will get a double reward. And if a slave fears his Lord (i.e. Allah) and obeys
his masters, he too will get a double reward."
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو صالح بن حیی نے خبر دی کہ خراسان کے ایک شخص نے شعبی سے پوچھا تو انہوں نے بیان کیا کہ
مجھے ابوبردہ نے خبر دی اور ان سے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ، اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو اچھی طرح ادب سکھلائے اور پورے طور پر اسے دین کی تعلیم دے ۔ پھر اسے آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے تو اسے دوگنا ثواب ملتا ہے اور وہ شخص جو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتا تھا ، پھر مجھ پر ایمان لایا تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے اور وہ غلام جو اپنے رب کا بھی ڈر رکھتا ہے اور اپنے آقا کی بھی اطاعت کرتا ہے تو اسے بھی دوگنا ثواب ملتا ہے ۔
আবূ মূসা আল-আশ’আরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন যদি কোন লোক তার দাসীকে শিষ্টাচার শিখায় এবং তা উত্তমভাবে শিখায় এবং তাকে দ্বীন শিখায় আর তা উত্তমভাবে শিখায় অতঃপর তাকে মুক্ত করে দেয় অতঃপর তাকে বিয়ে করে তবে সে দু’টি করে সওয়াব পাবে। আর যদি কেউ ‘ঈসা (‘আঃ)-এর উপর ঈমান আনে অতঃপর আমার প্রতিও ঈমান আনে, তার জন্যও দু’টি করে সওয়াব রয়েছে। আর গোলাম যদি তার রবকে ভয় করে এবং তার মনিবদের মান্য করে তার জন্যও দু’টি করে সওয়াব রয়েছে।
Allah's Messenger (ﷺ) said, "You will be resurrected (and assembled) bare-footed, naked and
uncircumcised." The Prophet (ﷺ) then recited the Divine Verse:-- "As We began the first creation, We
shall repeat it: A promise We have undertaken. Truly we shall do it." (21.104)
He added, "The first to be dressed will be Abraham. Then some of my companions will take to the
right and to the left. I will say: 'My companions! 'It will be said, 'They had been renegades since you
left them.' I will then say what the Pious Slave Jesus, the son of Mary said: 'And I was a witness over
them while I dwelt amongst them; when You did take me up, You were the Watcher over them, and
You are a Witness to all things. If You punish them, they are Your slaves, and if you forgive them,
You, only You are the All-Mighty the All-Wise.' " (5.117-118) Narrated Quaggas, "Those were the
apostates who renegade from Islam during the Caliphate of Abu Bakr who fought them".
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے مغیرہ بن نعمان نے ، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( قیامت کے دن ) تم لوگ ننگے پاؤں ، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جاؤ گے ۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی ” جس طرح ہم نے انہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح ہم دوبارہ لوٹائیں گے ، یہ ہماری جانب سے وعدہ ہے اور بیشک ہم اسے کرنے والے ہیں ‘‘ پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا ۔ پھر میرے اصحاب کو دائیں ( جنت کی ) طرف لے جایا جائے گا ۔ لیکن کچھ کو بائیں ( جہنم کی ) طرف لے جایا جائے گا ۔ میں کہوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ جب آپ ان سے جدا ہوئے تو اسی وقت انہوں نے ارتداد اختیار کر لیا تھا ۔ میں اس وقت وہی کہوں گا جو عبد صالح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام نے کہا تھا کہ جب تک میں ان میں موجود تھا ان کی نگرانی کرتا رہا لیکن جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان کا نگہبان ہے اور تو ہر چیز پر نگہبان ہے ۔ آیت ” العزیز الحکیم تک ‘‘ محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ ابوعبداللہ سے روایت ہے اور ان سے قبیصہ نے بیان کیا کہ یہ وہ مرتدین ہیں جنہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں کفر اختیار کیا تھا اور جن سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جنگ کی تھی ۔
ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমরা হাশরের ময়দানে নগ্নপদে, নগ্নদেহে খাতনাবিহীন অবস্থায় একত্রিত হবে। অতঃপর তিনি এ আয়াত পাঠ করলেন: যেভাবে আমি প্রথমবার সৃষ্টির সূচনা করেছিলাম সেভাবে পুনরায় সৃষ্টি করবো। এটা আমার অঙ্গীকার। আমি তা অবশ্যই পূর্ণ করব- (আল-আম্বিয়া ১০৪)। অতঃপর সর্বপ্রথম যাকে বস্ত্রাচ্ছাদিত করা হবে, তিনি হলেন ইব্রাহীম (‘আঃ)। অতঃপর আমার সাহাবীদের কিছু সংখ্যককে ডান দিকে (জান্নাত) এবং কিছু সংখ্যককে বাম দিকে নিয়ে যাওয়া হবে। তখন আমি বলব, এরা তো আমার অনুসারী। তখন বলা হবে আপনি তাদের হতে বিদায় নেয়ার পর তারা মুরতাদ হয়ে গেছে। তখন আমি এমন কথা বলব, যা বলেছিল, নেককার বান্দা ‘ঈসা ইব্নু মারইয়াম (‘আঃ)। তার উক্তিটি হলো এ আয়াতঃ আর আমি যতদিন তাদের মধ্যে ছিলাম ততদিন আমি তাদের উপর সাক্ষী ছিলাম। অতঃপর আপনি যখন আমাকে উঠিয়ে নিলেন তখন আপনিই তাদের সংরক্ষণকারী ছিলেন। আর আপনি তো সব কিছুর উপরই সাক্ষী। যদি আপনি তাদেরকে আযাব দেন, তবে এরা তো আপনারই বান্দা। আর যদি আপনি তাদেরকে ক্ষমা করে দেন তবে আপনি নিশ্চয়ই ক্ষমতাধর ও প্রজ্ঞাময়- (আল-মায়িদাহ: ১১৭) কাবীসা (রাঃ) হতে বর্ণিত। তিনি বলেন, এরা হলো ঐ সব মুরতাদ যারা আবূ বকর (রাঃ)-এর খিলাফতকালে মুরতাদ হয়ে গিয়েছিল। তখন আবূ বকর (রাঃ) তাদের বিরুদ্ধে যুদ্ধ করেছিলেন।
Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my soul is, surely (Jesus,) the son of Mary will soon
descend amongst you and will judge mankind justly (as a Just Ruler); he will break the Cross and kill
the pigs and there will be no Jizya (i.e. taxation taken from non Muslims). Money will be in
abundance so that nobody will accept it, and a single prostration to Allah (in prayer) will be better
than the whole world and whatever is in it." Abu Huraira added "If you wish, you can recite (this
verse of the Holy Book): -- 'And there is none Of the people of the Scriptures (Jews and Christians)
But must believe in him (i.e Jesus as an Apostle of Allah and a human being) Before his death. And
on the Day of Judgment He will be a witness Against them." (4.159) (See Fath-ul-Bari, Page 302 Vol
7)
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے سعید بن مسیب نے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے ۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے ، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے ۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا ۔ اس وقت کا ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بڑھ کر ہو گا ۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو ” اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے ‘‘ ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, শপথ সেই সত্তার, যাঁর হাতে আমার প্রাণ, শীঘ্রই তোমাদের মধ্যে মারিয়ামের পুত্র ‘ঈসা (‘আঃ) শাসক ও ন্যায় বিচারক হিসেবে আগমন করবেন। তিনি ‘ক্রশ’ ভেঙ্গে ফেলবেন, শূকর হত্যা করবেন এবং তিনি যুদ্ধের সমাপ্তি টানবেন। তখন সম্পদের ঢেউ বয়ে চলবে। এমনকি কেউ তা গ্রহণ করতে চাইবে না। তখন আল্লাহকে একটি সিজ্দা করা তামাম দুনিয়া এবং তার মধ্যকার সমস্ত সম্পদ হতে অধিক মূল্যবান বলে গণ্য হবে। অতঃপর আবূ হুরায়রা (রাঃ) বলেন, তোমরা ইচ্ছা করলে এর সমর্থনে এ আয়াতটি পড়তে পার: “কিতাবীদের মধ্যে প্রত্যেকে তাঁর [ঈসা (‘আঃ)-এর] মৃত্যুর পূর্বে তাঁকে বিশ্বাস করবেই এবং কিয়ামতের দিন তিনি তাদের বিপক্ষে সাক্ষ্য দিবেন।” (আন-নিসা: ১৫৯)
Allah's Messenger (ﷺ) said "How will you be when the son of Mary (i.e. Jesus) descends amongst you and your imam is among you."
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام نافع نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا اس وقت کیا حال ہو گا جب عیسیٰ ابن مریم تم میں اتریں گے ( تم نماز پڑھ رہے ہو گے ) اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا ۔ اس روایت کی متابعت عقیل اور اوزاعی نے کی ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমাদের অবস্থা কেমন হবে যখন তোমাদের মধ্যে মারইয়াম পুত্র ‘ঈসা (‘আঃ) অবতরণ করবেন আর তোমাদের ইমাম তোমাদের মধ্য থেকেই হবে। [১]
‘উকাইল ও আওযা’ঈ হাদীস বর্ণনায় এর অনুসরণ করেছেন।
`Uqba bin `Amr said to Hudhaifa, "Won't you relate to us of what you have heard from Allah's
Apostle ?" He said, "I heard him saying, "When Al-Dajjal appears, he will have fire and water along
with him. What the people will consider as cold water, will be fire that will burn (things). So, if
anyone of you comes across this, he should fall in the thing which will appear to him as fire, for in
reality, it will be fresh cold water." Hudhaifa added, "I also heard him saying, 'From among the people
preceding your generation, there was a man whom the angel of death visited to capture his soul. (So
his soul was captured) and he was asked if he had done any good deed.' He replied, 'I don't remember
any good deed.' He was asked to think it over. He said, 'I do not remember, except that I used to trade
with the people in the world and I used to give a respite to the rich and forgive the poor (among my
debtors). So Allah made him enter Paradise." Hudhaifa further said, "I also heard him saying, 'Once
there was a man on his death-bed, who, losing every hope of surviving said to his family: When I die,
gather for me a large heap of wood and make a fire (to burn me). When the fire eats my meat and
reaches my bones, and when the bones burn, take and crush them into powder and wait for a windy
day to throw it (i.e. the powder) over the sea. They did so, but Allah collected his particles and asked
him:
Why did you do so? He replied: For fear of You. So Allah forgave him." `Uqba bin `Amr said, "I
heard him saying that the Israeli used to dig the grave of the dead (to steal their shrouds).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا کہ
حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا ، کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ سے سنی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے لیکن لوگوں کو جو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور لوگوں کو جو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہو گی ۔ اس لیے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں ہو تو اسے اس میں گرنا چاہئے جو آگ ہو گی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہو گا ۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ پہلے زمانے میں ایک شخص کے پاس ملک الموت ان کی روح قبض کرنے آئے تو ان سے پوچھا گیا کوئی اپنی نیکی تمہیں یاد ہے ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے تو یاد نہیں پڑتی ، ان سے دوبارہ کہا گیا کہ یاد کرو ! انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی اپنی نیکی یاد نہیں ، سوا اس کے کہ میں دنیا میں لوگوں کے ساتھ خریدوفروخت کیا کرتا تھا اور لین دین کیا کرتا تھا ، جو لوگ خوشحال ہوتے انہیں تو میں ( اپنا قرض وصول کرتے وقت ) مہلت دیا کرتا تھا اور تنگ ہاتھ والوں کو معاف کر دیا کرتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی پر جنت میں داخل کیا ۔
اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ ایک شخص کی موت کا جب وقت آ گیا اور وہ اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہو گیا تو اس نے اپنے گھر والوں کو وصیت کی کہ جب میری موت ہو جائے تو میرے لیے بہت ساری لکڑیاں جمع کرنا اور ان میں آگ لگا دینا ۔ جب آگ میرے گوشت کو جلا چکے اور آخری ہڈی کو بھی جلا دے تو ان جلی ہوئی ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور کسی تند ہوا والے دن کا انتظار کرنا اور ( ایسے کسی دن ) میری راکھ کو دریا میں بہا دینا ۔ اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی راکھ کو جمع کیا اور اس سے پوچھا ایسا تو نے کیوں کروایا تھا ؟ اس نے جواب دیا کہ تیرے ہی خوف سے اے اﷲ ! اللہ تعالیٰ نے اسی وجہ سے اس کی مغفرت فرما دی ۔ حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا تھا کہ یہ شخص کفن چور تھا ۔
‘উকবা ইব্নু ‘আম্র (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ ‘উকবা ইব্নু ‘আম্র (রাঃ) হুযাইফাহ (রাঃ)-কে বললেন, আপনি আল্লাহর, রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে যা শুনেছেন, তা কি আমাদের বর্ণনা করবেন না? তিনি জবাব দিলেন, আমি তাঁকে বলতে শুনেছি, যখন দাজ্জাল বের হবে তখন তার সঙ্গে পানি ও আগুন থাকবে। অতঃপর মানুষ যাকে আগুনের মত দেখবে তা হবে মূলতঃ ঠান্ডা পানি। আর যাকে ঠান্ডা পানির মত দেখবে, তা হবে আসলে দহনকারী অগ্নি। তখন তোমাদের মধ্যে যে তার দেখা পাবে, সে যেন অবশ্যই তাতে ঝাঁপিয়ে পড়ে যাকে সে আগুনের মত দেখতে পাবে। কেননা, আসলে তা সুস্বাদু শীতল পানি।
হুযায়ফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ হুযায়ফা (রাঃ) বলেন, আমি বলতে শুনেছি, তোমাদের পূর্ববর্তীদের মাঝে জনৈক ব্যক্তি ছিল। তার নিকট ফেরেশতা তার জান কব্য করার জন্য এসেছিলেন। তাকে জিজ্ঞেস করা হলো। তুমি কি কোন ভাল কাজ করেছ? সে জবাব দিল, আমার জানা নেই। তাকে বলা হলো, একটু চিন্তা করে দেখ। সে বলল, এ জিনিসটি ব্যতীত আমার আর কিছু জানা নেই যে, দুনিয়াতে আমি মানুষের সঙ্গে ব্যবসা করতাম। অর্থাৎ ঋণ দিতাম। আর তা আদায়ের জন্য তাদেরকে তাগাদা করতাম। আদায় না করতে পারলে আমি সচ্ছল লোককে সময় দিতাম আর অভাবী লোককে ক্ষমা করে দিতাম। তখন আল্লাহ তাকে জান্নাতে প্রবেশ করালেন।
হুযায়ফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ হুযায়ফা (রাঃ) বললেন, আমি আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে এটাও বলতে শুনেছি যে, কোন এক ব্যক্তির মৃত্যুর সময় হাযির হল। যখন সে জীবন হতে নিরাশ হয়ে গেল। তখন সে তার পরিজনকে ওসীয়াত করল, আমি যখন মরে যাব তখন আমার জন্য অনেকগুলো কাষ্ঠ একত্র করে তাতে আগুন জ্বালিয়ে দিও। আগুন যখন আমার গোশত খেয়ে ফেলবে এবং আমার হাড় পর্যন্ত পৌঁছে যাবে আর আমার হাড়গুলো বেরিয়ে আসবে, তখন তোমরা তা পিষে ফেলবে। অতঃপর যেদিন দেখবে খুব হাওয়া বইছে, তখন সেই ছাইগুলোকে উড়িয়ে দেব। তার স্বজনেরা তাই করল। অতঃপর আল্লাহ্ সে সব একত্র করলেন এবং তাকে জিজ্ঞেস করলেন, এ কাজ তুমি কেন করলে? সে জবাব দিল, আপনার ভয়ে। তখন আল্লাহ্ তাকে ক্ষমা করে দিলেন। উক্বাহ ইব্নু আম্র (রাঃ) বলেন, আমি আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি যে ঐ ব্যক্তি ছিল কাফন চোর।
On his death-bed Allah's Messenger (ﷺ) put a sheet over his-face and when he felt hot, he would remove it
from his face. When in that state (of putting and removing the sheet) he said, "May Allah's Curse be
on the Jews and the Christians for they build places of worship at the graves of their prophets." (By
that) he intended to warn (the Muslim) from what they (i.e. Jews and Christians) had done.
مجھ سے بشر بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا مجھ کو معمر اور یونس نے خبر دی ، ان سے زہری نے بیان کیا ، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نزع کی حالت طاری ہوئی تو آپ اپنی چادر چہرہ مبارک پر باربار ڈال لیتے پھر جب شدت بڑھتی تو اسے ہٹا دیتے تھے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں فرمایا تھا ، اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اس امت کو ان کے کئے سے ڈرانا چاہتے تھے ۔
‘আয়িশা ও ইব্নু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তারা উভয়ে বলেন, যখন আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর মৃত্যুর সময় উপস্থিত হল তখন তিনি স্বীয় মুখমণ্ডলের উপর তাঁর একখানা চাদর দিয়ে রাখলেন। অতঃপর যখন খারাপ লাগল, তখন তাঁর চেহারা হতে তা সরিয়ে দিলেন এবং তিনি এ অবস্থায়ই বললেন, ইয়াহূদী ও নাসারাদের ওপর আল্লাহ্র অভিশাপ। তারা তাদের নবীগণের কবরগুলোকে মসজিদ বানিয়ে নিয়েছে। তারা যা করেছে তা হতে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) মুসলিমদেরকে সতর্ক করছেন।
The Prophet (ﷺ) said, "The Israelis used to be ruled and guided by prophets: Whenever a prophet died,
another would take over his place. There will be no prophet after me, but there will be Caliphs who
will increase in number." The people asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you order us (to do)?" He
said, "Obey the one who will be given the pledge of allegiance first. Fulfil their (i.e. the Caliphs)
rights, for Allah will ask them about (any shortcoming) in ruling those Allah has put under their
guardianship."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے فرات قزار نے بیان کیا ، انہوں نے ابوحازم سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں پانچ سال تک بیٹھا ہوں ۔ میں نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتے سنا کہ آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کے انبیاء ان کی سیاسی رہنمائی بھی کیا کرتے تھے ، جب بھی ان کا کوئی نبی ہلاک ہو جاتا تو دوسرے ان کی جگہ آ موجود ہوتے ، لیکن یاد رکھو میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا ۔ ہاں میرے نائب ہوں گے اور بہت ہوں گے ۔ صحابہ نے عرض کیا کہ ان کے متعلق آپ کا ہمیں کیا حکم ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ سب سے پہلے جس سے بیعت کر لو ، بس اسی کی وفاداری پر قائم رہو اور ان کا جو حق ہے اس کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے قیامت کے دن ان کی رعایا کے بارے میں سوال کرے گا ۔
আবূ হাযিম (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি পাঁচ বছর যাবৎ আবূ হুরায়রা (রাঃ)-এর সাহচর্যে ছিলাম। তখন আমি তাঁকে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে হাদীস বর্ণনা করতে শুনেছি যে, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, বনী ইসরাঈলের নবীগণ তাঁদের উম্মতদের শাসন করতেন। যখন কোন একজন নবী মারা যেতেন, তখন অন্য একজন নবী তাঁর স্থলাভিসিক্ত হতেন। আর আমার পরে কোন নবী নেই। তবে অনেক খলীফাহ্ হবে। সাহাবগণ আরয করলেন, হে আল্লাহর রসূল! আপনি আমাদেরকে কী নির্দেশ করছেন? তিনি বললেন, তোমরা একের পর এক করে তাদের বায়’আতের হক আদায় করবে। তোমাদের উপর তাদের যে হক রয়েছে তা আদায় করবে। আর নিশ্চয়ই আল্লাহ্ তাঁদেরকে জিজ্ঞেস করবেন ঐ সকল বিষয়ে যে সবের দায়িত্ব তাদের উপর অর্পণ করা হয়েছিল।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 661
Hadith 3456
Chapter 50: What has been said about Bani Israel - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ". قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ " فَمَنْ ".
Narrated Abu Sa`id:
The Prophet (ﷺ) said, "You will follow the wrong ways, of your predecessors so completely and literally
that if they should go into the hole of a mastigure, you too will go there." We said, "O Allah's Messenger (ﷺ)!
Do you mean the Jews and the Christians?" He replied, "Whom else?" (Meaning, of course, the Jews
and the Christians.)
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوغسان نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے زید بن اسلم نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگ پہلی امتوں کے طریقوں کی قدم بقدم پیروی کرو گے یہاں تک کہ اگر وہ لوگ کسی ساہنہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تو تم بھی اس میں داخل ہو گے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ کی مراد پہلی امتوں سے یہود و نصاریٰ ہیں ؟ آپ نے فرمایا کون ہو سکتا ہے ؟
আবূ সা’ঈদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমরা অবশ্যই তোমাদের পূর্ববর্তীদের পন্থা পুরোপুরি অনুসরণ করবে, প্রতি বিঘতে বিঘতে এবং প্রতি গজে গজে। এমনকি তারা যদি গো সাপের গর্তেও ঢুকে তবে তোমরাও তাতে ঢুকবে। আমরা বললাম, হে আল্লাহর রাসূল! আপনি কি ইয়াহূদী ও নাসারার কথা বলছেন? নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, তবে আর কার কথা?
USC-MSA web (English) reference : Vol. 4, Book 55, Hadith 662
Hadith 3457
Chapter 50: What has been said about Bani Israel - كتاب أحاديث الأنبياء
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ، فَذَكَرُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى، فَأُمِرَ بِلاَلٌ أَنْ يَشْفَعَ الأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الإِقَامَةَ.
Narrated Anas:
The people mentioned the fire and the bell (as means proposed for announcing the time of prayer) and
by such a suggestion they referred to the Jews and the Christians. But Bilal was ordered, "Pronounce
the words of the Adhan (i.e. call for the prayer) twice and the Iqama once only."
ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
( نماز کے لیے اعلان کے طریقے پر بحث کرتے وقت ) صحابہ نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا ، لیکن بعض نے کہا کہ یہ تو یہود و نصاریٰ کا طریقہ ہے ۔ آخر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم ہوا کہ اذان میں ( کلمات ) دو دو دفعہ کہیں اور تکبیر میں ایک ایک دفعہ ۔
আনাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, তাঁরা আগুন জ্বালানো এবং ঘন্টা বাজানোর কথা উল্লেখ করলেন। তখনই তাঁরা ইয়াহূদী ও নাসারার কথা উল্লেখ করলেন। অতঃপর বিলাল (রাঃ)-কে আযানের শব্দগুলো দু’দু’ বার করে এবং ইকামাতের শব্দগুলো বেজোড় করে বলতে নির্দেশ দেয়া হল।
That she used to hate that one should keep his hands on his flanks while praying. She said that the Jew
used to do so.
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابوالضحیٰ نے بیان کیا ، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کوکھ پر ہاتھ رکھنے کو ناپسند کرتی تھیں اور فرماتی تھیں کہ اس طرح یہود کرتے ہیں ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি কোমরে হাত রাখাকে অপছন্দ করতেন। আর বলতেন, ইয়াহূদীরা এমন করে। শু’বা (রহঃ) আ’মাশ (রহঃ) হতে হাদীস বর্ণনায় সুফিয়ান (রহঃ)-এর অনুসরণ করেছেন।