Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 41

Agriculture

كتاب المزارعة

From Sahih al-Bukhari - showing 3 of 28 hadiths in this chapter

Hadith 2348
Chapter 20: Agriculture - كتاب المزارعة

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلاَلٌ، وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلاَلِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَوْمًا يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ‏ "‏ أَنَّ رَجُلاً مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ فَقَالَ لَهُ أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ‏.‏ قَالَ فَبَذَرَ فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ، فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، فَإِنَّهُ لاَ يُشْبِعُكَ شَىْءٌ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ الأَعْرَابِيُّ وَاللَّهِ لاَ تَجِدُهُ إِلاَّ قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا، فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ‏.‏ فَضَحِكَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Abu Huraira:

Once the Prophet (ﷺ) was narrating (a story), while a bedouin was sitting with him. "One of the inhabitants of Paradise will ask Allah to allow him to cultivate the land. Allah will ask him, 'Are you not living in the pleasures you like?' He will say, 'Yes, but I like to cultivate the land.' " The Prophet (ﷺ) added, "When the man (will be permitted he) will sow the seeds and the plants will grow up and get ripe, ready for reaping and so on till it will be as huge as mountains within a wink. Allah will then say to him, 'O son of Adam! Take here you are, gather (the yield); nothing satisfies you.' " On that, the bedouin said, "The man must be either from Quraish (i.e. an emigrant) or an Ansari, for they are farmers, whereas we are not farmers." The Prophet (ﷺ) smiled (at this).

ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا ، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا ، ( دوسری سند ) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا ، ان سے فلیح نے بیان کیا ، ان سے ہلال بن علی نے ، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیان فرما رہے تھے ایک دیہاتی بھی مجلس میں حاضر تھا کہ اہل جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کھیتی کرنے کی اجازت چاہے گا ۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا اپنی موجودہ حالت پر تو راضی نہیں ہے ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! لیکن میرا جی کھیتی کرنے کو چاہتا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس نے بیج ڈالا ۔ پلک جھپکنے میں وہ اگ بھی آیا ۔ پک بھی گیا اور کاٹ بھی لیا گیا ۔ اور اس کے دانے پہاڑوں کی طرح ہوئے ۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، اے ابن آدم ! اسے رکھ لے ، تجھے کوئی چیز آسودہ نہیں کر سکتی ۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ قسم خدا کی وہ تو کوئی قریشی یا انصاری ہی ہو گا ۔ کیونکہ یہی لوگ کھیتی کرنے والے ہیں ۔ ہم تو کھیتی ہی نہیں کرتے ۔ اس بات پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একদিন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কথা বলছিলেন, তখন তাঁর নিকট গ্রামের একজন লোক উপবিষ্ট ছিল। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বর্ণনা করেন যে, জান্নাতবাসীদের কোন একজন তার রবের কাছে চাষাবাদের অনুমতি চাইবে। তখন আল্লাহ তা’আলা তাকে বলবেন, তুমি কি যা চাও, তা পাচ্ছ না? সে বলবে, হ্যাঁ নিশ্চয়ই। কিন্তু আমার চাষ করার খুবই আগ্রহ। নবী (সা) বললেন, তখন সে বীজ বুনবে এবং তা চারা হওয়া, গাছ বড় হওয়া ও ফসল কাটা সব কিছু পলকের মধ্যে হয়ে যাবে। আর তা (ফসল) পাহাড় সমান হয়ে যাবে। তখন আল্লাহ তা’আলা বলবেন, হে আদম সন্তান! এগুলো নিয়ে নাও। কোন কিছুই তোমাকে তৃপ্তি দেয় না। তখন গ্রাম্য লোকটি বলে উঠল, আল্লাহর কসম, এই ধরনের লোক আপনি কুরাইশী বা আনসারদের মধ্যেই পাবেন। কেননা তাঁরা চাষী। আর আমরা তো চাষী নই। এ কথা শুনে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হেসে দিলেন।

In-book reference : Book 41, Hadith 26
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 39, Hadith 538
Hadith 2349
Chapter 21: What is said about planting trees - كتاب المزارعة

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ قَالَ إِنَّا كُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، كَانَتْ لَنَا عَجُوزٌ تَأْخُذُ مِنْ أُصُولِ سِلْقٍ لَنَا كُنَّا نَغْرِسُهُ فِي أَرْبِعَائِنَا فَتَجْعَلُهُ فِي قِدْرٍ لَهَا فَتَجْعَلُ فِيهِ حَبَّاتٍ مِنْ شَعِيرٍ لاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ لَيْسَ فِيهِ شَحْمٌ وَلاَ وَدَكٌ، فَإِذَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ زُرْنَاهَا فَقَرَّبَتْهُ، إِلَيْنَا فَكُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَمَا كُنَّا نَتَغَدَّى وَلاَ نَقِيلُ إِلاَّ بَعْدَ الْجُمُعَةَ‏.‏

Narrated Sahl bin Sa`d:

We used to be very happy on Friday as an old lady used to cut some roots of the Silq, which we used to plant on the banks of our small water streams, and cook them in a pot of her's, adding to them, some grains of barley. (Ya'qub, the sub-narrator said, "I think the narrator mentioned that the food did not contain fat or melted fat (taken from meat).") When we offered the Friday prayer we would go to her and she would serve us with the dish. So, we used to be happy on Fridays because of that. We used not to take our meals or the midday nap except after the Jumua prayer (i.e. Friday prayer).

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے ، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ

جمعہ کے دن ہمیں بہت خوشی ( اس بات کی ) ہوتی تھی کہ ہماری ایک بوڑھی عورت تھیں جو اس چقندر کو اکھاڑ لاتیں جسے ہم اپنے باغ کی مینڈوں پر بو دیا کرتے تھے ۔ وہ ان کو اپنی ہانڈی میں پکاتیں اور اس میں تھوڑے سے جَو بھی ڈال دیتیں ۔ ابوحازم نے کہا میں نہیں جانتا کہ سہل نے یوں کہا نہ اس میں چربی ہوتی نہ چکنائی ۔ پھر جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتے ۔ وہ اپنا پکوان ہمارے سامنے کر دیتیں ۔ اور اس لیے ہمیں جمعہ کے دن کی خوشی ہوتی تھی ۔ اور ہم دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے ۔

সাহ্‌ল ইবনু সা’দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, জুমু’আর দিন আসলে আমরা আনন্দিত হতাম এজন্য যে, আমাদের (প্রতিবেশী) এক বৃদ্ধা ছিলেন, তিনি আমাদের নালার ধারে লাগানো বীট গাছের মূল তুলে এনে তার ডেকচিতে রাখতেন এবং তার সাথে যবের দানাও মিশাতেন। (বর্ণনাকারী বলেন) আমার যতটুকু মনে পড়ে তিনি (সাহ্‌ল) বলেছেন যে, তাতে কোন চর্বি না তৈলাক্ত কিছু থাকত না। আমরা জুমু’আর সালাতের পর বৃদ্ধার নিকট আসতাম এবং তিনি তা আমাদের সামনে পরিবেশন করতেন। এ কারণে জুমু’আর দিন আমাদের খুব আনন্দ হত। আমরা জুমু’আর সালাতের পরই আহার করতাম এবং কায়লুলাহ (বিশ্রাম) করতাম।

In-book reference : Book 41, Hadith 27
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 39, Hadith 539
Hadith 2350
Chapter 21: What is said about planting trees - كتاب المزارعة

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ‏.‏ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ، وَيَقُولُونَ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ لاَ يُحَدِّثُونَ مِثْلَ أَحَادِيثِهِ وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الْمُهَاجِرِينَ كَانَ يَشْغَلُهُمُ الصَّفْقُ بِالأَسْوَاقِ، وَإِنَّ إِخْوَتِي مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ يَشْغَلُهُمْ عَمَلُ أَمْوَالِهِمْ، وَكُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى مِلْءِ بَطْنِي، فَأَحْضُرُ حِينَ يَغِيبُونَ وَأَعِي حِينَ يَنْسَوْنَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمًا ‏"‏ لَنْ يَبْسُطَ أَحَدٌ مِنْكُمْ ثَوْبَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي هَذِهِ، ثُمَّ يَجْمَعَهُ إِلَى صَدْرِهِ، فَيَنْسَى مِنْ مَقَالَتِي شَيْئًا أَبَدًا ‏"‏‏.‏ فَبَسَطْتُ نَمِرَةً لَيْسَ عَلَىَّ ثَوْبٌ غَيْرَهَا، حَتَّى قَضَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَقَالَتَهُ، ثُمَّ جَمَعْتُهَا إِلَى صَدْرِي، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ مَا نَسِيتُ مِنْ مَقَالَتِهِ تِلْكَ إِلَى يَوْمِي هَذَا، وَاللَّهِ لَوْلاَ آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُكُمْ شَيْئًا أَبَدًا ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏الرَّحِيمُ‏}‏

Narrated Abu Huraira:

The people say that Abu Huraira narrates too many narrations. In fact Allah knows whether I say the truth or not. They also ask, "Why do the emigrants and the Ansar not narrate as he does?" In fact, my emigrant brethren were busy trading in the markets, and my Ansar brethren were busy with their properties. I was a poor man keeping the company of Allah's Messenger (ﷺ) and was satisfied with what filled my stomach. So, I used to be present while they (i.e. the emigrants and the Ansar) were absent, and I used to remember while they forgot (the Hadith). One day the Prophet (ﷺ) said, "Whoever spreads his sheet till I finish this statement of mine and then gathers it on his chest, will never forget anything of my statement." So, I spread my covering sheet which was the only garment I had, till the Prophet (ﷺ) finished his statement and then I gathered it over my chest. By Him Who had sent him (i.e. Allah's Apostle) with the truth, since then I did not forget even a single word of that statement of his, until this day of mine. By Allah, but for two verses in Allah's Book, I would never have related any narration (from the Prophet). (These two verses are): "Verily! Those who conceal the clear signs and the guidance which we have sent down .....(up to) the Merciful.' (2.159-160)

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، آپ نے فرمایا کہ

لوگ کہتے ہیں ابوہریرہ بہت حدیث بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ مجھے بھی اللہ سے ملنا ہے ( میں غلط بیانی کیسے کر سکتا ہوں ) یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار آخر اس کی طرح کیوں احادیث بیان نہیں کرتے ؟ بات یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین بازاروں میں خریدوفروخت میں مشغول رہا کرتے اور میرے بھائی انصار کو ان کی جائیداد ( کھیت اور باغات وغیرہ ) مشغول رکھا کرتی تھی ۔ صرف میں ایک مسکین آدمی تھا ۔ پیٹ بھر لینے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ہی میں برابر حاضر رہا کرتا ۔ جب یہ سب حضرات غیرحاضر رہتے تو میں حاضر ہوتا ۔ اس لیے جن احادیث کو یہ یاد نہیں کر سکتے تھے ، میں انہیں یاد رکھتا تھا ، اور ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے کپڑے کو میری اس تقریر کے ختم ہونے تک پھیلائے رکھے پھر ( تقریر ختم ہونے پر ) اسے اپنے سینے سے لگا لے تو وہ میری احادیث کو کبھی نہیں بھولے گا ۔ میں نے اپنی کملی کو پھیلا دیا ۔ جس کے سوا میرا بدن پر اور کوئی کپڑا نہیں تھا ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تقریر ختم فرمائی تو میں نے وہ چادر اپنے سینے سے لگالی ۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا ، پھر آج تک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کی وجہ سے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں بھولا ) اللہ گواہ ہے کہ اگر قرآن کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کوئی حدیث کبھی بیان نہ کرتا آیت «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات‏» سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «الرحيم‏» تک ۔ ( جس میں ) اس دین کے چھپانے والے پر ، جسے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں بھیجا ہے ، سخت لعنت کی گئی ہے ۔

আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, লোকজন বলে যে, আবূ হুরায়রা বেশী হাদীস বর্ণনা করে থাকেন। প্রকৃতপক্ষে আল্লাহর কাছেই সবার প্রত্যাবর্তন। এবং তারা আরো বলে, মুহাজির ও আনসারদের কী হল যে, তারা আবূ হুরায়রার মতো এত হাদীস বর্ণনা করেন না। [আবূ হুরায়রা (রাঃ) বলেন,] আমার মুহাজির ভাইদেরকে বাজারে বেচা-কেনা এবং আনসার ভাইদেরকে তাদের ক্ষেত খামার ও বাগানের কাজ-কর্ম ব্যতিব্যস্ত রাখত। আমি ছিলাম একজন মিসকীন লোক। পেটে যা জুটে, খেয়ে না খেয়ে তাতেই তুষ্ট হয়ে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাছে পড়ে থাকতাম। তাই লোকেরা যখন অনুপস্থিত থাকত, আমি হাযির থাকতাম। লোকেরা যা ভুলে যেত, আমি তা স্মরণ রাখতাম। একদিন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, তোমাদের যে কেউ আমার কথা শেষ হওয়া পর্যন্ত তার চাদর বিছিয়ে রাখবে এবং আমার কথা শেষ হলে চাদরখানা তার বুকের সাথে মিলাবে, তাহলে সে আমার কথা কখনো ভুলবে না। আমি আমার পশমী চাদরটা নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কথা শেষ না হওয়া পর্যন্ত বিছিয়ে রাখলাম। সে চাদর ছাড়া আমার গায়ে আর কোন চাদর ছিল না। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কথা শেষ হওয়ার পর আমি তা আমার বুকের সাথে মিলালাম। সে সত্তার কসম! যিনি তাঁকে সত্য দিয়ে প্রেরণ করেছেন, আজ পর্যন্ত আমি তাঁর একটি কথাও ভুলিনি। আল্লাহর কসম! যদি আল্লাহর কিতাবের এ দু’টি আয়াত না থাকত, তবে আমি কখনো তোমাদের নিকট হাদীস বর্ণনা করতাম না। (তা এই) : “যারা আমার নাযিলকৃত নির্দশনসমূহ গোপন করে ......... আল্লাহ অত্যন্ত দয়ালু পর্যন্ত”- (আল-বাকারা ১৫৯-১৬০)।

In-book reference : Book 41, Hadith 28
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 39, Hadith 540
Page 2 of 2

Showing 3 hadiths on this page (Total: 28 hadiths in Sahih al-Bukhari)

First Previous Page 2 of 2
Ready to play
0:00 / 0:00