Chapter 15: The earnings of a person and his manual labour - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" أَنَّ دَاوُدَ ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ كَانَ لاَ يَأْكُلُ إِلاَّ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ ".
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The Prophet (ﷺ) David used not to eat except from the earnings of his manual
labor."
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام بن منبہ نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ
داؤد علیہ السلام صرف اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھایا کرتے تھے ۔
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 287
Hadith 2074
Chapter 15: The earnings of a person and his manual labour - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ، مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ حُزْمَةً عَلَى ظَهْرِهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ أَحَدًا، فَيُعْطِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ ".
Narrated Abu Huraira:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, it is
better for any one of you to cut a bundle of
wood and carry it over his back rather than to
ask someone who may or may not give
him."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام ابی عبید نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ شخص جو لکڑی کا گھٹا اپنی پیٹھ پر لاد کر لائے ، اس سے بہتر ہے جو کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے چاہئیے وہ اسے کچھ دیدے یا نہ دے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমাদের কারো পক্ষে এক বোঝা লাকড়ি সংগ্রহ করে পিঠে বহন করে নেয়া কারো নিকট চাওয়ার চেয়ে উত্তম। কেউ দিতেও পারে, নাও দিতে পারে।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 288
Hadith 2075
Chapter 15: The earnings of a person and his manual labour - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ أَحْبُلَهُ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ ".
Narrated Az-Zubair bin Al-Awwam:
The Prophet (ﷺ) said, "One would rather take a rope and cut wood and carry it than ask others).
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی اپنی رسیوں کو سنبھال لے اور ان میں لکڑی باندھ کر لائے تو وہ اس سے بہتر ہے جو لوگوں سے مانگتا ہے پھرتا ہے ۔
যুবাইর ইবনু আওয়াম (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমাদের কারো জন্য তার রশি নিয়ে কাঠ সংগ্রহ করতে বের হওয়া মানুষের নিকট তার ভিক্ষা করার চেয়ে উত্তম। আবূ নু’আঈম (রহঃ) বলেন, মুহাম্মাদ ইবনু সওয়াব ও ইবনু নুমাইর (রহঃ) হিশাম (রহঃ)-এর মাধ্যমে তার পিতা হতে হাদীসটি বর্ণনা করেছেন।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 289
Hadith 2076
Chapter 16: One should be lenient and generous in bargaining - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ، مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" رَحِمَ اللَّهُ رَجُلاً سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "May Allah's mercy be on him who is lenient in his buying, selling, and in
demanding back his money."
ہم سے علی بن عیاش نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابوغسان محمد بن مطرف نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے محمد بن منکدر نے بیان کیا ، اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر رحم کرے جو بیچتے وقت اور خریدتے وقت اور تقاضا کرتے وقت فیاضی اور نرمی سے کام لیتا ہے ۔
জাবির ইবনু ‘আবদুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, আল্লাহ এমন ব্যক্তির প্রতি রহমত বর্ষণ করেন যে নম্রতার সাথে ক্রয়-বিক্রয় করে ও পাওনা ফিরিয়ে চায়।
The Prophet (ﷺ) said, "Before your time the angels received the soul of a man and asked him, 'Did you do
any good deeds (in your life)?' He replied, 'I used to order my employees to grant time to the rich
person to pay his debts at his convenience.' So Allah said to the angels; "Excuse him." Rabi said that
(the dead man said), 'I used to be easy to the rich and grant time to the poor.' Or, in another narration,
'grant time to the well-off and forgive the needy,' or, 'accept from the well-off and forgive the needy.'
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے زہیر نے بیان کیا کہا کہ ہم سے منصور نے ، ان سے ربعی بن حراش نے بیان کیا اور ان سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم سے پہلے گذشتہ امتوں کے کسی شخص کی روح کے پاس ( موت کے وقت ) فرشتے آئے اور پوچھا کہ تو نے کچھ اچھے کام بھی کئے ہیں ؟ روح نے جواب دیا کہ میں اپنے نوکروں سے کہا کرتا تھا کہ وہ مالدار لوگوں کو ( جو ان کے مقروض ہوں ) مہت دے دیا کریں اور ان پر سختی نہ کریں ۔ اور محتاجوں کو معاف کر دیا کریں ۔ روای نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پھر فرشتوں نے بھی اس سے درگزر کیا اور سختی نہیں کی اور ابومالک نے ربعی سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے ہیں ” کھاتے کماتے کے ساتھ ( اپنا حق لیتے وقت ) نرم معاملہ کرتا تھا اور تنگ حال مقروض کو مہلت دیتا تھا ۔ اس کی متابعت شعبہ نے کی ہے ۔ ان سے عبدالملک نے اور ان سے ربعی نے بیان کیا ، ابوعوانہ نے کہا کہ ان سے عبدالملک نے ربعی سے بیان کیا کہ ( اس روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے کو مہلت دے دیتا تھا اور تنگ حال والے مقروض سے درگزر کرتا تھا اور نعیم بن ابی ہند نے بیان کیا ، ان سے ربعی نے ( کہ روح نے یہ الفاظ کہے تھے ) میں کھاتے کماتے لوگوں کے ( جن پر میرا کوئی حق واجب ہوتا ) عذر قبول کر لیا کرتا تھا اور تنگ حال والے سے درگزر کر دیتا تھا ۔
হুযাইফাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, তোমাদের পূর্ববর্তীদের মধ্যে এক ব্যক্তির রুহের সাথে ফেরেশতা সাক্ষাৎ করে জিজ্ঞেস করলেন, তুমি কি কোন নেক কাজ করেছ? লোকটি উত্তর দিল, আমি আমার কর্মচারীদের আদেশ করতাম যে, তারা যেন সচ্ছল ব্যক্তিকে অবকাশ দেয় এবং তার উপর পীড়াপীড়ি না করে। রাবী বলেন, তিনি বলেছেন, ফেরেশতারাও তাঁকে ক্ষমা করে দেন।
আবূ মালিক (রহঃ) রিব্ঈ হিরাশ (রহঃ) সূত্রে বর্ণনা করেন, আমি সচ্ছল ব্যক্তির জন্য সহজ করতাম এবং অভাবগ্রস্তকে অবকাশ দিতাম। শু’বাহ্ (রহঃ) আবদুল মালিক (রহঃ) হতে অনুরূপ বর্ণনা করেন। আবূ আওয়ানাহ (রহঃ) আবদুল মালিক (রহঃ) সূত্রে বর্ণনা করেন, আমি সচ্ছলকে অবকাশ দিতাম এবং অভাবগ্রস্তকে মাফ করে দিতাম এবং নু’আইম ইবনু আবূ হিন্দ (রহঃ) রিব্ঈ (রহঃ) সূত্রে বলেন, আমি সচ্ছল ব্যক্তি হতে গ্রহণ করতাম এবং অভাবগ্রস্তকে ক্ষমা করে দিতাম।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 291
Hadith 2078
Chapter 18: A person in hard circumstances to pay debt (when able to repay) - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا الزُّبَيْدِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" كَانَ تَاجِرٌ يُدَايِنُ النَّاسَ، فَإِذَا رَأَى مُعْسِرًا قَالَ لِفِتْيَانِهِ تَجَاوَزُوا عَنْهُ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَتَجَاوَزَ عَنَّا، فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُ ".
Narrated Abu Huraira:
The Prophet (ﷺ) said, "There was a merchant who used to lend the people, and whenever his debtor was in
straitened circumstances, he would say to his employees, 'Forgive him so that Allah may forgive us.'
So, Allah forgave him."
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ولید زبیدی نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک تاجر لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا جب کسی تنگ دست کو دیکھتا تو اپنے نوکروں سے کہہ دیتا کہ اس سے درگزر کر جاؤ ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ بھی ہم سے ( آخرت میں ) درگزر فرمائے ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ( اس کے مرنے کے بعد ) اس کو بخش دیا ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) সূত্রে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, জনৈক ব্যবসায়ী লোকদের ঋণ দিত। কোন অভাবগ্রস্তকে দেখলে সে তার কর্মচারীদের বলত, তাকে ক্ষমা করে দাও, হয়তো আল্লাহ্ তা’আলা আমাদের ক্ষমা করে দিবেন। এর ফলে আল্লাহ্ তা’আলা তাকে ক্ষমা করে দেন।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 292
Hadith 2079
Chapter 19: To explain the good and bad points of the transaction - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، رَفَعَهُ إِلَى حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ـ أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ـ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ".
Narrated Hakim bin Hizam:
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The seller and the buyer have the right to keep or return goods as long as they
have not parted or till they part; and if both the parties spoke the truth and described the defects and
qualities (of the goods), then they would be blessed in their transaction, and if they told lies or hid
something, then the blessings of their transaction would be lost."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ان سے صالح ابوخلیل نے ، ان سے عبیداللہ بن حارث نے ، انہوں نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خریدنے اور بیچنے والوں کو اس وقت تک اختیار ( بیع ختم کر دینے کا ) ہے جب تک دونوں جدا نہ ہوں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا ۔ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مزید ارشاد فرمایا ) پس اگر دونوں نے سچائی سے کام لیا اور ہر بات صاف صاف کھول دی تو ان کی خریدوفروخت میں برکت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی بات چھپا رکھی یا جھوٹ کہی تو ان کی برکت ختم کر دی جاتی ہے ۔
হাকীম ইবনু হিযাম (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, ক্রেতা-বিক্রেতা যতক্ষণ পরস্পর বিচ্ছিন্ন না হয়, ততক্ষণ তাদের ইখতিয়ার থাকবে (ক্রয়-বিক্রয় সম্পন্ন করা বা বাতিল করা)। যদি তারা সত্য বলে এবং অবস্থা ব্যক্ত করে তবে তাদের ক্রয়-বিক্রয়ে বরকত হবে আর যদি মিথ্যা বলে এবং দোষ গোপন করে তবে তাদের ক্রয়-বিক্রয়ের বরকত মুছে ফেলা হয়।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 293
Hadith 2080
Chapter 20: Selling of mixed dates - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا نُرْزَقُ تَمْرَ الْجَمْعِ، وَهْوَ الْخِلْطُ مِنَ التَّمْرِ، وَكُنَّا نَبِيعُ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم
" لاَ صَاعَيْنِ بِصَاعٍ، وَلاَ دِرْهَمَيْنِ بِدِرْهَمٍ ".
Narrated Abu Sa`id:
We used to be given mixed dates (from the booty) and used to sell (barter) two Sas of those dates) for
one Sa (of good dates). The Prophet (ﷺ) said (to us), "No (bartering of) two Sas for one Sa nor two
Dirhams for one Dirham is permissible", (as that is a kind of usury). (See Hadith No. 405).
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے ، ان سے ابوسلمہ نے ، ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہمیں ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ) مختلف قسم کی کھجوریں ایک ساتھ ملا کرتی تھیں اور ہم دو صاع کھجور ایک صاع کے بدلے میں بیچ دیا کرتے تھے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو صاع ایک صاع کے بدلہ میں نہ بیچی جائے اور نہ دو درہم ایک درہم کے بدلے بیچے جائیں ۔
আবূ সা’ঈদ খুদরী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমাদের মিশ্রিত খেজুর দেয়া হতো, আমরা তা দু’ সা’-এর পরিবর্তে এক সা’ বিক্রি করতাম। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, এক সা’-এর পরিবর্তে দু’সা’ এবং এক দিরহামের পরিবর্তে দু’দিরহাম বিক্রি করবে না।
An Ansari man, called Abu Shu'aib, came and told his butcher slave, "Prepare meals sufficient for five
persons, for I want to invite the Prophet (ﷺ) along with four other persons as I saw signs of hunger on his
face." Abu Shu'aib invited them and another person came along with them. The Prophet (ﷺ) said (to Abu
Shu'aib), This man followed us, so if you allow him, he will join us, and if you want him to return, he
will go back." Abu Shu'aib said, "No, I have allowed him (i.e. he, too, is welcomed to the meal).
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا ، کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے شقیق نے بیان کیا ، اور ان سے ابومسعود رضی اللہ عنہ نے کہ
انصار میں سے ایک صحابی جن کی کنیت ابوشعیب رضی اللہ عنہ تھی ، تشریف لائے اور اپنے غلام سے جو قصاب تھا ۔ فرمایا کہ میرے لیے اتنا کھانا تیار کر جو پانچ آدمی کے لیے کافی ہو ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اور آپ کے ساتھ اور چار آدمیوں کی دعوت کا ارادہ کیا ، کیونکہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر بھوک کا اثر نمایاں دیکھا ہے ۔ چنانچہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک اور صاحب بھی آ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ساتھ ایک اور صاحب زائد آ گئے ہیں ۔ مگر آپ چاہیں تو انہیں بھی اجازت دے سکتے ہیں ، اور اگر چاہیں تو واپس کر سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نہیں ، بلکہ میں انہیں بھی اجازت دیتا ہوں ۔
আবূ মাস’ঊদ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি, আবূ শু’আইব নামক জনৈক আনসারী এসে তার কসাই গোলামকে বললেন, পাঁচ জনের উপযোগী খাবার তৈরি করো। আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- সহ পাঁচজনকে দাওয়াত করতে যাই। তাঁর চেহারায় আমি ক্ষুধার চিহ্ন দেখতে পেয়েছি। তারপর সে লোক এসে দাওয়াত দিলেন। তাদের সঙ্গে আরেকজন অতিরিক্ত এলেন। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, এ আমাদের সঙ্গে এসেছে, তুমি ইচ্ছা করলে একে অনুমতি দিতে পার আর তুমি যদি চাও সে ফিরে যাক, তবে সে ফিরে যাবে। সাহাবী বললেন, না, বরং আমি তাকে অনুমতি দিলাম।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 295
Hadith 2082
Chapter 22: The loss (of blessings) if one tells lies or hides the facts in a deal - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْخَلِيلِ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا ـ أَوْ قَالَ حَتَّى يَتَفَرَّقَا ـ فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِي بَيْعِهِمَا، وَإِنْ كَتَمَا وَكَذَبَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ".
Narrated Hakim bin Hizam:
The Prophet (ﷺ) aid, "The buyer and the seller have the option to cancel or to confirm the deal, as long as
they have not parted or till they part, and if they spoke the truth and told each other the defects of the
things, then blessings would be in their deal, and if they hid something and told lies, the blessing of
the deal would be lost."
ہم سے بدل بن محبر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے قتادہ نے ، کہا کہ میں نے ابوخلیل سے سنا ، وہ عبداللہ بن حارث سے نقل کرتے تھے اور وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، خریدوفروخت کرنے والوں کو اختیار ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں ( کہ بیع فسخ کر دیں یا رکھیں ) یا آپ نے ( «ما لم يتفرقا» کے بجائے ) «حتى يتفرقا» فرمایا ۔ پس اگر دونوں نے سچائی اختیار کی اور ہر بات کھول کھول کر بیان کی تو ان کی خریدوفروخت میں برکت ہو گی اور اگر انہوں نے کچھ چھپائے رکھا یا جھوٹ بولا تو ان کے خریدوفروخت کی برکت ختم کر دی جائے گی ۔
হাকীম ইব্নু হিযাম (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, যতক্ষণ বিচ্ছিন্ন না হবে ততক্ষণ ক্রেতা-বিক্রেতার ইখতিয়ার থাকবে। যদি তারা সত্য বলে ও যথাযথ অবস্থা বর্ণনা করে তবে তাদের ক্রয়-বিক্রয়ে বরকত হবে, আর যদি পণ্যের প্রকৃত অবস্থা গোপন করে ও মিথ্যা বলে তবে ক্রয়-বিক্রয়ের বরকত চলে যাবে।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 296
Hadith 2083
Chapter 23: The Statement of Allah Ta'ala: "... Eat not Riba doubled and multiplied." - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لاَ يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ، أَمِنْ حَلاَلٍ أَمْ مِنْ حَرَامٍ ".
Narrated Abu Hurairah (ra):
The Prophet (ﷺ) said "Certainly a time will come when people will not bother to know from where they earned the money, by lawful means or unlawful means." (See Hadith no. 2050)
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے بیان کیا ، اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ انسان اس کی پرواہ نہیں کرے گا کہ مال اس نے کہاں سے لیا ، حلال طریقہ سے یا حرام طریقہ سے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, মানুষের উপর এমন এক যুগ অবশ্যই আসবে যখন মানুষ পরোয়া করবে না যে কিভাবে সে মাল অর্জন করল হালাল উপায়ে না হারাম উপায়ে।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 296
Hadith 2084
Chapter 24: The sin of Riba, its witness and its writer - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ آخِرُ الْبَقَرَةِ قَرَأَهُنَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَيْهِمْ فِي الْمَسْجِدِ، ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ.
Narrated Aisha:
When the last Verses of Surat al- Baqara were revealed, the Prophet (ﷺ) recited them in the mosque and
proclaimed the trade of alcohol as illegal.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جب ( سورۃ ) بقرہ کی آخری آیتیں «الذين يأكلون الربا *** الخ» نازل ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں صحابہ رضی اللہ عنہم کو مسجد میں پڑھ کر سنایا ۔ اس کے بعد ان پر شراب کی تجارت حرام کر دیا ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, যখন সূরা আল-বাকারার শেষ আয়াতগুলো নাযিল হল, তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তা মসজিদে পড়ে শোনালেন। তারপর মদের ব্যবসা হারাম বলে ঘোষণা করেন।
The Prophet (ﷺ) said, "This night I dreamt that two men came and took me to a Holy land whence we
proceeded on till we reached a river of blood, where a man was standing, and on its bank was standing
another man with stones in his hands. The man in the middle of the river tried to come out, but the
other threw a stone in his mouth and forced him to go back to his original place. So, whenever he tried
to come out, the other man would throw a stone in his mouth and force him to go back to his former
place. I asked, 'Who is this?' I was told, 'The person in the river was a Riba-eater."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے جریر بن حازم نے ، کہا کہ ہم سے ابورجاء بصریٰ نے بیان کیا ، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رات ( خواب میں ) میں نے دو آدمی دیکھے ، وہ دونوں میرے پاس آئے اور مجھے بیت المقدس میں لے گئے ، پھر ہم سب وہاں سے چلے یہاں تک کہ ہم ایک خون کی نہر پر آئے ، وہاں ( نہر کے کنارے ) ایک شخص کھڑا ہوا تھا ، اورنہر کے بیچ میں بھی ایک شخص کھڑا تھا ۔ ( نہر کے کنارے پر ) کھڑے ہونے والے کے سامنے پتھر پڑے ہوئے تھے ۔ بیچ نہر والا آدمی آتا اور جونہی وہ چاہتا کہ باہر نکل جائے فوراً ہی باہر والا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ کر مارتا جو اسے وہیں لوٹا دیتا تھا جہاں وہ پہلے تھا ۔ اسی طرح جب بھی وہ نکلنا چاہتا کنارے پر کھڑا ہوا شخص اس کے منہ پر پتھر کھینچ مارتا اور وہ جہاں تھا وہیں پھر لوٹ جاتا ۔ میں نے ( اپنے ساتھیوں سے جو فرشتے تھے ) پوچھا کہ یہ کیا ہے ، تو انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ نہر میں تم نے جس شخص کو دیکھا وہ سود کھانے والا انسان ہے ۔
সামুরাহ ইবনু জুনদুব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বলেছেন, আজ রাত্রে আমি স্বপ্নে দেখেছি যে, দু’ব্যক্তি আমার নিকট আগমন করে আমাকে এক পবিত্র ভূমিতে নিয়ে গেল। আমরা চলতে চলতে এক রক্তের নদীর কাছে পৌঁছলাম। নদীর মধ্যস্থলে এক ব্যক্তি দাঁড়িয়ে আছে এবং আরেক ব্যক্তি নদীর তীরে, তার সামনে পাথর পড়ে রয়েছে। নদীর মাঝখানে লোকটি যখন বের হয়ে আসতে চায় তখন তীরের লোকটি তার মুখে পাথর খণ্ড নিক্ষেপ করে তাকে স্বস্থানে ফিরিয়ে দিচ্ছে। এভাবে যতবার সে বেরিয়ে আসতে চায় ততবারই তার মুখে পাথর নিক্ষেপ করছে আর সে স্বস্থানে ফিরে যাচ্ছে। আমি জিজ্ঞেস করলাম, এ কে? সে বলল, যাকে আপনি (রক্তের) নদীতে দেখেছেন, সে হল সুদখোর।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 298
Hadith 2086
Chapter 25: The Riba-giver - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ رَأَيْتُ أَبِي اشْتَرَى عَبْدًا حَجَّامًا، فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ نَهَى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ، وَثَمَنِ الدَّمِ، وَنَهَى عَنِ الْوَاشِمَةِ وَالْمَوْشُومَةِ، وَآكِلِ الرِّبَا، وَمُوكِلِهِ، وَلَعَنَ الْمُصَوِّرَ.
Narrated `Aun bin Abu Juhaifa:
My father bought a slave who practiced the profession of cupping. (My father broke the slave's
instruments of cupping). I asked my father why he had done so. He replied, "The Prophet (ﷺ) forbade the
acceptance of the price of a dog or blood, and also forbade the profession of tattooing, getting tattooed
and receiving or giving Riba, (usury), and cursed the picture-makers."
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عون بن ابی جحیفہ نے بیان کیا کہ
میں نے اپنے والد کو ایک پچھنا لگانے والا غلام خریدتے دیکھا ۔ میں نے یہ دیکھ کر ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کی قیمت لینے اور خون کی قیمت لینے سے منع فرمایا ہے ، آپ نے گودنے والی اور گدوانے والی کو ( گودنا لگوانے سے ) سود لینے والے اور سود دینے والے کو ( سود لینے یا دینے سے ) منع فرمایا اور تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجی ۔
আওন ইব্নু আবূ জুহাইফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমার পিতাকে দেখেছি, তিনি এক গোলাম খরিদ করেন যে শিঙ্গা লাগানোর কাজ করত। তিনি তাঁর শিঙ্গার যন্ত্রপাতি সম্পর্কে নির্দেশ দিলেন এবং তা ভেঙ্গে ফেলা হল। আমি এ ব্যাপারে তাঁকে জিজ্ঞেস করলে তিনি বললেন, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কুকুরের মূল্য এবং রক্তের মূল্য গ্রহণ করতে নিষেধ করেছেন [৪], আর দেহে দাগ দেয়া ও নেয়া হতে নিষেধ করেছেন। সুদ খাওয়া ও খাওয়ানো নিষেধ করেছেন আর ছবি অঙ্কনকারীর উপর লা’নত করেছেন।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 299
Hadith 2087
Chapter 26: "Allah will destroy Riba and will give increase for Sadaqat" - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ
" الْحَلِفُ مُنَفِّقَةٌ لِلسِّلْعَةِ مُمْحِقَةٌ لِلْبَرَكَةِ ".
Narrated Abu Huraira:
I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "The swearing (by the seller) may persuade the buyer to purchase the
goods but that will be deprived of Allah's blessing."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یونس نے ، ان سے ابن شہاب نے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ( سامان بیچتے وقت دکاندار کے ) قسم کھانے سے سامان تو جلدی بک جاتا ہے لیکن وہ قسم برکت کو مٹا دینے والی ہوتی ہے ۔
আবূ হুরায়রা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে বলতে শুনেছি, মিথ্যা কসম পণ্য চালু করে দেয় বটে, কিন্তু বরকত নিশ্চিহ্ন করে দেয়।
A man displayed some goods in the market and swore by Allah that he had been offered so much for
that, that which was not offered, and he said so, so as to cheat a Muslim. On that occasion the
following Verse was revealed: "Verily! Those who purchase a small gain at the cost of Allah's
covenant and their oaths (They shall have no portion in the Hereafter ..etc.)' (3.77)
ہم سے عمرو بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو عوام بن حوشب نے خبر دی ، انہیں ابراہیم بن عبدالرحمٰن نے اور انہیں عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہ
بازار میں ایک شخص نے ایک سامان دکھا کر قسم کھائی کہ اس کی اتنی قیمت لگ چکی ہے ۔ حالانکہ اس کی اتنی قیمت نہیں لگی تھی اس قسم سے اس کا مقصد ایک مسلمان کو دھوکہ دینا تھا ۔ اس پر یہ آیت اتری «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ” جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت کے بدلہ میں بیچتے ہیں ۔ “
‘আবদুল্লাহ ইবনু আবূ ‘আওফা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ এক ব্যক্তি বাজারে পণ্য আমদানী করে আল্লাহর নামে কসম খেল যে, এর এত দাম বলা হয়েছে; কিন্তু প্রকৃতপক্ষে তা কেউ বলেনি। এতে তার উদ্দেশ্য সে যেন কোন মুসলিমকে পণ্যের ব্যাপারে ধোঁকায় ফেলতে পারে। এ প্রসঙ্গে আয়াত অবতীর্ণ হয়, “যারা আল্লাহর সঙ্গে কৃত প্রতিশ্রুতি এবং নিজেদের শপথকে তুচ্ছ মূল্যে বিক্রি করে”- (আল-‘ইমরান ৭৭)।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 301
Hadith 2089
Chapter 28: What is said about the goldsmiths - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، أَنَّ حُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيًّا ـ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ـ قَالَ كَانَتْ لِي شَارِفٌ مِنْ نَصِيبِي مِنَ الْمَغْنَمِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَانِي شَارِفًا مِنَ الْخُمْسِ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَبْتَنِيَ بِفَاطِمَةَ ـ عَلَيْهَا السَّلاَمُ ـ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَاعَدْتُ رَجُلاً صَوَّاغًا مِنْ بَنِي قَيْنُقَاعَ أَنْ يَرْتَحِلَ مَعِي فَنَأْتِيَ بِإِذْخِرٍ أَرَدْتُ أَنْ أَبِيعَهُ مِنَ الصَّوَّاغِينَ، وَأَسْتَعِينَ بِهِ فِي وَلِيمَةِ عُرُسِي.
Narrated `Ali:
I got an old she-camel as my share from the booty, and the Prophet (ﷺ) had given me another from Al-
Khumus. And when I intended to marry Fatima (daughter of the Prophet), I arranged that a goldsmith
from the tribe of Bani Qainuqa' would accompany me in order to bring Idhkhir and then sell it to the
goldsmiths and use its price for my marriage banquet.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہمیں یونس نے خبر دی ، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن شہاب نے ، انہوں نے کہا کہ ہمیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی ، انہیں حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ
غنیمت کے مال میں سے میرے حصے میں ایک اونٹ آیا تھا اور ایک دوسرا اونٹ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” خمس “ میں سے دیا تھا ۔ پھر جب میرا ارادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کرا کے لانے کا ہوا تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے طے کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر گھاس ( جمع کر کے ) لائیں کیونکہ میرا ارادہ تھا کہ اسے سناروں کے ہاتھ بیچ کر اپنی شادمی کے ولیمہ میں اس کی قیمت کو لگاؤں ۔
হুসাইন ইবনু ‘আলী (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বর্ণনা করেন, ‘আলী (রাঃ) বলেছেন, (বদর যুদ্ধের) গনীমতের মাল হতে আমার অংশের একটি উটনী ছিল এবং নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তাঁর খুমুস্ হতে একটি উটনী আমাকে দান করলেন। যখন আমি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কন্যা ফাতিমা (রাঃ) এর সঙ্গে বাসর রাত যাপনের ইচ্ছা করলাম সে সময় আমি কায়নুকা গোত্রের একজন স্বর্ণকারের সাথে এই চুক্তি করেছিলাম যে, সে আমার সঙ্গে (জঙ্গলে) যাবে এবং ইযখির ঘাস বহন করে আনবে এবং তা স্বর্ণকারদের নিকট বিক্রি করে তার মূল্য দ্বারা আমার বিবাহের ওয়ালীমার ব্যবস্থা করব।
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah made Mecca a sanctuary and it was neither permitted for anyone before,
nor will it be permitted for anyone after me (to fight in it). And fighting in it was made legal for me
for a few hours of a day only. None is allowed to uproot its thorny shrubs or to cut down its trees or to
chase its game or to pick up its Luqata (fallen things) except by a person who would announce it
publicly." `Abbas bin `Abdul-Muttalib requested the Prophet, "Except Al-Idhkhir, for our goldsmiths
and for the roofs of our houses." The Prophet (ﷺ) said, "Except Al-Idhkhir." `Ikrima said, "Do you know
what is meant by chasing its game? It is to drive it out of the shade and sit in its place." Khalid said,
"(`Abbas said: Al-Idhkhir) for our goldsmiths and our graves."
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد بن عبداللہ نے بیان کیا ، ، ان سے خالد نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرمت ولا شہر قرار دیا ہے ۔ یہ نہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال تھا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا ۔ میرے لیے بھی ایک دن چند لمحات کے لیے حلال ہوا تھا ۔ سو اب اس کی نہ گھاس کاٹی جائے ، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں ، نہ اس کے شکار بھگائے جائیں ، اور نہ اس میں کوئی گری ہوئی چیز اٹھائی جائے ۔ صرف «معرف» ( یعنی گمشدہ چیز کو اصل مالک تک اعلان کے ذریعہ پہنچانے والے ) کو اس کی اجازت ہے ۔ عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اذخر کے لیے اجازت دے دیجئیے ، کہ یہ ہمارے سناروں اور ہمارے گھروں کی چھتوں کے کام میں آتی ہے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذخر کی اجازت دے دی ۔ عکرمہ نے کہا ، یہ بھی معلوم ہے کہ حرم کے شکار کو بھگانے کا مطلب کیا ہے ؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ( کسی درخت کے سائے تلے اگر وہ بیٹھا ہوا ہو تو ) تم سائے سے اسے ہٹا کر خود وہاں بیٹھ جاؤ ۔ عبدالوہاب نے خالد سے ( اپنی روایت میں یہ الفاظ ) بیان کئے کہ ( اذخر ) ہمارے سناروں اور ہماری قبروں کے کام میں آتی ہے ۔
ইবনু ‘আব্বাস (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ রসূলুল্লাহ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) (মক্কা বিজয়ের দিন) বলেন, আল্লাহ্ তা’আলা মক্কায় (রক্তপাত) হারাম করে দিয়েছেন। আমার আগেও কারো জন্য মক্কা হালাল করা হয়নি এবং আমার পরেও কারো জন্য হালাল করা হবে না। আমার জন্য শুধুমাত্র দিনের কিছু অংশে মক্কায় (রক্তপাত) হালাল হয়েছিল [৫]। মক্কার কোন ঘাস কাটা যাবে না, কোন গাছ কাটা যাবে না। কোন শিকারকে তাড়ানো যাবে না। ঘোষণাকারী ব্যতিত কেউ মক্কার জমিনে পড়ে থাকা মাল উঠাতে পারবে না। ‘আব্বাস ইবনু ‘আবদুল মুত্তালিব (রাঃ) বললেন, কিন্তু ইযখির ঘাস, যা আমাদের স্বর্ণকারদের ও আমাদের ঘরের ছাদের জন্য ব্যবহৃত তা ব্যতীত। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, ইযখির ঘাস ব্যতিত। রাবী ইকরাম (রহঃ) বলেন, তুমি জানো শিকার তাড়ানোর অর্থ কী? তা হল, ছায়ায় অবস্থিত শিকারকে তাড়িয়ে তার স্থানে নিজে বসা। ‘আবদুল ওয়াহহাব (রহঃ) সূত্রে বলেছেন, আমাদের স্বর্ণকারদের জন্য ও আমাদের কবরের জন্য।
I was a blacksmith in the Pre-Islamic period, and 'Asi bin Wail owed me some money, so I went to
him to demand it. He said (to me), "I will not pay you unless you disbelieve Muhammad." I said, "I
will not disbelieve till Allah kills you and then you get resurrected." He said, "Leave me till I die and
get resurrected, then I will be given wealth and children and I will pay you your debt." On that
occasion it was revealed to the Prophet:
'Have you seen him who disbelieved in Our signs and says: Surely I will be given wealth and
children? Has he known the unseen, or has he taken a covenant from the Beneficent (Allah)? (19.77-
78)
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے سلیمان نے ، ان سے ابوالضحیٰ نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ
جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا ۔ عاص بن وائل ( کافر ) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا ۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا ۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے ، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے ، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں ، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا ۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» ” کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا ( آخرت میں ) مجھے مال اور دولت دی جائے گی ، کیا اسے غیب کی خبر ہے ؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے ۔ “
খাব্বাব (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, জাহিলীয়্যাতের যুগে আমি কর্মকারের পেশায় ছিলাম। ‘আস ইবনু ওয়াইলের কাছে কিছু পাওনা ছিল আমি তার কাছে তাগাদা করতে গেলে সে বলল, যতক্ষণ তুমি মুহাম্মাদ (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে অস্বীকার না করবে ততক্ষণ আমি তোমাকে তোমার পাওনা দিব না। আমি বললাম, আল্লাহ্ তোমাকে মৃত্যু দিয়ে তারপর তোমাকে পুনরুত্থিত করা পর্যন্ত আমি তাঁকে অস্বীকার করব না। সে বলল, আমি মরে পুনরুত্থিত হওয়া পর্যন্ত আমাকে অব্যাহতি দাও। শীগ্গীরই আমাকে সম্পদ ও সন্তান দেয়া হবে, তখন আমি তোমার পাওনা পরিশোধ করব। এ প্রসঙ্গে এ আয়াত নাযিল হলঃ “তুমি কি লক্ষ্য করেছ তাকে, যে আমার আয়াতসমূহ প্রত্যাখ্যান করে এবং বলে আমাকে ধন-সম্পদ ও সন্তান-সন্ততি দেয়া হবেই”- (মারইয়াম ৭৭-৭৮)।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 304
Hadith 2092
Chapter 30: The mentioning of the tailor - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقَرَّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خُبْزًا وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَىِ الْقَصْعَةِ ـ قَالَ ـ فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ مِنْ يَوْمِئِذٍ.
Narrated 'Is-haq bin `Abdullah bin Abu Talha:
I heard Anas bin Malik saying, "A tailor invited Allah's Messenger (ﷺ) to a meal which he had prepared. "
Anas bin Malik said, "I accompanied Allah's Messenger (ﷺ) to that meal. He served the Prophet (ﷺ) with bread
and soup made with gourd and dried meat. I saw the Prophet (ﷺ) taking the pieces of gourd from the
dish." Anas added, "Since that day I have continued to like gourd."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے خبر دی ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ
ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا ۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا میں بھی اس دعوت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا ۔ اس درزی نے روٹی اور شوربا جس میں کدو اور بھنا ہوا گوشت تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا ۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کدو کے قتلے پیالے میں تلاش کر رہے تھے ۔ اسی دن سے میں بھی برابر کدو کو پسند کرتا ہوں ۔
আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, এক দরজী খাবার তৈরী করে আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে দাওয়াত করলেন। আনাস ইবনু মালিক (রাঃ) বলেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর সামনে রুটি এবং ঝোল যাতে লাউ ও গোশতের টুকরা ছিল, পেশ করলেন। আমি নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-কে দেখতে পেলাম যে, পেয়ালার কিনারা হতে তিনি লাউয়ের টুকরা খোঁজ করে নিচ্ছেন। সেদিন হতে আমি সব সময় লাউ ভালবাসতে থাকি।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 305
Hadith 2093
Chapter 31: The weaver - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِبُرْدَةٍ ـ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْبُرْدَةُ فَقِيلَ لَهُ نَعَمْ، هِيَ الشَّمْلَةُ، مَنْسُوجٌ فِي حَاشِيَتِهَا ـ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي نَسَجْتُ هَذِهِ بِيَدِي أَكْسُوكَهَا. فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مُحْتَاجًا إِلَيْهَا. فَخَرَجَ إِلَيْنَا وَإِنَّهَا إِزَارُهُ. فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، اكْسُنِيهَا، فَقَالَ
" نَعَمْ ". فَجَلَسَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي الْمَجْلِسِ، ثُمَّ رَجَعَ فَطَوَاهَا، ثُمَّ أَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ. فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ مَا أَحْسَنْتَ، سَأَلْتَهَا إِيَّاهُ، لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهُ لاَ يَرُدُّ سَائِلاً. فَقَالَ الرَّجُلُ وَاللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلاَّ لِتَكُونَ كَفَنِي يَوْمَ أَمُوتُ. قَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ كَفَنَهُ.
Narrated Abu Hazim:
I heard Sahl bin Sa`d saying, "A woman brought a Burda (i.e. a square piece of cloth having edging). I
asked, 'Do you know what a Burda is?' They replied in the affirmative and said, "It is a cloth sheet
with woven margins." Sahl went on, "She addressed the Prophet (ﷺ) and said, 'I have woven it with my
hands for you to wear.' The Prophet (ﷺ) took it as he was in need of it, and came to us wearing it as a
waist sheet. One of us said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Give it to me to wear.' The Prophet (ﷺ) agreed to give it to
him. The Prophet (ﷺ) sat with the people for a while and then returned (home), wrapped that waist sheet
and sent it to him. The people said to that man, 'You haven't done well by asking him for it when you
know that he never turns down anybody's request.' The man replied, 'By Allah, I have not asked him
for it except to use it as my shroud when I die." Sahl added; "Later it (i.e. that sheet) was his shroud."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے کہا کہ میں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا کہ
ایک عورت ” بردہ “ لے کر آئی ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے پوچھا ، تمہیں معلوم بھی ہے کہ ” بردہ “ کسے کہتے ہیں ۔ کہا گیا جی ہاں ! بردہ ، حاشیہ دار چادر کو کہتے ہیں ۔ تو اس عورت نے کہا ، یا رسول اللہ ! میں نے خاص آپ کو پہنانے کے لیے یہ چادر اپنے ہاتھ سے بنی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے لیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی ضرورت بھی تھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی چادر کو بطور ازار کے پہنے ہوئے تھے ، حاضرین میں سے ایک صاحب بولے ، یا رسول اللہ ! یہ تو مجھے دے دیجئیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا لے لینا ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجلس میں تھوڑی دیر تک بیٹھے رہے پھر واپس تشریف لے گئے پھر ازار کو تہ کر کے ان صاحب کے پاس بھجوا دیا ۔ لوگوں نے کہا تم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ازار مانگ کر اچھا نہیں کیا کیونکہ تمہیں معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سائل کے سوال کو رد نہیں کیا کرتے ہیں ۔ اس پر ان صحابی نے کہا کہ واللہ ! میں نے تو صرف اس لیے یہ چادر مانگی ہے کہ جب میں مروں تو یہ میرا کفن بنے ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ وہ چادر ہی ان کا کفن بنی ۔
সাহল ইবনু সা’দ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, এক মহিলা একটি বুরদা আনলেন। [সাহল (রাঃ)] বললেন, তোমরা জান বুরদা কী? তাকে বলা হয়, হ্যাঁ, তা হল এমন চাদর, যার পাড় বুনানো। মহিলা বললেন, হ্যাঁ আল্লাহর রসূল! আপনাকে পরিধান করানোর জন্য আমি এটি নিজ হাতে বুনে নিয়ে এসেছি। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) তা গ্রহণ করলেন এবং তাঁর এটির প্রয়োজন ছিল। তারপর তিনি তা তহবন্দরূপে পরিধান করে আমাদের সামনে এলেন। উপস্থিত লোকজনের মধ্যে একজন বলে উঠলেন, হে আল্লাহর রসূল! তা আমাকে পরিধান করতে দিন। তিনি বললেন, আচ্ছা। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) কিছুক্ষণ মজলিসে বসে পরে ফিরে গেলেন। তারপর চাদরটি ভাঁজ করে সে লোকটির কাছে পাঠিয়ে দিলেন। লোকজন সে ব্যক্তিকে বললেন, তুমি ভাল করো নি, তুমি তাঁর কাছে চাদরটি চেয়ে ফেললে, অথচ তুমি জান যে, তিনি কোন যাঞ্চনাকারীকে ফিরিয়ে দেন না। সে লোকটি বললেন, আল্লাহর কসম, আমি চাদরটি এ জন্যই চেয়েছি যে, তা যাতে আমার মৃত্যুর পর আমার কাফন হয়। রাবী সাহল (রাঃ) বলেন, সেটি তার কাফন হয়েছিল।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 306
Hadith 2094
Chapter 32: The carpenter - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ أَتَى رِجَالٌ إِلَى سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ يَسْأَلُونَهُ عَنِ الْمِنْبَرِ، فَقَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى فُلاَنَةَ ـ امْرَأَةٍ قَدْ سَمَّاهَا سَهْلٌ ـ
" أَنْ مُرِي غُلاَمَكِ النَّجَّارَ، يَعْمَلُ لِي أَعْوَادًا أَجْلِسُ عَلَيْهِنَّ إِذَا كَلَّمْتُ النَّاسَ ". فَأَمَرَتْهُ يَعْمَلُهَا مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ ثُمَّ جَاءَ بِهَا، فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِهَا، فَأَمَرَ بِهَا فَوُضِعَتْ، فَجَلَسَ عَلَيْهِ.
Narrated Abu Hazim:
Some men came to Sahl bin Sa`d to ask him about the pulpit. He replied, "Allah's Messenger (ﷺ) sent for a
woman (Sahl named her) (this message): 'Order your slave carpenter to make pieces of wood (i.e. a
pulpit) for me so that I may sit on it while addressing the people.' So, she ordered him to make it from
the tamarisk of the forest. He brought it to her and she sent it to Allah's Messenger (ﷺ) . Allah's Messenger (ﷺ)
ordered it to be placed in the mosque: so, it was put and he sat on it.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز نے بیان کیا ان سے ابوحازم نے بیان کیا کہ
کچھ لوگ سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کے یہاں منبرنبوی کے متعلق پوچھنے آئے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں عورت کے یہاں جن کا نام بھی سہل رضی اللہ عنہ نے لیا تھا ، اپنا آدمی بھیجا کہ وہ اپنے بڑھئی غلام سے کہیں کہ میرے لیے کچھ لکڑیوں کو جوڑ کر منبر تیار کر دے ، تاکہ لوگوں کو وعظ کرنے کے لیے میں اس پر بیٹھ جایا کروں ۔ چنانچہ اس عورت نے اپنے غلام سے غابہ کے جھاؤ کی لکڑی کا منبر بنانے کے لیے کہا ۔ پھر ( جب منبر تیار ہو گیا تو ) انہوں نے اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا ۔ وہ منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ( مسجد میں ) رکھا گیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھے ۔
আবূ হাযিম (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, কিছু লোক সাহল ইবনু সা’দ (রাঃ)-এর কাছে এসে মিম্বরে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সম্পর্কে জিজ্ঞেস করলেন। তিনি বললেন, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) একজন (আনসারী) মহিলা- সাহল (রাঃ) যার নাম উল্লেখ করেছিলেন- তার কাছে তিনি সংবাদ পাঠালেন যে, তোমার সূত্রধর গোলামকে বল, সে যেন আমার জন্য কাঠ দিয়ে একটি (মিম্বর) তৈরি করে দেয়। লোকদের সাথে কথা বলার সময় যার উপর আমি বসতে পারি। সে মহিলা তাকে গাবা নামক স্থানের কাঠ দিয়ে মিম্বর বানানোর নির্দেশ দিলেন। তারপর গোলামটি তা নিয়ে এল এবং সে মহিলা এটি আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)-এর কাছে পাঠিয়ে দিলেন। তাঁর নির্দেশক্রমে তা স্থাপন করা হল, পরে তার উপর নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) উপবেশন করলেন।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 307
Hadith 2095
Chapter 32: The carpenter - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الأَنْصَارِ قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلاَ أَجْعَلُ لَكَ شَيْئًا تَقْعُدُ عَلَيْهِ فَإِنَّ لِي غُلاَمًا نَجَّارًا. قَالَ " إِنْ شِئْتِ ". قَالَ فَعَمِلَتْ لَهُ الْمِنْبَرَ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ قَعَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى الْمِنْبَرِ الَّذِي صُنِعَ، فَصَاحَتِ النَّخْلَةُ الَّتِي كَانَ يَخْطُبُ عِنْدَهَا حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَنْشَقَّ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى أَخَذَهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، فَجَعَلَتْ تَئِنُّ أَنِينَ الصَّبِيِّ الَّذِي يُسَكَّتُ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ. قَالَ " بَكَتْ عَلَى مَا كَانَتْ تَسْمَعُ مِنَ الذِّكْرِ ".
Narrated Jabir bin `Abdullah:
An Ansari woman said to Allah's Messenger (ﷺ), "O Allah's Messenger (ﷺ)! Shall I make something for you to sit
on, as I have a slave who is a carpenter?" He replied, "If you wish." So, she got a pulpit made for him.
When it was Friday the Prophet (ﷺ) sat on that pulpit. The date-palm stem near which the Prophet (ﷺ) used to
deliver his sermons cried so much so that it was about to burst. The Prophet (ﷺ) came down from the
pulpit to the stem and embraced it and it started groaning like a child being persuaded to stop crying
and then it stopped crying. The Prophet (ﷺ) said,"It has cried because of (missing) what it use to hear of
the religions knowledge."
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ
ایک انصاری عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! میں آپ کے لیے کوئی ایسی چیز کیوں نہ بنوا دوں جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ کے وقت بیٹھا کریں ۔ کیونکہ میرے پاس ایک غلام بڑھئی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا تمہاری مرضی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر جب منبر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس نے تیار کیا ۔ تو جمعہ کے دن جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس منبر پر بیٹھے تو اس کھجور کی لکڑی سے رونے کی آواز آنے لگی ۔ جس پر ٹیک دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے خطبہ دیا کرتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ پھٹ جائے گی ۔ یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر سے اترے اور اسے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔ اس وقت بھی وہ لکڑی اس چھوٹے بچے کی طرح سسکیاں بھر رہی تھی جسے چپ کرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ اس کے بعد وہ چپ ہو گئی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ اس کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ یہ لکڑی خطبہ سنا کرتی تھی اس لیے روئی ۔
জাবির ইবনু ‘আবদুল্লাহ্ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ একজন আনসারী মহিলা আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- এর নিকট আরয করলেন, হে আল্লাহর রসূল! আমি কি আপনার জন্য এমন একটি জিনিস বানিয়ে দিব না, যার উপর আপনি বসবেন? কেননা, আমার একজন কাঠমিস্ত্রি গোলাম আছে। তিনি বললেন, যদি তুমি তা চাও। বর্ণনাকারী বললেন, তারপর সে মহিলা তাঁর জন্য মিম্বর তৈরি করলেন। যখন জুমু’আর দিন হলো, নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) সেই তৈরি মিম্বারের উপরে বসলেন। সে সময় যে খেজুর গাছের কান্ডের উপর ভর দিয়ে তিনি খুতবা দিতেন, সেটি এমন ভাবে চীৎকার করে উঠল, যেন তা ফেটে পড়বে। নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) নেমে এসে তা নিজের সঙ্গে জড়িয়ে ধরলেন। তখন সেটি ফোঁপাতে লাগল, যেমন ছোট শিশুকে চুপ করানোর সময় ফোঁপায় [৬]। অবশেষে তা স্থির হয়ে গেল। (রাবী বলেন) খেজুর কাণ্ডটি যে যিক্র-নসীহত শুনত, তা হারানোর কারণে কেঁদেছিল।
USC-MSA web (English) reference : Vol. 3, Book 34, Hadith 308
Hadith 2096
Chapter 33: The purchase by the ruler himself - كتاب البيوع
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتِ اشْتَرَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ يَهُودِيٍّ طَعَامًا بِنَسِيئَةٍ، وَرَهَنَهُ دِرْعَهُ.
Narrated `Aisha:
Allah's Messenger (ﷺ) bought food grains from a Jew on credit and mortgaged his armor to him.
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابراہیم نخعی نے ، ان سے اسود بن یزید نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے کچھ غلہ ادھار خریدا ۔ اور اپنی زرہ اس کے پاس گروی رکھوائی ۔
‘আয়িশা (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, আল্লাহর রসূল (রাঃ) জনৈক ইয়াহূদী হতে বাকীতে খাদ্য ক্রয় করেন এবং নিজের লৌহ বর্ম তার কাছে বন্ধক রাখেন।
I was with the Prophet (ﷺ) in a Ghazwa (Military Expedition) and my camel was slow and exhausted. The
Prophet came up to me and said, "O Jabir." I replied, "Yes?" He said, "What is the matter with you?" I
replied, "My camel is slow and tired, so I am left behind." So, he got down and poked the camel with
his stick and then ordered me to ride. I rode the camel and it became so fast that I had to hold it from
going ahead of Allah's Messenger (ﷺ) . He then asked me, have you got married?" I replied in the
affirmative. He asked, "A virgin or a matron?" I replied, "I married a matron." The Prophet (ﷺ) said,
"Why have you not married a virgin, so that you may play with her and she may play with you?" Jabir
replied, "I have sisters (young in age) so I liked to marry a matron who could collect them all and
comb their hair and look after them." The Prophet (ﷺ) said, "You will reach, so when you have arrived (at
home), I advise you to associate with your wife (that you may have an intelligent son)." Then he asked
me, "Would you like to sell your camel?" I replied in the affirmative and the Prophet (ﷺ) purchased it for
one Uqiya of gold. Allah's Messenger (ﷺ) reached before me and I reached in the morning, and when I went
to the mosque, I found him at the door of the mosque. He asked me, "Have you arrived just now?" I
replied in the affirmative. He said, "Leave your camel and come into (the mosque) and pray two
rak`at." I entered and offered the prayer. He told Bilal to weigh and give me one Uqiya of gold. So
Bilal weighed for me fairly and I went away. The Prophet (ﷺ) sent for me and I thought that he would
return to me my camel which I hated more than anything else. But the Prophet (ﷺ) said to me, "Take your
camel as well as its price."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ، ان سے وہب بن کیسان نے بیان کیا اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( ذات الرقاع یا تبوک ) میں تھا ۔ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ۔ اتنے میں میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا جابر ! میں نے عرض کیا ، حضور حاضر ہوں ۔ فرمایا کیا بات ہوئی ؟ میں نے کہا کہ میرا اونٹ تھک کر سست ہو گیا ہے ، چلتا ہی نہیں اس لیے میں پیچھے رہ گیا ہوں ۔ پھر آپ اپنی سواری سے اترے اور میرے اسی اونٹ کو ایک ٹیرھے منہ کی لکڑی سے کھینچنے لگے ( یعنی ہانکنے لگے ) اور فرمایا کہ اب سوار ہو جا ۔ چنانچہ میں سوار ہو گیا ۔ اب تو یہ حال ہوا کہ مجھے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برابر پہنچنے سے روکنا پڑ جاتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، جابر تو نے شادی بھی کر لی ہے ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! دریافت فرمایا کسی کنواری لڑکی سے کی ہے یا بیوہ سے ۔ میں نے عرض کیا کہ میں نے تو ایک بیوہ سے کر لی ہے ۔ فرمایا ، کسی کنواری لڑکی سے کیوں نہ کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ ( حضرت جابر بھی کنورے تھے ) میں نے عرض کیا کہ میری کئی بہنیں ہیں ۔ ( اور میری ماں کا انتقال ہو چکا ہے ) اس لیے میں نے یہی پسند کیا کہ ایسی عورت سے شادی کروں ، جو انہیں جمع رکھے ۔ ان کے کنگھا کرے اور ان کی نگرانی کرے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اچھا اب تم گھر پہنچ کر خیر و عافیت کے ساتھ خوب مزے اڑانا ۔ اس کے بعد فرمایا ، کیا تم اپنا اونٹ بیچو گے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ چاندی میں خرید لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے ہی مدینہ پہنچ گئے تھے ۔ اور میں دوسرے دن صبح کو پہنچا ۔ پھر ہم مسجد آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے دروازہ پر ملے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کیا ابھی آئے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! فرمایا ، پھر اپنا اونٹ چھوڑ دے اور مسجد میں جا کے دو رکعت نماز پڑھ ۔ میں اندر گیا اور نماز پڑھی ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ میرے لیے ایک اوقیہ چاندی تول دے ۔ انہوں نے ایک اوقیہ چاندی جھکتی ہوئی تول دی ۔ میں پیٹھ موڑ کر چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جابر کو ذرا بلاؤ ۔ میں نے سوچا کہ شاید اب میرا اونٹ پھر مجھے واپس کریں گے ۔ حالانکہ اس سے زیادہ ناگوار میرے لیے کوئی چیز نہیں تھی ۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ یہ اپنا اونٹ لے جا اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے ۔
জাবির ইবনু 'আবদুল্লাহ (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ তিনি বলেন, এক যুদ্ধে নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম)- এর সঙ্গে ছিলাম। আমার উটটি অত্যন্ত ধীরে চলছিল বরং চলতে অক্ষম হয়ে পড়েছিল। এমতাবস্থায় নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার কাছে এলেন এবং বললেন, জাবির? আমি বললাম, জী। তিনি জিজ্ঞেস করলেন, তোমার অবস্থা কী? আমি বললাম, আমার উট আমাকে নিয়ে অত্যন্ত ধীরে চলছে এবং অক্ষম হয়ে পড়ছে। ফলে আমি পিছনে পড়ে গেছি। তখন তিনি নেমে চাবুক দিয়ে উটটিকে আঘাত করতে লাগলেন। তারপর বললেন, এবার আরোহণ কর। আমি আরোহণ করলাম। এরপর অবশ্য আমি উটটিকে এমন পেলাম যে, আল্লাহর রসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) হতে অগ্রসর হওয়ায় বাধা দিতে হয়েছিল। তিনি জিজ্ঞেস করলেন, তুমি কি বিবাহ করেছ? আমি বললাম, হ্যাঁ। তিনি বললেন, কুমারী না বিবাহিতা? আমি বললাম, বিবাহিতা। তিনি বললেন, তরুণী বিবাহ করলে না কেন? তুমি তার সাথে হাসি-তামাসা এবং সে তোমার সাথে পূর্ণভাবে হাসি-তামাসা করত। আমি বললাম, আমার কয়েকটি বোন রয়েছে, ফলে আমি এমন এক মহিলাকে বিবাহ করতে পছন্দ করলাম, যে তাদেরকে মিল-মহব্বতে রাখতে, তাদের পরিচর্যা করতে এবং তাদের উত্তমরূপে কর্তৃত্ব করতে সক্ষম হয়। তিনি বললেন, শোন! তুমি তো বাড়ীতে পৌছবে? যখন তুমি পৌছবে তখন তুমি বুদ্ধিমত্তার পরিচয় দেবে। তিনি বললেন, তোমার উটটি বিক্রি করবে? আমি বললাম, হ্যাঁ। তিনি তা এক উকীয়ার বিনিময়ে আমার নিকট হতে কিনে নিলেন। তারপর আল্লাহর রাসূল (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) আমার আগে (মদীনায়) পৌঁছলেন এবং আমি (পরের দিন) ভোরে পৌঁছলাম। আমি মাসজিদে নাববীতে গিয়ে তাঁকে দরজার সামনে পেলাম। তিনি জিজ্ঞেস করলেন, এখন এলে? আমি বললাম, হ্যাঁ। তিনি বললেন, তোমার উটটি রাখ এবং মসজিদে প্রবেশ করে দু'রাক'আত সালাত আদায় কর। আমি মসজিদে প্রবেশ করে সালাত আদায় করলাম। তারপর তিনি বিলাল (রাঃ)-কে উকীয়া ওজন করে আমাকে দিতে বললেন। বিলাল (রাঃ) ওজন করে দিলেন এবং আমার পক্ষে ঝুঁকিয়ে দিলেন। আমি রওয়ানা হলাম। যখন আমি পিছনে ফিরেছি তখন তিনি বললেন, জাবিরকে আমার কাছে ডাক। আমি ভাবলাম, এখন হয়তো উটটি আমাকে ফিরিয়ে দেবেন। আর আমার নিকট এর চেয়ে অপছন্দনীয় আর কিছুই ছিল না। তিনি বললেন, তোমার উটটি নিয়ে যাও এবং তার দামও তোমার।