Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 41

Types of Blood-Wit (Kitab Al-Diyat)

كتاب الديات

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 102 hadiths in this chapter

Hadith 4519
Chapter 1650: If A Man Kills His Slave Or Mutilates Him, Should Retaliation Be Imposed On Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ تَسْنِيمٍ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، أَخْبَرَنَا سَوَّارٌ أَبُو حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مُسْتَصْرِخٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ جَارِيَةٌ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَيْحَكَ مَا لَكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ شَرًّا أَبْصَرَ لِسَيِّدِهِ جَارِيَةً لَهُ فَغَارَ فَجَبَّ مَذَاكِيرَهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ عَلَىَّ بِالرَّجُلِ ‏"‏ ‏.‏ فَطُلِبَ فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى مَنْ نُصْرَتِي قَالَ ‏"‏ عَلَى كُلِّ مُؤْمِنٍ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ كُلِّ مُسْلِمٍ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الَّذِي عُتِقَ كَانَ اسْمُهُ رَوْحُ بْنُ دِينَارٍ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ الَّذِي جَبَّهُ زِنْبَاعٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا زِنْبَاعٌ أَبُو رَوْحٍ كَانَ مَوْلَى الْعَبْدِ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Shu'aib:

On his father's authority, said that his grandfather told that a A man came to the Prophet (ﷺ) crying for help. He said: His slave-girl, Messenger of Allah! He said: Woe to you, what happened with you ? He said that it was an evil one. He saw the slave-girl of his master; he became jealous of him, and cut off his penis. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Bring the man to me. The man was called, but people could not get control over him. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: Go away, you are free. He asked: Messenger of Allah! upon whom does my help lie? He replied: On every believer, or he said: On every Muslim. Abu Dawud said: The name of the man who was emancipated was Rawh b. Dinar Abu Dawud said: The man who cut off the penis was Zinba' Abu Dawud said: The Zinba' Abu Rawh was master of the slave.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

ایک شخص چیختا چلاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! اس کی ایک لونڈی تھی ، آپ نے فرمایا : ” ستیاناس ہو تمہارا ، بتاؤ کیا ہوا ؟ “ اس نے کہا : برا ہوا ، میرے آقا کی ایک لونڈی تھی اسے میں نے دیکھ لیا ، تو اسے غیرت آئی ، اس نے میرا ذکر کٹوا دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کو میرے پاس لاؤ “ تو اسے بلایا گیا ، مگر کوئی اسے نہ لا سکا تب آپ نے ( اس غلام سے ) فرمایا : ” جاؤ تم آزاد ہو “ اس نے کہا : اللہ کے رسول ! میری مدد کون کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” ہر مومن پر “ یا کہا : ” ہر مسلمان پر تیری مدد لازم ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جو آزاد ہوا اس کا نام روح بن دینار تھا ، اور جس نے ذکر کاٹا تھا وہ زنباع تھا ، یہ زنباع ابوروح ہیں جو غلام کے آقا تھے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 26
Hadith 4520
Chapter 1651: Al-Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، - الْمَعْنَى - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ، انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ الْكُبْرَ الْكُبْرَ ‏"‏ ‏.‏ أَوْ قَالَ ‏"‏ لِيَبْدَإِ الأَكْبَرُ ‏"‏ ‏.‏ فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ يُقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ كَيْفَ نَحْلِفُ قَالَ ‏"‏ فَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ كُفَّارٌ ‏.‏ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ قِبَلِهِ ‏.‏ قَالَ قَالَ سَهْلٌ دَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا ‏.‏ قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ وَمَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ قَالَ فِيهِ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ ‏"‏ وَلَمْ يَذْكُرْ بِشْرٌ دَمًا وَقَالَ عَبْدَةُ عَنْ يَحْيَى كَمَا قَالَ حَمَّادٌ وَرَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى فَبَدَأَ بِقَوْلِهِ ‏"‏ تُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا يَحْلِفُونَ ‏"‏ ‏.‏ وَلَمْ يَذْكُرِ الاِسْتِحْقَاقَ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا وَهَمٌ مِنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ‏.‏

Narrated Sahl b. Abi Hathmah and Rafi' b. Khadij:

Muhayyasah b. Mas'ud and 'Abd Allah b. Sahl came to Khaibar and parted (from each other) among palm trees. 'Abd Allah b. Sahl was killed. The Jews were blamed (for the murder). 'Abd al-Rahman b. Sahl and Huwayyasah and Muhayyasah, the sons of his uncle (Mas'ud) came to the Prophet (ﷺ). 'Abd al-Rahman, who was the youngest, spoke about his brother, but the Messenger of Allah (ﷺ) said to him: (Respect) the elder, (respect) the elder or he said: Let the eldest begin. They then spoke about their friend and the Messenger of Allah (ﷺ) said: Fifty of you should take oaths regarding a man from them (the Jews) and he should be entrusted (to him) with his rope (in his neck). They said: It is a matter which we did not see. How can we take oaths ? He said: The Jews exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah! they are a people who are infidels. So the Messenger of Allah (ﷺ) paid them bloodwit himself. Sahl said: Once I entered the resting place of their camels, and the she-camel struck me with her lef. Hammad said this or (something) similar to it. Abu Dawud said: Another version transmitted by Yahya b. Sa'id has: Would you swear fifty oaths and make you claim regarding your friend or your slain man ? Bishr, the transmitter, did mention blood. 'Abdah transmitted it from Yahya as transmitted by Hammad. Ibn 'Uyainah has also transmitted it from Yahya, and began with his words: The Jew will exonerate themselves by fifty oaths which they will swear. He did not mention the claim. Abu Dawud said: This is a misunderstanding on the part of Ibn 'Uyainah.

سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل دونوں خیبر کی طرف چلے اور کھجور کے درختوں میں ( چلتے چلتے ) دونوں ایک دوسرے سے علیحدہ ہو گئے ، پھر عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے ، تو ان لوگوں نے یہودیوں پر تہمت لگائی ، ان کے بھائی عبدالرحمٰن بن سہل اور ان کے چچازاد بھائی حویصہ اور محیصہ اکٹھا ہوئے اور وہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، عبدالرحمٰن بن سہل جو ان میں سب سے چھوٹے تھے اپنے بھائی کے معاملے میں بولنے چلے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑوں کا لحاظ کرو “ ( اور انہیں گفتگو کا موقع دو ) یا یوں فرمایا : ” بڑے کو پہلے بولنے دو “ چنانچہ ان دونوں ( حویصہ اور محیصہ ) نے اپنے عزیز کے سلسلے میں گفتگو کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے پچاس آدمی یہودیوں کے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو اسے رسی سے باندھ کر تمہارے حوالے کر دیا جائے “ ان لوگوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ، پھر ہم کیسے قسم کھا لیں ؟ آپ نے فرمایا : ” پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسم کے ذریعہ خود کو تم سے بچا لیں گے “ وہ بولے : اللہ کے رسول ! یہ کافر لوگ ہیں ( ان کی قسموں کا کیا اعتبار ؟ ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنی طرف سے دیت دے دی ، سہل کہتے ہیں : ایک دن میں ان کے شتر خانے میں گیا ، تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات مار دی ، حماد نے یہی کہا یا اس جیسی کوئی بات کہی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے بشر بن مفضل اور مالک نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے : ” کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے ساتھی کے خون ، یا اپنے قاتل کے مستحق ہوتے ہو ؟ “ البتہ بشر نے لفظ دم یعنی خون کا ذکر نہیں کیا ہے ، اور عبدہ نے یحییٰ سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے حماد نے کی ہے ، اور اسے ابن عیینہ نے یحییٰ سے روایت کیا ہے ، تو انہوں نے ابتداء «تبرئكم يهود بخمسين يمينا يحلفون» سے کی ہے اور استحقاق کا ذکر انہوں نے نہیں کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ ابن عیینہ کا وہم ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 27
Hadith 4521
Chapter 1651: Al-Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ، عَنْ أَبِي لَيْلَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ هُوَ، وَرِجَالٌ، مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ فَأُتِيَ مُحَيِّصَةُ فَأُخْبِرَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي فَقِيرٍ أَوْ عَيْنٍ فَأَتَى يَهُودَ فَقَالَ أَنْتُمْ وَاللَّهِ قَتَلْتُمُوهُ ‏.‏ قَالُوا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ‏.‏ فَأَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ - وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ - وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَبِّرْ كَبِّرْ ‏"‏ ‏.‏ يُرِيدُ السِّنَّ فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ وَإِمَّا أَنْ يُؤْذَنُوا بِحَرْبٍ ‏"‏ ‏.‏ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِذَلِكَ فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللَّهِ مَا قَتَلْنَاهُ ‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِحُوَيِّصَةَ وَمُحَيِّصَةَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ ‏"‏ أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لَيْسُوا مُسْلِمِينَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمُ الدَّارَ ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ لَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ ‏.‏

Sahl b. Abi Hathmah and some senior men of the tribe told that 'Abd Allah b. Abi Sahl and Muhayyasah came to Khaibar on account of the calamity (i.e. famine) that befall them. Muhayyasah came and told the 'Abd Allah b. Sahl had been killed and thrown in a well or stream. He hen came to the Jews and said:

I swear by Allah, you have killed him. They said: We swear by Allah, we have not killed him. He then proceeded and came to his tribe and mentioned this to them. Then he, his brother Huwayyasah, who was older to him, and 'Abd al-Rahman b. Sahl came forward (to the Prophet). Muhayyasah began to speak. It was he who was at Khaibar. The Messenger of Allah (ﷺ) then said to him: Let the eldest (speak), let the eldest (speak), meaning age. So Huwayyasah spoke, and after him Muhayyasah spoke. The Messenger of Allah (ﷺ) then said: They should either pay the bloodwit for you friend or they should be prepared for war. So the Messenger of Allah (ﷺ) wrote to them about it. They wrote (in reply): We swear by Allah, we have not killed him. The Messenger of Allah (ﷺ) then said to Huwayyasah, Muhayyasah and 'Abd al-Rahman: Will you take an oath and thus have the claim to the blood of your friend ? They said: No. He (the Prophet) said: The Jews will then take an oath. They said: They are not Muslims. Then the Messenger of Allah (ﷺ) himself paid the bloodwit. The Messenger of Allah (ﷺ) then sent on one hundred she-camels and they were entered in their house. Sahl said: A red she-camel of them gave me a kick.

سہل بن ابی حثمہ انصاری رضی اللہ عنہ اور ان کے قبیلہ کے کچھ بڑوں سے روایت ہے کہ

عبداللہ بن سہل اور محیصہ رضی اللہ عنہما کسی پریشانی کی وجہ سے جس سے وہ دو چار ہوئے خیبر کی طرف نکلے پھر کسی نے آ کر محیصہ کو خبر دی کہ عبداللہ بن سہل مار ڈالے گئے اور انہیں کسی کنویں یا چشمے میں ڈال دیا گیا ، وہ ( محیصہ ) یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے : قسم اللہ کی ! تم نے ہی انہیں قتل کیا ہے ، وہ بولے : اللہ کی قسم ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے ، پھر وہ اپنی قوم کے پاس آئے اور ان سے اس کا ذکر کیا ، پھر وہ ، ان کے بڑے بھائی حویصہ اور عبدالرحمٰن بن سہل تینوں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے ، محیصہ نے واقعہ بیان کرنا شروع کیا کیونکہ وہی خیبر میں ساتھ تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بڑوں کو بڑائی دو “ آپ کی مراد عمر میں بڑائی سے تھی چنانچہ حویصہ نے گفتگو کی ، پھر محیصہ نے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یا تو یہ لوگ تمہارے آدمی کی دیت دیں ، یا لڑائی کے لیے تیار ہو جائیں “ پھر آپ نے اس سلسلے میں انہیں خط لکھا تو انہوں نے اس کا جواب لکھا کہ اللہ کی قسم ! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ہے ، تو آپ نے حویصہ ، محیصہ اور عبدالرحمٰن سے پوچھا : ” کیا تم قسم کھاؤ گے کہ اپنے بھائی کے خون کا مستحق بن سکو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، اس پر آپ نے فرمایا : ” تو پھر یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے “ اس پر وہ کہنے لگے : وہ تو مسلمان نہیں ہیں ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی ، اور سو اونٹ بھیج دیے گئے یہاں تک کہ وہ ان کے مکان میں داخل کر دیے گئے ، سہل کہتے ہیں : انہیں میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 28
Hadith 4522
Chapter 1651: Al-Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، وَكَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا ح، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ بْنِ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَتَلَ بِالْقَسَامَةِ رَجُلاً مِنْ بَنِي نَصْرِ بْنِ مَالِكٍ بِبَحْرَةِ الرُّغَاءِ عَلَى شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ قَالَ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ مِنْهُمْ ‏.‏ وَهَذَا لَفْظُ مَحْمُودٍ بِبَحْرَةٍ أَقَامَهُ مَحْمُودٌ وَحْدَهُ عَلَى شَطِّ لِيَّةِ الْبَحْرَةِ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Shu'aib:

The Messenger of Allah (ﷺ) killed a man of Banu Nadr ibn Malik at Harrah ar-Righa' at the bank of Layyat al-Bahrah. The transmitter Mahmud (ibn Khalid) also mentioned the words along with the words "at Bahrah" "the slayer and the slain were from among them". Mahmud alone transmitted in this tradition the words "at the bank of Layyah".

عمرو بن شعیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ

آپ نے قسامہ سے بنی نصر بن مالک کے ایک آدمی کو بحرۃالرغاء ۱؎ میں لیۃالبحرہ ۲؎ کے کنارے پر قتل کیا ، راوی کہتے ہیں : قاتل اور مقتول دونوں بنی نصر کے تھے ، «ببحرة الرغاء على شطر لية البحر» کے یہ الفاظ محمود کے ہیں اور محمود اس حدیث کے سلسلہ میں سب سے زیادہ درست آدمی ہیں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 29
Hadith 4523
Chapter 1652: Not Retaliating On The Basis Of Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِهِ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلاً فَقَالُوا لِلَّذِينَ وَجَدُوهُ عِنْدَهُمْ قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا فَقَالُوا مَا قَتَلْنَاهُ وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً ‏.‏ فَانْطَلَقْنَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَقَالَ لَهُمْ ‏"‏ تَأْتُونِي بِالْبَيِّنَةِ عَلَى مَنْ قَتَلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا مَا لَنَا بَيِّنَةٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَيَحْلِفُونَ لَكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ نَرْضَى بِأَيْمَانِ الْيَهُودِ ‏.‏ فَكَرِهَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ ‏.‏

Narrated Bashir b. Yasar:

That a man of the Ansar called Sahl b. Abi Hathmah told him that some people of his tribe went to Khaibar and separated there. They found one of them slain. They said to those with whom they had found him: You have killed our friend. They replied: We did not kill him, nor do we know the slayer. We (the people of the slain) then went to the Prophet of Allah (ﷺ). He said to them: Bring proof against the one who has slain him. They replied: We have no proof. He said: Then they will take an oath for you. They said: We do not accept the oaths of the Jews. The Messenger of Allah (ﷺ) did not like no responsibility should be fixed for his blood. So he himself paid his bloodwit consisting of one hundred camels of sadaqah (i.e. camels sent to the Prophet as zakat).

بشیر بن یسار سے روایت ہے کہ

سہل بن ابی حثمہ نامی ایک انصاری ان سے بیان کیا کہ ان کی قوم کے چند آدمی خیبر گئے ، وہاں پہنچ کر وہ جدا ہو گئے ، پھر اپنے میں سے ایک شخص کو مقتول پایا تو جن کے پاس اسے پایا ان سے ان لوگوں نے کہا : تم لوگوں نے ہی ہمارے ساتھی کو قتل کیا ہے ، وہ کہنے لگے : ہم نے قتل نہیں کیا ہے اور نہ ہی ہمیں قاتل کا پتا ہے چنانچہ ہم لوگ اللہ کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، تو آپ نے ان سے فرمایا : ” تم اس پر گواہ لے کر آؤ کہ کس نے اسے مارا ہے ؟ “ انہوں نے کہا : ہمارے پاس گواہ نہیں ہے ، اس پر آپ نے فرمایا : ” پھر وہ یعنی یہود تمہارے لیے قسم کھائیں گے “ وہ کہنے لگے : ہم یہودیوں کی قسموں پر راضی نہیں ہوں گے ، پھر آپ کو یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کا خون ضائع ہو جائے چنانچہ آپ نے اس کی دیت زکوٰۃ کے اونٹوں میں سے سو اونٹ خود دے دی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 30
Hadith 4524
Chapter 1652: Not Retaliating On The Basis Of Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَاشِدٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، حَدَّثَنَا عَبَايَةُ بْنُ رِفَاعَةَ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ أَصْبَحَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ مَقْتُولاً بِخَيْبَرَ فَانْطَلَقَ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ ‏"‏ لَكُمْ شَاهِدَانِ يَشْهَدَانِ عَلَى قَتْلِ صَاحِبِكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَكُنْ ثَمَّ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَإِنَّمَا هُمْ يَهُودُ وَقَدْ يَجْتَرِئُونَ عَلَى أَعْظَمَ مِنْ هَذَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَاخْتَارُوا مِنْهُمْ خَمْسِينَ فَاسْتَحْلِفُوهُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَوْا فَوَدَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ ‏.‏

Narrated Rafi' ibn Khadij:

A man of the Ansar was killed at Khaybar and his relatives went to the Prophet (ﷺ) and mentioned that to him. He asked: Have you two witnesses who can testify to the murderer of your friend? They replied: Messenger of Allah! there was not a single Muslim present, but only Jews who sometimes have the audacity to do even greater crimes than this. He said: Then choose fifty of them and demand that they take an oath; but they refused and the Prophet (ﷺ) paid the blood-wit himself.

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

انصار کا ایک آدمی خیبر میں قتل کر دیا گیا ، تو اس کے وارثین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا ، آپ نے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس دو گواہ ہیں جو تمہارے ساتھی کے مقتول ہو جانے کی گواہی دیں ؟ “ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! وہاں پر تو مسلمانوں میں سے کوئی نہیں تھا ، وہ تو سب کے سب یہودی ہیں اور وہ اس سے بڑے جرم کی بھی جرات کر لیتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تو ان میں پچاس افراد منتخب کر کے ان سے قسم لے لو “ لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے ، تو آپ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 31
Hadith 4525
Chapter 1652: Not Retaliating On The Basis Of Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ، - يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بُجَيْدٍ، قَالَ إِنَّ سَهْلاً وَاللَّهِ أَوْهَمَ الْحَدِيثَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَتَبَ إِلَى يَهُودَ ‏ "‏ أَنَّهُ قَدْ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَتِيلٌ فَدُوهُ ‏"‏ ‏.‏ فَكَتَبُوا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ خَمْسِينَ يَمِينًا مَا قَتَلْنَاهُ وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً ‏.‏ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ عِنْدِهِ مِائَةَ نَاقَةٍ ‏.‏

Narrated 'Abd al-Rahman b. Bujaid:

I swear by Allah, Sahl had a misunderstanding about this tradition. The Messenger of Allah (ﷺ) wrote to the Jews: A slain man has been found amongnst you, so pay his bloodwit. They wrote (to him): Swearing by Allah fifty oaths, we neither killed him nor do we know his slayer. He said: Then the Messenger of Allah (ﷺ) himself paid his bloodwit which consisted of one hundred she-camels.

عبدالرحمٰن بن بجید کہتے ہیں کہ

اللہ کی قسم ، سہل کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ، واقعہ یوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کو لکھا کہ تمہارے بیچ ایک مقتول ملا ہے تو تم اس کی دیت ادا کرو ، تو انہوں نے جواب میں لکھا : ہم اللہ کی پچاس قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا ، اور نہ ہمیں اس کے قاتل کا پتا ہے ، وہ کہتے ہیں : اس پر اس کی دیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے سو اونٹ ( خود ) ادا کی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 32
Hadith 4526
Chapter 1652: Not Retaliating On The Basis Of Qasamah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رِجَالٍ، مِنَ الأَنْصَارِ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ لِلْيَهُودِ وَبَدَأَ بِهِمْ ‏"‏ يَحْلِفُ مِنْكُمْ خَمْسُونَ رَجُلاً ‏"‏ ‏.‏ فَأَبَوْا فَقَالَ لِلأَنْصَارِ ‏"‏ اسْتَحِقُّوا ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَحْلِفُ عَلَى الْغَيْبِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دِيَةً عَلَى يَهُودَ لأَنَّهُ وُجِدَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ ‏.‏

Narrated 'Abu Salamah b. 'Abd al-Rahman and Sulaiman b. Yasar:

On the authority of some men of the Ansar : The Prophet (ﷺ) said to the Jews and started with them: Fifty of you should take the oaths. But they refused (to take the oaths). He then said to the Ansar: Prove your claim. They said: Do we take the oaths without seeing, Messenger of Allah? The Messenger of Allah (ﷺ) then imposed the blood-wit on the Jews because he (the slain) was found among them.

انصار کے کچھ لوگوں سے روایت ہے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے یہود سے کہا : ” تم میں سے پچاس لوگ قسم کھائیں “ تو انہوں نے انکار کیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے کہا : ” تم اپنا حق ثابت کرو “ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم ایسی بات پر قسم کھائیں جسے ہم نے دیکھا نہیں ہے ؟ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت یہود سے دلوائی اس لیے کہ وہ انہیں کے درمیان پایا گیا تھا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 33
Hadith 4527
Chapter 1653: Retaliation On The Killer - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً، وُجِدَتْ، قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ ‏.‏

Narrated Anas:

A girl was found with her head crushed between two stones. She was asked: Who has done this to you ? Is it so and so ? Is it so and so, until a Jew was named, and she gave a sign with her head. The Jew was caught ad he admitted. So the Prophet (ﷺ) gave command that his head should be crushed with stones.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا ، اس سے پوچھا گیا : کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں ، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا ، تو اس نے اعتراف کیا ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 34
Hadith 4528
Chapter 1653: Retaliation On The Killer - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ يَهُودِيًّا، قَتَلَ جَارِيَةً مِنَ الأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَيُّوبَ نَحْوَهُ ‏.‏

Narrated Anas:

A Jew killed a girl of the Ansar for her ornaments. He then threw her in a well, and crushed her head with stones. He was then arrested and brought to the Prophet (ﷺ). He ordered regarding him that he should be stoned to death. He was then stoned till he died. Abu Dawud said: It has been transmitted by Ibn Juraij from Ayyub in a similar way.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک یہودی نے انصار کی ایک لونڈی کو اس کے زیور کی وجہ سے قتل کر دیا ، پھر اسے ایک کنوئیں میں ڈال کر اس کا سر پتھر سے کچل دیا ، تو اسے پکڑ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو آپ نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے رجم کر دیا جائے یہاں تک کہ وہ مر جائے تو اسے رجم کر دیا گیا یہاں تک کہ وہ مر گیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے ابن جریج نے ایوب سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 35
Hadith 4529
Chapter 1653: Retaliation On The Killer - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسٍ أَنَّ جَارِيَةً، كَانَ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ لَهَا فَرَضَخَ رَأْسَهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا ‏"‏ مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَتْ لاَ ‏.‏ بِرَأْسِهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَنْ قَتَلَكِ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ لاَ ‏.‏ بِرَأْسِهَا ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ ‏.‏ بِرَأْسِهَا فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُتِلَ بَيْنَ حَجَرَيْنِ ‏.‏

Narrated Anas:

A girl was wearing silver ornaments. A Jew crushed her head with a stone. The Messenger of Allah (ﷺ) entered upon her when she had some breath. He said to her: Who has killed you ? Had so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Who has killed you ? Has so and so killed you ? She replied: No, making a sign with her head. He again asked: Has so and so killed you ? She said: Yes, making sign with her head. The Messenger of Allah (ﷺ) commanded regarding him, and he was killed between two stones.

انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک لونڈی اپنے زیور پہنے ہوئی تھی اس کے سر کو ایک یہودی نے پتھر سے کچل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے ، ابھی اس میں جان باقی تھی ، آپ نے اس سے پوچھا : ” تجھے کس نے قتل کیا ہے ؟ فلاں نے تجھے قتل کیا ہے ؟ “ اس نے اپنے سر کے اشارے سے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا : ” تجھے کس نے قتل کیا ؟ فلاں نے قتل کیا ہے ؟ “ اس نے پھر سر کے اشارے سے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا : ” کیا فلاں نے کیا ہے ؟ “ اس نے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ، تو اسے دو پتھروں کے درمیان ( کچل کر ) مار ڈالا گیا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 36
Hadith 4530
Chapter 1654: Should A Muslim Be Killed In Retaliation For A Disbeliever ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ، قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَالأَشْتَرُ، إِلَى عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلاَمُ فَقُلْنَا هَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ عَامَّةً قَالَ لاَ إِلاَّ مَا فِي كِتَابِي هَذَا - قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ - فَأَخْرَجَ كِتَابًا - وَقَالَ أَحْمَدُ كِتَابًا مِنْ قِرَابِ سَيْفِهِ - فَإِذَا فِيهِ ‏ "‏ الْمُؤْمِنُونَ تَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَهُمْ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ أَلاَ لاَ يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلاَ ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا فَعَلَى نَفْسِهِ وَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلاَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ مُسَدَّدٌ عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَأَخْرَجَ كِتَابًا ‏.‏

Narrated Qays ibn Abbad :

I and Ashtar went to Ali and said to him: Did the Messenger of Allah (ﷺ) give you any instruction about anything for which he did not give any instruction to the people in general? He said: No, except what is contained in this document of mine. Musaddad said: He then took out a document. Ahmad said: A document from the sheath of his sword. It contained: The lives of all Muslims are equal; they are one hand against others; the lowliest of them can guarantee their protection. Beware, a Muslim must not be killed for an infidel, nor must one who has been given a covenant be killed while his covenant holds. If anyone introduces an innovation, he will be responsible for it. If anyone introduces an innovation or gives shelter to a man who introduces an innovation (in religion), he is cursed by Allah, by His angels, and by all the people. Musaddad said: Ibn AbuUrubah's version has: He took out a document.

قیس بن عباد سے کہتے ہیں کہ

میں اور اشتر دونوں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے کہا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خاص بات بتائی ہے جو عام لوگوں کو نہ بتائی ہو ؟ وہ بولے : نہیں ، سوائے اس چیز کے جو میری اس کتاب میں ہے ۔ مسدد کہتے ہیں : پھر انہوں نے ایک کتاب نکالی ، احمد کے الفاظ یوں ہیں اپنی تلوار کے غلاف سے ایک کتاب ( نکالی ) اس میں یہ لکھا تھا : سب مسلمانوں کا خون برابر ہے اور وہ غیروں کے مقابل ( باہمی نصرت و معاونت میں ) گویا ایک ہاتھ ہیں ، اور ان میں کا ایک ادنی بھی ان کے امان کا پاس و لحاظ رکھے گا ۱؎ ، آگاہ رہو ! کہ کوئی مومن کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا ، اور نہ ہی کوئی ذمی معاہد جب تک وہ معاہد ہے قتل کیا جائے گا ، اور جو شخص کوئی نئی بات نکالے گا تو اس کی ذمے داری اسی کے اوپر ہو گی ، اور جو نئی بات نکالے گا ، یا نئی بات نکالنے والے کسی شخص ( بدعتی ) کو پناہ دے گا تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے ۔ مسدد کہتے ہیں : ابن ابی عروبہ سے منقول ہے کہ انہوں نے ایک کتاب نکالی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 37
Hadith 4531
Chapter 1654: Should A Muslim Be Killed In Retaliation For A Disbeliever ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ عَلِيٍّ زَادَ فِيهِ ‏ "‏ وَيُجِيرُ عَلَيْهِمْ أَقْصَاهُمْ وَيَرُدُّ مُشِدُّهُمْ عَلَى مُضْعِفِهِمْ وَمُتَسَرِّيهِمْ عَلَى قَاعِدِهِمْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Suh'aib:

On his father's authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) said, mentioning the tradition similar to the one transmitted by Ali. This version adds: The most distant of them gives protection as from all, those who are strong among them send back (spoil) to those who are weak among them, and their expeditions sending it back to those who are at home.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : … پھر راوی نے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ان کا ادنی شخص بھی امان دے سکتا ہے اور مال غنیمت میں عمدہ جانور اور کمزور جانور والے دونوں برابر ہیں ، جو لشکر سے باہر نکلے اور لڑے اور وہ جو لشکر میں بیٹھا رے دونوں برابر ہیں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 38
Hadith 4532
Chapter 1655: If A Man Finds A Man With His Wife, Should He Kill Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ الْحَوْطِيُّ، - الْمَعْنَى وَاحِدٌ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يَجِدُ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ سَعْدٌ بَلَى وَالَّذِي أَكْرَمَكَ بِالْحَقِّ ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اسْمَعُوا إِلَى مَا يَقُولُ سَيِّدُكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ‏"‏ إِلَى مَا يَقُولُ سَعْدٌ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

That Sa'd b. 'Ubadah said: Messenger of Allah! If a man finds a man with his wife, should he kill him ? The Messenger of Allah (ﷺ) said: No. Sa'd : Why not, by Him who has honoured you with truth ? The Prophet (ﷺ) said: Listen to what your chief is saying. The narrator 'Abd al-Wahhab said: (Listen) to what Sa'd is saying.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پائے تو کیا اسے قتل کر دے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نہیں “ سعد نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ عزت دی ( میں تو اسے قتل کر دوں گا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سنو ! جو تمہارے سردار کہہ رہے ہیں “ ( عبدالوہاب کے الفاظ ہیں ، ( سنو ) جو سعد کہہ رہے ہیں ) ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 39
Hadith 4533
Chapter 1655: If A Man Finds A Man With His Wife, Should He Kill Him ? - كتاب الديات

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَرَأَيْتَ لَوْ وَجَدْتُ مَعَ امْرَأَتِي رَجُلاً أُمْهِلُهُ حَتَّى آتِيَ بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ قَالَ ‏ "‏ نَعَمْ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

That Sa'd b. 'Ubadah said to the Messenger of Allah (ﷺ) : What do you think if I find with my wife a man ; should I give him some time until I bring four witnesses ?" He said: "Yes".

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : بتائیے اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو کیا چار گواہ لانے تک اسے مہلت دوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 40
Hadith 4534
Chapter 1656: Injury Caused Accidentally By The Zakah Collector - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم بَعَثَ أَبَا جَهْمِ بْنَ حُذَيْفَةَ مُصَدِّقًا فَلاَجَّهُ رَجُلٌ فِي صَدَقَتِهِ فَضَرَبَهُ أَبُو جَهْمٍ فَشَجَّهُ فَأَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا الْقَوَدَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ ‏"‏ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَلَمْ يَرْضَوْا فَقَالَ ‏"‏ لَكُمْ كَذَا وَكَذَا ‏"‏ ‏.‏ فَرَضُوا ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنِّي خَاطِبٌ الْعَشِيَّةَ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَخَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ إِنَّ هَؤُلاَءِ اللَّيْثِيِّينَ أَتَوْنِي يُرِيدُونَ الْقَوَدَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِمْ كَذَا وَكَذَا فَرَضُوا أَرَضِيتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا لاَ ‏.‏ فَهَمَّ الْمُهَاجِرُونَ بِهِمْ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَكُفُّوا عَنْهُمْ فَكَفُّوا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَزَادَهُمْ فَقَالَ ‏"‏ أَرَضِيتُمْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالُوا نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنِّي خَاطِبٌ عَلَى النَّاسِ وَمُخْبِرُهُمْ بِرِضَاكُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏ فَخَطَبَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ أَرَضِيتُمْ ‏"‏ ‏.‏ قَالُوا نَعَمْ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

The Prophet (ﷺ) sent AbuJahm ibn Hudhayfah as a collector of zakat. A man quarrelled with him about his sadaqah (i.e. zakat), and AbuJahm struck him and wounded his head. His people came to the Prophet (ﷺ) and said: Revenge, Messenger of Allah! The Prophet (ﷺ) said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. But they did not agree. He again said: You may have so much and so much. So they agreed. The Prophet (ﷺ) said: I am going to address the people in the afternoon and tell them about your consent. They said: Yes. Addressing (the people), the Messenger of Allah (ﷺ) said: These people of faith came to me asking for revenge. I presented them with so much and so much and they agreed. Do you agree? They said: No. The immigrants (muhajirun) intended (to take revenge) on them. But the Messenger of Allah (ﷺ) commanded them to refrain and they refrained. He then called them and increased (the amount), and asked: Do you agree? They replied: Yes. He said: I am going to address the people and tell them about your consent. They said: Yes. The Prophet (ﷺ) addressed and said: Do you agree? They said: Yes.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوجہم بن حذیفہ کو زکاۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا ، ایک شخص نے اپنی زکاۃ کے سلسلہ میں ان سے جھگڑا کر لیا ، ابوجہم نے اسے مارا تو اس کا سر زخمی ہو گیا ، تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اللہ کے رسول ! قصاص دلوائیے ، اس پر آپ نے ان سے فرمایا : ” تم اتنا اور اتنا لے لو “ لیکن وہ لوگ راضی نہیں ہوئے ، تو آپ نے فرمایا : ” اچھا اتنا اور اتنا لے لو “ وہ اس پر بھی راضی نہیں ہوئے تو آپ نے فرمایا : ” اچھا اتنا اور اتنا لے لو “ اس پر وہ رضامند ہو گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آج شام کو میں لوگوں کے سامنے خطبہ دوں گا اور انہیں تمہاری رضا مندی کی خبر دوں گا “ لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، اور فرمایا : ” قبیلہ لیث کے یہ لوگ قصاص کے ارادے سے میرے پاس آئے ہیں تو میں نے ان کو اتنا اور اتنا مال پیش کیا اس پر یہ راضی ہو گئے ہیں ( پھر آپ نے انہیں مخاطب کر کے پوچھا : ) بتاؤ کیا تم لوگ راضی ہو ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، تو مہاجرین ان پر جھپٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان سے باز رہنے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ رک گئے ، پھر آپ نے انہیں بلایا ، اور کچھ اضافہ کیا پھر پوچھا : ” کیا اب تم راضی ہو ؟ “ انہوں نے کہا : ہاں ، آپ نے فرمایا : ” میں لوگوں کو خطاب کروں گا ، اور انہیں تمہاری رضا مندی کے بارے میں بتاؤں گا “ لوگوں نے کہا : ٹھیک ہے ، چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطاب کیا ، اور پوچھا : ” کیا تم راضی ہو ؟ “ وہ بولے : ہاں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 41
Hadith 4535
Chapter 1657: Retaliation Without A Weapon Of Iron - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ جَارِيَةً، وُجِدَتْ، قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ فَقِيلَ لَهَا مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا أَفُلاَنٌ أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ ‏.‏

Narrated Anas:

A girl was found with her head crushed between two stoned. She was asked: Who did it with you ? Was it so and so ? Was it so and so ? Until the Jew was named. Thereupon she gave a sign with her head. The Jew was arrested and he admitted. So the Prophet (ﷺ) gave command that his head should be crushed with stones.

انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا ، اس سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا ، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں ، چنانچہ اس یہودی کو پکڑا گیا ، اس نے اقبال جرم کر لیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 42
Hadith 4536
Chapter 1658: Retaliation Of A Ruler On Himself For Striking Someone - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرٍو، - يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ - عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ عُبَيْدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْسِمُ قَسْمًا أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْهِ فَطَعَنَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَهُ فَجُرِحَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ تَعَالَ فَاسْتَقِدْ ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ بَلْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ‏.‏

Narrated AbuSa'id al-Khudri:

When the Messenger of Allah (ﷺ) was distributing something, a man came towards him and bent down on him. The Messenger of Allah (ﷺ) struck him with a bough and his face was wounded. The Messenger of Allah (ﷺ) said to him: Come and take retaliation. He said: no, I have forgiven, Messenger of Allah!.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ تقسیم کر رہے تھے کہ اسی دوران ایک شخص آیا اور آپ کے اوپر جھک گیا تو اس کے چہرے پر خراش آ گئی تو آپ نے ایک لکڑی جو آپ کے پاس تھی اسے چبھو دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : ” آؤ قصاص لے لو ۱؎ “ وہ بولا : اللہ کے رسول ! میں نے معاف کر دیا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 43
Hadith 4537
Chapter 1658: Retaliation Of A Ruler On Himself For Striking Someone - كتاب الديات

حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي فِرَاسٍ، قَالَ خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رضى الله عنه فَقَالَ إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ عُمَّالِي لِيَضْرِبُوا أَبْشَارَكُمْ وَلاَ لِيَأْخُذُوا أَمْوَالَكُمْ فَمَنْ فُعِلَ بِهِ ذَلِكَ فَلْيَرْفَعْهُ إِلَىَّ أَقُصُّهُ مِنْهُ قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لَوْ أَنَّ رَجُلاً أَدَّبَ بَعْضَ رَعِيَّتِهِ أَتَقُصُّهُ مِنْهُ قَالَ إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ أَقُصُّهُ وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقَصَّ مِنْ نَفْسِهِ ‏.‏

Narrated Abu Firas:

'Umar b. al-Khattab (ra) addressed us and said: I did not send my collectors (of zakat) so that they strike your bodies and that they take your property. If that is done with someone and he appeals to me, I shall take retaliation on him. Amr ibn al-'As said: If any man (i.e. governor) inflicts disciplinary punishment on his subjects, would you take retaliation on him too? He said: Yes, by Him in Whose hand my soul is, I shall take retaliation on him. I saw that the Messenger of Allah (ﷺ) has given retaliation on himself.

ابوفراس کہتے ہیں کہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا اور کہا : ” میں نے اپنے گورنر اس لیے نہیں بھیجے کہ وہ تمہاری کھالوں پہ ماریں ، اور نہ اس لیے کہ وہ تمہارے مال لیں ، لہٰذا اگر کسی کے ساتھ ایسا سلوک ہو تو وہ اسے مجھ تک پہنچائے ، میں اس سے اسے قصاص دلواؤں گا “ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر کوئی شخص اپنی رعیت کو تادیباً سزا دے تو اس پر بھی آپ اس سے قصاص لیں گے ، وہ بولے : ” ہاں ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے قصاص لوں گا “ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اپنی ذات سے قصاص دلایا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 44
Hadith 4538
Chapter 1659: A Woman Has The Right To Waive Retaliation For Killing - كتاب الديات

حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ حِصْنًا، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَمَةَ، يُخْبِرُ عَنْ عَائِشَةَ، رضى الله عنها عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ قَالَ ‏"‏ عَلَى الْمُقْتَتِلِينَ أَنْ يَنْحَجِزُوا الأَوَّلَ فَالأَوَّلَ وَإِنْ كَانَتِ امْرَأَةً ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ بَلَغَنِي أَنَّ عَفْوَ النِّسَاءِ فِي الْقَتْلِ جَائِزٌ إِذَا كَانَتْ إِحْدَى الأَوْلِيَاءِ وَبَلَغَنِي عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ فِي قَوْلِهِ ‏"‏ يَنْحَجِزُوا ‏"‏ ‏.‏ يَكُفُّوا عَنِ الْقَوَدِ ‏.‏

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin:

The Prophet (ﷺ) Said: The disputants should refrain from taking retaliation. The one who is nearer should forgive first and then the one who is next to him, even if (the one who forgives) were a woman. Abu Dawud said: I have been informed that forgiving by women in the case of murder is permissible if a woman were one of the heirs (of the slain). I have been told on the authority of Abu 'Ubaid about the meaning of the word yanhajizu, that is, they should refrain from retaliation.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لڑنے والوں پر لازم ہے کہ وہ قصاص لینے سے باز رہیں ، پہلے جو سب سے قریبی ہے وہ معاف کرے ، پھر اس کے بعد والے خواہ وہ عورت ہی ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ عورتوں کا قتل کے سلسلے میں قصاص معاف کر دینا جائز ہے جب وہ مقتول کے اولیاء میں سے ہوں ، اور مجھے ابو عبید کے واسطے سے یہ بات پہنچی ہے کہ آپ کے قول «ينحجزوا» کے معنی قصاص سے باز رہنے کے ہیں ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 45
Hadith 4539
Chapter 1660: One Who Is Killed In A Fight Among People And His Killer Is Not Known - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، - وَهَذَا حَدِيثُهُ - عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ مَنْ قُتِلَ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا فِي رَمْىٍ يَكُونُ بَيْنَهُمْ بِحِجَارَةٍ أَوْ ضَرْبٍ بِالسِّيَاطِ أَوْ ضَرْبٍ بِعَصًا فَهُوَ خَطَأٌ وَعَقْلُهُ عَقْلُ الْخَطَإِ وَمَنْ قُتِلَ عَمْدًا فَهُوَ قَوَدٌ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ عُبَيْدٍ ‏"‏ قَوَدُ يَدٍ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ اتَّفَقَا ‏"‏ وَمَنْ حَالَ دُونَهُ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَغَضَبُهُ لاَ يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلاَ عَدْلٌ ‏"‏ ‏.‏ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ ‏.‏

Tawus, in his version said:

If anyone is killed. Ibn 'Ubaid in his version said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: If anyone is killed in error (blindly) when people are throwing stones, or by beating with whips, or striking with a stick, it is accidental and the compensation for accidental death is due. But if anyone is killed deliberately, retaliation is due. Ibn 'Ubaid in his version: Retaliation of the man is due. The agreed version then goes: If anyone comes in (between the two parties) to prevent it, Allah's curse and anger will rest on him, and neither supererogatory nor obligatory acts will be accepted from him. The version of the tradition of Sufyan is more perfect.

طاؤس کہتے ہیں کہ

جو مارا جائے ، اور ابن عبید کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی کسی لڑائی یا دنگے میں جو لوگوں میں چھڑ گئی ہو غیر معروف پتھر ، کوڑے ، یا لاٹھی سے مارا جائے ۱؎ تو وہ قتل خطا ہے ، اور اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہو گی ، اور جو قصداً مارا جائے تو اس میں قصاص ہے “ ( البتہ ابن عبید کی روایت میں ہے کہ ) اس میں ہاتھ کا قصاص ہے ، ۲؎ ( پھر دونوں کی روایت ایک ہے کہ ) جو کوئی اس کے بیچ بچاؤ میں پڑے ۳؎ تو اس پر اللہ کی لعنت ، اور اس کا غضب ہو ، اس کی نہ توبہ قبول ہو گی اور نہ فدیہ ، یا اس کے فرض قبول ہوں گے نہ نفل اور سفیان کی حدیث زیادہ کامل ہے ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 46
Hadith 4540
Chapter 1660: One Who Is Killed In A Fight Among People And His Killer Is Not Known - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي غَالِبٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ سُفْيَانَ ‏.‏

Narrated Ibn 'Abbas:

The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: He then mentioned the rest of the tradition to the same effect as mentioned by Sufyan.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آگے راوی نے سفیان کی حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 47
Hadith 4541
Chapter 1661: The Amount Of The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى أَنَّ مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ ثَلاَثُونَ بِنْتَ مَخَاضٍ وَثَلاَثُونَ بِنْتَ لَبُونٍ وَثَلاَثُونَ حِقَّةً وَعَشْرَةٌ بَنِي لَبُونٍ ذَكَرٍ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Suh'aib:

On his father's authority, said that his grandfather reported the Messenger of Allah (ﷺ) gave judgment that if anyone is killed accidentally, his blood-wit should be one hundred camels: thirty she-camels which had entered their second year, thirty she-camels which had entered their third year, thirty she-camels which had entered their fourth year, and ten male camels which had entered their third year.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا : ” جو غلطی سے مارا گیا تو اس کی دیت سو اونٹ ہے تیس بنت مخاض ۱؎ تیس بنت لبون ۲؎ تیس حقے ۳؎ اور دس نر اونٹ جو دو برس کے ہو چکے ہوں “ ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 48
Hadith 4542
Chapter 1661: The Amount Of The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَكِيمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ كَانَتْ قِيمَةُ الدِّيَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَمَانَمِائَةِ دِينَارٍ أَوْ ثَمَانِيَةَ آلاَفِ دِرْهَمٍ وَدِيَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ يَوْمَئِذٍ النِّصْفُ مِنْ دِيَةِ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ فَقَامَ خَطِيبًا فَقَالَ أَلاَ إِنَّ الإِبِلَ قَدْ غَلَتْ ‏.‏ قَالَ فَفَرَضَهَا عُمَرُ عَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفَ دِينَارٍ وَعَلَى أَهْلِ الْوَرِقِ اثْنَىْ عَشَرَ أَلْفًا وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَىْ حُلَّةٍ ‏.‏ قَالَ وَتَرَكَ دِيَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ لَمْ يَرْفَعْهَا فِيمَا رَفَعَ مِنَ الدِّيَةِ ‏.‏

Narrated 'Amr b. Suh'aib:

On his father's authority, said that his grandfather reported that the value of the blood-money at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) was eight hundred dinars or eight thousand dirhams, and the blood-money for the people of the Book was half of that for Muslims. He said: This applied till Umar (Allah be pleased with him) became caliph and he made a speech in which he said: Take note! Camels have become dear. So Umar fixed the value for those who possessed gold at one thousand dinars, for those who possessed silver at twelve thousand (dirhams), for those who possessed cattle at two hundred cows, for those who possessed sheep at two thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing at two hundred suits. He left the blood-money for dhimmis (protected people) as it was, not raising it in proportion to the increase he made in the blood-wit.

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں دیت کی قیمت ۱؎ آٹھ سو دینار ، یا آٹھ ہزار درہم تھی ، اور اہل کتاب کی دیت اس وقت مسلمانوں کی دیت کی آدھی تھی ، پھر اسی طرح حکم چلتا رہا ، یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا ، اور فرمایا : سنو ، اونٹوں کی قیمت بڑھ گئی ہے ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سونے والوں پر ایک ہزار دینار ، اور چاندی والوں پر بارہ ہزار ( درہم ) دیت ٹھہرائی ، اور گائے بیل والوں پر دو سو گائیں ، اور بکری والوں پر دو ہزار بکریاں ، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑوں کی دیت مقرر کی ، اور ذمیوں کی دیت چھوڑ دی ، ان کی دیت میں ( مسلمانوں کی دیت کی طرح ) اضافہ نہیں کیا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 49
Hadith 4543
Chapter 1661: The Amount Of The Diyah - كتاب الديات

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَضَى فِي الدِّيَةِ عَلَى أَهْلِ الإِبِلِ مِائَةً مِنَ الإِبِلِ وَعَلَى أَهْلِ الْبَقَرِ مِائَتَىْ بَقَرَةٍ وَعَلَى أَهْلِ الشَّاءِ أَلْفَىْ شَاةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْحُلَلِ مِائَتَىْ حُلَّةٍ وَعَلَى أَهْلِ الْقَمْحِ شَيْئًا لَمْ يَحْفَظْهُ مُحَمَّدٌ ‏.‏

Narrated Ata' ibn AbuRabah:

The Messenger of Allah (ﷺ) gave judgment that blood-wit for those who possessed camels should be one hundred camels, and for those who possessed cattle two hundred cows, and for those who possessed sheep one thousand sheep, and for those who possessed suits of clothing two hundred suits, and for those who possessed wheat something which the narrator Muhammad (ibn Ishaq) did not remember.

عطا بن ابی رباح سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیت کے سلسلے میں فیصلہ فرمایا کہ اونٹ والوں پر سو اونٹ ، گائے بیل والوں پر دو سو گائیں ، بکری والوں پر دو ہزار بکریاں ، اور کپڑے والوں پر دو سو جوڑے کپڑے ، اور گیہوں والوں پر بھی کچھ مقرر کیا جو محمد ( محمد بن اسحاق ) کو یاد نہیں رہا ۔

In-book reference : Book 41, Hadith 50
Page 2 of 5

Showing 25 hadiths on this page (Total: 102 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 2 of 5 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00