The solar eclipse took place... The narrator then narrated the tradition like that of Musa. The narrator again said: Until the stars appear (in the heaven).
ہلال بن عامر سے روایت ہے کہ
قبیصہ ہلالی نے ان سے بیان کیا ہے کہ سورج میں گرہن لگا ، پھر انہوں نے موسیٰ کی روایت کے ہم معنی روایت ذکر کی ، اس میں ہے : یہاں تک کہ ستارے دکھائی دینے لگے ۔
Chapter 6: The Recitation In The Eclipse Prayer - كتاب الاستسقاء
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَمِّي، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، كُلُّهُمْ قَدْ حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَقَامَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ - وَسَاقَ الْحَدِيثَ - ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ فَحَزَرْتُ قِرَاءَتَهُ فَرَأَيْتُ أَنَّهُ قَرَأَ بِسُورَةِ آلِ عِمْرَانَ .
Narrated Aishah:
There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) came out and led the people in prayer. he stood up and I guessed that he recited Surah al-Baqarah. The narrator then further transmitted the tradition. He (the Prophet) then prostrated himself twice, and then stood up and prolonged the recitation. then I guessed his recitation and knew that he recited Surah Al-i-Imran.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ نکلے اور لوگوں کو نماز پڑھائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تو میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ لگایا تو مجھے لگا کہ آپ نے سورۃ البقرہ کی قرآت کی ہے ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ، اس میں ہے : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کئے پھر کھڑے ہوئے اور لمبی قرآت کی ، میں نے آپ کی قرآت کا اندازہ کیا کہ آپ نے سورۃ آل عمران کی قرآت کی ہے ۔
An eclipse of the sun took place. the Messenger of Allah (ﷺ) prayed along with the people. He stood up for a long time nearly equal to the recitation of Surah al Baqarah. H then bowed. The narrator then transmitted the rest of the tradition.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گرہن کی نماز پڑھی اور آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ البقرہ کی قرآت کے برابر طویل قیام کیا ، پھر رکوع کیا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
Chapter 8: Giving Charity During An Eclipse - كتاب الاستسقاء
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ
" الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ يُخْسَفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا " .
Narrated A'ishah (May Allah be pleased with her):
The sun and the moon are not eclipsed on account of anyone's death or on account of anyone's birth. So when you see that, supplicate Allah, declare His greatness, and give alms.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سورج اور چاند میں گرہن کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں لگتا ہے ، جب تم اسے دیکھو تو اللہ عزوجل سے دعا کرو اور اس کی بڑائی بیان کرو اور صدقہ و خیرات کرو “ ۔
There was an eclipse of the sun in the time of the Prophet (ﷺ). He began to pray a series of pairs of rak'ahs enquiring about the sun (at the end of them) till it became clear.
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا تو آپ دو دو رکعتیں پڑھتے جاتے اور سورج کے متعلق پوچھتے جاتے یہاں تک کہ وہ صاف ہو گیا ۔
Chapter 10: Whoever Said That Only Two Ruku' Should Be Performed (In Eclipse Prayer) - كتاب الاستسقاء
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يَكَدْ يَرْكَعُ ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ ثُمَّ رَفَعَ وَفَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ فَقَالَ " أُفْ أُفْ " . ثُمَّ قَالَ " رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لاَ تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لاَ تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ " . فَفَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ صَلاَتِهِ وَقَدْ أَمْحَصَتِ الشَّمْسُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ .
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-'As:
There was an eclipse of the sun in the time of the Messenger of Allah (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) stood up and he was not going to perform bowing till he bowed; and he was not going to raise his head till he raised (after bowing); and he was not going to prostrate himself till he prostrated himself; and he was not going to raise his head till he raised (at the end of prostration); he did similarly in the second rak'ah, he then puffed in the last prostration saying; Fie, Fie! He then said: My Lord, didst Thou not promise me that Thou wouldst not punish them so long as I will remain among them? Didst Thou not promise me that Thou will not punish them so long as they continue to beg pardon of Thee. The Messenger of Allah (ﷺ) finished the prayer, and the sun was clear. The narrator then narrated the tradition (in full).
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں سورج گرہن لگا ، تو آپ نماز کسوف کے لیے کھڑے ہوئے تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع ہی نہیں کریں گے ، پھر رکوع کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع سے سر اٹھائیں گے ہی نہیں ، پھر سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے ، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے ، پھر سجدے سے سر اٹھایا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ ہی نہیں کریں گے ، پھر سجدہ کیا تو ایسا لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے سر ہی نہیں اٹھائیں گے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سے سر اٹھایا ، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کیا ، پھر اخیر سجدے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھونک ماری اور ” اف اف “ کہا : پھر فرمایا : ” اے میرے رب ! کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک میں ان میں رہوں گا ؟ کیا تو نے مجھ سے یہ وعدہ نہیں کیا ہے کہ تو انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے ؟ “ ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور حال یہ تھا کہ سورج بالکل صاف ہو گیا تھا ، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۔
Chapter 10: Whoever Said That Only Two Ruku' Should Be Performed (In Eclipse Prayer) - كتاب الاستسقاء
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَمَّى، بِأَسْهُمٍ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَقُلْتُ لأَنْظُرَنَّ مَا أُحْدِثَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ الْيَوْمَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ وَيُحَمِّدُ وَيُهَلِّلُ وَيَدْعُو حَتَّى حُسِرَ عَنِ الشَّمْسِ فَقَرَأَ بِسُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ .
Narrated 'Abd al-Rahman b. Samurah :
During the lifetime of the Messenger of Allah (peace be upon him) I was shooting some arrows when an eclipse of the sun tok place. I, therefore , threw them (the arrows) away and said: I must see how the Messenger of Allah (ﷺ) acts in a solar eclipse today. So I came to him; he was standing (in prayer) raising his hands, glorifying Allah, praising Him, acknowledging that He is the only Deity, and making supplication till the sun was clear. He then recited two surahs and prayed two rak'ahs.
عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا کہ اسی دوران سورج گرہن لگا تو میں نے انہیں پھینک دیا اور کہا کہ میں ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ سورج گرہن آج کیا نیا واقعہ رونما کرے گا ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ دونوں ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح ، تحمید اور تہلیل اور دعا کر رہے تھے یہاں تک کہ سورج سے گرہن چھٹ گیا ، اس وقت آپ نے ( نماز کسوف کی دونوں رکعتوں ) میں دو سورتیں پڑھیں اور دو رکوع کئے ۔
Ubaydullah ibn an-Nadr reported on the authority of his father: Darkness prevailed in the time of Anas ibn Malik, I came to Anas and said (to him): AbuHamzah, did anything like this happen to you in the time of the Messenger of Allah (ﷺ)? He replied: Take refuge in Allah. If the wind blew violently, we would run quickly towards the mosque for fear of the coming of the Day of Judgment.
نضر کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں تاریکی چھا گئی ، تو میں آپ کے پاس آیا اور کہا : ابوحمزہ ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بھی آپ لوگوں پر اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی ؟ انہوں نے کہا : اللہ کی پناہ ، اگر ہوا ذرا زور سے چلنے لگتی تو ہم قیامت کے خوف سے بھاگ کر مسجد آ جاتے تھے ۔
Chapter 12: Prostrating At Times Of Calamities - كتاب الاستسقاء
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ قِيلَ لاِبْنِ عَبَّاسٍ مَاتَتْ فُلاَنَةُ بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهُ أَتَسْجُدُ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" إِذَا رَأَيْتُمْ آيَةً فَاسْجُدُوا " . وَأَىُّ آيَةٍ أَعْظَمُ مِنْ ذَهَابِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم
Ikrimah said:
Ibn Abbas was informed that so-and-so, a certain wife of the Prophet (ﷺ), had died. He fell down prostrating himself. He was questioned: Why do you prostrate yourself this moment? He said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: When you see a portent (an accident), prostrate yourselves. And which portent (accident) can be greater than the death of a wife of the Prophet (ﷺ).
عکرمہ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فلاں بیوی کا انتقال ہو گیا ہے ، تو وہ یہ سن کر سجدے میں گر پڑے ، ان سے کہا گیا : کیا اس وقت آپ سجدہ کر رہے ہیں ؟ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم کوئی نشانی ( یعنی بڑا حادثہ ) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کی موت سے بڑھ کر کون سی نشانی ہو سکتی ہے ؟ ۔