The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: No vow must be taken to do an act of disobedience, and the atonement for it is the same as for an oath.
Ahmad b. Muhammad al-Marwazi said: The correct chain of this tradition is: 'Ali b. al-Mubarak, from Yahya b. Abi Kathir, from Muhammad b. al-Zubair, from his father, on the authority of 'Imran b. Husain from the Prophet (ﷺ)
Abu Dawud said: By this he (al-Marwazi) means that the narrator Sulaiman b. Arqam had some misunderstanding about this tradition. Al-Zuhri narrated it from him and then transmitted it (omitting his name) from Abu Salamah on the authority of 'Aishah.
Abu Dawud said: Baqiyyah has transmitted it from al-Auza'i from Yahya, from Muhammad b. al-Zubair with a similar chain of Ibn al-Mubarak.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” معصیت کی نذر نہیں ہے ( یعنی اس کا پورا کرنا جائز نہیں ہے ) اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے “ ۔ احمد بن محمد مروزی کہتے ہیں : اصل حدیث علی بن مبارک کی حدیث ہے جسے انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے انہوں نے محمد بن زبیر سے اور محمد نے اپنے والد زبیر سے اور زبیر نے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اور عمران نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔ احمد کی مراد یہ ہے کہ سلیمان بن ارقم کو اس حدیث میں وہم ہو گیا ہے ان سے زہری نے لے کر اس کو مرسلاً ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بقیہ نے اوزاعی سے ، اوزاعی نے یحییٰ سے ، یحییٰ نے محمد بن زبیر سے علی بن مبارک کی سند سے اسی کے ہم مثل روایت کیا ہے ۔
Uqbah consulted the Prophet (ﷺ) about his sister who took a vow to perform hajj barefooted and bareheaded. So he said: Command her to cover her head and to ride, and to fast three days.
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ایک بہن کے بارے میں پوچھا جس نے نذر مانی تھی کہ وہ ننگے پیر اور ننگے سر حج کرے گی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حکم دو کہ اپنا سر ڈھانپ لے اور سواری پر سوار ہو اور ( بطور کفارہ ) تین دن کے روزے رکھے “ ۔
The tradition mentioned above has also been transmitted by Abu Sa'id al-Ru'aini with the same chain as narrated by Yahya (b. Sa'id) and to the same effect.
عبدالرزاق کہتے ہیں : ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ
یحییٰ بن سعید نے مجھے لکھا کہ مجھے بنو ضمرہ کے غلام عبیداللہ بن زحر نے یا کوئی بھی رہے ہوں خبر دی کہ انہیں ابوسعید رعینی نے یحییٰ کی سند سے اسی مفہوم کی حدیث کی خبر دی ہے ۔
Chapter 1236: The View That Atonement Is Necessary If A Man Vows To Disobey Allah - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، مَوْلَى آلِ طَلْحَةَ عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ - يَعْنِي - أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم :
" إِنَّ اللَّهَ لاَ يَصْنَعُ بِشَقَاءِ أُخْتِكَ شَيْئًا، فَلْتَحُجَّ رَاكِبَةً وَلْتُكَفِّرْ عَنْ يَمِينِهَا " .
Narrated Abdullah ibn Abbas:
A man came to Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, my sister has taken a vow to perform hajj on foot. The Prophet (ﷺ) said: Allah gets no good from the affliction your sister imposed on herself, so let her perform hajj riding and make atonement for her oath.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری بہن نے پیدل حج کرنے کے لیے جانے کی نذر مانی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ تمہاری بہن کی سخت کوشی پر کچھ نہیں کرے گا ( یعنی اس مشقت کا کوئی ثواب نہ دے گا ) اسے چاہیئے کہ وہ سوار ہو کر حج کرے اور قسم کا کفارہ دیدے “ ۔
Chapter 1236: The View That Atonement Is Necessary If A Man Vows To Disobey Allah - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ أُخْتَ، عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى الْبَيْتِ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَنْ تَرْكَبَ وَتُهْدِيَ هَدْيًا .
Narrated Ibn 'Abbas:
That the sister of 'Uqbah b. 'Amir took vow to walk on foot to the Ka'bah. Thereupon the Prophet (ﷺ) ordered her to ride and slaughter a sacrificial animal.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل بیت اللہ جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سواری سے جانے اور ہدی ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔
Chapter 1236: The View That Atonement Is Necessary If A Man Vows To Disobey Allah - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم لَمَّا بَلَغَهُ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً قَالَ :
" إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ نَذْرِهَا، مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ " . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ وَخَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Narrated Ibn 'Abbas:
That when the Prophet (ﷺ) was informed that the sister of 'Uqbah b. 'Amir had taken a vow to perform Hajj on foot, he said: Allah is not in need of her vow. So ask her to ride.
Abu Dawud said: Sa'ib b. 'Arubah has transmitted a similar tradition. Khalid has also transmitted a similar tradition on the authority of 'Ikrimah from the Prophet (ﷺ).
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب خبر ملی کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس کی نذر سے بے نیاز ہے ، اسے کہو : سوار ہو جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح اور خالد نے عکرمہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔
The tradition about the sister of 'Uqbah b. 'Amir as narrated by Hisham, but he made no mention of the sacrificial animal. In his version he said: Ask your sister to ride.
Abu Dawud said: Khalid narrated it from 'Ikrimah to the same effect as narrated by Hisham.
عکرمہ سے روایت ہے کہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن ، آگے وہی باتیں ہیں جو ہشام کی حدیث میں ہے لیکن اس میں ہدی کا ذکر نہیں ہے نیز اس میں ہے : «مر أختك فلتركب» ” اپنی بہن کو حکم دو کہ وہ سوار ہو جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے خالد نے عکرمہ سے ہشام کے ہم معنی روایت کیا ہے ۔
Chapter 1236: The View That Atonement Is Necessary If A Man Vows To Disobey Allah - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ : نَذَرَتْ أُخْتِي أَنْ تَمْشِيَ، إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، فَأَمَرَتْنِي أَنْ أَسْتَفْتِيَ لَهَا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَفْتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ :
" لِتَمْشِ وَلْتَرْكَبْ " .
Narrated 'Uqbah bin 'Amir al-Juhani:
My sister took a vow to walk on foot to the House of Allah (i.e. Ka'bah). She asked me to consult the Prophet (ﷺ) about her. So I consulted the Prophet (ﷺ). He said: Let her walk and ride.
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی اور مجھے حکم دیا کہ میں اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ پوچھ کر آؤں ( کہ میں کیا کروں ) تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے فرمایا : ” چاہیئے کہ پیدل بھی چلے اور سوار بھی ہو “ ۔
While the Prophet (ﷺ) was preaching a man was standing in the sun. He asked about him. They said: He is Abu Isra'il who has taken a vow to stand and not to sit, or go into shade, or speak, but to fast. Thereupon he said: Command him to speak, to go into the shade, sit and complete his fast.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران آپ کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو دھوپ میں کھڑا تھا آپ نے اس کے متعلق پوچھا ، تو لوگوں نے بتایا : یہ ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا بیٹھے گا نہیں ، نہ سایہ میں آئے گا ، نہ بات کرے گا ، اور روزہ رکھے گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے حکم دو کہ وہ بات کرے ، سایہ میں آئے اور بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے “ ۔
Chapter 1236: The View That Atonement Is Necessary If A Man Vows To Disobey Allah - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَأَى رَجُلاً يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا : نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ . فَقَالَ :
" إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ " . وَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ : رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ .
Narrated Anas b. Malik :
The Messenger of Allah (ﷺ) saw a man that he was supported between his sons. He asked about him, and (the people) said: He has taken a vow to walk (on foot). Thereupon he said: Allah has no need that this man should punish himself, and he ordered him to ride.
Abu Dawud said: 'Amr b. Abi 'Amir has also narrated a similar tradition from al-A'raj on the authority of Abu Hurairah from the Prophet (ﷺ).
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اپنے دونوں بیٹوں کے درمیان ( سہارا لے کر ) چلتے ہوئے دیکھا تو آپ نے اس کے متعلق پوچھا ، لوگوں نے بتایا : اس نے ( خانہ کعبہ ) پیدل جانے کی نذر مانی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈالے “ آپ نے حکم دیا کہ وہ سوار ہو کر جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو بن ابی عمرو نے اعرج سے ، اعرج نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔
Chapter 1236: The View That Atonement Is Necessary If A Man Vows To Disobey Allah - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي الأَحْوَلُ، أَنَّ طَاوُسًا، أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم مَرَّ وَهُوَ يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانٍ يَقُودُهُ بِخِزَامَةٍ فِي أَنْفِهِ، فَقَطَعَهَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِيَدِهِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُودَهُ بِيَدِهِ .
Narrated Ibn 'Abbas:
The Prophet (ﷺ) while going round the Ka'bah passed a man who was led with a ring of bridle in his nose. The Prophet (ﷺ) cut it off with his hand and ordered to lead him by catching his hand.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کا طواف کرتے ہوئے ایک ایسے انسان کے پاس سے گزرے جس کی ناک میں ناتھ ڈال کر لے جایا جا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی ناتھ کاٹ دی ، اور حکم دیا کہ اس کا ہاتھ پکڑ کر لے جاؤ ۔
The sister of Uqbah ibn Amir took a vow that she would perform hajj on foot, and she was unable to do so. The Prophet (ﷺ) said: Allah is not in need of the walking of your sister. She must ride and offer a sacrificial camel.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی اور پیدل جانے کی طاقت نہیں رکھتی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے ) کہا : ” اللہ تعالیٰ کو تمہاری بہن کے پیدل جانے کی پرواہ نہیں ، ( تم اپنی بہن سے کہو کہ ) وہ سوار ہو جائیں اور ( نذر کے کفارہ کے طور پر ) ایک اونٹ کی قربانی دے دیں “ ۔
Uqbah said to the Prophet (ﷺ): My sister has taken a vow that she will walk to the House of Allah (the Ka'bah). Thereupon he said: Allah will not do anything of the walking of your sister to the House of Allah (i.e. the Ka'bah).
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میری بہن نے بیت اللہ پیدل جانے کی نذر مانی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری بہن کے پیدل بیت اللہ جانے کا اللہ کوئی ثواب نہ دے گا “ ۔
A man stood on the day of Conquest (of Mecca) and said: Messenger of Allah, I have vowed to Allah that if He grants conquest of Mecca at your hands, I shall pray two rak'ahs in Jerusalem. He replied: Pray here. He repeated (his statement) to him and he said: Pray here. He again repeated (his statement) to him. He (the Prophet) replied: Pursue your own course, then.
Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by 'Abd al-Rahman b. 'Awf from the Prophet (ﷺ).
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
فتح مکہ کے دن ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! میں نے اللہ سے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو مکہ پر فتح نصیب کیا تو میں بیت المقدس میں دو رکعت ادا کروں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہیں پڑھ لو “ ( یعنی مسجد الحرام میں اس لیے کہ اس سے افضل ہے اور سہل تر ہے ) ، اس نے پھر وہی بات دہرائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : ” یہیں پڑھ لو “ پھر اس نے ( سہ بارہ ) وہی بات پوچھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اب تمہاری مرضی ( چاہو تو یہاں پڑھ لو اور بیت المقدس جانا چاہو تو وہاں چلے جاؤ ) “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسی طرح سے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے ۔
The tradition mentioned above (No.3299) has also been transmitted by Umar ibn Abd al-Rahman ibn Awf on the authority of his father and the Companions of the Prophet (ﷺ).
This version has:
"The Prophet (ﷺ) said: By Him Who sent Muhammad with truth, if you prayed here, this would be sufficient for you like the prayer in Jerusalem."
Abu Dawud said: This tradition has also been transmitted by al-Ansari, from Ibn-Juraij. He said: Ja'far b. 'Umar and 'Amr b. Hayyah. He said: They transmitted from 'Abd al-Rahman b. 'Awf and from the Companions of the Prophet (ﷺ).
عمر بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بعض صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی ہے لیکن اس میں اتنا اضافہ ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس نے محمد کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر تم یہاں ( یعنی مسجد الحرام میں ) نماز پڑھ لیتے تو تمہارے بیت المقدس میں نماز پڑھنے کی جگہ پر کافی ہوتا “ ( وہاں جانے کی ضرورت نہ رہتی ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے انصاری نے ابن جریج سے روایت کیا ہے ، لیکن انہوں نے حفص بن عمر کے بجائے جعفر بن عمر کہا ہے اور عمرو بن حنۃ کے بجائے عمر بن حیۃ کہا ہے : اور کہا ہے ان دونوں نے عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کچھ لوگوں سے روایت کیا ہے ۔
Chapter 1238: Fulfilling A Vow On Behalf Of One Who Had Died - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، : أَنَّ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ، اسْتَفْتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ لَمْ تَقْضِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" اقْضِهِ عَنْهَا " .
Narrated Ibn 'Abbas:
Sa'd b. 'Ubadah asked the Messenger of Allah (ﷺ): My Mother has died and she could not fulfill her vow which she had taken. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Fulfill it on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا اور کہا کہ میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے اور ان کے ذمہ ایک نذر تھی جسے وہ پوری نہ کر سکیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ان کی جانب سے پوری کر دو “ ۔
A woman made a voyage and vowed that she would fast one month if Allah made her reach her destination with peace and security. Allah made her reach her destination with security but she died before she could fast. Her daughter or sister (the narrator doubted) came to the Messenger of Allah (ﷺ). So he commanded to fast on her behalf.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت بحری سفر پر نکلی اس نے نذر مانی کہ اگر وہ بخیریت پہنچ گئی تو وہ مہینے بھر کا روزہ رکھے گی ، اللہ تعالیٰ نے اسے بخیریت پہنچا دیا مگر روزہ نہ رکھ پائی تھی کہ موت آ گئی ، تو اس کی بیٹی یا بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( مسئلہ پوچھنے ) آئی تو اس کی جانب سے آپ نے اسے روزے رکھنے کا حکم دیا ۔
A woman came to the Prophet (ﷺ) and said: I gave a slave girl to my mother, but she died and left the salve-girl. He said: Your reward became certain for you, and she (the slave-girl) returned to you as inheritance. She said: She died and one month's fast was due from her. He (the narrator) then mentioned the tradition similar to the one mentioned by 'Amr b. 'Awn.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا : میں نے ایک باندی اپنی والدہ کو دی تھی ، اب وہ مر گئیں اور وہی باندی چھوڑ گئیں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ” تمہیں تمہارا اجر مل گیا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی “ اس نے کہا : وہ مر گئیں اور ان کے ذمہ ایک مہینے کا روزہ تھا ، پھر عمرو ( عمرو بن عون ) کی حدیث ( نمبر ۳۳۰۸ ) کی طرح ذکر کیا ۔
A woman came to the Prophet (ﷺ) and said (to him) that one month's fast was due from her mother who had died. May I fulfill them on her behalf? He asked: Suppose some debt was due from your mother, would you pay it ? She replied: Yes. He said: So the debt due to Allah is the one which most deserves to be paid.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے “ ۔
On his father's authority, said that his grandfather said: A woman came to the Prophet (ﷺ) and said: Messenger of Allah, I have taken a vow to play the tambourine over you.
He said: Fulfil your vow.
She said: And I have taken a vow to perform a sacrifice in such a such a place, a place in which people had performed sacrifices in pre-Islamic times.
He asked: For an Idol?
She replied: No.
He asked: For an image?
She replied: No.
He said: Fulfil your vow.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کے سر پر دف بجاؤں گی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( بجا کر ) اپنی نذر پوری کر لو “ اس نے کہا : میں نے ایسی ایسی جگہ قربانی کرنے کی نذر ( بھی ) مانی ہے جہاں جاہلیت کے زمانہ کے لوگ ذبح کیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا کسی صنم ( بت ) کے لیے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، پوچھا : ” کسی وثن ( بت ) کے لیے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی نذر پوری کر لو “ ۔
Chapter 1240: The Commandment To Fulfill Vows - كتاب الأيمان والنذور
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلاَبَةَ، قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ، قَالَ : نَذَرَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ، فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلاً بِبُوَانَةَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم : " هَلْ كَانَ فِيهَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاهِلِيَّةِ يُعْبَدُ " . قَالُوا : لاَ . قَالَ : " هَلْ كَانَ فِيهَا عِيدٌ مِنْ أَعْيَادِهِمْ " . قَالُوا : لاَ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم : " أَوْفِ بِنَذْرِكَ، فَإِنَّهُ لاَ وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلاَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ " .
Narrated Thabit ibn ad-Dahhak:
In the time of the Prophet (ﷺ) a man took a vow to slaughter a camel at Buwanah. So he came to the Prophet (ﷺ) and said: I have taken a vow to sacrifice a camel at Buwanah.
The Prophet (ﷺ) asked: Did the place contain any idol worshipped in pre-Islamic times?
They (the people) said: No.
He asked: Was any pre-Islamic festival observed there?
They replied: No.
The Prophet (ﷺ) said: Fulfil your vow, for a vow to do an act of disobedience to Allah must not be fulfilled, neither must one do something over which a human being has no control.
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ثابت بن ضحاک نے بیان کیا ہے ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے نذر مانی کہ وہ بوانہ ( ایک جگہ کا نام ہے ) میں اونٹ ذبح کرے گا تو وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا کہ میں نے بوانہ میں اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت وہاں تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا کفار کی عیدوں میں سے کوئی عید وہاں منائی جاتی تھی ؟ “ لوگوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی نذر پوری کر لو البتہ گناہ کی نذر پوری کرنا جائز نہیں اور نہ اس چیز میں نذر ہے جس کا آدمی مالک نہیں “ ۔
I went out with my father to see the hajj performed by the Messenger of Allah (ﷺ). I saw the Messenger of Allah (ﷺ). I fixed my eyes on him. My father came near him while he was riding his she-camel. He had a whip like the whip of scribes. I heard the bedouin and the people say: The whip, the whip. My father came near him and held his foot. She said: He admitted his Prophethood and stood and listened to him.
He said: Messenger of Allah, I have made a vow that if a son is born to me, I shall slaughter a number of sheep at the end of Buwanah in the dale of hill.
The narrator said: I do not know (for certain) that she said: Fifty (sheep).
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Does it contain any idol?
He said: No. Then he said: Fulfil your vow that you have taken for Allah. He then gathered them (i.e. the sheep) and began to slaughter them. A sheep ran away from them.
He searched for it saying: O Allah, fulfil my vow on my behalf. So he succeeded (in finding it) and slaughtered it.
میمونہ بنت کردم کہتی ہیں کہ
میں اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلی ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں ، میں نے آپ پر اپنی نظریں گاڑ دیں ، میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہوئے آپ اپنی ایک اونٹنی پر سوار تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس معلمین مکتب کے درہ کے طرح ایک درہ تھا ، میں نے بدویوں اور لوگوں کو کہتے ہوئے سنا : شن شن ( درے کی آواز جو تیزی سے مارتے اور گھماتے وقت نکلتی ہے ) تو میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ہو گئے اور ( جا کر ) آپ کے قدم پکڑ لیے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اعتراف و اقرار کیا ، آپ کھڑے ہو گئے اور ان کی باتیں آپ نے توجہ سے سنیں ، پھر انہوں نے کہا : اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی ہے کہ اگر میرے یہاں لڑکا پیدا ہو گا تو میں بوانہ کی دشوار گزار پہاڑیوں میں بہت سی بکریوں کی قربانی کروں گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے پچاس بکریاں کہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا وہاں کوئی بت بھی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اللہ کے لیے جو نذر مانی ہے اسے پوری کرو “ انہوں نے ( بکریاں ) اکٹھا کیں ، اور انہیں ذبح کرنے لگے ، ان میں سے ایک بکری بدک کر بھاگ گئی تو وہ اسے ڈھونڈنے لگے اور کہہ رہے تھے اے اللہ ! میری نذر پوری کر دے پھر وہ اسے پا گئے تو ذبح کیا ۔
A similar tradition has also been transmitted in brief by Maimunah daughter of Kardam son of Sufyan on the authority of her father through a different chain of narrators. This version adds:
(The Prophet asked): Does it contain an idol or was a festival of pre-Islamic times celebrated there ? He replied: No. I said: This mother of mine has taken a vow and walking (is binding on her). May I fulfill it on her behalf ? Sometimes the narrator Bashshar said: May we fulfill in on her behalf ? He said: Yes.
میمونہ اپنے والد کردم بن سفیان سے
اسی جیسی لیکن اس سے قدرے اختصار کے ساتھ روایت کرتی ہیں آپ نے پوچھا : ” کیا وہاں کوئی بت ہے یا جاہلیت کی عیدوں میں سے کوئی عید ہوتی ہے ؟ “ انہوں نے کہا : نہیں ، میں نے کہا : یہ میری والدہ ہیں ان کے ذمہ نذر ہے ، اور پیدل حج کرنا ہے ، کیا میں اسے ان کی طرف سے پورا کر دوں ؟ اور ابن بشار نے کبھی یوں کہا ہے : کیا ہم ان کی طرف سے اسے پورا کر دیں ؟ ( جمع کے صیغے کے ساتھ ) آپ نے فرمایا : ” ہاں “ ۔
'Adba belonged to a man of Banu 'Aqil. It used to go ahead of pligrims. The man was then captivated. He was brought in chains to the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) was riding on a donkey with a blanket on him. He said: Muhammad, why do you arrest me and capture the one (i.e. the she-camel) which goes ahead of the pilgrims. He replied: We are arresting you on account of the crime committed by your allies Thaqid. Thaqif captivated two persons from among the Companions of the Prophet (ﷺ). He said (whatever he said) I am a Muslim, or he said: I have embraced Islam. When the Prophet (ﷺ) went ahead, he called him: O Muhammed, O Muhammed. Abu Dawud said: I learnt it from the version of the narrator Muhammad b. 'Isa. The Prophet (ﷺ) was compassionate and kind hearted. So he returned to him, and asked: What is the matter with you ? He replied: I am a Muslim. He said: Had you said it when the matter was in your hand, you would have succeeded completely. Abu Dawud said: I then returned to the version of the narrator Sulaiman (b. Harb). He said: Muhammad, I am hungry, so feed me. I am thirsty, so give me water. The Prophet (ﷺ) said: This is your need, or he said: This is his need (the narrator is doubtful). Later on the man was taken back (by Thaqif) as a ransom for the two men (of the Companions of the Prophet). The Prophet (ﷺ) retained 'Adba for his journey. The narrator said: The polytheists raided the pasturing animals of Medina and they took away 'Adba. When they took away 'Adba, they also captivated a Muslim woman. They used to leave their camels in the fields for rest at night. One night they slept and the (Muslim) woman stood up. Any camel on which she put her hand brayed until she came to 'Adba. She came to a she-camel which was docile and experienced. She then rode on her and vowed to Allah that if He saved her, she would sacrifice it. When she came to Medina, the people recognized the she-camel of the Prophet (ﷺ). The Prophet (ﷺ) was then informed about it and he sent for her. She was brought to him and she informed him about her vow. He said: It is a bad return that you have given it. Allah has not saved you, on its (back) that you now sacrifice it. A vow to do an act of disobedience must not be fulfilled, or to do something over which one has no control.
Abu Dawud said: This woman was the wife of Abu Dharr.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
عضباء ۱؎ بنو عقیل کے ایک شخص کی تھی ، حاجیوں کی سواریوں میں آگے چلنے والی تھی ، وہ شخص گرفتار کر کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھا ہوا لایا گیا ، اس وقت آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے ، اس نے کہا : محمد ! آپ نے مجھے اور حاجیوں کی سواریوں میں آگے جانے والی میری اونٹنی ( عضباء ) کو کس بنا پر پکڑ رکھا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے تمہارے حلیف ثقیف کے گناہ کے جرم میں پکڑ رکھا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : ثقیف نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے دو شخصوں کو قید کر لیا تھا ۔ اس نے جو بات کہی اس میں یہ بات بھی کہی کہ میں مسلمان ہوں ، یا یہ کہا کہ میں اسلام لے آیا ہوں ، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے ( آپ نے کوئی جواب نہیں دیا ) تو اس نے پکارا : اے محمد ! اے محمد ! عمران کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رحم دل اور نرم مزاج تھے ، اس کے پاس لوٹ آئے ، اور پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ “ اس نے کہا : میں مسلمان ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم یہ پہلے کہتے جب تم اپنے معاملے کے مختار تھے تو تم بالکل بچ جاتے “ اس نے کہا : اے محمد ! میں بھوکا ہوں ، مجھے کھانا کھلاؤ ، میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلاؤ ۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا : ” یہی تمہارا مقصد ہے “ یا : ” یہی اس کا مقصد ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ دو آدمیوں کے بدلے فدیہ میں دے دیا گیا ۲؎ اور عضباء کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کے لیے روک لیا ( یعنی واپس نہیں کیا ) ۔ پھر مشرکین نے مدینہ کے جانوروں پر حملہ کیا اور عضباء کو پکڑ لے گئے ، تو جب اسے لے گئے اور ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ لے گئے ، جب رات ہوتی تو وہ لوگ اپنے اونٹوں کو اپنے کھلے میدانوں میں سستانے کے لیے چھوڑ دیتے ، ایک رات وہ سب سو گئے ، تو عورت ( نکل بھاگنے کے ارادہ ) سے اٹھی تو وہ جس اونٹ پر بھی ہاتھ رکھتی وہ بلبلانے لگتا یہاں تک کہ وہ عضباء کے پاس آئی ، وہ ایک سیدھی سادی سواری میں مشاق اونٹنی کے پاس آئی اور اس پر سوار ہو گئی اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ نے اسے بچا دیا تو وہ اسے ضرور قربان کر دے گی ۔ جب وہ مدینہ پہنچی تو اونٹنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی حیثیت سے پہچان لی گئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی گئی ، آپ نے اسے بلوایا ، چنانچہ اسے بلا کر لایا گیا ، اس نے اپنی نذر کے متعلق بتایا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کتنا برا ہے جو تم نے اسے بدلہ دینا چاہا ، اللہ نے اسے اس کی وجہ سے نجات دی ہے تو وہ اسے نحر کر دے ، اللہ کی معصیت میں نذر کا پورا کرنا نہیں اور نہ ہی نذر اس مال میں ہے جس کا آدمی مالک نہ ہو “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ عورت ابوذر کی بیوی تھیں ۔