I said: Messenger of Allah, where will you stay tomorrow ? This (happened) during his Hajj. He replied: Has 'Aqil left any house for us ? He then said: We shall stay at the valley of Banu Kinarah where the Quraish took an oath on unbelief. This refers to al-Muhassab. The reason is that Banu Kinarah made an alliance with the Quraish against Banu Hashim that they would have no marital connections with them, nor will have commercial transactions with them, not will give them any refuge.
Al-Zuhri said: Khalf means valley.
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کل آپ ( مکہ میں ) کہاں اتریں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی جائے قیام چھوڑی ہے ؟ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم بنی کنانہ کے خیف یعنی وادی محصب میں اتریں گے ، جہاں قریش نے کفر پر جمے رہنے کی قسم کھائی تھی “ ۔ بنو کنانہ نے قریش سے عہد لیا تھا کہ وہ بنو ہاشم سے نہ نکاح کریں گے ، نہ خرید و فروخت ، اور نہ انہیں اپنے یہاں جگہ ( یعنی پناہ ) دیں گے ۔ زہری کہتے ہیں : خیف ایک وادی کا نام ہے ۱؎ ۔
I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Islam increases and does not diminish. He, therefore, appointed a Muslim heir (of a non-Muslim).
عبداللہ بن بریدہ کہتے ہیں کہ
دو بھائی اپنا جھگڑا یحییٰ بن یعمر کے پاس لے گئے ان میں سے ایک یہودی تھا ، اور ایک مسلمان ، انہوں نے مسلمان کو میراث دلائی ، اور کہا کہ ابوالاسود نے مجھ سے بیان کیا ہے کہ ان سے ایک شخص نے بیان کیا کہ معاذ رضی اللہ عنہ نے اس سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے : ” اسلام بڑھتا ہے گھٹتا نہیں ہے “ پھر انہوں نے مسلمان کو ترکہ دلایا ۔
Mu'adh bought the property of a Jew whose heir was a Muslim. He then narrated from the Prophet (ﷺ) to the same effect.
ابوالاسود دیلی سے روایت ہے کہ
معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کا ترکہ لایا گیا جس کا وارث ایک مسلمان تھا ، اور اسی مفہوم کی حدیث انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
The Prophet (ﷺ) said: An estate which was divided in pre-Islamic period may follow the division in force then, but any estate in Islamic times must follow the division laid down by Islam.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زمانہ جاہلیت میں جو ترکہ تقسیم ہو گیا ہو وہ زمانہ اسلام میں بھی اسی حال پر باقی رہے گا ، اور جو ترکہ اسلام کے زمانہ تک تقسیم نہیں ہوا تو اب اسلام کے آ جانے کے بعد اسلام کے قاعدہ و قانون کے مطابق تقسیم کیا جائے گا “ ۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ قُرِئَ عَلَى مَالِكٍ وَأَنَا حَاضِرٌ، قَالَ مَالِكٌ عَرَضَ عَلَىَّ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رضى الله عنها أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً تَعْتِقُهَا فَقَالَ أَهْلُهَا نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلاَءَهَا لَنَا . فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَاكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ
" لاَ يَمْنَعُكِ ذَلِكَ فَإِنَّ الْوَلاَءَ لِمَنْ أَعْتَقَ " .
Narrated Ibn 'Umar:
'Aishah, mother of believers (ra), intended to buy a slave-girl to set her free. Her people said: We shall sell her to you on one condition that we shall inherit from her. 'Aishah mentioned it to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: That should not prevent you, for the right of inheritance belongs to the one who has set a person free.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک لونڈی خرید کر آزاد کرنا چاہا تو اس کے مالکوں نے کہا کہ ہم اسے اس شرط پر آپ کے ہاتھ بیچیں گے کہ اس کا حق ولاء ۱؎ ہمیں حاصل ہو ، عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : یہ ” خریدنے میں تمہارے لیے رکاوٹ نہیں کیونکہ ولاء اسی کا ہے جو آزاد کرے “ ۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ وَوَلِيَ النِّعْمَةَ " .
Narrated 'Aishah:
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: The right of inheritance belongs to only to the one who paid the price (of the slave) and patronised him by doing an act of gratitude.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ولاء اس شخص کا حق ہے جو قیمت دے کر خرید لے اور احسان کرے ( یعنی خرید کر غلام کو آزاد کر دے ) “ ۔
On his father's authority, said that his grandfather reported: Rabab ibn Hudhayfah married a woman and three sons were born to him from her. Their mother then died. They inherited her houses and had the right of inheritance of her freed slaves.
Amr ibn al-'As was the agnate of her sons. He sent them to Syria where they died. Amr ibn al-'As then came. A freed slave of hers died and left some property. Her brothers disputed with him and brought the case to Umar ibn al-Khattab.
Umar reported the Messenger of Allah (ﷺ) as saying: Whatever property a son or a father receives as an heir will go to his agnates, whoever they may be. He then wrote a document for him, witnessed by AbdurRahman ibn Awf, Zayd ibn Thabit and one other person. When AbdulMalik became caliph, they presented the case to Hisham ibn Isma'il or Isma'il ibn Hisham (the narrator is doubtful).
He sent them to 'Abd al-Malik who said: This is the decision which I have already seen.
The narrator said: So he ('Abd al-Malik) made the decision on the basis of the document of Umar ibn al-Khattab, and that is still with us till this moment.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رئاب بن حذیفہ نے ایک عورت سے شادی کی ، اس کے بطن سے تین لڑکے پیدا ہوئے ، پھر لڑکوں کی ماں مر گئی ، اور وہ لڑکے اپنی ماں کے گھر کے اور اپنی ماں کے آزاد کئے ہوئے غلاموں کی ولاء کے مالک ہوئے ، اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان لڑکوں کے عصبہ ( یعنی وارث ) ہوئے اس کے بعد عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں شام کی طرف نکال دیا ، اور وہ وہاں مر گئے تو عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ آئے اور اس عورت کا ایک آزاد کیا ہوا غلام مر گیا اور مال چھوڑ گیا تو اس عورت کے بھائی عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اس عورت کے ولاء کا مقدمہ لے گئے ، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو ولاء اولاد یا باپ حاصل کرے تو وہ اس کے عصبوں کو ملے گی خواہ کوئی بھی ہو ( اولاد کے یا باپ کے مر جانے کے بعد ماں کے وارثوں کو نہ ملے گی ) “ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اس باب میں ایک فیصلہ نامہ لکھ دیا اور اس پر عبدالرحمٰن بن عوف اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما اور ایک اور شخص کی گواہی ثابت کر دی ، جب عبدالملک بن مروان خلیفہ ہوئے تو پھر ان لوگوں نے جھگڑا کیا یہ لوگ اپنا مقدمہ ہشام بن اسماعیل یا اسماعیل بن ہشام کے پاس لے گئے انہوں نے عبدالملک کے پاس مقدمہ کو بھیج دیا ، عبدالملک نے کہا : یہ فیصلہ تو ایسا لگتا ہے جیسے میں اس کو دیکھ چکا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں پھر عبدالملک نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ دیا اور وہ ولاء اب تک ہمارے پاس ہے ۔
Tamim asked: Messenger of Allah), what is the sunnah about a man who accepts Islam by advice and persuasion of a Muslim? He replied: He is the nearest to him in life and in death.
تمیم داری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کے بارے میں شرع کا کیا حکم ہے جو کسی مسلمان شخص کے ہاتھ پر ایمان لایا ہو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ شخص دوسروں کی بہ نسبت اس کی موت و حیات کے زیادہ قریب ہے ( اگر اس کا کوئی اور وارث نہ ہو تو وہی وارث ہو گا ) “ ۔
To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion. A man made an agreement with another man (in early days of Islam), and there was no relationship between the ; one of them inherited from the other. The following verse of Surat Al-Anfal abrogated it: "But kindred by blood have prior right against each other."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں
اللہ تعالیٰ کے فرمان : «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» ” جن لوگوں سے تم نے قسمیں کھائی ہیں ان کو ان کا حصہ دے دو “ ( سورۃ النساء : ۳۳ ) کے مطابق پہلے ایک شخص دوسرے شخص سے جس سے قرابت نہ ہوتی باہمی اخوت اور ایک دوسرے کے وارث ہونے کا عہد و پیمان کرتا پھر ایک دوسرے کا وارث ہوتا ، پھر یہ حکم سورۃ الانفال کی آیت : «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ” اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں “ ( سورۃ الانفال : ۷۵ ) سے منسوخ ہو گیا ۔
Ibn 'Abbas explained the following Qur'anic verse :
"To those also, to whom your right hand was pledged, give your portion." When the Emigrants came to Medina. they inherited from the Helpers without any blood-relationship with them for the brotherhood which the Messenger of Allah (ﷺ) established between them. When the following verse was revealed: "To (benefit) everyone we have appointed shares and heirs to property left by parent and relatives." it abrogated the verse: "To those also, to whom your right hand was pledged, give their due portion." This alliance was made for help, well wishing and cooperation. Now a legacy can be made for him. (The right to)inheritance was abolished.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
اللہ تعالیٰ کے قول : «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم» کا قصہ یہ ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اس مواخات ( بھائی چارہ ) کی بنا پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان کرا دی تھی وہ انصار کے وارث ہوتے ( اور انصار ان کے وارث ہوتے ) اور عزیز و اقارب وارث نہ ہوتے ، لیکن جب یہ آیت «ولكل جعلنا موالي مما ترك» ” ماں باپ یا قرابت دار جو چھوڑ کر مریں اس کے وارث ہم نے ہر شخص کے مقرر کر دیے ہیں “ ( سورۃ النساء : ۳۳ ) نازل ہوئی تو «والذين عقدت أيمانكم فآتوهم نصيبهم » والی آیت کو منسوخ کر دیا ، اور اس کا مطلب یہ رہ گیا کہ ان کی اعانت ، خیر خواہی اور سہارے کے طور پر جو چاہے کر دے نیز ان کے لیے وہ ( ایک تہائی مال ) کی وصیت کر سکتا ہے ، میراث ختم ہو گئی ۔
I used to learn the reading of the Qur'an from Umm Sa'd, daughter of al-Rabi'. She was an orphan in the guardianship of Abu Bakr. I read the Qur'anic verse "To those also to whom your right hand was pledged." She said: Do not read the verse; "To those also to whom your right hand was pledged." This was revealed about Abu Bakr and his son 'Abd al-Rahman when he refused to accept Islam. Abu Bakr took an oath that he would not give him a share from inheritance. When he embraced Islam Allah Most High commanded His Prophet (ﷺ) to give him the share.
The narrator 'Abd al-Aziz added: He did not accept Islam until he was urged on Islam by sword.
Abu Dawud said: He who narrated the word 'aqadat means a pact ; and he who narrated the word 'aaqadat means the party who made a pact. The correct is the tradition of Talhah ('aaqadat).
داود بن حصین کہتے ہیں کہ
میں ام سعد بنت ربیع سے ( کلام پاک ) پڑھتا تھا وہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیر پرورش ایک یتیم بچی تھیں ، میں نے اس آیت «والذين عقدت أيمانكم» کو پڑھا تو کہنے لگیں : اس آیت کو نہ پڑھو ، یہ ابوبکر اور ان کے بیٹے عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما کے متعلق اتری ہے ، جب عبدالرحمٰن نے مسلمان ہونے سے انکار کیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قسم کھا لی کہ میں ان کو وارث نہیں بناؤں گا پھر جب وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ نے اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ ( ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہیں ) کہ وہ ان کا حصہ دیں ۔ عبدالعزیز کی روایت میں اتنا زیادہ ہے کہ عبدالرحمٰن تلوار کے دباؤ میں آ کر مسلمان ہوئے ( یعنی جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوا ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جس نے «عقدت» کہا اس نے اس سے «حلف» اور جس نے «عاقدت» کہا اس نے اس سے «حالف» مراد لیا اور صحیح طلحہ کی حدیث ہے جس میں «عاقدت» ہے ۔
Referring to the verse: "Those who believed and adopted exile... As to those who believed but came not into exile": A bedouin (who did not migrate to Medina) did not inherit from an emigrant, and an emigrant did no inherit from him. It was abrogated by the verse: "But kindred by blood have prior rights against each other."
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
پہلے اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا تھا : «والذين ، آمنوا وهاجروا» ، «والذين آمنوا ولم يهاجروا» ” جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہوں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت نہیں کی تو وہ ان کے وارث نہیں ہوں گے “ ( سورۃ الانفال : ۷۲ ) تو اعرابی ۱؎ مہاجر کا وارث نہ ہوتا اور نہ مہاجر اس کا وارث ہوتا اس کے بعد «وأولو الأرحام بعضهم أولى ببعض» ” اور رشتے ناتے والے ان میں سے بعض بعض سے زیادہ نزدیک ہیں “ ( سورۃ الانفال : ۷۵ ) والی آیت سے یہ حکم منسوخ ہو گیا ۔
The Messenger of Allah (ﷺ) as saying: There is no alliance in Islam, and Islam strengthened the alliance made during pre-Islamic days.
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( زمانہ کفر کی ) کوئی بھی قسم اور عہد و پیمان کا اسلام میں کچھ اعتبار نہیں ، اور جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں ( بھلے کام کے لیے ) تھا تو اسلام نے اسے مزید مضبوطی بخشی ہے ۱؎ ۔
Chapter 1087: Regarding Allegiances - كتاب الفرائض
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا . فَقِيلَ لَهُ أَلَيْسَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم
" لاَ حِلْفَ فِي الإِسْلاَمِ " . فَقَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فِي دَارِنَا . مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا
Narrated Anas bin Malik:
The Messenger of Allah (ﷺ) established an alliance (of brotherhood) between the Emigrants and the Helpers in our house. He was asked: Did not the Messenger of Allah (ﷺ) say: There is no alliance in Islam ? He replied: The Messenger of Allah (ﷺ) established an alliance between the Emigrants and the Helpers in our house. This he said twice or thrice.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ، تو ان ( یعنی انس ) سے کہا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ہے کہ اسلام میں حلف ( عہد و پیمان ) نہیں ہے ؟ تو انہوں نے دو یا تین بار زور دے کر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے گھر میں انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ کرایا ہے کہ وہ بھائیوں کی طرح مل کر رہیں گے ۔
Chapter 1088: Regarding A Woman Inheriting From The Blood Money Of Her Husband - كتاب الفرائض
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلاَ تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا شَيْئًا حَتَّى قَالَ لَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ كَتَبَ إِلَىَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا . فَرَجَعَ عُمَرُ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ وَقَالَ فِيهِ وَكَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَهُ عَلَى الأَعْرَابِ .
Narrated Umar ibn al-Khattab:
Sa'id said: Umar ibn al-Khattab said: Blood-money is meant for the clan of the slain, and she will not inherit from the blood-money of her husband. Ad-Dahhak ibn Sufyan said: The Messenger of Allah (ﷺ) wrote to me that I should give a share to the wife of Ashyam ad-Dubabi from the blood-money of her husband. So Umar withdrew his opinion.
Ahmad ibn Salih said: AbdurRazzaq transmitted this tradition to us from Ma'mar, from az-Zuhri on the authority of Sa'id. In this version he said: The Prophet (ﷺ) made him governor over the bedouins.
سعید کہتے ہیں کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہلے کہتے تھے کہ دیت کنبہ والوں پر ہے ، اور عورت اپنے شوہر کی دیت سے کچھ حصہ نہ پائے گی ، یہاں تک کہ ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے لکھ بھیجا تھا کہ اشیم ضبابی کی بیوی کو میں اس کے شوہر کی دیت میں سے حصہ دلاؤں ، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے قول سے رجوع کر لیا ۱؎ ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرزاق نے یہ حدیث معمر کے واسطہ سے بیان کی ہے وہ اسے زہری سے اور وہ سعید سے روایت کرتے ہیں ، اس میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ( یعنی ضحاک کو ) دیہات والوں پر عامل بنایا تھا ۔