Today's Islamic date: Loading Hijri date...
Loading date...
Chapter 16

Sacrifice (Kitab Al-Dahaya)

كتاب الضحايا

From Sunan Abu Dawud - showing 25 of 56 hadiths in this chapter

Hadith 2813
Chapter 1038: Storing The Meat Of The Sacrifice - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، عَنْ نُبَيْشَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّا كُنَّا نَهَيْنَاكُمْ عَنْ لُحُومِهَا أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلاَثٍ لِكَىْ تَسَعَكُمْ فَقَدْ جَاءَ اللَّهُ بِالسَّعَةِ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَاتَّجِرُوا أَلاَ وَإِنَّ هَذِهِ الأَيَّامَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Nubayshah:

The Prophet (ﷺ) said: We forbade you to eat their meat for more than three days in order that you might have abundance; now Allah has produced abundance, so you may eat, store up and seek reward. Beware, these days are days of eating, drinking and remembrance of Allah, Most High.

نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہم نے تم لوگوں کو تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے اس واسطے منع کیا تھا کہ وہ تم سب کو پہنچ جائے ، اب اللہ تعالیٰ نے گنجائش دے دی ہے تو کھاؤ اور بچا ( بھی ) رکھو اور ( صدقہ دے کر ) ثواب ( بھی ) کماؤ ، سن لو ! یہ دن کھانے ، پینے اور اللہ عزوجل کی یاد ( شکر گزاری ) کے ہیں “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 26
Hadith 2814
Chapter 1039: Regarding A Traveler Slaughtering - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ‏ "‏ يَا ثَوْبَانُ أَصْلِحْ لَنَا لَحْمَ هَذِهِ الشَّاةِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَمَا زِلْتُ أُطْعِمُهُ مِنْهَا حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ ‏.‏

Narrated Thawban:

The Messenger of Allah (ﷺ) sacrificed during a journey and then said: Thawban, mend the meat of this goat. I then kept on supplying its meat until we reached Medina.

ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر میں ) قربانی کی اور کہا : ” ثوبان ! اس بکری کا گوشت ہمارے لیے درست کرو ( بناؤ ) “ ، ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : تو میں برابر وہی گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلاتا رہا یہاں تک کہ ہم مدینہ آ گئے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 27
Hadith 2815
Chapter 1040: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الأَشْعَثِ، عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ خَصْلَتَانِ سَمِعْتُهُمَا مِنْ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَىْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ غَيْرُ مُسْلِمٍ يَقُولُ ‏"‏ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Shaddad b. Aws:

There are two characteristics that I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Allah has decreed that everything should be done in a good way, so when you kill use a good method. The version of the narrators other than Muslim says: "So kill in a good manner." And when you slaughter, you should use a good method, for one of you should sharpen his knife, and give the animal as little pain as possible.

شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

دو خصلتیں ایسی ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ایک یہ کہ : ” اللہ نے ہر چیز کو اچھے ڈھنگ سے کرنے کو فرض کیا ہے لہٰذا جب تم ( قصاص یا حد کے طور پر کسی کو ) قتل کرو تو اچھے ڈھنگ سے کرو ( یعنی اگر خون کے بدلے خون کرو تو جلد ہی فراغت حاصل کر لو تڑپا تڑپا کر مت مارو ) “ ، ( اور مسلم بن ابراہیم کے سوا دوسروں کی روایت میں ہے ) ” تو اچھے ڈھنگ سے قتل کرو ، اور جب کسی جانور کو ذبح کرنا چاہو تو اچھی طرح ذبح کرو اور چاہیئے کہ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 28
Hadith 2816
Chapter 1040: Regarding The Prohibition Of The Animals Being Confined (To Be Shot At), And, Being Gentle With Animal To Be Slaughtered - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَنَسٍ عَلَى الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ فَرَأَى فِتْيَانًا أَوْ غِلْمَانًا قَدْ نَصَبُوا دَجَاجَةً يَرْمُونَهَا فَقَالَ أَنَسٌ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ ‏.‏

Narrated Hisham b. Zaid:

I entered upon al-Hakam b. Ayyub along with Anas. He saw some youths or boys who had set up a hen and shooting at it. Anas said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to kill an animal in confinement.

ہشام بن زید کہتے ہیں کہ

میں انس رضی اللہ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے پاس گیا ، تو وہاں چند نوجوانوں یا لڑکوں کو دیکھا کہ وہ سب ایک مرغی کو باندھ کر اسے تیر کا نشانہ بنا رہے ہیں تو انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 29
Hadith 2817
Chapter 1041: Regarding The Animals Slaugthered By The People Of Book - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ ‏{‏ فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏}‏ ‏{‏ وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏}‏ فَنُسِخَ وَاسْتَثْنَى مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ ‏{‏ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ ‏}‏ ‏.‏

Narrated Ibn 'Abbas:

The verse: "So eat of (meats) on which Allah's name hath been pronounced" and the verse: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced" were abrogated, meaning an exception was made therein by the verse: "The food of the people of the Book is lawful unto you and yours is lawful unto them."

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

اللہ تعالیٰ نے جو یہ فرمایا ہے کہ «فكلوا مما ذكر اسم الله عليه» ” سو جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اس میں سے کھاؤ “ ( سورۃ الانعام : ۱۱۸ ) «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ” اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو “ ( سورۃ الانعام : ۱۲۱ ) تو یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے ، اس میں سے اہل کتاب کے ذبیحے مستثنیٰ ہو گئے ہیں ( یعنی ان کے ذبیحے درست ہیں ) ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : «وطَعام الذين أوتوا الكتاب حل لكم وطعامكم حل لهم» ” اہل کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے حلال ہے “ ( سورۃ المائدہ : ۵ ) ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 30
Hadith 2818
Chapter 1041: Regarding The Animals Slaugthered By The People Of Book - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا سِمَاكٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي قَوْلِهِ ‏{‏ وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ ‏}‏ يَقُولُونَ مَا ذَبَحَ اللَّهُ فَلاَ تَأْكُلُوا وَمَا ذَبَحْتُمْ أَنْتُمْ فَكُلُوا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ‏{‏ وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏}‏ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

explaining the verse "But the evil ones ever inspire their friend to contend with you" They used to say: Do not eat which Allah killed, but eat which you slaughtered. So Allah revealed the verse: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced"...to the end of the verse.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

اللہ عزوجل نے جو یہ فرمایا ہے : «وإن الشياطين ليوحون إلى أوليائهم» ” اور یقیناً شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں “ ( سورۃ المائدہ : ۱۲۱ ) تو اس کا شان نزول یہ ہے کہ لوگ کہتے تھے : جسے اللہ نے ذبح کیا ( یعنی اپنی موت مر گیا ) اس کو نہ کھاؤ ، اور جسے تم نے ذبح کیا اس کو کھاؤ ، تب اللہ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ” ان جانوروں کو نہ کھاؤ جن پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا “ ( سورۃ الانعام : ۱۲۱ ) ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 31
Hadith 2819
Chapter 1041: Regarding The Animals Slaugthered By The People Of Book - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَتِ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلْنَا وَلاَ نَأْكُلُ مِمَّا قَتَلَ اللَّهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَلاَ تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ ‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Jews came to the Prophet (ﷺ) and said: We eat which we kill but we do not eat which Allah kills? So Allah revealed: "Eat not of (meats) on which Allah's name hath not been pronounced." to the end of the verse.

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہم اس جانور کو کھاتے ہیں جسے ہم ماریں اور جسے اللہ مارے اسے ہم نہیں کھاتے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «ولا تأكلوا مما لم يذكر اسم الله عليه» ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 32
Hadith 2820
Chapter 1042: What Has Been Reported About Eating The Mu'aqarah Of The Bedouins - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَكْلِ مُعَاقَرَةِ الأَعْرَابِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ اسْمُ أَبِي رَيْحَانَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَطَرٍ وَغُنْدَرٌ أَوْقَفَهُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

The Messenger of Allah (ﷺ) forbade to eat (the meat of animals) slaughtered by the bedouins for vainglory and pride. Abu Dawud said: The narrator Ghundar narrated this tradition as a saying of Ibn 'Abbas (and not of the Prophet).

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان جانوروں کے کھانے سے منع فرمایا ہے جنہیں اعرابی تفاخر کے طور پر کاٹتے ہیں ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : ابوریحانہ کا نام عبداللہ بن مطر تھا ، اور راوی غندر نے اسے ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف کر دیا ہے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 33
Hadith 2821
Chapter 1043: Slaughtering With Marwah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَرِنْ أَوْ أَعْجِلْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا مَا لَمْ يَكُنْ سِنًّا أَوْ ظُفْرًا وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفْرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ‏"‏ ‏.‏ وَتَقَدَّمَ بِهِ سَرَعَانٌ مِنَ النَّاسِ فَتَعَجَّلُوا فَأَصَابُوا مِنَ الْغَنَائِمِ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي آخِرِ النَّاسِ فَنَصَبُوا قُدُورًا فَمَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْقُدُورِ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ وَقَسَمَ بَيْنَهُمْ فَعَدَلَ بَعِيرًا بِعَشْرِ شِيَاهٍ وَنَدَّ بَعِيرٌ مِنْ إِبِلِ الْقَوْمِ وَلَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ خَيْلٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا فَعَلَ مِنْهَا هَذَا فَافْعَلُوا بِهِ مِثْلَ هَذَا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Rafi' b. Khadij:

I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: Messenger of Allah, we shall meet the enemy tomorrow and we have no knives with us. May we kill with a sharp-edged white stone (flint) and with splinter of a staff ? The Messenger of Allah (ﷺ) said: Hasten in slaughtering it. When Allah's name is mentioned you may eat what is killed by anything which causes the blood to flow except tooth and claw. I shall tell you about it. The tooth is a bone, and the claw is the knife of Abyssinians. Some people hastened and went forward, they made haste and got booty, while the Messenger of Allah (ﷺ) was in the rear and they setup cooking pots. The Messenger of Allah (ﷺ) passed by over the cooking pots. He ordered to turn them over. He then divided (the spoils of war) between them, and gave them a camel for ten goats in equation. One of the camels of the people ran away, and they had no horses with them at that time. A man shot an arrow at it, and Allah prevented it from escaping. The Prophet (ﷺ) said: Among animals (i.e. camels) there are some which bolt like wild animals ; so when any of them does so, do with it like this.

رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کل دشمنوں سے مقابلہ کرنے والے ہیں ، ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں کیا ہم سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے ( بانس کی کھپچی ) سے ذبح کریں ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جلدی کر لو ۱؎ جو چیز کہ خون بہا دے اور اللہ کا نام اس پر لیا جائے تو اسے کھاؤ ہاں وہ دانت اور ناخن سے ذبح نہ ہو ، عنقریب میں تم کو اس کی وجہ بتاتا ہوں ، دانت سے تو اس لیے نہیں کہ دانت ایک ہڈی ہے ، اور ناخن سے اس لیے نہیں کہ وہ جبشیوں کی چھریاں ہیں “ ، اور کچھ جلد باز لوگ آگے بڑھ گئے ، انہوں نے جلدی کی ، اور کچھ مال غنیمت حاصل کر لیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پیچھے چل رہے تھے تو ان لوگوں نے دیگیں چڑھا دیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دیگوں کے پاس سے گزرے تو آپ نے انہیں پلٹ دینے کا حکم دیا ، چنانچہ وہ پلٹ دی گئیں ، اور ان کے درمیان آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مال غنیمت ) تقسیم کیا تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر قرار دیا ، ایک اونٹ ان اونٹوں میں سے بھاگ نکلا اس وقت لوگوں کے پاس گھوڑے نہ تھے ( کہ گھوڑا دوڑا کر اسے پکڑ لیتے ) چنانچہ ایک شخص نے اسے تیر مارا تو اللہ نے اسے روک دیا ( یعنی وہ چوٹ کھا کر گر گیا اور آگے نہ بڑھ سکا ) اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان چوپایوں میں بھی بدکنے والے جانور ہوتے ہیں جیسے وحشی جانور بدکتے ہیں تو جو کوئی ان جانوروں میں سے ایسا کرے تو تم بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرو “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 34
Hadith 2822
Chapter 1043: Slaughtering With Marwah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَنَّ عَبْدَ الْوَاحِدِ بْنَ زِيَادٍ، وَحَمَّادًا، حَدَّثَاهُمْ - الْمَعْنَى، وَاحِدٌ، - عَنْ عَاصِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ صَفْوَانَ، أَوْ صَفْوَانَ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ اصَّدْتُ أَرْنَبَيْنِ فَذَبَحْتُهُمَا بِمَرْوَةٍ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْهُمَا فَأَمَرَنِي بِأَكْلِهِمَا ‏.‏

Narrated Muhammad ibn Safwan or Safwan ibn Muhammad:

I hunted two hares and slaughtered them with a flint. I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about them. He permitted me to eat them.

محمد بن صفوان یا صفوان بن محمد کہتے ہیں

میں نے دو خرگوش شکار کئے اور انہیں ایک سفید ( دھار دار ) پتھر سے ذبح کیا ، پھر ان کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ نے مجھے ان کے کھانے کا حکم دیا ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 35
Hadith 2823
Chapter 1043: Slaughtering With Marwah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي حَارِثَةَ أَنَّهُ كَانَ يَرْعَى لِقْحَةً بِشِعْبٍ مِنْ شِعَابِ أُحُدٍ فَأَخَذَهَا الْمَوْتُ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا يَنْحَرُهَا بِهِ فَأَخَذَ وَتَدًا فَوَجَأَ بِهِ فِي لَبَّتِهَا حَتَّى أُهْرِيقَ دَمُهَا ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا ‏.‏

Narrated Ata' ibn Yasar:

A man of Banu Harith was pasturing a pregnant she-camel in one of the ravines of Uhud, (he saw that) it was about to die; he could find nothing to slaughter it; he took a stake and stabbed it in the upper part of its breast until he made its blood flow. He then came to the Prophet (ﷺ) and informed him about that, and he ordered him to eat it.

بنو حارثہ کے ایک شخص سے روایت ہے کہ

وہ احد پہاڑ کے دروں میں سے ایک درے پر اونٹنی چرا رہا تھا ، تو وہ مرنے لگی ، اسے کوئی ایسی چیز نہ ملی کہ جس سے اسے نحر کر دے ، تو ایک کھوٹی لے کر اونٹنی کے سینہ میں چبھو دی یہاں تک کہ اس کا خون بہا دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی ، تو آپ نے اسے اس کے کھانے کا حکم دیا ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 36
Hadith 2824
Chapter 1043: Slaughtering With Marwah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ أَحَدُنَا أَصَابَ صَيْدًا وَلَيْسَ مَعَهُ سِكِّينٌ أَيَذْبَحُ بِالْمَرْوَةِ وَشِقَّةِ الْعَصَا فَقَالَ ‏ "‏ أَمْرِرِ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Adi ibn Hatim:

I said: Messenger of Allah, tell me when one of us catches game and has no knife; may he slaughter with a flint and a splinter of stick. He said: Cause the blood to flow with whatever you like and mention Allah's name.

عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں

میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اگر ہم میں سے کسی کو کوئی شکار مل جائے اور اس کے پاس چھری نہ ہو تو کیا وہ سفید ( دھار دار ) پتھر یا لاٹھی کے پھٹے ہوئے ٹکڑے سے ( اس شکار کو ) ذبح کر لے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم بسم اللہ اکبر کہہ کر ( اللہ کا نام لے کر ) جس چیز سے چاہے خون بہا دو “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 37
Hadith 2825
Chapter 1044: Regarding Slaughtering The Mutaraddiyah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الْعُشَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا تَكُونُ الذَّكَاةُ إِلاَّ مِنَ اللَّبَّةِ أَوِ الْحَلْقِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَوْ طَعَنْتَ فِي فَخِذِهَا لأَجْزَأَ عَنْكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا لاَ يَصْلُحُ إِلاَّ فِي الْمُتَرَدِّيَةِ وَالْمُتَوَحِّشِ ‏.‏

Narrated AbulUshara':

AbulUshara' reported on the authority of his father: He asked: Messenger of Allah, is the slaughtering to be done only in the upper part of the breast and the throat? The Messenger of Allah (ﷺ) replied: If you pierced its thigh, it would serve you. Abu Dawud said: This is the way suitable for slaughtering an animal which has fallen into a well or runs loose.

ابوالعشراء اسامہ کے والد مالک بن قہطم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا ذبح سینے اور حلق ہی میں ہوتا ہے اور کہیں نہیں ہوتا ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم اس کے ران میں نیزہ مار دو تو وہ بھی کافی ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ «متردی» ۱؎ اور «متوحش» ۲؎ کے ذبح کا طریقہ ہے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 38
Hadith 2826
Chapter 1045: Regarding Exaggeration When Slaughtering - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، وَالْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، مَوْلَى ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، - زَادَ ابْنُ عِيسَى - وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالاَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ شَرِيطَةِ الشَّيْطَانِ ‏.‏ زَادَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ وَهِيَ الَّتِي تُذْبَحُ فَيُقْطَعُ الْجِلْدُ وَلاَ تُفْرَى الأَوْدَاجُ ثُمَّ تُتْرَكُ حَتَّى تَمُوتَ ‏.‏

Narrated Abdullah ibn Abbas:

Ibn Isa added: (Ibn Abbas) and AbuHurayrah said: The Messenger of Allah (ﷺ) forbade the devil's sacrifice. AbuIsa added in his version: This refers to the slaughtered animal whose skin cut off, and is then left to die without its jugular veins being severed.

عبداللہ بن عباس اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «شريطة الشيطان» سے منع فرمایا ہے ۱؎ ۔ ابن عیسیٰ کی حدیث میں اتنا اضافہ ہے : اور وہ یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو اس کی کھال تو کاٹ دی جائے لیکن رگیں نہ کاٹی جائیں ، پھر اسی طرح اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ وہ ( تڑپ تڑپ کر ) مر جائے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 39
Hadith 2827
Chapter 1046: Regarding Slaughtering The Fetus - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنِ الْجَنِينِ فَقَالَ ‏"‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ ‏"‏ ‏.‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَنْحَرُ النَّاقَةَ وَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ وَالشَّاةَ فَنَجِدُ فِي بَطْنِهَا الْجَنِينَ أَنُلْقِيهِ أَمْ نَأْكُلُهُ قَالَ ‏"‏ كُلُوهُ إِنْ شِئْتُمْ فَإِنَّ ذَكَاتَهُ ذَكَاةُ أُمِّهِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated AbuSa'id al-Khudri:

I asked the Messenger of Allah (ﷺ) about the embryo. He replied: Eat it if you wish. Musaddad's version says: we said: Messenger of Allah, we slaughter a she-camel, a cow and a sheep, and we find an embryo in its womb. Shall we throw it away or eat it? He replied: Eat it if you wish for the slaughter of its mother serves its slaughter.

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بچے کے بارے میں پوچھا جو ماں کے پیٹ سے ذبح کرنے کے بعد نکلتا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر چاہو تو اسے کھا لو “ ۱؎ ۔ مسدد کی روایت میں ہے : ہم نے کہا : اللہ کے رسول ! ہم اونٹنی کو نحر کرتے ہیں ، گائے اور بکری کو ذبح کرتے ہیں اور اس کے پیٹ میں مردہ بچہ پاتے ہیں تو کیا ہم اس کو پھینک دیں یا اس کو بھی کھا لیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چاہو تو اسے کھا لو ، اس کی ماں کا ذبح کرنا اس کا بھی ذبح کرنا ہے “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 40
Hadith 2828
Chapter 1046: Regarding Slaughtering The Fetus - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ رَاهَوَيْهِ، حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَدَّاحُ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ذَكَاةُ الْجَنِينِ ذَكَاةُ أُمِّهِ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Jabir ibn Abdullah:

The Prophet (ﷺ) said: The slaughter of embryo is included when its mother is slaughtered.

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پیٹ کے بچے کا ذبح اس کی ماں کا ذبح ہے ( یعنی ماں کا ذبح کرنا پیٹ کے بچے کے ذبح کو کافی ہے ) “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 41
Hadith 2829
Chapter 1047: What Has Been Reported About Eating Meat While Not Knowing Whether The Name Of Allah Was Mentioned Upon it or not - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ح وَحَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ، وَمُحَاضِرٌ، - الْمَعْنَى - عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَلَمْ يَذْكُرَا عَنْ حَمَّادٍ، وَمَالِكٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا حَدِيثُو عَهْدٍ بِالْجَاهِلِيَّةِ يَأْتُونَنَا بِلُحْمَانٍ لاَ نَدْرِي أَذَكَرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا أَمْ لَمْ يَذْكُرُوا أَفَنَأْكُلُ مِنْهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ سَمُّوا اللَّهَ وَكُلُوا ‏"‏ ‏.‏

Narrated 'Aishah:

(the narrator Musa did not mention the words "from 'Aishah" in his version from Hammad, and al-Qa'nabi also did not mention the word "from 'Aishah" in his version from Malik). They (the people) said: Messenger of Allah, there are people here, recent converts from polytheism, who bring us meat and we do not know whether or not they mentioned Allah's name over it. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Mention Allah's name and eat.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ لوگ ہیں جو جاہلیت سے نکل کر ابھی نئے نئے ایمان لائے ہیں ، وہ ہمارے پاس گوشت لے کر آتے ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لیتے ہیں یا نہیں تو کیا ہم اس میں سے کھائیں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «بسم الله» کہہ کر کھاؤ ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 42
Hadith 2830
Chapter 1048: Regarding Al-'Atirah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، ح وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ بِشْرِ بْنِ الْمُفَضَّلِ، - الْمَعْنَى - حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ، قَالَ قَالَ نُبَيْشَةُ نَادَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّا كُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ‏"‏ اذْبَحُوا لِلَّهِ فِي أَىِّ شَهْرٍ كَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ إِنَّا كُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ ‏"‏ فِي كُلِّ سَائِمَةٍ فَرَعٌ تَغْذُوهُ مَاشِيَتُكَ حَتَّى إِذَا اسْتَحْمَلَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ نَصْرٌ ‏"‏ اسْتَحْمَلَ لِلْحَجِيجِ ذَبَحْتَهُ فَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ أَحْسَبُهُ قَالَ ‏"‏ عَلَى ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ خَالِدٌ قُلْتُ لأَبِي قِلاَبَةَ كَمِ السَّائِمَةُ قَالَ مِائَةٌ ‏.‏

Narrated Nubayshah:

A man called the Messenger of Allah (ﷺ): We used to sacrifice Atirah in pre-Islamic days during Rajab; so what do you command us? He said: Sacrifice for the sake of Allah in any month whatever; obey Allah, Most High, and feed(the people). He said: We used to sacrifice a Fara' in pre-Islamic days, so what do you command us? He said: On every pasturing animal there is a Fara' which is fed by your cattle till it becomes strong and capable of carrying load. The narrator Nasr said (in his version): When it becomes capable of carrying load of the pilgrims, you may slaughter it and give its meat as charity (sadaqah). The narrator Khalid's version says: You (may give it) to the travellers, for it is better. Khalid said: I asked AbuQilabah: How many pasturing animals? He replied: One hundred.

نبیشہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا : ہم جاہلیت میں رجب کے مہینے میں «عتيرة» ( یعنی جانور ذبح ) کیا کرتے تھے تو آپ ہم کو کیا حکم کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” جس مہینے میں بھی ہو سکے اللہ کی رضا کے لیے ذبح کرو ، اللہ کے لیے نیکی کرو ، اور کھلاؤ “ ۔ پھر وہ کہنے لگا : ہم زمانہ جاہلیت میں «فرع» ( یعنی قربانی ) کرتے تھے ، اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر چرنے والے جانور میں ایک «فرع» ہے ، جس کو تمہارے جانور جنتے ہیں ، یا جسے تم اپنے جانوروں کی «فرع» کھلاتے ہو ، جب اونٹ بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ( نصر کی روایت میں ہے : جب حاجیوں کے لیے بوجھ لادنے کے قابل ہو جائے ) تو اس کو ذبح کرو پھر اس کا گوشت صدقہ کرو - خالد کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے کہا : مسافروں پر صدقہ کرو - یہ بہتر ہے “ ۔ خالد کہتے ہیں : میں نے ابوقلابہ سے پوچھا : کتنے جانوروں میں ایسا کرے ؟ انہوں نے کہا : سو جانوروں میں ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 43
Hadith 2831
Chapter 1048: Regarding Al-'Atirah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ فَرَعَ وَلاَ عَتِيرَةَ ‏"‏ ‏.‏

Narrated Abu Hurairah:

Prophet (ﷺ) sa saying: There is no fara' and 'atirah.

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اسلام میں ) نہ «فرع» ہے اور نہ «عتیرہ» ۱؎ “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 44
Hadith 2832
Chapter 1048: Regarding Al-'Atirah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ الْفَرَعُ أَوَّلُ النِّتَاجِ كَانَ يُنْتَجُ لَهُمْ فَيَذْبَحُونَهُ ‏.‏

Narrated Sa'id:

Fara' was the first animal born to them (the Arabs) which they sacrificed.

سعید بن مسیب کہتے ہیں

«فرع» پہلوٹے بچے کو کہتے ہیں جس کی پیدائش پر اسے ذبح کر دیا کرتے تھے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 45
Hadith 2833
Chapter 1048: Regarding Al-'Atirah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ كُلِّ خَمْسِينَ شَاةً شَاةٌ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ بَعْضُهُمُ الْفَرَعُ أَوَّلُ مَا تُنْتَجُ الإِبِلُ كَانُوا يَذْبَحُونَهُ لِطَوَاغِيتِهِمْ ثُمَّ يَأْكُلُونَهُ وَيُلْقَى جِلْدُهُ عَلَى الشَّجَرِ وَالْعَتِيرَةُ فِي الْعَشْرِ الأُوَلِ مِنْ رَجَبٍ ‏.‏

Narrated 'Aishah:

The Messenger of Allah (ﷺ) used to sacrifice goat out of every fifty goats. Abu Dawud said: Fara' means the first baby camel born (to the Arabs). They used to sacrifice it for their idols, and then eat it, and its skin was thrown on a tree. 'Atira was a sacrifice made during the first ten days of Rajab.

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ہر پچاس بکری میں سے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیا ۱؎ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : بعض حضرات نے «فرع» کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اونٹ کے سب سے پہلے بچہ کی پیدائش پر کفار اسے بتوں کے نام ذبح کر کے کھا لیتے ، اور اس کی کھال کو درخت پر ڈال دیتے تھے ، اور «عتیرہ» ایسے جانور کو کہتے ہیں جسے رجب کے پہلے عشرہ میں ذبح کرتے تھے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 46
Hadith 2834
Chapter 1049: The 'Aqiqah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ حَبِيبَةَ بِنْتِ مَيْسَرَةَ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ الْكَعْبِيَّةِ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مُكَافِئَتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ سَمِعْتُ أَحْمَدَ قَالَ مُكَافِئَتَانِ أَىْ مُسْتَوِيَتَانِ أَوْ مُقَارِبَتَانِ ‏.‏

Narrated Umm Kurz al-Ka'biyyah:

I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: Two resembling sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl. AbuDawud said: I heard Ahmad (ibn Hanbal) say: The Arabic word mukafi'atani means equal (in age) or resembling each other.

ام کرز کعبیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے : ” ( عقیقہ ) میں لڑکے کی طرف سے دو بکریاں برابر کی ہیں ، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : احمد نے «مكافئتان» کے معنی یہ کئے ہیں کہ دونوں ( عمر میں ) برابر ہوں یا قریب قریب ہوں ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 47
Hadith 2835
Chapter 1049: The 'Aqiqah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَتْ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ‏"‏ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لاَ يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا ‏"‏ ‏.‏

Narrated Umm Kurz:

I heard the Prophet (nay peace be upon him) say: Let the birds stay in their roosts. She said: I also heard him say: Two sheep are to be sacrificed for a boy and one for a girl, but it does you no harm whether they are male or female.

ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں

میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو ( یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو ) “ ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے : ” لڑکے کی طرف سے ( عقیقہ میں ) دو بکریاں ہیں ، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے ، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ “ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 48
Hadith 2836
Chapter 1049: The 'Aqiqah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ عَنِ الْغُلاَمِ شَاتَانِ مِثْلاَنِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا هُوَ الْحَدِيثُ وَحَدِيثُ سُفْيَانَ وَهَمٌ ‏.‏

Narrated Umm Kurz:

The Messenger of Allah (ﷺ) said: Two sheep which resemble each other are to be sacrificed for a boy and one for a girl. Abu Dawud said: This is a sound tradition, and the tradition narrated by Sufyan is misunderstanding.

ام کرز رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( عقیقے میں ) لڑکے کی طرف سے برابر کی دو بکریاں ہیں ، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہی دراصل حدیث ہے ، اور سفیان کی حدیث ( نمبر : ۲۸۳۵ ) وہم ہے ۱؎ ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 49
Hadith 2837
Chapter 1049: The 'Aqiqah - كتاب الضحايا

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ كُلُّ غُلاَمٍ رَهِينَةٌ بِعَقِيقَتِهِ تُذْبَحُ عَنْهُ يَوْمَ السَّابِعِ وَيُحْلَقُ رَأْسُهُ وَيُدَمَّى ‏"‏ ‏.‏ فَكَانَ قَتَادَةُ إِذَا سُئِلَ عَنِ الدَّمِ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ قَالَ إِذَا ذَبَحْتَ الْعَقِيقَةَ أَخَذْتَ مِنْهَا صُوفَةً وَاسْتَقْبَلْتَ بِهِ أَوْدَاجَهَا ثُمَّ تُوضَعُ عَلَى يَافُوخِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَسِيلَ عَلَى رَأْسِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ ثُمَّ يُغْسَلُ رَأْسُهُ بَعْدُ وَيُحْلَقُ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَهَذَا وَهَمٌ مِنْ هَمَّامٍ ‏"‏ وَيُدَمَّى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ خُولِفَ هَمَّامٌ فِي هَذَا الْكَلاَمِ وَهُوَ وَهَمٌ مِنْ هَمَّامٍ وَإِنَّمَا قَالُوا ‏"‏ يُسَمَّى ‏"‏ ‏.‏ فَقَالَ هَمَّامٌ ‏"‏ يُدَمَّى ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَلَيْسَ يُؤْخَذُ بِهَذَا ‏.‏

Narrated Samurah ibn Jundub:

The Prophet (ﷺ) said: A boy is in pledge for his Aqiqah. Sacrifice is made for him on the seventh day, his head is shaved and is smeared with blood. When Qatadah was asked about smearing with blood, how that should be done, he said: When you cut the head (i.e. throat) of the animal (meant for Aqiqah), you may take a few hair of it, place them on its veins, and then place them in the middle of the head of the infant, so that the blood flows on the hair (of the infant) like a threat. Then its head may be washed and shaved off. Abu Dawud said: In narrating the word "is smeared with blood" (yudamma) there is a misunderstanding on the part of Hammam. Abu Dawud said: Hammam has been opposed in narrating the words "is smeared with blood". This is misunderstanding of Hammam. They narrated he word "he is given a name (yusamma) and Hammam narrated it "is smeared with blood" (yudamma). Abu Dawud said: This tradition is not followed.

سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہر لڑکا اپنے عقیقہ کے بدلے میں گروی ہے ساتویں دن اس کی طرف سے ذبح کیا جائے اور اس کا سر مونڈا جائے اور عقیقہ کا خون اس کے سر پر لگایا جائے ۱؎ “ ۔ قتادہ سے جب پوچھا جاتا کہ کس طرح خون لگایا جائے ؟ تو کہتے : جب عقیقے کا جانور ذبح کرنے لگو تو اس کے بالوں کا ایک گچھا لے کر اس کی رگوں پر رکھ دو ، پھر وہ گچھا لڑکے کی چندیا پر رکھ دیا جائے ، یہاں تک کہ خون دھاگے کی طرح اس کے سر سے بہنے لگے پھر اس کے بعد اس کا سر دھو دیا جائے اور سر مونڈ دیا جائے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : «يدمى» ہمام کا وہم ہے ، اصل میں «ويسمى» تھا جسے ہمام نے «يدمى» کر دیا ، ابوداؤد کہتے ہیں : اس پر عمل نہیں ہے ۔

In-book reference : Book 16, Hadith 50
Page 2 of 3

Showing 25 hadiths on this page (Total: 56 hadiths in Sunan Abu Dawud)

First Previous Page 2 of 3 Next Last
Ready to play
0:00 / 0:00