حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَقُولُ جَاءَ رَجُلاَنِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَخَطَبَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرً".
Narrated Ibn `Umar:
Two men came from the east and delivered speeches, and the Prophet (ﷺ) said, "Some eloquent speech has the influence of magic." (e.g., some people refuse to do something and then a good eloquent speaker addresses them and then they agree to do that very thing after his speech)
ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زید بن اسلم نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
دو آدمی مدینہ کے مشرق کی طرف سے آئے ، وہ مسلمان ہو گئے اور خطبہ دیا ، نہایت فصیح و بلیغ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ بعض تقریر جادو کی اثر کرتی ہے ۔
ইব্নু ‘উমার (রাঃ) থেকে বর্ণিতঃ পূর্বাঞ্চল থেকে দু’ব্যক্তি এসে বক্তৃতা দিল। তখন নবী (সাল্লাল্লাহু ‘আলাইহি ওয়া সাল্লাম) বললেন, কোন কোন বক্তৃতায় যাদু আছে।(আধুনিক প্রকাশনী- ৪৭৬৬, ইসলামিক ফাউন্ডেশন- ৪৭৬৯)