حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ كَانَ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ السَّلاَمُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ.
Narrated Ash-Shu`bi:
Whenever Ibn `Umar greeted Ibn Jafar, he used to say: "As-salamu-'Alaika (i.e. Peace be on you) O son of Dhu-l-Janahain (son of the two-winged person).
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، انہیں شعبی نے خبر دی کہ
جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کو سلام کرتے تو یوں کہا کرتے ” السلام علیک یا ابن ذی الجناحین “ اے دو پروں والے بزرگ کے صاحبزادے تم پر سلام ہو ، ابوعبداللہ امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا حدیث میں جو جناحین کا لفظ ہے اس سے مراد دو گوشے ہیں ( دوکونے ) ۔
শাবী (রহঃ) থেকে বর্ণিতঃ আবদুল্লাহ ইবনু ‘উমার (রাঃ) যখন জা‘ফর (রাঃ)-এর ছেলেকে সালাম করতেন তখন বলতেন, হে, দু‘বাহু ওয়ালা ব্যক্তির ছেলে। [১] আবূ ‘আবদুল্লাহ [ইমাম বুখারী (রহ.)] বলেন, الْجَنَاحَانِ অর্থ প্রত্যেক বস্তুর দু’ পাশ। (৪২৬৪) (আধুনিক প্রকাশনীঃ ৩৪৩৪, ইসলামী ফাউন্ডেশনঃ ৩৪৪১)